مسلمانوں کو مغربی دنیا سے زخم کھاتے ہوئے ایک ہزار سال ہوگئے مگر آج بھی مسلمانوں کی عظیم اکثریت مغرب کے بارے میں ’نیک خیالات‘ رکھتی ہے۔ چنانچہ ہمارا سیاسی نظام مغرب سے آیا ہوا ہے۔ ہمارا معاشی نظام مغرب کی عطا ہے۔ ہمارا تعلیمی نظام مغربی علوم و فنون پر کھڑا ہے۔ ہمارا عدالتی نظام مغرب کی نقل ہے۔ حد تو یہ ہے کہ ہماری خواہشیں، آرزوئیں، تمنائیں اور مثالیے (Ideals) تک مغرب سے آئے ہیں۔
جو تھوڑے بہت لوگ مغرب کو کچھ سمجھتے ہیں وہ اس خیال کے حامل ہیں کہ مغرب کا مسئلہ ’بنیاد پرست مسلمان‘ ہیں۔ حالانکہ ایک ہزار سال کی تاریخ گواہ ہے کہ مغرب کا اصل مسئلہ مسلمان نہیں ’اسلام اور پیغمبرؐ اسلام‘ ہیں۔ کل بھی مسلمانوں کے سلسلے میں مغرب کی پوزیشن یہی تھی اور آج بھی اس کی پوزیشن یہی ہے۔ ابھی کچھ سال پہلے تک مغرب ’سُنّی افغانستان‘ کو کچل رہا تھا اور آج وہ ’شیعہ ایران‘ کو بھنبھوڑ رہا ہے۔ اسی لیے ہم نے عرض کیا ہے کہ مغرب کا مسئلہ ’یہ مسلمان‘ یا ’وہ مسلمان‘ نہیں۔ اس کا مسئلہ اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس ہے۔ اس حوالے سے مغرب کی پوری تاریخ ہمارے سامنے ہے۔
یہ ۱۰۹۵ء کی بات ہے۔ اس وقت عیسائیت کی سب سے بڑی شخصیت فرانسیسی نژاد پوپ اُربن دوم (۱۰۳۵ء-۱۰۹۹ء)تھے۔ انھوں نے چرچ میں کھڑے ہو کر کہا کہ خدا نے یہ بات میرے قلب پر القا کی ہے کہ اسلام ایک ’شیطانی مذہب‘ ہے اور عیسائیوں کا فرض ہے کہ وہ اس مذہب اور اس کے ماننے والوں کو صفحۂ ہستی سے مٹادیں‘‘۔ اس سلسلے میں پوپ اُربن دوم نے کوئی ’عقلی دلیل‘ پیش کی اور نہ نقلی شہادت۔ نہ قرآن کی کسی آیت کا حوالہ دیا اور نہ کسی حدیث نبوی کی مثال پیش کی، اور نہ اپنے بقول: مسلمانوں کے کسی ’شیطانی طرزِ عمل‘ کا ثبوت پیش کیا۔ پوپ نے صرف اپنے ’وہم‘ و ’الہام‘ پر بھروسا کیا۔ بہرحال، پوپ کی اس تقریر کا نتیجہ یہ نکلا کہ ۱۰۹۹ء میں یورپ کے تمام ملک اور اقوام ایک صلیبی جھنڈے کے نیچے جمع ہوئیں اور انھوں نے ان صلیبی جنگوں کا آغاز کیا، جو کم و بیش دو سو سال جاری رہیں۔ یہاں نوٹ کرنے کے لائق بات یہ ہے کہ اسلام پر حملہ کسی عام مغربی شخص نے نہیں خود مغرب کی سب سے طاقت ور اور مذہبی شخصیت نے کیا۔ اس نے مسلمانوں پر بعد میں اور ایک مفروضہ گھڑ کر اسلام پر پہلے حملہ کیا۔
مغربی دنیا نے چودھویں صدی میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ پروپیگنڈا کیا کہ آپ معاذ اللہ جھوٹے تھے۔ چنانچہ چودھویں صدی عیسوی کے ایک عیسائی بادشاہ مینوئل دوم نے ایک موقعے پر یہ کہا کہ ’’اسلام صرف تلوار کے زور سے پھیلا ہے‘‘۔ یہاں پر بھی نوٹ کرنے کی اہم بات یہ ہے کہ اہل مغرب نے اسی تسلسل میں صرف مسلمانوں کو نہیں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدفِ تنقید بنایا۔ اس طرح کی باتوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ مغرب کے ممتاز اطالوی شاعر دانتے [م: ۱۳۲۱ء]نے معاذ اللہ ایک نظم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوزخ میں پڑا ہوا دکھایا ہے۔ دانتے اگر عام مسلمانوں کو دوزخ میں پڑا ہوا دکھاتا تو یہ کوئی خاص بات نہ ہوتی، مگر دانتے نے بھی مسلمانوں پر نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کیا۔
