جولائی ۲۰۲۶

فہرست مضامین

بنو قابل‘: نوجوانوں کے لیے اُمید

میربابر مشتاق | جولائی ۲۰۲۶ | پاکستانیات

Responsive image Responsive image

پاکستان اس وقت جس بحران سے دوچار ہے، وہ محض معاشی یا سیاسی نہیں، بلکہ نسلی اور فکری بحران ہے۔ ایک ایسی ریاست جہاں آبادی کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہو۔تقریباً ۶۴فی صد آبادی ۳۰ سال سے کم عمر ہے،مگر یہی نوجوان سب سے زیادہ بے یقینی، بے سمتی اور محرومی کا شکار ہیں۔ یہ کسی بھی معاشرے کے لیے تباہی کا پیش خیمہ ہے۔ بحران صرف بیروزگاری کا نہیں، بلکہ ریاست پر عدم اعتماد، قومی شناخت کے ابہام اور مستقبل کے لیے امید کے فقدان کا ہے۔ آج کا اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان کے پاس وسائل کم ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ریاست اور سیاسی قوتوں کے پاس نوجوانوں کے لیے کوئی سنجیدہ، عملی اور پائیدار منصوبہ بھی ہے؟

  •  نوجوان بطور’بوجھ‘ یا ’سرمایہ‘؟ :پاکستان کی نوجوان آبادی ایک ڈیموگرافک ڈیوڈنڈ (آبادیاتی اثاثہ) ہے، مگر اسے ڈیموگرافک ڈیزاسٹر (آبادیاتی تباہی) میں بدل دیا گیا ہے۔ اس آبادی کو نہ معیاری تعلیم میسر ہے اور نہ نصاب جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔ انھیں مارکیٹ سے جڑا ہنر نہیں سکھایا جاتا، جس کے نتیجے میں ڈگریاں بے کار ثابت ہوتی ہیں۔ باعزّت روزگار کے مواقع موجود نہیں ہیں، جس کی وجہ صنعتی ترقی اور سرمایہ کاری کا فقدان ہے۔ کوئی واضح قومی سمت یا نظریاتی رہنمائی موجود نہیں ہے جو نوجوانوں میں جذبہ اور مقصد پیدا کر سکے۔

اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستانی نوجوان یا تو بیرونِ ملک روزگار کے حصول کو نجات سمجھتا ہے، جس سے ملک کا قیمتی انسانی سرمایہ باہر چلا جاتا ہے، یا ڈیجیٹل دنیا میں گم ہو کر بے مقصدیت کا شکار ہو جاتا ہے، یا پھر غصے، مایوسی اور انتہا پسندی کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ یہ صورت حال معاشی بحران کے ساتھ ساتھ ایک سماجی و اخلاقی بحران کا سبب بھی ہے۔

  •  جنریشن Z: نعرے نہیں، عملی مواقع مانگنے والی نسل:آج کی جنریشن Z (وہ نسل جو ۱۹۹۷ء کے بعد پیدا ہوئی) ماضی سے یکسر مختلف ہے۔ یہ نسل ڈیجیٹل دور میں پیدا ہوئی اور پلی بڑھی ہے۔ انٹرنیٹ ان کا بنیادی تعلیمی اور سماجی میدان ہے۔ عالمی معیار سے خود کو جوڑتی ہے۔ وہ ملائیشیا، ترکی، سعودی عرب یا مغربی ممالک کے نوجوانوں سے اپنا موازنہ کرتی ہے۔ روایتی سیاست اور لمبی تقریروں سے بدظن ہے۔ ان کے لیے خالی نعرے اور وعدے بے معنی ہیں۔ یہ نسل جلسوں سے متاثر نہیں ہوتی، بلکہ ایک سادہ سا سوال پوچھتی ہے: ’’آپ ہمیں کیا کرنا سکھا سکتے ہیں؟ آپ ہمارے مستقبل کے لیے کیا عملی راستہ دکھا سکتے ہیں؟‘‘ یہی وہ نکتہ ہے جہاں پاکستان کی اکثر سیاسی جماعتیں ناکام ہو جاتی ہیں، کیونکہ ان کے پاس نوجوانوں کے لیے تعلیم، ہنر اور روزگار کا کوئی مربوط منصوبہ نہیں ہے۔

جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمن کا امتیاز یہ ہے کہ وہ جنریشن Z کو محض ووٹ بینک نہیں، بلکہ فیصلہ کن قوت اور مستقبل کا معمار سمجھتے ہیں۔ ان کی حکمت عملی روایتی سیاسی بیانیے سے ہٹ کر ہے، جس میں تین بنیادی ستون ہیں:

