اللہ تعالیٰ جب دُنیا میں انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے اپنے بعض برگزیدہ بندوں کو منتخب فرماتا ہے تو انھیں نبوت کے عظیم الشان منصب پر مامور فرماتا ہے اور انھیں بچپن ہی سے غیرمعمولی ذہانت و فراست، غوروفکر اور استدلال و استنباط کی صلاحیت عطا کرتا ہے۔ وہ پیش آمدہ واقعات اور اپنے مشاہدات و تجربات سے نتائج اخذ کرنے کی قابلیت رکھتے ہیں۔ اسی لیے وہ دین کا پیغام محکم دلیل و بُرہان کے ساتھ لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو چالیس برس کی عمر میں منصب ِ نبوت پر فائز فرمایا اور قیامت تک آنے والے انسانوں کی رہنمائی اور ہدایت کے لیے کتابِ ہدایت دے کر یہ ذمہ داری عائد فرمائی کہ آپؐ کتاب اللہ کے علوم و احکام کی تعلیم لوگوں کو ناصحانہ (۱) انداز میں دیں، اور قرآن حکیم کی تعلیمات و احکام کو اپنی زندگی میں اپنا کر لوگوں کے سامنے عملی نمونہ بھی پیش کریں۔ (۲) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تمام فرائض منصبی کو بہت احسن طریقے سے انجام دیا۔
قرآن حکیم کو تو اللہ تعالیٰ نے مصاحف میں، اہل ایمان کے سینوں میں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی زندگی کے ساتھ بے شمار صحابہ کرامؓ کی عملی زندگیوں میں محفوظ فرما دیا۔ کتاب اللہ کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے اُمت مسلمہ کے علما کو بھی توفیق عطا فرمائی۔ انھوں نے بہت محنت اور جانفشانی سے اور مکمل جرح و تعدیل کے بعد پوری احتیاط کے ساتھ ذخیرۂ احادیث کو بھی جمع کر دیا۔ اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور آپؐ کا اسوئہ حسنہ بھی آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ ہوگیا۔ قرآن حکیم اور سنت ِ رسولؐ اس اُمت کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں۔ جب تک اُمت مسلمہ دین کے ان بنیادی ماخذ کو مضبوطی سے تھامے رہے گی ، اور اپنی عملی زندگی میں ان پر عمل پیرا رہے گی وہ بھٹکنے اور انحرافِ دین سے محفوظ رہے گی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منصب ِ نبوت پر فائز ہونے کے بعد دعوتِ دین کا کام شروع کیا، تو جواب میں تین طرح کے لوگ سامنے آئے۔ کچھ تو سلیم الفطرت لوگ تھے جو حق کی طلب اور جستجو رکھتے تھے۔ انھوں نے آپؐ کی دعوت پر لبیک کہا اور پورے جذبے اور لگن کے ساتھ آپؐ کے مشن میں شریک ہوگئے۔ کچھ ایسے لوگ تھے جو تذبذب کا شکار رہے۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ آپؐ کی دعوت کے کیا نتائج نمودار ہوئے ہیں ۔ تیسرا گروہ وہ تھا جس نے کھل کر مخالفت کی اور پوری طرح دشمنی پر اُتر آیا۔
منصب ِ نبوت پر کسی انسان کا فائز ہونا اور انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے اس کا مامور ہونا اللہ تعالیٰ کا انسانیت پر بہت بڑا احسان ہے۔ یہ واحد احسان ہے جس کا اظہار اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں کیا ہے:
لَقَدْ مَنَّ اللہُ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ يَتْلُوْا عَلَيْھِمْ اٰيٰتِہٖ وَيُزَكِّيْھِمْ وَيُعَلِّمُھُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ۰ۚ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ۱۶۴ (اٰل عمرٰن ۳:۱۶۴) اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر بڑا احسان فرمایا کہ ان ہی میں سے ایک رسول مبعوث کیا جو انھیں اللہ تعالیٰ کی آیات پڑھ کر سناتا ہے، ان کے دلوں کا تزکیہ کرتا ہے اور انھیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے، حالانکہ اس سے پہلے یہی لوگ صریح گمراہیوں میں پڑے ہوئے تھے۔
اس آیت ِ مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت دُنیائے انسانیت کے لیے اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے احسان کا اظہار فرمایا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت انسان کے لیے بہت بڑا اعزاز ہے جس کی انسانوں کو قدر کرنا چاہیے۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نبوت کے منصب پر فائز ہوئے تو پہلا فریضہ یہ قرار پایا کہ آپؐ لوگوں کو ہرقسم کے شرک اور بُت پرستی سے روکیں اور لوگوں کو خالص اللہ تعالیٰ کی توحید کی تعلیم دیں۔ عبادت کی مستحق صرف ایک ذات ہے۔ انسان صرف اس کے سامنے سجدہ ریز ہوسکتا ہے، یہی عبدیت کا تقاضا ہے۔
