ہم نے اپنے بچوں کی پرورش قرآن، مساجد اور اسلام کی محبت پر کی ہے، اور خدا کی قسم! ہم نہ پیچھے ہٹیں گے اور نہ بدلیں گے۔ ہم اپنے پوتوں کی پرورش بھی اسی طرح کرنا چاہتے ہیں۔
جہاد ایک دینی اور اخلاقی فریضہ ہے، جس کے تحت ہم نے اپنے بچوں کی پرورش کی، اسی لیے ہمارے بچےمقابلے کے لیے، پہلی صفوں میں تھے۔ اور اللہ کے حکم سے اقصیٰ، فلسطین اور ہمارا پورا وطن آزاد ہوگا۔
لوگو! جان لو، کہ ہمارے بیٹے خندقوں میں تھے، ہوٹلوں میں نہیں، اور میں ان کی شہادت کی تمنا کرتی تھی نہ کہ زخمی ہونے کی۔ میں نے ان میں سے ہر ایک کی شہادت کے وقت سجدۂ شکر ادا کیا ہے۔میرے بیٹے اور پوتے غزہ سے نکلنے کے لیے تیار نہیں، اور وہ وہی تکلیف جھیل رہے ہیں جو باقی باشندے برداشت کر رہے ہیں۔
میں نے جنگ کے آغاز سے ہمام کو نہیں دیکھا اور نہ اس کی آواز سنی، سوائے اس کی شہادت سے دو ہفتے پہلے جب اس نے فون کیا تھا۔تب اس کے فون سے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ ہمیں الوداع کہہ رہا ہو۔
۲۰۱۴ء میں، میں نے خود کو ملبے کے نیچے دبا پایا، اور یہ محسوس ہوا کہ کوئی بھی نہیں بچ پائے گا۔ اسی موقعے پر میرا بیٹا اسامہ، اس کی بیوی اور ان کے تینوں بچے شہید ہوگئے۔ گھر پر راکٹ گرنے سے پہلے میرے سامنے میری پوتی امامہ سورۂ بقرہ کی تلاوت کر رہی تھی۔
اسلام آزمائش، صبر اور اللہ کی طرف سے ثابت قدمی عطا ہونے کا سرچشمہ ہے۔ ـــــــــــــــ
l
ایمانی روح سے لبریز اور عزیمت و استقامت میں رچے یہ کلمات، قابض اور غاصب اسرائیل کی بمباری میں چار بیٹوں اور پانچ پوتوں پوتیوں کی شہادت پر صحابیہ حضرت اُم سُلَیمؓ بنت ملحان کی یاد تازہ کر دینے والی ماں 'امل الحیہ کے ہیں، جو حماس کے رہنما خلیل الحیہ کی اہلیہ ہیں۔ محترمہ امل الحیہ قابض اسرائیلی فوج کے ہاتھوں اپنے جگر گوشوں کو کھونے کے باوجود صبر و استقامت کا پہاڑ ثابت ہوئیں، جب ۱۲ مئی کو ان کے آخری بیٹے عزام الحیہ کی شہادت پر الجزیرۃ ٹیلی ویژن نے ان کے تاثرات جاننا چاہے۔
ان کے خاندان میں اب صرف عز الدین، تسنیم اور شیماء باقی رہ گئے ہیں، جنھوں نے غزہ چھوڑنے سے انکار کر دیا ہے۔۲۰۰۸ء میں: ان کا بیٹا حمزہ اسرائیلی بمباری میں شہید ہوا۔ ۲۰۱۴ء میں: ان کا بڑا بیٹا اسامہ، اپنی اہلیہ ہالہ اور تین بچوں خلیل، حمزہ اور امامہ کے ہمراہ اس وقت شہید ہوا، جب ان کے گھر کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے دو بچے امل اور عبد الرحمٰن بچ گئے تھے، جن کی عمر اس وقت تین سال سے کم تھی۔ گزشتہ برس: ان کا بیٹا ہمام اس وقت شہید ہوا، جب اسرائیل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کے رہنماؤں کے ایک اجلاس کو نشانہ بنایا۔ اس کے بعد اب ان کا سب سے چھوٹا بیٹا عزام بھی غزہ میں شہید ہو گیا۔ ان کا تیسرا بھائی عز الدین جنگ کے دوران شدید زخمی ہوا، جب کہ ان کے بچےخلیل اور محمد بھی شہید ہو چکے ہیں۔
امل الحیہ نے بتایا کہ ان کے بیٹے ہمام، عزام اور عز الدین تینوں جڑواں تھے۔ ان میں سے دو حالیہ برسوں کی جنگ میں شہید ہوئے، جب کہ تیسرا بیٹا شدید زخمی ہونے کے باوجود زندہ بچ گیا ہے، تاہم وہ اپنی ٹانگ اور اپنے دو بیٹوں سے محروم ہو چکا ہے۔ عز الدین اپنی شدید تکلیف کے باوجود آج اب بھی غزہ میں مقیم ہے، جب کہ عزام کی شہادت سے قبل ٹانگ کٹنے کی تکالیف اور محاصرے کے باعث ادویات کی عدم دستیابی نے میرے دل کو بہت رنجیدہ کیا‘‘۔
حماس کے رہنما خلیل الحیہ کی اہلیہ نے اپنے شہید بچوں میں سے کسی کو بھی الوداع نہیں کہا، جب ان کا بیٹا ہمام شہید ہوا تو انھوں نے اللہ کا شکر ادا کیا، اور جب اسامہ اور عزام شہید ہوئے تو انھوں نے سجدۂ شکر ادا کیا۔انھوں نے ۲۰۱۴ء کی جنگ کے دوران اپنے بیٹے کے گھر پر ہونے والی بمباری کی تفصیلات کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ ’’پورا خاندان رمضان میں روزے سے تھا، اور میزائل گرنے سے چند لمحے قبل میرے سامنے میری پوتی سورۂ بقرۃ کی تلاوت کر رہی تھی۔ اس حملے میں، مَیں شدید زخمی ہوکر ملبے کے نیچے دب گئی تھی۔ اسی دوران مجھے پتا چلا کہ اسامہ، اس کی اہلیہ اور ان کے تین بچے شہید ہو چکے ہیں‘‘۔
