جون ۲۰۲۶

فہرست مضامین

شہید گنج‘ سے ’کمال مولا مسجد‘ تک

افتخار گیلانی | جون ۲۰۲۶ | اخبار اُمت

Responsive image Responsive image

مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے ۱۵مئی ۲۰۲۶ء کے فیصلے میں دھار کی تاریخی ’کمال مولا مسجد‘ [تعمیرشدہ:غالباً ۱۳۲۰ء]کو ہندو عبادت گاہ ’بھوج شالا‘ قرار دیتے ہوئے ہندو فریق کے حق میں فیصلہ سنایا گیا۔ جس نے انڈیا میں مذہبی مقامات سے متعلق ایک نئی اور نہایت خطرناک بحث کو جنم دیا ہے۔

عدالت نے اس مقام کو ’دیوی سرسوتی‘ سے منسوب کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا کہ ’’یہ دراصل ایک قدیم مندر تھا‘‘حالانکہ تاریخی ریکارڈ، نوآبادیاتی دور کے سروے، فارسی کتبے اور آثارِ قدیمہ کی رپورٹیں اس دعوے کی ہرگز تائید نہیں کرتیں۔

یہ فیصلہ محض ایک عبادت گاہ یا زمین کے تنازعے تک محدود نہیں ہے۔ اس فیصلے نے انڈیا کے آئینی اور قانونی ڈھانچے، خصوصاً ’مذہبی مقامات ایکٹ ۱۹۹۱ء‘اور’لاء آف لیمیٹیشن‘جیسے بنیادی اصولوں کو ایک سخت امتحان میں ڈال دیا ہے۔اگر عدالتیں اساطیری روایتوں یا مذہبی عقیدوں کی بنیاد پر صدیوں پرانے دعووں کو تسلیم کرنے لگیں، تو پھر پورے برصغیر میں شاید ہی کوئی تاریخی عمارت، عبادت گاہ یا آثارِ قدیمہ کا مقام تنازعہ سے محفوظ رہ سکے۔

’کمال مولا مسجد‘ جسے اب’بھوج شالہ‘کے نام سے زیادہ پکارا جارہا ہے، صدیوں تک ایک فعال مسجد کے طور پر استعمال ہوتی رہی۔مسلمان وہاں ۱۴ویں صدی عیسوی کے اوائل سے باقاعدہ نماز ادا کرتے رہے ہیں۔

لیکن پھر جب ہندو تنظیموں نے اس مقام پر اپنے دعوے میں شدت پیدا کی، تو انتظامیہ نے ۲۰۰۳ء میں ایک مشترکہ انتظام متعارف کرایا، جس کے تحت مسلمانوں کو جمعہ کے روز نماز کی اجازت دی گئی، جب کہ ہندوؤں کو منگل کے دن پوجا کی اجازت دی گئی۔مگر اس انتظام نے تنازعہ ختم کرنے کے بجائے اس کو مزید پیچیدہ بنا دیا، کیونکہ دونوں فریق اسے اپنی جزوی کامیابی کے طور پر دیکھنے لگے۔

انڈیا میں آثارِ قدیمہ سے متعلق تاریخ کی ماہر محترمہ ڈاکٹر روچیکا شرما (Ruchika Sharma) نے اپنی مفصل تحقیق اور لیکچر میں اس پورے موقف اور دعوے کو چیلنج کیا ہے۔ان کے مطابق، ’’اس عمارت کا اصل نام کمال مولا کی مسجد ہے‘اور تاریخی ریکارڈوں میں اسے کبھی’بھوج شالہ‘کے طور پر بیان نہیں کیا گیا‘‘۔

ڈاکٹر شرما نے انیسویں صدی کے اوائل میں کیے گئے برطانوی سرویز کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ برطانوی افسر جان میلکم نے جب دھار کا تفصیلی سروے کیا، تو انھوں نے راجا بھوج سے وابستہ کئی داستانوں کا ذکر ضرور کیا، مگر پورے تذکرے میں مسجد کی اس عمارت کے ساتھ ان کی کسی تنازعے کی وابستگی کا کوئی حوالہ نہیں دیا۔

