اپریل ۲۰۲۶

فہرست مضامین

دُعائیں بے اثر کیوں ہو گئیں؟

رضی محمد ولی | اپریل ۲۰۲۶ | تزکیہ و تربیت

Responsive image Responsive image

ہم سب دعا کرتے ہیں، اور رات دن کرتے ہیں۔ یہ دُعائیں اپنی ذات ، اپنے بچوں ، دیگر اہلِ خانہ ، رزق میں کشادگی ، صحت و تندرستی اور مرحومین کی مغفرت وغیرہ کے لیے ہوتی ہیں۔ اسی طرح اُمت کی بھلائی و حفاظت ، مظلوموں کی داد رسی ، ملک کے امن و امان ، مسلم اُمہ کی گُم شدہ ناموس کی بحالی اور دیگر اجتماعی مقاصد کے لیے بھی دُعائیں ہوتی ہیں۔ یہ دُعائیں ہم نمازوں میں کرتے ہیں، نمازوں کے بعد کرتے ہیں، روزے کی حالت میں کرتے ہیں، افطار کے وقت کرتے ہیں، لیلۃ القدر میں کرتے ہیں، جمعہ، عیدین ، حج اور دیگر اجتماعات میں کرتے ہیں، ہمارے خطباء اور امام کرتے ہیں، جو راتوں کو اُٹھ سکتے ہیں وہ ربّ سے سرگوشی کے انداز میں کرتے ہیں، آنسو بہا کر کرتے ہیں۔  

حضرت سلمان فارسیؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ تمھارا ربّ تبارک و تعالیٰ بہت حیا والا اور بڑا کریم ہے۔ جب اس کا بندہ اس کی طرف اپنے ہاتھ اٹھاتا ہے تو اسے اس بات سے حیا آتی ہے کہ وہ انھیں خالی واپس لوٹا دے‘‘ (سنن ابی داؤد: ۱۴۸۸، جامع ترمذی: ۳۵۵۶)۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری یہ دُعائیں قبول نہیں ہوتیں، ہماری دعائیں بے اثر سی ہوگئی ہیں؟ پھر ذہن میں خیال آتا ہے کہ کیا اللہ ہماری سنتا نہیں؟ یا ہم سننے کے قابل نہیں رہے؟ جب کہ اللہ تو خود اعلان کرتا ہے: وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ۝۰ۭ (المؤمن۴۰: ۶۰) ’’تمھارا رب کہتا ہے ’’مجھے پکارو، میں تمھاری دعائیں قبول کروں گا‘‘۔ وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيْ عَـنِّىْ فَاِنِّىْ قَرِيْبٌ۝۰ۭ اُجِيْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ۝۰ۙ (البقرہ۲: ۱۸۶)’’اور اے نبیؐ ! میرے بندے اگر تم سے میرے متعلق پوچھیں ، تو انھیں بتا دو کہ میں ان سے قریب ہی ہوں۔ پکارنے والا جب مجھ پکارتا ہے ، میں اس کی پکار سنتا اور جواب دیتا ہوں‘‘ ۔ تو پھر مسئلہ کہاں ہے؟  

آئیے ہم اور آپ مل کر اُن وجوہ اور ان کے سدِّ باب کی راہیں تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو ہماری دُعائوں کی قبولیت میں رکاوٹ ہوسکتی ہیں۔ 

  • گناہوں کی کثرت :آج امتِ مسلمہ کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ گناہوں کو گناہ سمجھنا چھوڑتے جا رہے ہیں۔ جن اعمال پر کبھی دل کانپ جاتا تھا، آج وہ معمول بن چکے ہیں۔ جھوٹ کاروبار کی حکمت کہلاتا ہے۔ سود معاشی ضرورت بن گیا ہے۔ نگاہوں کی بے احتیاطی آزادی سمجھ لی گئی ہے، اور حقوق العباد کی پامالی کو چالاکی کا نام دے دیا گیا ہے۔ تکبر ہر خاص و عام میں سرایت کرگیا ہے۔ غیبت، تہمت، نجویٰ، تجسس اتنا عام ہوگیا ہےکہ کسی کو اس سے روکیں تو وہ منہ کو آتا ہے۔ جب گناہ کو گناہ ہی نہ سمجھا جائے تو اُس سے توبہ کی توفیق بھی نہیں ملتی اور یہ معاشرے کا کلچر بن جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ گناہ انسانوں ہی سے ہوتے ہیں اور گناہ کے بعد ندامت کا ہونا ایمان کی علامت ہے، اور گناہ کو گناہ نہ سمجھنا اور اس پر ڈٹے رہنا شیطانی صفت ہے۔ جس طرح آدم ؑ نے اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کی، پھر وہ اُس پر شرمندہ ہوگئے اور سچی توبہ کرلی، جب کہ دوسری طرف شیطان تھا جس نے اللہ کی نافرمانی کی اور پھر اس پر اُسے کسی قسم کی ندامت بھی نہ ہوئی۔ اسی لیے اُسے توبہ کی توفیق بھی نہیں ملی اور وہ مردُود قرار پایا ۔ موجودہ دور میں اُمت کے لوگ مذکورہ بالا اور ان کے علاوہ دیگر گناہ دلیری سے کر رہے ہیں اور اُن کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے بیٹھے ہیں۔ 

