جولائی ۲۰۲۶

فہرست مضامین

تیونس: النہضہ تحریک اور عمر قید کی سزائیں

ڈاکٹر ارشاد الرحمٰن | جولائی ۲۰۲۶ | اخبار اُمت

Responsive image Responsive image

جون ۲۰۲۶ء کو تیونس کی ایک عدالت نے النہضہ تحریک کے رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی راشد الغنوشی (۸۴سال) اور دیگر کئی رہنماؤں کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ تیونس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی وکالۃ تونس افریقیا للانباء کے مطابق، تیونس کی ابتدائی عدالت کے دہشت گردی کے مقدمات کا فیصلہ کرنے والے فوجداری بنچ نے ملزمان کو: ’’دہشت گرد گروہ تشکیل دینے اور جان بوجھ کر کسی بھی عنوان سے جمہوریہ کی سرزمین کے اندر دہشت گرد جرائم سے متعلق دہشت گرد گروہ میں شامل ہونے، دہشت گرد گروہ اور دہشت گرد جرائم سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے صلاحیتوں اور مہارتوں کو وقف کرنے، اور انسداد دہشت گردی قانون میں مذکور دیگر دہشت گرد جرائم‘‘ میں مجرم قرار دیا ۔

حکومتی پشت پناہی کی بنیاد پر درج کرائے گئے مقدمے ’خفیہ نیٹ ورک‘ میں انسداد دہشت گردی عدالت کے بنچ کے مطابق اس مقدمے میں سیاست دانوں، سیکیورٹی اہلکاروں اور رہنماؤں کے نام شامل ہیں۔ اس فائل میں ۳۵ ملزمان نامزد ہیں، جن میں سے کچھ اس مقدمے کی وجہ سے زیر حراست ہیں، کچھ دوسرے مقدمات میں گرفتار ہیں، ۱۱ ضمانت پر رہا ہیں، اور بقیہ مفرور ہیں۔ ان فیصلوں میں شامل نمایاں ترین نام درج ذیل ہیں:

راشد الغنوشی: نہضہ تحریک کے سربراہ، جنھیں ۳۰ سال کی اضافی قید کے ساتھ عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے، اور وہ دیگر مقدمات میں بھی زیرِ حراست ہیں۔

علی العریض: سابق وزیر داخلہ اور سابق وزیر اعظم، جنھیں ۴۲ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے، اور وہ دہشت گردی کی نوعیت کے دیگر مقدمات میں بھی حراست میں ہیں۔

فتحی البلدی: سابق سیکیورٹی کمانڈر اور متوازی سیکیورٹی نظام کے مرکزی ملزم، جنھیں ۵۰سال کی اضافی قید کے ساتھ عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

کمال البدوی: ریٹائرڈ فوجی اور ’برآ   کـۃ الساحل‘ گروپ کے سابق رکن، جنھیں عمر قید اور ۳۲ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ دفاعی کمیٹی نے ان کے کال ریکارڈ کا تعلق محمد البراہمی کے قتل کی رات مصطفیٰ خذر کے ساتھ جوڑا ہے۔

عبد العزیز الدغسنی: راشد الغنوشی کے داماد اور بن عروس میں نہضہ کے دفتر کے سابق سربراہ، جنھیں عمر قید اور ۳۷ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ انھیں اس سے قبل ’بلیک روم‘ کیس میں بھی آٹھ سال قید کی سزا ہو چکی ہے۔

قیس بکار، بلحسن النقاش، علی الفرشیشی اور متعدد سابقہ سکیورٹی حکام: انھیں دہشت گردی کے الزامات اور خفیہ نیٹ ورک کو سیکیورٹی، سرحدوں اور غیر ملکیوں کے مفادات سے جوڑنے کے جرم میں ۳۴ سے ۴۸ سال تک قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔

تین مفرور افراد، جنھیں بیرون ملک فرار ہونے کی حالت میں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے، ان میں درج ذیل افراد شامل ہیں:

