جولائی ۲۰۲۶

فہرست مضامین

مولانا مودودیؒ کا زمانہ!

سلیم احمدؒ | جولائی ۲۰۲۶ | تاریخ وسوانح

Responsive image Responsive image

تاریخ اگر بقول ایمرسن بڑے آدمیوں کا سایہ ہے تو برصغیر کے گذشتہ کئی عشروں کی فکری اور علمی تاریخ، مولانا مودودیؒ کے سائے کا نام ہے۔ حالات ایک رخ پر سفر کرتے ہیں، لمحوں کے بعد لمحے آتے جاتے رہتے ہیں اور ان کی ایک زنجیر سی بنتی رہتی ہے۔ عام انسان اس زنجیر میں جکڑے ہوئے اسی طرف بہتے رہتے ہیں جدھر زمانہ ان کو لے جانا چاہتا ہے۔ لیکن وقت کی آغوش میں تقدیر الٰہی سے ایک ایسا انسان پیدا ہوتا ہے اور تاریخ کی زنجیر جبراً ٹوٹ جاتی ہے۔ عہد کہن اپنے آثار کو سمیٹ کر رخصت ہونے لگتا ہے اور مستقبل کی نئی عمارتیں تعمیر ہوتی ہیں۔ ماضی وحال کے دھندلکوں میں بھٹکنے والے انسان سفر حیات کی نئی جہتوں اور نئی منزلوں سے آشنا ہوتے ہیں۔ تب ہم اس انسان کو انسان نہیں کہتے ایک علامت کہتے ہیں اور اس کا زمانہ اس کی علامت سے پہچانا جاتا ہے۔ مولانا مودودی بھی ایک ایسے انسان، ایک ایسی ہی علامت تھے اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا زمانہ مولانا مودودی کا زمانہ ہے۔

مولانا مودودی ایک ایسے وقت میں پیدا ہوئے جب روشنیاں اور تاریکیاں ایک دوسرے کو کاٹ رہی تھیں۔ مسلمان بحیثیت مجموعی بہت اِدبار [پستی و ذلت]کا شکار تھے۔ لادینی علوم اور جاہلی فکری تبلیغ و اشاعت نے مسلمانوں کو ذہنی انتشار میں مبتلا کر دیا تھا۔ ایمان اور یقین کے چراغ جھلملا رہے تھے، دلوں میں شکوک اور اوہام کی آندھیاں چل رہی تھیں۔ اہل علم میں اسلام کا نام لینا باعثِ خفت تھا۔ مغربی تہذیب کے زیر اثر طرح طرح کے فتنے مسلمانوں میں پھیل رہے تھے۔ لوگوں کی زندگی سے مقصدیت کی روشنی غائب ہو گئی تھی۔ پڑھا لکھا طبقہ خداشناسی اور خودشناسی کو بھول کر گمراہی اور بے یقینی کے راستوں پر بھٹک رہا تھا۔ اقبالؒ کی آواز بلند ہو چکی تھی مگر اس کے سننے والے اور سن کر سمجھنے والے خال خال تھے۔

بحیثیت مجموعی یہ ایک ایسے خلفشار کا زمانہ تھا، جس کی تہہ سے تاریکی ہی تاریکی ابل رہی تھی۔ ایسے میں مشیت الٰہی نے ایک چراغ روشن کیا، حق کی آواز بلند ہوئی اور مولانا مودودی نے اسلام اور مسلمانوں کی سربلندی کا ایک نیا خواب دیکھا۔ ایسا خواب جو کفر و الحاد کی فضا کو بدل دے۔ ایک ایسا انقلاب جو اسلام کو زندہ کر دے۔ تم دیکھ رہے ہو کہ ایک ایسا انقلاب جو ہمارے دروازوں اور دلوں پر دستک دے رہا ہے۔ یقیناً اس انقلاب کی تعمیر میں بہت سی قوتیں بہت سی توانائیاں، بہت سی آوازیں شامل ہیں، مگر دیکھو ان سب میں سب سے بلند، سب سے روشن اور سب سے نمایاں آواز کس کی ہے؟ تمھارا جواب صرف ایک ہی ہو گا سیّد مودودی کی آواز، مولانا مودودی کی آواز!

مولانا مودودی نے جب اپنے کام کا آغاز کیا، تب حالات آج جیسے نہیں تھے، پہاڑ جیسی مشکلات مولانا کے راستے میں حائل تھیں۔ وہ خدا کی وسیع دنیا میں اپنے مقصد کے ساتھ یکتا و تنہا تھے۔ ان کا کام آسان نہیں تھا۔ یہ اندھیرے میں چراغ جلانے بلکہ آفتاب ڈھالنے کا کام تھا۔ مولانا مودودی اس کام کی مشکلات سے واقف تھے کہ چراغ جلاؤ تو ہوا کتنی تیز ہو جاتی ہے۔ مولانا مودودی کے خلاف آندھیاں اٹھ کھڑی ہوئیں۔ جس وقت تک وہ سطریں لکھی جا رہی تھیں تو لاکھوں درد مند دل ان تیروں سے زخمی ہوئے جو مولانا مودودی کی طرف اس جرم میں پھینکے گئے کہ وہ حق کی سربلندی کیوں چاہتے تھے؟