عزام الحیہ اس سے پہلے ۲۰۲۲ء میں شدید زخمی ہوگئے تھے اور ترکیہ میں علاج مکمل کرنے کے بعد انھوں نے غزہ واپسی پر اصرار کیا تو بچوں نے آپس میں قرعہ اندازی کی تھی کہ ان میں سے کون اپنے والدین کے ساتھ قطر جائے گا، تو اس میں ہمام کا نام نکلا، جو بعد میں دوحہ حملے میں شہید ہوگئے۔
ہمام — ایک مسجد کے امام اور قرآن کریم کے حافظ تھے۔ انھوں نے دوحہ میں اپنے نومولود بیٹے کے لیے عقیقہ کی تقریب منعقد کرنے سے بھی انکار کر دیا تھا اور غزہ کے لوگوں کے ساتھ یکجہتی کے طور پر کسی بھی قسم کی خوشی منانے سے گریز کیا، یہاں تک کہ عید پر قربانی کرنے سے بھی رک گئے کیونکہ غزہ میں جنگ جاری تھی۔ امل الحیہ نے بتایا کہ ہمارے خاندان نے جنگ سے پہلے بھی کبھی سکون نہیں دیکھا، جس کی وجہ مسلسل سکیورٹی خطرات اور قتل کی کوششیں تھیں۔ ہم سرحد کے قریب حی الشجاعیہ کے مشرقی علاقے میں کئی برس تک مقیم رہے، اور بسا اوقات اسرائیلی ٹینک ہمارے گھروں کے دروازوں پر اس طرح پہنچ جاتے تھے کہ خاندان کے افراد کو اپنے کپڑے بدلنے یا وہاں سے نکلنے تک کا موقع نہیں ملتا تھا‘‘۔
محترمہ امل الحیہ اس پر اللہ کا شکر ادا کرتی ہیں کہ ’’ان کے بیٹوں نے اپنے آپ کو جہاد فلسطین میں قربان کیا ہے۔ قائدین کے بیٹوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ صف اول میں ہوں اور اپنی قوم سے پیچھے نہ رہیں، جب کہ وہ قابض اسرائیل کے خلاف مزاحمت کر رہے ہوں‘‘۔
حماس کے رہنماؤں کے بچوں کی عیش و عشرت اور غزہ کے باشندوں کے دُکھوں سے دُوری کے الزامات کے جواب میں، امل الحیہ نے اس بات پر زور دیا کہ ہمارے بچوں نے انھی حالات کا سامنا کیا ہے جن میں غزہ کے دیگر فلسطینی رہ رہے ہیں، جن میں نقل مکانی، بھوک، خوف اور حملوں کا نشانہ بننا سب کچھ شامل ہے۔ میرے بیٹوں نے باربار مواقع ملنے کے باوجود غزہ چھوڑنے سے انکار کیا ہے۔ فلسطینیوں کی ثابت قدمی کی خاص بات یہ ہے کہ رہنما اور ان کے خاندان بھی اسی تقدیر کا سامنا کر رہے ہیں اور وہ کسی قسم کی استثنائی مراعات سے فائدہ نہیں اُٹھا رہے۔
امل الحیہ کا کہنا ہے: ’’الحیہ خاندان نے موجودہ جنگ اور اس سے پہلے کے واقعات میں ۱۷شہداء پیش کیے ہیں۔ میری بہن نے بھی موجودہ جنگ میں اپنے دو بیٹوں کو کھو دیا ہے، جب کہ ہمارے بہت سے رشتہ دار اور غزہ کے دیگر باشندے اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ غزہ اجتماعی قبرستان ہے۔ میری پہلی خواہش یہ ہے کہ اپنے گھروں کے ملبے پر کھڑی ہو کر شہداء کی روحوں کو سلام پیش کروں‘‘۔
مَیں غزہ کے تمام باشندوں کو سلام پیش کرتی ہوں، جنھوں نے بہت کچھ قربان کیا ہے اور ایسی مشکلات کا سامنا کیا ہے جن کا بوجھ پہاڑ بھی نہیں اٹھا سکتے۔
ـــــــاُم الشہداء 'امل خلیل الحیۃ کی اس گفتگو نے امید و رجا، عزیمت و استقامت، جذبہ و عزم اور یقین و ثبات کا ایسا عملی نمونہ اور درس پیش کیا ہے جو ہمیں عہدِ رسالت کے ایمان افروز واقعات کی یاد دلاتا ہے ۔کچھ مناظر ایسے ہوتے ہیں جن کا محض نفسیاتی تجزیہ کرنا ممکن نہیں، کیونکہ وہ عام انسانی برداشت کی حدود سے باہر ہوتے ہیں۔ یہ اس مقام سے پھوٹتے ہیں جسے پوشیدہ ایمانی طاقت کہا جاسکتا ہے، وہ طاقت جس کے ذریعے دین، انسانی نفس کی تشکیلِ نو کرتا ہے اور درد، محرومی اور موت کے ساتھ اس کے تعلق کو نئے سرے سے استوار کرتا ہے۔
یہ ایک گہرا علمی سوال ہے:کون سی چیز انسان کے اندر اس غیر معمولی برداشت کی صلاحیت پیدا کرتی ہے،اور انسانی دل اتنی بڑی محرومی کا بوجھ بغیر گرے کیسے اٹھا سکتا ہے؟
دراصل وجود کے بارے میں اسلامی تصورِ زندگی، موت اور آزمائش کے مفہوم کی ایک بالکل مختلف تفسیر پیش کرتا ہے۔ قرآنی تصور میں انسان محض عارضی دنیا کے لمحوں کا قیدی نہیں ہے، اور نہ اس کے فائدے اور نقصان کی پیمائش محض مادی پیمانوں سے ہوتی ہے، بلکہ وہ ایک وسیع تر اعتقادی پس منظر میں رہتا ہے، جہاں وہ دنیا کو ایک مستقل ٹھکانے کے بجائے ایک گزرگاہ، اور دارالجزا کے بجائے آزمائش کا گھر سمجھتا ہے۔
