جون ۲۰۲۶

فہرست مضامین

ایک قائد کا جنازہ اور کشمیر میں پھیلا ظلم

ہمایوں قیصر | جون ۲۰۲۶ | اخبار اُمت

Responsive image Responsive image

؍اگست ۲۰۱۹ء کو نئی دہلی حکومت نے ریاست جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کو یک طرفہ طور پر روند کر صرف آئینی شقوں کا خاتمہ نہیں کیا تھا، بلکہ ایک قوم کی شناخت، تاریخ، سیاسی وجود اور اجتماعی شعور کو مٹانے کی کوشش تھی۔ اس کے بعد مقبوضہ جموں وکشمیر پر پوری قوت سے خوف، جبر اور خاموشی مسلط کی گئی۔گلیوں میں بندوقوں کی حکمرانی حاوی ہوگئی اور عوام کو دہشت زدہ کرنے کے لیے ایک سے بڑھ کر ایک انتظام کیا گیا۔ دہلی میں آر ایس ایس کی حکومت نے یہ طے کرلیا تھا کہ کشمیری قیادت کو غیرمؤثر اور ان کی آواز کو بے معنی بنا دینا ہے۔ اس مقصد کے لیے مزاحمت کی علامت شخصیات کو جیل خانوں کی تاریکیوں میں دھکیل دیا گیا اور مسلسل قید، ذہنی اذیت، تنہائی اور منصوبہ بند طبی غفلت اور من چاہے عدالتی فیصلوں سے انھیں موت کے دہانے تک پہنچایا گیا۔ 

دہلوی بھاجپا حکومت، کشمیری قائدین کے جنازوں سے بھی خوف محسوس کرتی آرہی ہے۔ انڈیا کے اس خوف کی وجہ کشمیری قائدین کی میتیں نہیں بلکہ وہ محبت ہے جو کشمیری عوام اپنے قائدین کی نسبت سے اپنے دلوں میں بسائے ہوئے ہیں۔ نسل پرست دہلوی حکومت جانتی ہے کہ اگر کشمیری عوام کو اپنے محبوب رہنماؤں کے جنازوں میں شرکت کی آزادی دی جائے تو مقبوضہ ریاست کی فضائیں انڈین تسلط کے خلاف نفرت اور آزادی کے نعروں سے گونج اٹھیں گی۔ اسی لیے  ستمبر۲۰۲۱ء میں سیّد علی گیلانیؒ کو رات کی تاریکی میں زور زبردستی سے سپردِ خاک کرایا گیا، محمداشرف صحرائیؒ کی تدفین پر پابندیوں کا حصار قائم کیا گیا اور افضل گورو شہید کا جسدِ خاکی ورثا کے حوالے نہ کیا گیا۔ یہ سب واقعات اس خوف کی علامت ہیں جو ایک قابض قوت کو نہتے مگر باوقار عوام سے لاحق ہوتا ہے۔

یہ طے شدہ حقیقت ہے اور تاریخ کے سینے میں یہ اصول ہمیشہ زندہ رہا ہے کہ نظریات کو ہتھکڑیوں میں قید نہیں کیا جاسکتا اور محبت کو فوجی چھاؤنیوں میں دفن نہیں کیا جاسکتا۔ یہی حقیقت ۱۶مئی ۲۰۲۶ء کو سابق امیر جماعت اسلامی مقبوضہ جموں وکشمیر شیخ غلام حسنؒ کے جنازے میں پوری شان سے آشکار ہوئی۔ یہ جنازہ نہیں تھا بلکہ خاموش وادی کی گھن گرج تھی۔ ایسے دکھائی دے رہا تھا جیسے کشمیر کی روح اپنے درویش صفت قائد کو الوداع کہنے نکل آئی تھی۔ دُور دراز بستیوں، قصبوں اور شہروں سے انسانوں کا ایک بے کنار سمندر امڈ آیا تھا۔ راستے تنگ پڑ گئے تھے، زمین سمٹتی ہوئی محسوس ہورہی تھی۔ فضا عقیدت، غم اور عزم کے احساسات کی برقی رو میں بدل گئی تھی۔ لوگ دیواروں پر کھڑے تھے، چھتوں سے جھک جھک کر دیکھ رہے تھے، درختوں کے سائے تلے آنسو بہارہے تھے۔ یہ رقت آمیز مناظر اپنے محبوب قائد کی آخری جھلک دیکھنے کی تصویر تھے۔

