’صحابی‘ کے معنی ساتھی اور رفیق کے ہیں اور یہ اصطلاحاً وہ نفوسِ قدسیہ ہیں جنھوں نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت و محبت اختیار کی اور جس دین کو آپ لے کر آئے تھے،اسے نہ صرف خود قبول کیا بلکہ اسے دُنیا میں قائم و نافذکرنے میں اپنا سب کچھ قربان کردیا۔ صحابہؓ اُمت مسلمہ کا سب سے اعلیٰ گروہ، ممتاز طبقہ اور افضل ترین جماعت ہیں۔ یہ حضرات روشنی کے مینار اور پہاڑی کے چراغ ہیں۔ وہ سیرت و کردار کے ہر اُس اعلیٰ معیار پر بھی پورے اُترتے ہیں جو کسی انسان کے لیے مقرر کیا جاسکتا ہے۔ ان کی زندگی کا ہر گوشہ مثالی حیثیت رکھتا ہے خواہ اس کا تعلق معاشرت سے ہو یا معاملات سے، سیاست سے ہو یا عبادات سے۔
صحابہؓ کو ایک طرف تو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انھیں خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کی سعادت میسر آئی۔ وہ قرآن کے اوّلین مخاطب بنے اور ان میں سے بعض کو اس دُنیا میں ہی جنّت کی بشارت دے دی گئی ۔ دوسری طرف ایک اور اعزاز اور سب سے بڑا اعزاز یہ ہے کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا و خوشنودی کا اعلان کیا۔ کسی بندہ کی اس سے بڑھ کر اور خوش قسمتی کیا ہوسکتی ہے کہ فاطر ارض و سما اس سے راضی ہوجائے۔ قرآن میں اس رضا کا صاف اعلان ہے:
اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے، یہی بڑی کامیابی ہے۔ (المائدہ ۵:۱۱۹)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ میں اعلانِ نبوت فرمایا تو جیسے زمین و آسمان اجنبی بن گئے۔ آپ کا یہ اعلان اہلِ قریش کے لیے بالکل غیر متوقع تھا۔ وہ سوچ بھی نہ سکتے تھے کہ ’صادق و امین‘ یکایک ان کے لیے ’خطرہ‘بن جائے گا اور وہ’شرم و حیا کا پُتلا‘ جس کی نگاہیں ہمیشہ نیچی رہتی تھیں، اس قدر ’بے باک‘ ہوجائے گا کہ اپنے آباواجداد کے مذہب تک کو چیلنج کر گزرے گا۔ اس اعلان کا صاف مطلب یہ تھا کہ نہ صرف اہلِ مکہ بلکہ پورے عرب معاشرے سے اعلانِ جنگ کیا جارہا ہے۔ سو وہ ہوا، پورامعاشرہ ایک اکیلی جان کے خلاف اُٹھ کھڑا ہوا۔ ہر طرف سے مخالفت کا طوفان اُمنڈ آیا۔ یہ بڑا سخت وقت تھا۔ ایسے حالات میں اس ’داعیِ حق‘ کی حمایت و نصرت کے لیے کسی شخص کا آواز بلند کرنا موت کے ہم معنی تھا۔ مگر زندہ ضمیر افراد ایک ایک کر کے اپنے سر ہتھیلی پر رکھ کر نکلے۔ اس کے ہمدم، ہمراز، ہمراہی ، پشت پناہ، ساتھی اور مددگار بنے۔ انھوں نے ہرمصیبت کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ ہر آزمائش کا مردانہ وار مقابلہ کیا اور اہل مکہ کے ہرظلم وستم کو بہ رضا و رغبت انگیز کیا۔ انھیں ستایا گیا اور اہل مکہ کے ہرظلم و ستم کو بہ رضا و رغبت انگیز کیا۔ انھیں ستایا گیا، کوڑوں کی ضربیں لگائی گئیں، دہکتے انگاروں پر لٹایا گیا، زنجیریں باندھ کر تپتی ریت پر گھسیٹا گیا، تختۂ دار پر کھینچا گیا، مقتل کی سیر کرائی گئی، لوہے کے گرم گرم اوزاروں سے داغ لگائے گئے، بوجھل پتھروں کے نیچے دابے گئے، غرض وہ سب کچھ ہوا جس کا ظلم کے عنوان سے ایک انسان تصور کرسکتا ہے۔ یہ آزمائشیں ان لوگوں کی راہ کھوٹی نہ کرسکیں۔ ان ’صاحبانِ عزم و استقلال‘ نے کسی قیمت پر بھی داعیِ حق صلی اللہ علیہ وسلم کی مفارقت گوارا نہ کی۔ معیت و مصاحبت کو ترک نہ کیا۔ اور ایک مرتبہ جس رشتۂ رفاقت و اُلفت میں منسلک ہوگئے تھے، پھر اس پر کوئی حرف نہ آنے دیا۔ یہ حضرات آپؐ کے ایسے ساتھی اور رفقا تھے کہ دن رات کا کوئی لمحہ ایسا نہ تھا جس میں آپؐ سے جدا ہوتے ہوں۔ پھر ان صحابہ کرامؓ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محض ’تعلق‘ نہ تھا، ’عشق‘ تھا۔ یعنی ایک طرف تو مقصد کی ہم آہنگی، رفاقت اور تعاون کا تقاضا تھا کہ کسی لمحہ ساتھ نہ چھوڑا جائے اور دوسری طرف ’دل کے تقاضے‘ تھے کہ محبوبِ نظر آنکھوں سے اوجھل نہ ہو۔ اس عشق کے آداب قرآن میں یوں سکھائے گئے ہیں:
اے نبیؐ! کہہ دو کہ اگر تمھارے باپ اور تمھارے بیٹے اور تمھارے بھائی اور تمھاری بیویاں اور تمھارے عزیز و اقارب اور تمھارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور تمھارے وہ کاروبار جن کے ماند پڑجانے کا تم کو خوف ہے اور تمھارے وہ گھر جو تم کو پسند ہیں، تم کو اللہ اور اس کے رسولؐ اوراس کی راہ کی جدوجہد سے عزیز تر ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمھارے سامنے لے آئے۔(التوبہ۹:۲۴)
