سیرت ایک مکمل نظام ہے جو ایک خاص قسم کے ارادی افعال سے ترتیب پاتا ہے۔ سیرت کا استحکام کسی مسلسل غالب نظریے سے ہوتا ہے۔سیرت کردار کی بنیاد ہوتی ہے اورکردار عام طور پر حالات کی حدبندیوں میں سیرت کا اظہار کرتا ہے۔ سیرت بالآخر انسان کی فطرت بن جاتی ہے۔ اس کا کچھ حصہ اس کی اصل فطرت ہوتی ہے اور کچھ حصہ ایسی فطرت ہوتی ہے جس کی پرورش عادات سے ہوتی ہے اور یہ عادات ہی ہیں جو انسان کی سیرت کی تشکیل کرتی ہیں۔
کسی کام کو خاص ڈھنگ سے بار بار کرنے کے میلان کو عادت کہتے ہیں۔ عادتیں بذاتِ خود تو فطری نہیں ہوتیں، لیکن ہر عادت کی اساس کوئی نہ کوئی جبلت، بنیادی خواہش یا فطری داعیہ ہی ہوتا ہے۔ عادتیں وہبی نہیں بلکہ کسبی ہوتی ہیں۔ ماحول کے اثر سے پڑتی ہیں۔ فطری نہیں ہوتیں لیکن جب باربار کی مشق سے مستحکم ہوجاتی ہیں تو پھر مشکل ہی سے چھوٹتی ہیں۔ لیکن چونکہ اس کے اظہار کے طریقے، تقلید، تجربے، تربیت اور عقل و فہم کی وجہ سے مختلف ہوتے ہیں اور یہی طریقے رفتہ رفتہ مستحکم ہوکر عادات و اَطوار اور سیرت و کردار میں یکسانیت کی بجائے شدید اختلافات پیدا کردیتے ہیں۔
علّامہ محمد اقبال کی رائے میں استاد حقیقت میں قوم کے محافظ ہیں کیونکہ آئندہ نسلوں کو سنوارنا اور ان کو خدمت کے قابل بنانا انھی کی قدرت ہے۔ سب محنتوں سے اعلیٰ درجے کی محنت اور سب کارگزاریوں سے زیادہ بیش قیمت کارگزاری ملک کے معلّم کی کارگزاری ہے۔ معلّم کا فرض سب فرائض سے زیادہ مشکل اور اہم ہے۔ کیونکہ تمام اخلاقی، تمدنی اور مذہبی نیکیوں کی کلید اسی کے ہاتھ میں ہے اور ترقی کا سرچشمہ اس کی محنت ہے۔ اقبال کے نزدیک فلسفۂ تعلیم کا بنیادی نظریہ سیرت و کردار سازی ہے۔ وہ طالب علم کے رُوپ میں ایسے کردار کی تشکیل چاہتے ہیں جس میں بچہ زندگی کی گراں باریوں کو خندہ پیشانی سے جھیلنے کا عادی ہوجائے۔ وہ ایسے کردار کے خواہاں ہیں جس میں طاقت بھی ہو اور جسارت بھی، بلندنظری بھی ہو اور جرأت تسخیر بھی۔ خودنمائی بھی ہو اور آشکار آرائی بھی، عزم و ہمت بھی ہو اور جرأت بھی۔ صبروقناعت بھی ہو اور سخت کوشی بھی۔ شوخی ٔ طبع بھی ہو اور جدّت نظر بھی، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ اسرارِ کائنات کا متلاشی بھی ہو۔ وہ اسے تصرف میں لاکر اِک نیا جہان بسائے جس کی آب و تاب دیکھ کر مہ و خورشید بھی سراپا حیرت بن جائیں۔ یہ ہرآدمی کے بس کی بات نہیں کہ وہ محض اپنی کوششوں سے علم حاصل کرے۔ علم و دانش کے حصول اور تشکیل سیرت کے لیے استاد کا ہونا نہایت ضروری ہے۔
مسلمان استاد کو تعمیرِ سیرت کاکٹھن کام انجام دیتے ہوئے طلبہ میں پسندیدہ عادات کو زنجیریں بناکر راسخ کرنا اور ناپسندیدہ عادات کو کمالِ حکمت سے ترک کرنا ہوتا ہے۔ کیونکہ عادات کی زنجیریں دیکھنے میں چھوٹی نظر آتی ہیں لیکن آہستہ آہستہ اتنی مستحکم اور بڑی ہوجاتی ہیں کہ ساری زندگی توڑنے سے نہیں ٹوٹتیں۔
