جولائی ۲۰۲۶

فہرست مضامین

پاکستان میں دستور سازی کا پس منظر

مولانا ظفر احمد انصاری | جولائی ۲۰۲۶ | پاکستانیات

Responsive image Responsive image

قیامِ پاکستان ہی کے زمانے سے کسی نہ کسی عنوان اور کسی نہ کسی حیثیت میں ، مَیں دستورسازی سے منسلک رہا ہوں۔ اس لیے احباب کا تقاضا ہوتا ہے کہ اس کے بارے میں کچھ مشاہدات بتائوں کہ پاکستان کی دستور سازی میں غیرمعمولی تاخیر کیوں ہوئی؟

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا قیام جن اغراض کے تحت عمل میں آیا تھا، ان میں ایک غرض یہ بھی تھی کہ یہاں اسلام کے مطابق نظامِ حکومت قائم کیا جائے۔ پاکستان کی تحریک ایک بہت طویل تحریک کے آخری باب کی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ طویل تحریک اس طرح شروع ہوئی کہ انیسویں صدی میں یہاں مسلمانوں کا سیاسی زوال جب اپنی انتہا کو پہنچ گیا، تو لوگوں نے محسوس کرنا شروع کیا کہ اب ہمارا مستقبل کیا ہے اور زوال کے مسئلے کو ہم کس طرح درست راستے پر ڈال سکتے ہیں اوراپنی شوکتِ رفتہ کی بازیابی کے لیے کچھ کرسکتے ہیں یا نہیں؟ اس سلسلے میں مفکرین،علما، ادبا، شعرا سبھی اپنے اپنے طور پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہے۔ یوں مختلف جہتوں میں یہ جدوجہد شروع ہوئی، جو آخرکار قائداعظمؒ کی قیادت میں ۱۴؍اگست ۱۹۴۷ء کو پاکستان کے قیام پر منتج ہوئی۔

اس تحریک کے دوران یہ مقصد بھی سامنے آتا رہا کہ اگر ایک مملکت مسلمانوں کو ملے گی تو وہاں مسلمان اپنے دین، اپنے ایمان، اپنی اقدار اور اپنی تہذیب و ثقافت کے مطابق نظمِ حکومت قائم کریں گے اور یہ ان کا دینی حیثیت سے فریضہ بھی ہوگا۔ اسی کے ساتھ ساتھ جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں، ان کے لیے بھی قوت ثابت ہوں گے، اور اتحاد عالم اسلامی کے لیے بھی ایک مؤثر طاقت بن سکیں گے۔ بہرحال تحریک پاکستان کے یہ مختلف مقاصد تھے۔

استحکامِ پاکستان کے خلاف سازشیں

قیامِ پاکستان ایک معاہدے کے ذریعے عمل میں آیا۔ اس معاہدے میں مسلمانوں کے علاوہ دو اور فریق [ہندو اور انگریز]بھی تھے، لیکن ان کی نیتیں صاف نہیں تھیں، یعنی جو بات طے ہورہی تھی اس پر ان دونوں کا دل رضامند نہیں تھا اور وہ چیز ان کی زبانوں پر بھی آگئی۔ اس لیے ان کے عمل سے ظاہر ہوتا رہا اور ان کی یہ کوشش بھی رہی کہ پاکستان کو بنتے ہی ختم کر دیا جائے۔ پھر ان کے بڑے ذمہ دار لوگوں نے کہا کہ یہ بن تو گیا ہے، لیکن اس کو صفحۂ ہستی سے مٹاکے دوبارہ ہندوستان کو ایک کر لیں گے۔ گویا پاکستان کو دل سے قبول نہیں کیا گیا۔ 

