جولائی ۲۰۲۶

فہرست مضامین

صحابہؓ کاقرآن سے تعلق

ڈاکٹر اختر حسین عزمی | جولائی ۲۰۲۶ | تزکیہ و تربیت

Responsive image Responsive image

قرآن پر ایمان لانے میں پہل کرنے والے اور اوّلین مخاطب صحابہ کرامؓ تھے۔ انھوں نے خود کو کس طرح قرآن کے حوالے کر دیا تھا، اس کا کچھ اندازہ ذیل کے واقعات سے ہو سکتا ہے:

احترامِ رسولؐ

  • سورۂ حجرات کی یہ آیات جب نازل ہوئیں:’’اے ایمان والو! اپنی آواز نبیؐ کی آواز سے بلند نہ کرو اور نہ ان کے ساتھ اُونچی آواز میں بات کیا کرو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو، ایسا نہ ہو کہ تمھارا کیا کرایا سب غارت ہو جائے اور تمھیں خبر بھی نہ ہو۔ جو لوگ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور بات کرتے ہوئے اپنی آواز پست رکھتے ہیں، درحقیقت یہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لیے جانچ لیا ہے۔ ان کے لیے مغفرت اور اجر عظیم ہے‘‘(الحجرات ۴۹: ۲-۳)، تو ان آیات کے نزول کے بعد حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا: ’’یارسولؐ اللہ! اللہ کی قسم، اب تومیں آپؐ سے اس طرح بات کیا کروں گا جس طرح کوئی سرگوشی کرتا ہے۔(مستدرک حاکم، ۲/۴۶۲، بحوالہ تفسیر ابن کثیر)
  •  ان آیات کے نزول کے بعد حضرت ثابتؓ بن قیس انصاری کئی دن تک حضورؐ کی مجلس میں دکھائی نہ دیے۔ آپؐ نے اہل مجلس سے ان کے بارے میں دریافت کیا تو ایک شخص نے کہا: یارسولؐ اللہ میں ان کے بارے میں آپؐ کو بتلائوں گا۔وہ صحابی حضرت ثابتؓ بن قیس کے مکان پر پہنچے تو دیکھا کہ وہ سرجھکائے بیٹھے ہیں۔ پوچھا: کیا حال ہے؟ جواب ملا:برا حال ہے۔میری آواز حضوؐر کی آواز سے بلند ہوتی تھی، میرے اعمال تو برباد ہو گئے اور میں جہنمی ہو گیا۔یہ صحابی حضوؐر کے پاس آئے اور ماجرا عرض کیا۔ حضوؐر نے فرمایا: تم واپس جائواور انھیں خوشخبری دو کہ تم جہنمی نہیں، جنّتی ہو‘‘۔(صحیح بخاری،کتاب التفسیر، مسنداحمد ۳/۱۳۷، بحوالہ تفسیر ابن کثیر، ۵ /۱۷۴)

انفاق فی سبیل اللہ

مال ہر انسان کو محبوب اور مرغوب ہے، اِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌ (العادیات ۱۰۰:۸) یہ انسان کو سہولتیں مہیا کرنے کا بھی ذریعہ ہے اور سماجی حیثیت (status) کے اظہار کا بھی۔ صحابہ بھی انسان تھے۔ انھیں بھی ان چیزوں کی ضرورت تھی لیکن جب قرآن کا حکم آیا تو انھوں نے خرچ کرنے سے دریغ نہ کیا:

لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ۝۰ۥۭ  (اٰل عمرٰن۳:۹۲) تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ تم اپنی وہ چیزیں (راہِ خدا میں) خرچ نہ کرو جنھیں تم محبوب رکھتے ہو۔

  • حضرت ابوطلحہ انصاریؓ مال دار صحابی تھے۔ مسجد نبویؐ کے سامنے بیرحا نام کا ان کا ایک باغ تھا جس کا خوش ذائقہ پانی نوش کرنے کے لیے حضوؐر بھی تشریف لے جایا کرتے تھے۔ جب مذکورہ آیت نازل ہوئی تو حضرت ابوطلحہؓ نے بارگاہِ رسالت میں عرض کیا: یارسولؐ اللہ! میرا سب سے زیادہ پیارا مال یہ باغ ہے۔ میں آپؐ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اسے راہِ خدا میں وقف کردیا۔ اللہ مجھے نیکی عطا فرمائے۔(بخاری و مسلم، کتاب الزکوٰۃ، مسنداحمد)
  • حضرت عمرفاروقؓ نے خدمت نبوی میں عرض کیا کہ مجھے اپنے تمام مال میں سب سے زیادہ محبوب و مرغوب چیز خیبر کی زمین کا قطعہ ہے، میں اسے راہِ خدا میں دینا چاہتا ہوں، فرمائیے کیا کروں؟

