یہ حقیقت ہمیشہ ہمارے ذہنوں میں واضح رہنی چاہیے کہ جماعت اسلامی کسی نئی فکر کی علَم بردار نہیں ہے۔ یہ انبیا علیہم السلام، صحابہ کرامؓ اور سلف صالحین ہی کے طریقے پر دین اسلام کے احیا و اقامت دین کے لیے سرگرم تحریک ہے۔ اس وقت جب دُنیا میں ہرطرف مختلف سطحوں پر اور مختلف طریقوں سے فساد پھیلا ہوا ہے، اور پھر مسلمان مختلف حصوں میں تقسیم ہوچکے ہیں تو صورتِ حال اور زیادہ خراب منظر پیش کرتی ہے۔ ہرطرف باطل کی حکمرانی ہے۔ باطل نظام مادی و عسکری قوت اور ٹکنالوجی کے ذریعے سے اپنے مخصوص ایجنڈے کے ساتھ بالادست ہے۔ مسلم معاشروں میں اسلام اگرچہ کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے، نماز اور روزے کی صورت میں، حج اور عمرے کی صورت میں، زکوٰۃ اور خیر کے کاموں کی صورت میں، اور مختلف درجوں میں دعوت و تبلیغ کے کام کی سرگرمیاں بھی نظر آتی ہیں، لیکن مجسم اور متحرک اسلامی نظام اس طرح سے موجود نہیں جیساکہ اُسے ہونا چاہیے۔ ایک ایسا فعال اور عادلانہ نظام جو پوری دنیا کو اپیل کرے اور انسانیت کو درپیش گوناگوں مسائل حل ہوسکیں۔
جماعت اسلامی اسی کام کو لے کر اُٹھی ہے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امت کے سپرد کیا ہے۔ دعوتِ دین کے اس نبوی طریقے میں یہ بات بہت اہم ہے کہ فرداً فرداً لوگوں تک دین کی دعوت پہنچانے کے لیے منظم جدوجہد کی جائے۔ تاہم اس میں خاندان ایک بنیادی اکائی ہے۔ ایک خاندان کے تمام افراد کا اس دعوت کو شعوری طور پر قبول کرکے ایک بنیادی اکائی کے طور پر اس جدوجہد کا دست و بازو بن جانا بہت اہمیت کا حامل ہے۔
اللہ علیم و حکیم کی ہدایت و حکم ہے: وَّذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِيْنَ۵۵ (الذاریات ۵۱:۵۵) ’’اور یاد دہانی کرتے رہیے کیونکہ یاد دہانی و تذکیر مومنین کو نفع دیتی ہے‘‘۔ یعنی تذکیر و یاددہانی اللہ ربّ العالمین اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کاسکھایا ہوا طریقۂ تزکیہ و تربیت ہے۔ اس لیے جہاں ہرمومن کو تذکیر و یاد دہانی کی ضرورت ہے، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جماعت اسلامی کے وابستگان کو ہرلمحہ اور زندگی کے ہر موڑ پر تذکیر و یاددہانی کی کہیں زیادہ ضرور ت ہے، تاکہ ان کی پوری توجہ ہردم اپنے تزکیہ و تربیت پر مرکوز رہے۔ عام انسانوں کو اسلام میں پورے کا پورا داخل ہونے کی دعوت دینے اور ان کے تزکیہ و تربیت کی جو ذمہ داری جماعت اسلامی کے وابستگان نے رضاکارانہ طور پر قبول کی ہے اُسے کماحقہٗ ادا کرنے کے لیے تزکیہ و تربیت کی یاددہانی بنیاد کا درجہ رکھتی ہے۔
اگر ایک پورا خاندان اس دعوت اور تحریک کا پشت پناہ بن جائے اور ہرطرح کی مشکل اور پریشانی میں تمام گھر والے اس کارِعظیم کا ساتھ دینا اور آگے بڑھنا شروع کر دیں تو بہت سی مشکلات اور پریشانیاں ختم ہوجاتی ہیں۔ اگر شعوری طور پر اس اسلامی ذمہ داری کو قبول کرکے قلب و ذہن کی آمادگی کے ساتھ اقامت ِ دین کے اس کام کو انجام دیا جائے گا اور اسے اپنے لیے دُنیا و آخرت کی کامیابی کا باعث سمجھتے ہوئے خوشی خوشی انجام دیا جائے گا، تو ایسا خاندان دعوتِ دین اور اپنے معاشرے کے لیے ایک مثالی خاندان بن جائے گا۔ اس لیے یہ بہت ضروری ہے کہ جس دعوت و جدوجہد کو ہم خود اپنے لیے ٹھیک سمجھتے ہیں، ہمارے اہل خانہ اور بچے بھی اس دعوت کو شعوری طور پر قبول کریں اور اس جدوجہد کا حصہ بنیں۔
اقامت ِ دین کی اس تحریک کو ہم نے اپنے اختیار سے قبول کیا ہے۔ سیّد مودودیؒ نے قرآن و سنت سے اخذ کر کے ہمیں دین اسلام کی جو تعلیمات سمجھائیں، ان کو پڑھ سمجھ کر ہم نے اس بات کا عہد کیا کہ یہ ہو نہیں سکتا کہ دنیا میں دو الٰہ ہوں: ایک ’الٰہ ‘وہ کہ جس کا اسلام کے بنیادی کلمہ لاالٰہ الا اللہ پر ایمان لاتے ہوئے ہم اقرار کرتے ہوں، اور دوسرے ’الٰہ‘ وہ ہوں جن کی دنیا اور انسانوں پر حکمرانی قائم ہو۔ لہٰذا، ہم اس دنیا میں اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اللہ کی حاکمیت کا نظام قائم کرنا چاہتے ہیں اور یہی جدوجہد ہماری نجات کا ذریعہ ہے۔
