شاہنواز فاروقی


علّامہ اقبال ہماری عصری تاریخ کی عظیم ترین شخصیتوں میں سے ایک ہیں۔ انھیں ہم صدیوں کے تہذیبی عمل کا حاصل کہیں تو غلط نہ ہوگا۔ ان کی عہد ساز شاعری ہمارے اجتماعی شعور کی صورت گری اور پیش گوئی کی ایسی غیر معمولی صلاحیت رکھتی ہے، جس کے بغیر بڑی شاعری کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ اقبال کی اصل فکر ان کی شاعری میں ملتی ہے۔ مذہبی، تاریخی اور تہذیبی حوالے سے اقبال کی فکر کا سب سے اہم پہلو مغربی تہذیب و تمدن کا تنقیدی جائزہ ہے۔ اکبر الٰہ آبادی کے بعد اقبال ہمارے دوسرے شاعر ہیں جن کے یہاں مشرق و مغرب کی آویزش اور اسلامی و جدید مغربی تہذیب کے اساسی تصورات ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہوکر ایک دوسرے کی حدود اور ماہیت متعین کرتے نظر آتے ہیں۔ اس اعتبار سے اقبال ہمارے پہلے مفکر ہیں جنھوں نے مغرب کے فکری چیلنج سے نظربچا کر چلنے کے بجائے پوری شدت سے اس کا جواب دیا۔ 

اقبال کے سامنے اصل سوال یہ تھا کہ مغربی فکر سے ہمارے تعلق کی نوعیت کیا ہے؟ ان کی پوری زندگی، شاعری، نثر اور مجلسی گفتگوئوں میں اس سوال کا جواب دیتے ہوئے بسر ہوگئی۔ اقبال کے جواب سے کسی کو اتفاق ہو یا اختلاف، لیکن یہ جواب اتنا اہم ہے کہ اگر اس کو نظرانداز کر دیا جائے تو ہماری گرہ میں صرف اکبر کی وہ شاعری رہ جائے گی، جسے ہم میں سے اکثر اپنے جہل مرکب کے باعث مزاحیہ شاعری سمجھتے ہیں۔ اور اگر اکبر کو بھی ایک طرف رکھ دیا جائے تو دو صدیوں کا گونگا پن ہمارے تعاقب میں ہوگا۔ 

عصرِحاضر اور مغربی تہذیب 

اگرچہ اقبال کی اُردو کلیات  اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب کے اساسی تصورات کے موازنے سے بھری پڑی ہے لیکن اس سلسلے میں ان کے شعری مجموعے ضربِ کلیم کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ یہ شعری مجموعہ مغربی مفکر کی گردن پر رکھی ہوئی تلوار ہے اور اس کے ہرصفحے پر تہذیبوں کے درمیان برپا معرکہ جاری نظر آتا ہے۔ اس سلسلے میں اقبال کے جوش و جذبے کا اندازہ اس بات سے کیجیے کہ انھوں نے ضربِ کلیم کے پہلے صفحے پر مجموعے کے نام کے نیچے یہ فقرہ لکھنا ضروری سمجھا:’’یعنی اعلانِ جنگ دورِ حاضر کے خلاف‘‘۔ 

آج ہم تہذیبوں کے تصادم کو رو رہے ہیں یا روتے روتے نظر بچاکر ایک طرف نکلنا چاہتے ہیں اور اقبال جنگ کا اعلان کر رہے ہیں۔ تصادم، جنگ کے مقابلے میں چھوٹی بات ہے۔ ظاہر ہے کہ عہدِ حاضر میں صرف مغربی تہذیب ہی سانس نہیں لے رہی، دنیا کی دوسری تہذیبیں بھی موجود تھیں، مگر چونکہ مغربی تہذیب ہی عصر کا تعین کر رہی تھی، اس لیے عصرِ حاضر سے اقبال کی مراد صرف مغربی تہذیب اور اس کا پیدا کیا ہوا عہد تھا۔ 

بظاہر اقبال نے ضربِ کلیم کے پہلے صفحے پر صرف ایک فقرے میں اعلانِ جنگ کیا ہے، لیکن اس ایک فقرے کی اہمیت بھی غیر معمولی ہے۔ اس لیے کہ یہ اقبال جیسی شخصیت کا فقرہ ہے، کسی ’شوقیہ قلمی فنکار‘ کی کارستانی نہیں ہے۔ اقبال نے یہ فقرہ لکھنا کیوں ضروری سمجھا، جب کہ ضربِ کلیم کے اندرونی صفحات مغرب کی تنقید سے بھرے ہوئے تھے؟ اس کا جواب اس کے سوا کیا ہو سکتا ہے کہ اقبال قاری کے شعور کو پہلے صفحے ہی سے اس جنگ کے لیے تیار کرنا چاہتے تھے، جو ان کے نزدیک اُمتِ مسلمہ کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ تھی۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو اقبال نے اس فقرے کو ’ طبلِ جنگ‘ کے طور پر برتا ہے۔ 

چونکہ اقبال کے یہاں تہذیبوں کے تصادم کا مطالعہ شروع ہو چکا ہے، اس لیے جن لوگوں کا تہذیبی و تاریخی حافظہ کچھ کمزور ہے، انھیں ایک بار پھر یہ یاد دلا دینے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ اقبال کے یہاں یہ تہذیبی تصادم سیموئل ہن ٹنگٹن کے نام نہاد Clash of Civilizations ، فوکویاما کے The End of the Historyاور امریکا کے نیوکونز (Neo Cons)اور ’نائن الیون‘ سے بہت پہلے کی بات ہے۔ یہ چیزیں بیسویں صدی کے اواخر میں ظہور پذیر ہوئیں اور اقبال کی شاعری بیسویں صدی کے اوائل کی داستان ہے۔ اس سے قبل کہ ہم آگے بڑھیں، اس سوال کا جواب دینا ضروری ہے کہ کیا اقبال جدید مغربی تہذیب کو تہذیب قرار دیتے تھے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جدید مغربی تہذیب تو تہذیب ہی نہیں ہے۔ مگر بہتر ہوگا کہ اس سوال کے جواب کے لیے خود اقبال ہی سے رجوع کرلیا جائے۔ 

