جون ۲۰۲۶

فہرست مضامین

اُم الشہداء 'امل الحیہ کا جذبۂ عزیمت

ڈاکٹر ارشاد الرحمٰن | جون ۲۰۲۶ | دعوت وتحریک

Responsive image Responsive image

ہم نے اپنے بچوں کی پرورش قرآن، مساجد اور اسلام کی محبت پر کی ہے، اور خدا کی قسم! ہم نہ پیچھے ہٹیں گے اور نہ بدلیں گے۔ ہم اپنے پوتوں کی پرورش بھی اسی طرح کرنا چاہتے ہیں۔

جہاد ایک دینی اور اخلاقی فریضہ ہے، جس کے تحت ہم نے اپنے بچوں کی پرورش کی، اسی لیے ہمارے بچےمقابلے کے لیے، پہلی صفوں میں تھے۔ اور اللہ کے حکم سے اقصیٰ، فلسطین اور ہمارا پورا وطن آزاد ہوگا۔

لوگو! جان لو، کہ ہمارے بیٹے خندقوں میں تھے، ہوٹلوں میں نہیں، اور میں ان کی شہادت کی تمنا کرتی تھی نہ کہ زخمی ہونے کی۔ میں نے ان میں سے ہر ایک کی شہادت کے وقت سجدۂ شکر ادا کیا ہے۔میرے بیٹے اور پوتے غزہ سے نکلنے کے لیے تیار نہیں، اور وہ وہی تکلیف جھیل رہے ہیں جو باقی باشندے برداشت کر رہے ہیں۔

میں نے جنگ کے آغاز سے ہمام کو نہیں دیکھا اور نہ اس کی آواز سنی، سوائے اس کی شہادت سے دو ہفتے پہلے جب اس نے فون کیا تھا۔تب اس کے فون سے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ ہمیں الوداع کہہ رہا ہو۔

۲۰۱۴ء میں، میں نے خود کو ملبے کے نیچے دبا پایا، اور یہ محسوس ہوا کہ کوئی بھی نہیں بچ پائے گا۔ اسی موقعے پر میرا بیٹا اسامہ، اس کی بیوی اور ان کے تینوں بچے شہید ہوگئے۔ گھر پر راکٹ گرنے سے پہلے میرے سامنے میری پوتی امامہ سورۂ بقرہ کی تلاوت کر رہی تھی۔

اسلام آزمائش، صبر اور اللہ کی طرف سے ثابت قدمی عطا ہونے کا سرچشمہ ہے۔ ـــــــــــــــ

l

ایمانی روح سے لبریز اور عزیمت و استقامت میں رچے یہ کلمات، قابض اور غاصب اسرائیل کی بمباری میں چار بیٹوں اور پانچ پوتوں پوتیوں کی شہادت پر صحابیہ حضرت اُم سُلَیمؓ بنت ملحان کی یاد تازہ کر دینے والی ماں 'امل الحیہ کے ہیں، جو حماس کے رہنما خلیل الحیہ کی اہلیہ ہیں۔ محترمہ امل الحیہ قابض اسرائیلی فوج کے ہاتھوں اپنے جگر گوشوں کو کھونے کے باوجود صبر و استقامت کا پہاڑ ثابت ہوئیں، جب ۱۲ مئی کو ان کے آخری بیٹے عزام الحیہ کی شہادت پر الجزیرۃ ٹیلی ویژن نے ان کے تاثرات جاننا چاہے۔