اسی لیے اسلام میں ’صبر‘ محض ایک اخلاقی فضیلت نہیں ہے، بلکہ یہ ایک عظیم ایمانی مقام ہے جو براہِ راست اللہ پر یقین، اس کی حکمت پر بھروسے اور اس کے عدل و وعدے پر اطمینان سے جڑا ہوا ہے۔ جوں جوں انسان کے شعور میں آخرت پر ایمان بڑھتا ہے، اس کے دل پر دنیاوی محرومی کا غلبہ کم ہوتا جاتا ہے۔ اس لیے نہیں کہ وہ اپنے بچوں سے محبت نہیں کرتا، بلکہ اس لیے کہ وہ موت کو فنا ہونے کے بجائے منتقلی، اور مستقل جدائی کے بجائے عارضی علیحدگی سمجھتا ہے۔
قرآن نے مومنوں پر واضح کیا ہے کہ آزمائش اس راستے کی فطرت کا حصہ ہے:
اور ہم ضرور تمھیں خوف و خطر، فاقہ کشی، جان و مال کے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کر کے تمھاری آزمائش کریں گے۔ اِن حالات میں جو لوگ صبر کریں اور جب کوئی مصیبت پڑے، تو کہیں کہ: ’’ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے‘‘۔ انھیں خوش خبری دے دو ان پر ان کے ربّ کی طرف سے بڑی عنایات ہوں گی، اُس کی رحمت اُن پر سایہ کرے گی اور ایسے ہی لوگ راست رَو ہیں۔(البقرۃ۲:۱۵۵-۱۵۷)
بلاشبہ امل الحیہ کی اس گفتگو میں نظر آنے والی ہمت نہ صرف شخصی قوت ہے، بلکہ ایک مکمل اعتقادی ساخت کا نتیجہ ہے جو ان کے شعور، احساسات اور واقعات کی تشریح کا طریقہ تشکیل دیتی ہے۔ ایمان کا یہ انداز فوری جذباتی جوش و خروش سے پیدا نہیں ہوتا، بلکہ یہ عمر بھر کی قرآنی تربیت، جذبۂ ایمانی سے سرشار ہونے، کثرت سے آخرت کو یاد رکھنے اور خوشی و غمی میں اللہ کے سامنے سرِتسلیم خم کرنے کا نتیجہ ہے۔
جدید مادی ثقافت نے انسان کو اس کے محض فوری نفع بخش اور جذباتی پہلو تک محدود کر دیا ہے۔ دوسری طرف گہرا ایمان یہ ظاہر کرتا ہے کہ انسانی نفس —جب اللہ کے ساتھ حقیقی طور پر جڑ جاتا ہے، تو —تکلیف کے جسمانی احساس سے تجاوز کرنے اور صبر و استقامت کے ایسے درجے تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو بہت سے لوگوں کی نظر میں عام انسانی طاقت سے باہر دکھائی دیتا ہے۔
چنانچہ اس طرح کے مناظر کو محض انفرادی بہادری کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، بلکہ انھیں عقیدے کے زیراثر ایک زندہ تجربے کے طور پر دیکھنا چاہیے؛ جب وہ عقیدہ محض ذہنی کیفیت سے بدل کر ایک ایسے یقین میں ڈھل جاتا ہے جو دل میں گھر کر لیتا ہے اور انسان کی اندرونی دنیا بدل دیتا ہے !
_______________
۱۵مارچ ۲۰۲۶ بمطابق ۲۶ رمضان المبارک ۱۴۴۷ھ کو ڈاکٹر زینت کوثر کا انتقال ہوا، اناللّٰہ وانا الیہ رٰجعون۔ انھوں نے طویل عرصے تک تدریس اور تحقیق کے میدان میں کام کیا۔ وہ اسلامی و مغربی سیاسی فکر، خواتین کے مسائل اور جدید مغربی نظریات پر مسلسل لکھتی رہیں۔
موجودہ دور میں فکری سطح پر جو مباحث سامنے آ رہے ہیں، ان میں خاص طور پر عورت کے بارے میں مختلف تصورات مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان مباحث نے مسلم معاشروں میں کئی سوالات اور مغالطے پیدا کیے ہیں، جن کا تعلق شناخت، اقدار اور معاشرتی نظام سے ہے۔ اس صورتِ حال میں اہلِ علم نے ان نظریات کا تنقیدی مطالعہ کرنے اور اسلامی اصولوں کی روشنی میں ان کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ ڈاکٹر زینت کوثر کا کام اسی تناظر میں قابلِ مطالعہ ہے۔ انھوں نے مغربی فکر، خصوصاً ’تانیثیت‘ (Feminism)کا تجزیہ کیا اور اس کے بنیادی مفروضات کو سمجھنے کی کوشش کی۔ ان کی تحریروں میں عمومی طور پر تقابلی انداز پایا جاتا ہے، جہاں وہ ایک طرف مغربی نظریات کو پیش کرتی ہیں اور دوسری طرف اسلامی نقطۂ نظر کو واضح کرتی ہیں۔
۱۹۷۰ء سے لے کر ۱۹۸۰ء تک اپنی تعلیم کے دوران وہ علامہ محمد اقبال، مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودی، مولانا ابو الکلام آزاد، سعید النورسی، ڈاکٹر علی شریعتی، ڈاکٹر اسماعیل راجی الفاروقی، اور علامہ یوسف القرضاوی رحمہم اللہ اجمعین کے علمی اثاثے کا مطالعہ کرتی رہیں۔ تاہم، زینت کوثر سب سے زیادہ مولانا مودودی کی فکر اور ان کے طریقۂ استدلال سے متاثر ہوئیں۔ اس لیے وہ اسلام کو ایک تصورِ حیات اور نظامِ زندگی کے طور پر پیش کرتیں ہیں۔ وہ مغرب کے فکری غلبہ سے متاثر یا مرعوب نہیں ہوئیں، بلکہ زندگی کی حقیقت اور سچائی کو علمی اور سائنسی بنیادوں پر پیش کرتی، اور مغربی تصورات و نظریات پر اپنی متعدد تحریروں میں تجزیہ کرتی نظر آتی ہیں۔
