جولائی ۲۰۲۶

فہرست مضامین

غزہ، لبنان اور سسکتی انسانیت

مسعود ابدالی | جولائی ۲۰۲۶ | اخبار اُمت

Responsive image Responsive image

غزہ میں صرف معصوم بچّے ہی نہیں بلکہ اُمید بھی مر رہی ہے۔ غزہ محکمۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل منیرالبرش کے مطابق: ’’نومبر ۲۰۲۵ء سے اپریل ۲۰۲۶ء کے درمیان غزہ میں بچوں کی شرح پیدائش ۶۷ فی صد تک کم ہوگئی ہے، جب کہ حاملہ خواتین میں خون کی کمی کی شرح تشویش ناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ زچگی کے دائرے میں موجود خواتین بنیادی طبّی سہولتوں سے محروم ہیں، اورحمل ضائع ہونے کی شرح کئی گنا بڑھ کر، پورے معاشرے کے مستقبل پر تباہ کن حملہ بن چکی ہے‘‘۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک نسل کے بچوں کا زندہ رہنے کا حق برباد کردیا گیا ہے اور اگلی نسل کی پیدائش کا امکان خطرے اور تباہی میں ڈال دیا گیا ہے۔ یہ چیز انسانی زندگی کا خوفناک المیہ ہے۔

’یادداشتِ اسلام آباد‘ پر مفاہمت کے بعد خلیج فارس میں توپیں بظاہر خاموش ہو گئی ہیں۔ ایران کی بحری ناکہ بندی میں نرمی کے بعد ایرانی عوام نے بھی کسی حد تک سُکھ کا سانس لیا ہے اور خطے میں ایک وسیع جنگ کے خطرات وقتی طور پر کم ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق لبنان بھی اس مفاہمت کا حصہ ہے اور ۱۴ جون کو صدر ٹرمپ نے اسرائیل کو لبنان پر مزید حملوں سے باز رہنے کی ہدایت دی۔ تاہم یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ اسرائیل اس یادداشت اور امریکی ہدایات پر کس حد تک عمل کرتا ہے۔

  • جنگ بندی اور لبنان کی تلخ حقیقت:لبنان میں ۱۶؍ اپریل سے بظاہرجنگ بندی نافذ ہوئی، لیکن لبنانی وزیراعظم نواف سلام کے مطابق امن معاہدے کے بعد سے اسرائیل نے لبنان پر ۳۵۰۰ حملے کیے ہیں۔بمباری کے علاوہ ۴۰۰ سے زیادہ شہری و دیہی آبادی پر بلڈوزر پھیردیئے گئے۔یہی وجہ ہے کہ لبنان میں جنگ بندی کا تصور کاغذی دستاویزات سے آگے بڑھ کر عوامی زندگی میں منتقل نہیں ہو سکا۔

اسرائیل، حزب اللہ کے نام پر لبنانی افواج کو بھی نشانہ بنارہا ہے، جس کی وجہ سے ۱۳جون کو جنوبی لبنان کے شہر نبطیحہ سے لبنانی فوج پسپا ہوگئی۔واپسی سے پہلے مقامی جرنیل نے کہا: ’’ہم اسرائیلی فوج سے تصادم نہیں چاہتے‘‘۔اسرائیل کی شدید بمباری اور ٹینک کے حملوں کے سامنے اپنے شہریوں کو نہتا چھوڑ کر فوج کا اس طرح فرارناقابلِ فہم ہے۔ 

بیروت، صور (Tyre) اور دریائے لیطانی کے اطراف بمباری، ڈرون حملوں اور گولہ باری کی مسلسل اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ اسرائیل شہری آبادی پر Fuel Bombگرارہا ہے۔ سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی کچھ تصویروں میں نہتے شہری سڑک پر جابجا بھڑکتی آگ سے بچنے  کے لیے بھاگتے نظر آرہے ہیں۔ 

  • غزہ: جنگ ختم نہیں ہوئی: خلیج میں کشیدگی کم ہونے کے باوجود غزہ میں انسانی بحران بدستور جاری ہے۔ اسرائیلی کارروائیوں، ناکہ بندی اور امدادی راستوں کی بندش نے مشکلات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ کریم سلام پھاٹک کی بندش کے بعد خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیا کی فراہمی شدید متاثر ہوئی۔

