قائداعظم محمد علی جناحؒ نے قیام پاکستان سے تین روز قبل ۱۱؍اگست۱۹۴۷ء کو پہلی دستور ساز اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے جس چیز پر سب سے زیادہ زور دیا تھا، وہ مالی خیانت، معاشی بدنظمی، اقرباپروری اور علاقہ پرستی تھی۔ افسوس کہ ہمارے اہل سیاست و دانش نے اس سارے سبق کو بھلا کر مذکورہ تقریر کا صرف ایک جملہ یاد کر لیا اور یہ سبق دیا کہ قائداعظم نے اس اجلاس میں بس ایک ہی بات فرمائی تھی۔ اس طرح باقی تمام ہدایات کو نظر انداز کرنے کے لیے اس رویے یا پردے کے پیچھے مالی بدنظمی اور بے ضابطگی بہت سے اصحابِ اختیار نے اپنا حق سمجھ لیا۔
پاکستان کے آڈیٹر جنرل کی آڈٹ رپورٹ بہ سلسلہ سال ۲۰۲۵ء-۲۰۲۶ء سے چند حوالہ جات کا اگر ایک مختصر جائزہ لیں، تو قومی اخبارات کی رپورٹوں کے مطابق معلوم ہوتا ہے کہ وفاقی وزارتوں، ڈویژنوں اور خودمختار اداروں میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگی، کمزور نگرانی، عدم وصولی یا غیر مجاز اخراجات دیکھنے میں آئے ہیں۔
پائے دار ترقیاتی اہداف کے حصول کے پروگرام (SAP)، جسے ارکانِ پارلیمنٹ کی ترقیاتی اسکیمیں کہا جاتا ہے، کے تحت وفاقی اور صوبائی ترقیاتی منصوبوں کے لیےمختص۷۵؍ ارب روپے کے استعمال پر رپورٹ نے بڑا سنجیدہ سوال اٹھایا ہے۔ آڈٹ کے مطابق، کابینہ ڈویژن، منصوبوں پر عمل درآمد کرنے والے اداروں سے لازمی ماہانہ پیش رفت رپورٹیں اور تکمیل کے سرٹیفکیٹ حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ اسکیم کے لحاظ سے اور علاقے کے لحاظ سے اعداد و شمار کی عدم دستیابی کے باعث اس بات کی تصدیق نہ کی جاسکی کہ فنڈز کی تقسیم اور استعمال متوازن علاقائی ترقی کے مقصد کے مطابق تھا یا نہیں۔ متعدد آڈٹ اعتراضات اٹھانے اور یاد دہانیوں کے باوجود کابینہ ڈویژن نے کوئی جواب نہیں دیا۔ آڈیٹروں نے سفارش کی ہے کہ ارکان پارلیمنٹ کو دی جانے والی ترقیاتی اسکیموں کے فنڈز کی تقسیم اور استعمال کی نگرانی کے لیے ایک شفاف مرکزی ڈیجیٹل مانیٹرنگ نظام قائم کیا جائے۔
رپورٹ میں اقتصادی امور ڈویژن کے خلاف بڑے مالی اعتراضات سامنے آ رہے ہیں۔ جن کے مطابق، ۳۰؍ جون۲۰۲۵ء تک بیرونی قرضوں کے اصل زر اور ایکسچینج رِسک واجبات کی مد میں۱ء۹۲۷؍ کھرب روپے مختلف ریاستی اداروں سے وصول نہ کیے جا سکے، اور اس پر ظلم یہ کہ انتظامیہ نے آڈٹ اعتراضات کا کوئی جواب نہیں دیا۔
اگرچہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن، وزارت سائنس اور ٹکنالوجی اور تعلیم ڈویژن کے بارے میں مجموعی طور پر اعتراضات پر مشتمل پیراگراف درج کیے گئے ہیں، لیکن یہاں پر قائداعظم یونی ورسٹی کے حوالے سے نشان دہی کی جارہی ہے کہ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (CDA) کی جانب سے قائداعظم یونی ورسٹی کو الاٹ کی گئی۱۷۰۹؍ ایکڑ اراضی میں سے۲۹۸؍ ایکڑ پر گذشتہ تقریباً ۵۰ برس سے نجی قابضین کا غیر قانونی قبضہ پوری قوت سے برقرار ہے۔ یونی ورسٹی انتظامیہ کو بار بار ہدایت کی گئی کہ وہ اس اراضی کو واگزار کرانے کے لیےمؤثر اقدامات کرے۔ کچھ پیش قدمی نہیں ہوئی۔ پھر یونی ورسٹی نے منہا کردہ انکم ٹیکس کی مد میں۱۷۷ ملین روپے بھی سرکاری خزانے میں جمع نہیں کرائے۔اس کے علاوہ ۳۵۶ ملین روپے کے اسکالرشپ فنڈز خرچ کرنے کے بجائے اس رقم سے سرمایہ کاری کی گئی۔ اس پر یونی ورسٹی کا موقف ہے کہ ’’یہ فنڈز عطیہ دہندگان کی شرائط کے مطابق استعمال کیے جا رہے ہیں‘‘۔ اسی طرح قائداعظم یونی ورسٹی کے مختلف مراکز کی جانب سے بغیر منظور شدہ پالیسی کے ۲۸۱ ملین روپے کی سرمایہ کاری سے متعلق اعتراض پر یونی ورسٹی نے کوئی جواب فراہم نہیں کیا___ اس کے علاوہ، لاہور کے سینٹر آف ایکسی لینس اِن مالیکیولر بائیولوجی نے مالی سال کے اختتام پر غیراستعمال شدہ فنڈز حکومت کو واپس کرنے کے بجائے ۵۰۰ ملین روپے کی سرمایہ کاری کر دی، جس کی کوئی وضاحت پیش نہیں کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق داسو ہائیڈرو پاور، دیامر بھاشا ڈیم اور نیلم جہلم ہائیڈرو پاور منصوبے طویل المدتی منصوبہ بندی کی ناکامیوں کے باعث قومی خزانے پر تقریباً۳۹ کھرب روپے کا بوجھ بنیں گے۔ توانائی کے یہ اہم منصوبے صرف مالی سال ۲۵-۲۰۲۴ء کے دوران ہی براہِ راست نقصانات، آمدنی میں کمی اور۳۵۸؍ارب کے خسارے کا سبب بنے چلے آ رہے ہیں۔ داسو منصوبے میں لاگت ۲۵۷ فی صد بڑھ گئی۔ جو تخمینہ۴۸۶؍ارب روپے تھا یہ بڑھ کر ۷۳۷,۱؍ارب ہو گیا ہے۔ دیامربھاشاڈیم کے منصوبے نے بھی بری طرح جکڑ لیا ہے جس کا بجٹ۴۷۹؍ارب تھا، لیکن اب بجلی بنانے کے لیے۱۴۲۴؍ارب مزید چاہئیں۔ توانائی کے یہ اہم منصوبے اس ایک مالی سال ۲۵-۲۰۲۴ء کے دوران ہی براہِ راست نقصانات، آمدنی میں کمی اور غیر منظور شدہ بجٹ اضافوں کی مد میں۳۵۸؍ارب روپے سے زائد کے مالی خسارے کا سبب بنے ہیں، جب کہ اس سے پہلے کا خسارہ الگ سے موجود ہے۔
بڑھتی لاگت کے ساتھ ساتھ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ بھی بھاری آپریشنل نقصانات کا شکار ہے۔ رپورٹ کے مطابق منصوبے کو سالانہ ۲۹؍ ارب روپے کا خالص نقصان ہو رہا ہے، جب کہ پلانٹ کی بندش کے باعث کاروباری تعطل کا نقصان ۹۹؍ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ مزید برآں، ٹیرف کی منظوری نہ ملنے کے باعث۳۴۶ء ۷۷ ؍ارب روپے کی آمدنی کا خسارہ بھی سامنے آیا ہے، جس سے نیلم جہلم منصوبہ شدید مالی بحران کا شکار ہے۔ اس وقت اس کے موجودہ واجبات، موجودہ اثاثوں سے ۸۹۴ء۳۰۷ ؍ارب روپے زیادہ ہیں۔داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کو عمل درآمد میں شدید ناکامیوں کا سامنا ہے۔