  •  نوجوان کو ہنر دو: جدید مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ڈیجیٹل اور تکنیکی ہنر سے آراستہ کیا جائے۔
  •   نوجوان کو خودمختاری دو: انھیں معاشی طور پر بااختیار بنایا جائے تاکہ وہ دوسروں کے محتاج نہ رہیں۔
  •   نوجوان کو قیادت کے قابل بناؤ: ان میں ذمہ داری، نظم اور خدمت کا جذبہ پروان چڑھایا جائے۔

 یہ نقطۂ نظر جماعت اسلامی کی روایتی دعوتی و سیاسی سرگرمیوں میں ایک اسٹرے ٹیجک ارتقاء کی علامت ہے، جس کا مرکز نوجوان کی عملی ترقی اور اسے ہنرمند بنانا ہے۔

  •  بنوقابل پروگرام: ایک جامع ماڈل اور حکمت عملی:’بنو قابل پروگرام‘ محض ایک ٹریننگ اسکیم نہیں، بلکہ پاکستان کے نوجوانوں کے بحران کا عملی، جامع اور قابلِ تقلید منصوبہ ہے۔ یہ پروگرام تین سطحوں پر ہم آہنگی سے کام کرتا ہے:

۱-  ہنر کی ترقی (اسکل ڈویلپمنٹ): یہ روایتی ہنر کے بجائے مارکیٹ بیسڈ اور ڈیجیٹل مہارتوں پر زور دیتا ہے، جیسے گرافک ڈیزائننگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، فری لانسنگ، ای کامرس، کوڈنگ وغیرہ۔ یہ نوجوانوں کو عالمی ویب سائٹس پر کام کرنے کے قابل بناتا ہے۔

۲-ذہنی و فکری ترقی (مینٹل ایمپاورمنٹ): یہ پروگرام نوجوان کو ’بے روزگار اور بے مقصد‘ فرد سے ’بااختیار اور پُراعتماد‘ شہری میں تبدیل کرتا ہے۔

۳- سماجی و اخلاقی انضمام (سوشل انٹیگریشن): بنو قابل میں ہنر کے ساتھ ساتھ اخلاقیات، نظم و ضبط، وقت کی پابندی، دیانت داری اور اجتماعی ذمہ داری کی تربیت دی جاتی ہے۔ اس کا مقصد نوجوان کو صرف اچھا کمانے والا نہیں، بلکہ ایک ذمہ دار شہری، اچھا بیٹا/بیٹی بنانا ہے۔

  •  اب تک کے اہم نتائج:  ۸۷ہزار سے زائد نوجوان تربیت یافتہ ہو چکے ہیں۔ ہزاروں نوجوان فری لانسنگ اور ڈیجیٹل روزگار سے منسلک ہو کر ماہانہ آمدن کما رہے ہیں۔ خواتین، متوسط اور پسماندہ طبقے کو خاص توجہ دی گئی ہے، جس سے سماجی شمولیت کو تقویت ملی ہے۔ یہ نتائج ریاستی اعلانات اور قرض دینے والی اسکیموں سے کہیں بہتر اور پائیدار ہیں۔
  •  بنوقابل پروگرام کی بنیاد اور ارتقاء:بنو قابل محض ایک اتفاقی پروگرام نہیں، بلکہ یہ جماعت اسلامی کے فکری سفر کا ایک منطقی تسلسل ہے۔ اس کی بنیاد ۲۰۱۸ء میں رکھی گئی، لیکن اس کی جڑیں جماعت اسلامی کے تعلیمی و تربیتی مشن میں پیوست ہیں۔ یہ دراصل ’خواندگی مہم‘ اور ’طلبہ تنظیم‘ کے بعد ایک تیسرا اور جدید ترین مرحلہ ہے۔ محترم حافظ نعیم الرحمٰن کے دورِ امارت میں اسے ایک تصور سے ایک قومی سطح کے قابلِ عمل پروگرام میں تبدیل کیا گیا ہے۔ 
  •  اثرات کا جائزہ اور پیش رفت:کمیونٹی لیول پر اثرات: تربیت یافتہ نوجوانوں کے گھروں میں ماہانہ آمدن میں ۴۰-۶۰ فی صد اضافہ دیکھا گیا ہے، جس سے پورے خاندان کی معاشی حالت بدل رہی ہے۔ہنر مند نوجوان اب اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو بھی تربیت دلا رہے ہیں، جس سے ایک مثبت سلسلہ شروع ہوا ہے۔۳۵ فی صد خواتین شرکاء کے ساتھ روایتی صنفی کردار میں مثبت تبدیلی آئی ہے۔ خواتین اب گھر بیٹھے عالمی مارکیٹ سے منسلک ہو رہی ہیں۔
  •  معاشی اثرات: فری لانسنگ اکانومی: تربیت یافتہ نوجوانوں نے اپریل ۲۰۲۰ء سے مارچ ۲۰۲۴ء تک تقریباً ۵ ملین ڈالر زرِمبادلہ کمایا ہے، جو ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک اہم حصہ ہے۔ مقامی کاروبار: کچھ نوجوانوں نے اپنے چھوٹے ڈیجیٹل اسٹارٹ اپ شروع کیے ہیں، جس سے مقامی روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ بین الاضلاعی تعاون: مختلف اضلاع کے نوجوان ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مل کر کام کر رہے ہیں، جس سے ایک نیا ورچوئل معاشی نیٹ ورک وجود میں آ رہا ہے۔