اس کے برعکس، جان میلکم نے اس ڈھانچے کو ایک’خستہ حال مسجد‘قرار دیا تھا، جس میں منبر، محراب اور دیگر اسلامی طرزِ تعمیر کے عناصر موجود تھے۔ ڈاکٹر روچیکا شرما کے مطابق، بعد کی برطانوی رپورٹیں بھی اسی حقیقت کی تائید کرتی ہیں۔ انیسویں صدی کے وسط میں برطانوی افسر ولیم کنکیڈ نے اس مقام کو کمال الدین مالوی کے’روضے‘کے قریب واقع ایک’چھوٹی مسجد‘قرار دیا۔ بعدازاں ۱۹۱۷ء میں ’ایپی گرافیہ انڈو مسلمیکا‘ (Epigraphia Indo-Moslemica)میں شائع فارسی کتبوں کے تراجم میں اس مقام کو’روضہ قطبِ کمال‘کہا گیا، جب کہ ایک کتبے میں یہ درج ہے کہ دلاور خان غوری نے سلطنتِ دہلی کے دور میں اس مسجد کی مرمت کروائی تھی۔

ڈاکٹر روچیکا شرما کے دلائل یہ ہیں کہ ’یہ تمام شواہد اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ یہ مقام ایک مسجد اور صوفی بزرگ کمال الدین مالوی کے مقبرے کا احاطہ تھا، نہ کہ راجا بھوج کا سنسکرت مدرسہ‘۔ وہ کہتی ہیں کہ’اب تک ہم یہی جانتے ہیں کہ یہ ایک مقبرہ اور مسجد کا احاطہ تھا، اور کم از کم انیسویں صدی کے پہلے نصف تک راجا بھوج سے اس کا کوئی تعلق ظاہر نہیں ہوتا۔‘

وہ اس عمارت کے فنِ تعمیر کی طرف بھی توجہ دلاتی ہیں: ’’یہ ایک’ہائپو اسٹائل مسجد‘ہے، جس میں ستونوں کی قطاریں، محرابیں اور منبر شامل ہیں، جو اسلامی فنِ تعمیر کی نمایاں خصوصیات ہیں‘‘۔ ان کی تحقیق یہ ہے: ’’قرونِ وسطیٰ کے ہندستان میں قدیم عمارتوں کے پتھر یا ستون دوبارہ استعمال کرنا ایک عام روایت تھی، اس لیے مسجد میں ہندو یا جین طرز کے ستونوں کی موجودگی بذاتِ خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ مسجد کسی مندر کو گرا کر ہی تعمیر کی گئی تھی‘‘۔

انھوں نے اس دعوے کو بھی چیلنج کیا کہ یہ مقام کبھی ’سرسوتی مندر‘ تھا۔ ان کے مطابق: ’’جس مجسمے کو بعد میں’بھوج کی سرسوتی‘کہا گیا، اس کے کتبے تو اسے’امبیکا‘یعنی جین مذہب کی دیوی قرار دیتے ہیں۔ مزید یہ کہ اس مجسمے کو مسجد کے احاطے سے جوڑنے کا بھی کوئی براہِ راست ثبوت موجود نہیں ہے‘‘۔

’’دلچسپ بات یہ ہے کہ’بھوج شالہ‘کی اصطلاح بھی تاریخی طور پر بہت نئی ہے‘‘، شرما کے مطابق:’’یہ نام پہلی بار بیسویں صدی کے آغاز میں ایک رپورٹ میں استعمال ہوا، جس کا عنوان تھا؛’کمال مولا مسجد سے ملنے والے ڈرامائی کتبے کا خلاصہ‘۔ یعنی جس نام پر آج پورا تنازعہ کھڑا کیا جا رہا ہے، وہ خود نوآبادیاتی دور کی پیداوار ہے‘‘۔

زمین کی عمر تقریباً چار اعشاریہ پانچ چار بلین سال قرار دی جاتی ہے، جب کہ انسانی تہذیب ہزاروں برسوں سے مختلف شکلوں میں ارتقا پذیر رہی ہے۔ اس دوران بے شمار قومیں، مذاہب اور تہذیبیں ابھریں، زوال کا شکار ہوئیں اور نئی تہذیبوں کے نیچے دفن ہوگئیں۔دنیا کا شاید ہی کوئی خطہ ایسا ہوگا جہاں کھدائی کرنے پر قدیم آبادیوں یا عبادت گاہوں کے آثار نہ ملتے ہوں۔ اگر انھی آثار کو موجودہ ملکیتی یا مذہبی حق کی بنیاد بنایا جائے، تو پھر ہر شہر، ہر عبادت گاہ اور ہر تاریخی عمارت ایک مستقل مقدمے میں تبدیل ہوکر رہ جائے گی۔

