جولائی ۲۰۲۶

فہرست مضامین

سیرت سازی میں استاد کا کردار

ڈاکٹر محمد ارشد | جولائی ۲۰۲۶ | تعلیم و تربیت

Responsive image Responsive image

سیرت ایک مکمل نظام ہے جو ایک خاص قسم کے ارادی افعال سے ترتیب پاتا ہے۔ سیرت کا استحکام کسی مسلسل غالب نظریے سے ہوتا ہے۔سیرت کردار کی بنیاد ہوتی ہے اورکردار عام طور پر حالات کی حدبندیوں میں سیرت کا اظہار کرتا ہے۔ سیرت بالآخر انسان کی فطرت بن جاتی ہے۔ اس کا کچھ حصہ اس کی اصل فطرت ہوتی ہے اور کچھ حصہ ایسی فطرت ہوتی ہے جس کی پرورش عادات سے ہوتی ہے اور یہ عادات ہی ہیں جو انسان کی سیرت کی تشکیل کرتی ہیں۔

کسی کام کو خاص ڈھنگ سے بار بار کرنے کے میلان کو عادت کہتے ہیں۔ عادتیں بذاتِ خود تو فطری نہیں ہوتیں، لیکن ہر عادت کی اساس کوئی نہ کوئی جبلت، بنیادی خواہش یا فطری داعیہ ہی ہوتا ہے۔ عادتیں وہبی نہیں بلکہ کسبی ہوتی ہیں۔ ماحول کے اثر سے پڑتی ہیں۔ فطری نہیں ہوتیں لیکن جب باربار کی مشق سے مستحکم ہوجاتی ہیں تو پھر مشکل ہی سے چھوٹتی ہیں۔ لیکن چونکہ اس کے اظہار کے طریقے، تقلید، تجربے، تربیت اور عقل و فہم کی وجہ سے مختلف ہوتے ہیں اور یہی طریقے رفتہ رفتہ مستحکم ہوکر عادات و اَطوار اور سیرت و کردار میں یکسانیت کی بجائے شدید اختلافات پیدا کردیتے ہیں۔

  • سیرت سازی میں بنیادی کردار:سیرت سازی میں والدین اور اساتذہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بچوں کی سیرت کی تشکیل اور شخصیت کی تعمیر میں استاد کا حصہ والدین سے زیادہ ہے۔ استاد بچوں کو محض معلومات ہی فراہم نہیں کرتا بلکہ ان میں روح کی بلندی، ذہن کی پختگی اور کردار کی رفعت بھی پیدا کرتا ہے۔ انھیں صحیح معنوں میں انسان بناتا ہے۔ اگر استاد کا کردار بے داغ اور مثالی ہو تو وہ بیک وقت سیکڑوں طلبہ کی سیرت کی تشکیل کرسکتا ہے۔ وہ ایک مہربان، شفیق اور ہمدرد دوست ہے۔ وہ ان کا رہنما بھی ہے اور اسلامی تعلیمات کا عملی پیکر بھی۔ بچّے اپنے استاد کو دُنیا کا سب سے بڑا آدمی سمجھتے ہیں۔ اس کی ہربات پر غیرمعمولی اعتماد کرتے ہیں۔ اس کی سیرت و کردار کو اپنے لیے قابلِ تقلید سمجھتے ہیں۔ بچوں کی اخلاقی تعمیر میں معلّم کی شخصیت کو سب سے زیادہ دخل حاصل ہے کیونکہ بچّے اسے شمع ہدایت تصور کرتے ہیں۔ ایک اچھے معلّم کے طفیل اپنے خیالات اور اخلاق و عادات میں استواری پیدا کرتے ہیں۔