صحابہ کرامؓ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جو محبت تھی وہ اپنے ماں باپ، بھائی بہن، اعزہ و اقارب، بلکہ دُنیا کے تمام رشتوں سے زیادہ تھی۔ وہ اس بات کو گوارا کرنا تو بڑی بات ہے، اس کا تصور تک نہ کرسکتے تھے کہ حضورؐ کو کانٹا بھی چبھے اور وہ آرام سے اپنے گھر میں بیٹھے رہیں۔ صحابہ کایہ عشق ہمہ گیر تھا۔ آپؐ کی ذات و شخصیت سے بھی تھا اور آپؐ کے پیغام و دعوت سے بھی۔ وہ آپؐ پر ایمان لائے، آپؐ کی دعوت پر لبیک کہا اور آپؐ کی خاطر تکلیفیں اُٹھائیں، ہجرت کی اور ہرمرحلے میں دوش بدوش چلے۔ ان کی یہ محنتیں رائیگاں نہ گئیں۔ اُس کا انھیں بدلہ بھی خوب ملا:
جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے اللہ کی راہ میں گھربار چھوڑے اور جدوجہد کی اور جنھوں نے پناہ دی، اور مدد کی، وہی سچے مومن ہیں۔ ان کے لیے خطائوں سے درگزر ہے، اور بہترین رزق ہے اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور ہجرت کرکے آئے اور تمھارے ساتھ مل کر جدوجہد کرنے لگے، وہ بھی تم میں شامل ہیں۔(الانفال ۸:۷۴)
جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کیے وہ افضل خلائق (تمام مخلوقات میں سب سے افضل) ہیں۔ ان کا بدلہ ان کے ربّ کے یہاں یہ ہے کہ بسنے والے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ہوں گے۔ یہ (بدلہ)ملتا ہے(ہر) اس (شخص) کو جو اپنے ربّ سے ڈرتا ہے۔(البینہ۹۸:۸)
انھوں نے اسلام کی خاطر اپنا تن من دھن سب کچھ لٹا دیا اور یہ ساری متاعِ دُنیا دراصل ہے بھی بے مایہ، اُس معاوضہ کے مقابلہ میں جو انھیں حاصل ہوا:
حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں سے ان کے نفس اور ان کے مال جنّت کے بدلے خرید لیے ہیں۔ وہ اللہ کی راہ میں لڑتے اور مارتے اور مرتے ہیں۔ ان سے (جنّت کا وعدہ) اللہ کے ذمے ایک پختہ وعدہ ہے۔ تورات اور انجیل اور قرآن میں، اور کون ہے جو اللہ سے بڑھ کر اپنے عہد کا پوراکرنے والا ہو۔(التوبہ ۹:۱۱۱)
لیکن اسلام کے لیے اپنی ان عالی خدمات کی بناپر انھیں مطلق یہ احساس نہ تھا کہ وہ بھی ’کچھ‘ ہیں۔ سب کچھ قربان کرنے کے باوجود غرورو تکبر اور بڑائی کا’وسوسہ‘ تک صحابہؓ کے دل میں پیدا نہ ہوا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ یہ سب ’کارنامے‘ ہماری کوششوں کا حاصل نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ کی توفیق کا نتیجہ ہیں۔ جو لوگ کم ظرف ہوتے ہیں وہ کسی مقصد کے لیے اپنی ذرا سی ’خدمت‘ پر پھول جاتے ہیں، اور بہت سارے حقوق و مراعات اپنے لیے محفوظ سمجھتے ہیں۔ مگر ان جان نثاروں کا حال یہ نہ تھا۔ ہرلمحہ سہمے سہمے اور خوفزدہ رہتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری کسی کوتاہی کی وجہ سے یہ خدمات قبولِ بارگاہ نہ ہوسکیں۔ پھر آخرت میں اجرکے ایسے حریص تھے کہ ڈرتے تھے کہ کہیں ہمیں اس دُنیا میں ہی ساری کوششوں کا صلہ نہ مل جائے کہ وہاں خالی ہاتھ رہیں۔ اسی بناپر وہ ہرلمحہ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے اور استغفار کیا کرتے تھے، تاکہ اس جدوجہد میں بربنائے بشریت جو لغزشیں ہوگئی ہوں، ان کی تلافی ہوجائے۔ وہ پکار اُٹھتے:
مالک! ہم ایمان لائے، ہماری خطائوں سے درگزر فرما اور ہمیں آتشِ دوزخ سے بچالے۔ یہ لوگ صبر کرنے والے ہیں، راست باز ہیں۔ فرمانبردار اور فیاض ہیں اور رات کی آخری گھڑیوں میں اللہ سے مغفرت کی دُعائیں مانگا کرتے ہیں۔(اٰل عمرٰن ۳: ۱۶-۱۷)
اور حقیقت میں یہ ممکن بھی نہ تھا کہ جن نفوسِ قدسیہ کی تعلیم و تربیت آغوشِ نبوت میں ہوئی تھی، اس میں رذائلِ اخلاق کی کوئی آلائش باقی رہتی۔ کیونکہ جن بھٹیوں میں سے گزر کر وہ کندن بنے تھے، اس عمل میں غرور، تکبر، حسد اور دوسری بُرائیاں جل کر خاک ہوگئی تھیں۔
صحابہؓ کی نجی اور مجلسی زندگی بھی بہت پاکیزہ تھی۔ کتنے لوگ ہیں جو اپنے ظاہروباطن میں یکساں ہوتے ہیں؟ اور کتنے اشخاص ہیں جو اپنی نجی و انفرادی زندگی میں اسی طرح میزان پر پورے اُترتے ہیں جس طرح اپنی مجلسی و اجتماعی زندگی میں؟ بس ایک صحابہؓ کا گروہ ہے جو اپنی انفرادی اور اجتماعی دونوں زندگیوں میں اس طرح پاکباز ہے کہ متقیون ، مفلحون اور فائزون کے الفاظ انھی پر زیب دیتے ہیں۔ ان کی زندگی کے یہ دونوں پہلو اِن آیات سے جھلک رہے ہیں:
جو اُٹھتے بیٹھتے ہر حال میں خدا کو یاد کرتے ہیں اور آسمان و زمین کی ساخت میں غوروفکر کرتے ہیں۔ (اٰل عمرٰن ۳: ۱۹۱)
اے ہمارے آقا! جو قصور ہم سے ہوئے ہیں ان سے درگزر فرما، جو بُرائیاں ہم میں ہیں انھیں دُور کردے، اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ کر۔(اٰل عمرٰن ۳:۱۹۳)
یقینا فلاح پائی ہے ایمان والوں نے جو:
’مومن مرد اور مومن عورتیں‘ یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں، بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور بُرائی سے روکتے ہیں۔ نماز قائم کرتے ہیں۔ زکوٰۃدیتے ہیں اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرتے ہیں۔ (التوبہ ۹:۷۱)
رحمٰن کے (سچّے) بندے وہ ہیں جو:
ان کی پیٹھیں بستروں سے الگ رہتی ہیں، اپنے ربّ کو خوف اور طمع کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے انھیں دیا ہے اس میں سے (راہِ خدا میں) خرچ کرتے ہیں۔(السجدہ ۳۲:۱۶)
آپؐ کے ربّ کو معلوم ہے کہ آپؐ کے ساتھیوں میں سے کچھ آدمی (کبھی) دو تہائی رات کے قریب اور (کبھی) آدھی رات اور (کبھی) تہائی رات (نماز میں) کھڑے رہتے ہیں۔(المزمل ۷۳:۲۰)
محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسولؐ ہیں۔ اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے حق میں تو انتہائی سخت ہیں، لیکن آپس میں انتہائی رحم دل اور (شفیق) ہیں۔ (اے دیکھنے والے) تم ان کو دیکھتے ہو کہ خدا کے آگے سربسجود ہیں اور خدا کا فضل اور اس کی خوشنودی طلب کر رہے ہیں۔ کثرتِ سجود سے ان کی پیشانیوں پر نشان پڑے ہوئے ہیں۔ ان کے یہی اوصاف تورات میں مرقوم ہیں اوریہی اوصاف انجیل میں پائے جاتے ہیں۔(الفتح ۴۸: ۲۹)
اور کمال یہ ہے کہ معاملہ انفرادی نوعیت کا ہو یا اجتماعی نوعیت کا، غفلت کوشی کسی سمت سے راہ نہیں پاتی۔ اپنے مقصد ِ حیات کو وہ کسی وقت فراموش نہیں کرتے۔ اللہ کی یاد ان کے دلوں سے کسی لمحہ محو نہیں ہوتی۔ ہرآن ربّ العالمین کی رضا اور خوشنودی کی طرف ہی قدم بڑھتے ہیں:
ایسے لوگ جنھیں نہ تجارت غفلت میں ڈالتی، نہ خریدوفروخت اللہ کی یاد سے اور نماز پڑھنے سے اور زکوٰۃ دینے سے (باز رکھتی)۔وہ ڈرتے رہتے ہیں۔ (النور ۲۴:۳۷)
پس سیرت و کردار کا یہی وہ نمونہ ہے جس کے متعلق مخبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ہے: ’’ان میں سے جس کی بھی تم پیروی کرو گے ہدایت پاجائو گے‘‘۔
اُمت مسلمہ کی شناخت اور اس کی پہچان جہاں اس کے اللہ کے پیغام کے علَم بردار ہونے کی حیثیت سے ہے وہیں اس کا دوسرا اور لازمی وصف قرآن نے امَّۃً وَّسطًا کے زریں الفاظ میں واضح کیا ہے:
قُلْ لِلّٰہِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ ط یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ o وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُھَدَآئَ عَلَی النَّاسِ وَ یَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَھِیْدًا o (البقرہ ۲:۱۴۲-۱۴۳) اے نبیؐ! ان سے کہو مشرق اور مغرب سب اللہ کے ہیں۔ اللہ جسے چاہتا ہے سیدھی راہ دکھا دیتا ہے۔ اور اسی طرح تو ہم نے تم مسلمانوں کو ایک ’اُمت ِ وسط ‘ بنایا ہے تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور رسولؐ تم پرگواہ ہو۔
واضح رہے اُمت ِ وسط سے مراد ایک ایسی قوم اور انسانوں کا ایک ایسا گروہ ہے جو فرداً فرداً اور اجتماعی طور پر عدل و انصاف اور توسط اور میانہ روی کی روش پر قائم ہو، اور جس کا تعلق سب انسانوں کے ساتھ یکساں حق اور راستی کا تعلق ہو اور کسی سے بھی ناحق اور ناروا تعلق نہ ہو۔ اس کے برعکس انتہاپسندی وہ روش ہے جو راہِ وسط کی ضد ہے۔
انتہاپسندی کے الفاظ بجاے خود شدت و حدّت کو ظاہر کرتے ہیں۔ انتہا کے لفظی معنی ہیں کسی چیز کی آخری حد یا کنارہ۔ کسی دائرے کا آخری گھیرا، کسی صفحے کی آخری لکیر، کسی وسعت کا احاطہ کلُی، خاتمہ، روک یا آخری سرا، جو اسے کسی دوسری حد اور انتہا سے ممتاز و ممیز کردے۔حدوانتہا مادی شکل کی بھی ہوسکتی ہے اور معنوی بھی۔ نیز حدوانتہا کے واقعتا دو رُخ ہوسکتے ہیں: ایک کم سے کم یا نیچے کی حد یا آخری لکیر سے گر جانا، اور ایک حدونہایت یا غایت وانتہا اُوپر کی طرف، حد سے اُوپر گزر جانا، دائرے سے باہر نکل جانا۔ گویا انتہاپسندی کا اصولاً اطلاق زیادہ سے زیادہ یا کم سے کم دونوں صورتوں پر ہوسکتا ہے، یعنی افراط اور تفریط دونوں شکلوں میں۔ ان دونوں انتہائوں (کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ) کے درمیان یا وسط (بیچ) ، عدل و قسط اور اعتدال کی منزل ہے۔
روزمرہ گفتگو میں جب انتہاپسندی کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے تو اس سے عُرفاً اور عموماً حداعلیٰ و بالا کی طرف ہی بڑھ جانے یا گزرجانے کا اشارہ ہوتا ہے، یعنی سیاسی، معاشی، معاشرتی یا مذہبی کسی بھی معاملے میں حد سے آگے بڑھ جانا۔ حد سے آگے بڑھنے کا رجحان و میلان جسے ہم انتہاپسندی کہتے ہیں، دراصل عدل و اعتدال کو خاطر میں نہ لانے اور وسط و قسط ترک کردینے سے ہی پیدا ہوتا ہے۔ قرآنِ کریم میں اگرچہ ’انتہاپسندی‘ کا لفظ استعمال نہیں ہوا، تاہم انتہاپسندی کی نمایندگی اور اس کی کیفیت و کمیت کا اظہار دوسرے کئی الفاظ و اصطلاحات سے بخوبی ہوجاتا ہے۔ چنانچہ حدِاعتدال سے آگے بڑھ جانا، یعنی انتہاپسندی دراصل حدودشکنی ہے، ظلم و زیادتی ہے اور اسی کو غُلو کہا گیا ہے، یعنی مبالغہ کرنا، حد سے آگے بڑھنا، جب کہ یہی طغیان ، اعتدیٰ، افراط اور عدوان ہے۔۱؎ چنانچہ قرآنِ پاک میں یہ نمایندہ الفاظ و اصطلاحات جہاں جہاں پائے جاتے ہیں ان کے سیاق و سباق سے پتا چلتا ہے کہ انتہاپسندی سے ظلم و زیادتی جنم لیتی ہے، جبروجور بڑھتا ہے، تشدد و تغلب پیدا ہوتا ہے اور پھر اس کے نتیجے میں قتل و غارت گری، فتنہ و فساد پورے معاشرے میں پھیل جاتا ہے جس کا مشاہدہ ہم آج خود اپنے ملک میں آئے دن کرتے رہتے ہیں۔
