ہر معاشرے کی سماجی اور قومی زندگی میں شہریوں کو متعدد مشکلات اور مختلف چیلنجوں کا سامنا ہوتا ہے۔ سنجیدہ، دوراندیش اور سمجھ دار لوگ اور ان کی قیادتیں، یقینا ان مشکلات کو دور کرنے اور معاشرے میں پھیلی اُلجھنوں کا مداوا کرنے کے لیے بہتر سے بہتر حل تلاش کرنے کے لیے ہمیشہ کوشاں رہتی ہیں۔ صبرو تحمل، فکری بیداری، نظم و ضبط اور دلیل کے ساتھ راستہ بناتی اور حصولِ منزل کی شاہراہ پر چلتی ہیں۔
اس کے برعکس عجلت پسند قوتیں، معاشرے کی ان ہی کمیوں اور کمزوریوں کو لے کر، مبالغے کی یلغار اور جذبات کی آگ کے الائو کو اس حد تک بڑھا دیتی ہیںکہ حالات خود ان کے ہاتھ سے نکل جاتے ہیں۔ بعض بدنصیب تو ان شعلوں کو بھڑکانے کے لیے اپنے ہاتھوں اپنوں تک کو بھی اس کش مکش کی بھینٹ چڑھانے سے باز نہیں آتے۔
جون ۲۰۲۶ء کے پہلے عشرے میں آزاد کشمیر کے مختلف شہروں میں اسی نوعیت کے افسوس ناک مناظر دیکھنے میں آئے۔ جہاں سراسر ایک آئینی اور سماجی مسئلہ تصادم کا پیش خیمہ بن گیا۔ مگر افسوس کہ آزاد کشمیر حکومت اور سول انتظامیہ اس چیلنج کا کامیابی سے جواب دینے کے بجائے، عجلت پسندی میں اس طرح اُلجھ کر رہ گئی کہ حالات کا تلخ اور منفی پہلو سارے منظرنامے پر حاوی ہوگیا۔ یوں منفی بیانیے کو بے جا طور پر عالمی سطح پر پذیرائی ملنے کا موقع مل گیا۔
آزاد کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس سے ہر صاحبِ ضمیر انسان کا دل رنجیدہ ہے۔ خون جس کا بھی بہے، اس کا ازالہ ممکن نہیں۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں انسانی جان کا ضیاع ایک اجتماعی المیہ ہوتا ہے اور اس پر سیاست کے بجائے تدبر، احتساب اور سنجیدگی کی ضرورت ہوتی ہے۔ بلاشبہ آزاد کشمیر میں یہ منظرنامہ ایک غیرذمہ دارانہ سیاسی کھیل کا نتیجہ ہے کہ جس میں گذشتہ برسوں حزبِ اختلاف اور حکومت نے مل کر اقتدار کے مزے لوٹے۔ خاص طور پر گذشتہ پانچ برسوں میں چار وزرائے اعظم تبدیل ہوئے۔ اس مدت میں چونکہ حزبِ اختلاف نے اپنا منصبی کردار ادا نہیں کیا، اور اقتدار کی ’میوزیکل چیئر‘ کا ایک کردار ہی بنی رہی، اس لیے اپوزیشن کا کردار اس کے ہاتھوں سے نکل کر عوام کے ہاتھوں میں چلا گیا۔ کسی بھی ریاست میں اضطراب کو کم کرنے کے اصل ذمہ دار بہرحال ریاست کے حکمران ہوتے ہیں۔ اور یہ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ عوامی مسائل کو بروقت سمجھے، اختلافات کو مکالمے کے ذریعے حل کرے اور ایسے حالات پیدا نہ ہونے دے جن سے تصادم، انتشار اور خون ریزی جنم لے۔لیکن افسوس کہ آزاد کشمیر میں حکومت اور حکومت سازی سے منسلک کردار اس صورتِ حال کو سنبھال نہیں سکے۔
عوامی ایکشن کمیٹی جس نے آزاد جموں و کشمیر میں عوامی مسائل اور مطالبات کی بنیاد پر اپنی جدوجہد کا آغاز کیا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ بنیادی ایجنڈے پر احتجاج اور جواب در جواب تشدد حاوی ہوتا گیا۔ بدقسمتی سے آج اس کے پلیٹ فارم پہ چند علیحدگی پسند داخل ہوکر ایسے مطالبے کرنے لگے ہیں، جیسے