اس سلسلے میں کلیاتِ اقبال کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اقبال نے ۲۸ مقامات پر جدید مغربی تہذیب کو ’تہذیب‘ قرار دیا ہے۔ یہاں پر اقبال کی گواہیوں کی مثالیں پیش کرنا مفید مطلب ہے: 

تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کُشی کرے گی 
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا، ناپائیدار ہوگا 

______ 

ان کو تہذیب نے ہر بند سے آزاد کیا 
لا کے کعبے سے صنَم خانے میں آباد کیا 

______ 

نظر کو خِیرہ کرتی ہے چمک تہذیبِ حاضر کی 
یہ صنّاعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے 

______ 

کچھ غم نہیں جو حضرتِ واعظ ہیں تنگ دست 
تہذیب نَو کے سامنے سر اپنا خم کریں 

ان اشعار سے یہ ثابت ہے کہ اقبال مغرب پر بے پناہ تنقید کے باوجود جدید مغربی تہذیب کے لیے ’تہذیب‘ ہی کی اصطلاح پسند و استعمال کرتے ہیں۔  

نظم لا الٰہ اِلَّا اللہ اور مغربی تہذیب 

سلیم احمد نے اپنی تنقیدی کتاب اقبال  __     ایک شاعر  میں اقبال کی نظم ’لا الٰہ الا اللہ‘ کو اقبال کی شاعری کی ’سورۂ اخلاص‘ قرار دیا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ قرآن مجید میں الٰہیات یا تصورِ توحید کے حوالے سے سورۂ اخلاص کی جو اہمیت ہے، وہی اہمیت اقبال کی شاعری میں مذکورہ نظم کو حاصل ہے۔ یہی اقبال کی شاعری کا الٰہیاتی پہلو یا Ontological Dimension ہے۔ یہ نظم آپ نے سیکڑوں بار پڑھی یا سنی ہوگی۔ آج ایک بار پھر پڑھ لیجیے: 

خودی کا سِرِّ نہاں لا الٰہ الا اللہ 
خودی ہے تیغ ، فساں لا الٰہ الا اللہ 

یہ دَور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے 
صنم کدہ ہے جہاں ، لا الٰہ الا اللہ 

کیا ہے تُو نے متاعِ غرور کا سودا 
فریبِ سُود و زیاں ، لا الٰہ الا اللہ 

یہ مال و دولتِ دنیا ، یہ رشتہ و پیوند 
بُتانِ وہم و گماں ، لا الٰہ الا اللہ 

خرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زُنّاری 
نہ ہے زماں نہ مکاں ، لا الٰہ الا اللہ 

یہ نغمہ فصلِ گل و لالہ کا نہیں پابند 
بہار ہو کہ خزاں ، لا الٰہ الا اللہ 

اگرچہ بُت ہیں جماعت کی آستینوں میں 
مجھے ہے حکمِ اذاں ، لا الٰہ الا اللہ 

گمان ہے کہ سات شعروں پر مشتمل اس نظم کے معنی سبھی کو معلوم ہوں گے، لیکن جن لوگوں کے لیے نظم کی تفہیم میں کوئی مشکل ہے، ان کے لیے نظم کو آسان کر لیتے ہیں۔ اس کا سب سے بہتر طریقہ شاید یہ ہے کہ ہر شعر کو الگ الگ نثر کے قالب میں ڈھال لیا جائے: 

۱- ’خودی‘ یعنی Selfکا پوشیدہ اسرار (Hidden Mystery)یہ ہے: نہیں ہے کوئی الٰہ سوائے اللہ کے۔ خودی اگر تلوار ہے تو لا الٰہ الا اللہ اس کی دھار ہے۔ 

۲- ہمارے زمانے کو اپنے ابراہیم کی تلاش ہے، اس لیے کہ جہاں بت خانہ ہوگا، وہاں لا الٰہ الا اللہ کی صدا ضرور بلند ہوگی۔ 

۳- تُو نے فائدے اور نقصان کے دھوکے میں پڑ کر (ملّی) وقار کا سودا کرلیا اور سمجھ لیا کہ فائدہ باقی رہنے والا ہے۔ حالانکہ باقی رہنے والی حقیقت تو صرف لا الٰہ الا اللہ ہے۔ 

۴- دنیا کا سارا مال و متاع اور اس سے تعلق کی صورتیں وہم و گمان کے بتوں کے سوا کچھ نہیں۔ 

۵- عقل نے زمان و مکان کے تصور کو پوجنا شروع کر دیا ہے۔ حالانکہ زمان و مکان کا وجود ہی نہیں۔ 

۶- لا الٰہ الا اللہ کی شہادت حالات کی محتاج نہیں۔ حالات اچھے ہوں یا بُرے، اس حقیقت کی گواہی لازم ہے۔ 

۷- خبردار رہ، کسی بھی اجتماعیت سے وابستگی میں خطرات ہیں۔ مت بھول کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ یعنی کسی بھی اجتماعیت کو اپنے لیے الٰہ نہ بنا لینا۔ 

اب آئیے دیکھتے ہیں کہ اس نظم میں ماجرا کیا پیش آیا ہے۔چنانچہ اقبال نے لا الٰہ الا اللہ کو ایک کسوٹی اور پیمانہ بنا کر پیش کیا ہے اور نظم میں جدید مغربی تہذیب کے پورے تہذیبی اور فکری کینوس کو سمیٹنے کی کوشش کی ہے۔ 

اقبال کی شاعری میں ’خودی کا تصور‘ بنیادی اور اسلامی فکر سے ماخوذ ہے۔ لیکن اقبال کو معلوم ہے کہ جدید مغربی تہذیب بھی ’خودی‘ یا Selfکا ایک تصور رکھتی ہے اور یہ تصور بھی مغربی تہذیب کے دائرے میں بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ مغرب میں اس حوالے سے ’سماجی اَنا‘ (Social Self)  اور ’اقتصادی اَنا‘ (Economic Self) کی اصطلاحیں ملتی ہیں، وہاں یہ سمجھا جاتا ہے کہ ’انسانی اَنا‘ کی جڑیں سماجیات اور معاشیات میں پیوست ہوسکتی ہیں۔ لیکن اقبال اس Selfکو مصنوعی یا کم سے کم ’ثانوی اَنا‘ سمجھتے ہیں اور اس نظم کے پہلے شعر میں دونوں تصورات کا ایک موازنہ   (Contrast) وجود میں آتا دکھائی دیتا ہے۔ چنانچہ اقبال کہتے ہیں کہ حقیقی خودی کا راز لا الٰہ الا اللہ میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ’ثانوی اَنا‘ اگر تلوار ہے تو لا الٰہ الا اللہ اس کی دھار ہے اور جب تک انسان کو یہ دھار فراہم نہ ہو، انسان کا بچنا محال ہے۔ اس بحث کے ڈانڈے لفظِ شخصیت (Personality)کے معنی کی بحث سے بھی جا ملتے ہیں۔ 