علّامہ محمد اقبال کی رائے میں استاد حقیقت میں قوم کے محافظ ہیں کیونکہ آئندہ نسلوں کو سنوارنا اور ان کو خدمت کے قابل بنانا انھی کی قدرت ہے۔ سب محنتوں سے اعلیٰ درجے کی محنت اور سب کارگزاریوں سے زیادہ بیش قیمت کارگزاری ملک کے معلّم کی کارگزاری ہے۔ معلّم کا فرض سب فرائض سے زیادہ مشکل اور اہم ہے۔ کیونکہ تمام اخلاقی، تمدنی اور مذہبی نیکیوں کی کلید اسی کے ہاتھ میں ہے اور ترقی کا سرچشمہ اس کی محنت ہے۔ اقبال کے نزدیک فلسفۂ تعلیم کا بنیادی نظریہ سیرت و کردار سازی ہے۔ وہ طالب علم کے رُوپ میں ایسے کردار کی تشکیل چاہتے ہیں جس میں بچہ زندگی کی گراں باریوں کو خندہ پیشانی سے جھیلنے کا عادی ہوجائے۔ وہ ایسے کردار کے خواہاں ہیں جس میں طاقت بھی ہو اور جسارت بھی، بلندنظری بھی ہو اور جرأت تسخیر بھی۔ خودنمائی بھی ہو اور آشکار آرائی بھی، عزم و ہمت بھی ہو اور جرأت بھی۔ صبروقناعت بھی ہو اور سخت کوشی بھی۔ شوخی ٔ طبع بھی ہو اور جدّت نظر بھی، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ اسرارِ کائنات کا متلاشی بھی ہو۔ وہ اسے تصرف میں لاکر اِک نیا جہان بسائے جس کی آب و تاب دیکھ کر مہ و خورشید بھی سراپا حیرت بن جائیں۔ یہ ہرآدمی کے بس کی بات نہیں کہ وہ محض اپنی کوششوں سے علم حاصل کرے۔ علم و دانش کے حصول اور تشکیل سیرت کے لیے استاد کا ہونا نہایت ضروری ہے۔

  • استاد کا کلیدی کردار:درس گاہ اور استاد کی حیثیت اساسی اور مرکزی ہوتی ہے اور استاد شاگرد کے نزدیک ایک ایسی ساحرانہ ہستی ہوتا ہے جس کی تقلید کو وہ اپنے لیے باعث ِ فخر سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ استاد اور اس کا کردار طلبہ کی تشکیلِ سیرت و کردار میں نمایاں حیثیت کا حامل ہے۔ اساتذہ اپنی سیرت، بلندکردار اور پاکیزہ اَطوار سے معاشرہ کو زیادہ منظم کرسکتے ہیں اور طلبہ کی ایسی تربیت کرسکتے ہیں جس کے اثرات تاحیات قائم رہیں۔

مسلمان استاد کو تعمیرِ سیرت کاکٹھن کام انجام دیتے ہوئے طلبہ میں پسندیدہ عادات کو زنجیریں بناکر راسخ کرنا اور ناپسندیدہ عادات کو کمالِ حکمت سے ترک کرنا ہوتا ہے۔ کیونکہ عادات کی زنجیریں دیکھنے میں چھوٹی نظر آتی ہیں لیکن آہستہ آہستہ اتنی مستحکم اور بڑی ہوجاتی ہیں کہ ساری زندگی توڑنے سے نہیں ٹوٹتیں۔

یہ امرِواقعہ ہے کہ ’’پہلے ہم عادتیں بناتے یا بگاڑتے ہیں اور پھر یہی عادتیں ہمیں بناتی یا بگاڑتی ہیں۔ اس لیے استاد کا یہ اوّلین فرض ہے کہ وہ طلبہ میں پاکیزہ اور پسندیدہ عادات پیدا کرے۔ جسم اور لباس کی صفائی، وقت کی پابندی، نماز، کھیل، مطالعہ اور ورزش کی عادت، سلام کرنا، مزاج پوچھنا، مناسب گفتار و رفتار، مناسب طریقے سے کھانا پینا، سچ بولنا، ایمانداری برتنا، خندہ پیشانی سے پیش آنا، غلطی کا اعتراف کرلینا، بھول چوک پر معذرت کرلینا، بولنے، سوال کرنے، جواب دینے، کوئی چیز لینے یا دینے میں اپنی باری کا انتظار کرنا۔ فرائض کی پابندی، باقاعدگی، وعدہ پورا کرنا، خدمت خلق کرنا اور معذوروں و مجبوروں کی خبرگیری کرنا، اجازت لے کرآنا، شکریہ اداکرنا، شائستگی سے گفتگو کرنا، ادب سے نام لینا، ہرموقع کے آداب کا لحاظ رکھنا، سب پسندیدہ عادات کے زمرے میں آتے ہیں۔