مصطفیٰ خذر:اسے ’بلیک روم‘ (الغرفة السوداء) اور ’خفیہ نیٹ ورک‘ کے مقدمات کا مرکزی ملزم ٹھیرایا گیا ہے۔ اسے اس بار عمر قید کے ساتھ مزید ۹۶ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ دفاعی کمیٹی اسے ’خفیہ نیٹ ورک کا پہلا فیلڈ انچارج‘ قرار دیتی ہے جو سیاسی قتل و غارت گری سے متعلق دستاویزات اور شواہد چھپانے میں ملوث تھا۔

رضا البارونی: یہ النہضہ تحریک کا سابق انتظامی اور مالیاتی ڈائریکٹر ہے، جسے عمر قید اور ۷۶ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

کمال العیفی: اسے اس متوازی نیٹ ورک کے اہم ترین رہنماؤں میں شمار کیا گیا ہے۔ اس کو بھی عمر قید اور ۷۶ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

عدالت نے تمام ملزمان کو پانچ سال تک انتظامی نگرانی میں رکھنے کا بھی حکم دیا۔

یہ مقدمہ ۲۰۲۲ء کے اوائل میں اس وقت سامنے آیا جب پبلک پراسیکیوشن اور سیاستدان شکری بلعید اور محمد براہمی کے فروری اور جولائی ۲۰۱۳ء میں قتل کے بعد ان کے وکلا نے مقدمہ درج کرایا۔وکلا نے اس وقت النہضہ کے نام نہاد ’خفیہ ڈیوائس‘ پر ان کے قتل میں ملوث ہونے، ’جاسوسی کرنے اور ریاستی اداروں میں دراندازی‘ کا الزام لگایا تھا۔

۱۹ جون ۲۰۲۶ءکو ’ریاست کی داخلی سلامتی کے خلاف سازش‘ کے اس مقدمے  میں نئے فیصلے سامنے آئے ہیں۔ تیونس کی اپیل کورٹ کے انسداد دہشت گردی کے مقدمات دیکھنے والے فوجداری ڈویژن کے خصوصی بینچ نے باجہ میں تحریک النہضہ کے علاقائی سیکرٹری جنرل کے حق میں ابتدائی عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا، تاہم سزا میں تخفیف کرتے ہوئے ۱۰ سال قید کو کم کر کے چار سال  کر دیا۔

عدالت نے النہضہ تحریک کے رہنما عبدالفتاح الطاغوتی کو بھی ۱۰ سال قید بامشقت کی سزا سنائی جس پر فوری عمل درآمد ہوگا۔ اس کے ساتھ تین دیگر ملزمان کے حق میں دعویٰ نہ سننے کا فیصلہ کیا، جب کہ ایک خاتون ملزمہ کو دو سال قید کی سزا دی گئی۔

اسی تناظر میں، عدالت نے تین دیگر ملزمان کو بھی ۱۰ سال قید کی سزا سنائی، جن میں باجہ میں النہضہ تحریک  کے علاقائی دفتر کے ارکان شامل ہیں۔

یاد رہے کہ تیونس کی ابتدائی عدالت کے انسداد دہشت گردی مقدمات کے فوجداری ڈویژن نے پہلے باجہ میں تحریک النہضہ کے علاقائی سیکرٹری کو ۱۰سال قید، جربہ کے ایک مقیم ڈاکٹر کو ۱۲سال قید، اور دیگر ملزمان کو ۱۰ سال قید کی سزائیں سنائی تھیں۔

اس سے قبل ۱۵؍ اپریل کو، تیونس کی ایک عدالت نے الغنوشی اور تحریک النہضہ کے تین دیگر رہنماؤں کو میڈیا میں المسامرۃ الرمضانیۃ کے نام سے مشہور مقدمے میں ۲۰ سال قید کی سزا سنائی تھی۔ اس کے علاوہ ان کے خلاف دیگر مقدمات میں بھی قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔

النہضہ تحریک کے سربراہ راشد الغنوشی کو عمر قید کی سزا ان کے خلاف جاری ہونے والا تیسرا ’عمر قید‘ کا فیصلہ ہے۔ان کے خلاف پہلی عمر قید کی سزا کا فیصلہ 'صدر بورقیبہ کے دور میں ستمبر ۱۹۸۷ء میں سنایا گیا۔ غنوشی اس وقت 'اسلامی رجحان تحریک(حرکۃ الاتجاہ الاسلامی) کے سربراہ تھے۔ تاہم، اللہ تعالیٰ کی قدرت کہ یہ عمر قید صرف ۱۵ ماہ ہی چلی کیونکہ صدر بورقیبہ کے خلاف ان کے وزیر اعظم زین العابدین بن علی نے سفید انقلاب (بغیر خون خرابے کے ) برپا کر دیا۔ چنانچہ بورقیبہ جیل میں ہی رہے ، جب کہ راشد الغنوشی اور ان کے ساتھ کئی دیگر افراد کو رہا کر دیا گیا۔

 راشد الغنوشی کے خلاف عمرقید کا دوسرا فیصلہ ۱۹۹۲ء میں صدر زین العابدین بن علی کے دور میں سنایا گیا۔ اگرچہ یہ فیصلہ بظاہر تیونس کی ایک فوجی عدالت نے جاری کیا تھا، لیکن اس کا اصل محرک اور منبع خود صدر بن علی تھا، اور الزامات پہلے سے تیار شدہ تھے، یعنی ’ریاست کی سلامتی کے خلاف سازش‘ اور’تیونس میں حکومت کا تختہ الٹنے کی تیاری‘۔

لیکن اللہ کی عدالت سے اس وقت یہ فیصلہ ہوا کہ صدر بن علی کا انجام ان کی حکومت کے خاتمے کی صورت میں نکلا جو یہ سمجھ رہے تھے کہ وہ فرعونِ وقت ہیں۔ اور جب اللہ کا فیصلہ آ جائے تو اس کے فیصلے کو روکنے والا کوئی نہیں ہوتا، لہٰذا اس کا انجام تمام صدور، حکمرانوں اور فیصلہ سازوں کے لیے عبرت کا ایک نشان بن گیا۔ چنانچہ عرب اور یورپی فضائی حدود نے ان کے طیارے کو قبول کرنے سے انکار کر دیا، اور کسی بھی ملک نے ان کا استقبال نہیں کیا۔ تاریخ میں یہ بات محفوظ ہوگئی کہ انھیں بقیہ زندگی تیونس کی پاک سرزمین میں داخل نہیں ہونے دیا گیا، یہاں تک کہ وہ انسانی تاریخ کی بدترین موت مرے، اور انھیں تیونس میں دفن تک نہیں کیا گیا۔ دوسری طرف راشد الغنوشی، جن کو صدر بن علی کے حکم سے ’عمر قید‘ کی سزا سنائی گئی تھی، وہ تیونسی عوام کے شاندار استقبال میں تیونس واپس آئے اور اس سفر کا اختتام اس وقت ہوا جب وہ تیونس کی پارلیمنٹ کے اسپیکر بنے۔

 راشد الغنوشی کے خلاف ’عمر قید‘ کی تیسری سزا ۲ جون ۲۰۲۶ء کو سنائی گئی ہے، جو آمرمطلق صدر قیس سعید کے جاری دور میں سامنے آئی ہے۔ یوں راشد الغنوشی کو سنائی گئی مجموعی سزائیں ۱۰۸سال بنتی ہیں، جو کہ تیونس کے طاغوت’قیس سعید اور ان کے گماشتوں‘ کی ہوسِ اقتدار کا ظالمانہ و مستبدانہ اظہار ہے۔