آپ نے فرمایا: ’’اسے وقف کردو‘‘۔(بخاری، مسلم، کتاب الوصایا)

  • حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اس آیت کی تلاوت کرکے سوچا تو مجھے سب سےزیادہ پیاری چیز ایک لونڈی لگی۔ چنانچہ میں نے اس لونڈی کو راہ خدا میں آزاد کر دیا۔ اب تک بھی میرے دل میں اس کی ایسی محبت ہے کہ اگر کسی چیز کو اللہ کے نام پر دے کر واپس لے لینا جائز ہوتا تو میں کم از کم اس سے نکاح کرلیتا۔(مسند بزاز بحوالہ تفسیر ابن کثیر)
  •  ارشاد باری تعالیٰ ہے: مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللہَ قَرْضًا حَسَـنًا (الحدید۵۷: ۱۱) کون ہے جو اللہ کو قرض دے، بہترین قرض۔ 

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت ابوالدحداح انصاریؓ نے عرض کیا: یارسول اللہ! کیا اللہ ہم سے قرض چاہتا ہے؟ حضورؐ نے جواب دیا: ہاں۔ ابودحداحؓ نے یہ سن کر عرض کیا: ذرا اپنا ہاتھ میری طرف کیجیے۔‘‘ آپؐ نے اپنا ہاتھ ان کی طرف بڑھایا تو انھوں نے آپؐ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھاما اور کہا: میں نے اپنا باغ اپنے رب کو قرض دے دیا۔‘‘ حدیث کے راوی حضرت عبداللہؓ بن مسعود فرماتے ہیں کہ اس باغ میں کھجور کے چھ سو درخت تھے۔ اس میں ان کا گھر بھی تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات کرکے وہ سیدھے باغ میں پہنچے اور گھر کے دروازے پر کھڑے کھڑے بیوی کو پکار کر کہا: ’’اے دحدح کی ماں! بچے کو لے کر باہر نکل آئو۔ یہ باغ میں نے اللہ کو قرض دے دیا ہے۔‘‘ یہ سن کر اس اللہ کی بندی نے بڑی خوش دلی سے کہا:’’اے دحدح کے باپ! تم نے بڑے نفع کا سودا کیا ہے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے انھوں نے اپنے بچے اور سامان کو لیا اور باغ سے باہر نکل آئیں۔(ابن ابی حاتم، تفسیر ابن کثیر)

حیا و حجاب

اظہارِ حُسن کے لیے بنائو سنگھار کرنا عورت کی عمومی عادت ہے۔ہر دور میں مردوں کی نسبت عورتیں فیشن کی زیادہ دلدادہ رہی ہیں۔ زمانۂ جاہلیت میں عورتیں اپنے سینوں پر کوئی اوڑھنی نہ ڈالتی تھیں۔ گردن، بال، چوٹی اور بالیاں وغیرہ صاف نظر آتی تھیں۔

  • جب سورۂ نور کی آیت ۳۱: وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰي جُيُوْبِہِنَّ۝۰۠ (اور وہ اپنی اوڑھنیوں کے آنچل اپنے سینوں پر ڈالے رہیں) نازل ہوئی تو خواتین نے اس پر کس طرح فوری عمل کیا، وہ حضرت عائشہ کے الفاظ میں سنئیے، فرماتی ہیں:’’اللہ تعالیٰ اوّلین مہاجر عورتوں پر رحم کرے کہ جب اللہ کا فرمان وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰي جُيُوْبِہِنَّ  ۝۰۠  نازل ہوا تو انھوںنے اپنی بڑی بڑی چادروں کو پھاڑا اور انھیں اوڑھنیاں بنا لیا۔ بعض نے اپنے تہمد کے کنارے کاٹ کر ان سے سر ڈھانپ لیا‘‘۔(بخاری)