بچپن ہی سے اگر پسندیدہ عادات راسخ کرنے کی طرف توجہ دی جائے تو فرد کو ترقی کی منزلیں طے کرنے میں بہت سہولت ہوجاتی ہے۔ ایک فرد جو وقت پر کھانے، کھیلنے، سونے جاگنے کا عادی ہو۔ مطالعے اور محنت و مشقت کے کاموں پر پابندی سے وقت صرف کرسکتا ہو۔ مختلف مواقع کے آداب کا پابند ہو۔ اس کی صحت، اخلاق اور سیرت بھی درست ہوگی اور آگے بڑھنے کے زیادہ مواقع بھی نصیب ہوں گے۔

  • سیرت سازی کے لیے اقدامات:سیرت سازی کے لیے سب سے پہلے بچّے کو سادہ اور عام فہم انداز میں قصے کہانیوں، پوسٹروں، تصویروں، واقعات اور مشاہیر کی سوانح حیات وغیرہ کی مدد سے کسی عادت کے فوائد، اہمیت اور ضرورت محسوس کرائی جائے۔ پھر مختصر اور متعین الفاظ میں یہ بات ذہن نشین کرائی جائے کہ اس ضمن میں کیا کیا مطلوب ہے اور مطلوب بآسانی کس طرح حاصل ہوسکتا ہے؟ طلبہ سے انفرادی اور اجتماعی طور پر بھرپور کوشش کرنے اور عمل کا عہد بھی لیا جائے۔  اس کے علاوہ طلبہ کے لیے اپنے اندر محبت، ہمدردی و دل سوزی کے جذبات پیدا کرنے ہوں گے۔ مربی کو اصلاح کی طرف سے مایوسی سے خود بھی بچنا ہوگا اور طلبہ کو بھی محفوظ رکھنا ہوگا۔ بچّے کی عزّتِ نفس، غیرت، خودداری کا پاس و لحاظ رکھنا ہوگا۔ زیرِ تربیت طلبہ کی عملی، اخلاقی، ذہنی اور جسمانی حالت کا جائزہ لے کر نمایاں خوبیوں اور خامیوں کا ایک چارٹ مرتب کیا جائے۔

اساتذہ اپنے آپ کو عملی نمونہ کے طور پرطلبہ کے سامنے پیش کریں تاکہ وہ اچھی عادات اپنانے میں تقلید کرسکیں۔ دوسروں کے سامنے بچّے کی تنقیص، شکایت یا بے جا تنقید ہرگز نہ کی جائے۔ طفلانہ شوخیوں کے لیے گنجائش دی جائے اور نادانی کے باعث ہونے والی کوتاہیوں سے درگزر کیا جائے۔ دوسروں کے سامنے بچوں کی صرف خوبیوں کا تذکرہ کیا جائے۔ اچھے کاموں پر شاباش دی جائے۔ تعمیرواخلاق کی نشوونما اور ناپسندیدہ حرکات سے محفوظ رکھنے کے لیے بچوں کی عمر اور دلچسپیوں کی مناسبت سے ہم نصابی سرگرمیوں کا بندوبست کیا جائے۔