یہ امرِواقعہ ہے کہ ’’پہلے ہم عادتیں بناتے یا بگاڑتے ہیں اور پھر یہی عادتیں ہمیں بناتی یا بگاڑتی ہیں۔ اس لیے استاد کا یہ اوّلین فرض ہے کہ وہ طلبہ میں پاکیزہ اور پسندیدہ عادات پیدا کرے۔ جسم اور لباس کی صفائی، وقت کی پابندی، نماز، کھیل، مطالعہ اور ورزش کی عادت، سلام کرنا، مزاج پوچھنا، مناسب گفتار و رفتار، مناسب طریقے سے کھانا پینا، سچ بولنا، ایمانداری برتنا، خندہ پیشانی سے پیش آنا، غلطی کا اعتراف کرلینا، بھول چوک پر معذرت کرلینا، بولنے، سوال کرنے، جواب دینے، کوئی چیز لینے یا دینے میں اپنی باری کا انتظار کرنا۔ فرائض کی پابندی، باقاعدگی، وعدہ پورا کرنا، خدمت خلق کرنا اور معذوروں و مجبوروں کی خبرگیری کرنا، اجازت لے کرآنا، شکریہ اداکرنا، شائستگی سے گفتگو کرنا، ادب سے نام لینا، ہرموقع کے آداب کا لحاظ رکھنا، سب پسندیدہ عادات کے زمرے میں آتے ہیں۔
بچپن ہی سے اگر پسندیدہ عادات راسخ کرنے کی طرف توجہ دی جائے تو فرد کو ترقی کی منزلیں طے کرنے میں بہت سہولت ہوجاتی ہے۔ ایک فرد جو وقت پر کھانے، کھیلنے، سونے جاگنے کا عادی ہو۔ مطالعے اور محنت و مشقت کے کاموں پر پابندی سے وقت صرف کرسکتا ہو۔ مختلف مواقع کے آداب کا پابند ہو۔ اس کی صحت، اخلاق اور سیرت بھی درست ہوگی اور آگے بڑھنے کے زیادہ مواقع بھی نصیب ہوں گے۔
اساتذہ اپنے آپ کو عملی نمونہ کے طور پرطلبہ کے سامنے پیش کریں تاکہ وہ اچھی عادات اپنانے میں تقلید کرسکیں۔ دوسروں کے سامنے بچّے کی تنقیص، شکایت یا بے جا تنقید ہرگز نہ کی جائے۔ طفلانہ شوخیوں کے لیے گنجائش دی جائے اور نادانی کے باعث ہونے والی کوتاہیوں سے درگزر کیا جائے۔ دوسروں کے سامنے بچوں کی صرف خوبیوں کا تذکرہ کیا جائے۔ اچھے کاموں پر شاباش دی جائے۔ تعمیرواخلاق کی نشوونما اور ناپسندیدہ حرکات سے محفوظ رکھنے کے لیے بچوں کی عمر اور دلچسپیوں کی مناسبت سے ہم نصابی سرگرمیوں کا بندوبست کیا جائے۔
ہم نصابی مشاغل سے طلبہ کی اخلاقی تربیت ہوتی ہے۔ جذبۂ قیادت اُبھرتا ہے۔ اشتراکِ عمل کا جذبہ پیدا ہوتاہے۔ سماجی اَطوار بہتر اور تدریسی کام میں انہماک پیدا ہوتا ہے۔ قوتِ اظہار اور خوداعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ وقت اور نظم و ضبط کی پابندی کی عادت راسخ ہوتی ہے۔ وہ سماجی اقدار کو سمجھتے ہوئے معاشرہ کا مفید رکن بن کر زندگی بسر کرسکتا ہے۔ فرصت کے اوقات کو عمدہ اور تعمیری انداز میں بسر کرنے کی تربیت ملتی ہے۔ ارتباط باہمی بچّے کو صداقت پسندی ، راست گفتاری اور قانون کا احترام سکھاتا ہے۔
طلبہ کے لیے عام کھیل کود کے علاوہ صحت مند ادبی و سماجی مشاغل کا انتخاب کیا جائے۔ قومی اور معاشرتی تقریبات کو اسلامی رنگ میں منایا جائے۔ مجموعی طور پر اسکول میں عملی سرگرمیوں، نظم و ضبط، صفائی، طرزِگفتگو، اخلاقی اقدار اور آدابِ معاشرت کا ایسا ماحول پیدا کیا جائے جس کا اثر غیرمحسوس طور پر طلبہ کی شخصیت کو اسلامی رنگ میں ڈھال دے۔