انصاری خواتین بھی قرآنی حکم پر من و عن عمل کرنے میں تاخیر کرنے والی نہ تھیں۔ حضرت عائشہؓ ہی فرماتی ہیں:’’بلاشبہ قریش کی عورتوں کے لیے بڑی فضیلت ہے اور اللہ کی قسم! میں نے انصار کی خواتین سے بڑھ کر کوئی عورت اللہ کی کتاب کی تصدیق اور نازل شدہ احکام پر ایمان لانے والی نہیں دیکھی۔ اللہ نے سورۂ نور میں آیت: وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰي جُيُوْبِہِنَّ  ۝۰۠  نازل فرمائی تو ان کے مرد گھروالوں کی طرف لپکے اور جو حکم نازل ہوا، وہ انھیں سنایا تو ہر عورت اپنے نقش و نگار والی بڑی چادر کی طرف لپکی اور اللہ نے اپنی کتاب میں جو نازل کیا تھا، اس کی تصدیق کرتے اور ایمان لاتے ہوئے اپنے سروں کو اوڑھنیوں سے ڈھانپ لیا۔ جب انھوں نے اگلی صبح رسول اللہ کے پیچھے نماز فجر ادا کی تو دیکھا گیا کہ سب عورتوں نے خود کو ڈھانپا ہوا ہے۔ وہ ایسی لگتی تھیں گویا ان کے سروں پر کوّے بیٹھے ہوئے ہیں۔(تفسیر ابن ابی حاتم، رقم: ۱۴۴۰۶)

  • سورۂ احزاب کی آیت ۵۹: يُدْنِيْنَ عَلَيْہِنَّ مِنْ جَلَابِيْبِہِنَّ۝۰ۭ (اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلو لٹکا لیا کریں) نازل ہوئی تو خواتین مدینہ نے اس پر کیسے عمل کیا، اس بارے میں اُم المومنین حضرت اُم سلمہؓ فرماتی ہیں کہ اس آیت کے اترنے کے بعد انصاری خواتین جب گھر سے باہر نکلتی تھیں تو اس طرح سکون اور اطمینان سے چلتی تھیں گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں۔ سیاہ چادریں اپنے اوپر اُوڑھ لیا کرتی تھیں۔(سنن ابوداؤد، کتاب اللباس، تفسیرابن کثیر)

ترکِ شراب نوشی 

لذت پرستی بالخصوص نشہ آوری کی لت سے جان چھڑانا بڑی قوت ارادی سے ہی ممکن ہے۔ شراب نوشی عرب کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے جب سورۂ مائدہ کی آیت ۹۰-۹۱  میں شراب سے اجتناب کا حکم دیا اور اس کی حرمت کی علّت بتاتے ہوئے ان سے سوال کیا: فَہَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَہُوْنَ(پس کیا اب تم اس سے باز آجائو گے؟)

  • حضرت عمرؓ نے فَہَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَہُوْنَ کے الفاظ سنے تو بے اختیار پکار اٹھے: انتھینا انتھینا ’’ہم باز آ گئے، ہم باز آ گئے‘‘۔(مسنداحمد،سنن ابی داؤد، ترمذی)

اس حکم پر کس قدر فوری عمل ہوا، حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ ابوطلحہ انصاریؓ کے گھر پر میں ابوعبیدہؓ بن جراح، ابیؓ بن کعب، سہیلؓ بن بیضاء اور دیگر صحابہ کی ایک جماعت کو شراپ پلا رہا تھا۔ لذتِ شراب سے سب لطف اندوز ہو رہے تھے۔ قریب تھا کہ نشے کا پارا چڑھ جائے۔ اتنے میں کسی صحابی نے آکر خبر دی کہ تمھیں علم نہیں کہ شراب حرام ہو گئی ہے؟ یہ سنتے ہی ابو طلحہؓ نے کہا: انسؓ بس کرو اور جو باقی بچی ہے، اسے بہا دو۔ اللہ کی قسم! اس کے بعد ایک قطرہ بھی ان میں سے کسی کے حلق میں نہیں گیا۔ میں نے دیکھا کہ مدینہ کے گلی کوچوں میں شراب بہہ رہی ہے۔ (مسنداحمد، بخاری و مسلم،کتاب الاشربہ و کتاب التفسیر) 

