غزہ میں صرف معصوم بچّے ہی نہیں بلکہ اُمید بھی مر رہی ہے۔ غزہ محکمۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل منیرالبرش کے مطابق: ’’نومبر ۲۰۲۵ء سے اپریل ۲۰۲۶ء کے درمیان غزہ میں بچوں کی شرح پیدائش ۶۷ فی صد تک کم ہوگئی ہے، جب کہ حاملہ خواتین میں خون کی کمی کی شرح تشویش ناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ زچگی کے دائرے میں موجود خواتین بنیادی طبّی سہولتوں سے محروم ہیں، اورحمل ضائع ہونے کی شرح کئی گنا بڑھ کر، پورے معاشرے کے مستقبل پر تباہ کن حملہ بن چکی ہے‘‘۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک نسل کے بچوں کا زندہ رہنے کا حق برباد کردیا گیا ہے اور اگلی نسل کی پیدائش کا امکان خطرے اور تباہی میں ڈال دیا گیا ہے۔ یہ چیز انسانی زندگی کا خوفناک المیہ ہے۔
’یادداشتِ اسلام آباد‘ پر مفاہمت کے بعد خلیج فارس میں توپیں بظاہر خاموش ہو گئی ہیں۔ ایران کی بحری ناکہ بندی میں نرمی کے بعد ایرانی عوام نے بھی کسی حد تک سُکھ کا سانس لیا ہے اور خطے میں ایک وسیع جنگ کے خطرات وقتی طور پر کم ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق لبنان بھی اس مفاہمت کا حصہ ہے اور ۱۴ جون کو صدر ٹرمپ نے اسرائیل کو لبنان پر مزید حملوں سے باز رہنے کی ہدایت دی۔ تاہم یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ اسرائیل اس یادداشت اور امریکی ہدایات پر کس حد تک عمل کرتا ہے۔
اسرائیل، حزب اللہ کے نام پر لبنانی افواج کو بھی نشانہ بنارہا ہے، جس کی وجہ سے ۱۳جون کو جنوبی لبنان کے شہر نبطیحہ سے لبنانی فوج پسپا ہوگئی۔واپسی سے پہلے مقامی جرنیل نے کہا: ’’ہم اسرائیلی فوج سے تصادم نہیں چاہتے‘‘۔اسرائیل کی شدید بمباری اور ٹینک کے حملوں کے سامنے اپنے شہریوں کو نہتا چھوڑ کر فوج کا اس طرح فرارناقابلِ فہم ہے۔
بیروت، صور (Tyre) اور دریائے لیطانی کے اطراف بمباری، ڈرون حملوں اور گولہ باری کی مسلسل اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ اسرائیل شہری آبادی پر Fuel Bombگرارہا ہے۔ سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی کچھ تصویروں میں نہتے شہری سڑک پر جابجا بھڑکتی آگ سے بچنے کے لیے بھاگتے نظر آرہے ہیں۔
خان یونس اور جبالیہ میں بمباری کے نتیجے میں مزید جانی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ زخمیوں کے علاج کے لیے درکار سہولیات پہلے ہی ناکافی تھیں اور اب ہسپتال شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ غزہ کی تباہ حال گلیوں سے سامنے آنے والی تصاویر اس انسانی المیے کی شدت کو واضح کرتی ہیں۔ ایک تصویر میں ایک کم سن لڑکا اپنے بیمار بھائی کو زنگ آلود ٹھیلے میں لے جاتا دکھائی دیا۔ یہ منظر محض ایک خاندان کی کہانی نہیں بلکہ پورے غزہ کی اجتماعی حالت کا استعارہ بن چکا ہے، جہاں بہت سے خاندانوں کے لیے ایک ٹھیلا ہی ایمبولینس، ٹیکسی اور زندگی کی آخری امید ہے۔