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب بندہ کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگا دیا جاتا ہے۔ اگر وہ گناہ چھوڑ دے، استغفار کرے اور توبہ کرے تو اس کا دل صاف کر دیا جاتا ہے۔ اور اگر وہ مسلسل گناہ کرتا ہے تو وہ سیاہی بڑھتی جاتی ہے یہاں تک کہ پورے دل کو ڈھانپ لیتی ہے۔ یہی وہ  رَانَ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورئہ مطففین کی آیت ۱۴ میں کیا ہے:’’ہرگز نہیں! بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی وجہ سے زنگ چڑھ گیا ہے‘‘۔(جامع ترمذی: ۳۳۳۴) 

لہٰذا جب گناہوں کا تسلسل قائم رہے اور توبہ نہ کی جائے تو دل سیاہ پڑ جاتا ہے۔ نتیجتاً دل سخت ہوجاتا ہے، دعا بے اثر ہونے لگتی ہے، عبادت میں لذت باقی نہیں رہتی، اور معاشرہ بے سکونی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اصلاح کا راستہ یہی ہے کہ ہم گناہ کو گناہ سمجھتے ہوئے اسے اپنی زندگی کا معمول نہ بنائیں، اور کبھی انسان ہونے کے ناتے گناہ سرزد ہوجائے تو حضرت آدمؑ کی طرح توبہ کرنے میں تاخیر نہ کریں، اور ہمیشہ اپنے باطن کا محاسبہ جاری رکھیں کیونکہ زندہ دل ہی اللہ کی طرف پلٹ سکتا ہے۔ 

  • رزقِ حرام کی کثرت:مسلم معاشرے میں ایک نہایت خطرناک رجحان یہ پایا جاتا ہے کہ رزق کے حلال و حرام ہونے کی تمیز ختم ہوتی جارہی ہے۔ کیفیت یہ ہے کہ سودی لین دین کو مجبوری کا نام دے دیا گیا ہے اور اس وقت کرّۂ ارض پر کوئی ایک خطہ بھی ایسا نہیں جہاں سودی لین دین عام نہ ہو، جب کہ سودی لین دین کرنے والے کے لیے تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے اعلانِ جنگ تک فرما دیا گیا ہے۔ پھر دوسری چیز رشوت ہے جسے ’تحفہ‘ کہہ کر جائز ٹھیرایا جا رہا ہے۔ جھوٹ اور دھوکا کاروباری حکمت سمجھا جانے لگا ہے، ناپ تو ل میں کمی تو معمول کا حصہ ہے، جب کہ ناپ تول میں کمی کے بارے میں اللہ تعالیٰ واضح ہدایت فرماتا ہے:وَاَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيْزَانَ بِالْقِسْطِ۝۰ۚ (الانعام۶: ۱۵۲)’’اور ناپ تول میں پورا انصاف کرو‘‘۔ اشیائے خوردو نوش ہوں یا کوئی اور چیز، ان میں ملاوٹ عام سی بات ہے اور دوسروں کے حقوق غصب کر کے دولت کمانا ذہانت تصور ہوتا ہے۔ حالانکہ قرآن سخت تنبیہ کرتا ہے:وَلَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ (البقرہ۲: ۱۸۸)’’اور آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ‘‘۔  