سرزمین عرب کے لوگ بڑی تعداد میں نہ صرف بُت پرستی میں مبتلا تھے بلکہ جاہلانہ توہم پرستی اور مشرکانہ رسوم و رواج کا بھی شکار تھے۔ انھوں نے رسول ؐ اللہ کی دعوتِ توحید کی شدت کے ساتھ مخالفت شروع کر دی، لیکن رسولؐ اللہ نے ان کی تمام تر مخالفت بلکہ مزاحمت کے باوجود دعوتِ دین کا فریضہ پوری استقامت، تحمل اور صبر کے ساتھ جاری رکھا۔
انبیا علیہم السلام کی دعوت و تعلیم کا انداز ناصحانہ ہوتا ہے۔ وہ علم و حکمت کی بات تہذیب و اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئے دلیل و ثبوت کے ساتھ پیغامِ الٰہی کو انسانوں تک پہنچاتے ہیں۔
رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ آپؐ کے منصب ِ رسالت پر فائز ہونے سے پہلے کی زندگی بھی انسانوں کے لیے اسوئہ کامل کی حیثیت رکھتی ہے۔ بچپن کا زمانہ اگر نہ بھی شمار کیا جائے تو بھی آپؐ نوعمری اور جوانی کے زمانہ سے معلم اخلاق کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپؐ کی یہ حیثیت سب کے نزدیک مسلّم رہی ہے۔ آپؐ کے خلق عظیم کو اپنوں نے تسلیم کیا، اغیار نے بھی مانا، دوست و دشمن اور خاندان کے لوگ بھی آپؐ کے اخلاقِ کریمہ کے مداح تھے اور بدترین دشمن بھی آپؐ کے اعلیٰ کردار کو تسلیم کرتے تھے۔ اعلانِ نبوت کے بعد جب قریش مکہ کے سردار کھل کر دشمنی پر اُتر آئے ، یہاں تک کہ آپؐ کو قتل کرنے کے ارادے سے گھر کا گھیرائو کرلیا، لیکن اس وقت بھی انھیں یقین تھا کہ حالات جو بھی ہوں محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کی صداقت و دیانت میں ذرہ برابر کمی نہیں آسکتی۔ اس یقین کے پیش نظر ان کی امانتیں رسولؐ اللہ کے پاس محفوظ تھیں ، اور آپؐ نے بھی قتل کے ارادے سے آنے والوں کی امانتوں کی ادائیگی کا پورا اہتمام کیا ہوا تھا۔ آپؐ کے انھی اخلاقِ حسنہ کی شہادت قرآن مجید نے دی ہے: وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ۴ (القلم ۶۸:۴) ’’یقینا آپؐ اخلاق کے بلند ترین مقام پر فائز ہیں‘‘۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جوانی کی عمر میں پہنچے تو آپؐ کو سلسلۂ معاش کی تلاش ہوئی۔ اس زمانہ میں مکہ مکرمہ میں کسب ِ معاش کا اہم اور باعزّت ذریعہ تجار ت تھا۔ قریش مکہ کے اکثر بڑے بڑے سردار پیشۂ تجارت سے وابستہ تھے، نہ صرف مرد بلکہ بعض خواتین بھی تجارت میں شہرت کی حامل تھیں۔ ان خواتین میں حضرت خدیجہؓ بنت خویلد اسدی سب سے زیادہ نمایاں تھیں۔ ان کے والد بھی بڑے تاجر تھے اور ان کے پہلے شوہر بھی تاجر تھے۔ اسی لیے بیوہ ہونے کے بعد انھوں نے تجارت ہی کو ذریعۂ معاش بنایا۔ حضرت خدیجہؓ نے بہت سے تجارت پیشہ لوگوں کو اپنے مالِ تجارت میں نفع کی بنیاد پر شریک کیا ہوا تھا جو ان کا مال لے کر مختلف ممالک میں تجارت کے لیے جایا کرتے تھے۔
حضرت خدیجہؓ اپنی تجارت کو وسعت دینا چاہتی تھیں۔ اس لیے انھیں اعلیٰ اخلاق و کردار کے لوگوں کی تلاش رہتی تھی، خاص طور پر ایسے افراد کی جو صادق و امین ہوں اور عہد کی پاسداری کرتے ہوں، تاکہ ان کے ذریعےاپنا مالِ تجارت مختلف ممالک کو برآمد کرسکیں۔
حضرت محمد ؐ بن عبداللہ کو اپنے چچا ابوطالب کے ساتھ تجارتی سفر کرنے اور تجارتی اصول سیکھنے کا موقع مل چکا تھا۔ اس لیے حضرت خدیجہؓ نے انھیں اپنا مالِ تجارت دے کر شام بھیجنے کی تجویز کی جو حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے قبول کرلی۔
تجارتی سفر اور کاروباری معاملات کی وجہ سے حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو بہت سے تاجروں، تجارتی منڈیوں میں کام کرنے والوں اور مختلف علاقوں کے لوگوں سے ملنے اور معاملات کرنے کا موقع ملا۔ اگرچہ یہ تجارتی اور کاروباری رابطے تھے، لیکن ان رابطوں کے ذریعے لوگوں کو یہ موقع ضرور ملا کہ وہ کاروبار اور تجارتی معاملات میں ایسے کردار کا مشاہدہ کریں جو صداقت، امانت داری اور عہد کی پاسداری کا کامل نمونہ ہو۔ اس طرح حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت سے پہلے ہی عام لوگوں اور خاص طور پر تاجروں کے لیے اعلیٰ اخلاق کا نمونہ پیش فرمایا۔
حضرت خدیجہؓ کا نسبی تعلق قبیلہ قریش ہی سے ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق بھی اسی قبیلہ سے ہے۔ آپؐ قریش کی شاخ بنوہاشم سے ہیں اور حضرت خدیجہؓ کا تعلق بنواسد سے ہے۔ البتہ دونوں کا سلسلۂ نسب رسولؐ اللہ کے اجداد میں قُصی پر جا کر مل جاتا ہے۔(حکیم محمد ادریس فاروقی، سیرت خدیجۃ الکبریٰؓ، لاہور، ۲۰۱۵ء، ص ۲۷)