کمزوروں، ناداروں یا ذہنی طور پر کمزور افراد کو ستانے کی بُری عادت کی روک تھام کے لیے ان کی خبرگیری اور امداد پر آمادہ کیا جائے۔ پس استاد کا فرض ہے کہ وہ طلبہ کی بُری عادات ترک کروانے اور پسندیدہ عادات ان کی طبیعت میں راسخ کرنے کی کوشش میں سچّی لگن سے مصروف رہے، تاکہ ان کی ہم آہنگ نشوونما اور متوازن سیرت و کردار کی تشکیل ہوسکے۔
تشکیلِ سیرت میں استاد کا کردار مرکز و محور کی حیثیت رکھتا ہے۔ سیرت و کردار کی تعمیر کا ذریعہ تعلیم و تربیت ہے جو اساتذہ کے ذریعے انجام پاتی ہے۔ طلبہ میں مثبت اقدار اور آدابِ زندگی کا راسخ کرنا، استاد کے فرائض میں شامل ہے۔ استاد مدارس کے کُل مشاغل کا سرچشمہ ہوتا ہے۔ وہ طلبہ کو تربیت دیتا ہے۔ ان کے مشاغل میں ان کی رہنمائی کرتا ہے، جس کا اثر اندرون و بیرون مدرسہ طلبہ کے لیے فکرونظر، علم و عمل اور سیرت و کردار پر متواتر ہوتا ہے اور یہ اثر تاحیات قائم رہتا ہے۔ مدرس وہ ہے جو بچوں کے ذہنوں کو علم کے نُور سے منورکردے اور ان کے سینوں کو فروغ شعلۂ طور سے بھردے۔ جو راز ہستی کی تفسیر بتلائے، جو خوابِ زندگی کی تعبیر بتلائے۔
طلبہ کی سیرت و کردار پر سب سے زیادہ اثر اساتذہ کی اخلاقی و عملی زندگی کا ہوتا ہے۔ اساتذہ میں سے بھی خاص طور پر وہ اپنے کلاس ٹیچر سے متاثر ہوتے ہیں۔ ان کے سامنے جن خوبیوں یا خامیوں کا مظاہرہ کیا جاتا ہے،وہ ان کی شعوری اور لاشعوری طور پر تقلید کرتے ہیں۔ اگر اساتذہ کے قول و فعل میں مطابقت نہ ہو تو طلبہ کی سیرت بے حد متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے خصوصاً اصول و ضوابط کی پابندی، شائستہ طرزِ تکلّم ، اسلامی وضع قطع ، خوش اخلاقی، ہمدردی، ایثار و تعاون اور فرائض کی انجام دہی میں لگن اور انہماک وغیرہ کے ضمن میں اساتذہ کوبہترین نمونہ پیش کرنا چاہیے۔
کامیاب استاد وہ ہے جس کے طلبہ اسلامی اخلاق و عقائد اور اسلام کے جملہ بنیادی اصولوں اور تقاضوں کو سمجھتے ہوئے ہرشعبۂ زندگی میں محنت، لگن اور دیانت داری سے کام لیں۔ اپنے خاندان، معاشرے اور قوم کے وفادار شہری بنیں۔ بزرگوں کا احترام کریں۔ خدمت و اطاعت ان کا شعار ہو۔ انفرادی و اجتماعی ذمہ داریوں کو سمجھیں۔ اخلاق و کردار، صبروضبط، بُردباری، جذبۂ ایثار اور اسلامی آدابِ معاشرت سے واقف ہوں۔ کوشش پیہم، ان تھک محنت، تگ و دو عمیق مشاہدہ اور تحقیق و جستجو طلبہ کا شعار ہو۔ ان کے دل میں بُرائی سے نفرت اور نیکی کے بارے میں محبت پائی جائے۔ وہ معاشرے کے باضمیر اور غیرت مند افراد ہوں۔ ان کے معاملات میں دیا نت داری، باتوں میں نرمی اور عادات میں پاکیزگی و وقار نمایاں ہو۔ انھیں حسد، تعصب، زرپرستی، فحاشی، دھوکا دہی، لالچ اور دوسری اخلاقی بُرائیوں کا احساس ہو۔ وسیع النظر، فراخ دل، نیک نیت اور معاشرے کے باکردار افراد ہوں۔ وہ اسلامی طرزِزندگی گزارنے کا سلیقہ رکھتے ہوں۔ حلال و حرام کی تمیز کرسکتے ہوں۔ رنگ و نسل قومیت و فرقہ واریت کے تعصبات سے بالاتر ہوں۔ اس کے طلبہ میں سادگی و انکساری، راست بازی اور خلق خدا کی خدمت کا جذبہ ہونا چاہیے۔ گویا مضبوط سیرت و کردار کے افراد تیار کرنا مسلمان استاد کا اصل فریضہ ہے۔
_______________