شیخ غلام حسنؒ استقامت کا ایک استعارہ تھے۔ ان کی زندگی خاموش خدمت، فکری وابستگی اور نظریاتی پختگی کی داستان تھی۔ انھوں نے ایسے دور میں حق کی شمع روشن رکھی، جب اندھیروں کو گہرا بنانے کے لیے طاقت کے تمام وحشیانہ ہتھکنڈے آزمائے جارہے تھے۔ اسی لیے ان کا جنازہ ایک فرد کا جنازہ نہیں بلکہ ایک فکر کی تجدید بن گیا۔ جنازے کا یہ منظر دراصل نئی دہلی کے لیے ایک کھلا پیغام تھا کہ کشمیر آج بھی زندہ ہے، اہل کشمیر کی یادداشت تر و تازہ ہے، ان کی مزاحمت قائم و دائم ہے اور وہ آج بھی اپنے نظریے، تشخص اور حقِ آزادی سے وابستہ ہیں۔ 

ظلم وقتی طور پر خاموشی تو مسلط کرسکتا ہے مگر دلوں کے اندر روشن ہونے والی آزادی کی شمع کو بجھا نہیں سکتا۔ فضا میں گونجتے تحریکِ اسلامی کے نعرے سوگواروں کی محض بلند آوازیں نہ تھیں بلکہ وہ ایک قوم کی زندگی کا اعلان تھے۔ ہر چہرہ ایک داستان تھا، ہر آنکھ ایک عہد کی گواہ تھی اور ہراُٹھنے والا قدم پیغام دے رہا تھا کہ خوف کی موٹی چادریں کبھی دلوں کے یقین کو سرد نہیں کرسکتیں۔ کیمرے کی آنکھ حدِ نگاہ تک پھیلے اس انسانی سمندر کو محفوظ کررہی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ کچھ مناظر کیمرے نہیں بلکہ تاریخ اپنے حافظے میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کرتی ہے اور شیخ غلام حسنؒ کا جنازہ انھی مناظر سے رقم ہوا۔

نئی دہلی حکومت یہ سمجھ بیٹھی تھی کہ جموں و کشمیر جماعت اسلامی پر پابندیاں عائد کرکے، اس کے کارکنان کو زندانوں میں ڈال کر، اس کے ادارے بند کرکے اور اس کی زمینیں ضبط کرکے وہ اس فکر کو مٹا دے گی، جو آٹھ عشروں سے کشمیری معاشرے کی روح میں رچی بسی ہے۔ شیخ غلام حسنؒ کے جنازے نے ثابت کردیا کہ تحریکیں دفاتر سے نہیں، بلکہ دلوں سے جنم لیتی ہیں، دلوں پر راج کرتی ہیں اور ایسے دلوں پر نہ پہرے بٹھائے جاسکتے اور نہ پابندیاں لگائی جاسکتی ہیں۔

وقت اپنی رفتار سے آگے بڑھ جائے گا، خبروں کی سرخیاں بدل جائیں گی، چہرے تبدیل ہوجائیں گے، سیاسی موقف بھی وقت کی گرد میں کہیں گم ہوجائیں گے، مگر شیخ غلام حسنؒ کے جنازے کے مناظر تاریخ کی پیشانی پر ہمیشہ روشن رہیں گے۔ جو مسلسل اعلان کرتے رہیں گے کہ قومیں اپنے شہیدوں، اپنے اسیروں اور اپنے نظریات کے سہارے زندہ رہتی ہیں اور جن دلوں میں یقین کی شمع روشن ہو، انھیں نہ جبر شکست دے سکتا ہے اور نہ وقت مٹا سکتا ہے۔