حرکۃ النہضہ اور ملکی صورتِ حال 

 راشد الغنوشی کی قائم کردہ النہضہ تحریک نے اپنی ۴۵ ویں سالگرہ پر ۶ جون ۲۰۲۶ء کوایک جامع بیان جاری کیا ہے جو تیونس کی سیاسی، سماجی، اقتصادی اور امن و امان کی ناگفتہ بہ صورتِ حال کو بیان کرتا ہے۔ یہاں اس کے اہم نکات درج کیے جاتے ہیں:

۱- ثابت قدمی، قربانی اور تعمیر کے ۴۵ سال

۶جون ۱۹۸۱ءکو النہضہ تحریک نے اپنی تشکیل کا اعلان کیا۔ یہ محض ایک عام سیاسی فیصلہ نہیں تھا، بلکہ فکری، سیاسی اور وجودی طور پر ایک ایسے تہذیبی اور جامع منصوبے کی شروعات تھی جو اس بات پر یقین ہے کہ تیونس اپنی قدیم عرب اسلامی شناخت کے ساتھ ساتھ، جدت پسندی اور عقلی اقدار کے لیے بھی کھلا رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تحریک نے آغاز ہی سے آمریت کے سامنے پُرامن عوامی جدوجہد کا مشکل ترین اور بہترین راستہ چنا، جو جبر و تشدد کے رجحان کو قطعی طور پر مسترد کرتا ہے۔تحریک کا یہ ایمان ہے کہ جو قومیں جابرانہ نظاموں تلے دب کر زندگی گزار رہی ہیں، وہ صرف مضبوط ارادے، اجتماعی شعور، حق پر ثابت قدمی اور اس پر صبر و استقامت کے ذریعے ہی اپنی آزادی حاصل کر سکتی ہیں۔

 کارکنان تحریک نے اس اصولی موقف کی بھاری قیمت چکائی۔ ان میں سے ہزاروں کارکن،  ظالموں کے قید خانوں میں بند ہوئے، سیکڑوں شہید ہوئے، کچھ تشدد کے باعث دنیا سے رخصت ہوگئے، اور ہزاروں یورپ اور دنیا بھر میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے۔ اس کے نتیجے میں خاندان اُجڑ گئے، منصوبے اور خواب تباہ ہوگئے، اور عمر کے بہترین سال ضائع ہو گئے۔ ان تمام مشکلات کے باوجود، تحریک میں انتشار پیدا نہیں ہوا اور نہ اپنے اصولوں سے پیچھے ہٹی، بلکہ اس نے آزمائش کے برسوں کو فکری گہرائی، خود احتسابی، دوسروں کے لیے کشادگی، اور تجربات سے سیکھنے کے لیے استعمال کیا۔اس نے اسلام اور جمہوریت کے درمیان ہم آہنگی، سول ریاست کے اصولوں، اور ایک تکثیری معاشرے میں اسلامی پس منظر رکھنے والی سیاسی تحریک کے جمہوری عمل کی خصوصیات پر گہرائی سے غور کیا۔ اس نے زیادہ بالغ نظری، عقلی پختگی، حقیقت پسندانہ اور کھلی سیاسی فکر کی بنیاد رکھی۔

۲۰۱۱ءکی جنوری کی صبح جب نمودار ہوئی، تو النہضہ تحریک جمہوری تبدیلی کے موقع کو کامیاب بنانے کے لیے پہلی صفوں میں کھڑی تھی۔ اس نے اکتوبر ۲۰۱۱ء کے پہلے آزاد اور منصفانہ انتخابات میں کامیابی حاصل کی، اور ایک مشکل قومی مکالمے میں حصہ لیا جس نے ملک کو افراتفری کے گڑھے میں گرنے سے بچایا۔ تحریک نے ۲۰۱۴ء کے آئین کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا، جسے عرب دساتیر میں سب سے زیادہ ترقی پسند اور متوازن قرار دیا گیا،اور جب تحریک ۲۰۱۴ء کے انتخابات ہار گئی تو اس نے انتخابی نتائج کو تسلیم کیا اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اقتدار کو منتقل کر دیا۔ اس نے عرب تبدیلیوں کے تناظر میں ایک نادر مثال قائم کرتے ہوئے، اعلیٰ ترین قومی مفاد کی خدمت کے لیے عارضی ذاتی فوائد کو قربان کر دیا۔ تحریک اس تاریخ کو کسی فخر یا دکھاوے کے طور پر پیش نہیں کرتی، بلکہ یہ اس بات کی گواہی ہے کہ جمہوریت سے اس کی وابستگی کوئی عارضی حربہ یا نمائشی فیصلہ نہ تھا، بلکہ یہ روشن خیال اسلامی فکر کے مرجع سے جڑی ایک راسخ یقین دہانی تھی، جس کا اس نے مشکل ترین لمحات میں بھی پاس رکھا۔ 