ان کے خاندان میں اب صرف عز الدین، تسنیم اور شیماء باقی رہ گئے ہیں، جنھوں نے غزہ چھوڑنے سے انکار کر دیا ہے۔۲۰۰۸ء میں: ان کا بیٹا حمزہ اسرائیلی بمباری میں شہید ہوا۔ ۲۰۱۴ء میں: ان کا بڑا بیٹا اسامہ، اپنی اہلیہ ہالہ اور تین بچوں خلیل، حمزہ اور امامہ کے ہمراہ اس وقت شہید ہوا، جب ان کے گھر کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے دو بچے امل اور عبد الرحمٰن بچ گئے تھے، جن کی عمر اس وقت تین سال سے کم تھی۔ گزشتہ برس: ان کا بیٹا ہمام اس وقت شہید ہوا، جب اسرائیل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کے رہنماؤں کے ایک اجلاس کو نشانہ بنایا۔ اس کے بعد اب ان کا سب سے چھوٹا بیٹا عزام بھی غزہ میں شہید ہو گیا۔ ان کا تیسرا بھائی عز الدین جنگ کے دوران شدید زخمی ہوا، جب کہ ان کے بچےخلیل اور محمد بھی شہید ہو چکے ہیں۔

امل الحیہ نے بتایا کہ ان کے بیٹے ہمام، عزام اور عز الدین تینوں جڑواں تھے۔ ان میں سے دو حالیہ برسوں کی جنگ میں شہید ہوئے، جب کہ تیسرا بیٹا شدید زخمی ہونے کے باوجود زندہ بچ گیا ہے، تاہم وہ اپنی ٹانگ اور اپنے دو بیٹوں سے محروم ہو چکا ہے۔ عز الدین اپنی شدید تکلیف کے باوجود آج اب بھی غزہ میں مقیم ہے، جب کہ عزام کی شہادت سے قبل ٹانگ کٹنے کی تکالیف اور محاصرے کے باعث ادویات کی عدم دستیابی نے میرے دل کو بہت رنجیدہ کیا‘‘۔

حماس کے رہنما خلیل الحیہ کی اہلیہ نے اپنے شہید بچوں میں سے کسی کو بھی الوداع نہیں کہا،  جب ان کا بیٹا ہمام شہید ہوا تو انھوں نے اللہ کا شکر ادا کیا، اور جب اسامہ اور عزام شہید ہوئے تو انھوں نے سجدۂ شکر ادا کیا۔انھوں نے ۲۰۱۴ء کی جنگ کے دوران اپنے بیٹے کے گھر پر ہونے والی بمباری کی تفصیلات کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ ’’پورا خاندان رمضان میں روزے سے تھا، اور میزائل گرنے سے چند لمحے قبل میرے سامنے میری پوتی سورۂ بقرۃ کی تلاوت کر رہی تھی۔ اس حملے میں، مَیں شدید زخمی ہوکر ملبے کے نیچے دب گئی تھی۔ اسی دوران مجھے پتا چلا کہ اسامہ، اس کی اہلیہ اور ان کے تین بچے شہید ہو چکے ہیں‘‘۔

عزام الحیہ اس سے پہلے ۲۰۲۲ء میں شدید زخمی ہوگئے تھے اور ترکیہ میں علاج مکمل کرنے کے بعد انھوں نے غزہ واپسی پر اصرار کیا تو بچوں نے آپس میں قرعہ اندازی کی تھی کہ ان میں سے کون اپنے والدین کے ساتھ قطر جائے گا، تو اس میں ہمام کا نام نکلا، جو بعد میں دوحہ حملے میں شہید ہوگئے۔

ہمام — ایک مسجد کے امام اور قرآن کریم کے حافظ تھے۔ انھوں نے دوحہ میں اپنے نومولود بیٹے کے لیے عقیقہ کی تقریب منعقد کرنے سے بھی انکار کر دیا تھا اور غزہ کے لوگوں کے ساتھ یکجہتی کے طور پر کسی بھی قسم کی خوشی منانے سے گریز کیا، یہاں تک کہ عید پر قربانی کرنے سے بھی رک گئے کیونکہ غزہ میں جنگ جاری تھی۔ امل الحیہ نے بتایا کہ ہمارے خاندان نے جنگ سے پہلے بھی کبھی سکون نہیں دیکھا، جس کی وجہ مسلسل سکیورٹی خطرات اور قتل کی کوششیں تھیں۔ ہم سرحد کے قریب حی الشجاعیہ کے مشرقی علاقے میں کئی برس تک مقیم رہے، اور بسا اوقات اسرائیلی ٹینک ہمارے گھروں کے دروازوں پر اس طرح پہنچ جاتے تھے کہ خاندان کے افراد کو اپنے کپڑے بدلنے یا وہاں سے نکلنے تک کا موقع نہیں ملتا تھا‘‘۔