اسلامی سیاسی فکر کے حوالے سے انھوں نے جدید سیاسی تصورات کو اسلامی اصولوں کی روشنی میں سمجھا اور سمجھایا۔ وہ اس بات پر زور دیتیں کہ کسی بھی سیاسی نظام کو سمجھنے کے لیے اس کے پسِ پشت موجود فکری بنیادوں کو نظر میں رکھنا ضروری ہے۔ چنانچہ وہ اسلامی سیاسی فکر کو بجاطور پر ایسے نظام کے طور پر پیش کرتیں، جو محض اقتدار یا ریاست کے ڈھانچے تک محدود نہیں بلکہ اخلاقی اور سماجی اصولوں سے جڑا ہوا ہے۔ اس پہلو کو انھوں نے اپنی تحریروں میں واضح کیا ہے۔ خصوصاً Political Development: An Islamic Perspective میں۔ اسی طرح وہ مغربی نظریات کا مطالعہ کرتے ہوئے جدید مغربی نظریاتِ آزادی اور انفرادیت پر زور کو یورپی تاریخ کے مخصوص حالات کا نتیجہ قرار دیتی اور یہ واضح کرتی ہیں کہ ہر نظریہ اپنی تہذیبی بنیاد رکھتا ہے، اور اسے بغیر تنقیدی شعور کے دوسری معاشرتوں میں منتقل کرنا فکری الجھنوں کو جنم دے سکتا ہے۔ان مباحث کی وضاحت کے لیے اُن کی کتاب Modern Political Ideologies: An Islamic Critique میں تفصیلی گفتگو ملتی ہے۔
مغربی فیمی نزم کے تجزیے میں وہ اس بات کی طرف توجہ دلاتی ہیں کہ اس تحریک کی بنیاد ایک خاص تاریخی پس منظر میں رکھی گئی، جہاں عورت کو طویل عرصے تک معاشرتی اور قانونی سطح پر محرومی کا سامنا رہا۔ اس طرح پیدا ہونے والی تحریک نے مساوات اور آزادی کے مطالبات کو مرکزی حیثیت دی، لیکن وقت کے ساتھ اس میں ایک ایسا رجحان بھی پیدا ہوا، جس میں مرد اور عورت کے تعلق کو باہمی تعاون اور اعتماد کے بجائے ایک طرح کے تصادم (conflict) کے زاویے سے دیکھا جانے لگا۔ ان کے نزدیک یہی وہ پہلو ہے جہاں فیمی نزم کا تصور اپنا انسانی توازن کھو دیتا ہے۔
ڈاکٹر زینت کوثر اس کے مقابلے میں اسلامی تصورِ عورت کو پیش کرتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ اسلام میں عورت کی حیثیت نہ محض حقوق کی فہرست سے متعین ہوتی ہے اور نہ اسے کسی ایک سماجی کردار تک محدود کیا جاتا ہے، بلکہ اسے ایک ایسے نظام کا حصہ سمجھا جاتا ہے جہاں فرد، خاندان اور معاشرہ ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ اس تناظر میں وہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ عورت کے حقوق اور ذمہ داریوں کو اس کے فطری کردار اور معاشرتی توازن کے ساتھ ہی دیکھنا ضروری ہے۔ یہ بات انھوں نے اپنی کتاب Women’s Empowerment and Islam میں واضح کی ہے۔
اسی بنیاد پر ان کی فکر میں ’مساوات‘ (Equality) کو ’یکسانیت‘ (Sameness) کے ہم معنی نہیں سمجھا جاتا۔ وہ اس بات کی وضاحت کرتی ہیں کہ مرد و عورت کے درمیان بعض فطری اور معاشرتی فرق اور فطری امتیازات کو نظر انداز کر کے مکمل یکسانیت پر زور دینا نہ تو عملی طور پر ممکن ہے اور نہ معاشرتی توازن کے لیے مفید۔ اس کے بجائے وہ ایک ایسے توازن (balance) کی بات کرتی ہیں، جس میں دونوں کی حیثیت اور کردار کو تسلیم کرتے ہوئے ایک ہم آہنگ نظام تشکیل دیا جائے۔
جیساکہ ہم نے لکھا ہے، ان کی علمی خدمات میں نمایاں ترین پہلو مغربی نظریات کا تنقیدی مطالعہ ہے۔ ان کی کتاب Modern Political Ideologies: An Islamic Critique اسی سلسلے کی ایک اہم کاوش ہے، جس میں انھوں نے مغربی سیاسی افکار جیسے سیکولرزم، لبرلزم وغیرہ کو ان کے فکری پس منظر میں رکھ کر دیکھا ہے۔ اس کتاب میں وہ پہلے کسی نظریے کی داخلی ساخت اور اس کے تاریخی تناظر کو واضح کرتی ہیں، پھر اسلامی اصولوں کی روشنی میں اس کا جائزہ لیتی ہیں۔ اسی طرح وہ اپنی کتاب Colonization to Globalization: Might is Right Continue میں مغربی استعمار کے مسئلے کو ایک مسلسل جاری عمل کے طور پرپیش اور واضح کرتی ہیں کہ استعمار صرف اور نوآبادیات یا محکوموں کے قدرتی وسائل اور زمینوں پر قبضہ کرنے کا نام نہیں تھا، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ مقامی معاشروں کی فکری اور تہذیبی بنیادوں کو بدلنا بھی اس کا ایک اہم پہلو تھا۔ ان زیردستوں کے ہاں تعلیم کے نظام، ثقافتی ترجیحات اور سماجی ڈھانچے میں روپذیر تبدیلیاں اسی عمل کا حصہ تھیں۔
