جولائی ۲۰۲۶

فہرست مضامین

آزاد کشمیر: کشیدہ صورتِ حال اور تقاضے

سلیم منصور خالد | جولائی ۲۰۲۶ | اشارات

Responsive image Responsive image

ہر معاشرے کی سماجی اور قومی زندگی میں شہریوں کو متعدد مشکلات اور مختلف چیلنجوں کا سامنا ہوتا ہے۔ سنجیدہ، دوراندیش اور سمجھ دار لوگ اور ان کی قیادتیں، یقینا ان مشکلات کو دور کرنے اور معاشرے میں پھیلی اُلجھنوں کا مداوا کرنے کے لیے بہتر سے بہتر حل تلاش کرنے کے لیے ہمیشہ کوشاں رہتی ہیں۔ صبرو تحمل، فکری بیداری، نظم و ضبط اور دلیل کے ساتھ راستہ بناتی اور حصولِ منزل کی شاہراہ پر چلتی ہیں۔

اس کے برعکس عجلت پسند قوتیں، معاشرے کی ان ہی کمیوں اور کمزوریوں کو لے کر، مبالغے کی یلغار اور جذبات کی آگ کے الائو کو اس حد تک بڑھا دیتی ہیںکہ حالات خود ان کے ہاتھ سے نکل جاتے ہیں۔ بعض بدنصیب تو ان شعلوں کو بھڑکانے کے لیے اپنے ہاتھوں اپنوں تک کو بھی اس کش مکش کی بھینٹ چڑھانے سے باز نہیں آتے۔

جون ۲۰۲۶ء کے پہلے عشرے میں آزاد کشمیر کے مختلف شہروں میں اسی نوعیت کے افسوس ناک مناظر دیکھنے میں آئے۔ جہاں سراسر ایک آئینی اور سماجی مسئلہ تصادم کا پیش خیمہ بن گیا۔ مگر افسوس کہ آزاد کشمیر حکومت اور سول انتظامیہ اس چیلنج کا کامیابی سے جواب دینے کے بجائے، عجلت پسندی میں اس طرح اُلجھ کر رہ گئی کہ حالات کا تلخ اور منفی پہلو سارے منظرنامے پر حاوی ہوگیا۔ یوں منفی بیانیے کو بے جا طور پر عالمی سطح پر پذیرائی ملنے کا موقع مل گیا۔

پریشان کن صورتِ حال کا بنیادی سبب

آزاد کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس سے ہر صاحبِ ضمیر انسان کا دل رنجیدہ ہے۔ خون جس کا بھی بہے، اس کا ازالہ ممکن نہیں۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں انسانی جان کا ضیاع ایک اجتماعی المیہ ہوتا ہے اور اس پر سیاست کے بجائے تدبر، احتساب اور سنجیدگی کی ضرورت ہوتی ہے۔ بلاشبہ آزاد کشمیر میں یہ منظرنامہ ایک غیرذمہ دارانہ سیاسی کھیل کا نتیجہ ہے کہ جس میں گذشتہ برسوں حزبِ اختلاف اور حکومت نے مل کر اقتدار کے مزے لوٹے۔ خاص طور پر گذشتہ پانچ برسوں میں چار وزرائے اعظم تبدیل ہوئے۔ اس مدت میں چونکہ حزبِ اختلاف نے اپنا منصبی کردار ادا نہیں کیا، اور اقتدار کی ’میوزیکل چیئر‘ کا ایک کردار ہی بنی رہی، اس لیے اپوزیشن کا کردار اس کے ہاتھوں سے نکل کر عوام کے ہاتھوں میں چلا گیا۔ کسی بھی ریاست میں اضطراب کو کم کرنے کے اصل ذمہ دار بہرحال ریاست کے حکمران ہوتے ہیں۔ اور یہ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ عوامی مسائل کو بروقت سمجھے، اختلافات کو مکالمے کے ذریعے حل کرے اور ایسے حالات پیدا نہ ہونے دے جن سے تصادم، انتشار اور خون ریزی جنم لے۔لیکن افسوس کہ آزاد کشمیر میں حکومت اور حکومت سازی سے منسلک کردار اس صورتِ حال کو سنبھال نہیں سکے۔