جماعت اسلامی کے دستور میں یہ نصب العین بہت واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ ’’ہماری تمام سعی و جہد کا مقصود عملاً اقامت ِ دین (حکومت الٰہیہ یا اسلامی نظامِ زندگی کا قیام) اور حقیقتاً رضائے الٰہی اور فلاحِ اُخروی کا حصول ہوگا‘‘۔ گویا ہم اللہ تعالیٰ کی رضا، اس کی خوش نو دی اور جنت کا حصول چاہتے ہیں۔اس دنیا کے بعد جو ہمیشہ کی زندگی ہے اس میں اگر ہم جنّت کے حق دار نہیں ٹھیرتے تو ہماری اس ساری بھاگ دوڑ کا کیا حاصل؟ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت ملے گی کیسے؟ قرآن و سنت کے مطابق اللہ کی رضا اور جنّت کے حصول کا واحد ذریعہ یہ ہے کہ ہم حق اور سچ کے گواہ بن کر اللہ کے دین کی نصرت کے لیے کھڑے ہو جائیں۔ ہم دعوت کا کام کریں۔ ہم خود بھی اسلامی طریق زندگی اپنائیں اور دوسروں کی اصلاح کی بھی کوششیں کریں۔ ہم اپنے اہل خانہ، بچوں اور خاندان کے ساتھ اس کام میں پوری یکسوئی کے ساتھ لگ جائیں تو ہم اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوش نودی کے حصول کے مستحق ٹھیرسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے زندگی گزارنے کا طریقہ ’اسلام‘ کی صورت میں نازل فرمایا ہے اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سیرت کی شکل میں ایک کامل نمونہ پیش کیا ہے۔ اس لیے زندگی کے ہرہر معاملے میں اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی میں جو راہ نمائی قرآن و سنت نے دی ہے، ہم اسے اپنائیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوتِ دین کا جو طریقہ اور اسلوب ہمیں بتایا ہے ، اس میں ہم دیکھتے ہیں کہ کس طرح آپؐ اپنے ہی عزیزوں اور رشتہ داروں کے مقابلے پر آکھڑے ہوئے اور آپؐ نے ان سب کو اللہ کے راستے کی طرف بلانے کے لیے ہرمصیبت برداشت کی۔ یہ سب ہمارے لیے عملی نمونہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے ساتھیوں پر طرح طرح سے تشدد بھی ہوا اور آپؐ کو شعب ابی طالب میں عملاً تین برس قید میں بھی گزارنا پڑے، جس میں آپ کا مکمل سوشل بائیکاٹ کر دیا گیا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت بھی فرمائی۔ آپؐ کے صحابہ کرامؓ نے تو پہلے حبشہ کی طرف ہجرت کی اور پھر مدینہ منورہ کی طرف ۔
آپؐ نے مدینہ میں ایک اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی، مگر اس سے پہلے اہل یثرب کو اسلام کی دعوت، تعلیمات اور طرزِ زندگی سے روشناس کراتے ہوئے رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے حضرت مصعب بن عمیرؓ کو یثرب روانہ کیا تاکہ وہ وہاں دعوت اور تعلیم و تربیت کا کام کریں۔ جب اہل یثرب کی اکثریت نے اسلام کی دعوت کو قبول کر کے اسلامی طرزِ زندگی اپنانے کا راستہ اختیار کیا تو وہاں ایک اسلامی ریاست کی ابتدا ہوئی۔ وحی الٰہی کی رہنمائی میں وقت کے ساتھ ساتھ اس ریاست کی تفصیلات طے ہوتی گئیں۔ دشمن اس ریاست کو ختم کرنے کے لیے اُمڈ آئے۔ ان کا مقابلہ کرنے کے لیے آپؐ نے جہاد اور قتال بھی کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ ان بنیادی اُمور پر پوری توجہ دی کہ خاندان کا نظام کیسے تشکیل پائے؟ عائلی قوانین کیسے ہوں گے؟ بین الاقوامی سطح پر لوگوں سے کیسے معاملات طے ہوں؟ کس طریقے سے اپنی معیشت کو چلائیں اور عدالتی نظام کیا ہو؟ ۱۰سال کی مختصر مدت میں، جو مدینہ منورہ میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے گزاری، آپؐ نے نظام کی پوری تبدیلی عملاً کرکے دکھا دی۔ پھر حجۃ الوداع کے موقع پر پوری انسانیت کو گواہ بھی بنایا کہ آپؐ نے دین کو مکمل طور پر نہ صرف قولاً انسانیت کے سامنے پیش کردیا ہے بلکہ عملاً اس کو ایک اسلامی معاشرے اور ریاست کی صورت میں نافذ بھی کردیا ہے۔
تمام انبیا اور رسولوں علیہم السلام، خصوصاً محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد ِ بعثت اللہ کے دین کو تمام ادیان پر غالب کرنا قرار دیا گیا۔ یہ بات قرآن کریم میں یوں بیان فرمائی گئی:
ہُوَالَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰي وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْہِرَہٗ عَلَي الدِّيْنِ كُلِّہٖ۰ۙ وَلَوْ كَرِہَ الْمُشْرِكُوْنَ۳۳ (التوبہ ۹:۳۳) وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسولؐ کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا ہے، تاکہ اسے پوری جنسِ دین پر غالب کردے خواہ مشرکوں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ مقصد ِ بعثت سورۃ الفتح آیت ۲۸ اور سورۃ الصف کی آیت۹ میں بھی دُہرایا گیا ہے۔ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی مشن، اقامت ِ دین اور غلبۂ اسلام کی دعوت لے کر اُٹھے ہیں۔ یہ بہت بڑا کام ہے۔ امرواقعہ یہ ہے کہ کسی بھی بڑے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے اگر انسان اپنی زندگی کی ترجیحات اس ہدف کے تقاضوں کے مطابق طے نہیں کرتا، تو اس ہدف کا حصول ممکن نہیں رہتا۔ اس لیے جماعت اسلامی کے وابستگان کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ جب آپ نے اپنی زندگی کا ہدف اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق اقامت ِ دین اور غلبۂ اسلام کو بنایا ہے تو اپنی زندگی کی ترجیحات کا تعین اس مبارک اور بہت بڑے ہدف کے مطابق کیجیے۔ آپ اپنے اہل خانہ اور بچوں کے ساتھ اپنے گھروں میں رہتے ہیں اور ایک خاندان اور برادری سے وابستہ ہیں۔ایک لمحے کے لیے رُک کر جائزہ لیجیے۔ اس دعوت کے ساتھ خود ہمارے اپنے گھر اور خاندان کے لوگ کس حد تک چل رہے ہیں؟ درحقیقت اقامت ِ دین کی جدوجہد کوئی ایسا دعویٰ نہیں ہے کہ جو کسی عام سیاسی پارٹی کا دعویٰ ہوتا ہے، بلکہ یہ ایک عہد ہے اللہ کے ساتھ، اور لوگوں کو گواہ بنا کر!
ہم کوئی مذہبی جماعت نہیں کہ جس کے پیش نظر کسی مسلک کا پرچار ہو۔ ہمارے پیش نظر دین کے کسی ایک شعبے کا کام بھی نہیں کہ ہم سمجھیں کہ اگر ہم نے مدرسہ بنا لیا، یا خیر کا کوئی کام کرلیا، یا کوئی سبیل لگا دی یا خدمت خلق انجام دے دی تو ہمارے کام کا حق ادا ہوگیا۔ ذرا سوچیے! یہ کتنی عظیم دعوت ہے کہ دین اسلام کو ایک پورے نظام کے طور پر قائم کرنا چاہتے ہیں جس کے نتیجے میں عدل پر مبنی ایک معاشرہ و ریاست وجود میں آئے گی۔سوال یہ ہے کہ نظام کی اس تبدیلی کے لیے ہمارا وقت کتنا لگتا ہے؟ ہماری صلاحیتیں کتنی لگتی ہیں اور اس راہ میں ہم اپنا جان و مال کتنا کھپاتے ہیں؟
بلاشبہ جماعت اسلامی کے بہت سے کارکنان بڑی قربانی دیتے ہیں، بڑا ایثار کرتے ہیں، بڑا وقت لگاتے ہیں، بڑی جان کھپاتے ہیں، لیکن یہ کام وہ اکیلے کر رہے ہوتے ہیں۔ جب وہ اپنے لیے سوچتے ہیں، تو اور طرح سے سوچتے ہیں، لیکن وہیں پر اپنے گھر والوں اور بچوں کے لیے اُن کی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ کیا ہم اپنے اہل خانہ اور بچوں کے لیے وہ پسند نہیں کرتے جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں؟
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ہمیں متنبہ کیا: لَایُؤمِنُ اَحدُکُمْ حَتّٰی یُـحِبُّ لِاَخِیْہِ مَا یُـحِبُّ لِنَفْسِہٖ(البخاری)’’تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جووہ اپنے لیے پسند کرتا ہے‘‘۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اہل خانہ اور بچوں کے لیے ہماری ترجیحات بدل جاتی ہیں، تو کیا ہمیں واقعی اپنی زندگی کے ہدف پر شرح صدر حاصل ہے؟ کیا ہم اپنی زندگی کے ہدف کے تقاضوں کو پوری طرح سمجھتے ہیں؟
بچوں کی اچھی تعلیم اور روشن مستقبل کی اپنی جگہ اہمیت ہے، لیکن کیا اچھی تعلیم اور روشن مستقبل کسی بھی طریقے سے، چاہے باطل نظام کی خدمت اور سہولت کاری سے ہو، اعلیٰ منصب، مادی آسائشوں اور گاڑیوں میں اضافے کی شکل میں ہو اور ایک گھر سے دوسرے گھر کے حصول کی فکر ہی میں ہو؟ یہ سب کچھ ہم اس دُنیا کے لیے سوچتے ہیں۔وہ دُنیا جس کے بارے میں ہمیں پتہ ہی نہیں ہے کہ یہ کب ختم ہوجائے گی، کب سانس رُک جائے گا اور آنکھ بند ہوجائے گی۔ جب اتنی سی زندگی کے لیے ہم اتنی تگ و دو کرتے ہیں تو جہاں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہم، ہمارے اہل خانہ اور ہمارے بچوں نے جانا ہے، اس کی ہم کتنی پیش بندی اور کتنی فکر مندی کرتے ہیں؟