میں یہ نہیں کہتا کہ مولانا سے غلطیاں نہیں ہوئیں، ضرور ہوئی ہوں گی۔ میں یہ نہیں کہتا کہ مولانا سے اختلاف نہیں کرنا چاہیے، یقیناً اتفاق کی طرح اختلاف بھی ہر شخص کا حق ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ مولانا پر نکتہ چینی گناہ ہے، مولانا بھی انسان تھے تنقید اور نکتہ چینی سے بلند نہیں تھے۔ لیکن میں یہ ضرور کہتا ہوں کہ مولانا اس دور میں اسلام کی ایک ایسی آواز تھے جس کو کفر و الحاد کی سب قوتیں خاموش کر دینا چاہتی تھیں۔ گمراہی کی ہر تلوار مولانا پر اٹھتی تھی، کفر کی ہر توپ کا رخ مولانا کی طرف تھا۔ دنیا کی ہر وہ قوت جو اسلام کی دشمن تھی، مولانا کی بھی دشمن تھی۔ پھر اس کا کیا سبب ہے کہ مودودی دشمنی میں اسلام کے دشمن اور اسلام کے نام نہاد دوست ایک ہو جائیں؟ یقیناً مولانا بیگانوں کے تیر سہہ سکتے تھے، دشمنوں کے وار برداشت کر سکتے تھے، مگر ذرا اس قلب کی حالت پر غور کرو، جس پر زخم لگانے والوں میں غیروں کے ساتھ اپنے بھی پیش پیش تھے۔

  •  غلبۂ اسلام کا ہدف اور تین ناگزیر تقاضے: غلبۂ اسلام مولانا کا مقصد تھا، اور یہ کام جیسا کہ ظاہر ہے تین بنیادی باتوں کا تقاضا کرتا ہے: (۱) علم و فکر یعنی اسلام کے ابدی حقائق کی ایک ایسی تعبیر جو عہد حاضر کے تقاضوں کے مطابق ہو۔ (۲) عمل و کردار یعنی صاحبِ پیغام خود ان تعلیمات کا عملی نمونہ بنے جو وہ دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہے۔ (۳) تربیت و تنظیم یعنی ایک ایسی جماعت کی تشکیل جو صاحبِ پیغام کے ساتھ اس پیغام پر عمل کرے اور اپنے اجتماعی کردار سے پورے معاشرے کو بدلنے کی کوشش کرے۔

اس میں سے پہلا کام جس کا تعلق علم و فکر سے ہے، تین شرائط کی تکمیل چاہتا ہے:

۱۔ دین کا معتبر اور مستند علم اور اس کی روح اور جسم، یعنی ظاہر و باطن کی ایسی تفہیم جس کی بنیاد بصیرت پر ہو۔ صاحبِ پیغام اصول و فروع کو جانتا ہو، ان کے موقع و محل سے واقف ہو۔ عقل، وجدان اور استدلال کے تقاضوں کو پورا کر سکتا ہو۔

۲۔ عہد حاضر کا علم، یعنی اسے علم ہو کہ عہد حاضر کا علمی و عملی چیلنج کیا ہے اور وہ کون سے افکار و مسائل ہیں جو انسانوں کو اجتماعی اور انفرادی اعتبار سے متاثر کر رہے ہیں؟ پھر اسے یہ معلوم ہو کہ ان تقاضوں کی روشنی میں اسلام کے اصول کس طرح بروئے کار آ سکتے ہیں اور حکمت و تدبیر کے اعتبار سے انھیں بروئے کار لانے کا طریقہ کیا ہے؟

۳۔ ترسیلِ علم کی صلاحیت، یعنی صاحبِ پیغام اپنے علم اور فکر کو تحریر و تقریر کے ذریعے مؤثر انداز میں دوسروں تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

اسی طرح دوسرا کام جس کا تعلق عمل و کردار سے ہے، اس کی بھی تین شرائط ہیں:

(۱)ایمان کامل: صاحبِ پیغام کو یقین ہو کہ وہ جو کچھ پیش کر رہا ہے وہ حق ہے اور حق کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ (۲) ملت صالح: صاحبِ پیغام کا مقصد غلبۂ حق ہو اور غلبۂ حق کے سوا کوئی ذاتی، جماعتی، گروہی، نسلی، وطنی، قومی مقصد اس کے پیش نظر نہ ہو۔ (۳) عمل صالح: صاحبِ پیغام جو کچھ کہتا ہو اس کا ہر عمل اس کے علم و فکر کی تصدیق کرتا ہو۔

تیسرا کام جس کا تعلق تربیت و تنظیم سے ہے، اس کی بھی تین شرائط ہیں:

(۱) اتفاق و اتحاد: صاحبِ پیغام جو جماعت تیار کرے وہ اس کے پیغام پر مکمل طور پر متفق و متحد ہو۔ (۲) نظام مراتب: جماعت کے افراد کو ان کے ایمان، صلاحیت اور کردار کے اعتبار سے اس طرح منظم کیا جائے کہ ان میں ان کا مقام اور اہلیت کی مکمل درجہ بندی ہو جائے اور درجوں کے خلط ملط سے انتشار اور فساد نہ پیدا ہو۔ (۳) نظام کار: جماعت کے افراد میں ان کی درجہ بندی کے اعتبار سے ہر درجہ کے لوگوں کو واضح طور پر معلوم ہو کہ ان کا دائرۂ کار کیا ہے، اور اس دائرہ کے مطابق ان کے فرائض اور پروگرام کی تشکیل لفظوں میں ہو۔

یہ تمام شرائط پانچ موضوعات کے تحت آ جاتی ہیں:

(۱) علم و فکر (۲) کردار و عمل (۳)تحریر و تقریر (۴) تربیت و تنظیم (۵) سیاسی اثر و نفوذ۔

اب ذرا ان موضوعات کے اعتبار سے غور کرو کہ برصغیر کی گذشتہ ڈھائی سو سالہ تاریخ میں مولانا مودودی کے سوا وہ کون فردِ واحد ہے، جس میں یہ پانچوں خصوصیات موجود ہوں اور کس کا نام ہے جسے تم مطلوبہ معیار اور مقدار کے مطابق پاتے ہو؟