ابتدا میں جب عوامی ایکشن کمیٹی نے عوام کے مسائل پر جدوجہد کا آغاز کیا تھا تو جماعت اسلامی آزاد کشمیر نے اس کے ساتھ نہ صرف یکجہتی کا اظہار کیا، بلکہ ساتھ بھی دیا۔ لیکن جیسے ہی اس پلیٹ فارم سے ان نکات کو کبھی دھیمی اور کبھی بلندآواز میں کچھ لوگوں نے اپنی تقریروں اور سوشل میڈیا کا حصہ بنانا شروع کیا اور ایک قدم آگے بڑھ کر تشدد کا راستہ اپنایا تو یہ طرزِعمل دیکھ کر جماعت اسلامی آزاد کشمیر نے ایکشن کمیٹی سے علیحدگی اور دُوری کا اعلان کردیا۔ تاہم، ایکشن کمیٹی کے آئینی اور جائز مطالبات کی جماعت اسلامی نے ماضی میں بھی حمایت کی تھی اور مستقبل میں بھی جائز مطالبات اور پُرامن جدوجہد کی حمایت جاری رکھے گی۔جماعت اسلامی آزاد کشمیر، تحریکِ آزادیٔ کشمیر کی جدوجہد میں اپنا مثبت کردار ادا کر رہی ہے۔ وہ ایسے کسی منفی نعرے کی حمایت نہیں کر سکتی، جو پاکستان کی سلامتی اور جہادِ آزادی کے لیے صدمے کا باعث بنے۔
آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرینِ جموں و کشمیر کے لیے مختص بارہ نشستیں ایک عرصے سے سیاسی اور آئینی بحث کا موضوع بنتی چلی آ رہی ہیں۔ ان نشستوں کے طریقِ انتخاب میں پائی جانے والی بدعنوانیوں کی بنیاد پر اور حکومت سازی میں ان کے کردار پر تلخ آراء پائی جاتی ہیں۔ یہ تو ہوا اس مسئلے کا ایک پہلو۔ اس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ان نشستوں کا وجود خود مسئلۂ کشمیر کا نتیجہ ہے۔ اگر مسئلۂ کشمیر حل ہو چکا ہوتا تو نہ یہ نشستیں وجود میں آتیں اور نہ یہ تنازع پیدا ہوتا۔یہ نشستیں دراصل اُن لاکھوں کشمیریوں کی سیاسی شناخت اور تاریخی جدوجہد کی علامت ہیں، جو۱۹۴۷ء کے بعد اپنے گھروں، زمینوں اور آبائی علاقوں سے محروم ہوئے، اور آج بھی اپنے حقِ خودارادیت کے منتظر ہیں۔ اس لیے بارہ نشستوں کا معاملہ محض انتخابی یا انتظامی مسئلے تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ مسئلۂ کشمیر کی تاریخ، تاریخی جدوجہد اور کشمیریوں کے سیاسی تشخص کا مظہر ہے۔
آزاد جموں و کشمیر جماعت اسلامی کا موقف یہ ہے کہ انڈیا کی جانب سے اگست۲۰۱۹ء میں جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد آزاد جموں و کشمیر کی حکومت اور اسمبلی کو پوری ریاست جموں و کشمیر کی نمائندہ حکومت اور اسمبلی قرار دیا جائے اور اس مقصد کے لیے حکومتِ پاکستان اور دیگر متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے ذریعے ضروری آئینی اور انتظامی اقدامات کیے جائیں۔
اسی طرح آزاد جموں و کشمیر جماعت اسلامی نے پاکستان میں
مقبوضہ جموں و کشمیر کی جماعت اسلامی جو آزاد کشمیر جماعت اسلامی سے بالکل جداگانہ نظام، قیادت اور پروگرام رکھتی ہے، اس کی تقریباً ساری قیادت گذشتہ آٹھ، نو برسوں سے جیلوں میں قیدہے اور اس پر ظالمانہ پابندی عائد ہے۔ تحریکِ آزادیٔ کشمیر میں جماعت اسلامی سے وابستگان نے بہت سی قربانیاں دی ہیں اور آج بھی سخت آزمائش کا سامنا کر رہے ہیں۔ تحریکِ آزادیٔ کشمیر کے لیے لاکھوں کشمیری تہہِ تیغ کیے جا چکے ہیں۔ان کے لیے مسئلۂ کشمیر کی نظریاتی اساس پر کسی قسم کا حملہ قابل قبول نہیں ہوسکتا۔
ممتاز کشمیری راہنما غلام محمد صفی، کنونیر کل جماعتی حریت کانفرنس نے آزادکشمیر کے حالیہ واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے بجاطور پر کہا: ’’ہم جموں وکشمیر میں جس حقِ خود ارادیت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، وہ جدوجہد صرف مقبوضہ کشمیر کے لیے نہیں ہے بلکہ وہ مقبوضہ کشمیر، آزاد جموں وکشمیر، گلگت، بلتستان اور اس پوری ریاست کے لیے ہے، جس ریاست کا ایک حصہ آزاد جموں وکشمیر بھی ہے۔ اس لیے مقبوضہ جموں وکشمیر میں طویل جدوجہد کرنے اور انڈین فورسز اور حکومت کے ظالمانہ اقدامات کو برداشت کرنے اور بربادی و تباہی کا سامنا کرنے والے لوگ جب یہ دیکھتے اور سنتے ہیں کہ ہم تو ایک بڑے حق حقِ خودارادیت کی بات کرتے ہیں، مگر دوسری طرف بدقسمتی سے ایک مخصوص طبقہ اس پوری ریاست کے صرف ایک حصے میں کچھ حقوق کی بات کرتا ہے تو انھیں یہ بات بہت عجیب لگتی ہے۔ وہ مسئلہ جو سب کا مشترکہ اور سب سے بڑا مسئلہ ہے، اور جس پر برس ہا برس سے ایک جدوجہد جاری ہے، اور جس کی بنیاد پر انڈیا، جموں وکشمیر کے عوام پر ظلم ڈھاتا رہا ہے اور آج بھی ظلم ڈھا رہا ہے، اسے نظرانداز کرکے یہ بات کی جا رہی ہے۔
’’ ہم یہ سمجھتے ہیں آزاد کشمیر کے افراد کے جائز روز مرہ کے مسائل اور حقوق بلاشبہ اپنی جگہ اہم ہیں، مگر یاد رہنا چاہیے کہ حقِ خود ارادیت اپنی جگہ مرکزیت کا حامل مسئلہ ہے۔ لیکن جب اس بڑے مسئلے کو عالمی سطح پر پیش کرنے اور اُٹھانے کی جدوجہد میں دوست اور دشمن کی تمیز ختم ہوجائے تو پھر بات بگڑ جاتی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے لوگ ہوں یا آزاد کشمیر کے بھائی، ہم سب کی یہی کوشش رہی ہے کہ ہم دُنیا بھر کی ہرپارلیمنٹ، ادارے، تھنک ٹینک، ابلاغ عامہ کے پلیٹ فارم اور دانش وروں کے مراکز میں جاکر انڈیا کے مظالم کو اُجاگر کریں اور کشمیریوں کی مظلومیت کو دنیا کے سامنے بیان کریں۔ مگرآج آزاد کشمیر میں چند لوگوں نے عجلت پسندی اور چند مقامی مسائل کی بنیاد پر پاکستان کو، انڈیا کے ہم پلہ کہنا شروع کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں انڈیا کے بدترین اور انسانیت سوز مظالم، یوں لگتا ہے کہ پس منظر میں چلے گئے ہیں۔
’’اس پس منظر میں ہم حریت کانفرنس کی طرف سے یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے آزاد کشمیر کے بھائیوں کا یہ مسئلہ تشدد اور تصادم اور مبالغہ آمیزی سے حل نہیں ہو سکتا۔ یہ مسئلہ حل ہو گا تو بات چیت کے ذریعے سے ہوگا۔ حکومت آزاد کشمیر، حکومت پاکستان اور ایکشن کمیٹی، کو مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ پُرامن طریقہ اختیار کرنا ہوگا۔ پیش کردہ مطالبات میں سے بہت سے پہلے ہی مان لیے گئے ہیں، اور جو مطالبات قانونی اور آئینی ہیں، ان کو بہرحال آئینی اداروں ہی میں بیٹھ کر حل کرنا ہوگا۔ اس طرح جگ ہنسائی کا کھیل ختم کر کے، حقِ خودارادیت کی جدوجہد پر متحدومتحرک ہونا ہوگا‘‘۔
جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن صاحب نے آزاد کشمیر کے ان واقعات پر واضح الفاظ میں کہا ہے:
آزاد کشمیر میں درپیش صورتِ حال سے نکلنے کے لیے درج ذیل اُمور کو پیش نظر رکھنا چاہیے:
اصل توجہ مرکزی مسئلے پر مرکوز رہنی چاہیے۔کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت، مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں، بھارتی تسلط کے خاتمے اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلۂ کشمیر کے منصفانہ حل پر پوری قوت صرف ہونی چاہیے۔
اختلاف اور احتجاج ہر شہری کا حق ہے۔ لیکن جذبات میں بے قابو ہو کر شاخوں کے جھگڑے میں جڑ کاٹنے پر چڑھ دوڑنا نہایت نامناسب ہے۔ کشمیر کا مقدمہ صرف ایک خطے کا تنازع نہیں بلکہ لاکھوں انسانوں کے حقِ خودارادیت، شناخت اور انصاف کا مقدمہ ہے۔ اس مقدمے کی کامیابی کا تقاضا یہ ہے کہ باہمی اختلافات کو آئینی دائرے میں رکھ کر حل کریں اور قومی مفادات اور تاریخی ذمہ داری کو کبھی فراموش نہ کریں جو آزاد کشمیر کے ہرہرشہری اور تمام سیاسی و اجتماعی قوتوں کے کندھوں پر ہے۔(س م خ)
_______________