پھر سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں اس حقیقت پر یقین ہے کہ انسان کے رزق کی مقدار اللہ تعالیٰ ہی مقرر فرماتا ہے؟ اَللہُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِہٖ وَيَقْدِرُ لَہٗ۰ۭ اِنَّ اللہَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ۶۲ (العنکبوت ۲۹:۶۲) ’’اللہ اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے رزق وسیع کر دیتا ہے اور جس کے لیے چاہے تنگ کر دیتا ہے، بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا ہے‘‘۔ کیا جب ہم اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ صلاحیتوں کو جان کر اور اُن کی دُنیا و آخرت میں کامیابی کو مدنظر رکھتے ہوئے اقامت ِ دین اور غلبۂ اسلام کی جدوجہد سے مطابقت رکھنے والی اعلیٰ تعلیم، پیشہ ورانہ مہارتوں اور مناصب کے لیے ان کی رہنمائی اور منصوبہ بندی کریں گے، تو کیا اللہ تعالیٰ انھیں آخرت کی کامیابی کے ساتھ ساتھ دُنیا کی نعمتوں سے نہیں نوازے گا؟ ہم اگر رسولؐ اللہ کی تحریک کا جائزہ لیں تو ہمیں وہاں عثمان غنیؓ اور عبدالرحمٰن بن عوف ؓ جیسے صاحبِ ثروت بھی نظر آتے ہیں،جو ہر دینی ضرورت پر اپنے مال کو بے دریغ خرچ کرتے ہیں، اور دوسری طرف بلالؓ اور عمار بن یاسرؓ اور خالد بن ولیدؓ بھی نظر آتے ہیں جو بہت زیادہ مال و اسباب تو نہیں رکھتے مگر اُن میں سے ہرفرد، اپنے اخلاص،قربانی اور یکسوئی کی بنیاد پر بلند مقام رکھتا ہے۔
ہم نے جب یہ فیصلہ کرلیا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے دین کے غلبے کا کام کریں گے اور یہی جنت کے حصول کا راستہ ہے، تو ہمارا یہ فیصلہ اپنے بچوں کے لیے کیوں نہیں ہے؟ جب ہم مہنگائی اور بے روزگاری کے عالم میں ان کی بہتری کے لیے سوچ رہے ہوتے ہیں، تو ساتھ ساتھ ان کے لیے جنّت کے حصول کا کیوں نہیں سوچتے؟
جماعت اسلامی میں صاحب ِ ثروت لوگ بھی ہیں لیکن زیادہ تر تو متوسط طبقے کے لوگ ہیں جو اپنی بقا کی جنگ لڑتے رہتے ہیں اور بہت بڑی تعداد میں تو بہت کم وسائل رکھنے والے لوگ ہیں۔ یہ لوگ محنت اور تگ و دو کر کے زندگی کی دوڑ میں آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہاں پر پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم اپنے گھر والوں کے لیے کیا سوچتے ہیں؟ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے یہ کہتا ہے:
يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَہْلِيْكُمْ نَارًا وَّقُوْدُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ عَلَيْہَا مَلٰۗىِٕكَۃٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعْصُوْنَ اللہَ مَآ اَمَرَہُمْ وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ۶ (التحریم ۶۶:۶)اے لوگو جو ایمان لائے ہو،بچائو اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اُس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے،جس پر نہایت تندخو اور سخت گیر فرشتے مقرر ہوں گے جو کبھی اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم بھی انھیں دیا جاتا ہے اُسے بجا لاتے ہیں۔
وہ آگ کیا ہوگی؟ جس میں ایندھن کے طور پر انسان اور پتھر ڈالے جائیں گے۔ یہ وہ آگ ہے جس سے ہمیں اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو بچانا ہے۔آخرت کے اس دردناک عذاب اور دُنیا میں ذلّت و رُسوائی کے دردناک عذاب سے بچنے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی جنّت کی بیش بہا نعمتوں اور دُنیا میں امن و سلامتی، عزّت و سربلندی اور زمامِ کار جیسی ربّ ذوالجلال کی بے شمار نعمتوں کے حصول کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ واحد راستہ و منہج سورۃ الصف میں یوں بیان ہوا ہے:
يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ہَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰي تِجَارَۃٍ تُنْجِيْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ۱۰ تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَتُجَاہِدُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ بِاَمْوَالِكُمْ وَاَنْفُسِكُمْ۰ۭ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۱۱(الصف ۶۱:۱۰-۱۱) اے لوگو جو ایمان لائے ہو، میں بتادوں تم کو وہ تجارت جو تمھیں عذابِ الیم سے بچا دے؟ ایمان لائو اللہ اور اُس کے رسولؐ پر، اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے۔ یہی تمھارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔
ہم نے اس راستے کا انتخاب اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لیے کیا ہے۔ ہماری جدوجہد اور تمام سرگرمیاں اسی غرض کے لیے ہیں۔ ہمیں اس جدوجہد کے تقاضوں کے مطابق ہرمسلمان تک اسلام میں پورے کا پورا داخل ہونے کی دعوت پہنچانا ہے۔ لوگوں کے دلوں پہ دستک دینی ہے، اور ان کی دادرسی بھی کرنی ہے۔ ہمیں ان کے دُکھوں کا مداوا کرنا ہے اور مظلوموں کی آواز بھی بننا ہے۔ اس لیے کہ یہی نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے۔ یہی طریقہ جماعت اسلامی نے اختیار کیا ہے۔ بنیادی طور پر ہم اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب ہم اپنے لیے اللہ کی رضا چاہتے ہیں تو اپنے بچوں کے لیے کیوں نہیں چاہتے؟
اپنے اہل خانہ اور بچوں کوجہنم کی آگ سے بچانے اور اللہ کی رضا کے حصول کے مشن میں اپنا ساتھی بنانے کے لیے ہمیں ان کی تعلیم اور مستقبل کی منصوبہ سازی اسلامی نقطۂ نظر کے مطابق ہی کرنی ہے، تاکہ وہ اپنی علمی استعداد اور فنی مہارتوں کو اسلامی مقاصد کے لیے بروئے کار لاتے ہوئے اس جدوجہد کو آگے بڑھا سکیں۔
کہا جاتا ہے کہ بچوں اور بزرگوں کے درمیان فاصلہ پیدا ہو گیا ہے۔ نئی نسل پرانی نسل سے مطابقت نہیں رکھتی۔ان کے درمیان ایک جنریشن گیپ ہے۔ہرپرانی نسل کو نئی نسل سے کچھ شکایات ہوتی ہیں۔نئی نسل سمجھتی ہے کہ بزرگ نسل کو ہمارے موجودہ دور کے تقاضوں کا علم نہیں ہے۔ انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت (AI) کی یلغار کے نتیجے میں یہ دُوری بڑھتی جارہی ہے، جو قابلِ تشویش بھی ہے اور ایک چیلنج بھی۔
اسلامی طرزِ زندگی ہمیں ہمدردی، محبت اور تعاون پر مبنی خاندان کا ایک نظام دیتا ہے، جس میں والدین کے لیے بچّے کی پیدائش سے قبل سے لے کر بچوں کے عاقل و بالغ ہوجانے اور اس کے بعد بھی تعلیم و تربیت کے ہرمرحلے کے لیے جامع تعلیمات و ہدایات موجود ہیں، تاکہ وہ ایک بامقصد اور متوازن زندگی گزار سکیں۔گھر کا سربراہ جب ان اسلامی تعلیمات کو سیکھ اور سمجھ کر ہرمرحلے میں بچوں کی تعلیم و تربیت کا محبت و ہمدردی سے اہتمام کرتا ہے، تو یہ ذہنی دُوری یا جنریشن گیپ پیدا ہونے کے امکانات بہت کم ہوجاتے ہیں۔
ایک ایسے گھر میں جب گھر کا سربراہ اپنے بچوں کے ساتھ ان کے بچپن سے فاصلہ نہیں رکھتا بلکہ اپنے بچوں اور اپنے گھر والوں کو بامقصد وقت اور توجہ دیتا ہے اور بچوں کی بات پوری توجہ اور محبت اور ہمدردی سے سنتا ہے۔ ان کی باتیں اور سوالات نظرانداز نہیں کرتا،بلکہ سوالات کو اچھی طرح سمجھ کر اسلامی تعلیمات اور اپنے تجربات کی روشنی میں ان کی رہنمائی کرتا ہے۔ اس محنت طلب اسلامی عمل سے ہی جنریشن گیپ کے امکانات کم سے کم ہوںگے۔ یہ حقیقت ہمیشہ پیش نظر رہنی چاہیے کہ والدین اور بچوں کے درمیان جنریشن گیپ ہوگا تو بچّے ان کے ہاتھ میں نہیں رہیں گے اور ان کا سیکھنے کا عمل گلی محلے میں پھیل جائے گایا پھر اسکرین تک محدود ہوجائے گا۔
نوجوانوں کا ایک مسئلہ بڑھتا ہوا نشے کا رجحان ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ۷۰،۸۰ لاکھ سے زائد نوجوان کسی نہ کسی طور پر منشیات کا شکار ہوچکے ہیں، ایڈکٹ ہیں۔ دوسری طرف سوشل میڈیا اور جدید ذرائع ابلاغ نے ثقافتی یلغار میں بڑے پیمانے پر اضافہ کر دیا ہے۔ موبائل اور انٹرنیٹ جہاں ایک ضروری سہولت ہے، وہیں اس میڈیا پر موجود اکثروبیش تر مواد بُرائی اور اخلاقی گراوٹ اور فکری انتشار کا بہت مؤثر ذریعہ بھی ہے۔ ایسے میں بُرائی سے بچنا کچھ آسان نہیں رہا۔ اسی لیے معاشرے میں بُرائی بہت تیزی سے نفوذ کر رہی ہے۔