اس کتاب میں تاریخی مثالوں کے ذریعے یہ بات سامنے آتی ہے کہ نوآبادیاتی دور نے سیاسی نظام کے ساتھ ساتھ لوگوں کے سوچنے کے انداز کو بھی متاثر کیا۔ اسی لیے آزادی کے بعد بھی بہت سے معاشرے مکمل طور پر اس اثر سے نکل نہیں سکے، بلکہ مختلف صورتوں میں وہی اثرات باقی رہے۔ اس پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے ’نو استعماریت‘ (Neo-Colonialism) کو سمجھنے کی کوشش کی ہے، جہاں براہِ راست قبضے کے بجائے معاشی، فکری اور ثقافتی ذرائع کے ذریعے اثر قائم رکھا جاتا ہے، اور عالمگیریت (Globalization) کے تصور کو بھی اسی زاویے سے دیکھا گیا ہے۔ بظاہر یہ ایک عالمی ربط اور تعاون کا نظام معلوم ہوتا ہے، لیکن اس کے اندر یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا اس کے ذریعے واقعی تمام معاشروں کو یکساں مواقع مل رہے ہیں، یا ایک خاص طرزِ فکر اور نظام کو عالمی سطح پر غالب کیا جا رہا ہے؟ یقینا طاقت کے مراکز تبدیل ہونے کے باوجود اس سامراجی قوتوں کا اثر آج بھی برقرار ہے، صرف اس کی شکل بدل گئی ہے۔ اس طرح مغربی سامراجیت نے دورِ استعمار سے لے کر موجودہ عالم گیریت تک کے عمل کو برقرار رکھنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔
ایک اور اہم جہت اسلامی سیاسی فکر ہے، جس کا اظہار انھوں نے Political Development: An Islamic Perspective میں کیا ہے۔ اس کتاب میں وہ سیاسی ترقی کے مغربی تصورات کا جائزہ لیتے ہوئے وہ سوال اٹھاتی ہیں کہ مسلم معاشروں میں سیاسی نظام کی تشکیل کن اصولوں پر ہونی چاہیے؟ یہاں بھی ان کا انداز تقابلی ہے، جہاں وہ مغربی ماڈلوں کو بیان کرنے کے بعد اسلامی اصولوں کی بنیاد پر ایک متبادل زاویہ پیش کرتی ہیں۔
خواتین اور معاشرت کے موضوع پر ان کی متعدد کتابیں ایک دوسرے سے مربوط انداز میں سامنے آتی ہیں۔ اپنی کتاب Muslim Women at the Crossroads میں انھوں نے مسلم معاشرے میں عورت کو درپیش فکری اور سماجی مسائل کا تجزیہ کیا ہے، جہاں ایک طرف مغربی اثرات ہیں اور دوسری طرف بے شمار داخلی کمزوریاں۔ پھر Women in Feminism and Politics: New Directions Towards Islamisation میں وہ ’فیمی نزم‘ کے مختلف رجحانات کا جائزہ لیتے ہوئے بتاتی ہیں کہ اسلامی اصولوں کی روشنی میں اس بحث کو کس طرح نئی سمت دی جا سکتی ہے۔ ان کی کتاب Women’s Empowerment and Islam ایک نسبتاً منظم فریم ورک پیش کرتی ہے، جس میں نسوانی اختیاریت کے اسلامی اقدار کے تصور کو پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
ان کے علمی کاموں کا ایک قابلِ ذکر پہلو یہ بھی ہے کہ وہ اپنے افکار کو مختلف زاویوں سے تحقیقی مقالات کے ذریعے بھی پیش کرتی رہیں۔ ان کے مقالات میں اقوامِ متحدہ کے صنفی پروگراموں پر تجزیاتی مطالعے، عالمگیریت کے اثرات، اور جدید فکری مباحث میں اسلامی نقطۂ نظر کی وضاحت جیسے موضوعات شامل ہیں۔ ان مقالات میں ان کا انداز زیادہ براہِ راست اور تجزیے کا ہوتا ہے، جہاں وہ کسی مخصوص مسئلے کو لے کر اس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ پیش کرتی ہیں۔ اگر ان کے علمی کام کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو نظر آتا ہے کہ ان کی فکر کا مرکزی محور’اسلامی بنیادوں پر معاصر مسائل کی ہمدردانہ اور مجتہدانہ تفہیم‘ ہے۔
ڈاکٹر زینت کوثر کی علمی خدمات کو مختلف سطحوں پر سراہا بھی گیا، جن میں انھیں انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی ملیشیا (IIUM) کی طرف سے Excellent Researcher Award اور Quality Research Award سے نوازا گیا۔ اسی طرح ۲۰۰۶ء میں انھیں نمایاں خدمات انجام دینے کی بناپر Outstanding Author Certificate بھی دیا گیا۔ مزید یہ کہ انھیں Marquis Who’s Who in the World میں بھی شامل کیا گیا۔