  • سورۂ حشر کی آیت ۹ وَمَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۝۹ۚ  (جو بھی اپنے نفس کی حرص سے بچ جائیں تو وہی لوگ کامیاب ہیں) کی تفسیر میں امام ابن کثیرؓ نے ابن جریر کے حوالے سے ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ حضرت ابوالہیاج اسدیؒ فرماتے ہیں کہ بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے میں نے دیکھا کہ ایک صاحب صرف یہی دُعا بار بار پڑھ رہے ہیں: اَللّٰہُمّ قِنِی شُحّ نَفِسْی(اے اللہ! مجھے میرے نفس کی حرص سے بچا لے)۔ آخر مجھ سے نہ رہا گیا۔ میں نے انھیں کہا کہ آپ صرف یہی دعا کیوں مانگ رہے ہیں؟ انھوں نے کہا کہ جب اس سے بچائو ہو گیا تو پھر نہ زنا کاری ہوسکے گی، نہ چوری اور نہ کوئی اور برا کام۔ اب جو میں نے دیکھا تو وہ حضرت عبدالرحمٰنؓ بن عوف تھے۔

قسم سے رجوع

کسی بھلائی کے نہ کرنے کی قسم کھانا ایک اظہار ہوتا ہے کہ جس شخص کے ساتھ وہ بھلائی  نہیں کی جائے گی، اس سے آدمی کو حد درجہ نفرت ہے یا اس سے قسم کھانے والے کی سخت دلآزاری ہوئی ہے۔ صحابہ نے بھی ایسی قسمیں کھائیں۔ لیکن اگر قرآن میں اس کے برعکس حکم آگیا تو ان کی کیفیت کیا ہوتی تھی؟

  • اُم المومنین حضرت عائشہؓ پر جب منافقین نے تہمت لگائی تو ان کے پراپیگنڈے کے زیر اثر حضرت ابوبکرؓ کی خالہ زاد بہن کے بیٹے مسطحؓ بن اثاثہ بھی الزام لگانے والوں میں شامل ہو گئے۔ حالانکہ حضرت ابوبکرؓ مسطحؓ اور ان کی والدہ کی مالی کفالت کرتے تھے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب اللہ نے (سورۃ النور میں) میری برأت نازل فرما دی تو حضرت ابوبکرؓ نے قسم کھائی کہ آئندہ وہ مِسطحؓ بن اثاثہ کی مدد نہیں کریں گے کیونکہ انھوں نے نہ رشتہ داری کا لحاظ کیا اور نہ ان احسانات کی لاج رکھی جو ساری عمر ابوبکر ان پر اور ان کے خاندان پر کرتے رہے تھے۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی: وَلَا يَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ..... اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ يَّغْفِرَ اللہُ لَكُمْ۝۰ۭ (النور۲۴: ۲۲) ’’تم میں سے جو لوگ مال دار اور صاحب استطاعت ہیں، وہ اس بات کی قسم نہ کھابیٹھیں کہ اپنے رشتہ دار مسکین اور مہاجر فی سبیل اللہ لوگوں کی مدد نہ کریں گے۔ انھیں معاف کردو اور درگزر کرو۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمھیں معاف کردے‘‘۔ یہ الفاظ سنتے ہی ابوبکرؓ نے کہا:  بَلٰی اَنَـا نُحِبُّ اَن تَغْفِرَلَنَا یَا رَبَّنَا، کیوں نہیں! واللہ ہم ضرور چاہتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو ہماری خطائیں معاف فرما دے۔

چنانچہ آپؓ نے مسطحؓ بن اثاثہ کی مدد بحال کر دی اور ان پر پہلے سے بھی زیادہ احسان کرنے لگے۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی یہ روایت ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کے علاوہ یہ قسم بعض دیگر صحابہ نے بھی کھائی تھی کہ جن جن لوگوں نے اس بہتان میں حصہ لیا ہے، ان کی وہ مدد نہ کریں گے۔ اس آیت کے نزول کے بعد ان سب نے اپنی قسم سے رجوع کر لیا۔(تفسیر ابن کثیر، ۳/ ۵۹۹، تفہیم القرآن ۳/ ۳۷۲)