حضرت خدیجہؓ کے خاندان بنواسد کے پاس شہرمکہ کی بعض انتظامی ذمہ داریاں بھی تھیں۔ شہرمکہ کے مسکینوں اور بے کسوں کی مدد بنواسد کی ذمہ داری تھی۔ حضرت خدیجہؓ کے والد خویلد نے یہ ذمہ داری بحسن و خوبی نباہی۔ کامیاب تجارت کی وجہ سے خویلد بن اسد کے گھر میں دولت کی خوب فراوانی تھی۔ ساتھ ہی اس خاندان میں وہ تمام خوبیاں بھی تھیں جو مکہ مکرمہ کے شرفاء اور سرداروں میں ہوتی تھیں، مثلاً سخاوت، مہمان نوازی، صداقت و امانت داری وغیرہ۔ خاندان بنواسد کے لوگ رذائل سے دُور رہتے تھے اور بعض ان بُرائیوں سے بھی بچے ہوئے تھے جو عام طور پر دورِجاہلیت کے قبائل میں پائی جاتی تھیں، جیسے لڑکیوں کی پیدائش کو منحوس سمجھنا، بُت پرستی اور توہم پرستی میں مبتلا ہونا۔
حضرت خدیجہؓ کے گھرانہ میں بچیوں کو نہ نجس سمجھا جاتا تھا نہ انھیں منحوس تصور کیا جاتا تھا۔ بنواسد کے خاندان میں بچیوں کی پرورش شفقت و محبت کے ساتھ کی جاتی تھی۔ ان کی تربیت کا پوری طرح خیال رکھا جاتا تھا۔ حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ کی تربیت بھی اسی ماحول میں ہوئی۔ اچھی تربیت کی وجہ سے انھیں دورِ جاہلیت میں بھی ’طاہرہ‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔ عقائد کے بارے میں ان کا ذہن و دماغ بُت پرستی کوقبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ انھوں نے بتوں کے آگے کبھی سر نہیں جھکایا۔ ان کے خاندان کے کچھ لوگ بُت پرستی سے متنفر ہوکر مسیحیت کی طرف مائل تھے، اس لیے کہ عیسائیت ہی اس زمانہ میں آسمانی مذہب کے طور پر مقبول تھا۔ حضرت خدیجہؓ کے چچا نوفل بن اسد بُت پرستی چھوڑ کر مسیحیت قبول کرچکے تھے، مگر عیسائی مذہب اختیار کرنے کے باوجود وہ عقیدۂ تثلیت کے قائل نہیں تھے۔
حضرت خدیجہؓ بنت خویلد کو اللہ تعالیٰ نے خاندانی شرف اور عزّت و احترام کے ساتھ عقل و فراست ، ذہانت اور تدبر و تحمل کی دولت سے بھی نوازا تھا۔ وہ بیوہ ہوئیں تو قریش مکہ کے بہت سے دولت مند سرداروں نے رشتہ کے لیے پیغام بھیجے لیکن حضرت خدیجہؓ نے کوئی پیغام قبول نہیں کیا۔ اس لیے کہ انھیں جس فکرو کردار اور جن اوصاف کے حامل شخص کی تلاش تھی قریش کے مال دار سرداروں میں وہ صفات مفقود تھیں۔ انھوں نے بیوہ ہونے کے بعد دس سال انتظار کیا اور جب حضرت محمد ؐ بن عبداللہ کی شخصیت میں یہ ساری صفات نظر آئیں تو حضرت خدیجہؓ نے ان کو نکاح کا پیغام ان خیالات کے ساتھ بھجوایا:
اِنِّی رَغْبتُ فِیْکَ لِقِرَابَتِکَ وَ وَسْطَتِکَ فِی قَوْمِکَ وَأَمَانَتِکَ وَحُسْن خَلْقِکَ وَصِدْقِ حَدِیْثِکَ ، مجھے آپؐ کے ساتھ نکاح کی خواہش، آپؐ سے قرابت داری،(۳) خاندانی شرف و فضیلت، آپؐ کی امانت داری، اعلیٰ اخلاق اور گفتگو میں صداقت کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔(ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۱،ص۲۰۰)
حضرت خدیجہؓ کے ان الفاظ میں غور کیجیے۔ ان کلمات سے ان کی فہم و فراست کا، اور خیروبھلائی کی طرف ان کی رغبت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔انھوں نے اَزدواجی تعلق قائم کرنے کے لیے دوباتوں کی طرف توجہ دی ۔ ایک خاندانی شرافت اور دوسرے اعلیٰ اخلاق و کردار۔ دوسری طرف حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی بھرپور جوانی کی عمر میں ایک ایسی خاتون سے نکاح کرنا منظور کیا جو بیوہ تھیں اور عمر میں بھی آپؐ سے پندرہ برس بڑی تھیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے پیش نظر بھی نکاح کا مقصد محض خواہشِ نفس کی تکمیل نہیں تھا، بلکہ حضرت خدیجہؓ کی خاندانی شرافت، ذاتی اخلاق اور عفت و پاکدامنی تھا۔ نیز یہ کہ نکاح کا اصل مقصد نیک مزاج اور ذہین و سمجھ دار اولاد کا حصول ہے۔ صالح اور صاحب ِ اخلاق و کردار والدین کے اچھے اثرات بچوں پر بھی پڑتے ہیں۔ اعلیٰ اخلاق و کردار رکھنے والے والدین اپنے بچوں کی بہت عمدہ تربیت کرسکتے ہیں۔
مشیت ِ الٰہی بھی یہی تھی کہ آیندہ آنے والی نسلوں کے سامنے نکاح کا صحیح مقصد بھی واضح ہوجائے اور اَزدواجی زندگی کا بہترین مثالی نمونہ بھی ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوجائے جو رسولؐ اللہ اور حضرت خدیجہؓ کے اَزدواجی تعلق میں نظر آتا ہے۔