جموں وکشمیر میں انڈین قابض سیکورٹی فورسز نے ممتاز عالم دین اور جماعت اسلامی کے سابق امیر شیخ غلام حسن کی نماز جنازہ میں شرکت کرنے پر کولگام میں نوجوانوں اور جماعت اسلامی کے کارکنوں سمیت ہزاروں افراد کے خلاف مقدمات درج کر لیے ہیں۔یہ مقدمات مقبوضہ علاقے میں خوف اور دہشت کے ماحول کے باوجود ہزاروں افراد کی نماز جنازہ میں شرکت کے بعد درج کیے گئے۔ ان مقدمات اور پکڑ دھکڑ کی مقامی لوگوں نے شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں مذہبی اجتماعات اوراظہار غم کو بھی جرم قرار دیا جا رہا ہے۔

’کل جماعتی حریت کانفرنس‘ کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر سے  جاری اپنے بیان میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی نسل پرست حکومت کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر کی حکومت کی جانب سے بے گناہ لوگوں کے خلاف مقدمات کے اندراج کو ظلم قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ انڈین حکومت اپنی جابرانہ فوجی پالیسیوں کو ترک کرے جن کا مقصد کشمیریوں کے جذبۂ حُریت کو دبانا ہے۔ پُرامن مطالبات کو جرم قراردینے سے کشمیری عوام کی امنگوں کو دبایا نہیں جاسکتا۔

جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے ضلع کولگام کے محمد یوسف تاریگامی علاقے کا دورہ کر کے جماعت اسلامی کشمیر کے سابق امیر شیخ غلام حسن کے انتقال پر اُن کے اہلِ خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے پارٹی کارکنان، مقامی باشندگان اور متعدد افراد کے سامنے مرحوم کو خراجِ عقیدت پیش کیا، اور سوگوار خاندان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔ میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ شیخ غلام حسن ایک بڑے اسلامی اسکالر تھے جنھیں عوام میں بے حد عزت و احترام حاصل تھا۔ انھوں نے کہا کہ ایک طرف آر ایس ایس کے ایک بڑے لیڈر پاکستان کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے اور دونوں ممالک کے درمیان روابط بڑھانے کی بات کرتے ہیں، لیکن دوسری طرف جماعت اسلامی کشمیر پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، اس کے تعلیمی اداروں کو بند کیا گیا ہے اور اب جنازے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کیے جارہے ہیں، جو افسوس ناک ہے۔ انھوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے اسکولوں سے بڑے بڑے اسکالر، ڈاکٹرز اور انجینئرز نکلے ہیں جنھوں نے معاشرے کی خدمت کی ہے جس کا اعتراف کرنا چاہیے۔

گذشتہ ایک ماہ کے دوران کشمیر کے حالات

یہاں پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں انڈین حکومت کے مسلسل جاری ظلم و جبر کی چند اطلاعات پیش ہیں، جن سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کس طرح مختلف علاقوں میں ایک خاص انداز سے کشمیری شہریوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ان تفصیلات کا زمانہ ۲۰۲۶ء کے اپریل اور مئی کے تقریباً ۳۰دنوں کی کچھ تفصیلات پر مشتمل ہے:

۱۶؍ اپریل:بدنام زمانہ انڈین ایجنسی’این آئی اے ‘نےضلع اسلام آباد کے علاقے بیج بہاڑہ میں رئیس احمد ڈار، سبزار احمد ڈار، مدثر احمد اور زاہد احمد کے رہائشی مکانات سمیت دیگر چار جائیدادیں بھی ضبط کر لیں، جب کہ ضلع پلوامہ میں مختار احمد کی کمرشل املاک کومسمار کر دیاہے۔

۱۸؍ اپریل: انڈین انتظامیہ نے جماعت اسلامی کے ’فلاح عام ٹرسٹ‘ کے زیر انتظام  ۵۸  اسکولوں کو قبضے میں لینے کا حکم نامہ جاری کیا۔ محکمہ سکول ایجوکیشن نے انڈین محکمہ داخلہ کے اس نوٹیفکیشن کا بھی حوالہ دیا جس کے تحت جماعت اسلامی پر فروری ۲۰۱۹ءمیں پابندی عائد کی گئی تھی۔