رام اللہ کے قصبہ بُرقہ میں مسجد النور کو آگ لگانے کی کوشش نے مقامی آبادی میں شدید تشویش پیدا کی۔ خوش قسمتی سے مقامی خواتین نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پا لیا اور بڑا نقصان ہونے سے بچ گیا۔ ایسے واقعات صرف املاک کا نقصان نہیں بلکہ مذہبی اور سماجی ہم آہنگی کے لیے بھی خطرہ سمجھے جاتے ہیں۔
تحقیق تو دُور کی بات یہاں یہ عالم ہے کہ اسرائیل کے وزیر اندرونی سلامتی اتامر بن گوئر نے تجویز دی ہے کہ لبنان کے مقبوضہ علاقےسے حزب اللہ کی خواتین اور بچوں کو گرفتارکرلیا جائے۔ جنگی کابینہ کے اجلاس میں انھوں نے کہا کہ بمباری اورجنگجوؤں کے قتل کے ساتھ ان کی عورتوں اور بچوں کو حراست میں لیاجائے۔یہ ان کے لیے موت سے زیادہ تکلیف دہ ہوگا۔ دوسرے الفاظ میں بمباری اور قتل کافی نہیں بلکہ مزاحمت کاروں کی آبرو پر ضرب لگانے کی ضرورت ہے۔
_______________
جون ۲۰۲۶ء کو تیونس کی ایک عدالت نے النہضہ تحریک کے رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی راشد الغنوشی (۸۴سال) اور دیگر کئی رہنماؤں کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ تیونس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی وکالۃ تونس افریقیا للانباء کے مطابق، تیونس کی ابتدائی عدالت کے دہشت گردی کے مقدمات کا فیصلہ کرنے والے فوجداری بنچ نے ملزمان کو: ’’دہشت گرد گروہ تشکیل دینے اور جان بوجھ کر کسی بھی عنوان سے جمہوریہ کی سرزمین کے اندر دہشت گرد جرائم سے متعلق دہشت گرد گروہ میں شامل ہونے، دہشت گرد گروہ اور دہشت گرد جرائم سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے صلاحیتوں اور مہارتوں کو وقف کرنے، اور انسداد دہشت گردی قانون میں مذکور دیگر دہشت گرد جرائم‘‘ میں مجرم قرار دیا ۔
حکومتی پشت پناہی کی بنیاد پر درج کرائے گئے مقدمے ’خفیہ نیٹ ورک‘ میں انسداد دہشت گردی عدالت کے بنچ کے مطابق اس مقدمے میں سیاست دانوں، سیکیورٹی اہلکاروں اور رہنماؤں کے نام شامل ہیں۔ اس فائل میں ۳۵ ملزمان نامزد ہیں، جن میں سے کچھ اس مقدمے کی وجہ سے زیر حراست ہیں، کچھ دوسرے مقدمات میں گرفتار ہیں، ۱۱ ضمانت پر رہا ہیں، اور بقیہ مفرور ہیں۔ ان فیصلوں میں شامل نمایاں ترین نام درج ذیل ہیں:
راشد الغنوشی: نہضہ تحریک کے سربراہ، جنھیں ۳۰ سال کی اضافی قید کے ساتھ عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے، اور وہ دیگر مقدمات میں بھی زیرِ حراست ہیں۔
علی العریض: سابق وزیر داخلہ اور سابق وزیر اعظم، جنھیں ۴۲ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے، اور وہ دہشت گردی کی نوعیت کے دیگر مقدمات میں بھی حراست میں ہیں۔
فتحی البلدی: سابق سیکیورٹی کمانڈر اور متوازی سیکیورٹی نظام کے مرکزی ملزم، جنھیں ۵۰سال کی اضافی قید کے ساتھ عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