ہم نصابی مشاغل سے طلبہ کی اخلاقی تربیت ہوتی ہے۔ جذبۂ قیادت اُبھرتا ہے۔ اشتراکِ عمل کا جذبہ پیدا ہوتاہے۔ سماجی اَطوار بہتر اور تدریسی کام میں انہماک پیدا ہوتا ہے۔ قوتِ اظہار اور خوداعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ وقت اور نظم و ضبط کی پابندی کی عادت راسخ ہوتی ہے۔ وہ سماجی اقدار کو سمجھتے ہوئے معاشرہ کا مفید رکن بن کر زندگی بسر کرسکتا ہے۔ فرصت کے اوقات کو عمدہ اور تعمیری انداز میں بسر کرنے کی تربیت ملتی ہے۔ ارتباط باہمی بچّے کو صداقت پسندی ، راست گفتاری اور قانون کا احترام سکھاتا ہے۔

طلبہ کے لیے عام کھیل کود کے علاوہ صحت مند ادبی و سماجی مشاغل کا انتخاب کیا جائے۔ قومی اور معاشرتی تقریبات کو اسلامی رنگ میں منایا جائے۔ مجموعی طور پر اسکول میں عملی سرگرمیوں، نظم و ضبط، صفائی، طرزِگفتگو، اخلاقی اقدار اور آدابِ معاشرت کا ایسا ماحول پیدا کیا جائے جس کا اثر غیرمحسوس طور پر طلبہ کی شخصیت کو اسلامی رنگ میں ڈھال دے۔

  • ناپسندیدہ عادات سے چھٹکارا: ناپسندیدہ عادات و اَطوار کو ترک کروانے کے لیے اساتذہ کو چاہیے کہ سب سے پہلے طلبہ کی ناپسندیدہ عادت واَطوار میں چند بنیادی اور نمایاں خرابیوں کو نوٹ کریں۔ پھر باری باری ہر بُری عادت کے اصل محرکات کا جائزہ لے کر دُور کرنے کی فکر کریں۔ مناسب موقع تلاش کرکے عام فہم انداز میں سبق آموز قصّے کہانیوں وغیرہ کی مدد سے  اس بُری عادت کے نقصانات اور بُرے نتائج ذہن نشین کرائیں۔ اس کے بعد ترک کرانے کی آسان تدابیر اپنائیں۔ بچّے کو اچھی طرح آمادہ کرکے بُری عادت ترک کرنے کا عہد لیں۔ اگر وہ اپنی خوشی سے بدی، بدعہدی پر سزا مقرر کرے تو زیادہ بہتر ہے۔ اصلاح کی طرف سے مایوس نہ ہوں۔ بچّے میں خوداعتمادی کا اتنا جذبہ پیدا کیا جائے کہ اسے یقین ہوجائے کہ وہ اسے ترک کرسکتا ہے۔ جبروتشدد سے پرہیز کریں کیونکہ اس سے بعض دوسری خراب عادتیں پیدا ہوجاتی ہیں، مثلاً چوری کے ساتھ جھوٹ اور دھوکا دہی وغیرہ۔ بُری عادات کے خاتمے کے لیے اور اصل اسباب کے ازالہ کے لیے بچّے کی آمادگی اور قوت ارادی ضروری ہے۔ ماحول ایسا فراہم کیا جائے کہ بُری عادت سے نفرت ہونے لگے۔ اجتماعی کی بجائے انفرادی توجہ مؤثر ثابت ہوتی ہے۔ خلاف وزی کا موقع نہ دیں۔ کامیابی پر شاباش دیں، جھوٹ بولنے کے بجائے سچ بولنے کے فوائد اور اچھے نتائج ذہن نشین کرائے جائیں۔

کمزوروں، ناداروں یا ذہنی طور پر کمزور افراد کو ستانے کی بُری عادت کی روک تھام کے لیے ان کی خبرگیری اور امداد پر آمادہ کیا جائے۔ پس استاد کا فرض ہے کہ وہ طلبہ کی بُری عادات ترک کروانے اور پسندیدہ عادات ان کی طبیعت میں راسخ کرنے کی کوشش میں سچّی لگن سے مصروف رہے، تاکہ ان کی ہم آہنگ نشوونما اور متوازن سیرت و کردار کی تشکیل ہوسکے۔