حضرت خدیجہؓ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکاح کے بعد نزول وحی تک پندرہ برس تک کا عرصہ گزارا۔ اس دوران اپنے شوہر کی عملی زندگی سے بہت کچھ سیکھا۔ حضرت خدیجہؓ کی قوتِ مشاہدہ بہت زبردست تھی۔ لوگوں کے مزاج و طبیعت اور ان کی نفسیات کو سیکھنے کی بھی عمدہ صلاحیت تھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت خدیجہؓ کے درمیان اَزدواجی تعلق کا پچیس سالہ عرصہ اُمت مسلمہ کی تاریخ کا بہت ہی سبق آموز زمانہ ہے۔ اس پچیس سالہ دور میں ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی کہ کبھی بھی شوہر و بیوی کے درمیان ناگواری یا ناراضگی کا کوئی واقعہ پیش آیا ہو۔ اس کے برعکس باہمی اُلفت و محبت، ایک دوسرے کا خیال و احترام اور ایک دوسرے کے احساسات و جذبات کا خیال رکھتے ہوئے چوتھائی صدی ایک ساتھ گزاری۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہؓ کے ساتھ اپنی طویل اَزدواجی زندگی کے تجربے سے اُمت کی اصلاح کے لیے دو نتیجے اخذ کیے: ایک یہ کہ اگر گھر کو مکتب و درس گاہ بنا لیا جائے تو بچوں اور گھر میں موجود لوگوں کی بہتر تعلیم و تریت کا انتظام ہوسکتا ہے۔ یہ اسی وقت ممکن ہوسکتا ہے جب شوہر اور بیوی دونوں معلم و مربی بننے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ دوسرا نتیجہ یہ تھا کہ گھر آباد کرنے سے پہلے اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ آپ کا شریک ِ حیات ایسا ہو جو خاندان میں بحیثیت معلم و مربی بہتراور مؤثر کردار ادا کرسکے۔ اس طرح شوہر اور بیوی مل کر بہترین اور مہذب خاندان کی تشکیل کرنے کے قابل ہوں گے، اس لیے کہ علم و عمل اور اخلاقِ کریمہ سے آراستہ خاندان ہی اچھے معاشرہ کی تعمیر میں ممدومعاون ہوتے ہیں۔
حضرت خدیجہؓ کی قوتِ مشاہدہ اور فہم و فراست کی تصدیق اس واقعہ سے ہوتی ہے جو پہلی وحی کے نزول کے موقع پر پیش آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر غارِ حرا میں پہلی مرتبہ وحی کا نزول ہوا تو کلام اللہ کی عظمت و ہیبت اس قدر زیادہ تھی کہ آپؐ پر لرزہ طاری ہوگیا۔ آپؐ گھر تشریف لائے تو گھبراہٹ اور پریشانی کے آثار نمایاں تھے، جسم پر کپکپی طاری تھی۔ رسولؐ اللہ نے سارا واقعہ حضرت خدیجہؓ کو بتایا اور اس اندیشہ کا اظہار بھی کیا کہ آپؐ کو اپنی جان کا خطرہ ہے۔(۴)
جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے گھرآکر اپنی سخت پریشانی کااظہار کیا اور ہلاکت کا اندیشہ تک ظاہر فرمایا تو یہ سب کچھ سن کر حضرت خدیجہؓ پر کسی قسم کی پریشانی یا گھبراہٹ کے آثار نمایاں نہیں ہوئے، بلکہ وہ بہت پُرسکون اور مطمئن رہیں۔ حالانکہ جب شوہر اور بیوی کے درمیان محبت و اُلفت کا گہرا رشتہ قائم ہو اور شوہر باہر سے آکر کسی سخت پریشانی کا اظہار کرے تو بیوی شوہر کی بہ نسبت زیادہ پریشان ہوجاتی ہے۔ یہاں اس کے برعکس مکمل سکون و اطمینان کی کیفیت طاری ہے۔ جب انھوں نے یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنا تو انھوں نے نہایت سکون کے ساتھ وہ تاریخی الفاظ کہے جو خدیجۃ الکبریٰؓ جیسی عظیم المرتبت خاتون ہی کہہ سکتی تھیں:
کَلَّا! وَاللہِ لَا یُخْزِیْکَ اللہُ اَبَدًا اِنَّکَ لَتَصِلُ الرَّحِـمَ ، وَتَحْمِلُ الْکَلَّ وَتَکْسِبُ المَعْدُوْمَ ، وَتَقْرِی الضَّیْفَ وَتُعِیْنُ عَلٰی نَوَائِبِ الْحَقِّ (ابن کثیر، السیرۃ النبویۃ، ۹۱) ہرگز نہیں! خدا کی قسم! اللہ تعالیٰ آپؐ کو کبھی رُسوا نہیں کرے گا، اس لیے کہ آپؐ ہرحالت میں صلہ رحمی کرتے ہیں۔ ناداروں کا بوجھ برداشت کرتے ہیں، محروم لوگوں کو خود کما کر کھلاتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کے معاملہ میں مصائب برداشت کرنے والوں کی مدد کرتے ہیں۔
ان کلمات کی ترکیب اور الفاظ کو غور سے دیکھیے کہ حضرت خدیجہؓ کس قدر اعتماد اور یقین کے ساتھ اپنی مصمم رائے کا اظہار کر رہی ہیں۔ اپنی بات پر زور دینے اور مخاطب کو یقین دلانے کے لیے قسم کھائی ہے۔ پھر پہلے ہی جملہ کے آخر میں ابدا کا لفظ استعمال کیا ہے، یعنی صرف اسی موقع پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ آپؐ کو آئندہ بھی کبھی رُسوا نہیں کرے گا۔
اگلے جملے میں جس میں آپؐ کی صلہ رحمی کی عادت کا ذکر ہے، اس جملہ کا آغاز بھی اِنَّ اور لام تاکید کے ساتھ ہو رہا ہے، یعنی آپ ہر صورت اور ہرحالت میں یقینی طور پر صلہ رحمی کرتے ہیں۔ رشتہ داروں میں باہمی اُلفت و محبت اور ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی و تعاون کا جذبہ قائم رکھنے کے لیے مخلصانہ صلہ رحمی بہت ضروری ہے۔ صلہ رحمی کا ہرعمل صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہوتاہے، اس لیے باہمی مقابلہ کا انداز نہیں ہوتا۔