 ۲- تشخیص اور تجزیہ

۲۵جولائی ۲۰۲۱ء کو، ہمارے ملک کا جمہوری تجربہ، جو تکلیفوں اور قربانیوں کے ساتھ پروان چڑھا تھا، ایک بڑے دھچکے کا شکار ہو گیا۔ جب صدرِ جمہوریہ[قیس سعیّد] نے پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے سے پہلے اس کی سرگرمیاں معطل کر دیں، منتخب حکومت کو برطرف کر دیا، اور قانون سازی، انتظامی اور عدالتی اختیارات کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ انھوں نے ۲۰۱۴ء کے اس آئین کو پسِ پشت ڈال دیا جس کی حفاظت کا انھوں نے حلف اُٹھایا تھا، اور اس ادارہ جاتی توازن کے نظام کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جسے تیونس کے عوام نے پورے ایک عشرے کے دوران بہت سی قربانیوں اور تحمل و برداشت سے تعمیر کیا تھا۔تحریک نے اس وقت جو کچھ ہوا اسے جمہوریت اور آئین کے خلاف ’بغاوت‘ قرار دیا تھا، اور آج یہ حقیقت پہلے سے کہیں زیادہ سچ اور درست ثابت ہو چکی ہے۔ اب اس سچائی پر نہ صرف سیاسی مخالفین متفق ہیں، بلکہ انسانی حقوق کی بڑی تنظیمیں، ماہرینِ تعلیم کے خصوصی ادارے اور اقوامِ متحدہ کے اداروں کی رپورٹیں بھی اس کی تصدیق کر رہی ہیں۔

 اس راستے کے پانچ سال بعد، ہم اس نتیجے پر کھڑے ہیں:

  •   ریاست کی ناقص حکمرانی اور اداروں کی مفلوج حالت: اختیارات کسی حقیقی ادارہ جاتی نگرانی کے بغیر مکمل طور پر فردِ واحد کے ہاتھ میں مرکوز ہو چکے ہیں۔پارلیمنٹ ایک بے وزن، نمائشی ادارہ بن کر رہ گئی ہے، اور عدلیہ ایک انتظامی آلہ بن گئی ہے نہ کہ ایک آزاد اتھارٹی۔
  • قانون سازی اور انتظامیہ کی ابتر صورتِ حال: قانون سازی کے بجائے صدارتی فرامین جاری کیے جاتے ہیں، اور مقدمات کا فیصلہ قانون کے بجائے خواہشات کی بنیاد پر ہوتا ہے۔وفاداری کو ترجیح دیتے ہوئے باصلاحیت افراد کو باہر کر دیا گیا، جس سے انتظامی ڈھانچا بُری طرح متاثر ہو گیا ہے۔ 
  • سیاسی جمود اور منظم جبر: سیاسی قیدیوں کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کر گئی ہے، جن میں پارٹیوں کے سربراہان، جج، وکلا، صحافی، کاروباری شخصیات اور نوجوان کارکن شامل ہیں۔عدالتوں نے من مانے فیصلے جاری کیے جو عشروں پر محیط قید کو بیان کرتے ہیں۔ ان متاثرین میں سب سے نمایاں تحریک کے سربراہ شیخ راشد الغنوشی ہیں، جن کو حال ہی میں عمر قید کے ساتھ ساتھ خالصتاً سیاسی نوعیت کے مقدمات میں کئی عشروں پر محیط قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔ ان تمام اقدامات نے خوف کا ایک ایسا عمومی ماحول پیدا کر دیا ہے جو تیونس کے عوام کو خاموشی اور اطاعت پر مجبور کر رہا ہے۔
  • انسانی حقوق کی پامالی اور آمریت کی طرف گراوٹ: ’رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز‘ کے آزادیِ صحافت کے انڈیکس میں تیونس ۱۸۰ ممالک میں ۱۲۹ویں نمبر پر گر گیا ہے۔انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے تیونسی لیگ اور دیگر تنظیموں کی سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں۔بات یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ایک کارکن کو سوشل میڈیا پوسٹس کی وجہ سے سزائے موت سنادی گئی۔
  • اقتصادی اور مالیاتی تباہی: آج سرکاری قرضہ مجموعی ملکی پیداوار (GDP) کے ۸۰ فی صد سے تجاوز کر چکا ہے۔سنجیدہ اصلاحات کی عدم موجودگی اور نظریاتی تحفظات کی وجہ سے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے ہیں۔براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کی آمد میں کمی آئی ہے، اور مناسب ادارہ جاتی ضمانتوں کی عدم موجودگی میں کئی بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے اپنی فنڈنگ کے دروازے بند کر دیے ہیں۔عام تیونسی شہری روزمرہ کی زندگی میں بڑھتی ہوئی قیمتوں اور عوامی خدمات کی ابتری کی صورت میں اس بحران کو جھیل رہا ہے۔
  • عالمی تنہائی اور بین الاقوامی ساکھ کا نقصان: تیونس نے انسانی اور عوامی حقوق کی افریقی عدالت کے چارٹر کے پروٹوکول سے علیحدگی اختیار کر لی ہے، اور بین الاقوامی حقوق کے نظام کے ساتھ اس کے تعلقات کشیدگی کا شکار ہو چکے ہیں۔ حکومت کے خلاف مذمتی رپورٹس کا سلسلہ جاری ہے۔ مزید براں، حکومت بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو اصلاحات کی سنجیدگی کے بارے میں قائل کرنے میں ناکام رہی ہے، جس کی وجہ سے معیشت کو بحران سے نکالنے کے لیے ضروری بیرونی فنڈنگ کا دائرہ تنگ ہو گیا ہے۔

۳- بڑے خطرات 

تحریک یہ انتباہ کسی تنگ نظر سیاسی دشمنی کی وجہ سے نہیں، بلکہ گہری قومی ذمہ داری کے احساس کے تحت کر رہی ہے۔ تیونس کسی حکومت کی ملکیت نہیں اور نہ یہ کسی ایک پارٹی کا ملک ہے۔ جو بھی اس کی یک جہتی کو خطرے میں ڈال رہا ہے وہ بغیر کسی استثنا کے سب کو متاثر کرے گا۔ آج کے خطرات ماضی کے کسی بھی مرحلے کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ اور خطرناک ہیں۔

