ہم سب دعا کرتے ہیں، اور رات دن کرتے ہیں۔ یہ دُعائیں اپنی ذات ، اپنے بچوں ، دیگر اہلِ خانہ ، رزق میں کشادگی ، صحت و تندرستی اور مرحومین کی مغفرت وغیرہ کے لیے ہوتی ہیں۔ اسی طرح اُمت کی بھلائی و حفاظت ، مظلوموں کی داد رسی ، ملک کے امن و امان ، مسلم اُمہ کی گُم شدہ ناموس کی بحالی اور دیگر اجتماعی مقاصد کے لیے بھی دُعائیں ہوتی ہیں۔ یہ دُعائیں ہم نمازوں میں کرتے ہیں، نمازوں کے بعد کرتے ہیں، روزے کی حالت میں کرتے ہیں، افطار کے وقت کرتے ہیں، لیلۃ القدر میں کرتے ہیں، جمعہ، عیدین ، حج اور دیگر اجتماعات میں کرتے ہیں، ہمارے خطباء اور امام کرتے ہیں، جو راتوں کو اُٹھ سکتے ہیں وہ ربّ سے سرگوشی کے انداز میں کرتے ہیں، آنسو بہا کر کرتے ہیں۔
حضرت سلمان فارسیؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ تمھارا ربّ تبارک و تعالیٰ بہت حیا والا اور بڑا کریم ہے۔ جب اس کا بندہ اس کی طرف اپنے ہاتھ اٹھاتا ہے تو اسے اس بات سے حیا آتی ہے کہ وہ انھیں خالی واپس لوٹا دے‘‘ (سنن ابی داؤد: ۱۴۸۸، جامع ترمذی: ۳۵۵۶)۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری یہ دُعائیں قبول نہیں ہوتیں، ہماری دعائیں بے اثر سی ہوگئی ہیں؟ پھر ذہن میں خیال آتا ہے کہ کیا اللہ ہماری سنتا نہیں؟ یا ہم سننے کے قابل نہیں رہے؟ جب کہ اللہ تو خود اعلان کرتا ہے: وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ۰ۭ (المؤمن۴۰: ۶۰) ’’تمھارا رب کہتا ہے ’’مجھے پکارو، میں تمھاری دعائیں قبول کروں گا‘‘۔ وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيْ عَـنِّىْ فَاِنِّىْ قَرِيْبٌ۰ۭ اُجِيْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ۰ۙ (البقرہ۲: ۱۸۶)’’اور اے نبیؐ ! میرے بندے اگر تم سے میرے متعلق پوچھیں ، تو انھیں بتا دو کہ میں ان سے قریب ہی ہوں۔ پکارنے والا جب مجھ پکارتا ہے ، میں اس کی پکار سنتا اور جواب دیتا ہوں‘‘ ۔ تو پھر مسئلہ کہاں ہے؟
آئیے ہم اور آپ مل کر اُن وجوہ اور ان کے سدِّ باب کی راہیں تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو ہماری دُعائوں کی قبولیت میں رکاوٹ ہوسکتی ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب بندہ کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگا دیا جاتا ہے۔ اگر وہ گناہ چھوڑ دے، استغفار کرے اور توبہ کرے تو اس کا دل صاف کر دیا جاتا ہے۔ اور اگر وہ مسلسل گناہ کرتا ہے تو وہ سیاہی بڑھتی جاتی ہے یہاں تک کہ پورے دل کو ڈھانپ لیتی ہے۔ یہی وہ رَانَ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورئہ مطففین کی آیت ۱۴ میں کیا ہے:’’ہرگز نہیں! بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی وجہ سے زنگ چڑھ گیا ہے‘‘۔(جامع ترمذی: ۳۳۳۴)