حضرت خدیجہؓ کے اس مختصر اور جامع کلام میں حقوق العباد کا تذکرہ ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جس معاشرے میں حقوق العباد کی ادائیگی کا خیال رکھا جاتا ہے وہ معاشرہ ذلّت و رُسوائی کا شکار نہیں ہوتا۔ معاشرہ میں امن و سکون اور ترقی و خوش حالی کا راز اس اصول پر موقوف ہے کہ وہاں پر لوگ حقوق العباد کی ادائیگی اپنا فرض اور عبادت سمجھ کر ادا کرتے ہوں۔(ابن کثیر، السیرۃ النبویۃ، ص ۹۱)
حضرت خدیجہؓ نے انھی عادات و اخلاق کا تذکرہ کیا ہے جنھیں ایک سلیم الفطرت انسان اپنا سکے۔ انھوں نے کسی خارق عادت چیز کا، کسی معجزہ اور کرامت کا ذکر نہیں کیا جو نبوت کا خاصہ ہیں اور عام انسانوں کے بس سے باہر ہیں۔ (علی محمد الصلابی، السیرۃ النبویۃ،ص ۸۹-۹۰)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سارا واقعہ سن کر حضرت خدیجہؓ نے اندازہ کرلیا تھا کہ آپؐ ہی اللہ کے وہ آخری رسولؐ ہیں جن کا تذکرہ قدیم آسمانی کتب میں موجود ہے، اور جن کا ذکر نسطورا راہب نے حضرت خدیجہؓ کے خادم میسرہ سے اس وقت کیا تھا جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تجارتی سفر پر شام گیا تھا۔(ابن کثیر، السیرۃ النبویۃ، ص۴۰-۴۱)
اسی وجہ سے حضرت خدیجہؓ پُرسکون اور مطمئن رہیں۔
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اطمینان دلانے کے بعد حضرت خدیجہؓ آپؐ کو اپنے چچازاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں اور سارا واقعہ انھیں بتایا۔ ورقہ نے آپؐ کو تسلی دی کہ غار میں آپؐ کے پاس آنے والا وہی فرشتہ ہے جو آپؐ سے پہلے انبیا علیہم السلام تک اللہ تعالیٰ کا پیغا م لے کر آتا رہا ہے۔ (ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۱/۲۵۲، ابن کثیر، السیرۃ النبویۃ، ۹۱)
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نبوت کا اعلان فرمایا اور اسلام کی دعوت دی تو حضرت خدیجہؓ نے بغیر کسی تامل اور بلاکسی جھجک کے فوراً اسلام قبول کرلیا اور رسولؐ اللہ کے ساتھ نماز پڑھنا اور عبادت کے احکام سیکھنا بھی شروع کر دیے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت خدیجہؓ نے ابتدا میں اپنے ایمان کا اظہار نہیں کیا بلکہ اسے مخفی رکھا۔ ایک روز حضرت علیؓ گھر میں آئے تو انھوں نے دونوں کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو پوچھا کہ یہ کیا عمل ہے؟ اس سوال کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی وضاحت کی۔ حضرت علیؓ اُس رات دین کی اس وضاحت پر غور کرتے رہے اور صبح سویرے مطمئن ہوکر انھوں نے بھی اسلام قبول کرلیا۔(۵)
اس طرح تعلیم کا آغاز گھر سے ہوا۔ حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ پہلی طالبہ قرار پائیں جنھوں نے سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک سے سورئہ علق کی ابتدائی پانچ آیات سنیں۔ ان آیات میں جو زورِ کلام ہے اور حصولِ علم کو جس قوت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، حضرت خدیجہؓ نے اسے اچھی طرح سمجھا اور اسی وقت سے رسول ؐ اللہ کے ساتھ تعلیم و تربیت کے کام میں شریک ہوگئیں۔
سورئہ علق کی ابتدائی آیات اُمت مسلمہ کے لیے پہلا اور اہم سبق تھا، جسے اُم المومنین حضرت خدیجہؓ نے پوری گہراائی اور وسعت کے ساتھ سمجھا۔ اُم المومنین ؓ نے اچھی طرح اندازہ کرلیا کہ پہلی وحی میں جس انداز سے تعلیم و تعلّم، بحث و تحقیق اور کتاب و قلم پر زور دیا گیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ آیندہ مسلم معاشرے کے ارتقا اور اس کی فلاح و بہبود کا دارومدار علم وعمل اور بحث و تحقیق کے لیے جدوجہد میں مضمر ہوگا۔
تعلیم و تربیت کے لیے پہلا مدرسہ جو وجود میں آیا وہ حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ کا گھر تھا جہاں ابتدا میں تمام تعلیمی اُمور خفیہ طور پر انجام دیے جاتے تھے، اس لیے کہ باہر کے حالات ابھی سازگار نہیں تھے۔ گھر کے افراد میں حضرت علیؓ کے بعد چوتھا فرد جس نے اسلام قبول کیا وہ زیدبن حارثہؓ(۶) تھے۔
مولانا محمد ادریس کاندھلوی نے لکھا ہے کہ دوسرے فرد جنھوں نے حضرت خدیجہؓ کے بعد اسلام قبول کیا وہ ورقہ بن نوفل تھے۔(محمد ادریس کاندھلوی، سیرۃ المصطفیٰ، ۱/۱۴۶، بحوالہ ابن حجر، الاصابۃ ۴/۲۸۱)