ضلع اسلام آباد کے علاقے دیالگام میں ایک نوجوان آصف احمد بٹ کو غائب کردیا گیا۔ سوپور میں انڈین پولیس نے سوشل میڈیا کی نسبت سے ۱۶نوجوانوں کو گرفتار کرلیا۔یاد رہے کہ چند روز قبل گورنمنٹ گرلز ہائیر سیکنڈری سکول سوپور میں ایک طالبہ کو جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے خلاف مقامی نوجوانوں نے پُرامن احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔

۱۹؍ اپریل: ضلع پونچھ کے علاقے مینڈھر (بالاکوٹ) میں کنٹرول لائن کے قریب بارودی سرنگ پھٹنے سے ایک انڈین فوجی زخمی ہو گیا۔ ضلع جموںکے علاقے نگروٹہ میں فوجی کیمپ کے ’ڈاگ یونٹ‘ کا سپاہی اپنے کمرے کی چھت سے رسی سے لٹکا ہوا پایا گیا۔

۲۰؍ اپریل: گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں کے قریب ایک پولیس اہلکارحوالدار سندیپ سنگھ حملہ آوروں کی فائرنگ سے زخمی ہوگیا ۔مقبوضہ کشمیر میں گورنمنٹ کالج برائے خواتین، گاندھی نگر جموں کی طالبات نے ایک ساتھی طالبہ کی ہلاکت پر کالج کے باہر زبردست احتجاج کیا۔ انڈین فوج نے ضلع بارہمولہ کے علاقوں سوپور، رفیع آباد، زینگیر، پٹن اور سنگرامہ میں کئی مکانوں کی تلاشی کے دوران لوگوں کے گھروں میںگھس کر انھیں ہراساں کیااور قیمتی اشیاء کی توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی گئی۔

۲۱؍ اپریل: سوپور کے علاقے بوہری پورہ میں سادہ کپڑوں میں ملبوس اہل کاروں نے سیب کے درجنوں درخت کاٹ کر باغ کے مالک حسین میر کو معاشی طور پر تباہ کردیا۔

۲۲؍ اپریل: انڈین ایجنسی’ این آئی اے‘ نے انڈین فوج کے ہمراہ ضلع کے علاقے لیتہ پورہ میں فیاض احمد ماگرے کے دو منزلہ مکان اور ایک منزلہ مکان کو قبضے میں لے لیا اور کہا کہ فیاض ماگرے ۲۰۱۷ء میں لیتہ پورہ میں انڈین فوج پر حملے میں ملوث ہے۔

۲۳؍ اپریل: ’این آئی اے‘ نے جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ، راج پورہ ابہامہ میں تنویر احمد وانی کی ساڑھے تین کنال اراضی ضبط کر لی۔

۲۴؍ اپریل: ’این آئی اے‘ نے سرینگر کے علاقے نوگام کے تفضل حسین پر آزادی پسندی کا الزام عائد کرکے بڈگام میں اس کا باغ اور اراضی ضبط کرلی۔ اسی طرح سوپور قصبے میں بلاجواز ۶کشمیری نوجوانوں عمر اکبر، سلمان احمد شالہ، الطاف احمد شیخ، مبشر احمد، مزمل مشتاق اور ماجد فردوس کوگرفتار کرلیا۔  

۲۵؍ اپریل: ضلع پونچھ کے نورکوٹ دیگورار علاقے میںکنٹرول لائن کے قریب انڈین بارودی سرنگ پھٹنے سے چھ برس کا بچہ محمد رضوان شدید زخمی ہو گیا۔ انڈین فورسز نے سرینگر کے علاقے نور باغ کے شکیل احمد گنائی اور فاروق احمد میر کی ایک ایک کنال اراضی پر تعمیر دومنزلہ گھر ضبط کر لیے ۔

