جون ۲۰۲۶

فہرست مضامین

ڈاکٹر زینت کوثر کی حیات و خدمات

محمد ابراہیم ندوی | جون ۲۰۲۶ | یاد رفتگاں

Responsive image Responsive image

۱۵مارچ ۲۰۲۶ بمطابق ۲۶ رمضان المبارک ۱۴۴۷ھ کو  ڈاکٹر زینت کوثر کا انتقال ہوا، اناللّٰہ  وانا الیہ رٰجعون۔ انھوں نے طویل عرصے تک تدریس اور تحقیق کے میدان میں کام کیا۔ وہ اسلامی و مغربی سیاسی فکر، خواتین کے مسائل اور جدید مغربی نظریات پر مسلسل لکھتی رہیں۔ 

موجودہ دور میں فکری سطح پر جو مباحث سامنے آ رہے ہیں، ان میں خاص طور پر عورت کے بارے میں مختلف تصورات مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان مباحث نے مسلم معاشروں میں کئی سوالات اور مغالطے پیدا کیے ہیں، جن کا تعلق شناخت، اقدار اور معاشرتی نظام سے ہے۔ اس صورتِ حال میں اہلِ علم نے ان نظریات کا تنقیدی مطالعہ کرنے اور اسلامی اصولوں کی روشنی میں ان کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ ڈاکٹر زینت کوثر کا کام اسی تناظر میں قابلِ مطالعہ ہے۔ انھوں نے مغربی فکر، خصوصاً ’تانیثیت‘ (Feminism)کا تجزیہ کیا اور اس کے بنیادی مفروضات کو سمجھنے کی کوشش کی۔ ان کی تحریروں میں عمومی طور پر تقابلی انداز پایا جاتا ہے، جہاں وہ ایک طرف مغربی نظریات کو پیش کرتی ہیں اور دوسری طرف اسلامی نقطۂ نظر کو واضح کرتی ہیں۔ 

  • تعلیم و تدریس: مرحومہ کا تعلق انڈیا کے شہر حیدرآباد (تلنگانہ) سے تھا، جہاں انھوں نے ابتدائی تعلیم کے بعد عثمانیہ یونی ورسٹی حیدرآباد سے گریجوایشن کیا۔ پھر وینکٹ سورا یونی ورسٹی سے سیاسیات میں ماسٹرز کیا۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے پہلے ایم فل اور پھر ۱۹۹۱ء میں ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں حاصل کیں۔ حیدرآباد ہی کے ایک نوجوان اسکالر جناب ڈاکٹر ممتاز علی سے نکاح کے بعد ان کے ساتھ ملائشیا منتقل ہو گئیں، جہاں انھوں نے طویل عرصے تک انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی آف ملائشیا کے شعبہ سیاسیات میں تدریس و تحقیق کی خدمات انجام دیں اور پھر قطر یونی ورسٹی سے بھی وابستہ رہیں۔

 ۱۹۷۰ء سے لے کر ۱۹۸۰ء تک اپنی تعلیم کے دوران وہ علامہ محمد اقبال، مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودی، مولانا ابو الکلام آزاد، سعید النورسی، ڈاکٹر علی شریعتی، ڈاکٹر اسماعیل راجی الفاروقی، اور علامہ یوسف القرضاوی رحمہم اللہ اجمعین کے علمی اثاثے کا مطالعہ کرتی رہیں۔ تاہم، زینت کوثر سب سے زیادہ مولانا مودودی کی فکر اور ان کے طریقۂ استدلال سے متاثر ہوئیں۔ اس لیے وہ اسلام کو ایک تصورِ حیات اور نظامِ زندگی کے طور پر پیش کرتیں ہیں۔ وہ مغرب کے فکری غلبہ سے متاثر یا مرعوب نہیں ہوئیں، بلکہ زندگی کی حقیقت اور سچائی کو علمی اور سائنسی بنیادوں پر پیش کرتی، اور مغربی تصورات و نظریات پر اپنی متعدد تحریروں میں تجزیہ کرتی نظر آتی ہیں۔

  • علمی و فکری میدان: ڈاکٹر صاحبہ نے تدریس کے ساتھ ساتھ تحقیق اور تصنیف کا سلسلہ مسلسل جاری رکھا۔ ان کے تحقیقی موضوعات میں اسلامی و مغربی سیاسی فکر، مغربی نظریات میں جدیدیت، عالم گیریت، فیمنزم وغیرہ کا تنقیدی مطالعہ، خواتین کے مسائل، اور جدید فکری مباحث شامل ہیں۔ انھوں نے مختلف مگر باہم مربوط موضوعات پر کام کیا، جس سے ان کی فکر میں ایک ربط اور شان دار تسلسل پایا جاتا ہے۔