ورقہ بن نوفل حضرت خدیجہؓ کے چچازاد بھائی تھے اور حضرت خدیجہؓ کا ان سے رابطہ رہتا تھا۔
حضرت خدیجہؓ کا گھر نزولِ وحی سے قبل بھی لوگوں کے لیے تربیت گاہ کی حیثیت رکھتا تھا جہاں معلم اخلاق حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کی زوجہ حضرت خدیجہؓ اپنے گھر میں آنے والے احباب اور رشتہ داروں کے لیے اخلاقِ کریمہ کی عملی تربیت فرماتے تھے۔ نزولِ وحی اور اعلانِ نبوت کے بعد یہ گھر عقیدئہ توحید، اسلام اور اخلاقِ حسنہ کی تعلیم کا مرکز بن گیا۔ رسولؐ اللہ کے گھر میں جو بچّے آپؐ کی زیر کفالت تھے ان سب کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کیا جاتا تھا۔
حضرت خدیجہؓ کی زیر تربیت ان کے وہ بچّے بھی رہے جو پہلے شوہر ابوہالہ بن النباش سے پیدا ہوئے۔ یہ تین بچّے تھے: ہند، طاہر اور ہالہ۔ ان کے دوسرے شوہر عتیق بن عائز سے ایک بیٹی پیدا ہوئی تھی۔ اس کا نام ہند تھا۔ یہ سب بچّے رسولؐ اللہ کی زیرکفالت رہے۔ پھر حضرت خدیجہؓ کے وہ بچّے جو رسولؐ اللہ سے نکاح کے بعد پیدا ہوئے ان میں دو صاحبزادے اور چار بیٹیاں تھیں۔ بیٹوں کا تو بچپن ہی میں انتقال ہوگیا، البتہ بیٹیوں کی تربیت حضرت خدیجہؓ ہی نے کی۔ ان بچوں کی تعلیم و تربیت کا اندازہ تو ان کے حالاتِ زندگی کے مطالعہ سے کیا جاسکتا ہے۔ یہاں ان سب کے حالاتِ زندگی تحریر کرنا ممکن نہیں۔
ہند بن ابی ہالہ جو حضرت خدیجہؓ کے پہلے بیٹے تھے، انھوں نے اسلام قبول کیا۔ وہ رسولؐ اللہ کے حلیہ کے بارے میں روایت کرنے والے سب سے اہم راوی ہیں۔ ان کا مشاہدہ بھی اپنی والدہ محترمہ کی طرح بہت گہرا تھا۔ انھیں ’وصّاف النبی‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ انھوں نے غزوئہ اُحد میں رسولؐ اللہ کی زیرقیادت جہاد میں بھی شرکت کی۔(ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۲:۲۵۱، محمود احمد غضنفر، سیرت اُمہات المومنین،دارالابلاغ، ۲۰۱۳۔ حضرت خدیجہؓ کی کنیت انھی کے نام پر اُمِ ہند ہے)
درس گاہ ’دارِ خدیجۃ الکبریٰ‘ میں اچھی خاصی تعداد میں لوگ تعلیم و تعلّم میں مصروف تھے۔ ان میں اپنے بچوں کے علاوہ زیرکفالت موالی، خدام، یتیم بچّے وغیرہ شامل ہیں۔ رسولؐ اللہ کی آیا اُمِ ایمن جنھیں رسولؐ اللہ نے آزاد کر دیا، بعد میں رسولؐ اللہ نے ان کا نکاح زیدبن حارثہ سے کیا۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں ایک بیٹا دیا جس کا نام اسامہ بن زید تھا۔ رسول ؐ اللہ کی تربیت ہی کی وجہ سے زید اس قابل ہوئے تھے کہ انھیں رومیوں کے خلاف جنگ ِ موتہ میں ایک لشکر کا امیر مقرر کیا گیا۔ اسی جنگ میں انھوں نے شہادت پائی۔ اُمِ ایمن نے اپنے دونوں بیٹوں ایمن اور اسامہ کو غزوئہ حُنین میں شرکت کے لیے تیار کیا۔ دونوں بہت جواں مردی اور بہادری سے لڑے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کرتے ہوئے ان کا بڑا بیٹا ایمن دادِ شجاعت دیتا ہوا شہید ہوا۔(بخاری، الجامع الصحیح، کتاب المغازی، باب غزوئہ موتہ من ارض الشام، رقم: ۴۲۶۱، ۴۲۶۳، اُمِ ایمن کے بارے میں دیکھیے: ابن الاثیر، اسدالغابۃ، ۵:۴۲۴، ابن حجر، الاصابۃ، ۸:۱۶۹)
اُمِ ایمن نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلانِ نبوت کے بعد جلد ہی اسلام قبول کرلیا تھا مگر ان کے شوہر عبیدبن زید نے اسلام قبول نہیں کیا۔ ان کے اسلام سے انکار کے بعد اُمِ ایمن اور عبید میں جدائی ہوگئی۔ رسولؐ اللہ نے ان کا نکاح زید بن حارثہ سے کر دیا۔ اس طرح اُمِ ایمن کو رسولؐ اللہ اور حضرت خدیجہؓ سے سیکھنے اور دین کو سمجھنے کا خوب موقع ملا۔ خود زید بن حارثہؓ کا شمار جلیل القدر صحابہ کرامؓ میں ہوتا ہے۔
حضرت خدیجہؓ کے گھر بعض دیگر خواتین کی بھی آمدورفت رہتی تھی۔ وہ کچھ وقت رسول ؐ اللہ کے گھر میں گزارتیں۔ دورانِ قیام انھیں بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کو ملتا۔ ان خواتین میں حضرت حلیمہ سعدیہؓ بھی تھیں جو آپؐ کی رضاعی والدہ تھیں اور اکثر آیا کرتی تھیں۔ رسولؐ اللہ بہت عزّت و احترام کے ساتھ انھیں خوش آمدید کہتے۔ حضرت خدیجہؓ انھیں تحفے تحائف پیش کرتیں۔ اسی تعظیم و تکریم کے ساتھ انھیں بہت کچھ دین و اخلاق کے بارے میں جاننے اور سیکھنے کا موقع ملتا۔ اسی طرح رسولؐ اللہ کی رضاعی والدہ حضرت ثویبہؓ بھی آیا کرتی تھیں۔انھوں نے بھی بچپن میں نبی کریم ؐ کو دودھ پلایا تھا۔ یہ بھی رسولؐ اللہ اور حضرت خدیجہؓ کے پاس کچھ وقت گزارتیں۔ رسولؐ اللہ کی آزاد کردہ باندی حضرت سلمہؓ بھی بہت شوق و محبت کے جذبے کے ساتھ تشریف لاتیں۔ رسولؐ اللہ نے ان کی شادی اپنے آزاد کردہ غلام ابورافع سے کردی تھی۔ سلمہ ایک تجربہ کار دایہ تھیں۔ انھوں نے حضرت خدیجہؓ کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کے موقع پر بطور دایہ فرائض انجام دیئے۔ (محمد یٰسین مظہر صدیقی، نبی اکرمؐ اور خواتین: ایک سماجی مطالعہ، نشریات، ۲۰۱۱ء، ص۱۲۳)