عوامی ایکشن کمیٹی جس نے آزاد جموں و کشمیر میں عوامی مسائل اور مطالبات کی بنیاد پر اپنی جدوجہد کا آغاز کیا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ بنیادی ایجنڈے پر احتجاج اور جواب در جواب تشدد حاوی ہوتا گیا۔ بدقسمتی سے آج اس کے پلیٹ فارم پہ چند علیحدگی پسند داخل ہوکر ایسے مطالبے کرنے لگے ہیں، جیسے 

  • آزاد کشمیر سے ’غیرملکی فورسز‘ کا انخلا کیا جائے 
  • آزادکشمیر اسمبلی سے مہاجرین کی نشستیں ختم کی جائیں 
  • آئین سے الحاق پاکستان کی شق نکال دی جائے 
  • ممبران اسمبلی کے حلف سے الحاق پاکستان کی نسبت ختم کی جائے
  • پاکستان کی ’عمل داری‘ ختم کی جائے 
  • الگ پاسپورٹ اور شناختی کارڈ جاری کیے جائیں، وغیرہ وغیرہ۔ آزاد کشمیر کے عوام کے معاشی اور سماجی مسائل کو حل کرنے کی ایک قابلِ قدر اور معقول جدوجہد میں ان باتوں کی شمولیت نے ماحول سخت تلخ بنادیا ہے۔ 

ابتدا میں جب عوامی ایکشن کمیٹی نے عوام کے مسائل پر جدوجہد کا آغاز کیا تھا تو جماعت اسلامی آزاد کشمیر نے اس کے ساتھ نہ صرف یکجہتی کا اظہار کیا، بلکہ ساتھ بھی دیا۔ لیکن جیسے ہی اس پلیٹ فارم سے ان نکات کو کبھی دھیمی اور کبھی بلندآواز میں کچھ لوگوں نے اپنی تقریروں اور سوشل میڈیا کا حصہ بنانا شروع کیا اور ایک قدم آگے بڑھ کر تشدد کا راستہ اپنایا تو یہ طرزِعمل دیکھ کر جماعت اسلامی آزاد کشمیر نے ایکشن کمیٹی سے علیحدگی اور دُوری کا اعلان کردیا۔ تاہم، ایکشن کمیٹی کے آئینی اور جائز مطالبات کی جماعت اسلامی نے ماضی میں بھی حمایت کی تھی اور مستقبل میں بھی جائز مطالبات اور پُرامن جدوجہد کی حمایت جاری رکھے گی۔جماعت اسلامی آزاد کشمیر، تحریکِ آزادیٔ کشمیر کی جدوجہد میں اپنا مثبت کردار ادا کر رہی ہے۔ وہ ایسے کسی منفی نعرے کی حمایت نہیں کر سکتی، جو پاکستان کی سلامتی اور جہادِ آزادی کے لیے صدمے کا باعث بنے۔

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرینِ جموں و کشمیر کے لیے مختص بارہ نشستیں ایک عرصے سے سیاسی اور آئینی بحث کا موضوع بنتی چلی آ رہی ہیں۔ ان نشستوں کے طریقِ انتخاب میں پائی جانے والی بدعنوانیوں کی بنیاد پر اور حکومت سازی میں ان کے کردار پر تلخ آراء پائی جاتی ہیں۔ یہ تو ہوا اس مسئلے کا ایک پہلو۔ اس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ان نشستوں کا وجود خود مسئلۂ کشمیر کا نتیجہ ہے۔ اگر مسئلۂ کشمیر حل ہو چکا ہوتا تو نہ یہ نشستیں وجود میں آتیں اور نہ یہ تنازع پیدا ہوتا۔یہ نشستیں دراصل اُن لاکھوں کشمیریوں کی سیاسی شناخت اور تاریخی جدوجہد کی علامت ہیں، جو۱۹۴۷ء کے بعد اپنے گھروں، زمینوں اور آبائی علاقوں سے محروم ہوئے، اور آج بھی اپنے حقِ خودارادیت کے منتظر ہیں۔ اس لیے بارہ نشستوں کا معاملہ محض انتخابی یا انتظامی مسئلے تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ مسئلۂ کشمیر کی تاریخ، تاریخی جدوجہد اور کشمیریوں کے سیاسی تشخص کا مظہر ہے۔