اسلامی سیاسی فکر کے حوالے سے انھوں نے جدید سیاسی تصورات کو اسلامی اصولوں کی روشنی میں سمجھا اور سمجھایا۔ وہ اس بات پر زور دیتیں کہ کسی بھی سیاسی نظام کو سمجھنے کے لیے اس کے پسِ پشت موجود فکری بنیادوں کو نظر میں رکھنا ضروری ہے۔ چنانچہ وہ اسلامی سیاسی فکر کو بجاطور پر ایسے نظام کے طور پر پیش کرتیں، جو محض اقتدار یا ریاست کے ڈھانچے تک محدود نہیں بلکہ اخلاقی اور سماجی اصولوں سے جڑا ہوا ہے۔ اس پہلو کو انھوں نے اپنی تحریروں میں واضح کیا ہے۔ خصوصاً Political Development: An Islamic Perspective میں۔ اسی طرح وہ مغربی نظریات کا مطالعہ کرتے ہوئے جدید مغربی نظریاتِ آزادی اور انفرادیت پر زور کو یورپی تاریخ کے مخصوص حالات کا نتیجہ قرار دیتی اور یہ واضح کرتی ہیں کہ ہر نظریہ اپنی تہذیبی بنیاد رکھتا ہے، اور اسے بغیر تنقیدی شعور کے دوسری معاشرتوں میں منتقل کرنا فکری الجھنوں کو جنم دے سکتا ہے۔ان مباحث کی وضاحت کے لیے اُن کی کتاب Modern Political Ideologies: An Islamic Critique میں تفصیلی گفتگو ملتی ہے۔ 

  • فیمینزم پر فکری موقف:یہی نقطۂ نظر ان کے ہاں خواتین اور معاشرت میں  ان کے رواجی و سماجی مسائل کے مطالعے میں بھی سامنے آتا ہے۔ وہ مغربی ’فیمی نزم‘ (نسائیت) کو ایک فکری ڈھانچے کے طور پر دیکھتی ہیں، جس کی بنیاد خاص تاریخی اور سماجی تجربات پر قائم ہے۔ اس سلسلے میں ان کی کتاب Women’s Empowerment and Islam اور تحقیقی مقالات میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ عورت کے مسئلے کو صرف ’مساوات مردوزن‘ کے تصور تک محدود کر دینا کافی نہیں بلکہ اسے خاندانی نظام، سماجی توازن اور اخلاقی اقدار کے ساتھ جوڑ کر دیکھنا ضروری ہے۔

مغربی فیمی نزم کے تجزیے میں وہ اس بات کی طرف توجہ دلاتی ہیں کہ اس تحریک کی بنیاد ایک خاص تاریخی پس منظر میں رکھی گئی، جہاں عورت کو طویل عرصے تک معاشرتی اور قانونی سطح پر محرومی کا سامنا رہا۔ اس طرح پیدا ہونے والی تحریک نے مساوات اور آزادی کے مطالبات کو مرکزی حیثیت دی، لیکن وقت کے ساتھ اس میں ایک ایسا رجحان بھی پیدا ہوا، جس میں مرد اور عورت کے تعلق کو باہمی تعاون اور اعتماد کے بجائے ایک طرح کے تصادم (conflict) کے زاویے سے دیکھا جانے لگا۔ ان کے نزدیک یہی وہ پہلو ہے جہاں فیمی نزم کا تصور اپنا انسانی توازن کھو دیتا ہے۔

ڈاکٹر زینت کوثر اس کے مقابلے میں اسلامی تصورِ عورت کو پیش کرتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ اسلام میں عورت کی حیثیت نہ محض حقوق کی فہرست سے متعین ہوتی ہے اور نہ اسے کسی ایک سماجی کردار تک محدود کیا جاتا ہے، بلکہ اسے ایک ایسے نظام کا حصہ سمجھا جاتا ہے جہاں فرد، خاندان اور معاشرہ ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ اس تناظر میں وہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ عورت کے حقوق اور ذمہ داریوں کو اس کے فطری کردار اور معاشرتی توازن کے ساتھ ہی دیکھنا ضروری ہے۔ یہ بات انھوں نے اپنی کتاب Women’s Empowerment and Islam میں واضح کی ہے۔