  • حضرت حسن بصریؒ روایت کرتے ہیں کہ حضرت معقلؓ بن یسار نے بیان کیا کہ:میں نے اپنی بہن کی شادی ایک شخص سے کرائی جس کے بعد اس نے اسے طلاق دے دی۔ یہاں تک کہ جب عدت ختم ہو گئی تو وہ پیغامِ نکاح لے کر پھر آگیا۔ میں نے اسے کہا: میں نے تو تیری شادی کرائی تھی اور اپنی بہن کو تیرے لیے بستر بنا دیا تھا، تیری عزت کی تھی لیکن تم نے اسے طلاق دے دی۔ اب تم اسے نکاح کا پیغام دینے آئے ہو۔ اللہ کی قسم! اب میری بہن تمھاری زوجیت میں کبھی نہیں آئے گی۔ البتہ وہ اپنی محبت میں سچا تھا۔ اس شخص میں کوئی عیب بھی نہیں تھا۔ میری بہن بھی لوٹنا چاہتی تھی ( معقل ہی رکاوٹ تھے)۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی:

وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاۗءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَہُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ اَنْ يَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَہُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَہُمْ بِالْمَعْرُوْفِ۝۰ۭ (البقرہ۲: ۲۳۲)جب تم عورتوں کو طلاق دے دو، پھر وہ اپنی عدت پوری کر لیں تو پھر انھیں اپنی پسند کے شوہروں سے نکاح کرنے سے نہ روکو، جب کہ معروف طریقے سے وہ باہمی نکاح پر راضی ہوں۔

معقلؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ میں اللہ کے حکم پر ضرور عمل کروں گا۔  چنانچہ انھوں نے نئے نکاح کے ساتھ اپنی بہن کی شادی اسی آدمی سے کر دی۔(صحیح بخاری)

عفوو درگزر

  •  حضرت حسینؓ کا غلام اُن کے دسترخوان پر کھانے کا پیالہ لایا، اس کے ہاتھ سے پیالہ چھوٹ گیا۔ آپ کا لباس شوربے میں لتھڑ گیا۔ آپؓ نے غضبناک نظروں سے غلام کی طرف دیکھا۔ اس نے سورۂ آل عمران کی آیت۱۳۴ کا ایک حصہ پڑھا: وَالْكٰظِمِيْنَ الْغَيْظَ (غصہ پی جانے والے مومنین)۔ آپؓ نے فرمایا: میں نے غصہ پی لیا۔ خادم نے آیت کا اگلا حصہ پڑھا: وَالْعَافِيْنَ عَنِ النَّاسِ (لوگوں کو معاف کرنے والے)۔ سیدنا حسینؓ نے کہا: میں نے تجھے معاف کیا۔ اس نے آیت کا آخری حصہ پڑھا: وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ‌ (اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔) آپؓ نے فرمایا: جائو میں نے تمھیں آزاد کیا۔  (سیرتِ حسینؓ، ص:۱۳۱)
  • حرؓ بن قیس کو امیر المومنین حضرت عمرؓ کے ہاں قدرومنزلت حاصل تھی۔ ان کا بھائی عُیَینہ بن حِصن ایک بدّو سردار تھا اور اکھڑ مزاجی اس کی طبیعت کا حصہ تھی۔عُیینہ اپنے بھائی حرؓ کے ہمراہ امیرالمومنینؓ کے ہاں پہنچے تو عُیینہ نے کرخت لہجے میں بات کرتے ہوئے کہا:’’آپؓ ہمیں کچھ بھی مال نہیں دیتے۔ آپؓ ہمارے ساتھ عدل سے فیصلہ نہیں کرتے۔‘‘ حضرت عمرؓ کو اس کی بات بہت بُری لگی اور ممکن تھا کہ وہ اسے سزادیتے۔ حضرت حرؓ بن قیس نے اپنے بھائی کی اس کی بے ہودہ گوئی پر امیر المومنین کی ناراضی کو بھانپ لیا اور یہ آیت پڑھی: خُذِ الْعَفْوَوَاْمُرْ بِالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ                عَنِ الْجٰہِلِيْنَ۝۱۹۹ (اعراف۷: ۱۹۹)’’نرمی و در گزر کا طریقہ اختیار کرو، بھلائی کی تلقین کیے جاؤ اور جاہلوں سے نہ اُلجھو‘‘۔ یہ سن کر حضرت عمرؓ کا غیض و غضب فوراً کافور ہو گیا۔ (بخاری، کتاب التفسیر)