کمال البدوی: ریٹائرڈ فوجی اور ’برآ کـۃ الساحل‘ گروپ کے سابق رکن، جنھیں عمر قید اور ۳۲ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ دفاعی کمیٹی نے ان کے کال ریکارڈ کا تعلق محمد البراہمی کے قتل کی رات مصطفیٰ خذر کے ساتھ جوڑا ہے۔
عبد العزیز الدغسنی: راشد الغنوشی کے داماد اور بن عروس میں نہضہ کے دفتر کے سابق سربراہ، جنھیں عمر قید اور ۳۷ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ انھیں اس سے قبل ’بلیک روم‘ کیس میں بھی آٹھ سال قید کی سزا ہو چکی ہے۔
قیس بکار، بلحسن النقاش، علی الفرشیشی اور متعدد سابقہ سکیورٹی حکام: انھیں دہشت گردی کے الزامات اور خفیہ نیٹ ورک کو سیکیورٹی، سرحدوں اور غیر ملکیوں کے مفادات سے جوڑنے کے جرم میں ۳۴ سے ۴۸ سال تک قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔
تین مفرور افراد، جنھیں بیرون ملک فرار ہونے کی حالت میں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے، ان میں درج ذیل افراد شامل ہیں:
مصطفیٰ خذر:اسے ’بلیک روم‘ (الغرفة السوداء) اور ’خفیہ نیٹ ورک‘ کے مقدمات کا مرکزی ملزم ٹھیرایا گیا ہے۔ اسے اس بار عمر قید کے ساتھ مزید ۹۶ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ دفاعی کمیٹی اسے ’خفیہ نیٹ ورک کا پہلا فیلڈ انچارج‘ قرار دیتی ہے جو سیاسی قتل و غارت گری سے متعلق دستاویزات اور شواہد چھپانے میں ملوث تھا۔
رضا البارونی: یہ النہضہ تحریک کا سابق انتظامی اور مالیاتی ڈائریکٹر ہے، جسے عمر قید اور ۷۶ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
کمال العیفی: اسے اس متوازی نیٹ ورک کے اہم ترین رہنماؤں میں شمار کیا گیا ہے۔ اس کو بھی عمر قید اور ۷۶ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
عدالت نے تمام ملزمان کو پانچ سال تک انتظامی نگرانی میں رکھنے کا بھی حکم دیا۔
یہ مقدمہ ۲۰۲۲ء کے اوائل میں اس وقت سامنے آیا جب پبلک پراسیکیوشن اور سیاستدان شکری بلعید اور محمد براہمی کے فروری اور جولائی ۲۰۱۳ء میں قتل کے بعد ان کے وکلا نے مقدمہ درج کرایا۔وکلا نے اس وقت النہضہ کے نام نہاد ’خفیہ ڈیوائس‘ پر ان کے قتل میں ملوث ہونے، ’جاسوسی کرنے اور ریاستی اداروں میں دراندازی‘ کا الزام لگایا تھا۔
۱۹ جون ۲۰۲۶ءکو ’ریاست کی داخلی سلامتی کے خلاف سازش‘ کے اس مقدمے میں نئے فیصلے سامنے آئے ہیں۔ تیونس کی اپیل کورٹ کے انسداد دہشت گردی کے مقدمات دیکھنے والے فوجداری ڈویژن کے خصوصی بینچ نے باجہ میں تحریک النہضہ کے علاقائی سیکرٹری جنرل کے حق میں ابتدائی عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا، تاہم سزا میں تخفیف کرتے ہوئے ۱۰ سال قید کو کم کر کے چار سال کر دیا۔