ایک موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کا ذکر کیا: ’’جو طویل سفر کرتا ہے، بال پراگندا اور جسم غبار آلود ہے ۔دُعا کے لیے آسمان کی طرف اپنے دو نوں ہاتھ پھیلاتا ہے: اے میرے ربّ! اے میرے ربّ! جب کہ اس کا کھا نا حرام کا ہے، اس کا پینا حرا م کا ہے، اس کا لباس حرام کا ہے اور اس کو غذا حرام کی ملی ہے، تو اس کی دُعا کیسے قبول ہوگی؟‘‘(صحیح مسلم: ۱۰۱۵)  

حرام رزق صرف مال کو آلودہ نہیں کرتا، یہ دل کا نور بھی چھین لیتا ہے، عبادت کی لذت بھی ختم کر دیتا ہے، اولاد کی تربیت پر اثر ڈالتا ہے اور دعا کی قبولیت میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ اگر ہم اپنی دُعاؤں کی قبولیت چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اپنی کمائی کو پاک کرنا ہوگا، کیونکہ جس گھر کی بنیاد حرام پر ہو وہاں سکون اور برکت ٹھہر نہیں سکتی۔ 

  • دل کی غفلت:دل کی غفلت بھی دعا کی قبولیت میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ جب زبان تو’یا اللہ‘ کہہ رہی ہو مگر دل حاضر نہ ہو، تو دعا محض الفاظ کا مجموعہ بن کر رہ جاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اللہ سے دعا کرو اس حال میں کہ قبولیت کا یقین ہو، اور جان لو کہ اللہ غافل دل کی دعا قبول نہیں کرتا‘‘(سنن ترمذی)۔ غفلت یہ ہے کہ انسان ہاتھ تو اٹھا لے مگر ذہن دنیا کے حساب کتاب میں گم ہو، آنکھیں بند ہوں مگر دل بیدار نہ ہو۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ سے دُعا سرسری انداز میں ، غفلت کے ساتھ یا بے یقینی کے ساتھ رسمی طور پر نہیں کرنی چاہیے بلکہ دُعا کے الفاظ صرف زبان سے نہ نکلیں بلکہ دل سے پورے یقین کے ساتھ نکلنے چاہئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ادْعُوا اللهَ وَأَنْتُمْ مُوقِنُونَ بِالْإِجَابَةِ (سنن ترمذی:۳۴۷۹)’’اللہ سے اس طرح دعا کرو کہ تمھیں قبولیت کا یقین ہو‘‘۔  

یاد رکھیے! قبولیت ِ دُعا کا راستہ یہ ہے کہ دعا سے پہلے دل کو نرم کیا جائے، گناہوں پر شرمندگی ہو، عاجزی اختیار کی جائے اور یقینِ کامل کے ساتھ رب کے حضور کھڑا ہوا جائے، کیونکہ زندہ دل کی آہ آسمان چیر دیتی ہے، جب کہ غافل دل کی آواز خود اپنے سینے سے باہر نہیں نکل پاتی۔ 

  • امربالمعروف ونہی المنکر چھوڑ دینا:اُمتِ مسلمہ کی دُعائیں ردّ ہونے کی ایک بڑی وجہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ چھوڑ دیا جانا ہے۔ قرآن واضح اعلان کرتا ہے:  كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ۝۰ۭ (الِ عمرٰن۳: ۱۱۰)’’اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو ، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو‘‘ ۔ جب یہی وصف کمزور پڑ جائے تو ’خیرِ اُمت‘ ہونے کا اعزاز بھی کمزور ہو جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تنبیہ فرمائی کہ ’’اگر تم نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا چھوڑ دو گے تو اللہ تم پر ایسا عذاب بھیجے گا کہ پھر تم دعا کرو گے مگر قبول نہ ہوگی‘‘۔ (سنن ترمذی) 