محترمہ امل الحیہ اس پر اللہ کا شکر ادا کرتی ہیں کہ ’’ان کے بیٹوں نے اپنے آپ کو جہاد فلسطین میں قربان کیا ہے۔ قائدین کے بیٹوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ صف اول میں ہوں اور اپنی قوم سے پیچھے نہ رہیں، جب کہ وہ قابض اسرائیل کے خلاف مزاحمت کر رہے ہوں‘‘۔

حماس کے رہنماؤں کے بچوں کی عیش و عشرت اور غزہ کے باشندوں کے دُکھوں سے دُوری کے الزامات کے جواب میں، امل الحیہ نے اس بات پر زور دیا کہ ہمارے بچوں نے انھی حالات کا سامنا کیا ہے جن میں غزہ کے دیگر فلسطینی رہ رہے ہیں، جن میں نقل مکانی، بھوک، خوف اور حملوں کا نشانہ بننا سب کچھ شامل ہے۔ میرے بیٹوں نے باربار مواقع ملنے کے باوجود غزہ چھوڑنے سے انکار کیا ہے۔ فلسطینیوں کی ثابت قدمی کی خاص بات یہ ہے کہ رہنما اور ان کے خاندان بھی اسی تقدیر کا سامنا کر رہے ہیں اور وہ کسی قسم کی استثنائی مراعات سے فائدہ نہیں اُٹھا رہے۔

امل الحیہ کا کہنا ہے: ’’الحیہ خاندان نے موجودہ جنگ اور اس سے پہلے کے واقعات میں ۱۷شہداء پیش کیے ہیں۔ میری بہن نے بھی موجودہ جنگ میں اپنے دو بیٹوں کو کھو دیا ہے، جب کہ ہمارے بہت سے رشتہ دار اور غزہ کے دیگر باشندے اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ غزہ  اجتماعی قبرستان ہے۔ میری پہلی خواہش یہ ہے کہ اپنے گھروں کے ملبے پر کھڑی ہو کر شہداء کی روحوں کو سلام پیش کروں‘‘۔

مَیں غزہ کے تمام باشندوں کو سلام پیش کرتی ہوں، جنھوں نے بہت کچھ قربان کیا ہے اور ایسی مشکلات کا سامنا کیا ہے جن کا بوجھ پہاڑ بھی نہیں اٹھا سکتے۔

ـــــــاُم الشہداء 'امل خلیل الحیۃ کی اس گفتگو نے امید و رجا، عزیمت و استقامت، جذبہ و عزم اور یقین و ثبات کا ایسا عملی نمونہ اور درس پیش کیا ہے جو ہمیں عہدِ رسالت کے ایمان افروز واقعات کی یاد دلاتا ہے ۔کچھ مناظر ایسے ہوتے ہیں جن کا محض نفسیاتی تجزیہ کرنا ممکن نہیں، کیونکہ وہ عام انسانی برداشت کی حدود سے باہر ہوتے ہیں۔ یہ اس مقام سے پھوٹتے ہیں جسے پوشیدہ ایمانی طاقت کہا جاسکتا ہے، وہ طاقت جس کے ذریعے دین، انسانی نفس کی تشکیلِ نو کرتا ہے اور درد، محرومی اور موت کے ساتھ اس کے تعلق کو نئے سرے سے استوار کرتا ہے۔

یہ ایک گہرا علمی سوال ہے:کون سی چیز انسان کے اندر اس غیر معمولی برداشت کی صلاحیت پیدا کرتی ہے،اور انسانی دل اتنی بڑی محرومی کا بوجھ بغیر گرے کیسے اٹھا سکتا ہے؟