دارِ خدیجہ اس طرح ایک مؤثر درس گاہ بن چکا تھا۔ اگرچہ دعوت و تعلیم کا کام ابھی خفیہ ہی تھا اور اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد بھی کم ہی تھی لیکن بتدریج بڑھ رہی تھی۔ جو لوگ اسلام قبول کرچکے تھے وہ پورے اخلاص اور یقین محکم کے ساتھ اپنے عقیدہ پر جمع ہوئے تھے۔ مشرکین مکہ کو بہرحال اندازہ ہوگیا تھا کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم نےتوحید کی دعوت شروع کردی ہے اور بُت پرستی کو لغوکہہ کر مکمل طور پر رَد کر دیا ہے۔ اس لیے انھوں نے دعوت کے کام میں رکاوٹیں ڈالنا شروع کر دیں۔ وہ خاص طور پر حضرت خدیجہؓ کے گھر آنے جانے والوں پر نظر رکھتے اور رکاوٹیں پیداکرنے کی کوشش کرتے۔
اس صورتِ حال سے بچنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دارالارقم کا انتخاب کیا، اور وہاں پر خفیہ طریقے سے تعلیم و تربیت کا کام شروع کر دیا۔ رسولؐ اللہ جس زمانے میں دعوتی اُمور دارالارقم میں انجام دے رہے تھے، حضرت خدیجہؓ یہی کام اپنے گھر پر انجام دے رہی تھیں۔ اس لیے کہ وہاں اعزہ و اقارب اور خواتین کی آمدورفت کا سلسلہ جاری تھا۔ یہ تمام زائرین حضرت خدیجہؓ کے علم و عمل سے مستفید ہوتے رہے۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ حکم نازل ہوا: وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ۲۱۴ۙ وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ۲۱۵(الشعراء۲۶:۲۱۴-۲۱۵) ’’آپؐ اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو متنبہ کیجیے، اور ایمان لانے والے جو آپ کی اِتباع کریں ان کے ساتھ شفقت و محبت سے پیش آیئے‘‘۔اس حکم کے نازل ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوتِ دین کے لیے مختلف طریقے اپنائے۔ ان میں ایک طریقہ یہ تھا کہ سب رشتہ داروں کو گھر پر دعوت دی جائے، اور گھر میں جمع ہونے والے لوگوں کو دین کے بارے میں بتایا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہؓ کے مشورہ سے اپنے گھر پر دعوت کا اہتمام فرمایا جس میں تقریباً چالیس رشتہ داروں نے شرکت کی۔ کھانے سے فارغ ہونے کے بعد رسول ؐ اللہ نے بہت اچھے انداز میں توحید کا پیغام پہنچایا۔ اس دعوت و تعلیم کے سارے انتظام میں حضرت خدیجہؓ کا بھرپور تعاون حاصل رہا (ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، ۳:۳۳۹)۔ حقیقت یہ ہے کہ خاتونِ خانہ کے تعاون کے بغیر گھر پر اس دعوت کا اہتمام بہت مشکل تھا۔
دعوتِ دین اور عبادت کا سلسلہ جب تک خفیہ رہا حضرت خدیجہؓ اس وقت اور حالات میں بھی پوری ہمت و استقامت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کارِخیر میں شریک رہیں۔ جب بھی اس راہ میں کوئی مشکل وقت آتا تو نہ صرف یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتیں بلکہ خود بھی صبروتحمل کے ساتھ تکالیف برداشت کرتیں۔ خاص طور پر جب یہ حکم نازل ہوا: فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَاَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِيْنَ۹۴ (الحجر۱۵:۹۴)’’آپ کو جو حکم دیا جارہا ہے اسے کھل کر بیان کیجیے اور مشرکین سے اعراض کیجیے‘‘۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ نے کھل کر اسلام کا اظہار کیا تو قریش مکہ کی جانب سے ہر طرح کی رکاوٹیں پیدا کی گئیں۔جہاں کہیں وہ ظلم و تشدد کرسکتے تھے، انھوں نے کسر نہ چھوڑی۔ اس سارے عرصہ میں حضرت خدیجہؓ کا کردار بڑا مثالی رہا۔ وہ دعوت و تعلیم کے کام میں اسی طرح جذبہ اور ولولہ کے ساتھ مصروف رہیں۔