آج ہماری کیفیت یہ ہے کہ ظلم دیکھ کر خاموش رہتے ہیں۔ دنیا میں طاقت ور کمزور پر چڑھ دوڑتا ہے۔ کبھی یہ انفرادی سطح پر ہوتا ہے اور کبھی ریاستی سطح پر لیکن ہمارے کان پر جوں تک نہیں رینگتی اور ہمیں لگتا ہے کہ یہ ظلم شاید دوسرے کے ساتھ ہی ہونا ہے اور ہم اس سے محفوظ رہیں گے۔ سود، رشوت اور بے حیائی کو معمول سمجھ لیتے ہیں، اور ’’مجھے کیا؟‘‘ کا رویہ اختیار کر لیتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اجتماعی گناہ پر خاموشی بھی گناہ ہے۔وَاِذْ قَالَتْ اُمَّۃٌ مِّنْہُمْ لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْمَۨاۙ اللہُ مُہْلِكُہُمْ اَوْ مُعَذِّبُہُمْ عَذَابًا شَدِيْدًا۝۰ۭ قَالُوْا مَعْذِرَۃً اِلٰى رَبِّكُمْ وَلَعَلَّہُمْ يَتَّقُوْنَ۝۱۶۴ (اعراف۷: ۱۶۴)’’ اور جب اُن میں سے ایک گروہ نے دوسرے گروہ سے کہا تھا کہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنھیں اللہ ہلاک کرنے والا یا سخت سزا دینے والا ہے‘‘تو انھوں نے جواب دیا تھا کہ ’’ہم یہ سب کچھ تمھارے ربّ کے حضور اپنی معذرت پیش کرنے کے لیے کرتے ہیں اور اس اُمید پر کرتے ہیں کہ شاید یہ لوگ اس کی نافرمانی سے پرہیز کرنے لگیں‘‘۔ 

اس آیت کی تشریح میں صاحبِ تفہیم القرآن رقم طراز ہیں کہ ’’ ایک بستی میں تین قسم کے لوگ موجود تھے۔ ایک وہ جو دھڑلے سے احکام الٰہی کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ دوسرے وہ جو خود تو خلاف ورزی نہیں کرتے تھے مگر اس خلاف ورزی کو خاموشی کے ساتھ بیٹھے دیکھ رہے تھے اور ناصحوں سے کہتے تھے کہ ان کم بختوں کو نصیحت کرنے سے کیا حاصل ہے۔ تیسرے وہ جن کی غیرتِ ایمانی حدود اللہ کی اس کھلم کھلا بےحرمتی کو برداشت نہ کرسکتی تھی اور وہ اس خیال سے نیکی کا حکم کرنے اور بدی سے روکنے میں سرگرم تھے کہ شاید وہ مجرم لوگ ان کی نصیحت سے راہِ راست پر آجائیں اور اگر وہ راہِ راست نہ اختیار کریں تب بھی ہم اپنی حد تک تو اپنا فرض ادا کر کے خدا کے سامنے اپنی برأت کا ثبوت پیش کر ہی دیں۔ اس صورت حال میں جب اس بستی پر اللہ کا عذاب آیا تو قرآن مجید کہتا ہے کہ ان تینوں گروہوں میں سے صرف تیسرا گروہ ہی اس سے بچایا گیا کیونکہ اسی نے خدا کے حضور اپنی معذرت پیش کرنے کی فکر کی تھی اور وہی تھا جس نے اپنی برأت کا ثبوت فراہم کر رکھا تھا۔ باقی دونوں گروہوں کا شمار ظالموں میں ہوا اور وہ اپنے جرم کی حد تک مبتلائے عذاب ہوئے‘‘۔(تفہیم القرآن، دوم،ص ۹۱) 

جس بستی میں علانیہ احکام الہٰی کی خلاف ورزی ہو رہی ہو وہ ساری کی ساری قابل مواخذہ ہوتی ہے، اور اس کا کوئی باشندہ محض اس بنا پر مواخذہ سے بری نہیں ہوسکتا کہ اس نے خود خلاف ورزی نہیں کی، بلکہ اسے خدا کے سامنے اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے لازماً اس بات کا ثبوت فراہم کرنا ہوگا کہ وہ اپنی حدِ استطاعت تک اصلاح اور اقامت حق کی کوشش کرتا رہا تھا۔ پھر قرآن اور حدیث کے دوسرے ارشادات سے بھی ہم کو ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ اجتماعی جرائم کے باب میں اللہ کا قانون یہی ہے۔ چنانچہ قرآن میں فرمایا گیا ہے کہ وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لَّا تُصِيْبَنَّ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَاۗصَّۃً۝۰ۚ (الانفال۸: ۲۵) ’’اور ڈرو اس فتنہ سے جس کے وبال میں خصوصیت کے ساتھ صرف وہی لوگ گرفتار نہیں ہوں گے جنھوں نے تم میں سے ظلم کیا ہو‘‘۔  

نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ’’اللہ خاص لوگوں کے جرائم پر عام لوگوں کو سزا نہیں دیتا جب تک عامتہ الناس کی یہ حالت نہ ہوجائے کہ وہ اپنی آنکھوں کے سامنے برے کام ہوتے دیکھیں اور وہ ان کاموں کے خلاف اظہار ناراضی کرنے پر قادر ہوں اور کوئی اظہار ناراضی نہ کریں۔ پس جب لوگوں کا یہ حال ہوجاتا ہے تو اللہ خاص و عام سب کو عذاب میں مبتلا کردیتا ہے‘‘۔ (ترمذی) 

  • حقوق العباد کی ادائیگی نہ کرنا:آج امتِ مسلمہ میں ایک خطرناک بیماری یہ پیدا ہو گئی ہے کہ حقوق العباد کی ادائیگی کو معمولی سمجھ لیا گیا ہے۔ مراسمِ عبودیت کی ادائیگی میں تو ہم کچھ نہ کچھ حساس ہو جاتے ہیں، مگر لوگوں کے حق مارنے، وعدہ خلافی کرنے، امانت میں خیانت کرنے، ناپ تول میں کمی کرنے، ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے ہڑپ کرنے، وراثت میں حقداروں کو اُن کا حق نہ دینے کو معمول بنا لیا ہے۔ حالانکہ قرآن متعدد جگہ متنبہ کرتے ہوئے کہتا ہے:وَيْلٌ لِّـلْمُطَفِّفِيْنَ۝۱ۙ الَّذِيْنَ اِذَا اكْتَالُوْا عَلَي النَّاسِ يَسْتَوْفُوْنَ۝۲ۙ وَاِذَا كَالُوْہُمْ اَوْ وَّزَنُوْہُمْ يُخْسِرُوْنَ۝۳ۭ  (المطففین۸۳:۱-۳)’’ تباہی ہے ان لوگوں کے لیے جو دوسروں سے لیتے ہیں تو پورا لیتے ہیں، اور جب انھیں ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو کم دیتے ہیں‘‘۔ وَلَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ (البقرہ۲: ۱۸۸)’’اور آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ‘‘۔ اِنَّ الَّذِيْنَ يَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْيَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا يَاْكُلُوْنَ فِيْ بُطُوْنِھِمْ نَارًا۝۰ۭ وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيْرًا۝۱۰  (النساء۴:۱۰)’’جو لوگ ظلم کے ساتھ یتیموں کے مال کھاتے ہیں درحقیقت وہ اپنے پیٹ آگ سے بھرتے ہیں اور وہ ضرور جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونکے جائیں گے‘‘۔ 

یہ سب اور ان جیسی دیگر بہت سی آیات حقوق العباد کی پامالی سے متعلق ہیں اور ان پر قرآن نے سخت وعید اور اللہ کی ناراضی بیان کی ہے۔ ان میں معاشی ، معاشرتی ، مالی حقوق اور یتامٰی و مساکین کے حقوق شامل ہیں۔ ان کے علاوہ قرآن میں جا بجا والدین کے حقوق، اقربا کے حقوق ، پڑوسیوں کے حقوق، دوستوں، اور مسافروں کے حقوق سے متعلق بھی احکامات ملتے ہیں۔ آج اپنی دُعاؤں کے قبول نہ ہونے کےلیے ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے کہ کہیں دانستہ یا غیر دانستہ ہم حقوق العباد غصب کرنے کے مجرم تو نہیں ہیں؟ کہیں ہم نے کسی بہن ، بھائی یا کسی اور عزیز کے حقِ وراثت پر ڈاکا تو نہیں مارا، کسی پڑوسی کے ساتھ تو زیادتی نہیں کی، اپنے والدین کی نافرمانی کے مرتکب تو نہیں ہوئے، اپنے غریب رشتہ دار کو زندگی کے لیے ترستا ہوا تو نہیں چھوڑا ، کہیں بیوی اور بچوں کے حقوق تو ادا ہونے سے نہیں رہ گئے ۔  