حکومت آزاد کشمیر کا مطلوبہ کردار

آزاد جموں و کشمیر جماعت اسلامی کا موقف یہ ہے کہ انڈیا کی جانب سے اگست۲۰۱۹ء میں جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد آزاد جموں و کشمیر کی حکومت اور اسمبلی کو پوری ریاست جموں و کشمیر کی نمائندہ حکومت اور اسمبلی قرار دیا جائے اور اس مقصد کے لیے حکومتِ پاکستان اور دیگر متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے ذریعے ضروری آئینی اور انتظامی اقدامات کیے جائیں۔

اسی طرح آزاد جموں و کشمیر جماعت اسلامی نے پاکستان میں

  •  مقیم مہاجرین کی نشستوں کے تعین کو ووٹرز کی تعداد سے منسلک کرنے،
  •  جموں اور وادی کی تخصیص ختم کرنے، lترقیاتی فنڈز اور تقرریوں و تبادلوں کے اختیارات کے خاتمے،
  • حریت کانفرنس، متحدہ جہاد کونسل اور مہاجرین ۱۹۸۹ء کی نمائندگی،
  • کابینہ کے حجم میں کمی، lمیرٹ پر تقرریوں، lعدالتی اصلاحات،
  • نظامِ زکوٰۃ و عشر کی بہتری اور شفافیت، lپن بجلی کے وسائل سے عمومی استفادے،
  • خوراک اور لائیو اسٹاک میں خود کفالت، lصحت اور تعلیم کی معیاری سہولیات،
  • بلدیاتی اداروں کے استحکام، lآمدورفت کے انفراسٹرکچر کی ترقی،
  •  میرپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ڈرائی پورٹ کے قیام،
  • منگلا ڈیم کے متاثرین کے مسائل کے حل، 
  • عوامی نمائندوں کی مراعات کے خاتمے، 
  • کشمیر پراپرٹی کے تحفظ جیسے اہم نکات بھی اپنے چارٹر آف ڈیمانڈ میں پیش کر کے عوام کے دُکھ درد اور جائز مطالبات کو زبان دی ہے۔ ان مسائل میں سے متعدد کا تعلق براہِ راست عام آدمی کی روزمرہ زندگی سے ہے۔ جب کہ بجلی، صحت، انصاف، روزگار، انفراسٹرکچر، مقامی حکومتوں اور گڈ گورننس کے حوالے سے پیش کی گئی یہ تجاویز سنجیدہ غور و فکر اور وسیع سیاسی اتفاقِ رائے کا تقاضا کرتی ہیں، تاکہ منفی پراپیگنڈے، جذباتیت اور اشتعال انگیزی پر مبنی سیاست سے بچا جا سکے۔

حُریت کانفرنس کا رِدعمل

مقبوضہ جموں و کشمیر کی جماعت اسلامی جو آزاد کشمیر جماعت اسلامی سے بالکل جداگانہ نظام، قیادت اور پروگرام رکھتی ہے، اس کی تقریباً ساری قیادت گذشتہ آٹھ، نو برسوں سے جیلوں میں قیدہے اور اس پر ظالمانہ پابندی عائد ہے۔ تحریکِ آزادیٔ کشمیر میں جماعت اسلامی سے وابستگان نے بہت سی قربانیاں دی ہیں اور آج بھی سخت آزمائش کا سامنا کر رہے ہیں۔ تحریکِ آزادیٔ کشمیر کے لیے لاکھوں کشمیری تہہِ تیغ کیے جا چکے ہیں۔ان کے لیے مسئلۂ کشمیر کی نظریاتی اساس پر کسی قسم کا حملہ قابل قبول نہیں ہوسکتا۔