لذّتِ تلاوت

قرآن کتابِ الٰہی کے سننے سے اہلِ ایمان کے بدن کےرونگٹے کھڑے ہونے، دلوں کے نرم پڑنے اور یادالٰہی کی طرف متوجہ ہونے کی خبر دیتا ہے:تَــقْشَعِرُّ مِنْہُ جُلُوْدُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّہُمْ۝۰ۚ ثُمَّ تَلِيْنُ جُلُوْدُہُمْ وَقُلُوْبُہُمْ اِلٰى ذِكْرِ اللہِ۝۰ۭ    (الزمر ۳۹: ۲۳) ’’اُسے سن کر اُن لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے ربّ سے ڈرنے والے ہیں، اور پھر اُن کے جسم اور ان کے دل نرم ہوکر اللہ کے ذکر کی طرف راغب ہوجاتے ہیں‘‘۔

  •  ایک غزوہ سے واپسی پر حضورؐ نے ایک گھاٹی میں رات کو پڑائو کیا۔ حضرت عمار بن یاسرؓ اور عبادؓ بن بِشر انصاری گھاٹی کے سرے پر پہرے دار مقرر ہوئے۔ رات کے پہلے حصے کے لیے عبادؓ بن بِشر کا جاگنا طے ہوا اور عمار بن یاسرؓ سو گئے۔ عبادؓ بن بِشر کھڑے ہو کرنفل پڑھنے لگے۔ اس دوران ایک تیر عبادؓ بن بِشرکی پسلی میں آ کر لگا۔ انھوں نے اسے کھینچ کر نکال دیا اور نماز جاری رکھی۔ کچھ دیر بعد ایک اور تیر ان کے پہلو میں آ کر لگا لیکن انھوںنے نماز توڑے بغیر تیرنکال دیا۔ اب تیسرا تیر آکر لگا، انھوں نے نماز مکمل کی تو ان کا کافی خون بہہ چکا تھا۔ انھوں نے اپنے ساتھی عمار بن یاسرؓ کو جگا کر اپنی صورت حال بتائی۔ 

عمار بن یاسرؓ نے انھیں خون آلود دیکھ کر کہا:’’سبحان اللہ! آپ نے مجھے اسی وقت کیوں نہ بتایا جب آپ کو پہلا تیر لگا تھا؟ حضرت عبادؓ بن بِشرنے کہا:میں اس وقت نماز میں سورۂ کہف کی تلاوت کر رہا تھا۔ میں نے گوارا نہ کیا کہ میں اسے درمیان میں چھوڑ دوں۔ اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ بکثرت خون بہنے سے میری موت واقع ہو سکتی ہے اور تمھیں جگا کر مورچہ سنبھالنے کا فرض ادا نہ کیا تو میں ایک بڑی خیانت کا مرتکب ہوں گا، تو میں کبھی سورۂ کہف کی تلاوت نہ چھوڑتا، خواہ میری جان ہی چلی جاتی۔(سیرۃ ابن ہشام، ص ۷۴۹، ابن قیم، زاد المعاد، ۲/۱۱۲ )

قرآن سے تعلق کی لذت نے صحابۂ رسولؐ کو ہر دکھ اور تکلیف سے بے نیاز کر دیا تھا۔

  •  براءؓ بن عازب سے روایت ہے کہ حضرت اُسیدؓ بن حضیر سورۂ کہف کی تلاوت کر رہے تھے اور ان کا گھوڑا قریب ہی دو مضبوط رسیوں سے بندھا ہوا تھا۔ اچانک ان پر بادل چھا گئے۔ آہستہ آہستہ وہ بادل قریب ہونے لگے اور گھوڑا اُچھل کود کرنے لگا۔ اُسَیدؓ بن حضیر دیکھنے کے لیے باہر نکلے لیکن انھیں کچھ نظر نہ آیا۔ جب صبح ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپؐ نے فرمایا: إقراء فلان فانّها السَّكِینَةُ نزلَتْ للقُرْآنِ، ’’اے فلاں! قرآن پڑھو۔ بے شک یہ وہ سیکنت تھی جو قرآن کی قرأت کے وقت نازل ہوتی ہے‘‘۔(بخاری، کتاب المناقب)