۲۶؍ اپریل: انڈین افواج نے وادیٔ کشمیر میں مسلمانوں کی املاک ضبط کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ اسلام آباد میں سب سے زیادہ کارروائیاں کیں اور ۲۰ مقامات پر چھاپے مارے گئے۔

۲۷؍ اپریل: ضلع جموں کے علاقے میران صاحب میں انڈین فوج کی تلاشی کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں ابھینیت سنگھ زخموں کی تاب نہ لاکر ہلاک ہوگیا۔

۲۸؍ اپریل: انڈین فوج نے سرینگر کے علاقے خانموہ میں پانچ کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کرلیا۔ ان گرفتاریوں کا بہانہ بنانے کے لیے نوجوانوں کے قبضے سے دو دستی بم، گولہ بارود اور پوسٹرز کی موجودگی کا الزام لگایا جن پر آزادی کے حق میںنعرے درج تھے ۔

۳۰؍ اپریل: ضلع شوپیاں کے علاقے اگلر میں فروٹ منڈی کے ایک کولڈ اسٹوریج یونٹ میں دھماکے سے ایک غیر کشمیری انڈین انجینئر ہلاک، جب کہ دو دیگر زخمی ہوگئے۔انڈین پولیس نے  پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی رہنما التجا مفتی کے خلاف بزرگ حریت قائد سید علی گیلانی کا ایک ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے پر مقدمہ درج کر لیا ہے۔سید علی گیلانی کا یہ ویڈکلپ اردو زبان کی اہمیت و افادیت کے بارے میںہے۔یاد رہے ۲۰۱۹ء کے بعد انڈین حکومت، جموں و کشمیر سے اُردو ختم کرنے کے لیے ہمہ گیر اقدام اُٹھا رہی ہے۔

۲ مئی : ضلع پلوامہ میں انڈین فوج نے ملک محمد عمر کو گرفتارکرتے ہوئے ان پر عسکریت پسندوں کے لیے کام کرنے کا الزام عائد کیا۔ضلع رامبن میں ڈگڈول کے قریب نالہ بشلری سےلاپتہ نوجوان تنویر احمد چوپان کی لاش برآمد ہوئی ہے، جو اپریل میں اس وقت لاپتہ ہو گیا تھا جب سرینگر جموں ہائی وے پر مکرکوٹ کے قریب نام نہاد گاؤ رکھشکوں (گائے کے محافظوں) کے تشددسے بچنے کے لیے اس نے نالے میں چھلانگ لگادی تھی۔

۴ مئی : ضلع پلوامہ کے ترال لاڈی یارعلاقے میں ایک انڈین فوجی بسو کمار نے خودکشی کرلی ۔

۲ مئی : انڈین پولیس نے پل پورہ، نورباغ میں متعدد گھروں اور دکانوں کو مسمار کردیا۔

۶ مئی : ضمانت پر رہاہونے والے فیاض احمد ڈار(اسلام آباد)کی نگرانی کے لیے ان کے ٹخنوں کے ساتھ’ جی پی ایس‘ ٹریکنگ ڈیوائس لگادی گئی۔

۷ مئی : ضلع شوپیاں جامعہ سراج العلوم کے سینکڑوں طلبہ، والدین اوراساتذہ نے مدرسے کی جبری بندش کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے ادارے کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا جسے انڈین حکام نے گذشتہ ماہ سیل کر دیا تھا۔

سوپور کےعلاقےگنڈ براٹھ میں انڈین فوج کی ایک گاڑی نے ایک تین سال کے بچے محمدزین ولد عامر حسین کو کچل دیا۔ عوام نے فوج کے خلاف زبردست مظاہرہ کیا۔ ضلع کپواڑہ کے علاقے کیرن میں پولیس نے ضمیر احمد لون کی ایک کنال اور ۱۴مرلے سے زائد اراضی ضبط کر لی۔