اس منظرنامے کو سامنے رکھتے ہوئے ہم اس صورتِ حال کا سامنا اس طرح کرسکتے ہیں کہ سب سے پہلے خود اپنے مقصد ِ تخلیق (الکہف ۱۸:۷، الذاریات ۵۱:۵۶، الملک ۶۷:۲) اور خلیفہ اللہ فی الارض (البقرہ ۲:۳۰، الانعام ۶:۳۵) ہونے کی ذمہ داری کے تقاضوں کو قرآن و سنت کے دلائل کے ساتھ جان کر شرحِ صدر حاصل کریں۔ اور پھر اپنے گھر میں اپنے اہل خانہ اور بچوں کو بامقصد قیمتی وقت دیتے ہوئے ان مباحث و دلائل کو تدریجاً محبت و ہمدردی اور شرح صدر کے ساتھ زیربحث لاتے ہوئے اولادِ آدم کے مقصد ِ تخلیق، خالق و مالک کی طرف سے عطا کردہ صلاحیتوں کے ناتے سے عائد ہونے والی حق کی قولی و عملی شہادت کی ذمہ داری اور مقصد ِ زندگی سے روشناس کرائیں، اور ایسی بامقصد سچّی زندگی گزارنے اور دُنیا و آخرت میں ملنے والے اجر سے آگاہ کریں۔ پھر یہ بنیادی بات ہمیشہ پیش نظر رہنی چاہیے کہ جس جماعت اور جس تحریک کو ہم نے اپنے مشن کے طور پر اختیار کیا ہے، ہماری ہرممکن کوشش ہونی چاہیے کہ ہمارے بچّے اپنی پوری آمادگی کے ساتھ اس مشن سے جڑجائیں۔
سورہ مائدہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَمَنْ يُّطِعِ اللہَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰۗىِٕكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللہُ عَلَيْہِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّہَدَاۗءِ وَالصّٰلِحِيْنَ۰ۚ وَحَسُنَ اُولٰۗىِٕكَ رَفِيْقًا۶۹ (النساء۴:۶۹) ’’جو لوگ اللہ اور رسولؐ کی اطاعت کریں گے وہ اُن لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے، یعنی انبیاؑ اور صدیقین اور شہداء اور صالحین۔ کیسے اچھے ہیں یہ رفیق جو کسی کو میسر آئیں‘‘۔یہاں انبیاؑ کے بعد شہدا کا نہیں بلکہ صدیقین کا تذکرہ ہے۔ اندازہ کیجیے کہ حق و سچ پر مبنی بامقصد زندگی گزارنے کا کتنا بلند مقام و مرتبہ ہے!
ہم پر لازم ہے کہ اہل خانہ اور بچوں کی تربیت کے لیے ایک متوازن انداز اپنائیں۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کردہ بُردباری،وقار اور متانت پر مبنی ایک مشفقانہ نگرانی بھی بطور سربراہِ خاندان بچوں پر رکھیں، مگر اس کے ساتھ ساتھ ان سے محبت بھی کریں۔ جہاں ان کی ضروریات بھی پوری کریں وہیں ان کو بھلائی کی ترغیب دیں۔
یہ حقیقت بھی ہمیشہ پیش نظر رکھیں کہ برائیوں سے بچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آگے بڑھ کر نیکی و بھلائی کی دعوت دینا شروع کر دیں۔ اگر آگے بڑھ کر پورے نظام کے خلاف، اس کی خرابیوں کے خلاف، اچھے لوگوں کے ساتھ مل کر جدوجہد کریں گے، تو بُرائیوں کا مقابلہ بھی کرسکیں گے۔
اسی لیے اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مشیت یہ ہے اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ ہے کہ اشاعت و اقامت دین کی جدوجہد منظم انداز میں کی جائے۔ انفرادی کام کی اہمیت اپنی جگہ لیکن اجتماعیت پر اللہ کا ہاتھ ہوتا ہے، یداللہ مع الجماعۃ (جامع الترمذی)۔انفرادی حیثیت میں بہت سارے لوگ اپنے دائرے میں خیر اور بھلائی کا کام کر رہے ہوتے ہیں۔ مگر انسان جب اکیلا ہوتا ہے تو وہ شیطان کے گوناگوں حملوں کا شکار ہوجاتا ہے، جس کے نتیجے میں بہت سارے انفرادی کام معاشرے میں خیر کا پہلو غالب کرنے کے حوالے سے غیرمؤثر رہتے ہیں، اور جب آپ اجتماعیت کے ساتھ وابستہ ہو کر کام کرتے ہیں تو تھوڑا کام بھی زیادہ بابرکت ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس میں قوت پیدا کر دیتا ہے۔
جب آپ کی تعلیم و تربیت سے نوجوان اپنا مقصد ِ تخلیق، اپنی ذمہ داری اور مقصد ِ زندگی جان لیں گے، تو نوجوانوں کو اپنا کردار سمجھنا آسان ہوجائے گا۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے حق و باطل کی کش مکش میں نوجوان ہمیشہ ہراول دستے کا کردار ادا کرتے آئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نبوت کا اعلان کیا اور لوگوں کو دعوت دینے کا آغاز کیا۔ پھر جب آپؐ کو حکم ہوا کہ اپنے قریب ترین لوگوں تک دعوت پہنچائیں (الشعراء ۲۶:۵۶)تو آپؐ نے اپنے رشتہ داروں کو جمع کرکے دعوت پہنچائی۔ آپؐ نے فرمایا کہ میں تمھیں ایک اللہ کی اُلوہیت کی طرف دعوت دیتا ہوں۔ اس کی عبادت و اطاعت میں آجاؤ۔اپنا پرانا طرز ِزندگی چھوڑ دو۔ اس پر لوگ آپؐ کے مخالف ہو گئے کہ تم ہمیں باپ دادا کے دین سے پھیرنا چاہتے ہو۔ صرف یہی بات کرنے کے لیے ہمیں بلایا تھا!