اس طرح جن کے ہاتھ سے پاکستان نے اقتدار لیا تھا، ان کی ریشہ دوانیاں اور مختلف سطحوں پر سازشیں بھی جاری رہیں۔ ان کی پوری کوشش تھی کہ اتنی بڑی ایک مسلم مملکت بن رہی ہے، اسے ابتداء ہی میں جتنا زیادہ سے زیادہ کمزور کیا جا سکے، جتنا بے دست و پا کیا جا سکے، وہ کردیا جائے۔ پاکستان اس حالت میں وجود میں آیا کہ شروع ہی سے پڑوس کی مملکت اس کو مٹانے کی تگ و دو میں مصروف ہوگئی۔ دوسری بدقسمتی یہ بھی ہوئی کہ ایک پڑوسی مسلم ملک نے بھی پہلے روز سے اسے کھلے دل سے تسلیم نہ کیا، بلکہ بین الاقوامی ادارے میں اس کے خلاف تقریریں بھی کیں اور جب موقع ملا نقصان پہنچایا۔ ان حالات میں پاکستان قائم ہوا۔ پھر بے سر وسامانی کا جو عالم تھا، آج اگر اس کو کوئی لفظوں میں بیان کرنا چاہے تو حقیقت یہ ہے کہ اسے ٹھیک ٹھیک بیان کر نہیں سکتا۔

بعض اوقات لوگ انڈیا سے مقابلہ کرتے ہیں کہ ’’وہاں تو اتنے تھوڑے عرصے میں دستور بن گیا‘‘۔حالانکہ انڈیا میں زمینی حقیقت یہ تھی کہ کچھ لوگ انگریز وائسرائے لاج کے دفتر سے نکلے اور انڈیا کی دستورساز اسمبلی میں جاکر بیٹھ گئے۔ انھوں نے دستور بنالیا اور ان کی حکومت بن کر کام کرنے لگی، مگر پاکستان میں یہ صورتِ حال نہیں تھی۔ یہاں تو نہ قلم دوات تھا، نہ کاغذ، سیاہی اور پنسل، نہ لوگوں کو تنخواہ دینے کے لیے پیسے، نہ ٹھیرنے کی مناسب جگہ۔ بہرحال، سچی بات یہ ہے کہ اگر پاکستان سنبھل گیا تو قائد اعظم مرحوم کا عزم اور ان پر مسلمانوں کو جو اعتماد تھا، اور اللہ کے فضل کی بنا پر ہی یہ ممکن ہوسکا۔ پھر خود مسلمانوں کے اندر جو ولولہ پیدا ہوا تھا کہ ہر تکلیف اٹھا کے اور ہرقیمت پر پاکستان کو بچانا ہے، اس جذبے نے ملک کو سنبھالنے میں مدد دی۔ لہٰذا، پہلا کام پاکستان کے سامنے یہ نہیں تھا کہ دستور بنا دیا جاتا، بلکہ پہلا کام یہ تھا کہ کسی طرح زندہ رہنے کی سبیل پیدا ہو، اور دوسری طرف سے کوشش ہو رہی تھی کہ یہ بنتے ہی ختم ہو جائے۔ لوگوں کو پیسے دے دے کر یہاں سے بھگایا گیا کہ یہاں کی معاشی زندگی کے انتظام کا گلا ہی گھونٹ دیا جائے، وغیرہ وغیرہ۔ خیر، اللہ تعالیٰ نے اس کو برقرار رکھنا تھا، اس لیے اس کی بقا کا سامان ہوتا گیا اور ان مختلف دشواریوں پر رفتہ رفتہ قابو پایا جاتا رہا۔

ان حالات میں ملکی نظم و نسق کو چلانے کے لیے بہرحال کسی نہ کسی قانونی ڈھانچے کی ضرورت تھی کہ کوئی دستوری ڈھانچا ہو جس پر نظم مملکت چل سکے۔ اس طرح وہی قانون [۱۹۳۵ء کا ایکٹ] جو پہلے سے چل رہا تھا، اسی میں تھوڑی بہت ترمیم کر کے آگے بڑھے۔ ان وجوہ کی بناپر اوّلین ترجیح اور اوّلیت اس مسئلے کو نہیں دی جا سکی تھی۔ 