لہٰذا جب گناہوں کا تسلسل قائم رہے اور توبہ نہ کی جائے تو دل سیاہ پڑ جاتا ہے۔ نتیجتاً دل سخت ہوجاتا ہے، دعا بے اثر ہونے لگتی ہے، عبادت میں لذت باقی نہیں رہتی، اور معاشرہ بے سکونی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اصلاح کا راستہ یہی ہے کہ ہم گناہ کو گناہ سمجھتے ہوئے اسے اپنی زندگی کا معمول نہ بنائیں، اور کبھی انسان ہونے کے ناتے گناہ سرزد ہوجائے تو حضرت آدمؑ کی طرح توبہ کرنے میں تاخیر نہ کریں، اور ہمیشہ اپنے باطن کا محاسبہ جاری رکھیں کیونکہ زندہ دل ہی اللہ کی طرف پلٹ سکتا ہے۔
ایک موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کا ذکر کیا: ’’جو طویل سفر کرتا ہے، بال پراگندا اور جسم غبار آلود ہے ۔دُعا کے لیے آسمان کی طرف اپنے دو نوں ہاتھ پھیلاتا ہے: اے میرے ربّ! اے میرے ربّ! جب کہ اس کا کھا نا حرام کا ہے، اس کا پینا حرا م کا ہے، اس کا لباس حرام کا ہے اور اس کو غذا حرام کی ملی ہے، تو اس کی دُعا کیسے قبول ہوگی؟‘‘(صحیح مسلم: ۱۰۱۵)
حرام رزق صرف مال کو آلودہ نہیں کرتا، یہ دل کا نور بھی چھین لیتا ہے، عبادت کی لذت بھی ختم کر دیتا ہے، اولاد کی تربیت پر اثر ڈالتا ہے اور دعا کی قبولیت میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ اگر ہم اپنی دُعاؤں کی قبولیت چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اپنی کمائی کو پاک کرنا ہوگا، کیونکہ جس گھر کی بنیاد حرام پر ہو وہاں سکون اور برکت ٹھہر نہیں سکتی۔
یاد رکھیے! قبولیت ِ دُعا کا راستہ یہ ہے کہ دعا سے پہلے دل کو نرم کیا جائے، گناہوں پر شرمندگی ہو، عاجزی اختیار کی جائے اور یقینِ کامل کے ساتھ رب کے حضور کھڑا ہوا جائے، کیونکہ زندہ دل کی آہ آسمان چیر دیتی ہے، جب کہ غافل دل کی آواز خود اپنے سینے سے باہر نہیں نکل پاتی۔
آج ہماری کیفیت یہ ہے کہ ظلم دیکھ کر خاموش رہتے ہیں۔ دنیا میں طاقت ور کمزور پر چڑھ دوڑتا ہے۔ کبھی یہ انفرادی سطح پر ہوتا ہے اور کبھی ریاستی سطح پر لیکن ہمارے کان پر جوں تک نہیں رینگتی اور ہمیں لگتا ہے کہ یہ ظلم شاید دوسرے کے ساتھ ہی ہونا ہے اور ہم اس سے محفوظ رہیں گے۔ سود، رشوت اور بے حیائی کو معمول سمجھ لیتے ہیں، اور ’’مجھے کیا؟‘‘ کا رویہ اختیار کر لیتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اجتماعی گناہ پر خاموشی بھی گناہ ہے۔وَاِذْ قَالَتْ اُمَّۃٌ مِّنْہُمْ لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْمَۨاۙ اللہُ مُہْلِكُہُمْ اَوْ مُعَذِّبُہُمْ عَذَابًا شَدِيْدًا۰ۭ قَالُوْا مَعْذِرَۃً اِلٰى رَبِّكُمْ وَلَعَلَّہُمْ يَتَّقُوْنَ۱۶۴ (اعراف۷: ۱۶۴)’’ اور جب اُن میں سے ایک گروہ نے دوسرے گروہ سے کہا تھا کہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنھیں اللہ ہلاک کرنے والا یا سخت سزا دینے والا ہے‘‘تو انھوں نے جواب دیا تھا کہ ’’ہم یہ سب کچھ تمھارے ربّ کے حضور اپنی معذرت پیش کرنے کے لیے کرتے ہیں اور اس اُمید پر کرتے ہیں کہ شاید یہ لوگ اس کی نافرمانی سے پرہیز کرنے لگیں‘‘۔