خوفِ آخرت

  •  حضرت مجاہد تابعی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے پاس جا کر یہ واقعہ بیان کیا کہ عبداللہ بن عمرؓ نے اس آیت: وَاِنْ تُبْدُوْا مَا فِيْٓ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْہُ يُحَاسِبْكُمْ بِہِ اللہُ۝۰ۭ (البقرۃ۲ : ۲۸۴) (تم اپنے دل کی باتیں خواہ ظاہر کر و یا چھپائو، اللہ اس کا حساب تم سے لے لے گا) کی تلاوت کی تو بہت روئے۔ ابن عباسؓ نے فرمایا: اس آیت کے نزول پر یہی حال دیگر صحابہ کا بھی ہوا تھا۔ وہ سخت پریشان ہوئے۔ حضورؐ سے عرض کیا کہ دل کے خیالات پر بھی پکڑے گئے تو بڑی مشکل ہوگی کیونکہ دلوں پر تو اختیار نہیں۔ آپؐ نے فرمایا: سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا کہو۔ انھوں نے جب یہ کہا تو آیت: لَا يُكَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا۝۰ۭ (البقرۃ۲ :۲۸۶) نازل ہوئی۔ اس آیت نے طے کردیا کہ عمل پر تو پکڑ ہوگی لیکن دل کے خیالات اور نفس کے وسوسوں پر پکڑ نہ ہوگی۔ (صحیح بخاری، کتاب العتق، صحیح مسلم، کتاب الایمان، مسنداحمد، تفسیر ابن کثیر)
  •  عبد الله بن شداد کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نماز فجر کی امامت میں یہ آیت پڑھ رہے تھے: اِنَّمَآ اَشْكُوْا بَثِّيْ وَحُزْنِيْٓ   اِلَى اللہِ (یوسف۲۱: ۸۶) ’’میں اپنی پریشانی اور غم کی فریاد اللہ ہی سے کرتا ہوں‘‘۔اس آیت کی تلاوت کے وقت ان کے رونے کی آواز میں سن رہا تھا حالانکہ میں اس وقت سب سے آخری صف میں تھا۔(بخاری، رقم : ۷۱۵، ابن ابی شیبہ ۷ / ۲۲۴)
  •  تمیم داری پوری رات تہجد میں سورئہ جاثیہ کی یہ آیت پڑھتے رہے، یہاں تک کہ صبح ہوگئی: اَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ اجْتَرَحُوا السَّيِّاٰتِ……   (الجاثیہ۲۱:۴۵) ’’کیا وہ لوگ جنھوں نے برائیوں کا ارتکاب کیا ہے، یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ ہم انھیں اور ایمان لانے والوں کو اور نیک عمل کرنے والوں کو برابر کر دیں گے۔ ان کا جینا اور مرنا سب یکساں ہو جائے گا؟ بہت بُرے حکم ہیں جو یہ لگاتے ہیں‘‘۔(طبرانی بحوالہ ابن کثیر ۵ / ۸۴)
  •  جُبیر بن مطعمؓ کہتے ہیں کہ میں نے نماز مغرب میں حضورؐ سے سورۂ طورسُنی جب حضوؐر آیت ۳۵، اور اس سے اگلی آیات پر پہنچے تو میری حالت یہ ہو گئی کہ: کادَقلبی اَن یَّطِيرَ (قریب تھا کہ میرا دل اڑ جاتا)۔ اس موقع پر ایمان میرے دل میں جا گزیں ہو گیا۔(صحیح بخاری، کتاب التفسیر، حدیث: ۴۰۲۳، ۴۸۵۴)

قرآنی رنگ

صحابہ کرامؓ نے قرآن کے رنگ میں اس طرح خود کو رنگ لیا تھا، کہ انھوں نے کوئی عمل کیا تو اس کی تعریف خود اللہ نے مختلف مواقع پر فرمائی۔