شخصیت (Persona) مغربی تہذیب میں نظر آتے اُس ’ماسک‘ زدہ چہرے کوکہتے ہیں، جو ادکار اسٹیج پر اداکاری کے لیے استعمال کرتے تھے۔ اس لیے شخصیت ایک اوڑھی ہوئی چیز ہے اور اس کا اصل ’اَنا‘ اور ’خودی‘ سے کوئی تعلق نہیں۔ اقبال نے نظم کے دوسرے شعر میں اس عہد کے تصورات کو بت خانہ قرار دیا ہے اور ابراہیم کی تلمیح کے استعمال سے پیغمبرانہ روایت سے رجوع کی اہمیت واضح کی ہے۔ اس لیے کہ کفر اور شرک کا علاج، کسی چھوٹے کفر اور شرک کے مقابلے پر بڑا کفر یا شرک لانے سے نہیں ہوسکتا، اس کا علاج تو صرف ایمان بالغیب ہے۔ 

تیسرے شعر میں اصل مسئلہ ’فریبِ سود و زیاں‘ کا ہے۔ جدید مغربی فکر نے پوری دنیا میں افادیت پسندی کی وبا عام کر دی ہے اور افادیت پسندی کا فائدے اور نقصانات کے عمومی تصور سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ ایک باضابطہ فلسفہ ہے، جس کا لبِ لباب یہ ہے کہ انسان کو وہی کام کرنا چاہیے جس میں فائدہ ہو۔ یعنی فی نفسہٖ نہ کوئی کام اچھا ہے نہ بُرا ہے اور نہ مطلق نیکی کا وجود ہے نہ مطلق برائی کا بلکہ صرف فائدہ ہی قابلِ لحاظ ’قدر‘ ہے۔ یہ ضابطہ اقبال کے دور میں فلسفہ تھا، اب ہمارا تجربہ و مشاہدہ ہے۔ چنانچہ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ یہ دنیا ایک دھوکا ہے اور اس کے چکر میں پڑ کر تو انفرادی یا اجتماعی وقار کا سودا نہ کر۔ کیونکہ فائدہ اور نقصان تو وہی ہے جس کو خدا نے فائدہ یا نقصان قراردیا ہے، چاہے خدا کے بتائے ہوئے فائدے میں بظاہر تجھے نقصان ہی ہو رہا ہو۔ 

خاتم الانبیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’ہر اُمت کا ایک فتنہ ہے اور میری اُمت کا فتنہ مال ہے اور مال کا فتنہ دنیا کی محبت سے پیدا ہوتا ہے اور دنیا کی محبت آل اولاد کی محبت سے  جنم لیتی ہے‘‘۔ اقبال نے چوتھے شعر میں ان تمام کو وہم و گمان کے ’بُت‘ قرار دیتے ہوئے ان پر خطِ تنسیخ پھیر دیا ہے اور ہمیں اصل حقیقت کی طرف متوجہ کیا ہے۔ اقبال کے زمانے میں یہ فتنہ اس لیے اہم ہوگیا تھا کہ مسلمان غلامی کی زندگی بسر کر رہے تھے اور اقتصادی مشکلات نے مسلمانوں کو گویا تاک لیا تھا۔ 

اقبال کے عہد کی ایک خاص بات زمان و مکان کا وہ مغربی فلسفہ تھا، جو مادے اور وقت کو خدا کے مقام پر فائز کر چکا تھا اور ایسا لگ رہا تھا کہ زندگی اور کائنات کی توجیہ کے لیے انسان کو اب خدا کے تصور کی ضرورت نہیں رہ گئی۔ اگرچہ یہ مغربی فلسفہ تھا، لیکن نو آبادیاتی دور میں یورپی اقوام ساری دنیا پر مسلط تھیں اور ان کے توسط سے یہ فلسفہ ساری دنیا میں عام ہو رہا تھا اور اس نے ایک بڑے فکری بت کی حیثیت حاصل کرلی تھی۔ 

اسلامی فکریات میں خدا کا ’ارادہ‘ اور اس کی ’مشیت‘ نہ کسی زمان (Time)کی پابند ہے نہ مکان (Space)کی۔ وہ کسی بات کا ارادہ کرتا ہے تو وہ ہو جاتی ہے۔ معجزے کا اصول یہی ہے۔ لیکن جدید مغربی فکر انسان کو معجزے کی روایت سے کاٹ کر اس کی عقل کو علت و معلول کا اسیر بناچکی تھی۔ اقبال کے نزدیک ’خرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زنّاری‘ کا یہی مفہوم ہے۔ 

یورپی اقوام کی غلامی اور سیاسی زوال نے مسلمانوں کو اس اندیشے میں مبتلا کر دیا تھا کہ نعوذ باللہ کہیں ان کا دین بھی تو ’زمانی‘ نہیں تھا اور یہ کہ کہیں کلمۂ حق کی شہادت کے تقاضے بھی تو آزادی سے مخصوص نہیں تھے۔ اقبال نے انھیں یاد دلایا کہ اس اندیشے کی کوئی اصل نہیں۔ مسلمان جس حال میں بھی ہوں، ان پر شہادتِ حق واجب ہے ’’بہار ہو کہ خزاں لا الٰہ الا اللہ‘‘۔ 