ایک چیز اور قابلِ غور یہ ہے کہ پہلے اعلان کے مطابق جون ۱۹۴۸ء میں پاکستان کو وجود میں آنا چاہیے تھا، لیکن ایک فریق نے یہ سازش کی کہ ۱۰ مہینے پہلے یہ قدم اُٹھا لیا جائے اور آزادی دے کر کامن ویلتھ میں شریک ہوجائیں۔ یہ پیش کش ہندوؤں کی طرف سے کی گئی، اور انگریزوں نے اسے منظور کر لیا اور یہ اعلان کر دیا کہ جون ۱۹۴۸ء کے بجائے اگست ۱۹۴۷ء میں حکومت مسلمانوں کے حوالے کر دی جائے گی اور باقی ہندستان کانگریس کے حوالے۔ 

اب ظاہر ہے کہ اُس وقت مسلمانوں کے لیے یہ صورت تو ممکن نہ تھی کہ وہ کہتے، کہ نہیں آپ ابھی اور ٹھیریئے۔ خاص طور پر اُس وقت، جب کہ ان کے بارے میں ویسے ہی ہر طرف سے ہندو اخبارات یہ پروپیگنڈ ا کررہے تھے کہ یہ نہیں چاہتے کہ انگریز یہاں سے جائیں، لہٰذا یہ بات کہنے کا موقع نہیں تھا۔ اب مملکت کی تعمیر و استحکام کے لیے جو تھوڑی بہت تیاری کا وقت  مل سکتا تھا،اسے انھوں نے روکنا تھا کہ مسلمان کسی قسم کی تیاری کر نہ سکیں۔ دوسری جانب ہندو انڈیا کے پاس تربیت یافتہ لوگ اور ہردرجے میں بنا ہوا ڈھانچا اور چلتا ہوا نظامِ ریاست و مملکت موجود تھا اور وسائل بھی خاصّے زیادہ تھے۔ چنانچہ وہاں دستور سازی پہلے سے ہو رہی تھی، دستوری خاکے بن چکے تھے اور بڑے اچھے اچھے دماغ ایک مربوط ریاست میں موجود تھے۔ 

دستور سازی کا پس منظر اور مشکلات

پاکستان کی دستورسازی کی صورتِ حال بہت پیچیدہ بن گئی تھی۔ انڈیا نے برطانیہ کے پارلیمانی نظام کو بطورِ وراثت اپنا لیا، کچھ اپنے ملک کے حالات کے لحاظ سے، اور کچھ اپنے نظریات تھوڑے بہت اِدھر اُدھر کرکے جیسے گائوکشی کے تحفظ وغیرہ کو رکھ کر دستور بنالیا۔

اس پورے پس منظر میں ہمارا معاملہ بہت مختلف تھا۔ اس لیے کہ ہم ایک ایسا نظام حکومت لانا چاہتے تھے جس کی اس وقت اور آج کے دور میں صفحۂ ہستی پہ کوئی نظیر موجود نہیں تھی۔ پہلے یقینا وہ نقش قائم ہوا تھا، لیکن آج حالات بہت مختلف تھے۔ مسئلہ یہ درپیش تھا کہ آج کے دور میں اس کو کیسے منطبق کیا جائے؟ موجودہ حالات میں اس موضوع پر بہت زیادہ لٹریچر اور ایسا کوئی بنا بنایا نقشہ بھی موجود نہیں تھا۔ رفتہ رفتہ اس مسئلے پر بحث شروع ہوئی۔ بہرحال اس سب کے باوجود اکتوبر ۱۹۴۸ء میں یعنی، پاکستان بننے کے سوا برس بعد یہ صورتِ حال پیدا ہو گئی کہ ہم اپنے دستور کا بنیادی پتھر رکھ سکیں اور ایک ’قرارداد مقاصد‘ میں ان اصولوں کو واضح کردیں، جن پر دستور بننا اور نظم مملکت کو چلنا چاہیے۔ 