یہ کتنی عجیب بات ہے کہ مغرب عیسائی بادشاہ مینوئل دوم کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر لگائے گئے الزامات کو کبھی نہیں بھولا۔ چنانچہ ۲۰۰۹ء میں اس وقت کے پوپ بینی ڈکٹ شانزدہ نے مینوئل دوم کا بیان دُہرایا۔ اس پر مسلم دنیا میں شدید ردعمل ہوا تو پوپ بینی ڈکٹ نے خاموشی اختیار کیے رکھی۔
مغرب نے ۱۸ ویں اور ۱۹ ویں صدی میں مسلم دُنیا پر مشتمل علاقوں پہ قبضہ کیا تو اس نے اپنی محکوم مسلم دنیا میں جدیدیت زدگان (Moderinists) کا ایک ایسا طبقہ پیدا کیا، جو نام کا مسلمان تھا اور ان کا باطن مغرب کے رنگ میں رنگا ہوا تھا۔ برصغیر میں اس کی بڑی مثال سرسیّد احمد خان ہیں۔ سرسیّد نے مفسر قرآن کہلانے کے باوجود قرآن میں بیان معجزات کا انکار کیا ہے۔ انھوں نے معراج کی تفصیلات کو ’خلافِ عقل‘ کہا۔ سرسیّد نے ابرہہ کے لشکر کی ہلاکت کے بارے میں لکھا کہ وہ پرندوں کی کنکریوں سے ہلاک نہیں ہوا تھا بلکہ ابرہہ کے لشکر میں چیچک پھوٹ پڑی تھی اور اس کا پورا لشکر اسی چیچک سے ہلاک ہوا۔ اسی طرح سرسیّد حدیث کے کسی بھی مجموعے کو مستند نہیں سمجھتے تھے۔ یوں سرسیّد نے مسلمانوں کے پورے تفسیری علم کو بھی مسترد کردیا تھا (آج کچھ نام نہاد ’اسکالر‘ اپنی چرب زبانی سے پہلو بدل بدل کر سرسیّد کے نقش قدم پر عمل پیرا نظر آتے ہیں)۔
مغرب کے فکری مرید سرسیّد نے جو مغربی علوم و فنون مسلمانوں پر مسلط کیے، انھوں نے مسلمانوں کے عقائد، نظریات، خیالات اور طرز عمل پر گہرے منفی اثرات مرتب کیے۔ ان مغربی علوم نے مسلمانوں میں خدا کے وجود پر شکوک پیدا کیے تو اکبر الٰہ آبادی نے کہا:
خدا کی ہستی پہ شبہ کرنا اور اپنی ہستی کو مان لینا
پھر اس پہ طرّہ اس ادّعا کا کہ ہم ہیں اہلِ شعور ایسے
کفر نے سائنس کے پردے میں پھیلائے ہیں پائوں
بے زباں ہے بزمِ دل میں شمعِ ایماں ان دنوں
نئی تعلیم کو کیا واسطہ ہے آدمیت سے
جنابِ ڈارون کو حضرتِ آدمؑ سے کیا مطلب
مذہب کبھی سائنس کو سجدہ نہ کرے گا
انسان اُڑیں بھی تو خدا ہو نہیں سکتے