اس آیت کی تشریح میں صاحبِ تفہیم القرآن رقم طراز ہیں کہ ’’ ایک بستی میں تین قسم کے لوگ موجود تھے۔ ایک وہ جو دھڑلے سے احکام الٰہی کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ دوسرے وہ جو خود تو خلاف ورزی نہیں کرتے تھے مگر اس خلاف ورزی کو خاموشی کے ساتھ بیٹھے دیکھ رہے تھے اور ناصحوں سے کہتے تھے کہ ان کم بختوں کو نصیحت کرنے سے کیا حاصل ہے۔ تیسرے وہ جن کی غیرتِ ایمانی حدود اللہ کی اس کھلم کھلا بےحرمتی کو برداشت نہ کرسکتی تھی اور وہ اس خیال سے نیکی کا حکم کرنے اور بدی سے روکنے میں سرگرم تھے کہ شاید وہ مجرم لوگ ان کی نصیحت سے راہِ راست پر آجائیں اور اگر وہ راہِ راست نہ اختیار کریں تب بھی ہم اپنی حد تک تو اپنا فرض ادا کر کے خدا کے سامنے اپنی برأت کا ثبوت پیش کر ہی دیں۔ اس صورت حال میں جب اس بستی پر اللہ کا عذاب آیا تو قرآن مجید کہتا ہے کہ ان تینوں گروہوں میں سے صرف تیسرا گروہ ہی اس سے بچایا گیا کیونکہ اسی نے خدا کے حضور اپنی معذرت پیش کرنے کی فکر کی تھی اور وہی تھا جس نے اپنی برأت کا ثبوت فراہم کر رکھا تھا۔ باقی دونوں گروہوں کا شمار ظالموں میں ہوا اور وہ اپنے جرم کی حد تک مبتلائے عذاب ہوئے‘‘۔(تفہیم القرآن، دوم،ص ۹۱)
جس بستی میں علانیہ احکام الہٰی کی خلاف ورزی ہو رہی ہو وہ ساری کی ساری قابل مواخذہ ہوتی ہے، اور اس کا کوئی باشندہ محض اس بنا پر مواخذہ سے بری نہیں ہوسکتا کہ اس نے خود خلاف ورزی نہیں کی، بلکہ اسے خدا کے سامنے اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے لازماً اس بات کا ثبوت فراہم کرنا ہوگا کہ وہ اپنی حدِ استطاعت تک اصلاح اور اقامت حق کی کوشش کرتا رہا تھا۔ پھر قرآن اور حدیث کے دوسرے ارشادات سے بھی ہم کو ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ اجتماعی جرائم کے باب میں اللہ کا قانون یہی ہے۔ چنانچہ قرآن میں فرمایا گیا ہے کہ وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لَّا تُصِيْبَنَّ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَاۗصَّۃً۰ۚ (الانفال۸: ۲۵) ’’اور ڈرو اس فتنہ سے جس کے وبال میں خصوصیت کے ساتھ صرف وہی لوگ گرفتار نہیں ہوں گے جنھوں نے تم میں سے ظلم کیا ہو‘‘۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ’’اللہ خاص لوگوں کے جرائم پر عام لوگوں کو سزا نہیں دیتا جب تک عامتہ الناس کی یہ حالت نہ ہوجائے کہ وہ اپنی آنکھوں کے سامنے برے کام ہوتے دیکھیں اور وہ ان کاموں کے خلاف اظہار ناراضی کرنے پر قادر ہوں اور کوئی اظہار ناراضی نہ کریں۔ پس جب لوگوں کا یہ حال ہوجاتا ہے تو اللہ خاص و عام سب کو عذاب میں مبتلا کردیتا ہے‘‘۔ (ترمذی)