اقبال کے آخری شعر میں ’جماعت‘ سے مراد گروہ بھی ہے، مسلک بھی، فرقہ بھی ہے، تنظیم بھی، قوم بھی، قبیلہ و ریاست بھی ہے اور محض ادارہ بھی۔ یہاں تک کہ اس کا اطلاق رنگ اور نسل پر بھی ہوتا ہے۔ اقبال کا عہد تو یوں بھی قوم پرستی اور نسل پرستی کا دور تھا اور یہ بلائیں مغرب سے آئی تھیں۔ یہ بلائیں موجود تو اس سے پہلے بھی رہی ہیں، لیکن مغرب نے انھیں فکری اور فلسفیانہ بنیادیں فراہم کرنے کی کوشش کی تھی، چنانچہ یہ اور بھی خطرناک ہوگئی تھیں۔ اقبال ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اسلام ماورائے قومیت، رنگ، نسل ایک حقیقت ہے، چنانچہ مسلمان کے لیے یہ زیبا نہیں کہ وہ کسی ایک دائرے میں محدود ہو کر اس کے مفادات کا ترجمان اور نگہبان بن جائے۔ 

آپ نے دیکھا کہ اقبال کی اس چھوٹی سی نظم میں کس بلا کا تہذیبی معرکہ برپا ہوا ہے اور دوتہذیبیں کیسی ہولناک عدم مطابقت کے ساتھ ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہیں۔  

اسلامی اور مغربی تہذیب کی اساس 

مذکورہ سطور سے اقبال کی شاعری میں اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب کے الٰہیاتی اصول یا Ontological Principleکی نشاندہی اور ان کی کھلی عدم مطابقت ثابت ہوگئی ہے۔ اب آئیے دیکھتے ہیں کہ ان کی شاعری میں اسلام اور مغرب کی نہادِ علم (Epistimology) کا کیا تصور ملتا ہے اور دونوں تہذیبوں کے تصورِ علم میں کیسی ہولناک جنگ برپا ہے؟ لیکن اس سے پہلے ہم یہ یاد دلانا ضروری سمجھتے ہیں کہ اس وقت ہم پینٹ شرٹ اور شلوار قمیص کی سطح پر تہذیبوں کا موازنہ نہیں کررہے بلکہ ہمارا موازنہ تہذیبوں کی روح اور ان کے اصل الاصول کی سطح پر ہے۔ یہ وہ سطح ہے جس کے بغیر ہم مذہبی تو کیا کافرانہ اور مشرکانہ تہذیب کا بھی تصور نہیں کرسکتے۔ اب آئیے اسلامی اور مغربی تہذیبوں کے اصولِ علم کے سلسلے میں اقبال کے شعروں پر نظر ڈالتے ہیں: 

محسوس پر بِنا ہے علومِ جدید کی 
اس دور میں ہے شیشہ عقائد کا پاش پاش 

تعلیمِ پیرِ فلسفۂ مغربی ہے یہ 
ناداں ہیں جن کو ہستیِ غائب کی ہے تلاش 

______ 

دانشِ حاضر حجابِ اکبر است 
بت پرست و بت فروش و بت گر است 

[عہدِ حاضر کا علم( حقیقتِ اولیٰ اور انسان کے درمیان) سب سے بڑا حجاب یا پردہ ہے۔ یہ بت پرست، بت فروش اور بت بنانے والا ہے۔] 

ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم 
کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ 

______ 

گھر میں پرویز کے شیریں تو ہوئی جلوہ نُما 
لے کے آئی ہے مگر تیشۂ فرہاد بھی ساتھ 

’’تخم دیگر بکف آریم و بکاریم زِنو 
کانچہ کشتیم ز خجلت نتواں کرد درو‘‘ 

[ہم ایک اور بیج حاصل کرکے اسے نئے سرے سے بوئیں کیونکہ ہم نے جو کچھ بویا تھا، شرمندگی کے مارے اسے کاٹ نہیں سکتے۔] 

شیدائی غائب نہ رہ ، دیوانۂ موجود ہو 
غالب ہے اب اقوام پر معبودِ حاضر کا اثر 

______ 

تعلیم مغربی ہے بہت جُرأت آفریں 
پہلا سبق ہے ، بیٹھ کے کالج میں مار ڈینگ 

نہادِ علم سے متعلق اقبال کے یہ چند اشعار ہیں، جن میں کہیں اقبال نے علم کی نہاد کی نشاندہی کی ہے اور کہیں علم کا تجزیہ کیا ہے، تو کیا اب ان تمام اشعار کی تشریح کی جائے؟ غالباً زیربحث موضوع کے سلسلے میں اقبال کا صرف ایک شعر ہی کافی ہے: 

محسوس پر بنا ہے علومِ جدید کی 
اس دور میں ہے شیشہ عقائد کا پاش پاش 

آسان لفظوں میں اقبال نے اس شعر میں یہ بتایا ہے کہ جدید مغربی تہذیب کا ’تصورِ علم‘ حواس یا محسوسات پر کھڑا ہوا ہے۔ اقبال کے یہ دو مصرعے دراصل دومصرعے نہیں، دو تہذیبوں کی فوجیں ہیں اور اقبال صاف کہہ رہے ہیں کہ جو جدید علم کے سرچشمے اور اس سے پیدا ہونے والے علوم میں رچ بس جائیں گے، ان کے مذہبی عقائد زیر و زبر ہو جائیں گے۔ اس کی وجہ ظاہر ہے کہ اسلامی عقائد اس عالم سے تعلق رکھتے ہیں جہاں تک حس یا حواس کی رسائی ہی نہیں ہے۔ اس تک رسائی کے لیے انسان ’وحی‘ کا محتاج ہے۔ چونکہ جدید مغربی تہذیب کا تصورِ علم وحی کو تسلیم نہیں کرتا، اس لیے وہ مذہبی عقائد کا انکار کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ مذہبی عقائد کی تحقیر کرتا ہے۔ اقبال کا یہ شعر پھر پڑھ لیجیے: 

تعلیمِ پیرِ فلسفۂ مغربی ہے یہ 
ناداں ہیں جن کو ہستیِ غائب کی ہے تلاش 

اس شعر میں اس جاہلانہ مغربی تصور کو بیان کرتے ہیں:وہ شخص ’ناداں‘ یا احمق ہے جس کو ہستیٔ غائب یعنی خدا کی تلاش ہے۔  آخرت اور جنت و دوزخ کا بھی کوئی وجود نہیں___ اس سے خیر و شر، نیکی و بدی اور حسن و قبح تک کے پیمانے بدل کر رہ جاتے ہیں۔ 