نبوت کے ساتویں سال جب قریش مکہ نے بنوہاشم اور بنومطلب کے خلاف معاشرتی مقاطعہ کیا اور رسولؐ اللہ کا مکمل ساتھ دیا۔ شعب ابی طالب میں رسولؐ اللہ کو جہاں ایک طرف اذیت اور فاقہ کشی کا سامنا تھا، وہاں آپؐ کو تعلیم و تربیت کے لیے خوب وقت اور فرصت ملی۔ رسول ؐ اللہ نے دن رات اسی مقصد کی تکمیل میں صرف کیے۔ تعلیم و تربیت کے کاموں میں حضرت خدیجہؓ بھی بہت انہماک کے ساتھ مصروف رہیں۔ حضرت خدیجہؓ کے ساتھ حضرت اُمِ ایمنؓ بھی تھیں جن کی تعلیم و تربیت حضرت خدیجہؓ ہی فرماتی رہی ہیں۔ رسول ؐ اللہ کی چچی، حضرت عباسؓ کی زوجہ حضرت اُم الفضل بھی موجود تھیں۔ اُم الفضلؓ قدیم الاسلام خاتون تھیں۔ ان کے ساتھ رسول ؐ اللہ کے دوسرے چچا حضرت حمزہؓ کی زوجہ خولہ بنت قیسؓ بھی حضرت خدیجہؓ اور اُم الفضلؓ کے ساتھ تھیں۔ ان سب خواتین کا تعاون حضرت خدیجہؓ کو حاصل رہا۔شعب ابی طالب میں موجود مرد و خواتین کے حوصلے بلند رکھنے میں ان خواتین کا اہم کردار رہا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شعب ابی طالب میں دن رات کی محنت اور آپؐ کے ساتھ موجود ان خواتین کی مخلصانہ جدوجہد کی وجہ سے شعب ابی طالب کا قیام ایک تعلیمی اور تربیتی کیمپ کی حیثیت اختیار کرگیا۔ ایمان و اخلاق کی تعلیم کا نتیجہ یہ ہوا کہ قریش نے جو معاشرتی مقاطعہ غیرمعینہ مدت کے لیے کیا تھا وہ تین سال میں ہی ختم ہوگیا۔وہاں موجود لوگوں نے بہت حوصلہ، صبروتحمل سے کام لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کے اخلاقی رویے نے کفارِ مکہ کو مجبور کیا کہ وہ اس ظالمانہ مقاطعہ کو ختم کریں۔
حضرت خدیجہؓ شعب ابی طالب میں سماجی و معاشی مقاطعہ کے دوران جو مشقت اور تکالیف برداشت کرتی رہیں، اس کے اثرات ان کی صحت پر بھی پڑے۔قریش مکہ کا مقاطعہ تو ختم ہوگیا لیکن اُم المومنین حضرت خدیجہؓ کی صحت ٹھیک نہیں رہی۔ بالآخر شعب ابی طالب سے باہر آنے کے بعد، نبوت کے دسویں سال اُمت مسلمہ کی عظیم محسنہ اور رسولؐ اللہ کی محبوب ترین زوجہ اس دارِفانی سے کوچ کر گئیں، لیکن اپنے پیچھے خدمت ِ دین کی خاطر ایثاروقربانی کی لازوال تاریخ مرتب کرگئیں___ رضی اللہ عنھا ونوَّرَ قبرھا۔
_______________
حواشی
(۱) انبیا علیہم السلام کا منہج تعلیم ناصحانہ ہوتا ہے۔ اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّيْ وَاَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ اَمِيْنٌ۶۸ (اعراف ۷:۶۸)’’میں تم کو اپنے ربّ کے پیغامات پہنچاتا ہوں اور میں تمھارا امانت دار خیرخواہ ہوں‘‘۔ اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ (النحل ۱۶:۱۲۵) ’’اپنے ربّ کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ‘‘۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسلوبِ تعلیم ناصحانہ اور حکیمانہ تھا جو بہت مؤثر ثابت ہوا۔ تعلیم بالعمل بھی ابلاغ و دعوت کا بہت اہم اور مفید ذریعہ ہے۔ ناصحانہ اسلوب کے دو پہلو ہوتے ہیں: ایک تبشیری پہلو ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دین کی بنیادی تعلیمات پر عمل کرنے والوں کو فلاح و سعادت کی خوش خبری سناتے ہیں۔ دوسرا تنذیری پہلو ہے کہ رسول ؐ اللہ لوگوں کو شاہراہِ زندگی میں درپیش خطرات سے آگاہ کرتے ہیں۔
(۲) لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ (احزاب ۳۳:۲۱) ’’درحقیقت تم لوگوںکے لیے اللہ کے رسولؐ میں ایک بہترین نمونہ ہے‘‘۔
(۳)حضرت خدیجہؓ بنت خویلد کا سلسلۂ نسب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جدِ امجد قُصی سے ملتا ہے۔
(۴) لقد خشیت علٰی نفسی (مجھے اپنی جان کا خطرہ ہے)۔ یہ واقعہ کتب سیرت، حدیث اور تاریخ میں مذکور ہے۔
(۵) حضرت علیؓ کی عمر اُس وقت دس برس تھی لیکن رسولؐ اللہ اور حضرت خدیجہؓ کی تربیت کا نتیجہ تھا کہ انھوں نے اس اہم مسئلے پر اپنے والد سے مشورہ کرنے کا اظہار بھی کیا اور مسئلے پر غوروفکر بھی کیا، پھر مکمل اطمینان کے بعد اسلام قبول کیا۔
(۶) حضرت زید بن حارثہؓ کو حضرت خدیجہؓ کے بھتیجے حکیم بن حزام نے شام کے علاقہ سے خریدا تھا، اور اپنی پھوپھی حضرت خدیجہؓ کو خدمت کے لیے پیش کردیا۔ حضرت خدیجہؓ نے حضرت زیدبن حارثہؓ کو اپنے شوہر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیا تاکہ یہ ان کی خدمت کرے (ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۲۶۴)۔بعد میں رسولؐ اللہ نے انھیں آزاد کر دیا لیکن انھوں نے رسولؐ اللہ کی خدمت میں رہنا ہی پسند کیا۔ پھر رسولؐ اللہ کی زندگی میں آپؐ کے ساتھ ہی رہے۔حضرت زید بن حارثہؓ اُن افراد میں شامل ہیں جنھیں رسولؐ اللہ نے دُنیا میں جنّت کی بشارت دی۔ دیکھیے: ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۲:۴۹۔ مواخواۃ مدینہ میں رسولؐ اللہ نے حضرت زیدؓ کو حضرت حمزہؓ کا بھائی قرار دیا۔