اسی بنیاد پر ان کی فکر میں ’مساوات‘ (Equality) کو ’یکسانیت‘ (Sameness) کے ہم معنی نہیں سمجھا جاتا۔ وہ اس بات کی وضاحت کرتی ہیں کہ مرد و عورت کے درمیان بعض فطری اور معاشرتی فرق اور فطری امتیازات کو نظر انداز کر کے مکمل یکسانیت پر زور دینا نہ تو عملی طور پر ممکن ہے اور نہ معاشرتی توازن کے لیے مفید۔ اس کے بجائے وہ ایک ایسے توازن (balance)  کی بات کرتی ہیں، جس میں دونوں کی حیثیت اور کردار کو تسلیم کرتے ہوئے ایک ہم آہنگ نظام تشکیل دیا جائے۔

  • علمی خدمات اور کتابوں کا تجزیہ:ڈاکٹر زینت کوثر کی علمی خدمات کے مجموعی تسلسل میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ ان کا کام ایک باقاعدہ فکری منصوبے کی صورت میں کارفرما ہے۔ان کی تحریروں میں ایک طرف مغربی نظریات کا تجزیہ اور اُن پر نقد ہے، تو دوسری طرف اسلامی اصولوں کی وضاحت ہے، اور پھر دونوں کے درمیان تقابل، امتیاز اور ممکنہ امتزاج ہے۔ یہی جہتیں ان کی علمی خدمات کا بنیادی ڈھانچا تشکیل دیتی ہیں۔

جیساکہ ہم نے لکھا ہے، ان کی علمی خدمات میں نمایاں ترین پہلو مغربی نظریات کا تنقیدی مطالعہ ہے۔ ان کی کتاب Modern Political Ideologies: An Islamic Critique  اسی سلسلے کی ایک اہم کاوش ہے، جس میں انھوں نے مغربی سیاسی افکار جیسے سیکولرزم، لبرلزم وغیرہ کو ان کے فکری پس منظر میں رکھ کر دیکھا ہے۔ اس کتاب میں وہ پہلے کسی نظریے کی داخلی ساخت اور اس کے تاریخی تناظر کو واضح کرتی ہیں، پھر اسلامی اصولوں کی روشنی میں اس کا جائزہ لیتی ہیں۔ اسی طرح وہ اپنی کتاب Colonization to Globalization: Might is Right Continue میں مغربی استعمار کے مسئلے کو ایک مسلسل جاری عمل کے طور پرپیش اور واضح کرتی ہیں کہ استعمار صرف اور نوآبادیات یا محکوموں کے قدرتی وسائل اور زمینوں پر قبضہ کرنے کا نام نہیں تھا، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ مقامی معاشروں کی فکری اور تہذیبی بنیادوں کو بدلنا بھی اس کا ایک اہم پہلو تھا۔ ان زیردستوں کے ہاں تعلیم کے نظام، ثقافتی ترجیحات اور سماجی ڈھانچے میں روپذیر تبدیلیاں اسی عمل کا حصہ تھیں۔

اس کتاب میں تاریخی مثالوں کے ذریعے یہ بات سامنے آتی ہے کہ نوآبادیاتی دور نے سیاسی نظام کے ساتھ ساتھ لوگوں کے سوچنے کے انداز کو بھی متاثر کیا۔ اسی لیے آزادی کے بعد بھی بہت سے معاشرے مکمل طور پر اس اثر سے نکل نہیں سکے، بلکہ مختلف صورتوں میں وہی اثرات باقی رہے۔ اس پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے ’نو استعماریت‘ (Neo-Colonialism) کو سمجھنے کی کوشش کی ہے، جہاں براہِ راست قبضے کے بجائے معاشی، فکری اور ثقافتی ذرائع کے ذریعے اثر قائم رکھا جاتا ہے، اور عالمگیریت (Globalization) کے تصور کو بھی اسی زاویے سے دیکھا گیا ہے۔ بظاہر یہ ایک عالمی ربط اور تعاون کا نظام معلوم ہوتا ہے، لیکن اس کے اندر یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا اس کے ذریعے واقعی تمام معاشروں کو یکساں مواقع مل رہے ہیں، یا ایک خاص طرزِ فکر اور نظام کو عالمی سطح پر غالب کیا جا رہا ہے؟ یقینا طاقت کے مراکز تبدیل ہونے کے باوجود اس سامراجی قوتوں کا اثر آج بھی برقرار ہے، صرف اس کی شکل بدل گئی ہے۔ اس طرح مغربی سامراجیت نے دورِ استعمار سے لے کر موجودہ عالم گیریت تک کے عمل کو برقرار رکھنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔

ایک اور اہم جہت اسلامی سیاسی فکر ہے، جس کا اظہار انھوں نے Political Development: An Islamic Perspective میں کیا ہے۔ اس کتاب میں وہ سیاسی ترقی کے مغربی تصورات کا جائزہ لیتے ہوئے وہ سوال اٹھاتی ہیں کہ مسلم معاشروں میں سیاسی نظام کی تشکیل کن اصولوں پر ہونی چاہیے؟ یہاں بھی ان کا انداز تقابلی ہے، جہاں وہ مغربی ماڈلوں کو بیان کرنے کے بعد اسلامی اصولوں کی بنیاد پر ایک متبادل زاویہ پیش کرتی ہیں۔ 

خواتین اور معاشرت کے موضوع پر ان کی متعدد کتابیں ایک دوسرے سے مربوط انداز میں سامنے آتی ہیں۔ اپنی کتاب Muslim Women at the Crossroads میں انھوں نے  مسلم معاشرے میں عورت کو درپیش فکری اور سماجی مسائل کا تجزیہ کیا ہے، جہاں ایک طرف مغربی اثرات ہیں اور دوسری طرف بے شمار داخلی کمزوریاں۔ پھر Women in Feminism and Politics: New Directions Towards Islamisation میں وہ ’فیمی نزم‘ کے مختلف رجحانات کا جائزہ لیتے ہوئے بتاتی ہیں کہ اسلامی اصولوں کی روشنی میں اس بحث کو کس طرح نئی سمت دی جا سکتی ہے۔ ان کی کتاب Women’s Empowerment and Islam ایک نسبتاً منظم فریم ورک پیش کرتی ہے، جس میں نسوانی اختیاریت کے اسلامی اقدار کے تصور کو پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ان کے علمی کاموں کا ایک قابلِ ذکر پہلو یہ بھی ہے کہ وہ اپنے افکار کو مختلف زاویوں سے تحقیقی مقالات کے ذریعے بھی پیش کرتی رہیں۔ ان کے مقالات میں اقوامِ متحدہ کے صنفی پروگراموں پر تجزیاتی مطالعے، عالمگیریت کے اثرات، اور جدید فکری مباحث میں اسلامی نقطۂ نظر کی وضاحت جیسے موضوعات شامل ہیں۔ ان مقالات میں ان کا انداز زیادہ براہِ راست اور تجزیے کا ہوتا ہے، جہاں وہ کسی مخصوص مسئلے کو لے کر اس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ پیش کرتی ہیں۔ اگر ان کے علمی کام کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو نظر آتا ہے کہ ان کی فکر کا مرکزی محور’اسلامی بنیادوں پر معاصر مسائل کی ہمدردانہ اور مجتہدانہ تفہیم‘ ہے۔ 

ڈاکٹر زینت کوثر کی علمی خدمات کو مختلف سطحوں پر سراہا بھی گیا، جن میں انھیں انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی ملیشیا (IIUM) کی طرف سے Excellent Researcher Award اور Quality Research Award  سے نوازا گیا۔ اسی طرح ۲۰۰۶ء میں انھیں نمایاں خدمات انجام دینے کی بناپر Outstanding Author Certificate بھی دیا گیا۔ مزید یہ کہ انھیں Marquis Who’s Who in the World میں بھی شامل کیا گیا۔

زندگی کے آخری زمانے تک ان کے ہاں علمی کام سے وابستگی برقرار رہی۔ مختلف موضوعات پر اپنے فکری دائرے کو مسلسل وسعت دینے میں وہ کوشاں رہیں۔ امت کے مسائل، بالخصوص مسئلۂ فلسطین پر ان کی حساسیت ان کے علمی، عملی اور ملّی شعور کا حصہ رہی۔ ان کی وفات کے بعد ان کے علمی کام کو ایک مجموعی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت مزید نمایاں ہو جاتی ہے، تاکہ ان کی تحریروں اور افکار سے استفادہ کیا جا سکے اور معاصر مباحث میں ان کے پیش کردہ نکات کو سمجھا جا سکے۔ یہی طرزِ مطالعہ آئندہ علمی کام کے لیے بھی ایک متوازن بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔ ان کے انتقال سے قبل ان کی زندگی میں ہی ان کی علمی خدمات پر تحقیق کی گئی، جسے انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی آف ملیشیا کے شعبہ قرآن و سنت کی ایک طالبہ مدیحہ شہزادی نے مقالہ کی صورت میں پیش کرکے ۲۰۲۴ء میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

اللہ تعالیٰ ان کی علمی کاوشوں کو قبول فرمائے، اور اپنی رحمت سے نوازے: اللهم اغفر لها وارحمها، وتجاوز عن سيئاتها، واجعل علمها النافع صدقة جارية لها، وارفع درجاتها في الجنة. آمين۔

 _______________