قیامِ پاکستان کے کچھ ہی عرصے بعد سب سے پہلے جو بڑا سانحہ پیش آیا وہ یہ تھا کہ پاکستان کی سب سے عظیم شخصیت اور پاکستان کے بانی قائد اعظم کا انتقال ہوگیا۔ یہ اتنا بڑا سانحہ تھا کہ اس وقت لوگوں کا خیال تھا کہ اب پاکستان کو سنبھالنا مشکل ہوگا، لیکن بہرحال اللہ کو منظور تھا کہ ملک سنبھل جائے اور لیاقت علی خاں نے اسے سنبھالنے کے لیے پوری جدوجہد کی اور پوری قوم ان کے ساتھ تھی۔ 

 غالباً نومبر ۱۹۴۸ء ہی میں ’قرارداد مقاصد‘ تیار ہو گئی تھی، لیکن یہ طے ہوا کہ اسے دستور ساز اسمبلی کے اگلے اجلاس میں پیش کیا جائے۔ اگلا اجلاس مؤخر ہوتے ہوتے مارچ۱۹۴۹ء تک آگیا، اور اس میں یہ قرارداد پیش کی گئی اور منظور ہوئی۔ اب اس کی بنیاد پر دستور بننا تھا۔ پھر اس موضوع پر مختلف لوگوں نے لکھنا شروع کیا اور اپنی حد تک وہ سمجھتے رہے کہ جو ہم لکھ رہے ہیں وہ گویا حرفِ آخر اور بالکل طے شدہ بات ہے۔ اس طرح متضاد باتیں سامنے آتی رہیں، جو زیادہ تر کتابی علم پر مبنی تھیں۔ ان میں قیاس آرائی کی یلغار اور خیالات کی جولانی تھی، لیکن عملاً بنیادی سوال یہ اُٹھایا جارہا تھا کہ دستور کو آج ان حالات میں کیسے نافذ کیا جائے؟ 

 دوسری دشواری یہ تھی کہ ایک ایسا دستور ہونا چاہیے، جو ایک طرف قدیم طرزِ فکر کے علما کو مطمئن کر سکے اور وہ سمجھیں کہ یہ اسلامی دستور ہے، اور دوسری جانب ان ذہنوں کو بھی مطمئن کرسکے جو بہرحال اسلام کے ساتھ اپنی حمیت اور وابستگی کا اظہار کرتے، لیکن ان کا ذہن مغربی تعلیم کی وجہ سے بہت بدل چکا ہے۔ گویا ایسا دستور بننا چاہیے جو علما اور جدید ذہن کے لوگوں کو مطمئن کرسکے۔ یہ بات نہیں ہے کہ ان دونوں مکاتب فکر میں سارے ہی غیرمخلص لوگ تھے۔ بیش تر لوگ مخلص ہی تھے اور تھوڑے بہت لوگ مخلص نہیں تھے۔ لیکن ان دونوں میں یہ کمی تھی کہ وہ ایک نظم مملکت چلانے کا کوئی خاص تجربہ نہیں رکھتے تھے۔ اس لیے کہ ایک عرصے سے یہ کام ہوا ہی نہیں تھا۔ علما کے درسیات میں بھی یہ چیزیں نہیں تھیں اور درسیات میں ہوتی بھی کیوں؟ اس لیے کہ جب اس مسئلے سے واسطہ ہی نہیں پڑ رہا تھا، کہیں اسلامی حکومت ہی نہیں تھی، تو نظمِ حکومت پر کتابیں اور اس پر بحثیں ایک غیرمتعلق چیز تھی۔ جن چیزوں سے روز مرہ کام پڑتا تھا، انھی کے علما ہمارے ہاں تیار ہوتے تھے۔ دوسرے فریق کا قصہ یہ تھا کہ اس میں جذباتی سطح پر تعلق ضرور تھا ، لیکن  اسلام سے کوئی گہری واقفیت نہیں تھی، اور اصلی ماخذ تک ان کی رسائی نہیں تھی۔ پھر بہت کچھ مستشرقین سے انھوں نے سیکھا تھا، یا پھر اپنے ذاتی مطالعے سے سمجھا تھا۔ 