یہاں اس امر کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ حواس کی اطلاع یا ان کا علم بجائے خود کچھ نہیں۔ عقل اس کو مرتب کرکے اس سے نتائج نکالتی ہے لیکن عقل کا معاملہ یہ ہے کہ اسے جیسی اطلاع ملے گی، وہ ویسا ہی نتیجہ نکالے گی۔ یہ ڈیٹا اور کمپیوٹر والا معاملہ ہے کہ انھیں جیسا ڈیٹا فراہم کیا جاتا ہے، وہ ویسا ہی نتیجہ نکالتے ہیں۔ علم رسائی ہے لیکن انھی وجوہ کی بنا پر اقبال جدید مغربی فکر کو رسائی کے بجائے ’حجابِ اکبر‘ کہتے ہوئے اسے مسترد کر دیتے ہیں۔ اقبال نے تو اس تعلیم کے نتائج دیکھ کر عرشی کے فارسی شعر کے توسط سے یہ تک کہہ دیا ہے کہ ’’اب ہمیں اپنے علم کا ایک نیا بیج بونا پڑے گا کیونکہ مغربی علم کے بیج نے تو ہمیں وہ چیزیں دی ہیں جن پر ہم شرمندہ ہی ہوسکتے ہیں‘‘۔ یہ مسلم دنیا میں ایک نئی ’علمیات‘ (Epistimology) کے لیے بلند ہونے والی سب سے توانا آواز ہے اور یہ آواز کل پرسوں نہیں، بیسویں صدی کے پہلے عشروں میں بلند ہو چکی تھی مگر ہم نے اقبال کی آواز تک پر کان نہیں دھرے۔  

اس سلسلے میں ہماری بے اعتنائی مجرمانہ بلکہ کافرانہ ہے اور اس جرم اور کفر میں بڑے بڑے لوگ شامل ہیں۔ ہم مسلم عوام اور خواص کو یہ تک نہیں بتا سکتے کہ اسلامی تہذیب اور جدید مغربی تہذیب کا تصورِ علم ایک دوسرے کی ضد ہے اور ہمیں اپنے تصورِ علم کے مطابق اپنے علوم کا احیا کرنا ہوگا۔ اقبال کے بعد یہ حقیقت جس شخصیت نے نہ صرف سمجھی بلکہ پوری قوت سے بیان بھی کی، وہ سیّدابوالاعلیٰ مودودیؒ تھے، جنھوں نے مغربی علوم کی نہاد یا مغربی علمیات (Epistimology) کی وجہ سے جدید تعلیمی اداروں کو نئی نسل کی قتل گاہیں قرار دیا تھا۔ اقبال اور سیّد مودودی کے ذکر سے ہمیں اکبر الٰہ آبادی یاد آگئے جنھوں نے کہا تھا: 

یوں قتل سے بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا 
افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی 

’عقل و خرد‘ اور ’عشق‘ 

اسی طرح اقبال کی شاعری کا سرسری مطالعہ کرنے والوں پر بھی یہ حقیقت منکشف ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی کہ اقبال کے یہاں عقل اور دل، یا خرد اور عشق کے درمیان ایک گہرا تضاد پایا جاتا ہے، جو کئی صورتوں میں شدید تصادم کا رنگ اختیار کرلیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ اقبال کا ذاتی مسئلہ ہے؟ یا اس چیز کا اسلامی فکر اور اسلامی تہذیب اورجدید فکر اور مغربی تہذیب سے کوئی تعلق ہے؟ 

اس سوال کا جواب واضح ہے۔ یہ اقبال کا ذاتی مسئلہ نہیں۔ جدید مغربی تہذیب نے اپنی تاریخ کے ایک مرحلے پر عقل کا ایک خاص تصور وضع کیا اور پھر اسی کی اسیر ہوکر رہ گئی۔ یہ تصور اسلامی فکر میں موجود عقل کے تصور کی تقریباً ضد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال کی شاعری عقل و خرد کی مذمت اور تنقید سے بھری ہوئی ہے۔ یہاں تک کہ ان کی شاعری میں ان تصورات کے لیے تحقیر کا پہلو بھی ملتا ہے۔ اس کے برعکس عقل و خرد کے مقابلے میں اقبال ’عشق‘ اور ’دل‘ کو لاتے ہیں اور ان دونوں حقیقتوں کا بیان اقبال پر ایک سرشاری اور سرمستی طاری کر دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اقبال کے یہاں عقل و خرد کی مذمت اور تحقیر کیوں پائی جاتی ہے اور اس کی مختلف صورتیں کیا ہیں؟  

خِرد واقف نہیں ہے نیک و بد سے 
بڑھی جاتی ہے ظالم اپنی حد سے 

خدا جانے مجھے کیا ہوگیا ہے 
خِرد بیزار دل سے، دل خرد سے 

پہلے شعر میں اقبال نے ’خرد‘ پر الزام لگاتے ہوئے اس کے خلاف ایف آئی آر کٹوا دی ہے اور دوسرے شعر میں اپنے اندر برپا معرکے اور اس سے پیدا ہونے والی کیفیت کا ذکر کیا ہے: 

عقل ’عیّار‘ ہے ، سو بھیس بنا لیتی ہے 
عشق بے چارہ نہ ملاّ ہے نہ زاہد نہ حکیم! 