زندگی کے آخری زمانے تک ان کے ہاں علمی کام سے وابستگی برقرار رہی۔ مختلف موضوعات پر اپنے فکری دائرے کو مسلسل وسعت دینے میں وہ کوشاں رہیں۔ امت کے مسائل، بالخصوص مسئلۂ فلسطین پر ان کی حساسیت ان کے علمی، عملی اور ملّی شعور کا حصہ رہی۔ ان کی وفات کے بعد ان کے علمی کام کو ایک مجموعی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت مزید نمایاں ہو جاتی ہے، تاکہ ان کی تحریروں اور افکار سے استفادہ کیا جا سکے اور معاصر مباحث میں ان کے پیش کردہ نکات کو سمجھا جا سکے۔ یہی طرزِ مطالعہ آئندہ علمی کام کے لیے بھی ایک متوازن بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔ ان کے انتقال سے قبل ان کی زندگی میں ہی ان کی علمی خدمات پر تحقیق کی گئی، جسے انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی آف ملیشیا کے شعبہ قرآن و سنت کی ایک طالبہ مدیحہ شہزادی نے مقالہ کی صورت میں پیش کرکے ۲۰۲۴ء میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔
اللہ تعالیٰ ان کی علمی کاوشوں کو قبول فرمائے، اور اپنی رحمت سے نوازے: اللهم اغفر لها وارحمها، وتجاوز عن سيئاتها، واجعل علمها النافع صدقة جارية لها، وارفع درجاتها في الجنة. آمين۔
_______________
ایک خاص قسم کے ’معتدل‘ مسلم ’عالم‘ کو سامراج بے حد پسند کرتا ہے۔ ایسا عالم کہ جس کے لہجے میں خاص قسم کی نرمی و خودسپردگی، دھونس اور یلغار کے سامنے مزاحمت سے چِڑ بظاہر مذہبی متون پر عبور، اور ہمیشہ اس بات کے لیے آمادہ اور ’خدمت کے لیے حاضر‘ ہو کہ مظلوموں کو سمجھائے کہ ان کی بے چینی اور اضطراب ایک ’بغاوت‘ غیر عملی، قبل اَز وقت، جذباتی، غیر اخلاقی اور مناسب حساب کتاب سے عاری ہے۔ جاوید احمد غامدی صاحب نے نائن الیون [۱۱ /۹ ]کے بعد کے دور میں اسی کردار کو کمال کے درجے تک پہنچایا ہے جسے دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ وہ محض ’اعتدال پسندی‘ کے علَم بردار نہیں، بلکہ ایک ’ہمہ پہلو شکست‘ کے نظریہ دان ہیں۔
ایک پوڈکاسٹر شہزاد غیاث کے ساتھ حالیہ دنوں میں ریکارڈ کردہ انٹرویو کے دوران انھوں نے اپنے آپ کوکسی باریک بین سیاسی مفکر کے طور پر پیش کرنے کے بجائے ایک ایسے ذہن کی عکاسی کی ہے، جو تجرید کو گہرائی، شکست خوردگی کو حقیقت پسندی، اور سامراجی فہم کو قانونِ الٰہی سمجھ بیٹھا ہے۔ یہ انٹرویو سیاسی تجزیہ کم اور نوآبادیاتی مسلمانوں کے لیے ایک تربیتی نصاب زیادہ ہے، جس میں یہ پیغام پایا جاتا ہے: ’’درجہ بندی کو قبول کرو، خلل سے بچو، خاموشی سے تعمیر کرو، اور براہِ کرم طاقت وروں کے لیے زحمت کا باعث نہ بنو‘‘۔
موصوف نے بار بار ’دنیا کے قوانین‘ کا حوالہ دیا، گویا جغرافیائی سیاست کششِ ثقل جیسے کسی اخلاقی اصول کے تابع ہو، نہ کہ پابندیوں، قبضوں، قتل ، فوجی اڈوں، کٹھ پتلی بادشاہتوں اور امریکی ’ضابطۂ کاری‘کی وہ دلکش اصطلاح میں چھپا وہ جبر، جس کا مطلب ہے: ’’سب قوانین تمھارے لیے،مگر ہرسطح پر کھلا استثنا ہمارے لیے ہے‘‘۔ یہ تجرید ’معصوم‘ نہیں، بلکہ اس کا ایک مقصد ہے۔ سامراج دُنیا کو اپنے وضع کردہ ’دُنیا کے قوانین‘ کے نیچے لاکر جکڑتا ہے، اور اپنے متعین کردہ ’ملزموں‘ کو ’مجرم‘ قرار دے کر منظر سے غائب کردیتا ہے، اور ان کے لیے اپنی بات کہنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتا۔ ایسے بے رحم موسم میں وہ خاص طور پر مسلم دُنیا کی قیادتوں کو اُبھارتا، سہارا دیتا اور اختیار تھماتا ہے۔
اسی لیے غامدی صاحب کے طرزِ فکر میں، مسلم دُنیا کی سیاست اکثر بے دانت، گونگی، بہری مگر عملاً سفاک بن کر سامنے آتی ہے۔ وہ مسلمانوں کی مزاحمت کے نتائج پر تو طویل گفتگو ئیں کرتے ہیں، لیکن وہ اُن پر قبضے، محاصرے، نوآبادیاتی لوٹ کھسوٹ یا ریاستی دہشت گردی پر بات کرنے کے بجائے ’دُور اندیشی‘ کے لفظ سے آلودہ دکھائی دیتی ہیں۔ مظلوموں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ احتیاط سے حساب لگائیں، جب کہ ظالم کو ایک اٹل حقیقت مان لیا جاتا ہے۔ اسرائیل بمباری کرتا ہے، امریکا پابندیاں لگاتا ہے، بہت سے مسلم ممالک کے حاکم اپنے شہریوں کو غائب کرنے سے نہیں چُوکتے، بادشاہ تباہی کو مالی مدد کا سہارا دیتے ہیں اور غامدی صاحب پوچھتے ہیں کہ ’’کیا متاثرین نے قوت کے توازن کا درست اندازہ لگا لیا تھا؟‘‘