  • بچوں کے رجحانات کو پیش نظر رکھنا:اساتذہ تعلیمی و تربیتی عمل میں بچوں کی خواہشات اور رجحانات کو مدنظر رکھیں۔ باربار بُراکہنے سے بچوں کی عزّتِ نفس کو صدمہ پہنچتا ہے اور خود اعتمادی مجروح ہوتی ہے۔ وہ بدظن ہوجاتے ہیں اور پھر منفی رویہ اپناتے ہیں۔ سزا کے معاملے میں امام غزالی نے نفسیاتی اور ابن خلدون نے معاشرتی انداز اپنانے کی تلقین کی ہے۔ دونوں ماہرین بچّے کی شخصیت کے احترام اور محبت و شفقت کے قائل ہیں اور جبروتشدد کے خلاف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تشدد نہ صرف تعلیم کے منافی ہے بلکہ بچّے کے ذہن اور اخلاق پر اس کا بُرا اثر پڑتا ہے۔ اس سے ان میں مکروفریب، جھوٹ، ریاکاری جیسی بُری عادات پیدا ہوجاتی ہیں۔ استاد کو چاہیے کہ وہ کلاس ٹیچر کی حیثیت سے مندرجہ ذیل ذمہ داریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نبھانے کی کوشش کرے۔ پابندی سے وقت پر اپنے درجے کی حاضری لینا، پابندی سے وقت پر حاضر ہونے کے لیے طلبہ کو اُبھارنا، نیز ضرورت ہو تو سرپرستوں کو توجہ دلا کر پابندی کروانا، تاکہ بغیر عُذر کے وہ غیرحاضر نہ ہوں۔ طلبہ سے درجے کے آداب کی پابندی کرانا، مثلاً فرش پر بیٹھے ہوں تو جوتے ایک طرف سلیقے سے رکھنا اور سلیقے سے سوال کرنا اور جواب دینا۔ اپنی بیٹھنے کی جگہ کو صاف ستھرا اور اپنے سامان کو ترتیب سے رکھنا، کوڑا کرکٹ ٹوکری میں ڈالنا۔ استاد کا فرض ہے کہ طلبہ کے تعلیمی سامان، کتب، کاپیوں وغیرہ کا جائزہ لے کر ان کی حفاظت، ترتیب اور صفائی کے لیے ضروری ہدایات دے۔ عام صحت و صفائی کا جائزہ لے کر جسم اور لباس کی صفائی کے متعلق ہدایات دے۔ ہفتہ وار دیگر اجتماعات میں طلبہ کو تقریر کرنے پر آمادہ کرے۔ انفرادی طور پر عادات و اَطوار سے متعلق قابلِ توجہ اُمور کی طرف توجہ دلائے۔ طلبہ کے سرپرستوں سے رابطہ رکھے اور انھیں طلبہ کی تعلیم و تربیت سے متعلق مناسب مشورے دے۔

تشکیلِ سیرت میں استاد کا کردار مرکز و محور کی حیثیت رکھتا ہے۔ سیرت و کردار کی تعمیر کا ذریعہ تعلیم و تربیت ہے جو اساتذہ کے ذریعے انجام پاتی ہے۔ طلبہ میں مثبت اقدار اور آدابِ زندگی کا راسخ کرنا، استاد کے فرائض میں شامل ہے۔ استاد مدارس کے کُل مشاغل کا سرچشمہ ہوتا ہے۔   وہ طلبہ کو تربیت دیتا ہے۔ ان کے مشاغل میں ان کی رہنمائی کرتا ہے، جس کا اثر اندرون و بیرون مدرسہ طلبہ کے لیے فکرونظر، علم و عمل اور سیرت و کردار پر متواتر ہوتا ہے اور یہ اثر تاحیات قائم رہتا ہے۔ مدرس وہ ہے جو بچوں کے ذہنوں کو علم کے نُور سے منورکردے اور ان کے سینوں کو فروغ شعلۂ طور سے بھردے۔ جو راز ہستی کی تفسیر بتلائے، جو خوابِ زندگی کی تعبیر بتلائے۔

