یہ ۲۰۲۲ء کا سال تھا، جب ایک ترمیمی قانون کے ذریعے مجموعۂ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ ۳۲۵حذف کرکے خودکشی کی کوشش پر سزا ختم کردی گئی تھی۔ لیکن اب ۲۰۲۶ء میں اس ترمیمی قانون کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کی وفاقی شرعی عدالت نے اسلامی احکام سے متصادم قرار دے دیا ہے۔ یہ ترمیمی قانون پیپلز پارٹی کے سینیٹر شہادت اعوان نے پیش کرتے ہوئے سینیٹ میں کہا تھا: ’’خودکشی کی کوشش کرنے والے شخص کو کچھ نفسیاتی مسائل لاحق ہوتے ہیں اور اس وجہ سے وہ علاج اور ہمدردی کا مستحق ہوتا ہے، نہ کہ سزا کا‘‘۔
جس وقت یہ مسودہ پیش کیا گیا تھا، ہم نے خبردار کیا تھا: ’’یہ ایک ایسی ڈھلان (slippery slope) ہے، جس پر چلتے ہوئے پھسلنا لازمی ہے۔ خودکشی کی کوشش کو جرائم کی فہرست سے خارج کرنے کے بعد خودکشی میں اعانت اور ترغیب کو بھی جرم نہیں کہا جائے گا اور یوں ’طبی مدد سے خودکشی‘ (Medically Assisted Suicide) کے لیے راہ کھل جائے گی، جس کے لیے انسانی ہمدردی کے جذبات آسانی سے ابھارے جا سکتے ہیں (مریض زندگی اور موت کی کش مکش میں مبتلا ہے، اس کی اذیت ختم نہیں ہو رہی)۔ اس کے بعد ’ہمدردانہ قتل‘ (Euthanasia) کی طرف لڑھکنے میں بھلا کتنی دیر لگے گی؟ یوں، اس راہ پر چلتے ہوئے پہلے مرضی کے بغیر ’ہمدردانہ قتل‘ کو جائز قرار دیا جائے گا۔ پھر تھوڑا مزید پھسل جائیں گے، تو ’مرضی کے خلاف‘ (یعنی چاہے مریض نہ چاہتا ہو) ہمدردانہ قتل تک بات پہنچ جائے گی کہ جس کا مقصود اسے اذیت سے بچانا کہا جائے گا۔ پھرجو علاج جاری ہے بس اس کو روک دینے سے مریض کے خود بخود مر جانے کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔ (Negative Euthanasia)اور یہ کہا جائے گا کہ جب علاج روک کر اسے مرنے دیا جا سکتا ہے، تو ایک انجکشن لگا کر اذیت کا خاتمہ کرنے یا اسے موت سے قریب کیوں نہیں لایا جا سکتا (Positive Euthanasia) ؟ اس کے بعد ’میری زندگی، میری مرضی‘ کا اصول اور ’خود کشی کا حق‘ بس ایک قدم کے فاصلے پر ہوگا۔‘‘
ہماری یونی ورسٹیوں میں سماجی علوم، بالخصوص نفسیات اور اخلاقیات میں ایک قدم آگے بڑھ کر ذہن سازی کرتے ہوئے خودکشی پر آج جس طرح کی بحث ہورہی ہے، اس کی جڑیں ڈھائی سو سال قبل خودکشی پر ڈیوڈ ہیوم کے مضمون میں ملتی ہیں، جس نے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ ’’خود کشی کرنے والا کوئی برا کام نہیں کرتا کیونکہ نہ وہ خدا کے خلاف کچھ برا کرتا ہے، نہ معاشرے کے خلاف، نہ خود اپنے خلاف‘‘۔ اس نے کہا تھا: ’’خدا کو کسی کی موت سے کیا فرق پڑتا ہے؟ اسی طرح اگر یہ فرد معاشرے کو کچھ دے نہیں سکتا تو جیسے معذور یا بیمار کو یا ایک خاص عمر تک پہنچنے کے بعد فرد کو ریٹائرمنٹ لینے یا مستعفی ہوجانے کا حق ہوتا ہے، تو یہی حق زندگی سے دست بردار ہونے کے لیے کیوں نہ حاصل ہو؟ اور اگر زندگی جینے کے لائق ہو تو کوئی شخص کبھی خود کشی نہیں کرے گا۔‘‘یہی بات فلموں، ڈراموں اور افسانوں میں اتنی بار دہرائی گئی ہے کہ اب لوگ اس کے مضمرات پر غور ہی نہیں کرتے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ’ما بعد جدیدیت دنیا‘ میں زندگی بے معنی ہو کر رہ گئی ہے۔ اس کے کوئی مقاصد عالیہ باقی نہیں رہے۔ اخلاقی اقدار کو محض ماضی کا روایتی ڈھکوسلا سمجھا جانے لگا ہے۔ زندگی کے آغاز، کائنات میں انسان کے مقام، موت کے بعد زندگی، خدا کے سامنے جواب دہی اور اس طرح کے دیگر سوالات پر غور کو بے مقصد اور فضول قرار دیا جا رہا ہے، تو پھر خود کشی پر کسی مذہبی یا اخلاقی قدغن کو کیسے تسلیم کیا جا سکتا ہے؟ سوال یہ ہے کہ اسلامی نقطۂ نظر اس بارے میں کیا ہے اور ایک ایسے مسلم ملک میں قانون کا اصول کیا ہوگا جس کا دستور یہ کہتا ہے کہ یہاں اللہ کے حکم کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں کی جا سکتی؟
اللہ کی شریعت میں خود کشی حرام ہے، اس لیے ہم کبھی خود کشی کو حق نہیں مان سکتے۔ ہمارے لیے سوال یہ ہے کہ اس حرام کام کے ارتکاب کی کوشش کو معاشرہ کیسے روکے اور حکومت کی اس ضمن میں کیا ذمہ داری ہے؟ امام ابو بکر محمد سرخسی [م:۱۰۹۰ء]نے اسلامی قانون کا ایک اہم اصول ذکر کیا ہے، جسے قانون سازی اور پالیسی سازی میں ایک رہنما اصول کے طور پر مقننہ (پارلیمنٹ) اور حکومت کو ہمیشہ مد نظر رکھنا چاہیے، کہ ’الأُمُورُ بِعَوَاقِبِهَا‘، یعنی افعال کا جواز ان کے نتائج پر منحصر ہوتا ہے۔ چنانچہ کسی بھی فعل پر سزا ختم کرنے سے قبل قانون سازوں کو لازماً یہ دیکھنا چاہیے کہ اس کے کیا نتائج سامنے آئیں گے اور کیا وہ نتائج قابلِ قبول ہوں گے؟
’’خود کشی کرنے والا ذہنی مسائل کا شکار ہوتا ہے‘‘، لیکن یہ دلیل کسی بھی دوسرے جرم کے لیے پیش کی جا سکتی ہے۔ اگر خودکشی کی کوشش کرنے والا اس ہمدردی کا مستحق ہے تو زنا کا ارتکاب کرنے والا ’ہمدردی‘ کا مستحق کیوں نہ قرار دیا جائے؟ ایسے فرد کے لیے سزا کے بجائے علاج اور نفرت کے بجائے ’پیار کی ضرورت‘ کا کیوں نہ جھنڈا بلند ہو؟ کئی لوگ ایک قدم آگے بڑھ کر کہتے ہیں کہ خود کشی کا رجحان دراصل موروثی بیماریوں کی طرح جینز کے ذریعے منتقل ہوتا ہے، لیکن ایسے جینز تو دیگر جرائم کے لیے بھی ہو سکتے ہیں۔ ’جینیاتی جبر‘ (Genetic Determinism) کے نام سے مجرموں کا دفاع موجودہ زمانے میں کوئی انوکھی چیز نہیں رہی ہے۔ تو پھر کیا جرم و سزا کے سارے نظام ہی کو لپیٹ دیا جائے؟ زیادہ سے زیادہ یہ فرق کیا جانے لگے گا کہ کیا مجرم نے کسی اور انسان کو نقصان پہنچایا ہے؟ لیکن اسلامی نقطۂ نظر سے خود کو نقصان پہنچانا بھی اتنا ہی بڑا جرم ہے جتنا کسی دوسرے کو نقصان پہنچانا۔
البتہ یہ بات قابل توجہ ہے کہ کسی کو جرم کی سزا صرف اسی وقت دی جا سکتی ہے، جب اس نے جرم کا ارتکاب بقائمیِ ہوش و حواس اپنی رضامندی سے کیا ہو۔ اس لیے اگر یہ ثابت ہو جائے کہ خود کشی کی کوشش کرنے والا ایسی ذہنی حالت میں تھا کہ اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب ہو گئی تھی اور وہ وقتی طور پر جنون کے زیر اثر آگیا تھا، تو یہ عذر اسے سزا سے بچا سکتا ہے، لیکن اس مقصد کے لیے تو فوجداری قانون میں پہلے ہی سے ’عمومی اعذار‘ کا باب موجود ہے۔ تاہم، اس عذر کا بارِثبوت اسی پر ہوگا، جو اسے اپنے حق میں استعمال کرنا چاہتا ہے۔
افسوس ناک امر یہ بھی ہے کہ ’سزا نہیں، علاج‘ کی بات کرنے والوں نے سزا تو ختم کردی تھی، لیکن علاج کے اہتمام و انتظام کے لیے کوئی قانون سازی نہیں کی!
_______________