غزہ میں صرف معصوم بچّے ہی نہیں بلکہ اُمید بھی مر رہی ہے۔ غزہ محکمۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل منیرالبرش کے مطابق: ’’نومبر ۲۰۲۵ء سے اپریل ۲۰۲۶ء کے درمیان غزہ میں بچوں کی شرح پیدائش ۶۷ فی صد تک کم ہوگئی ہے، جب کہ حاملہ خواتین میں خون کی کمی کی شرح تشویش ناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ زچگی کے دائرے میں موجود خواتین بنیادی طبّی سہولتوں سے محروم ہیں، اورحمل ضائع ہونے کی شرح کئی گنا بڑھ کر، پورے معاشرے کے مستقبل پر تباہ کن حملہ بن چکی ہے‘‘۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک نسل کے بچوں کا زندہ رہنے کا حق برباد کردیا گیا ہے اور اگلی نسل کی پیدائش کا امکان خطرے اور تباہی میں ڈال دیا گیا ہے۔ یہ چیز انسانی زندگی کا خوفناک المیہ ہے۔
’یادداشتِ اسلام آباد‘ پر مفاہمت کے بعد خلیج فارس میں توپیں بظاہر خاموش ہو گئی ہیں۔ ایران کی بحری ناکہ بندی میں نرمی کے بعد ایرانی عوام نے بھی کسی حد تک سُکھ کا سانس لیا ہے اور خطے میں ایک وسیع جنگ کے خطرات وقتی طور پر کم ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق لبنان بھی اس مفاہمت کا حصہ ہے اور ۱۴ جون کو صدر ٹرمپ نے اسرائیل کو لبنان پر مزید حملوں سے باز رہنے کی ہدایت دی۔ تاہم یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ اسرائیل اس یادداشت اور امریکی ہدایات پر کس حد تک عمل کرتا ہے۔
اسرائیل، حزب اللہ کے نام پر لبنانی افواج کو بھی نشانہ بنارہا ہے، جس کی وجہ سے ۱۳جون کو جنوبی لبنان کے شہر نبطیحہ سے لبنانی فوج پسپا ہوگئی۔واپسی سے پہلے مقامی جرنیل نے کہا: ’’ہم اسرائیلی فوج سے تصادم نہیں چاہتے‘‘۔اسرائیل کی شدید بمباری اور ٹینک کے حملوں کے سامنے اپنے شہریوں کو نہتا چھوڑ کر فوج کا اس طرح فرارناقابلِ فہم ہے۔
بیروت، صور (Tyre) اور دریائے لیطانی کے اطراف بمباری، ڈرون حملوں اور گولہ باری کی مسلسل اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ اسرائیل شہری آبادی پر Fuel Bombگرارہا ہے۔ سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی کچھ تصویروں میں نہتے شہری سڑک پر جابجا بھڑکتی آگ سے بچنے کے لیے بھاگتے نظر آرہے ہیں۔
خان یونس اور جبالیہ میں بمباری کے نتیجے میں مزید جانی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ زخمیوں کے علاج کے لیے درکار سہولیات پہلے ہی ناکافی تھیں اور اب ہسپتال شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ غزہ کی تباہ حال گلیوں سے سامنے آنے والی تصاویر اس انسانی المیے کی شدت کو واضح کرتی ہیں۔ ایک تصویر میں ایک کم سن لڑکا اپنے بیمار بھائی کو زنگ آلود ٹھیلے میں لے جاتا دکھائی دیا۔ یہ منظر محض ایک خاندان کی کہانی نہیں بلکہ پورے غزہ کی اجتماعی حالت کا استعارہ بن چکا ہے، جہاں بہت سے خاندانوں کے لیے ایک ٹھیلا ہی ایمبولینس، ٹیکسی اور زندگی کی آخری امید ہے۔
رام اللہ کے قصبہ بُرقہ میں مسجد النور کو آگ لگانے کی کوشش نے مقامی آبادی میں شدید تشویش پیدا کی۔ خوش قسمتی سے مقامی خواتین نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پا لیا اور بڑا نقصان ہونے سے بچ گیا۔ ایسے واقعات صرف املاک کا نقصان نہیں بلکہ مذہبی اور سماجی ہم آہنگی کے لیے بھی خطرہ سمجھے جاتے ہیں۔
تحقیق تو دُور کی بات یہاں یہ عالم ہے کہ اسرائیل کے وزیر اندرونی سلامتی اتامر بن گوئر نے تجویز دی ہے کہ لبنان کے مقبوضہ علاقےسے حزب اللہ کی خواتین اور بچوں کو گرفتارکرلیا جائے۔ جنگی کابینہ کے اجلاس میں انھوں نے کہا کہ بمباری اورجنگجوؤں کے قتل کے ساتھ ان کی عورتوں اور بچوں کو حراست میں لیاجائے۔یہ ان کے لیے موت سے زیادہ تکلیف دہ ہوگا۔ دوسرے الفاظ میں بمباری اور قتل کافی نہیں بلکہ مزاحمت کاروں کی آبرو پر ضرب لگانے کی ضرورت ہے۔
_______________