ممتاز کشمیری راہنما غلام محمد صفی، کنونیر کل جماعتی حریت کانفرنس نے آزادکشمیر کے حالیہ واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے بجاطور پر کہا: ’’ہم جموں وکشمیر میں جس حقِ خود ارادیت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، وہ جدوجہد صرف مقبوضہ کشمیر کے لیے نہیں ہے بلکہ وہ مقبوضہ کشمیر، آزاد جموں وکشمیر، گلگت، بلتستان اور اس پوری ریاست کے لیے ہے، جس ریاست کا ایک حصہ آزاد جموں وکشمیر بھی ہے۔ اس لیے مقبوضہ جموں وکشمیر میں طویل جدوجہد کرنے اور انڈین فورسز اور حکومت کے ظالمانہ اقدامات کو برداشت کرنے اور بربادی و تباہی کا سامنا کرنے والے لوگ جب یہ دیکھتے اور سنتے ہیں کہ ہم تو ایک بڑے حق حقِ خودارادیت کی بات کرتے ہیں، مگر دوسری طرف بدقسمتی سے ایک مخصوص طبقہ اس پوری ریاست کے صرف ایک حصے میں کچھ حقوق کی بات کرتا ہے تو انھیں یہ بات بہت عجیب لگتی ہے۔ وہ مسئلہ جو سب کا مشترکہ اور سب سے بڑا مسئلہ ہے، اور جس پر برس ہا برس سے ایک جدوجہد جاری ہے، اور جس کی بنیاد پر انڈیا، جموں وکشمیر کے عوام پر ظلم ڈھاتا رہا ہے اور آج بھی ظلم ڈھا رہا ہے، اسے نظرانداز کرکے یہ بات کی جا رہی ہے۔

’’ ہم یہ سمجھتے ہیں آزاد کشمیر کے افراد کے جائز روز مرہ کے مسائل اور حقوق بلاشبہ اپنی جگہ اہم ہیں، مگر یاد رہنا چاہیے کہ حقِ خود ارادیت اپنی جگہ مرکزیت کا حامل مسئلہ ہے۔ لیکن جب اس بڑے مسئلے کو عالمی سطح پر پیش کرنے اور اُٹھانے کی جدوجہد میں دوست اور دشمن کی تمیز ختم ہوجائے تو پھر بات بگڑ جاتی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے لوگ ہوں یا آزاد کشمیر کے بھائی، ہم سب کی یہی کوشش رہی ہے کہ ہم دُنیا بھر کی ہرپارلیمنٹ، ادارے، تھنک ٹینک، ابلاغ عامہ کے پلیٹ فارم اور دانش وروں کے مراکز میں جاکر انڈیا کے مظالم کو اُجاگر کریں اور کشمیریوں کی مظلومیت کو دنیا کے سامنے بیان کریں۔ مگرآج آزاد کشمیر میں چند لوگوں نے عجلت پسندی اور چند مقامی مسائل کی بنیاد پر پاکستان کو، انڈیا کے ہم پلہ کہنا شروع کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں انڈیا کے بدترین اور انسانیت سوز مظالم، یوں لگتا ہے کہ پس منظر میں چلے گئے ہیں۔

’’اس پس منظر میں ہم حریت کانفرنس کی طرف سے یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے آزاد کشمیر کے بھائیوں کا یہ مسئلہ تشدد اور تصادم اور مبالغہ آمیزی سے حل نہیں ہو سکتا۔ یہ مسئلہ حل ہو گا تو بات چیت کے ذریعے سے ہوگا۔ حکومت آزاد کشمیر، حکومت پاکستان اور ایکشن کمیٹی، کو مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ پُرامن طریقہ اختیار کرنا ہوگا۔ پیش کردہ مطالبات میں سے بہت سے پہلے ہی مان لیے گئے ہیں، اور جو مطالبات قانونی اور آئینی ہیں، ان کو بہرحال آئینی اداروں ہی میں بیٹھ کر حل کرنا ہوگا۔ اس طرح جگ ہنسائی کا کھیل ختم کر کے، حقِ خودارادیت کی جدوجہد پر متحدومتحرک ہونا ہوگا‘‘۔