  • بخاری و مسلم کی روایت ہے کہ ایک آدمی اللہ کے رسولؐ کے پاس آیا اور عرض کیا: یارسولؐ اللہ! سخت ضرورت مند ہوں مجھے کچھ کھلوائیے۔ آپؐ نے اپنے گھروں کی طرف آدمی بھیجا لیکن تمام گھروں سے جواب ملا کہ کھانے کی کوئی چیز موجود نہیں۔ اب آپؐ نے صحابہ سے کہا: ہے کوئی جو آج اس مسافر کی مہمان نوازی کرے؟ 

ایک انصاری نے کہا کہ حضوؐر میں اس کی مہمان نوازی کروں گا۔ وہ مہان کو گھر لے گئے اور بیوی کو کہا کہ یہ اللہ کے رسولؐ کے مہمان ہیں۔ آج ہمیں چاہے کھانے کو کچھ نہ ملے لیکن یہ بھوکے نہ رہیں۔ بیوی نے کہا کہ آج گھر میں صرف اتنا کھانا ہے کہ بچے سیر ہو سکیں۔ انصاری نے کہا کہ بچوں کو تو بہلا پھسلا کر سُلا دو اور ہم دونوں بھی فاقے سے رات گزار لیں گے، اور کھانے کے وقت چراغ بجھا دینا تاکہ مہمان کو پتہ نہ چلے کہ ہم کھا رہے ہیں یا نہیں، تاکہ وہ سیر ہو کر کھا لے۔ چنانچہ کھانا رکھتے ہی بیوی نے چراغ کو درست کرنے کے بہانے اسے بجھا دیا۔ مہمان نے کھانا کھایا اور سارے خاندان نے رات بھوک سے گزاری۔

صبح جب یہ انصاری مہمان کے ساتھ خدمتِ نبویؐ میں حاضر ہوئے تو آپؐ نے فرمایا: اس شخص اور اس کی بیوی کے رات کے عمل سے اللہ خوش ہوا اور ہنس دیا۔‘‘ انھی کے بارے میں سورۂ حشر کی آیت : يُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓي اَنْفُسِہِمْ وَلَوْ كَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ۝۰ۭۣ (الحشر ۵۹:۹) ’’وہ دوسروں کو خود پر ترجیح دیتے ہیں، چاہے خود انھیں کتنی ہی سخت حاجت ہو‘‘، نازل ہوئی۔(بخاری، کتاب التفسیر)

  • حضرت صہیب رومیؓ مکے سے ہجرت کرنے لگے تو کفارِ مکہ کو اس کی خبر ہوگئی۔ تعاقب کرکے انھوں نے انھیں گھیر لیا اور کہا: اے صہیبؓ! تم مکے میں مفلس آئے تھے، تم نے یہاں دولت کمائی۔ اب تم اس دولت کو یثرب لے جا کر عیش کرو، یہ ہمیں گوارا نہیں۔ صہیب رومیؓ نے تیر کمان سیدھے کرکے دھمکی دی کہ اگر تم مال و دولت چاہو تو وہ تمھیں دے دیتا ہوں بشرطیکہ میرا راستہ چھوڑ دو اور اگر مجھے گرفتار کرنا چاہتے تو یہ ممکن نہیں۔ تم جانتے ہو کہ میں کتنا اچھا تیرانداز ہوں۔ میں تیروں سے تمھارا بڑا جانی نقصان کروں گا۔ تیر ختم ہو گئے تو آخر دم تک تم سے تلوار سے لڑوں گا۔ جانی نقصان کے خوف سے کافروں نے صہیب رومیؓ کی پیش کش قبول کر لی۔ وہ متاعِ ایمان بچانے کی خاطر متاع دنیا کافروں کو سونپ کر خالی ہاتھ مدینے چل دیئے۔

قبا کی بستی میں جب حضورؐ سےملاقات ہوئی تو رسولؐ اللہ نے انھیں مبارکبا دی کہ تم نے بہت ہی نفع بخش سودا کیا ہے اور پھر یہ آیت پڑھی:وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْرِيْ نَفْسَہُ ابْـتِغَاۗءَ مَرْضَاتِ اللہِ۝۰ۭ  لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی جو اللہ کی رضا جوئی کے لیے اپنی جان کا بھی سودا کر دیتا ہے‘‘ (البقرہ۲:۲۰۷)۔(مستدرک حاکم، ۳  /۳۹۸  ، ابن ہشام، ص۱۰، طبقات ابن سعد، ۳/ ۱۶۲)

 _______________