۸ مئی : اسلام آباد کے علاقے کوکرناگ میں انڈین فوجی ستیش کمار نے خودکشی کرلی۔

۱۰مئی : ضلع بارہمولہ کے علاقے جانبازپورہ میں ریاض احمد خان کی دکان مسمار کردی۔ سرینگر میں برتھانہ، قمرواری کے شاہد مشتاق ڈار کی تقریباً ۸۰ لاکھ روپے کی جائیداد ضبط کرلی۔ اسی طرح نوگام واگورہ، بی کے پورہ اور سرینگر کےعلاقوںمیں معراج الدین گنائی کی ۱۸مرلہ اراضی، ایک منزلہ مکان اور ایک گاؤ خانہ ضبط کرلیے گئے، جن کی قیمت تین کروڑ روپے ہے۔ سرینگر میں توقیراحمدمیر کا ایک دو منزلہ رہائشی مکان ضبط کرلیا۔

۱۲مئی : ضلع پونچھ، کرشنا گھاٹی سیکٹر میںانڈین فوج نے ایک جھڑپ کے دوران ایک مجاہد کو فائرنگ کرکے شہید کرنے کا دعویٰ کیاہے ۔مقامی ذرائع کے مطابق نوجوان چودھری محمد شفیع کا بیٹا عامرساکن ہجیرہ دو روز سے لاپتہ تھا اورانڈین میڈیا اسے ’دہشت گرد‘قرار دے رہا تھا۔

۱۳ مئی : ضلع کشتواڑ کے علاقے چترو علاقے میں پولیس نے ایک استادمشکور احمد سمیت دو دیگر افراد کو گرفتار کرکے ان پر آزادی پسند سرگرمیوں میں حصہ لینے کا الزام عائد کیا ہے ۔ پولیس نے شالیمار سرینگر میں ایک نوجوان ارباز علی بٹ کو بھی گرفتارکرلیا۔

۱۴ مئی : مقبوضہ جموں وکشمیر میں انڈین انتظامیہ نے ضلع کولگام کے علاقے چھانی گام میں ایک کشمیری کی تین دکانیں مسمار کردیں۔ تحریک حریت کے سینئررہنما اور ماہر تعلیم ولی محمد شاہ ضلع بارہمولہ کے علاقے سوپور قصبے میں انتقال کر گئے۔ وہ جماعت اسلامی جموں کشمیر کے رکن بھی تھے اور معروف کشمیری حریت قائد سیّد علی گیلانی شہید کے قریبی ساتھی تھے۔ دوسری طرف سوپور کی نیو کالونی کے رہائشی ماجد احمد صوفی کی ضلع بانڈی پورہ کے علاقے کہنوسا میں واقع ۱۰ مرلہ اراضی ضبط کی گئی۔

۱۵ مئی : ضلع بارہمولہ اور بڈگام علاقے میں انڈین انتظامیہ نے کشمیریوں کو گھروں، زمینوں اور دیگر جائیدادوں سے محروم کرنے کی استعماری پالیسی جاری رکھتے ہوئے مزید تین کشمیریوں غلام محمد بٹ ، غلام نبی وانی اور محمد ہاشم رینا کی زرعی اور رہائشی جائیدادیں ضبط کر لیں۔ 

گورنمنٹ میڈیکل کالجوں کے نان گزیٹڈ ملازمین کا احتجاج اب پورے مقبوضہ علاقے میں پھیل گیا۔ بارہمولہ کے عملے نے بھی زیر التواء بھرتی قوانین اور ترقیوں کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا۔ صورہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے طالب علموں نے بھی اپنی بی ایس سی میڈیکل ٹکنالوجی کی ڈگریوں کو تسلیم نہ کیے جانے کے خلاف سرینگر میں احتجاج کیا۔

جموں میں قابض حکومت نے عیدالاضحی سے قبل مویشیوں کی بین الاضلاع نقل و حمل پر پابندی عائد کر دی، اور قابض انتظامیہ نے اپنی کشمیر دشمن پالیسیوں کے تحت جموں کے علاقے سدھرا میں گجروبکروال خاندانوں کے ۲۰ سے زیادہ گھروں کو مسمار کر دیا۔

 _______________