جماعت اسلامی پاکستان کا موقف

جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن صاحب نے آزاد کشمیر کے ان واقعات پر واضح الفاظ میں کہا ہے:

  • یہ بات ہر صاحب ِ اختیار کے ذہن میں پیوست رہنی چاہیے کہ عوامی اُمنگوں کو کچلنے اور سیاسی نظام کو جکڑنے کے نتیجے میں ایسی صورتِ حال پیدا ہوجاتی ہے کہ جس سے پورے قومی موقف اور وجود کو خطرات لاحق ہوجاتے ہیں۔اس لیے حکومتی ذمہ داروں کو ایسے کھیل میں قوم کو اُلجھانے سے باز رہنا چاہیے۔
  • پاکستان، کشمیری بھائیوں کا ہے اور کشمیر، پاکستان سے کوئی الگ اکائی نہیں ہے۔ یہ باہم ایک ہی وجود ہے۔اس لیے انھیں ایک دوسرے پر اعتماد کرکے اور ایک دوسرے کے دُکھ درد کا ساتھی اور ہمدرد بن کر راستہ نکالنا اور منزل کی طرف چلنا ہوگا۔
  • ہم سب پر لازم ہے کہ کشمیر اور اہل کشمیر کے حقِ خودارادیت کے مسئلے کو مرکزی موضوع بنائیں، اور اُس کے حصول کی طرف پوری توجہ مرکوز رکھیں۔
  •  روزمرہ کے مسائل کا حل باہم مذاکرات اور افہام و تفہیم میں ہے۔ بُرا بھلا کہنے، تعصب پھیلانے اور گولی چلانے میں تباہی کے سوا کچھ نہیں، اور نہ بدامنی پھیلانے اور جواب در جواب تشدد سے کوئی مسئلہ حل ہوتا ہے۔
  •  کشمیر کے نوجوانوں پر یہ امر واضح رہنا چاہیے کہ پورا پاکستان اُن کے لیے کھلا ہے۔ تعلیم، ملازمت، ہنر، تجارت وغیرہ کے لیے ان کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ 
  •  مقامی مسائل جن طبقوں نے پیدا کیے ہیں وہ صرف آزاد کشمیر تک محدود نہیں ہیں، بلکہ پورا پاکستان اور پاکستان کے شہری اسی طرح کے مسائل سے دوچار ہیں۔ ان طبقوں کی گرفت کمزور کرنے اور اختیار حاصل کرنے کے لیے ہم سب کو مل کر جدوجہد کرنی چاہیے، بجائے اس کے کہ ایک جگہ کے لوگ دوسرے مقام کے ہم وطنوں ہی کے خلاف نفرت اور دشنام کا راستہ اختیار کریں۔

بحران سے نکلنے کا راستہ

آزاد کشمیر میں درپیش صورتِ حال سے نکلنے کے لیے درج ذیل اُمور کو پیش نظر رکھنا چاہیے:

  •  جائز مطالبات پیش کرنا، ایکشن کمیٹی کا آئینی اور جمہوری حق ہے، لیکن اس کے ساتھ سیاسی و احتجاجی عمل کو پُر امن رکھنا بھی ایکشن کمیٹی کی قیادت کی ذمہ داری ہے۔
  • آزاد کشمیر کے بعض مقامات پر عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تصادم، آنسو گیس، فائرنگ، حساس اداروں کا گھیراؤ اور انسانی جانوں کا ضیاع سخت باعثِ تشویش ہے۔ خون جس کا بھی بہے، وہ پوری قوم کا نقصان ہے اور اس کے ذمہ داروں کا تعین قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق بہرصورت ہونا چاہیے۔ ان سانحات کی عدالتی تحقیقات، ذمہ داران کے تعین کے لیے حکومت ِ پاکستان، حکومت ِ آزاد کشمیر اور سیاسی قیادت کے مابین فوری مشاورت اور تعاون ہونا چاہیے۔ یہی پہلا قدم معاملے کا کوئی پائیدار حل نکال سکتا ہے۔
  • تحریکِ آزادیٔ کشمیر اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت کے حصول کی جدوجہد کرنے والا خطۂ آزاد جموں و کشمیر نہ صرف اس تحریک حقِ خودارادیت کا عظیم بیس کیمپ ہے بلکہ انڈین ظلم و جبر کے خلاف مزاحمت کی رگِ جاں بھی ہے۔ اس خطے میں عدم استحکام اور بدامنی کشمیر کاز اور پاکستان کے قومی مفادات کے لیے سخت نقصان دہ ہے۔
  •  موجودہ بحران سے نکلنے کے لیے انتظامی مشینری اور سیاسی قیادت کو مفادات کی سیاست اور اقتدار کی کش مکش سے بلند ہو کر جرأت مندانہ، جمہوری اور مصالحانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ 
  • مہاجرین کی نشستوں اور ان کی نمائندگی کےموجودہ نظام کار پر تنقید ایک فطری امر ہے۔ جس پر تصادم نہیں بلکہ باہمی مشاورت سے اصلاحات ہونی چاہییں اوردیگر متنازع امور کو بھی مذاکرات اور آئینی ذرائع سے ہی حل کرنے کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
  •  آزاد کشمیر میں عام انتخابات کا اعلان ہو چکا ہے۔ موجودہ صورتِ حال کا بہترین حل انتخابات کے بروقت اور منصفانہ انعقاد میں ہے۔ انتخابات میں کسی قسم کی تاخیر مزید خرابیوں کو جنم دے سکتی ہے۔ اس لیے انتخابات ہر صورت اپنے مقررہ نظام الاوقات کے مطابق منعقد ہونے چاہییں۔ مطالبات پیش کرنے والے، جمہوری عمل کا حصہ بنیں اور ایوان میں پہنچ کر قانون سازی کے ذریعے متنازع معاملات حل کریں۔
  • ایک طرف ریاستی اصلاحات، گڈ گورننس اور عوامی مسائل کے حل کے لیے ذمہ دارانہ پیش رفت ہونی چاہیے، تو دوسری طرف آزاد کشمیر کے امن، استحکام، مسئلۂ کشمیر کے بنیادی مقدمے اور پاکستان کے ساتھ تاریخی و نظریاتی رشتے کو ہر حال میں مقدم سمجھنا اور رکھنا چاہیے۔ یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ سیاسی توانائی کا بڑا حصہ ایک دوسرے کو زیر کرنے، سیاسی برتری ثابت کرنے اور اختیارات کی کش مکش میں صرف ہو رہا ہے، جب کہ بنیادی مسئلہ پس منظر میں دھکیلا جا رہا ہے۔ اگر اس توانائی کا نصف بھی مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی تسلط کے خلاف سیاسی، سفارتی اور عوامی جدوجہد پر صرف کیا جائے تو کشمیر کا مقدمہ کہیں زیادہ مؤثر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے۔ جب قومیں اپنا اصل مقصد بھول جاتی ہیں تو چھوٹی چھوٹی چیزیں اصل مقصد کی جگہ لے لیتی ہیں۔

اصل توجہ مرکزی مسئلے پر مرکوز رہنی چاہیے۔کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت، مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں، بھارتی تسلط کے خاتمے اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلۂ کشمیر کے منصفانہ حل پر پوری قوت صرف ہونی چاہیے۔

اختلاف اور احتجاج ہر شہری کا حق ہے۔ لیکن جذبات میں بے قابو ہو کر شاخوں کے جھگڑے میں جڑ کاٹنے پر چڑھ دوڑنا نہایت نامناسب ہے۔ کشمیر کا مقدمہ صرف ایک خطے کا تنازع نہیں بلکہ لاکھوں انسانوں کے حقِ خودارادیت، شناخت اور انصاف کا مقدمہ ہے۔ اس مقدمے کی کامیابی کا تقاضا یہ ہے کہ باہمی اختلافات کو آئینی دائرے میں رکھ کر حل کریں اور قومی مفادات اور تاریخی ذمہ داری کو کبھی فراموش نہ کریں جو آزاد کشمیر کے ہرہرشہری اور تمام سیاسی و اجتماعی قوتوں کے کندھوں پر ہے۔(س م خ)

_______________