______ 

آہ! یہ عقلِ زیاں اندیش کیا چالاک ہے 
اور تاثر آدمی کا کس قدر بے باک 

______ 

عقل کو تنقید سے فرصت نہیں 
عشق پر اعمال کی بنیاد رکھ 

______ 

عقل گو آستاں سے دُور نہیں 
اس کی تقدیر میں حضور نہیں 

______ 

عقل بے مایہ امامت کی سزاوار نہیں 
راہبر ہو ظن و تخمیں تو زبُوں کارِ حیات 

______ 

گزر جا عقل سے آگے کہ یہ نُور 
چراغ راہ ہے منزل نہیں ہے 

______ 

عقل کو ملتی نہیں اپنے بتوں سے نجات 
عارف و عامی تمام بندۂ لات و منات 

______ 

خوار ہُوا کس قدر آمِ یزداں صفات 
قلب و نظر پر گراں ایسے جہاں کا ثبات 

______ 

اقبال کے ان شعروں کو پڑھ کر خیال آتا ہے کہ اب ’مجرّدعقل‘ کے خلاف کہنے کو رہ کیا گیا ہوگا؟ لیکن اقبال کا آخری وار سب سے کاری ہے۔ وہ فرماتے ہیں: 

عشق تمام مصطفےٰؐ ، عقل تمام بولہب 

اور پھر اس کے بعد مغربی تہذیب سے متعلق اقبال نے کہا ہے: 

تڑپ رہا ہے فلاطوں میانِ غیب و حضور 
اَزل سے اہلِ خِرد کا مقام ہے اعراف 

پھر پوری مغربی تہذیب کی روح کا صرف ایک مصرع میں بیان: 

فرنگِ دل کی خرابی خرد کی معموری 

دل کی خرابی تو خیر پھر بھی کچھ سمجھ میں آنے والی بات ہے، لیکن ’خرد کی معموری‘ کیا بلا ہے؟ اس کے معنی یہ ہیں کہ مغربی تہذیب دل کی خرابی میں مبتلا ہونے کے بعد سے صرف عقل کو پالنے پوسنے میں لگی ہوئی ہے۔ یعنی افلاطون تو بے چارہ غیب اور حضور کے درمیان تڑپ ہی رہا تھا مگر اقبال کے زمانے تک آتے آتے مغربی فکر ’غیب‘ سے بے نیاز ہو کر صرف ’حضور‘ پر مرتکز ہوگئی۔ 

محمد حسن عسکری نے اپنی مشہور تصنیف جدیدیت  یعنی ’مغربی فکر کی گمراہیوں کا خاکہ‘ میں لکھا ہے کہ افلاطون تک مغرب ’عقلِ کلّی‘(Intellect) اور ’عقلِ جزوی‘ (Reason) کے فرق سے واقف تھا لیکن اس کے شاگردِ رشید ارسطو کے بعد مغرب اس فرق کو بھولتا چلا گیا اور بالآخر اس نے ’عقلِ جزوی‘ ہی کو سب کچھ سمجھ لیا۔ لیکن ان دونوں کا بنیادی فرق کیا ہے؟ 

’عقل جزوی‘ دراصل تجزیہ کار عقل ہے اور وہ چیزوں کو ٹکڑوں میں تقسیم کرکے انھیں سمجھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا فہم ادھورا اور تقسیم شدہ ہوتا ہے، شے کی کلّی تفہیم نہیں ہوتی۔ یہ عقل حواس کی فراہم کردہ معلومات سے آگے جانے کی اہلیت نہیں رکھتی۔ اس کے برعکس ’عقلِ کلّی‘ یا وجدان اور الہام کے ذریعے شے کی پوری حقیقت کو سمجھ لیتی ہے اور اسے تجزیے کی زحمت نہیں کرنی پڑتی۔  

آپ نے اقبال کے یہاں عقل کی مذمت اور اس کے معنی ملاحظہ کرلیے۔ اب ذرا ان کے یہاں عشق، جنوں اور دل کا بیان بھی دیکھ لیجیے: 

زمانہ عقل کو سمجھا ہوا ہے مشعلِ راہ 
کسے خبر کہ جُنوں بھی ہے صاحبِ ادراک 

______ 

دلِ بیدار فاروقی، دلِ بیدار کرّاری 
مِسِ آدم کے حق میں کیمیا ہے دل کی بیداری 

عشق کی اِک جَست نے طے کر دیا قصّہ تمام 
اس زمین و آسماں کو بے کراں سمجھا تھا میں 

______ 

دل کی آزادی شہنشاہی، شِکّم سامانِ موت 
فیصلہ تیرا ترے ہاتھوں میں ہے ، دل یا شکم! 

______ 

عشق کی تقویم میں عصرِ رواں کے سوا 
اور زمانے بھی ہیں جن کا نہیں کوئی نام 

______ 

قُوّتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے 
دہر میں اسمِ محمدؐ سے اُجالا کر دے 

غور کیا جائے تو اقبال کے یہاں ’عشق‘ اور’ دل‘ اسلامی تہذیب کے تناظر میں انسانی وجود کی کلیت کے استعارے اور عقلِ کلّی کی علامتیں ہیں۔ چونکہ اقبال کے زمانے تک آتے آتے یہ علامتیں مٹتی جارہی تھیں، اس لیے اقبال نے ان کی بحالی اور انھیں ایک بار پھر زندہ کرنے کے لیے اپنے وجود کی پوری تخلیقی قوت صرف کر دی۔انھوں نے ’عقل اوردل‘ اور ’عقل اور عشق‘ کو ایک دوسرے کےمقابل لاکر دکھایا کہ ہم کیا ہیں اور مغرب اور مغربی فکر کیا ہے؟  

پھر اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ اقبال نے ہر جگہ عقل پر دل اور عشق کی فوقیت ثابت کی ہےاور اپنی تہذیبی روایت پر ہمارا اعتماد بحال کیا ہے۔ دو تہذیبوں کے دو اساسی تصورات کی یہ ’عدم مطابقت‘ اور یہ ’تصادم‘ کلیاتِ اقبال میں تو موجود ہے اور کلیاتِ اقبال کو لگنے والی دیمک تک بھی اس سے آگاہ ہے، مگر افسوس کہ خود مردِ مسلمان اس سے واقف نہیں! اور مردِ مسلماں کی عشق سے محرومی کا نتیجہ یہ بیان کرتے ہیں: 

اگر ہو عشق تو ہے کفر بھی مسلمانی 
نہ ہو تو مردِ مسلماں بھی کافر و زندیق 

ٹیلی وژن کو Idiot Box (احمق ڈبّا)کہا جاتا ہے لیکن پاکستان میں دیکھتے ہی دیکھتے اس نے ’پنڈورا باکس‘ کی حیثیت بھی حاصل کرلی ہے‘ تاہم یونانی اسطور یا mythology میں پنڈورا باکس تجسس کی وجہ سے کھولا گیا تھا۔ لیکن وطن عزیز میں ٹیلی وژن کا پنڈورا باکس پوری منصوبہ بندی کے ساتھ کھولا گیا ہے اور اس سے برآمد ہونے والی تمام بلائیں ’پالتو‘ ہیں۔