 کامیابی کے اہم واقعات

  • ایک نوجوان معراج (راولپنڈی): بی ایس سی کرنے کے بعد تین سال بے روزگار رہے، خاندان پر بوجھ سمجھے جاتے تھے۔بنو قابل سے ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی چار ماہ کی تربیت حاصل کی۔ اب دو بین الاقوامی کلائنٹس (امارات اور کینیڈا سے) کے ساتھ کام کرتے ہیں، ماہانہ آٹھ سوڈالر سے زیادہ آمدن، اور پانچ دیگر نوجوانوں کو تربیت دے رہے ہیں۔
  •  عائشہ (کوہاٹ): گھریلو خاتون، گھر کی محدود آمدن پر گزارہ تھا۔ ہینڈ اینڈ فٹ ویئر ڈیزائننگ کی تربیت حاصل کی۔ اب ۳۰ سے زائد خواتین کی ٹیم کی سربراہ، جو مقامی ہنرمندوں کو برآمدی معیار کا سامان تیار کرنا سکھا رہی ہیں۔ ان کی مصنوعات اب مقامی ہوٹلوں اور برآمد کنندگان کو فروخت ہو رہی ہیں۔
  •   ایک تربیت یافتہ نوجوان عمران کے بقول: ’’بنو قابل نے مجھے بے روزگار سے بزنس مین بنادیا۔ میں اب نہ صرف خود کما رہا ہوں بلکہ دوسروں کے لیے روزگار بھی پیدا کر رہا ہوں‘‘۔

چیلنجز اور ان کا حل

  •  وسائل کی کمی: زیادہ نوجوانوں کے لیے تربیتی مراکز اور جدید آلات کی کمی۔
  •   ڈیجیٹل رسائی: دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ اور جدید آلات تک محدود رسائی۔
  •   بینک اکاؤنٹس: نوجوانوں کے لیے فری لانسنگ کے لیے بینک اکاؤنٹس کھولنا اور عالمی ادائیگیاں وصول کرنا مشکل۔
  •  حل کے لیے اقدامات: موبائل ٹریننگ یونٹس: دور دراز علاقوں میں تربیت دینے کے لیے موبائل یونٹس کا قیام۔
  •   پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ: مقامی کاروباریوں کے ساتھ تعاون سے تربیتی مراکز قائم کرنا۔
  •   آن لائن پلیٹ فارم: ’ہنر پورٹل‘ کا آغاز، جہاں تربیتی ویڈیوز اور مواد مفت دستیاب ہے۔

2024-2030 کا روڈ میپ

  •  l ۱۰لاکھ نوجوانوں تک تربیت کی توسیع:’بنو قابل انکیوبیشن سنٹرز‘ کا قیام، جہاں نوجوان اپنے اسٹارٹ اپ شروع کر سکیں اور ابتدائی رہنمائی حاصل کر سکیں۔
  •   بین الاقوامی پارٹنرشپ: متحدہ عرب امارات، ملائیشیا اور سعودی عرب کے اداروں کے ساتھ تربیتی معاہدے، تاکہ نوجوان براہ راست بین الاقوامی مارکیٹ سے جڑ سکیں۔
  •  تحقیقی جائزہ اور اعداد و شمار:آزاد تحقیقات کے نتائج کے مطابق پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) کی ۲۰۲۳ء کی رپورٹ کے مطابق، بنو قابل کے نوجوانوں میں روزگار کی شرح ۶۷ فی صد ہے، جو قومی اوسط سے ۲۸ فی صد زیادہ ہے۔