یہ حقیقت پسندی نہیں، ’من مانی موقف پسندی‘ ہے۔ ایسی موقف پسندی، جو کمزوروں کی مزاحمت پر غور کرتے وقت نہایت سخت گیر ہو جاتی ہے، اور طاقت وروں کے جرائم پر بات کرتے وقت عجیب طرح سے شاعرانہ اور فاختانہ طرزِعمل میں ڈھل جاتی ہے۔
ایران کے بارے میں کہتے ہیں: ایران نے انقلاب سے پہلے ’اسرائیل کو قبول‘ کر لیا تھا اور اس لیے کوئی قابلِ ذکر تنازع نہ تھا۔ لیکن وہ اس حقیقت کو گول کرجاتے ہیں کہ شاہ کا ایران کوئی غیر جانب دار جنت نہ تھا کہ جسے مذہبی حکمرانوں نے بگاڑ دیا ہو۔ وہ مغرب کی پشت پناہی سے چلنے والی ایک پولیس ریاست تھی، جو اندرونی جبر اور بیرونی سامراجی وابستگی پر قائم تھی۔ اس کا ’استحکام‘ دراصل اس جوتے کا استحکام تھا، جو معاشرے کی گردن پر جما کر رکھا ہوا تھا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اگر جوتا واشنگٹن میں پالش کردہ ہو تو کچھ لوگ اسے ’تہذیب‘ سمجھ لیتے ہیں۔
نرم سے نرم الفاظ میں بھی بات کی جائے تو معلوم ہوتا ہے، ان کا فکری سانچا نوآبادیاتی مزاحمت کی حرکیات کو سمجھنے سے بالکل قاصر ہے، کیونکہ ان کے فکری ڈھانچے میں ’نوآبادیات فہمی‘ کے لیے کوئی سنجیدہ جگہ نہیں ہے۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ’’مسلمان علم اور اجتماعی اخلاق میں ناکامی کے باعث زوال پذیر ہوئے‘‘۔ ایک جملے میں یہ کتنا ’روشن خیال‘ موقف ہے۔ اس دانش ورانہ ڈانٹ میں، نوآبادیاتی تشدد، پس منظر کے ساتھ گم ہو جاتا ہے، بغاوتیں حاشیہ بن کر رہ جاتی ہیں، پابندیاں محکمہ موسمیات کا حال بن جاتی ہیں، اور قبضہ ہی ایک کھرا سچ رہتا ہے۔ یورپی و امریکی درندگی کے ساتھ سارے مظلوم، جہالت کی گٹھڑی بن کر اس خطبے میں گم ہو جاتے ہیں، جو تہذیبی ناکامی پر ملامت کرتا ہے۔ گویا، اگلا خطبہ غالباً یہ ہوگا کہ ’’غزہ کے محکوم عوام کو اپنی پڑھائی بہتر کرنی چاہیے تھی‘‘۔
یہ کہنا کہ ’’مسلمانوں نے پانچ صدیوں میں علم کے میدان میں کوئی معنی خیز حصہ نہیں ڈالا‘‘، کوئی تجزیہ نہیں بلکہ تہذیبی سینہ کوبی ہے، جو سنجیدگی کا لبادہ اُوڑھ کر خود کو کوڑے مارنے کی رضاکارانہ مشق ہے۔ یہ وہ مبالغہ ہے جو اس وقت تک کوئی سنجیدہ فرمان لگتا ہے، جب تک یہ یاد نہ آئے کہ قوموں کو محض سلطنتوں کے چارٹس اور نوبیل انعامات کی گنتی میں نہیں تولا جا سکتا۔ مسلم معاشروں نے نوآبادیاتی تباہی اور آمرانہ گھٹن کے باوجود سائنس دان، شاعر، فقہا، انجینئر، فلسفی، انقلابی اور اہلِ فکر پیدا کیے ہیں۔ مگر موصوف کا مقصد تاریخی صحت کا اعتراف نہیں، بلکہ ایک مخصوص خودسپردگی پر مبنی تربیتی حکمتِ عملی تھونپنا ہے: ’مسلمانوں کو پہلے رُسوا کیا جائے تاکہ اگلے قدم میں انھیں رام کیا جاسکے‘۔
غامدی صاحب کی سیاسی لغت اور فکریات،اخلاقی توجہ کو طاقت کے ڈھانچوں سے ہٹا کر مزاحمت کرنے والوں کی ’بے احتیاطی‘ پر مرکوز کر دیتی ہے۔ اُن کے فرمان کے مطابق: فلسطین، صہیونی آبادکار نوآبادیات اور نسلی تباہی، محاصرے اور نسلی امتیاز کی خونیں تفصیل کے بجائے خود فلسطینیوں کی ناقص حکمتِ عملی کی مثال بن جاتا ہے۔ کشمیر پر قبضہ ایک ڈپلومیٹک اور عسکری ناکامی، بے بسی اور بے بصیرتی کا قصہ نہیں رہتا ہے بلکہ نادانی کا سبق بن جاتا ہے۔ ایران عشروں کے دباؤ، گھیرا بندی اور تخریب کا نشانہ نہیں رہتا، بلکہ انقلابی زیادتیوں کا نشان بن جاتا ہے۔
اس فکر کی سب سے نمایاں پہچان، اس کی سفاکانہ سنگ دلی ہے۔ بلاشبہ مزاحمتی تحریکوں کے کسی پہلو سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، ان کے طریقوں پر تنقید بھی ہوسکتی ہے، حتیٰ کہ بعض اقدامات کی مذمت بھی کی جاسکتی ہے۔ مگر غزہ، لبنان، ایران، کشمیر یا افغانستان کے بارے میں کسی ایک تجزیہ کار کا جذبات سے عاری ہوکر بات کرنا، پرلے درجے کی اخلاقی بے حسی ہے۔ بچے ملبے تلے دفن ہو رہے ہیں، خاندان صفحۂ ہستی سے مٹ رہے ہیں، قیدیوں پر وحشیانہ تشدد ہو رہا ہے، معاشرے بھوک اور ننگ کا شکار ہیں اور ’معتدل‘ عالم یاد دلاتا ہے کہ اسکول کی ڈگری اور گنتی کی صلاحیت اہم ہے۔