جنرل پرویز کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے پاکستان میں ذرائع ابلاغ کو آزادی دی ہے اور اس کا ایک ثبوت پاکستان میں آزاد ٹی وی چینلوں کی بھرمار ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک ایسے ملک میں جہاں اشتہارات کا سالانہ بجٹ ۶‘۷ ارب سے زائد نہ ہو‘ وہاں درجنوں چینلوں کو منافع میں کیسے چلایا جاسکتا ہے؟ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اس صنعت میں غیر ملکی سرمایہ خفیہ انداز میں در آیا ہے اور پاکستان میں ٹی وی چینلوں کا boom (تیزی) دراصل امریکا‘ یورپ اور بھارت کی   پیش قدمی بن گئی ہے؟ اس بارے میں وثوق سے کچھ بھی کہنا دشوار ہے‘ تاہم جو بات سامنے ہے‘ وہ سب ان چینلوں پر غیر ملکی مدار کی یورش دیکھنے میں آرہی ہے۔ کیا یہ اتفاق ہے؟ ہولناک بات یہ ہے کہ ان چینلوں کا جو مقامی مواد ہے‘ وہ بھی مغرب یا بھارت کے چینلوں کی نقل اور ان کا چربا ہے۔ اس سلسلے میں غیر ملکی چینلوں کے پروگرام کے نام اور ان کی پیش کش کا انداز تک چوری کیا جارہا ہے۔ یہ ذہنی اور اخلاقی دیوالیے پن کی انتہا ہے۔ نتیجہ یہ کہ یہ چینل ہمارے معاشرے میں پورس کے ہاتھیوں کا کردار ادا کررہے ہیں۔ پورس کے یہ ہاتھی ہر گھر میں گھس آئے ہیں۔

ابلاغیات کے ایک ممتاز مذہبی ماہر مارشل میکلوہن نے کار کی ایجاد پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے انسانی پائوں کو توسیع دے دی ہے۔ تاہم ٹیلی وژن پر کلاسک کا درجہ رکھنے والی کتاب: Four Argument &  for the Elemination of Television کے مصنف جیری مینڈر نے اس تبصرے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کار نے انسانی پائوں کی رسائی نہیں بڑھائی بلکہ اس نے انسانی پائوں کی جگہ لے لی‘ یعنی اس کا متبادل بن کر بیٹھ گئی۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ٹی وی چینلوں کی کثرت کا معاملہ بھی یہی ہے۔ چینلوں کی کثرت نے راے کی آزادی کو بڑھایا نہیں‘ اس کا دھوکا تخلیق کیا ہے‘ ورنہ راے پہلے سے زیادہ کنٹرول ہوگئی ہے۔   لوگ اس حقیقت کو سمجھ لیں گے مگر اس میں وقت لگے گا۔ البتہ تفریح کی آڑ میں آزادی کا ہر بند ٹوٹ گیا ہے لیکن یہ سیلاب کا منظر ہے۔ سیلاب زدہ علاقوں میں ہر طرف پانی ہوتا ہے اور پانی میں گھرے ہوئے لوگ پینے کے لائق ایک گلاس پانی کو ترس جاتے ہیں۔ چنانچہ لوگ تفریحی سیلاب میں حقیقی تفریح کو ترس رہے ہیں۔

پاکستان کی تاریخ میں یہ بات بھی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی کہ امریکا اور اس کے مقامی ایجنٹوں کو حدود اللہ پر تنازع برپا کرنے اور اس میں ترامیم کا خیال آیا تو اس کے لیے ٹی وی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا اور صرف ایک ماہ میں اصولوں کی تفہیم کو تحلیل کردیا گیا۔ ٹی وی کے میڈیم میں تفہیم دشمنی ویسے ہی خلقی طور پر موجود ہے۔ جیری مینڈر نے اپنی کتاب میں ٹی وی کے ایک ماہر برٹ جان کا یہ فقرہ نقل کیا ہے:

There is a bias in television journalism. It is not against particular party or point of view. It is a bias against understanding.

ٹی وی کی صحافت میں ایک یک طرفگی یا جھکائو ہے لیکن یہ جھکائو کسی پارٹی یا نقطۂ نظر کے خلاف نہیں ہے بلکہ یہ تفہیم کے خلاف ہے۔

اس صورت حال کے خلاف معاشرے میں ردعمل موجود ہے لیکن صرف شخصی سطح پر۔ اجتماعی سطح پر ردعمل کی یا تو کوئی صورت ہی موجود نہیں یا ہے تو وہ موثر نہیں ہے۔ آخر اس کی وجوہ کیا ہیں؟

بدقسمتی سے معاشرے میں نائن الیون کے بعد رونما ہونے والے واقعات کو صرف سیاسی اور عسکری حوالوں سے دیکھا گیا۔ اکثر لوگ بھول گئے کہ مغرب کی تاریخ یہ ہے کہ فوجی طاقت کے استعمال کے بعد مغرب مذہبی اور تہذیبی سطح پر پیش قدمی کرتا ہے اور اس بار بھی ایسا ہی ہوگا۔ چنانچہ یہ محض اتفاق نہیں تھا کہ امریکا عراق کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کررہا تھا تو عراق کے اسکولوں کے لیے نیا نصاب اس کے فوجیوں کی بغل میں تھا۔ افغانستان میں یہ عمل ذرا تاخیر سے شروع ہوا، اس لیے کہ وہاں کے معروضی حالات عراق سے قدرے مختلف تھے۔ اس پہ حالات و واقعات کی افتاد اتنی تیز ہے، ان کو ایک تناظر میں دیکھنے کے لیے تربیت یافتہ آنکھ درکار ہے۔