 تربیت یافتہ نوجوانوں کی ۸۲ فی صد نے خود کو ’ذہنی طور پر مطمئن اور پُرامید‘ قرار دیا۔  تربیت کے ۶ ماہ بعد ۷۴ فی صد نوجوانوں نے باقاعدہ آمدن حاصل کرنا شروع کر دی۔

  •  ہنرمند پاکستان کی منزل:اگر پاکستان کو موجودہ بحران سے نکلنا ہے اور ایک مستحکم مستقبل کی تعمیر کرنی ہے تو:· نوجوانوں کو بوجھ نہیں، سب سے بڑا قومی سرمایہ سمجھنا ہوگا۔· سیاست کو ذاتی مفاد سے نکال کر خدمت، صلاحیت اور نظام سازی سے جوڑنا ہوگا۔· جنریشن Z کی سوچ، صلاحیتوں اور جذبات کو سنجیدگی سے سمجھنا اور انھیں مرکزِ توجہ بنانا ہوگا۔

’بنو قابل‘ محض ایک پروگرام نہیں، یہ ایک ممکنہ قومی ماڈل ہے، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ درست رہنمائی، عملی تربیت اور اخلاقی بنیادوں پر پاکستان کا نوجوان دنیا کی کسی بھی قوم کا مقابلہ کرسکتا ہے اور ملک کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ یہی حقیقی انقلابِ ہنر کی بنیاد ہے۔

’بنو قابل پروگرام‘ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ تربیت، اعتماد اور موقع کی کمیونی کیشن کسی بھی نعرے سے زیادہ طاقت ور ہوتی ہے۔ یہ محض ایک پروگرام نہیں، بلکہ ایک ثبوت ہے کہ پاکستانی نوجوان کو جب درست سمت مل جائے تو دنیا کو بدل سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ پروگرام ایک قومی تحریک بن جائے، جو پورے ملک کے نوجوانوں کو ’بوجھ‘ سے ’سرمایہ‘ میں تبدیل کردے۔

  •  مہارت اور تربیت ساتھ ساتھ:کسی بھی قوم کی ترقی صرف ٹیکنیکل مہارتوں سے ممکن نہیں ہوتی۔ اگر ان مہارتوں کے ساتھ نظریاتی سمت، اخلاقی شعور اور مقصدِ حیات واضح نہ ہو۔ ہنر اگر کردار سے خالی ہو تو وہ فرد کو وقتی فائدہ تو دے سکتا ہے، مگر معاشرے کو عدل، امانت اور خیر نہیں دے سکتا۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جسے اسلامی فکر نے ہمیشہ پیشِ نظر رکھا ہے۔

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ اس حقیقت کو نہایت جامع انداز میں بیان کرتے ہیں: ’’انسان کی اصل قدر اس کی صلاحیت میں نہیں بلکہ اس مقصد میں ہے جس کے لیے وہ اپنی صلاحیت استعمال کرتا ہے‘‘۔( تنقیحات)

’بنو قابل پروگرام‘ کی سب سے نمایاں اور منفرد خصوصیت یہی ہے کہ یہاں نوجوانوں کو صرف ڈیجیٹل مہارت نہیں سکھائی جاتی بلکہ ان کی فکری اور اخلاقی تربیت بھی کی جاتی ہے۔ اس پروگرام کے تحت نوجوانوں میں دیانت داری، وقت کی پابندی،نظم و ضبط،اجتماعی ذمہ داری، بامقصد زندگی اور خدمت ِ خلق کا شعورپیدا کرنے کی منظم کوشش کی جاتی ہے۔ تربیتی نشستوں، رہنمائی سیشنز اور اساتذہ کے عملی رویّوں کے ذریعے نوجوان کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ اس کا ہنر محض ذاتی کمائی کا ذریعہ نہیں بلکہ قوم اور معاشرے کے لیے ایک امانت ہے۔

یوں بنو ’قابل پروگرام‘ کے تحت اسکل ٹریننگ اور نظریاتی تربیت کے ذریعے ایک متوازن، باوقار اور ذمہ دار نوجوان نسل کی تشکیل پیش نظر ہے، جو نہ صرف عہدِ حاضر کے تقاضوں کو پورا کرسکے بلکہ ملک و ملّت کے لیے سرمایۂ افتخار بن سکے۔

 _______________