حضرت علیؓ جن کی عمر صرف ۱۰ برس تھی، انھوں نے کہا کہ اگرچہ میری ٹانگیں کمزور ہیں، میں بہت کمزور ہوں لیکن میں آپؐ کا ساتھ دوں گا۔ پھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ ساتھ نبھایا۔ آپ رضی اللہ عنہ تو وہ تھے جن کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے وقت اپنے بستر پر چھوڑا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ وہ تھے کہ جنھوں نے بڑے بڑے دشمنوں کو چت کر دیا تھا، اور آپؓ ہی خیبر کے فاتح تھے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں اکثریت نوجوانوں کی تھی۔ زیدؓ بن خطاب، مصعب بن عمیرؓ، سعد بن ابی وقاصؓ، عمرؓ بن خطاب، یہ سب نوجوان تھے۔ صرف حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپؐ سے دو تین سال چھوٹے تھے۔ اس جدوجہد میں زیادہ تر نوجوان آپؐ کے ساتھ شریک تھے۔
سیّد ابوالاعلیٰ مودودی رحمۃ اللہ علیہ نے ۱۹۴۱ء میں جماعت اسلامی قائم کی تھی۔ اس سے پہلے انھوں نے اپنی تحریروں سے لوگوں کو اسلام کی حقیقت سے آگاہ کیا کہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کا حکم و ہدایت یہ ہے کہ اسلام ایک نظام کی صورت میں غالب ہو۔ دین مغلوب رہنے کے لیے نہیں بلکہ غالب ہونے کے لیے آیا ہے۔ لہٰذا، اسلام کے غلبہ کی جدوجہد شروع کی جانی چاہیے۔اس کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ اس جدوجہد کے لیے ایک جماعت قائم کی جائے۔ جب جماعت اسلامی کا تاسیسی اجلاس ہوا تو ابتدائی طور پر ۷۵؍افراد جماعت کا حصہ بنے۔ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ اُس وقت ۳۸برس کے تھے۔ مولانا سے عمر میں بڑے شاید سات آٹھ افراد ہوں گے۔ باقی سب ۲۰ سے ۳۰ برس تک کی عمر کے نوجوان تھے۔ نوجوانوں ہی نے سب سے زیادہ اس دعوت کو قبول کیا۔ اسی طرح فلسطین کے نوجوانوں نے حماس کی اقامت ِ دین کی دعوت کو دل و جان سے قبول کیا ہے۔ اخوان المسلمون کی دعوت بھی نوجوان قبول کرتے ہیں اور پھر کام کرتے کرتے ان کی عمریں گزر جاتی ہیں۔ جس اسلامی تحریک کو دیکھیں اس میں نوجوان نظر آئیں گے۔
دنیا میں بڑے بڑے کام چھوٹی عمر کے نوجوان ہی کرتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ نوجوان اس تحریک کا حصہ بنیں۔اگر طالب علم ہیں تو اسلامی جمعیت طلبہ کا حصہ بنیں۔ اگر مدرسے میں پڑھتے ہیں تو جمعیت طلبہ عربیہ میں شامل ہوں۔ اسکول کے طالب علم ’بزمِ پیغام‘ سے وابستہ ہوں یا جماعت اسلامی کے شعبۂ اطفال کا حصہ بنیں۔ جماعت اسلامی سے شعوری طور پر وابستہ گھرانہ نہ صرف اپنے بچوں کی تربیت کرسکتا ہے بلکہ اہل محلہ کے لیے بھی ایک مرکزِ تربیت بن سکتا ہے۔ اس طرح سے نوجوان احیائے اسلام اور معاشرے کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرسکتے ہیں۔
ہمیں اپنی دعوت کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی تربیت پر توجہ دینی ہے۔ ہمارے پاس بہترین اسلامی لٹریچر ہے۔ دین کی فکر اور تحریک اسلامی کے افکار و نظریات کو جاننے کے لیے اس کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ یہ تربیت کا بہترین ذریعہ ہے۔ اُردو کے ساتھ ساتھ انگریزی ترجمے بھی موجود ہیں۔ ’ریڈ مودودی ڈاٹ کام‘ کی ویب سائٹ موجود ہے۔ اس پر مولانا مودودی کا سارا لٹریچر موجود ہے۔ اس کی آڈیوز بھی آ رہی ہیں۔ اور اے آئی کے ذریعے سے اس کی بہت ساری چیزیں سامنے آرہی ہیں۔
اپنے گھر میں اس بات کی کوشش کریں کہ علامہ اقبالؒ کی نظمیں اور اشعار بچوں کو یاد کروائیں۔ بچپن میں جو چیز یاد ہو جاتی ہے وہ پختہ ہوجاتی ہے۔ اسی طرح سیّد مودودی کی کتب پڑھانے کے لیے ان کا اجتماعی مطالعہ کریں۔ اجتماع اہل خانہ میں لٹریچر کے اجتماعی مطالعے کے بعد بچوں سے تبادلۂ خیال کریں تاکہ بنیادی اسلامی تعلیمات بچوں کے ذہن میں راسخ ہوسکیں۔ اس کے نتیجے میں بچوں کی تعلیم و تربیت، ان کی اسکولنگ اور ان کی زندگی کے بارے میں فیصلے اور ترجیحات کا تعین دین کے مطابق ہوسکے۔