آڈٹ کے مطابق منصوبے کی عملی پیش رفت صرف ۲۶ء۰۸ فی صد ہے، حالانکہ اصل مالی مختص رقم کا ۸۳ء۸۴ فی صد استعمال کیا جا چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں منصوبے کی تکمیل کی مدت۲۰۱۹ءسے بڑھ کر نومبر۲۰۲۸ء تک جا پہنچی ہے۔ جون۲۰۲۵ء تک پہلے مرحلے پر ۴۱۲ء۲۸۹ ؍ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، جب کہ ترقیاتی بجٹ کی مجموعی مختص رقم ۶۹۵ء۰۶۶ ؍ارب روپے تھی۔ عملی سطح پر منصوبہ۱۱سال گزرنے کے باوجود مطلوبہ تمام زمین حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔
پاکستان ریلویز کو مالی سال ۲۵-۲۰۲۴ء کے دوران۶۱ ؍ارب روپے سے زائد کا خالص نقصان برداشت کرنا پڑا، جو گذشتہ مالی سال کے مقابلے میں۹ ؍ارب روپے یا۱۹ء۱۱ فی صد زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال ۲۵-۲۰۲۴ءمیں پاکستان ریلویز کو ۶۰ ارب روپے کا آپریٹنگ خسارہ ہوا،جب کہ آپریٹنگ نقصان کی شرح۶۵ فی صد تک پہنچ گئی۔گذشتہ پانچ مالی برسوں کے اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ مالی بحران مسلسل شدت اختیار کر رہا ہے۔ مالی سال۲۵-۲۰۲۴ء میں مجموعی آمدنی ۹۲ء۷؍ارب روپے رہی،جب کہ کل آپریٹنگ اخراجات تقریباً ۱۵۳؍ارب روپے تک پہنچ گئے۔ آڈٹ کے دوران پاکستان ریلویز اور اس کی ذیلی کمپنیوں کے خلاف مجموعی طور پر ۳۴ء۴۲ ؍ارب روپے کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی۔ اس پس منظر میں ریلوے کی طویل المدتی منافع بخش ہونے کی صلاحیت شدید متاثر نظر آتی ہے۔
یہ تو محض چند مثالیں ہیں، اگرچہ ان کی مزید تفصیلات دیکھی جائیں تو ہوش ربا صورت سامنے آتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے مالیاتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے ڈیجی ٹلائزیشن ناگزیر ہے۔ ان بدعنوانیوں اوربدانتظامیوں کا ایک بڑا سبب کاغذی نظام کے تحت لین دین ہے۔ اگر سرکاری خدمات کو مکمل طور پر ڈیجی ٹلائز کیا جائے تو بدعنوانی اورسُست روی کو نمایاں طور پر کم کیا جاسکتاہے۔ سرکاری دفاتر میں فائلیں ضائع کردی جاتی ہیں۔ بدعنوانی اور رشوت ستانی کو فروغ دینے کے لیے شہریوں اور صارفین کو باربار چکّر لگانے پر مجبور کیا جاتاہے۔ بغیر رسیدکے لین دین کیا جاتاہے، جس میں رشوت ستانی کا بڑا پھاٹک کھلا رہتاہے۔ اس لیے سرکاری مالی خدمات کو آئن لائن منتقل کیا جائے، وصولیوں میں بہتری لائی جائے۔ مالی لین دین میں فراڈ کی روک تھام کی جائے۔
_______________