خان یونس اور جبالیہ میں بمباری کے نتیجے میں مزید جانی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ زخمیوں کے علاج کے لیے درکار سہولیات پہلے ہی ناکافی تھیں اور اب ہسپتال شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ غزہ کی تباہ حال گلیوں سے سامنے آنے والی تصاویر اس انسانی المیے کی شدت کو واضح کرتی ہیں۔ ایک تصویر میں ایک کم سن لڑکا اپنے بیمار بھائی کو زنگ آلود ٹھیلے میں لے جاتا دکھائی دیا۔ یہ منظر محض ایک خاندان کی کہانی نہیں بلکہ پورے غزہ کی اجتماعی حالت کا استعارہ بن چکا ہے، جہاں بہت سے خاندانوں کے لیے ایک ٹھیلا ہی ایمبولینس، ٹیکسی اور زندگی کی آخری امید ہے۔

  • سمندر بھی بند، زمین بھی تنگ: اسرائیلی پیش قدمی کے نتیجے میں غزہ کی آبادی ساحلی پٹی تک سمٹ آئی ہے اور ماہی گیری بہت سے خاندانوں کے لیے خوراک کا واحد ذریعہ بن چکی ہے۔ گذشتہ ہفتے بھوک سے مجبور ہوکر محمد ابوجیاب مچھلی پکڑنے ساحل پر آیا لیکن اسرائیلی بحریہ کی گولی نے اس مچھیرے کا کام تمام کردیا۔
  • غربِ اُردن : مسلسل بحران : اسی طرح غربِ اردن میں بھی کشیدگی کم نہیں ہوئی۔ فلسطینی دیہات، زرعی زمینیں، دکانیں اور رہائشی مکانات مسلسل دباؤ کا شکار ہیں۔ رام اللہ، قلقیلیہ، جنین اور دیگر علاقوں میں جائیدادوں کو نقصان پہنچانے، فصلیں جلانے اور مذہبی مقامات کو نشانہ بنانے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ایک تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ اسرائیل کی اس بم باری کا خصوصی نشانہ صحافی بن رہے ہیں۔

رام اللہ کے قصبہ بُرقہ میں مسجد النور کو آگ لگانے کی کوشش نے مقامی آبادی میں شدید تشویش پیدا کی۔ خوش قسمتی سے مقامی خواتین نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پا لیا اور بڑا نقصان ہونے سے بچ گیا۔ ایسے واقعات صرف املاک کا نقصان نہیں بلکہ مذہبی اور سماجی ہم آہنگی کے لیے بھی خطرہ سمجھے جاتے ہیں۔

  • قیدیوں سے سنگین بدسلوکی اور انسانی حقوق کے سوالات: گذشتہ ہفتے الجزیرہ نے فلسطینی قیدیوں پر اسرائیلی حراستی مراکز میں جسمانی، نفسیاتی اور جنسی نوعیت کی سنگین بدسلوکی کی ایک روح فرسا رپورٹ شائع کی۔ سابق قیدیوں کے انٹرویو پر مشتمل اس رپورٹ میں نصب بصری تراشے اتنے بھیانک ہیں کہ انھیں دیکھنا بھی ممکن نہیں۔ رپورٹ میں اقوامِ متحدہ کے بعض ماہرین، انسانی حقوق کے اداروں اور سابق قیدیوں کے بیانات کا حوالہ دیا گیا ہے، جن کے مطابق یہ واقعات محض انفرادی زیادتیوں کے بجائے ایک وسیع تر مسئلے کی نشاندہی کرتے ہیں۔حسب توقع اسرائیلی حکام نے ان الزامات کو بے بنیاد اور من گھڑت قراردیا لیکن انصاف کا تقاضا ہے کہ ان واقعات کی آزاد، شفاف اور غیر جانب دار بین الاقوامی تحقیقات کرائی جائیں تاکہ متاثرین کو انصاف ملے۔

تحقیق تو دُور کی بات یہاں یہ عالم ہے کہ اسرائیل کے وزیر اندرونی سلامتی اتامر بن گوئر نے تجویز دی ہے کہ لبنان کے مقبوضہ علاقےسے حزب اللہ کی خواتین اور بچوں کو گرفتارکرلیا جائے۔ جنگی کابینہ کے اجلاس میں انھوں نے کہا کہ بمباری اورجنگجوؤں کے قتل کے ساتھ ان کی عورتوں اور بچوں کو حراست میں لیاجائے۔یہ ان کے لیے موت سے زیادہ تکلیف دہ ہوگا۔ دوسرے الفاظ میں بمباری اور قتل کافی نہیں بلکہ مزاحمت کاروں کی آبرو پر ضرب لگانے کی ضرورت ہے۔

 _______________