یاد رکھیے ! اگر ہم مجرم ہیں تو پھر مجرم کی زندان میں شنوائی کیسی؟ اُس کا کام تو زندان میں دُہائی دینا ہی ہوسکتا ہے۔ زندان سے باہر وہ جب ہی آسکتا ہے جب اُس کی سزا پوری ہوجائے یا اُس کا زندان میں کردار اتنا اچھا ہو کہ سرکار اُس کی سزا میں تخفیف کرنے پر مجبور ہوجائے۔ حقوق العباد سے متعلق مشہور حدیث ’مفلس کون‘ ہمیں ہمیشہ یاد رہنی چاہیے، تاکہ ہم کسی کی حق تلفی کرتے ہوئے ہزار بار سوچیں۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟ صحابہؓ نے عرض کیا ہمارے نزدیک مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہو نہ کوئی مال و متاع۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا، لیکن اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر بہتان لگایا ہوگا، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا اور کسی کو مارا ہوگا۔ پھر اس کے نیک اعمال میں سے ایک (حق دار) کو دیے جائیں گے، پھر دوسرے کو دیے جائیں گے۔ پھر اگر اس کے ذمے حقوق باقی رہ جائیں اور اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں تو ان مظلوموں کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے، پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا‘‘۔ (صحیح مسلم : ۲۵۸۱)  

حقوق العباد کی عدم ادائیگی وہ خسارہ ہے جس کی تلافی ممکن نہیں، یہ معاملہ صرف اخلاقی مسئلہ نہیں، یہ آخرت کا سنگین حساب ہے۔ جب تک ہم لوگوں کے حقوق ادا نہیں کرتے، معافی نہیں مانگتے اور ظلم کی تلافی نہیں کرتے، تب تک ہماری عبادتیں بھی خطرے میں رہتی ہیں، کیونکہ اللہ اپنے حق کو تو معاف کر سکتا ہے، مگر بندوں کے حق کا فیصلہ بندوں کے درمیان ہی ہوگا۔ 

  • اُمت کا انتشار:آج اُمتِ مسلمہ میں کہیں مسلکی تعصب ہے، کہیں جماعتی تعصب اور کہیں نسلی اور لسانی تقسیم۔ ان چیزوں نے اُمت کو متحد ہونے کے بجائے باہم دست و گریبان کردیا ہے۔ ان تعصبات اور اَنانیت کی جنگوں نے ہمیں ٹکڑوں میں بانٹ دیا ہے، حالانکہ قرآن واضح حکم دیتا ہے وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللہِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا۝۰۠ (اٰلِ عمرٰن۳:۱۰۳ ) ’’سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور منتشر نہ ہوجائو‘‘۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن تو آپس میں ایک جسم کی مانند ہیں، اگر ایک عضو کو تکلیف ہو تو پورا جسم بے چین ہو جاتا ہے۔ (بخاری  ) 

تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہی اندرونی چپقلش ۱۲۵۸ء میں سقوط بغداد کا سبب بنی جب منگولوں نے بغداد پر قبضہ کیا، اسی طرح ۱۴۹۲ء میں سقوطِ اُندلس دیکھنا پڑا جب تقریباً ۸۰۰ سالہ مسلم اقتدار کا خاتمہ ہوا اور ہم نے اُندلس پلیٹ میں رکھ کر عیسائیوں کو پیش کیا۔ اسی طرح ۱۷۵۷ء میں پلاسی کے میدان میں نواب سراج الدولہ کو برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے شکست دی اور یوں برِّ صغیر میں باقاعدہ برطانوی سیاسی بالادستی کی بنیاد پڑی۔ ۱۸۵۷ء میں مغلیہ سلطنت کا خاتمہ ہوا اور برطانوی راج کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ اور پہلی عالمی جنگ کے بعد ۱۹۲۴ء میں عثمانی سلطنت کے خاتمہ نے ایک علامتی اتحاد کی دھجیاں بھی بکھیر دیں۔ ماضی قریب میں دیکھیں تو افغانستان، عراق، کشمیر، لیبیا، شام، یمن، فلسطین ، سوڈان اور اب ایران ہمارے انتشار کی بد ترین مثالیں ہیں۔ 