  • جدید تعلیمی رجحانات کا تقاضا:جدید نظریۂ تعلیم نے بچّے کو عملِ تعلیم میں مرکزی حیثیت دے کر اساتذہ کی ذمہ داریوں میں اضافہ کر دیا ہے۔کیونکہ ان کا کام صرف تدریس ہی نہیں بلکہ تعمیرِسیرت ہے۔ تعلیم کا پیشہ روحانی صفات کا حامل ہے۔ معلّم کی ذاتی خوبیاں بچوں کی تشکیلِ سیرت کے لیے اَزحد ضروری ہیں۔ معلّم کو صرف زبانی حد تک ہی نیکی و اچھائی کا پرچار کرنے کے بجائے طلبہ کے لیے نیکی اور اچھائی کا عملی نمونہ ہونا چاہیے جس کی طلبہ تقلید کرسکیں۔ کیونکہ اقوال دل میں اترتے ہیں لیکن اعمال کو آنکھوں سے دیکھا جاتا ہے اور آنکھوں کی تعداد دلوں سے زیادہ ہے۔

طلبہ کی سیرت و کردار پر سب سے زیادہ اثر اساتذہ کی اخلاقی و عملی زندگی کا ہوتا ہے۔ اساتذہ میں سے بھی خاص طور پر وہ اپنے کلاس ٹیچر سے متاثر ہوتے ہیں۔ ان کے سامنے جن خوبیوں یا خامیوں کا مظاہرہ کیا جاتا ہے،وہ ان کی شعوری اور لاشعوری طور پر تقلید کرتے ہیں۔ اگر اساتذہ کے قول و فعل میں مطابقت نہ ہو تو طلبہ کی سیرت بے حد متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے خصوصاً اصول و ضوابط کی پابندی، شائستہ طرزِ تکلّم ، اسلامی وضع قطع ، خوش اخلاقی، ہمدردی، ایثار و تعاون اور فرائض کی انجام دہی میں لگن اور انہماک وغیرہ کے ضمن میں اساتذہ کوبہترین نمونہ پیش کرنا چاہیے۔

کامیاب استاد وہ ہے جس کے طلبہ اسلامی اخلاق و عقائد اور اسلام کے جملہ بنیادی اصولوں اور تقاضوں کو سمجھتے ہوئے ہرشعبۂ زندگی میں محنت، لگن اور دیانت داری سے کام لیں۔ اپنے خاندان، معاشرے اور قوم کے وفادار شہری بنیں۔ بزرگوں کا احترام کریں۔ خدمت و اطاعت ان کا شعار ہو۔ انفرادی و اجتماعی ذمہ داریوں کو سمجھیں۔ اخلاق و کردار، صبروضبط، بُردباری، جذبۂ ایثار اور اسلامی آدابِ معاشرت سے واقف ہوں۔ کوشش پیہم، ان تھک محنت، تگ و دو عمیق مشاہدہ اور تحقیق و جستجو طلبہ کا شعار ہو۔ ان کے دل میں بُرائی سے نفرت اور نیکی کے بارے میں محبت پائی جائے۔ وہ معاشرے کے باضمیر اور غیرت مند افراد ہوں۔ ان کے معاملات میں دیا نت داری، باتوں میں نرمی اور عادات میں پاکیزگی و وقار نمایاں ہو۔ انھیں حسد، تعصب، زرپرستی، فحاشی، دھوکا دہی، لالچ اور دوسری اخلاقی بُرائیوں کا احساس ہو۔ وسیع النظر، فراخ دل، نیک نیت اور معاشرے کے باکردار افراد ہوں۔ وہ اسلامی طرزِزندگی گزارنے کا سلیقہ رکھتے ہوں۔ حلال و حرام کی تمیز کرسکتے ہوں۔ رنگ و نسل قومیت و فرقہ واریت کے تعصبات سے بالاتر ہوں۔ اس کے طلبہ میں سادگی و انکساری، راست بازی اور خلق خدا کی خدمت کا جذبہ ہونا چاہیے۔ گویا مضبوط سیرت و کردار کے افراد تیار کرنا مسلمان استاد کا اصل فریضہ ہے۔

 _______________