یقیناً صلاحیت و تعلیم اہم ہے، حکمتِ عملی اہم ہے اور نتائج بہت اہم ہیں۔ مگر یک جہتی کے بغیر حکمت، حکمت نہیں، جسم و جان اور روح و تہذیب میں رچی بزدلی کا درس ہے۔ وہ ’احتیاط‘ جو کبھی طاقت سے ٹکراتی نہیں، وہ مزاجاً ظلم اور ظالم سے تعاون بن جاتی ہے۔ اور وہ مخصوص ’الٰہیات‘ جو مظلوم کو غیر معینہ مدت تک صرف جینے کی تلقین کرے، مگر مزاحمت کا کوئی سنجیدہ نظریہ نہ دے، وہ نبویؐ احتیاط نہیں بلکہ روحانی خود سپردگی و بزدلی کا نقارہ ہے۔
اسی لیے نائن الیون کے بعد مذکورہ صاحب کا کردار و بیان اہم ہے۔ وہ ایک ایسے دور کے لیے کچھ طاقت ور حلقوں کے ’محبوب‘ مصلح کے طور پر سامنے آئے، جو ’طاقت ور‘ حلقے متن سے دُوری پر رکھتے، اور لبرل اشرافیہ کے لیے باعثِ اطمینان بن کر ’اچھے‘ اور ’خطرناک‘ مسلمانوں میں فرق کی گنتی کرتے ہیں۔ جنرل پرویز مشرف کی نام نہاد ’روشن خیالی و اعتدال پسندی‘ کے تحت یہ طرزِ فکر اُس ریاست کو خودساختہ مذہبی جواز فراہم کرتا رہا ہے، جو امریکا کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کا حصہ تھی۔ اور اب یہی منطق عوامی مزاحمت کے بارے میں شکوک کو ہوا دیتی ہے۔
یہ سفر حادثاتی نہیں ہے۔ سامراج کو درکار ’معتدل مسلمانوں‘ کی کھیپ کی تیاری مطلوب ہے۔ وہ مسلمان جو محض نام نہاد ’انتہاپسندی‘ کا مخالف نہیں ہوتا۔(اگرچہ انتہا پسندی نہ قابلِ تعریف ہے اور نہ نظرانداز کرنے کے قابل، بلکہ یہ لفظ سامراجی لغت میں مخصوص پس منظر کے ساتھ مخصوص حلقوں پر ہی تھوپا جاتا ہے) مگر صرف اس حد تک نہیں رُکتا بلکہ وہ اس کھڑکی سے فائدہ اُٹھا کر پورا کھیل کھیلتا ہے اور ’انتہاپسندی‘ کی تعریف کو اس قدر وسیع کردیتا ہے کہ ہرسطح کی مزاحمت اپنی جگہ مشکوک بن جاتی ہے۔ وہ مسلم غصے کی شدت سے مذمت کرتا ہے اور سامراجی یا سامراج نواز مقامی عناصر کے تشدد و سفاکیت کی مذمت کرتے وقت الفاظ اس کے گلے میں اٹک کر رہ جاتے ہیں۔
موصوف کے مداح ہماری ان گزارشات کو ’ناانصافی‘ قرار دیتے ہوئے کہیں گے کہ ’وہ مستقل مزاج ہیں‘۔ واقعی ان کی یہ ’مستقل مزاجی‘ اس بات میں ہے کہ وہ مستضعفین اور زمین کے دبے کچلے لوگوں کو اپنی سیاسی فکریات کا نقطۂ آغاز بنانے سے انکار کرتے ہیں۔ وہ مخصوص لفاظی کا کھیل کھیلتے ہوئے ترتیب، استحکام، صلاحیت اور نتائج کی اصطلاحوں سے بات شروع کرتے ہیں۔ یہ سب الفاظ اور اُمور اہم ہیں، مگر جب یہ سب اصطلاحیں اور الفاظ ظالم کا ہتھیار بن جائیں تو انصاف ایک جھوٹا خواب بن کر رہ جاتا ہے۔ مظلوم کو تھپکی دے کر کہا جاتا ہے کہ وہ اس وقت تک انتظار کرے جب تک وہ آزادی کا ’اہل‘ نہ ہو جائے۔
تاریخ، انتظار کرنے والوں نے نہیں بنائی۔ نوآبادیاتی حاکمیت اور جبر کے خلاف جدوجہد ہمیشہ خطرے، غلطیوں، قربانیوں اور ناممکن فیصلوں سے آگے بڑھی ہے۔ اس جدوجہد میں تخیل اور عزم شامل تھا، وہی شے جو غامدی صاحب کی سیاست میں گم ہے۔ ان کی دنیا اُن جامد درجہ بندیوں کے بھیس میں سامنے آتی ہے: ’’طاقت ور عمل کرتا ہے، کمزور برداشت کرتا ہے، اور ’عالم‘ وضاحت کرتا ہے‘‘۔
مگر اب دنیا بدل رہی ہے۔ سامراج مطلق العنان نہیں، صہیونیت ناقابلِ شکست نہیں، مسلم حکمران اور مسلم عوام ایک نہیں، اور کوئی ایسا مدرسہ نہیں جہاں شکست خوردہ بچّے ایسے ’ناصحین‘ کی نصیحت کے منتظر ہوں۔ یہ ایک زخم زخم تاریخی قوت ہے زندہ اور دھوکا کھائی ہوئی، مگر خاموش ہرگز نہیں۔ ان صاحب کا المیہ یہ نہیں کہ وہ احتیاط کی تلقین کر رہے ہیں، احتیاط تو بہرحال ضروری ہے۔ ان کا المیہ یہ ہے کہ ان کی احتیاط سیاسی خاموشی اور موت میں ڈھلنے کا درس دیتی ہے، اور یہ گونگاپن اور اطاعت انگیز فکریات، غلامی کا شکنجہ کسنے سے زیادہ کچھ نہیں۔انھوں نے خودکشی سے بچنے کے حکم کو، مقابلے سے بچنے کا حکم سمجھ لیا ہے، اخلاقی پسپائی کو حکمتِ عملی کی فالج زدگی سے خلط ملط کردیا ہے، اور اعتدال کو مخملی پٹے سے باندھ کر رکھ دیا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ مسلمانوں کو بے باک ہونا چاہیے یا نہیں ہونا چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ کیا مسلم فکر کو محض اس نصیحت تک محدود کر دینا چاہیے کہ مظلوم، جبر کے باڑے میں بند مجبور بھیڑ بکریوں کا سا رویہ اختیار کریں؟ موصوف کا جواب غالباً ’ہاں‘ ہے۔ سامراج اس سے بہتر خطیب اور خطبہ نہیں مانگ سکتا تھا! (ترجمہ: س م خ)
_______________