 یاد رکھیے! جب دل ایک نہ ہوں، نیتیں صاف نہ ہوں، اور ہم ایک دوسرے کے خلاف صف آرا رہیں تو اجتماعیت کے لیے کی گئی دعاؤں میں وہ تاثیر کیسے پیدا ہوگی؟ اختلافِ رائے فطری ہے، مگر دلوں کی دوری اور دشمنی تباہ کن ہے۔ جب تک اُمت اپنے دل صاف نہیں کرے گی، ایک دوسرے کو معاف کرنا نہیں سیکھے گی اور مشترکہ مقاصد پر جمع نہیں ہوگی، تب تک اجتماعیت کے لیے دعا میں وہ قوت پیدا نہیں ہوگی جو آسمان کے دروازے کھول دیتی ہے۔ اتحاد برکت لاتا ہے، اور انتشار دُعاؤں کی قبولیت کے راستے میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ 

  • زمین ربّ کی ، نظام کسی اور کا:اللہ تعالیٰ نے پوری کائنات کو تخلیق کیا ، یقیناً اس کے زیر و بم سے بھی وہی واقف ہے۔ اسی لیے اُس نے کائنات تخلیق کرکے اُسے عبث نہیں چھوڑا بلکہ اُس کے تکوینی اور اختیاری نظام کی ہدایات بھی اپنے انبیا علیہم السلام کے ذریعے بنی نوع انسان کو فراہم کیں۔ پھر اس کا اعلان قرآن پاک میں خود ہی کردیا کہ اَلَا لَہُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ۝۰ۭ (الاعراف۷:۵۴)’’خبردار! پیدا کرنا بھی اسی کا کام ہے اور حکم دینا بھی اسی کا حق ہے‘‘۔ مگر انسان نے خالق کے نظام کو پسِ پشت ڈال کر اپنے بنائے ہوئے نظاموں کو معیار بنالیا ہے۔ معیشت سود پر، سیاست مفاد پر، معاشرت خواہش پر اور اخلاقیات مادّی فائدے پر کھڑی ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْكٰفِرُوْنَ۝۴۴ ……وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ۝۴۵ …… وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ۝۴۷ (المائدہ۵:۴۴-۴۵ ، ۴۷) ’’ جو اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں… وہی ظالم ہیں… وہی فاسق ہیں‘‘۔ 

 اس باب میں مفکّرِاسلام ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں:’’جب حکمران اللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ کرنا چھوڑ دیں تو اسلام کا پہلا مضبوط بندھن ٹوٹ جاتا ہے‘‘ ۔ صاحبِ تفہیم القرآن کہتے ہیں کہ ’’ اسلام دراصل ایک مکمل نظام زندگی ہے جس میں عقیدہ، عبادات، اخلاق، معاشرت، معیشت، عدالت، حکومت سب شامل ہیں‘‘۔ جب تک یہ سب چیزیں قائم رہیں، اسلام ایک مکمل نظام کی صورت میں موجود رہتا ہے۔ آج بدقسمتی سے کیفیت یہ ہے کہ مسلم اُمہ یہ بات بھول بیٹھی ہے یا دوسری اقوام کی طرح یاد رکھنا بھی نہیں چاہتی کہ اسلام صرف عبادات کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک مکمل نظام زندگی ہے جو عقیدہ و خیال سے لے کر عبادات تک کا خوشبودار گلدستہ ہے۔جتنی بھی مسلم حکومتیں ہیں کوئی بھی اسلام کے نظام کا عملی نمونہ نہیں ہے۔ 

ہمارا حال ایسا ہے جیسے کوئی شخص اپنی بیماری سے صحت یابی کے لیے کسی ڈاکٹر سے معائنہ کروائے مگرجب ڈاکٹر اُس کے لیے کوئی نسخہ تجویز کرے تو اُس نسخہ کو پسِ پشت ڈال کر اپنی مرضی کی دوائیں کھاتا رہے اور پھر شفا کی اُمید رکھے۔ اب بتائیےاُسے شفا کہاں سے ملے گی؟ لہٰذا دُعا اور عمل میں ہم آہنگی اتنی ہی ضروری ہے جتنا ڈاکٹر کے تجویز کردہ نسخے کے مطابق دوائی کا استعمال ضروری ہے۔ جب تک فرد اور معاشرہ اللہ کے دیے ہوئے نظام کی تعلیمات کو اپنائے بغیر صرف الفاظ کی دعائیں کرتا رہے گا، قبولیت کی راہیں تنگ رہیں گی۔ اصلاح کا راستہ یہی ہے کہ دین کو صرف عبادت گاہ تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ زندگی کے نظام میں بھی رب کی حاکمیت کو جگہ دی جائے!