ان دو متضاد ذہنوں کو بیک وقت مطمئن کر کے ہی آگے بڑھا جاسکتا تھا۔ ان دونوں میں ایک بھی اگر غیر مطمئن رہتا تو پاکستان کے قیام اور اس کی بقا کے لیے بڑی خطرناک صورت پیدا ہوجاتی۔ اس کش مکش سے ہمیں گزرنا پڑا۔ پھر ایک دشواری یہ پیدا ہوگئی کہ یہاں پر وہ یک جہتی ورثے میں نہ ملی جو ہندوؤں میں موجود تھی۔ بلاشبہ قائد اعظم کی قیادت میں مسلمانوں میں وحدتِ عمل قائم ہوئی تھی، جو اس منزل کو پانے کے بعد برقرار نہ رہ سکی۔ پھر کچھ لوگوں کی نظریں متروکہ مالِ غنیمت جمع کرنے کی طرف پھسل گئیں۔ کچھ لوگوں کی توجہ اپنے مقامی، صوبائی اور دوسرے طبقاتی مفادات کی طرف ہوگئی۔ اس وجہ سے پیچیدگیاں ایک سیلاب کی صورت اُمڈ آئیں۔ 

عام طور پہ تو یہی سمجھا جاتا ہے کہ ’جولوگ برسرِاقتدار تھے، وہ اسلام کے نفاذ کے لیے تیار نہیں تھے، اس وجہ سے دستور سازی میں دیر ہوتی رہی‘، مگر صحیح صورت حال یہ نہیں ہے۔ جتنی مرتبہ تاخیر ہوئی اور معاملہ مؤخر اور ملتوی کیا گیا، اس کی بنیاد صوبوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم اور مرکز اور صوبوں کے تعلقات کا قصّہ تھا۔ یہ پہلو پوری طرح منظر عام پر نہیں آیا، لیکن اندرونی سطح پر جو بحران بھی پیدا ہوتا، اس کا بنیادی سبب یہی ہوتا تھا۔ اس مسئلے کے حل کے لیے کبھی یہ فارمولا آیا اور کبھی وہ فارمولا آیا۔ یہاں تک کہ ہوتے ہوتے بہرحال ۱۹۵۴ء میں ایک دستور بن گیا، مگر اس وقت چونکہ ہم نے برطانوی پارلیمانی نظام اپنا لیا تھا اور شخصیتوں کے باہم تصادم کے ساتھ ساتھ دو نظاموں کا تصادم بھی ہو گیا اور وہ بنابنایا دستور اٹھا کے پھینک دیا گیا۔ اس وقت یہ بھی کش مکش موجود تھی کہ فلاں صوبے کو کیا مل رہا ہے اور فلاں صوبے کو کیا نہیں مل رہا؟ چنانچہ ۱۹۵۴ء کا دستور اٹھا کر پھینک دیا گیا اور اسمبلی بھی ختم کر دی گئی۔

اس سے پہلے بانیانِ پاکستان میں جو ممتاز شخصیتیں تھیں، ان میں سے لیاقت علی خاں کو ۱۹۵۱ء میں شہید کردیا گیا۔ علما میں مولانا شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ جن کا قراردادِ مقاصد منظور کرانے میں بڑا نمایاں حصہ رہا، ان کا بھی ۱۹۴۹ء میں انتقال ہو چکا تھا۔ اب قومی قیادت میں کوئی اتنی بڑی شخصیت باقی نہ تھی اور دوسری جانب افرا تفری بڑھتی چلی جارہی تھی۔