ہندستان کی اپنی تاریخ اس کی واضح مثال ہے کہ جہاں پر ایک دور میں بودھ مت پورے برصغیر میں غالب مذہب تھا بلکہ چین، تبت، افغانستان اور وسطی ایشیا تک اس کے اثرات پھیلے ہوئے تھے۔ بعدازاں آدی شنکر آچاریہ [۷۸۸ء-۸۲۰ء]نے ہندو مذہب کے احیا کی تحریک چلائی تو اس کے نتیجے میں متعدد بودھ خانقاہوں اور عبادت گاہوں کو مندروں میں تبدیل کیا گیا۔

اگر آج کے پیمانے سے تاریخ کو کھنگالا جائے، تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کتنے موجودہ ہندو مندر، جین اور بودھ آثار پر قائم ہیں؟ اور اگر ہر تہذیبی پرت کو بنیاد بناکر فیصلے ہونے لگیں، تو تنازعات کا یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔

اسی خطرے کے پیش نظر دنیا کے تقریباً تمام قانونی نظاموں میں’لاء آف لیمیٹیشن‘یا قانونِ حد کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔ اس قانون کا مقصد یہی ہے کہ صدیوں پرانے دعووں کی بنیاد پر معاشرے مستقل انتشار اور تصادم کا شکار نہ ہوں۔یہ قانون کہتا ہے کہ ایک مخصوص مدت گزرنے کے بعد کسی جائیداد یا ملکیت پر دعویٰ ناقابلِ سماعت ہوجاتا ہے، ورنہ ہر نسل اپنے آباؤ اجداد کے نام پر نئی قانونی جنگیں چھیڑ سکتی ہے۔

۱۵۲۷ء میں تعمیر ہونے والی بابری مسجد کی شہادت [۶دسمبر ۱۹۹۲ء]کے بعد یہ دلیل دی گئی تھی کہ ایودھیا تنازعے پر انڈین سپریم کورٹ نے ۹نومبر ۲۰۱۹ء کو مسجد کے خلاف اکثریتی فیصلہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ایک ’استثنائی‘معاملہ ہے اور اس کے بعد دیگر عبادت گاہیں محفوظ رہیں گی۔ اسی پس منظر میں ہندستانی پارلیمنٹ نے’مذہبی مقامات ایکٹ‘منظور کیا تھا، جس کے تحت بابری مسجد کے علاوہ تمام عبادت گاہوں کی وہی حیثیت برقرار رکھنے کی ضمانت دی گئی جو اگست ۱۹۴۷ء میں برطانیہ سے آزادی کے وقت تھی۔ اس وقت یہ کہا گیا تھا کہ اب مستقبل میں کسی مسجد، مندر یا دیگر مذہبی مقام کی تاریخی حیثیت کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکے گا۔مگر اب ۲۰۲۶ء کے وسط میں ’کمال مولا مسجد‘ کے فیصلے نے اس فیصلے کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ اس سے پہلے ’گیان واپی مسجد‘ اور ’متھرا عیدگاہ‘ جیسے معاملات بھی عدالتوں میں پہنچ چکے ہیں۔

ہندو نسل پرست تنظیمیں اب مسلسل یہ دعویٰ کرتی آرہی ہیں کہ ملک بھر میں ہزاروں مساجد، مزارات، قبرستان اور وقف املاک دراصل قدیم ہندو عبادت گاہوں کی جگہ تعمیر کیے گئے تھے۔ ’وشواہندو پریشد‘ (VHP)نے تو گویا بلینک چیک جاری کرتے ہوئے یہاں تک دعویٰ کردیا ہے کہ تقریباً ۲۵ہزار مقامات متنازعہ ہیں۔