دین اسلام کے کام کے حوالے سے کچھ غلط فہمی بھی پائی جاتی ہے۔ لوگ روایتی انداز سے درسِ قرآن کے حلقے چلاتے ہیں جن میں کمپیوٹرائز پریزنٹیشن بھی ہوتی ہے، سلائیڈز بھی بنائی اور چلائی جاتی ہیں ، اور بعض دروس نشر ہو رہے ہوتے ہیں جن میں بڑی تعداد میں لوگ شرکت کرتے ہیں۔ ایک کے بعد دوسرا درس ہوتا رہتا ہے لیکن قرآن جس جدوجہد کی طرف بلاتا ہے، جس کش مکش کی طرف بلاتا ہے، جن نظاموں کو چیلنج کرتا ہے ،جو پورا تربیت کا ایک خاکہ بتاتا ہے اور اجتماعیت کی طرف لے کر چلتا ہے، بس اُسی کی طرف توجہ نہیں ہوتی۔ اس طرح سے ہم میں سے بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ جدید انداز میں اور مؤثر انداز میں دین کا کام کر رہے ہیں لیکن عملاً دین کی دعوت اور اس کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتے۔
جماعت کے اجتماعات میں کشادگی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ بزرگوں کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کی شرکت کو ممکن بنانا چاہیے۔ ان کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے تاکہ تحریکی جدوجہد میں وہ اپنا کردار ادا کرسکیں۔ جماعت اسلامی کا بنیادی حلقہ یونین کونسل کی سطح پر ہوتا ہے۔ اگر نوجوانوں کی مناسب ، مؤثر تربیت کے بعد ان کو ذمہ داریاں سونپی جائیں اور ان کی رہنمائی کی جائے تو اس بنیادی حلقے میں کام میں بہتری بھی آئے گی اور نوجوان مزید نوجوانوں کو ساتھ لے کر بھی چلیں گے۔ اگر بزرگ اور نوجوان کارکنان مل جل کر کام کریں تو اقامت ِ دین کی جدوجہد کا یہ کام آگے بڑھ سکتا ہے۔
دُنیا بھر میں اسلامی تحریکوں نے جہاں جہاں کارکنوں کی نظریاتی اور عملی تربیت و تزکیہ کے مؤثر اندازاپناتے ہوئے انھیں نظریاتی، فکری و عملی یکسوئی کی نعمت سے مزین کیا ہے، اور سنجیدہ مقامی مسائل کے اسلامی حل کو اپنی دعوت و جدوجہد کا ہدف بنایا ہے، وہاں وہاں اسلامی تحریک کو اللہ ربّ العزت نے کامیابیوں سے نوازا۔ بنگلہ دیش، مصر اور فلسطین کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جو ہمیں دعوتِ فکروعمل دیتی ہیں۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے قیدوبند کی صعوبتوں اور قیادت کی پھانسیوں کے باوجود اپنی نظریاتی یکسوئی اور محنت سے حالیہ انتخابات میں پونے تین کروڑ ووٹ حاصل کرکے ملک کی سیاست کا نقشہ بدل دیا ہے۔اخوان المسلمون نے ۲۰۱۲ء کے انتخابات میں تقریباً ۵۲ فی صد ووٹ حاصل کرکے ڈاکٹر محمد مرسی کی قیادت میں حکومت بنائی تھی۔
حماس کے لوگ اپنے قیام سے لے کر اب تک قربانیاں اور شہادتیں پیش کر رہے ہیں۔ ان کی قیادت بھی شہید ہوگئی۔ یہاں تک کہ چھوٹے چھوٹے بچوں کو صہیونیوں نے شہید کر دیا۔ انھیں بے گھر کیا گیا، زندگی گزارنا مشکل کردی گئی، مگر اس سب کے باوجودوہ پیچھے نہیں ہٹے۔ ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے انھوں نے دُنیابھر کی رائے عامہ کو جوہری طور پر بدل کر رکھ دیا ہے۔
اسلامی تحریکیں ہرجگہ ہر طرح کے حالات میں اپنے اپنے مقام پر ڈٹی ہوئی ہیں اور الحمدللہ، کامیابیاں حاصل کررہی ہیں۔ ہمیں بھی اپنے بچوں کے نظریاتی، فکری و عملی تزکیہ و تربیت پر پوری سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ان کی اعلیٰ تعلیم اور روشن مستقبل کی پلاننگ اسلامی تناظر میں کرنا اس سلسلے میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے، تاکہ وہ شعوری طور پر اس جدوجہد میں شمولیت کو اپنی ذمہ داری سمجھیں اور دُنیا و آخرت میں اپنی کامیابی کا ذریعہ بھی سمجھیں۔ ہم جب اس طرح کام کریں گے تو اس سے وہ طاقت اور قوت پیدا ہوگی کہ کوئی بھی راستہ نہیں روک سکے گا، ان شاء اللہ!
اس وقت جماعت اسلامی ملک گیر سطح پر ’بدل دو نظام تحریک‘ کے تحت ممبرشپ مہم چلا رہی ہے۔ اس میں اپنے گھر والوں اور بچوں سب کو ممبر بنائیے۔ اپنے دوستوں اور جاننے والوں کو ممبر بنایئے۔ اس کام کو پورے اعتماد سے کیجیے۔جماعت اسلامی میں لوگوں کو شامل کرنے کی کوشش کیجیے، اس یقین کے ساتھ کہ اپنی شناخت اور اعتماد کے ساتھ آگے بڑھیں۔ہم اپنی نئی نسل کو موجودہ نظام کے حوالے نہیں کرسکتے۔
آیئے! اس ممبرشپ مہم کو آگے بڑھایئے اور اس نظام کی تبدیلی اور غلبۂ دین کی جدوجہد میں اپنا کردارادا کیجیے۔
_______________