انتہاپسندی کا میلان و رجحان یا رویہ خواہ دینی، دنیوی کسی معاملے میں ہو یا انسانی زندگی کے کسی بھی شعبے میں پایا جائے بہرحال عقل و نقل کسی اعتبار سے پسندیدہ نہیں، بلکہ قابلِ مذمت اور انتہائی خطرناک ہے اور مختلف درجات میں مہلک نتائج کو جنم دیتا ہے۔ انتہاپسندانہ رویہ بنیادی طور پر بے اعتدالی اور بے راہ روی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ تاہم اور دوسرے بہت سے اسباب کا بھی اس میں عمل دخل ہوتا ہے، مثلاً بعض لوگ طبعاً انتہاپسندانہ طبیعت لے کر پیدا ہوتے ہیں اور انتہاپسندی ان کی سرشت میں ہوتی ہے، جیساکہ سورئہ علق (آیت۶) میں فرمایا گیا: کَلَّا اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰٓی (بے شک انسان حد سے نکل جاتا ہے۔ ترجمہ: تھانوی)۔
انتہاپسندی کی ایک وجہ لاعلمی، ناواقفیت اور جہالت ہے۔ حدود و قیود سے ناواقفیت بجاے خود حدوں کی پامالی اور ان سے تجاوز کا باعث بنتی ہے اور جہالت میں اکھڑپن، ناشائستگی ، عدم برداشت، تشدد اور تغلب سب چیزیں داخل ہیں جو بالآخر انتہاپسندی پر منتج ہوتی ہیں۔ علم، طاقت، عزت، دولت، علم، عقل وغیرہ اگرچہ عطیۂ خداوندی ہیں لیکن اکثر اوقات آدمی اس زعمِ باطل میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ یہ اس کے کسب و محنت کا نتیجہ اور ملکیت ذاتی ہے۔ پھر فخر، غرور، گھمنڈ میں آکر انا ولاغیری کا خبط اس پر سوار ہوجاتا ہے اور وہ انتہاپسندی کی انتہا پر پہنچ کر اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی (النازعات ۷۹:۲۴، میں ہوں رب تمھارا سب سے اُوپر۔ ترجمہ: محمودالحسن) کا دعویٰ کربیٹھتاہے۔ یہی فرعونیت ہے۔ قرآن میں مختلف حوالوں سے فرعون کا تقریباً ۷۴ مرتبہ ذکر آیا ہے لیکن اس کی فردِ جرم میں مرکزی شق ہے: اِنَّہٗ طَغٰی (طٰہٰ ۲۰: ۲۴، ۴۳، النازعات ۷۹:۱۷) کہ وہ حد سے بہت بڑھ گیا تھا۔ انتہا کی انتہا کو پہنچ گیا تھا جس کی مزید تشریح یہ کی گئی کہ وَاِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِی الْاَرْضِ ط وَ اِنَّہٗ لَمِنَ الْمُسْرِفِیْنَo (یونس ۱۰:۸۳) (اور فرعون ملک میں متکبر و متغلب اور (کبروکفر میں) حد سے بڑھا ہوا تھا۔ ترجمہ: ف م جالندھری)۔ اور فرمایا گیا: اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِی الْاَرْضِ (القصص ۲۸: ۴) (بے شک فرعون نے بہت سر اُٹھا رکھا تھا)۔ اس انتہاپسندی کے نتیجے میں اسے نشانِ عبرت بنادیا گیا (النازعات ۷۹: ۲۶)۔
انتہاپسندی کے فروغ و افزایش میں بعض اوقات ذاتی غرض و منفعت، حب جاہ و مال و منصب بھی کارفرما حیثیت اختیارکرلیتی ہے۔ چنانچہ وسائل و ذرائع میں جائز و ناجائز، حق و باطل، صحیح غلط کا امتیاز بے معنی ہوجاتا ہے۔ پھر ضد، ہٹ دھرمی، انتقام، انانیت، انتہاپسندی کی راہوں کو پُرپیچ بناکر انسانیت کو تباہی و ہلاکت سے دوچار کردیتی ہیں۔ اس پہلو سے انتہاپسندی اور دہشت گردی میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا کیونکہ دونوں کا بظاہر نتیجہ ایک ہی ہوتا ہے۔ لہٰذا انسانیت، شرافت اور معاشرتِ باہمی کی خیر اسی میں ہے کہ ان اسباب و محرکات کا بھی قلع قمع کیا جائے جو انتہاپسندی کی راہ ہموار کرتے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ دنیا کو شرفِ انسانیت کا اعزاز، شرافت ِ تہذیب کی خیرات اور تحسین معاشرت کی سوغات صرف اُس وقت نصیب ہوئی، جب حضور سیّدعالم صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں تشریف لائے۔
آج سے ڈیڑھ ہزار برس پہلے، عرب کے جاہلی معاشرے میں جس وقت رسولِؐ رحمت کی بعثت ِ مبارکہ ہوئی تو احوال و کیفیات کا تجزیہ بتاتا ہے کہ اُس معاشرے کی نمایاں ترین خصوصیت انتہاپسندی تھی۔ جس طرح انسانی زندگی کے ہزار رنگ ہیں، انتہاپسندی کے انواع و اقسام بھی بے شمار ہیں۔ تاہم سب دائروں کا مرکز مذہبی انتہاپسندی میں مرتکز تھا۔ مذہبی انتہاپسندی کا سب سے بڑا مظہر شرک و بت پرستی تھا اور شرک و بت پرستی کا محور و مرکز اُس گھر کو بنا دیا گیا تھا جو اصلاً اللہ کا گھر، خدا پرستی کا مرکز اور نشرگاہِ توحید تھا۔ توحید اللہ کی وحدانیت و یکتائی ہے۔ بے مثل، بے عیب، وحدہٗ لاشریک وہی ہے۔ یکتا و تنہا ذات مالک الملک ذوالجلال والاکرام وہی ہے۔ تصورِ حقانیت اور حقیقت میں عدل و قسط کی نمایندہ توحید ہے، جب کہ شرک ایک سے زیادہ بلکہ سیکڑوں کی تعداد میں خدائوں کا یقین خلافِ حقیقت بھی ہے اور ذہنی، تصوراتی انتہاپسندی بھی ہے۔ نیز جہالت و ظلم کی نمایندہ ہے۔ اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ (لقمٰن ۳۱:۱۳)۔