 ۱۹۵۶ء میں ایک دوسرا دستور آیا۔ اگر آپ غور کریں تو وہ اس لیے بن سکا کہ کسی نہ کسی طرح صوبائی مسئلہ اس میں ایک خاص انداز سے حل کیا گیا۔ اگرچہ سب لوگ اس پر بھی مطمئن نہیں تھے، لیکن بہرحال کچھ حکومت کی کوشش اور کچھ حکومت کے اثرات اور کچھ جبر اور کچھ ترغیب و ترہیب سے وہ دستور بن گیا۔ اب اس عرصے میں چوٹی کے سیاست دان اور سیاست دانوں سے میری مراد ان لوگوں سے ہے، جو قیام پاکستان کی جدوجہد میں نمایاں حیثیت رکھتے تھے، وہ میدان سے ہٹ چکے تھے۔ لیکن اگر اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھنے والے کچھ لوگ موجود تھے تو وہ ثانوی درجے کے لوگ تھے۔ اس طرح خلفشار بڑھتا گیا اور طالع آزما اور اقتدار کے بھوکے لوگ سازشیں کرنے لگے۔ اس طرح وہ پورا دور چلتا رہا ہے۔یہ دستور سازی کے عمل کا تاریخی پس منظر ہے۔ 

اگر پاکستان کی بقا اور اس کے استحکام اور اسلام کے فروغ کے نقطۂ نظر سے سوچا جائے تو دستور کا نفاذ اور اس پر عمل درآمد کوئی ایسی دشواربات نہیں تھی اور نہیں ہے۔ تاہم، بیرونی خطرات تو اپنی جگہ تھے، اندرونی خدشات بھی اس عرصے میں بڑھ چکے تھے۔ مگر یہ معاملہ پہلے دور کی حد تک ختم نہیں ہوا، آج تک برقرار ہے۔اس لیے کہ باہر کی طاقتوں نے ہمارے قومی وجود میں کافی ریشہ دوانیاں کرلی ہیں اور اپنے آدمی پیدا کرلیے ہیں۔ لیکن اس سب کے باوجود کوئی مسئلہ ایسا لاینحل نہیں ہے، بشرطیکہ اخلاص ہو۔ یعنی ایک طرف اخلاص ہو اور دوسری طرف کچھ کر گزرنے کی پوری قوت بھی ہو۔ اب ایک آدمی مارشل لا میں برسرِاقتدار آتا ہے، لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ ساری طاقت اسی کے پاس ہو۔اس کے اعوان و انصار کیا مشورہ دیتے ہیں اور کیا نہیں دیتے؟ اس چیز کا علم باہر نہیں ہوتا مگر مشورہ دینے والے وہ لوگ اگر ملّی، دینی، قومی سوچ رکھ کر مشورہ دیں تو اصحابِ اختیار انھیں ماننے کے لیے تیار ہوسکتے ہیں، لیکن افسوس کہ اہل حل و عقد دیانت دارانہ اور بروقت مشورہ دینے سے اجتناب کرکے انتہا درجے کا ظلم کرتے ہیں۔

دستور سازی کے بارے میں قائداعظم کا نقطۂ نظر

بعض لوگ سوال اُٹھاتے ہیں کہ قائد اعظم نے کیا کبھی پاکستان کے دستور کے متعلق کچھ سوچا اور ایسی کوئی چیز اپنے رفقا سے کہی کہ جس کے متعلق مَیں بتا سکوں؟ اس حوالے سے یہ کہوں گا: قائد اعظم کے سوچنے کا ایک خاص ذہن تھا اور وہ یہ تھا کہ کسی مسئلے کو وہ قبل اَز وقت نہیں اٹھاتے تھے، اور یہ بڑی دانش مندی کی بات تھی۔ اس لیے کہ ایک مسئلے کو قبل اَز وقت اٹھا دیا جائے تو جو اس وقت کا موجودہ ایشو ہو، اس میں اُلجھن پیدا ہو جاتی ہے۔مثال کے طور پر دہلی میں،آل انڈیا مسلم لیگ کے منعقدہ اجلاس میں مَیں شریک تھا۔ اس موقعے پر ایک صاحب نے یہ ریزولوشن پاس کرانا چاہا کہ یہاں کا نظام حکومت اسلامی ہوگا اور وہ خلافت راشدہ کی بنیاد پر ہوگا۔ قائد اعظم نے انھیں سمجھایا کہ ’’آپ اسے اس وقت نہ پیش کریں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت مسلمان ایک ملک کے حصول کے لیے ہندوؤں اور انگریزوں سے ایک متعین ہدف کے لیے لڑائی لڑ رہے ہیں۔ ہمیں اس وقت اپنی پوری توجہ صرف اس ایک بڑے مسئلے پر مرکوز کرنی چاہیے۔ لیکن اگر اس وقت، اس کے ساتھ ہم اس ایشو کو اٹھاتے ہیں کہ جس میں لازماً مختلف آراء سامنے آئیں گی تو پھر مسلمانوں کا ذہن تقسیم ہو جائے گا، اور وہ یکسوئی جو بڑے ہدف کے لیے مطلوب ہے اور منزل تک پہنچنے کے لیے ناگزیر ہے، وہ حاصل نہیں ہو سکے گی‘‘۔ 