دراصل وجود کے بارے میں اسلامی تصورِ زندگی، موت اور آزمائش کے مفہوم کی ایک بالکل مختلف تفسیر پیش کرتا ہے۔ قرآنی تصور میں انسان محض عارضی دنیا کے لمحوں کا قیدی نہیں ہے، اور نہ اس کے فائدے اور نقصان کی پیمائش محض مادی پیمانوں سے ہوتی ہے، بلکہ وہ ایک وسیع تر اعتقادی پس منظر میں رہتا ہے، جہاں وہ دنیا کو ایک مستقل ٹھکانے کے بجائے ایک گزرگاہ، اور دارالجزا کے بجائے آزمائش کا گھر سمجھتا ہے۔

اسی لیے اسلام میں ’صبر‘ محض ایک اخلاقی فضیلت نہیں ہے، بلکہ یہ ایک عظیم ایمانی مقام ہے جو براہِ راست اللہ پر یقین، اس کی حکمت پر بھروسے اور اس کے عدل و وعدے پر اطمینان سے جڑا ہوا ہے۔ جوں جوں انسان کے شعور میں آخرت پر ایمان بڑھتا ہے، اس کے دل پر دنیاوی محرومی کا غلبہ کم ہوتا جاتا ہے۔ اس لیے نہیں کہ وہ اپنے بچوں سے محبت نہیں کرتا، بلکہ اس لیے کہ وہ موت کو فنا ہونے کے بجائے منتقلی، اور مستقل جدائی کے بجائے عارضی علیحدگی سمجھتا ہے۔

قرآن نے مومنوں پر واضح کیا ہے کہ آزمائش اس راستے کی فطرت کا حصہ ہے:

اور ہم ضرور تمھیں خوف و خطر، فاقہ کشی، جان و مال کے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کر کے تمھاری آزمائش کریں گے۔ اِن حالات میں جو لوگ صبر کریں اور جب کوئی مصیبت پڑے، تو کہیں کہ: ’’ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے‘‘۔ انھیں خوش خبری دے دو ان پر ان کے ربّ کی طرف سے بڑی عنایات ہوں گی، اُس کی رحمت اُن پر سایہ کرے گی اور ایسے ہی لوگ راست رَو ہیں۔(البقرۃ۲:۱۵۵-۱۵۷) 

بلاشبہ امل الحیہ کی اس گفتگو میں نظر آنے والی ہمت نہ صرف شخصی قوت ہے، بلکہ ایک مکمل اعتقادی ساخت کا نتیجہ ہے جو ان کے شعور، احساسات اور واقعات کی تشریح کا طریقہ تشکیل دیتی ہے۔ ایمان کا یہ انداز فوری جذباتی جوش و خروش سے پیدا نہیں ہوتا، بلکہ یہ عمر بھر کی قرآنی تربیت، جذبۂ ایمانی سے سرشار ہونے، کثرت سے آخرت کو یاد رکھنے اور خوشی و غمی میں اللہ کے سامنے سرِتسلیم خم کرنے کا نتیجہ ہے۔

جدید مادی ثقافت نے انسان کو اس کے محض فوری نفع بخش اور جذباتی پہلو تک محدود کر دیا ہے۔ دوسری طرف گہرا ایمان یہ ظاہر کرتا ہے کہ انسانی نفس —جب اللہ کے ساتھ حقیقی طور پر جڑ جاتا ہے، تو —تکلیف کے جسمانی احساس سے تجاوز کرنے اور صبر و استقامت کے ایسے درجے تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو بہت سے لوگوں کی نظر میں عام انسانی طاقت سے باہر دکھائی دیتا ہے۔

چنانچہ اس طرح کے مناظر کو محض انفرادی بہادری کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، بلکہ انھیں عقیدے کے زیراثر ایک زندہ تجربے کے طور پر دیکھنا چاہیے؛ جب وہ عقیدہ محض ذہنی کیفیت سے بدل کر ایک ایسے یقین میں ڈھل جاتا ہے جو دل میں گھر کر لیتا ہے اور انسان کی اندرونی دنیا بدل دیتا ہے !

 _______________