عرب جاہلیت میں انتہاپسندی اگرچہ ذہنی و عملی ہزار شکلوں میں موجود تھی لیکن اس کا سب سے بڑا مظہر مذہبی انتہاپسندی کی صورت میں نمایاں تھا۔ چنانچہ حضور نبی کریمؐ کا اپنے مخاطبین، یعنی مشرکینِ مکہ سے ایک یہی تو مطالبہ تھا کہ وہ صرف ایک کلمہ(توحید/اسلام) کا اقرار کرلیں تو عرب و عجم کی بادشاہی ان کے قدموں میں ہوگی۔ یہ ایک کلمۂ توحید/کلمۂ اسلام ان کی انتہاپسندانہ مشرکانہ زندگی پر خط ِ تنسیخ پھیر رہا تھا۔ وہ بلبلا اُٹھے۔ وہ کلمہ، اس کی دعوت، اس کے اثرات، اس کے تقاضے ان کے مذہبی شب و روز، ان کی معاشرتی زندگی، ان کے معاشی فوائد، ان کی بداخلاقیاں، سب کے لیے سخت نقصان دہ ثابت ہورہے تھے۔ شرک بقول قرآن ظلم ہے، اس لیے مشرکوں ظالموں نے انفرادی طور پر موحد اہلِ ایمان پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے جس سے خود ذاتِ رسالت مآبؐ بھی مستثنیٰ نہ تھی۔ پھر اجتماعی طور پر انتہاپسندی کا مظاہرہ چھے سال بعد ہی مشرکین مکہ، یعنی قریش نے اس طرح کیا کہ نہ صرف حضوؐر بلکہ بنومطلب سمیت پورے خاندانِ بنوہاشم کا معاشی اور معاشرتی مقاطعہ کردیا۔ اس ظالمانہ سلوک اور اجتماعی انتہاپسندی کا سلسلہ تین سال تک برابر جاری رہا۔ ایسے ظالمانہ سلوک اور انتہاپسندی کی اس سے پہلے عرب کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ لیکن جب کفارو مشرکین مکہ کی معاندانہ کوششوں اور ظالمانہ کارروائیوں کے باوجود آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تبلیغی مساعی نے مدینہ میں بھی کامیابی حاصل کرلی تو کفارومشرکین کی انتہاپسندی عروج پر پہنچ گئی، اور انھوں نے دارالندوہ کے ایک خصوصی اجلاس میں آقاے رسالتؐ کے قتل کا منصوبہ بناڈالا۔ واقعہ یہ ہے کہ اگر آپؐ تقدیر و تدبیر الٰہی کے تحت شمشیر بردار مشرکوں کے محاصرے سے ہجرت کی رات بخیروعافیت نہ نکل جاتے تو انھی لمحات میں دہشت گردی کا ایک بہت بڑا واقعہ ظہور پذیر ہوجاتا۔
ہجرتِ نبویؐ کے بعد ریاست مدینہ قائم ہوجانے اور قوت و شوکت حاصل ہونے کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قریشِ مکہ کی انتہاپسندی کا جواب انتہاپسندی سے نہیں دیا، بلک ہ ایک محتاط، معتدل، ترقی یافتہ معاشرے کی داغ بیل ڈالی اور اس کا عملی نمونہ سب سے پہلے خود اُس مدنی معاشرے کی ازسرِنو تبدیلی سے فرمایا جہاں آپؐ نے قدم رنجہ فرمایا تھا اور جہاں انتہاپسندانہ مزاجی حالات نے اس خطے کے باشندوں کے لیے جہنم زار بنا دیا تھا۔ آپؐ کی آمد اور آپؐ کی مساعیِ جمیلہ سے مدینہ طیبہ، جنت نشان قرارِ جاں بن گیا۔ اس خوش گوار تبدیلی کا نقشہ قرآن نے ان الفاظ میں کھینچا ہے:
وَ اذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ کُنْتُمْ اَعْدَآئً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖٓ اِخْوَانًا وَ کُنْتُمْ عَلٰی شَفَا حُفْرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَکُمْ مِّنْھَاط (اٰل عمرٰن ۳:۱۰۳) اور یاد کرو احسان اللہ کا، اپنے اُوپر، جب کہ تھے تم آپس میں دشمن، پھر اُلفت دی تمھارے دلوں میں، اب ہوگئے اس کے فضل سے بھائی بھائی، اور تم تھے کنارے پر ایک آگ کے گڑھے کے، پھر تم کو اس سے نجات دی۔(ترجمہ شیخ الہند)
حضور نبی کریمؐ نے یثرب کی اُس سرزمین کو (جہاں بدامنی، قتل و غارت گری، لاقانونیت کا دور دورہ تھا، جہاں کسی کی جان، مال، عزت و آبرو محفوظ نہ تھی، جہاں اوس و خزرج اور یہودی قبائل ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بنے ہوئے تھے، جہاں نراج کی حکمرانی تھی اور انتہا پسندی عام تھی) امن و امان کا گہوارہ بنادیا۔ عدل و احسان کی حکمرانی سے متمتع کیا۔ ایک قانون اور ایک دستور کا پابند کیا۔ ہرقسم کی انتہاپسندی کو ممنوع ٹھیرایا ۔ خوں آشام قبائل کو شیروشکر کیا، نراج کو راج سے بدلا، ایک مرکز عطا کیا۔ اخلاق، مروّت، اخوت، اعتدال کی فضا قائم کی۔ پوری بستی کے حدود کو حرم قرار دیا اور ایک شہربے مایہ کو تاجدارِ مدینہ نے مدینہ بناکر مفتخر [فخر کرنے والا] کیا۔ اب جو اُمت تشکیل پائی وہ ’اُمت ِ وسط‘ قرار دی گئی۔ وَ کَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا (البقرہ ۲:۱۴۳) (اور اس طرح ہم نے تم کو اُمت وسط /اُمت معتدل بنا یا ہے)۔ اُمت معتدل، موضح القرآن کے مطابق: ’’ وہ اُمت ہے جس میں نہ افراط ہے نہ تفریط۔ عیسائیوں نے افراط اختیار کی کہ حضرت عیسٰی ؑ کو خدا کا بیٹا بنا دیا اور یہودیوں نے تفریط دکھائی کہ ان کی پیغمبری کو بھی نہ مانا۔ اُمت معتدل نے نہ ان کو حد سے بڑھایا نہ گھٹایا بلکہ ان کے درجے پر رکھا‘‘(حاشیہ ف م جالندھری، ص ۳۵)۔ حاشیۂ عثمانی کے مطابق: وسط، یعنی معتدل کا یہ مطلب ہے کہ یہ اُمت ٹھیک سیدھی راہ پر ہے جس میں کچھ بھی کجی کا شائبہ نہیں اور افراط و تفریط سے بالکل بری ہے‘‘ (ص ۲۷)۔ علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں: الوَسَط (بفتح السین) اس چیز کو بھی کہتے ہیں جو دو مذموم اطراف کے درمیان واقع ہو، یعنی معتدل جو افراط و تفریط کے بالکل درمیان ہوتا ہے۔ نیز فرماتے ہیں کہ معنی اعتدال کی مناسبت سے یہ لفظ عدلٌ نصفۃ سوائٌ کی طرح ہر عمدہ اور بہترین چیز کے لیے بولا جاتا ہے۔ چنانچہ اس معنی میں اُمت مسلمہ کے متعلق فرمایا گیا۔ وَ کَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا (البقرہ ۲:۱۴۳)۔(راغب اصفہانی،ص ۹۷۴)
یہ کہنا گویا عین حقیقت ہے کہ اُمت مسلمہ یا مسلمانوں کا بحیثیت اُمت ِ وسط دائرۂ حیات اعتدال و توسط کے گرد ہی گھومتا ہے اور زندگی کے تمام شعبوں میں کارفرمائی میانہ روی کی ہے، تاکہ انفرادی و اجتماعی زندگی کا ہر گوشہ توازن و ہم آہنگی سے ہم کنار ہو اور کسی قسم کی بے اعتدالی، ناروا زیادتی، غلو اور انتہاپسندی سرزد نہ ہونے پائے۔ دین اسلام کی یہ ایسی بنیادی صفت ہے کہ حضور اکرمؐ سے پہلے آنے والے تمام انبیاؐ و رسل بھی اس اہم مقصد کے لیے کوشاں رہے کہ عدل و قسط قائم ہو، اور کتب و صحائف کا نزول بھی اسی غرض سے ہوا کہ لوگ راستی و میانہ روی کو اپنی زندگیوں میں جاری و ساری کریں (ملاحظہ ہو سورئہ حدید ۵۷،آیت ۲۵)۔ آپؐ کا لایا ہوا دین تو سرتاسر عدل و قسط، اعتدال و اقتصاد (میانہ روی)کا آئینہ دار ہے۔ عقائد،عبادات، معاملات، اخلاقیات کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہے جہاں اس کی کارفرمائی نہ ہو یا اسے نظرانداز کردیا گیا ہو۔ درحقیقت اس دین فطرت میں ظاہروباطن کا ہرجلوہ، اور فکروعمل کا ہر ذرّہ مبنی برعدل ہے، اور جلوہ ہاے نبوت سے ہم آہنگ ہے۔ بروایت حضرت عبداللہ بن سرجسؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’حسنِ سیرت (نیک چال چلن)، بُردباری اور میانہ روی نبوت کے اجزا میں سے ۲۴واں حصہ ہے‘‘۔(ترمذی، مشکوٰۃ)
قرآن و حدیث میں مسئلہ زیربحث کے دونوں پہلوئوں پر جگہ جگہ احکام و ہدایات سے نوازا گیا ہے۔ اس پہلو سے بھی کہ عدل و اعتدال، اقتصاد و میانہ روی اختیار کی جائے جو اس بات کو مستلزم ہے کہ فکروعمل کی ہرچیز اور نظام و انتظام کا ہر عنصر اپنے اپنے دائرے میں ٹھیک ٹھیک کام کرے اور مطلوبہ مثبت نتائج پیدا کرے، دوسری طرف کسی معاملے میں حدود سے تجاوز نہ کیا جائے۔ اعتدیٰ، عدوان، طغیان و عصیان سے پرہیز کیا جائے کہ یہیں سے غلو، تجاوزِ بے جا اور انتہاپسندی کی مختلف جہتیں پیدا ہوجاتی ہیں جو اپنی سنگینی میں دہشت گردی سے مماثل ہوجاتی ہیں۔
اسلام کا مزاج بہرحال اور بحیثیت مجموعی، قسط و اعتدال سے ہی عبارت ہے کہ یہ تعمیرباطن بھی کرتا ہے اور ظاہر کو بھی درست رکھتا ہے۔ حکم ہے: اِعْدِلُوْا قف ھُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی(المائدہ ۵:۸) ’’عدل کرو، یہ خدا ترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے‘‘۔ دل میں کھوٹ اور ناجائز خواہشات ہی بے راہ روی و بے اعتدالی کی پرورش کرتی ہیں۔ اسی لیے فرمایا گیا: فَلَا تَتَّبِعُوا الْھَوٰٓی اَنْ تَعْدِلُوْا (النساء ۴:۱۳۵) ’’لہٰذا اپنی خواہشِ نفس کی پیروی میں عدل سے باز نہ رہو‘‘۔ اللہ تو بہرصورت عدل کی ہی تلقین کرتا ہے:’’ان سے کہو، میرے رب نے تو راستی و انصاف کا حکم دیا ہے‘‘۔ (الاعراف ۷: ۲۹)۔ اس لیے اہلِ ایمان کو اس کی تابعداری لازم ہے ۔کیونکہ اللہ ایسے لوگوں کو پسند کرتا ہے، ان سے محبت رکھتا ہے۔ اِِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَo (الحجرات ۴۹:۹، المائدہ ۵:۴۲، الممتحنہ ۶:۸)۔ سورئہ لقمان میں فرمایا گیا کہ وَاقْصِدْ فِیْ مَشْیِکَ (لقمٰن ۳۱: ۱۹)’’چال میں میانہ روی اختیار کرو‘‘۔
یہ میانہ روی زندگی کے ہرمعاملے، ہر گوشے میں مطلوب و محمود ہے۔ ارشاد رحمۃ للعالمینؐ ہے: ’’حضرت حذیفہؓ سے روایت ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:خوش حالی میں میانہ روی کیا ہی خوب ہے، ناداری میں اعتدال کی روش کیا ہی اچھی ہے، اور عبادات میں میانہ روی کیا ہی بہتر ہے‘‘(مسند بزاز، کنزالعمال)،(عبدالغفار حسن،انتخابِ حدیث، ص ۶۶)۔ یہ روش، یہ رویہ ہرلحاظ سے بہتر ثابت ہوتا ہے۔ یہ ارشاد رسالت مآب کیسا معنی خیز ہے۔ آپؐ نے فرمایا: دین آسان ہے۔ کوئی شخص دین سے زورآزمائی نہ کرے کیونکہ یہ دین اس پر غالب آکر رہتا ہے۔ اس لیے سیدھے رہو۔ میانہ روی اختیار کرو اور ہشاش بشاش رہو(ایضاً، ص ۶۶، ۶۷)۔ ایک اور حدیث قدسی میں ہے کہ ’’مومن کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو ذلیل کرے‘‘۔ صحابہؓ نے دریافت کیا کہ مومن اپنے آپ کو ذلیل کیسے کرتا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: ناقابلِ برداشت (طاقت سے زیادہ) آزمایش میں خود اپنے آپ کو ڈالتا ہے۔ (ترمذی، مشکوٰۃ)