  • ریاست کا زوال اور قانونی جواز کا خاتمہ: جب ریاست کے ادارے شہریوں کے حقوق اور مفادات کی حفاظت کرنے کے بجائے، کسی ایک فرد کی طاقت کی خدمت کا ذریعہ بن جائیں، تو ریاست اپنا بنیادی جواز کھو دیتی ہے۔ وہ شہری جو عدلیہ کو ناانصافی اور ظلم کا ہتھیار، پولیس کو دباؤ کا ذریعہ اور انتظامیہ کو عوامی خدمت کے بجائے حکومتی وفاداری کی بیوروکریسی سمجھتا ہے، وہ نفسیاتی اور جذباتی طور پر اپنی ریاست سے الگ ہونا شروع ہو جاتا ہے۔اگر یہ علیحدگی بڑھتی جائے، تو ایک ایسے آئینی و قانونی بحران (Crisis of Legitimacy) کا سبب بنتی ہے جسے محض انتخابات یا ظاہری طریقۂ کار سے حل نہیں کیا جا سکتا۔
  • سماجی آتش فشاں پھٹنے کا خطرہ: برسوں کے دوران شہریوں پر مظالم اور شکایات جمع ہوچکی ہیں، جن میں بڑھتی ہوئی قیمتیں، صحت اور تعلیمی خدمات کی تباہی، یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بے روزگاری میں اضافہ، اور عوامی آزادیوں پر پابندیاں شامل ہیں۔ یہ گھٹن زدہ معاشرہ کسی بھی لمحے ایک آتش فشاں کی طرح پھٹ سکتا ہے جو خدا نخواستہ کسی بھی مقتدرہ (حکومت) کے قابو سے باہر ہو گا۔
  • تشدد اور انتہا پسندی کی دلدل میں گرنے کا خطرہ: تاریخی تجربہ ہمیں سکھاتا ہے کہ حدسے زیادہ استبداد، منظم محرومی اور بڑھتی ہوئی مایوسی بالآخر انتہا پسندی اور تشدد کو جنم دیتی ہے۔ اگر فردِ واحد کی حکمرانی پُرامن اظہار رائے اور شرکت کے دائروں کو ختم کرتی رہی، اور معاشرے کے اخلاقی و تعلیمی نظام کو نقصان پہنچاتی رہی، تو اس کے نتیجے میں ملکی سلامتی کو خطرہ ہے۔

۴-پُرامن جدوجہد کے عزم کا اعادہ

النہضہ تحریک جمہوری جدوجہد کے تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پُرامن جمہوری جدوجہد کا سفر جاری رکھنے کا پختہ عزم دُہراتی ہے۔ اس مرحلے پر عوام کے ساتھ رابطے، معیشت کی ترجیحات اور وسیع تر قومی اتحاد قائم کرنے میں درپیش کمزوریوں اور خامیوں کی نشان دہی کرتی ہے:

۱-  تمام سیاسی قیدیوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی لازمی ہے، اور یہ سب سے پہلا اور اہم ترین مطالبہ ہے۔ سیاسی موقف، جماعتی وابستگی، یا رائے کے اظہار کی وجہ سے قید کیے گئے تمام افراد کا مکمل وقار بحال کیا جانا چاہیے۔ عدلیہ کی آزادی کو بحال کیا جانا چاہیے، اور منصفانہ ٹرائل کی ضمانت دی جانی چاہیے۔

۲- تحریک ملک کی تمام سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کو دعوت دیتی ہے کہ وہ حقوق و آزادیوں کے دفاع، جمہوری راستے کی بحالی، اور ایک نئے سماجی معاہدے کی بنیاد رکھنے کے لیے متحدہ کوششیں کریں۔ یہ معاہدہ زیادہ منصفانہ اور آزادی، جمہوریت اور اقتدار کی پُرامن منتقلی کے اصولوں کو مزید پختہ کرنے والا ہونا چاہیے۔

۳- ایک حقیقی ڈھانچا جاتی اقتصادی اصلاحاتی پروگرام کے نفاذ کی ضرورت ہے جو کاروباری ماحول میں اعتماد بحال کرے، سرمایہ کاری کے دروازے کھولے، اور ساتھ ہی سماجی انصاف کا سختی سے تحفظ اور معاشرے کے کمزور طبقات کی حفاظت کرے۔

اسی طرح ایک وسیع سماجی مکالمے کے دائرے میں عوامی قرضوں کے معاملے کا سنجیدہ حل،اور ملک چھوڑنے والے نوجوانوں کی واپسی، اور وطن میں روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے مخصوص پالیسیاں،سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کرنا اور انتظامی کرپشن کا خاتمہ ملکی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔

 _______________