یہ صورتِ حال برصغیر کی تاریخ کے ایک اور اہم مقدمے، لاہور کی مسجد شہید گنج، کی یاد تازہ کرتی ہے جو شاہ جہاں بادشاہ کے عہد میں ۱۶۵۳ء میں تعمیر ہوئی تھی۔ لاہور پر سکھوں کے قبضے کے بعد اس مسجد کو گوردوارہ میں تبدیل کردیا گیا تھا۔ لیکن جب پنجاب، برطانوی اقتدار کے تحت آیا تو مسلمانوں نے اس مسجد کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔ مقدمہ عدالتوں سے ہوتا ہوا ’پریوی کونسل‘ تک پہنچا، مگر ہر عدالت نے’لاء آف لیمیٹیشن‘کی بنیاد پر فیصلہ سکھوں کے حق میں دیا۔

مسجد کے متولی نور احمد کئی عشروں تک عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹاتے رہے، اور ہر بار یہی کہا گیا کہ چونکہ ایک طویل عرصے سے عمارت کا استعمال تبدیل ہوچکا ہے، اس لیے اب پرانا دعویٰ قابلِ سماعت نہیں رہا ہے۔ بعد میں جب مسجد کی عمارت منہدم کردی گئی تو لاہور میں شدید احتجاج ہوا، لوگ مارے گئے، کرفیو نافذ ہوا اور ماحول انتہائی کشیدہ ہوگیا۔

مسلم لیگ کے بعض ارکان نے اسمبلی کے ذریعے اس عمارت کو دوبارہ مسلمانوں کے حوالے کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔ معروف قانون داں اور مؤرخ اے جی نورانی، جو عمومی طور پر محمد علی جناح کی سیاست کے سخت ناقد سمجھے جاتے تھے، اس معاملے میں ان کی کھل کر تعریف کرتے ہیں۔ نورانی کے مطابق، جناح نے مسجد شہید گنج کے قضیے کو سیاسی فائدے یا عوامی جذبات بھڑکانے کے لیے استعمال نہیں کیا۔ شدید عوامی دباؤ اور مذہبی اشتعال کے باوجود انھوں نے قانون کی عمل داری کو ترجیح دی اور یہ موقف اختیار کیا: ’’اگر عدالتوں کے فیصلوں کو مذہبی جذبات کی بنیاد پر رَد کیا جانے لگے، تو پورا قانونی نظام کمزور پڑ جائے گا‘‘۔نورانی کے بقول، یہی طرزِ عمل جناح کو ایک ذمہ دار آئین پسند سیاستدان کے طور پر ممتاز کرتا ہے۔آج پاکستان بننے کے کئی عشروں بعد بھی لاہور کا وہ گوردوارہ اپنی جگہ موجود ہے۔ اس معاملے میں شدید مذہبی جذبات کے باوجود کسی حکومت یا مسلمانوں کی کسی بھی مذہبی جماعت نے برطانوی دور کے عدالتی فیصلے کو کالعدم قرار دے کر اسے دوبارہ مسجد بنانے کی کوشش نہیں کی۔

اس مثال سے واضح ہوتا ہے کہ ریاستیں صرف جذبات سے نہیں بلکہ قانون کی عمل داری سے چلتی ہیں۔ہندستان میں آج جو راستہ اختیار کیا جا رہا ہے، وہ صرف مسلمانوں یا چند مساجد کا مسئلہ نہیں۔ اگر عدالتیں تاریخ، عقیدے اور اساطیری روایتوں کی بنیاد پر صدیوں پرانے دعووں کو تسلیم کرنے لگیں، تو پھر اس کی کوئی حد باقی نہیں رہے گی۔ کل کوئی اور گروہ کسی اور مقام پر اسی منطق کے تحت دعویٰ کرسکتا ہے۔

اس طرح ریاست کے ادارے مستقل مذہبی تنازعات کے میدان میں تبدیل ہوجائیں گے۔تاریخ کا احترام ضروری ہے، مگر تاریخ کے نام پر حال اور مستقبل کو یرغمال بنانا کسی بھی معاشرے کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔قانون کی بالادستی ہی وہ واحد اصول ہے، جو متنوع معاشروں کو انتشار اور انتقام کی سیاست سے بچا سکتا ہے۔

 _______________