اس لیے یہ بات طے ہے کہ انصاف اور اعتدال و میانہ روی ترک کرنے سے ہی انتہاپسندی کو فروغ ملتا ہے۔ انتہاپسندی، اعتدیٰ، عدوان، ہرصورت میں منع ہے۔ چنانچہ مختصر الفاظ میں مگر جامع انداز میں یہ حکم دے دیا گیا کہ وَ لَا تَعْتَدُوْا ’’حد سے آگے نہ بڑھو‘‘ (المائدہ ۵:۸۷)۔ سورئہ بقرہ میں یہ مضمون کئی جگہ بیان ہوا ہے۔ایک جگہ ارشاد ہے: تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ فَلَا تَعْتَدُوْھَا (البقرہ۲:۲۲۹) ’’یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں سو اس سے آگے مت بڑھنا‘‘۔ اور دوسری جگہ فرمایا گیا: اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْمَعْتَدِیْنَo (البقرہ۲:۱۹۰) ’’بے شک اللہ حد سے آگے بڑھ جانے والوں کو پسند نہیں کرتا‘‘۔ انتہاپسندی کی مذمت دوسرے الفاظ میں اس طرح کی گئی: وَ لَا تَطْغَوْا ط اِنَّہٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌo(ھود۱۱:۱۱۲) ’’اور حد سے تجاوز نہ کرنا، اللہ تمھارے سب اعمال کو بخوبی دیکھ رہا ہے‘‘۔ یہی حکم سورئہ طٰہٰ میں مکرر دیا گیا (طٰہٰ۲۰:۸۱)۔ حدودسے تجاوز کرنے والوں (للطاغین) سرکشوں کو بُرے ٹھکانے کی وعید سنائی گئی ہے (صٓ۳۸:۵۵)۔ یہی وعید ِجہنم سورئہ نبا(۷۲:۲۲) میں بھی مذکور ہے۔ مذہبی انتہاپسندی تو اور بھی زیادہ دین و دنیا دونوں جگہ خسارے کا باعث ہوسکتا ہے۔ لہٰذا یہود و نصاری، اہلِ کتاب کو سرزنش کرتے ہوئے گویا اہلِ ایمان کو بھی تنبیہ کردی گئی کہ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ (النساء۴:۱۷۱) ’’اپنے دین کے معاملے میں حد سے آگے نہ بڑھو، غلو سے کام نہ لو‘‘۔ نیز دین میں غُلو یا انتہاپسندی میں دوسرے لوگوں کے آلۂ کار بننے سے بھی گریز کرنا چاہیے۔ یہ بھی احتیاط ضروری ہے کہ کسی ظلم و زیادتی اور انتہاپسندی کے کاموں میں نہ تو کسی سازش اور منصوبہ بندی کا حصہ بنیں۔ فَـلَا تَتَنَاجَوْا بِالْاِِثْمِ وَالْعُدْوَانِ (المجادلہ۵۸:۹)، اور نہ اس قسم کے کاموں میں مدد و تعاون بہم پہنچائیں۔
تعلیماتِ نبویؐ سے تو یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مذہبی انتہاپسندی کی وہ شکل و صورت جو بظاہر بڑی معصوم ہے اور جس میں کسی دوسرے کا نقصان بھی نہیں ہے، لیکن بہرحال اعتدال سے تجاوز اور غلو پایا جاتا ہے، اس لیے وہ بھی شرعاً ممنوع ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر اس قسم کی کسی بے اعتدالی کی خبر ملتی تو آپؐ اس کا فوری نوٹس لیتے اور اصلاحی تدابیر اختیار فرماتے تھے۔ چنانچہ ایک صحابی حضرت عبداللہ بن عمر بن العاصؓ کے بارے میں جب ہمہ تن مصروفِ عبادت ہونے کی اطلاع ملی تو ان کو فوراً بلا بھیجا۔ بخاری کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے عبداللہ! کیا مجھے یہ اطلاع نہیں ملی ہے کہ تم دن کو روزہ رکھتے ہو اور رات کو قیام کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، ایسا ہی کرتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: یہ طرزِعمل اختیار نہ کرو۔ روزہ رکھو اور افطار بھی کرو، رات کو تہجد بھی پڑھو اور آرام بھی کرو۔ اس لیے کہ تمھارے بدن کا بھی تم پر حق ہے، تمھاری آنکھ کا بھی تم پر حق ہے، تمھاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے، تمھارے مہمان کا بھی تم پر حق ہے(بخاری، مشکوٰۃ)،(عبدالغفار حسن،انتخابِ حدیث،ص ۶۸-۶۹)
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بوڑھے کو دیکھا کہ وہ اپنے دو بیٹوں کے درمیان پائوں گھسیٹتے ہوئے جا رہا ہے۔ آپؐ نے دریافت فرمایا: اسے کیا ہوگیا ہے؟ لوگوں نے جواب دیا کہ اس نے نذر مانی ہے کہ بیت اللہ کا سفر پیدل کرے گا۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص کے اپنے آپ کو اذیت دینے سے بے نیاز ہے۔ اور اسے حکم دیا کہ وہ سواری پر سوار ہوکر اپنا سفر پورا کرے۔(ایضاً)
بخاری و مسلم کی ایک اور حدیث میں حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ ایک مسجد (البیت) میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ چھت کے کنڈوں سے بندھی ایک رسی لٹک رہی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ماھذا الحبل؟ یہ رسی کیسی ہے؟ آپؐ کو بتایا گیا کہ یہ (ایک عورت) زینب نے اپنے لیے لٹکا رکھی ہے کہ جب تھکن سے اونگھ آنے لگتی ہے تو اپنے آپ کو اس سے لٹکا لیتی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا: اس کو فوراً کھول ڈالو۔ تم میں کوئی اس وقت تک نماز پڑھے جب تک کہ نشاط و فرحت رہے، جب اونگھ آنے لگے تو اسے چاہیے کہ سوجائے۔(امام نووی،ریاض الصالحین، ص ۵۲)