نائن الیون، اکیسویں صدی کا واقعہ ابھی کل کی بات ہے، مگر اس واقعے نے بھی اسلام اور اسلامی تہذیب سے مغرب کی نفرت کو ایک بار پھر آشکار کردیا ہے۔ یہ امر واضح ہے کہ نائن الیون کے ذمے دار اسامہ بن لادن تھے، چنانچہ مغرب کا سارا ملبہ بھی ایک فرد یا ان کی تنظیم القاعدہ پر پڑنا چاہیے تھا۔ مگر ایسا نہیں ہوا، مغرب ایک بار پھر اسلام پر حملہ آور ہوگیا۔ تب امریکا کے صدر جارج بش نے نائن الیون کے بعد عملاً مسلمانوں پر حملہ شروع کرتے وقت اپنی قوم سے خطاب میں یہ اعلان کیا: ’’ہم نے ’کروسیڈ یعنی صلیبی جنگ کا آغاز کردیا ہے‘‘۔ اس اصطلاح کے استعمال پر مسلمانوں نے اعتراض کیا تو جارج بش کے ترجمان نے وضاحت کی کہ جارج بش کی زبان پھسل گئی تھی۔ حالانکہ جارج بش لکھی ہوئی تقریر پڑھ رہے تھے۔ اگر یہ بات مان لی جائے کہ جارج بش کی زبان پھسل گئی تھی تو اس کے بارے میں مغرب کے ممتاز ماہر نفسیات سگمنڈ فرائیڈ نے کہا ہے کہ ’’زبان پھسلنے کا بھی ایک نفسیاتی پس منظر ہوتا ہے‘‘، لیکن جارج بش کے بعد اٹلی کے وزیراعظم [۲۰۰۱ء-۲۰۰۶ء]سلویو برلسکونی نے بھی اسامہ بن لادن پر حملہ کرنے کے بجائے اسلام پر حملہ کیا۔ اس نے کہا: ’’مغربی تہذیب، اسلامی تہذیب سے برتر ہے، کیونکہ مغربی تہذیب کے اقداری نظام نے انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا ہے‘‘۔ امریکا کا اٹارنی جنرل ایش کرافٹ تو اٹلی کے وزیراعظم سے بھی آگے نکل گیا۔ اس نے نائن الیون کے بعد اسامہ بن لادن یا ’القاعدہ‘ پر حملہ کرنے کے بجائے اسلام کے خدا پر حملہ کرتے ہوئے کہا: ’’عیسائیت کا خدا، اسلام کے خدا سے برتر ہے، کیونکہ اسلام کا خدا اپنی عظمت کے اظہار کے لیے مسلمانوں سے جان کی قربانی مانگتا ہے،جب کہ عیسائیت کا خدا ایسا خدا ہے، جس نے اپنی عظمت کے اظہار کے لیے اپنے بیٹے عیسیٰ کی قربانی دے دی‘‘۔ ناٹو کے سابق کمانڈر جنرل کلارک نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے صاف کہا: ’’مغرب کی جنگ اسلام کی حقیقت طے کرنے کے لیے ہے۔ مغرب کو طے کرنا ہے کہ آیا اسلام ایک پُرامن مذہب ہے یا یہ اپنے ماننے والوں کو تشدد پر اُکساتا ہے؟‘‘
مغرب کتنا ’انسان دوست‘ ہے اس بات کا اندازہ اس امر سے کیا جاسکتا ہے کہ امریکا کے سفید فاموں نے امریکا میں ۸ کروڑ سے زیادہ ریڈ انڈینز کو قتل کردیا۔ آسٹریلیا میں مغرب کے سفید فاموں نے آسٹریلیا پر قبضہ کرنے کے لیے ۴۵ لاکھ سے زیادہ ایب اوریجنلز کو مار ڈالا۔ امریکا نے دوسری عالمی جنگ میں جاپان کے خلاف دو ایٹم بم استعمال کر ڈالے۔ اسرائیل نے امریکا کی سرپرستی میں غزہ کے اندر ۸۵ ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کو شہید کردیا۔ ایک لاکھ سے زیادہ فلسطینی زخمی کردیے، اور سلامتی کونسل میں اسرائیل کے خلاف قرارداد وں کو امریکا نے پانچ بار ویٹو کیا۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود ایران کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا۔ مذاکرات جاری تھے کہ امریکا نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کرکے علی خامنہ ای سمیت ایران کے قائدین کی بڑی تعداد کو شہید کردیا۔ اس سے ثابت ہوا کہ مغرب، ابلیس سے بھی بڑا شیطان ہے، بے رحم، مکار اور خونخوار شیطان!
_______________