یہ سب اور ان جیسی دیگر بہت سی آیات حقوق العباد کی پامالی سے متعلق ہیں اور ان پر قرآن نے سخت وعید اور اللہ کی ناراضی بیان کی ہے۔ ان میں معاشی ، معاشرتی ، مالی حقوق اور یتامٰی و مساکین کے حقوق شامل ہیں۔ ان کے علاوہ قرآن میں جا بجا والدین کے حقوق، اقربا کے حقوق ، پڑوسیوں کے حقوق، دوستوں، اور مسافروں کے حقوق سے متعلق بھی احکامات ملتے ہیں۔ آج اپنی دُعاؤں کے قبول نہ ہونے کےلیے ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے کہ کہیں دانستہ یا غیر دانستہ ہم حقوق العباد غصب کرنے کے مجرم تو نہیں ہیں؟ کہیں ہم نے کسی بہن ، بھائی یا کسی اور عزیز کے حقِ وراثت پر ڈاکا تو نہیں مارا، کسی پڑوسی کے ساتھ تو زیادتی نہیں کی، اپنے والدین کی نافرمانی کے مرتکب تو نہیں ہوئے، اپنے غریب رشتہ دار کو زندگی کے لیے ترستا ہوا تو نہیں چھوڑا ، کہیں بیوی اور بچوں کے حقوق تو ادا ہونے سے نہیں رہ گئے ۔
یاد رکھیے ! اگر ہم مجرم ہیں تو پھر مجرم کی زندان میں شنوائی کیسی؟ اُس کا کام تو زندان میں دُہائی دینا ہی ہوسکتا ہے۔ زندان سے باہر وہ جب ہی آسکتا ہے جب اُس کی سزا پوری ہوجائے یا اُس کا زندان میں کردار اتنا اچھا ہو کہ سرکار اُس کی سزا میں تخفیف کرنے پر مجبور ہوجائے۔ حقوق العباد سے متعلق مشہور حدیث ’مفلس کون‘ ہمیں ہمیشہ یاد رہنی چاہیے، تاکہ ہم کسی کی حق تلفی کرتے ہوئے ہزار بار سوچیں۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟ صحابہؓ نے عرض کیا ہمارے نزدیک مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہو نہ کوئی مال و متاع۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا، لیکن اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر بہتان لگایا ہوگا، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا اور کسی کو مارا ہوگا۔ پھر اس کے نیک اعمال میں سے ایک (حق دار) کو دیے جائیں گے، پھر دوسرے کو دیے جائیں گے۔ پھر اگر اس کے ذمے حقوق باقی رہ جائیں اور اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں تو ان مظلوموں کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے، پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا‘‘۔ (صحیح مسلم : ۲۵۸۱)
حقوق العباد کی عدم ادائیگی وہ خسارہ ہے جس کی تلافی ممکن نہیں، یہ معاملہ صرف اخلاقی مسئلہ نہیں، یہ آخرت کا سنگین حساب ہے۔ جب تک ہم لوگوں کے حقوق ادا نہیں کرتے، معافی نہیں مانگتے اور ظلم کی تلافی نہیں کرتے، تب تک ہماری عبادتیں بھی خطرے میں رہتی ہیں، کیونکہ اللہ اپنے حق کو تو معاف کر سکتا ہے، مگر بندوں کے حق کا فیصلہ بندوں کے درمیان ہی ہوگا۔
تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہی اندرونی چپقلش ۱۲۵۸ء میں سقوط بغداد کا سبب بنی جب منگولوں نے بغداد پر قبضہ کیا، اسی طرح ۱۴۹۲ء میں سقوطِ اُندلس دیکھنا پڑا جب تقریباً ۸۰۰ سالہ مسلم اقتدار کا خاتمہ ہوا اور ہم نے اُندلس پلیٹ میں رکھ کر عیسائیوں کو پیش کیا۔ اسی طرح ۱۷۵۷ء میں پلاسی کے میدان میں نواب سراج الدولہ کو برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے شکست دی اور یوں برِّ صغیر میں باقاعدہ برطانوی سیاسی بالادستی کی بنیاد پڑی۔ ۱۸۵۷ء میں مغلیہ سلطنت کا خاتمہ ہوا اور برطانوی راج کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ اور پہلی عالمی جنگ کے بعد ۱۹۲۴ء میں عثمانی سلطنت کے خاتمہ نے ایک علامتی اتحاد کی دھجیاں بھی بکھیر دیں۔ ماضی قریب میں دیکھیں تو افغانستان، عراق، کشمیر، لیبیا، شام، یمن، فلسطین ، سوڈان اور اب ایران ہمارے انتشار کی بد ترین مثالیں ہیں۔
یاد رکھیے! جب دل ایک نہ ہوں، نیتیں صاف نہ ہوں، اور ہم ایک دوسرے کے خلاف صف آرا رہیں تو اجتماعیت کے لیے کی گئی دعاؤں میں وہ تاثیر کیسے پیدا ہوگی؟ اختلافِ رائے فطری ہے، مگر دلوں کی دوری اور دشمنی تباہ کن ہے۔ جب تک اُمت اپنے دل صاف نہیں کرے گی، ایک دوسرے کو معاف کرنا نہیں سیکھے گی اور مشترکہ مقاصد پر جمع نہیں ہوگی، تب تک اجتماعیت کے لیے دعا میں وہ قوت پیدا نہیں ہوگی جو آسمان کے دروازے کھول دیتی ہے۔ اتحاد برکت لاتا ہے، اور انتشار دُعاؤں کی قبولیت کے راستے میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔
اس باب میں مفکّرِاسلام ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں:’’جب حکمران اللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ کرنا چھوڑ دیں تو اسلام کا پہلا مضبوط بندھن ٹوٹ جاتا ہے‘‘ ۔ صاحبِ تفہیم القرآن کہتے ہیں کہ ’’ اسلام دراصل ایک مکمل نظام زندگی ہے جس میں عقیدہ، عبادات، اخلاق، معاشرت، معیشت، عدالت، حکومت سب شامل ہیں‘‘۔ جب تک یہ سب چیزیں قائم رہیں، اسلام ایک مکمل نظام کی صورت میں موجود رہتا ہے۔ آج بدقسمتی سے کیفیت یہ ہے کہ مسلم اُمہ یہ بات بھول بیٹھی ہے یا دوسری اقوام کی طرح یاد رکھنا بھی نہیں چاہتی کہ اسلام صرف عبادات کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک مکمل نظام زندگی ہے جو عقیدہ و خیال سے لے کر عبادات تک کا خوشبودار گلدستہ ہے۔جتنی بھی مسلم حکومتیں ہیں کوئی بھی اسلام کے نظام کا عملی نمونہ نہیں ہے۔
ہمارا حال ایسا ہے جیسے کوئی شخص اپنی بیماری سے صحت یابی کے لیے کسی ڈاکٹر سے معائنہ کروائے مگرجب ڈاکٹر اُس کے لیے کوئی نسخہ تجویز کرے تو اُس نسخہ کو پسِ پشت ڈال کر اپنی مرضی کی دوائیں کھاتا رہے اور پھر شفا کی اُمید رکھے۔ اب بتائیےاُسے شفا کہاں سے ملے گی؟ لہٰذا دُعا اور عمل میں ہم آہنگی اتنی ہی ضروری ہے جتنا ڈاکٹر کے تجویز کردہ نسخے کے مطابق دوائی کا استعمال ضروری ہے۔ جب تک فرد اور معاشرہ اللہ کے دیے ہوئے نظام کی تعلیمات کو اپنائے بغیر صرف الفاظ کی دعائیں کرتا رہے گا، قبولیت کی راہیں تنگ رہیں گی۔ اصلاح کا راستہ یہی ہے کہ دین کو صرف عبادت گاہ تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ زندگی کے نظام میں بھی رب کی حاکمیت کو جگہ دی جائے!