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ بعض اوقات انتہاپسندی کا ارتکاب لاعلمی میں یا نادانستہ طور پر بھی ہوجاتا ہے، اور بعض اوقات کچھ نادیدہ محرکات وقتی جذبات و احساسات کے تحت بھی انتہاپسندی سرزد ہوجاتی ہے۔ حاصلِ گفتگو یہ کہ انتہاپسندی اور غلو چاہے اس کی نوعیت ، شکل اور اظہار کتنا ہی مختلف کیوں نہ ہو، دین کے نزدیک بہرحال پسندیدہ اور مستحسن نہیں، بلکہ اس کے خاتمے کے لیے شعوری کوششوں کی ضرورت ہے اور مذہبی انتہاپسندی کا امتناع تو بدرجہ اولیٰ لازم ہے۔ مگر یہ احتیاط لازم ہے کہ انتہاپسندی کی نوعیت و ماہیت کو پہلے سمجھ لیا جائے۔ اس لیے کہ کسی مقصد کے لیے جدوجہد، تحریک، ترغیب اور تخریب کے خطوط بہت قریب سے گزرتے ہیں اور دفع و استیصال کے لیے پہلے حکمت و تدبیر اور تحمل کو کام میں لانا چاہیے اور آخری چارئہ کار کے طور پر طاقت کا استعمال کرنا چاہیے، کیونکہ اس بات کا بہت اندیشہ ہے کہ نشۂ طاقت ہی کہیں خرابی کا باعث نہ بن جائے ع
صاحب نظراں نشۂ قوت ہے خطرناک
____________________________________________________________
۱- ملاحظہ ہو: ظلم حد سے گزرنا ہی ہے: وَمَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰہِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَہٗ ط (الطلاق ۶۵:۱) وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰہِ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ(البقرہ ۲:۲۲۹) ۔ غلو بھی حد سے گزرنا۔ غلا یغلو غَلواً وعُلُواً، مبالغہ کرنا، حد سے بڑھنا (المنجد، ص ۸۸۶)۔ قرآن میں ہدایت ہے: یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ(النساء ۴:۱۷۱)۔ اور فرمایا گیا: قُلْ یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ (المائدہ ۵:۷۷)۔ طغٰی طغا طغی طغیاً وطغیاناً طُغواً وطغوا وطغواناً- جاوزالقدر والحد۔ حد اور اندازہ سے تجاوز طغیان ہے۔ سورئہ طٰہٰ میں حضرت موسٰی ؑ کو فرعون کی طرف یہ کہہ کر بھیجا گیا: اِذْھَبْ اِلٰی فِرْعَوْنَ اِنَّہٗ طَغٰے (طٰہٰ ۲۰:۲۴)’’تم فرعون کے پاس جائو کہ وہ حد سے زیادہ بڑھ چکا ہے‘‘۔ گویا حدود فراموش، حدود شکن، سرکش ہوگیا ہے۔ پھر حضرت موسٰی ؑ و ہارون ؑ دونوں کو فرعون کے پاس جانے کا حکم دوبارہ انھی الفاظ میں مذکور ہے۔ اِذْھَبَآ اِلٰی فِرْعَوْنَ اِنَّہٗ طَغٰی (طٰہٰ ۲۰:۴۳)۔ یہی تکرار سورۃ النازعات میں بھی (۷۹:۱۷) ہے۔ حدودشکنی، سرکشی انسان کی سرشت میں داخل ہے۔کَلَّا ٓاِِنَّ الْاِِنْسَانَ لَیَطْغٰی(العلق ۹۶:۶) ۔ قومِ ثمود و فرعون کا جرم سرکشی و حدود شکنی ہی تھا۔ الَّذِیْنَ طَغَوْا فِی الْبِلاَد(الفجر ۸۹:۱۱) جو فتنہ و فساد کا موجب ہوتا ہے۔ فَاَکْثَرُوْا فِیْھَا الْفَسَادَ (الفجر ۸۹:۱۲) ۔ اس لیے حکمِ ربانی یہ ہے روزمرہ باتوں (مثلاً کھانے پینے) میں بھی حدود سے تجاوز نہ کیا جائے۔ وَ لَا تَطْغَوْا (طٰہٰ ۲۰:۸۱) اعتدیٰ اور عداون۔ دونوں کا مآخذ و مادہ ایک ہے عدو (ع دو)۔ علامہ راغب اصفہانی نے لکھا ہے کہ العدو کے معنی حد سے بڑھنے اور باہمی ہم آہنگی نہ ہونا ہے۔ اگر اس کا تعلق دل کی کیفیت سے ہو تو یہ عداوۃٌ اور معاداۃٌ کہلاتی ہے اور اگر رفتار سے ہو تو اسے عدوہٌکہا جاتا ہے۔ اور اگر عدل و انصاف میں خلل اندازی کی صورت میں ہو تو اسے عُدوان اور عدوٌ کہا جاتا ہے۔ (اصفہانی، امام راغب، مفردات القرآن، محمد عبدہٗ الفلاح الفیروز پوری، المکتبۃ القاسمیہ، لاہور۔ طبع اوّل، ۱۹۶۳ء، ص ۶۰۳)۔ اعتداء ، حد سے آگے بڑھنا یا بقول علامہ راغب حق سے تجاوز کرنے کے ہیں (ایضاً)۔ حکم ہے : تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ فَلَا تَعْتَدُوْھَا (یہ اللہ کی (مقرر کی ہوئی) حدیں ہیں ان سے تجاوز نہ کرو (البقرہ ۲:۲۲۹)۔ حد سے نکلنے والے عادون (مومنون ۲۳:۷) اور معتدین ہیں جن کو اللہ پسند نہیں کرتا (البقرہ ۲:۱۹۰، نیز المائدہ ۵:۸۷، الاعراف ۷:۵۵)۔ ظلم و زیادتی میں حد سے گزرنا عدوان ہے۔ زیادتی کا بدلہ لینے میں بھی عدوان سے پرہیز کا حکم دیا گیا (البقرہ ۲:۱۹۳، النساء ۴:۳۰)۔ بقول امام راغب الافراط کے معنی حد سے بہت زیادہ تجاوز کرجانے کے ہیں۔ اور سورئہ کہف (آیت ۲۸) میں یادِ الٰہی سے غفلت میں پڑنے والا خواہشِ نفس کی پیروی کرتا ہے اور اس کا کام حد سے بڑھ جانے والا (وکان امرُہٗ فُرطاً) ہے (ایضاً، ص ۶۹۸)۔ یعنی افراط و تفریط میں حد سے بڑھا ہوا۔ (ایضاً)
مقالہ نگار شعبہ اسلامی تاریخ، جامعہ کراچی میں پروفیسر رہے۔