جنرل پرویز نے ۱۱ستمبر کی رات ایک ٹیلی فون کال پر پورا ملک امریکا کے حوالے کیا تو اکثر لوگوں نے سمجھا یہ محض ایک حکمت عملی ہے اور امریکا کی بلا کو ٹالا جارہا ہے۔ اس ناقص تفہیم نے بھی ملک کے اندر رونما ہونے والی بہت سے تبدیلیوں اور قوم کی تفہیم کے درمیان حجاب کا کردار ادا کیا۔ تاہم‘ بعد کے حالات نے تو ثابت ہی کردیا کہ ہتھیار ڈالنے کا عمل عسکری اور خارجہ امور تک محدود نہیں۔ ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی کی ہر قابل ذکر اور قابل غور چیز اس کی زد میں آچکی ہے۔

ہماری اجتماعی زندگی کی ایک بڑی نفسیاتی مشکل یہ ہے کہ بہت سے لوگوں کے لیے ہماری دنیا ہماری اپنی نہیں۔ یہ امریکا، جرنیلوں یا بیک وقت دونوں کی دنیا ہے اور ہمارا کام صرف یہ ہے کہ جو کچھ بھی ہورہا ہو، اس میں خود کو اس کے مطابق (adjust) کرنے کی کوشش کریں۔ یہی ذہانت ہے، یہی سیاسی بصیرت ہے، یہی تدبر ہے۔ اعلان تو کوئی نہیں کرتا لیکن اکثر لوگوں کے طرزفکر اور طرزعمل سے لگتا ہے کہ نعوذ بااللہ اس دنیا کا کوئی خدا نہیں ہے اور ہماری یہ دنیا صرف دنیاوی طاقتوں کے حکم اور اصولوں پر چل رہی ہے۔ یہ طرزفکر ہر بگاڑ کو ہمارے لیے قابل قبول بنائے چلا جارہا ہے۔ بے شک اندھا دھند مزاحمت حماقت ہے اور کوئی احمق ہی اس کی حمایت کرسکتا ہے۔ لیکن اندھا دھند صرف مزاحمت نہیں ہوتی، چشم پوشی اور چیخ سے فرار بھی اندھا دھند ہوسکتا ہے‘ اور اس وقت ہم معاشرے میں اندھا دھند چشم پوشی اور اندھا دھند فرار ہی کا مشاہدہ کررہے ہیں۔

یہ مسئلہ بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ ہمیں اب تک سرکاری ٹی وی کے خلاف ردعمل ظاہر کرنے کی ’عادت‘ ہے۔ مگر اب ہمارے سامنے پی ٹی وی نہیں، نام نہاد آزاد چینل ہیں۔ یہ ایک نیا تجربہ ہے اور اس تجربے کو چیلنج کرنے کا عمل ہمیں ابھی ’سیکھنا‘ ہے لیکن تبدیلی اتنی برق رفتار ہے کہ ہم جتنی دیر میں یہ عمل سیکھیں گے، اتنے وقت میں سماجی اقدار کے بیخ و بن  .ُ   ادھڑ چکے ہوں گے۔

اس سلسلے میں ہمارے مذہبی طبقات کی ایک مشکل یہ ہے کہ وہ عریانی و فحاشی کا شور مچاتے رہتے ہیں اور یہ ردعمل پہلے سے موجود خانوں میں ’فِٹ‘ کردیا جاتا ہے۔ مطلب یہ کہ مذہبی عناصر تو یہی رونا روتے رہتے ہیں۔ حالانکہ اب دیکھا جائے تو مسئلہ محض عریانی و فحاشی کا ہے بھی نہیں۔ ابلاغ کے تمام ذرائع بالخصوص ٹیلی وژن اب معاشرے کی تشکیل نو کے لیے استعمال ہورہا ہے اور یہ عریانی و فحاشی سے ایک لاکھ گنا خطرناک بات ہے۔ پھر یہ بات بھی اہم ہے کہ اب عریانی و فحاشی زندگی کا معمول یا normal experience بنا کر پیش کی جارہی ہے اور یہ تصور بھی معاشرے کی تشکیل نو کا حصہ ہے۔ چنانچہ اصل مسئلہ معاشرے کی قلب ماہیت یا transformation ہے۔

چٹورپن ہمارے لیے کوئی نئی بات نہیں لیکن کھانے پینے کے پروگراموں کو ہمارے چینلوں پر جو اہمیت دی جارہی ہے‘ اس سے خود ایک نیا تصور زندگی اور تصور انسان پیدا ہورہا ہے۔ یہ چٹورپن کو نظام بنانے یا systematize کرنے کی سازش ہے اور عریانی و فحاشی سے زیادہ خطرناک ہے‘ اس لیے کہ اسے خطرناک سمجھنے والے آٹے میں نمک سے بھی کم ہیں۔ دنیا بھر میں صارفین اور    ٹی وی کے صارفوں کی انجمنیں اس امر پر دھیان رکھتی ہیں کہ کیا دکھایا جارہا ہے۔ چنانچہ اس حوالے سے مغربی ملکوں میں قابل اعتراض چیزوں پر اعتراض ہوتا ہے‘ احتجاج کیا جاتا ہے۔ مگر ہمارے یہاں لوگ کھانے میں زہر کھا کر بھی مشکل ہی سے احتجاج کرتے ہیں اور ٹی وی کا زہر تو ویسے بھی ’تفریحی زہر‘ ہے۔ اس کی شناخت کون کرے؟ اور اس کے اثرات پر احتجاج کی نوبت کیسے آئے؟

ٹیلی وژن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ electronic parent یا برقی والدین کا کردار ادا کررہا ہے۔یہ بات ۱۹۷۰ء کی دہائی میں مغربی معاشروں کے حوالے سے کہی گئی مگر اب صورت حال یہ ہے کہ ٹی وی ہی ماں باپ کا کردار ادا کررہا ہے۔ ٹی وی ہی استاد ہے‘ ٹی وی ہی اسکول ہے۔ کبھی کہا جاتا تھا‘ ٹی وی بچوں کو بہت جلد بڑا بنا دیتا ہے مگر ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہ کیسے ’بزرگوں‘ کو ’بچہ‘ بنا رہا ہے۔ میر تقی میر نے کہا تھا  ع   مژگاں کو کھول شہر کو سیلاب لے گیا

یوں لگتا ہے کہ ہمارے یہاں سیلاب صرف شہر نہیں شہر کو دیکھنے والی آنکھ بھی لے گیا ہے۔