پھر جیسے ہی پاکستان کا قیام عمل میں آگیا، تو اُس وقت ہر طرف سے یورش ہو رہی تھی۔ اس کے مقابلے میں پاکستان کو کسی طرح کا استحکام نہیں مل رہا تھا۔ پھر قیامِ پاکستان کے بعد قائداعظم صرف ۱۲ماہ زندہ رہے۔ لٹے پٹے مہاجرین کی قیامت خیز تباہی اور بے سروسامانی، اتنے بڑے پیمانے پر لوگوں کا بے گھر ہونا، اتنا بڑا قتل عام، اور مہاجرین کو آباد کرنا، بہت بڑے مسائل تھے۔ انگریزوں کی طرف سے اور ہندوؤں کی طرف سے سازشیں بھی ہورہی تھیں۔ اُس وقت فوری طور پر دستور سازی کا کام ممکن نہیں تھا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ قائداعظم نے کچھ چیزیں نوٹ کی تھیں مگر وہ کبھی منظر عام پر نہیں آئیں، اور یہ معلوم نہیں کہ وہ کہیں محفوظ بھی ہیں یا نہیں؟ کچھ لوگوں نے کہا کہ انھیں فرانسیسی طرز کا دستور پسند تھا۔ مگر اس بات کا بھی کوئی ثبوت نہیں ہے۔ بہرحال، وہ فرانسیسی دستور تو خود فرانس میں بھی محفوظ نہیں رہا۔ 

قائداعظم سے دستور کے حوالے سے جب بار بار سوال کیے جاتے تھے، تو وہ چونکہ بڑا قانونی اور دستوری ذہن رکھتے تھے، اس لیے وہ جواب میں واضح طور پر یہی بات کہتے تھے کہ ’’دستور ساز اسمبلی کا یہ حق ہے کہ وہ دستور بنائے اور میں نہیں سمجھتا کہ ایک دستور ساز اسمبلی جو مسلمانوں کی غالب اکثریت پر مشتمل ہو، وہ کوئی ایسا دستور بنائے گی کہ جو اسلامی اصولوں پر مبنی نہ ہو‘‘۔ یہ بات کئی جگہ انھوں نے کہی ہے اور یہ بھی کہا کہ پاکستان بنانا فی نفسہٖ ہی مقصود نہیں بلکہ یہ ایک ذریعہ ہے اسلامک آئیڈیالوجی کو محفوظ اور مستحکم کرنے کا۔ اس طرح کی باتیں انھوں نے مسلسل اور بہت بار کہی ہیں۔ 

یہ باتیں قیامِ پاکستان سے پہلے بھی کہیں اور قیام پاکستان کے بعد بھی کہی ہیں، جس سے ان کی سوچ کا رُخ واضح طور پر معلوم ہوتا تھا۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر اسلامی حکومت کو لوگ تھیاکریسی سمجھتے ہیں تو اسلام میں تھیاکریسی نہیں ہے۔ اسلامک ڈیموکریسی اور سوشل جسٹس، اسلامک سوشل جسٹس کے الفاظ وہ اپنی گفتگو میں استعمال کرتے رہے ہیں۔ مگر کوئی واضح تحریری نقشہ کہ اس طرح کا دستور ہونا چاہیے، میرے علم میں نہیں ہے۔

 _______________