عدالت نے النہضہ تحریک کے رہنما عبدالفتاح الطاغوتی کو بھی ۱۰ سال قید بامشقت کی سزا سنائی جس پر فوری عمل درآمد ہوگا۔ اس کے ساتھ تین دیگر ملزمان کے حق میں دعویٰ نہ سننے کا فیصلہ کیا، جب کہ ایک خاتون ملزمہ کو دو سال قید کی سزا دی گئی۔
اسی تناظر میں، عدالت نے تین دیگر ملزمان کو بھی ۱۰ سال قید کی سزا سنائی، جن میں باجہ میں النہضہ تحریک کے علاقائی دفتر کے ارکان شامل ہیں۔
یاد رہے کہ تیونس کی ابتدائی عدالت کے انسداد دہشت گردی مقدمات کے فوجداری ڈویژن نے پہلے باجہ میں تحریک النہضہ کے علاقائی سیکرٹری کو ۱۰سال قید، جربہ کے ایک مقیم ڈاکٹر کو ۱۲سال قید، اور دیگر ملزمان کو ۱۰ سال قید کی سزائیں سنائی تھیں۔
اس سے قبل ۱۵؍ اپریل کو، تیونس کی ایک عدالت نے الغنوشی اور تحریک النہضہ کے تین دیگر رہنماؤں کو میڈیا میں المسامرۃ الرمضانیۃ کے نام سے مشہور مقدمے میں ۲۰ سال قید کی سزا سنائی تھی۔ اس کے علاوہ ان کے خلاف دیگر مقدمات میں بھی قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔
النہضہ تحریک کے سربراہ راشد الغنوشی کو عمر قید کی سزا ان کے خلاف جاری ہونے والا تیسرا ’عمر قید‘ کا فیصلہ ہے۔ان کے خلاف پہلی عمر قید کی سزا کا فیصلہ 'صدر بورقیبہ کے دور میں ستمبر ۱۹۸۷ء میں سنایا گیا۔ غنوشی اس وقت 'اسلامی رجحان تحریک(حرکۃ الاتجاہ الاسلامی) کے سربراہ تھے۔ تاہم، اللہ تعالیٰ کی قدرت کہ یہ عمر قید صرف ۱۵ ماہ ہی چلی کیونکہ صدر بورقیبہ کے خلاف ان کے وزیر اعظم زین العابدین بن علی نے سفید انقلاب (بغیر خون خرابے کے ) برپا کر دیا۔ چنانچہ بورقیبہ جیل میں ہی رہے ، جب کہ راشد الغنوشی اور ان کے ساتھ کئی دیگر افراد کو رہا کر دیا گیا۔
راشد الغنوشی کے خلاف عمرقید کا دوسرا فیصلہ ۱۹۹۲ء میں صدر زین العابدین بن علی کے دور میں سنایا گیا۔ اگرچہ یہ فیصلہ بظاہر تیونس کی ایک فوجی عدالت نے جاری کیا تھا، لیکن اس کا اصل محرک اور منبع خود صدر بن علی تھا، اور الزامات پہلے سے تیار شدہ تھے، یعنی ’ریاست کی سلامتی کے خلاف سازش‘ اور’تیونس میں حکومت کا تختہ الٹنے کی تیاری‘۔
لیکن اللہ کی عدالت سے اس وقت یہ فیصلہ ہوا کہ صدر بن علی کا انجام ان کی حکومت کے خاتمے کی صورت میں نکلا جو یہ سمجھ رہے تھے کہ وہ فرعونِ وقت ہیں۔ اور جب اللہ کا فیصلہ آ جائے تو اس کے فیصلے کو روکنے والا کوئی نہیں ہوتا، لہٰذا اس کا انجام تمام صدور، حکمرانوں اور فیصلہ سازوں کے لیے عبرت کا ایک نشان بن گیا۔ چنانچہ عرب اور یورپی فضائی حدود نے ان کے طیارے کو قبول کرنے سے انکار کر دیا، اور کسی بھی ملک نے ان کا استقبال نہیں کیا۔ تاریخ میں یہ بات محفوظ ہوگئی کہ انھیں بقیہ زندگی تیونس کی پاک سرزمین میں داخل نہیں ہونے دیا گیا، یہاں تک کہ وہ انسانی تاریخ کی بدترین موت مرے، اور انھیں تیونس میں دفن تک نہیں کیا گیا۔ دوسری طرف راشد الغنوشی، جن کو صدر بن علی کے حکم سے ’عمر قید‘ کی سزا سنائی گئی تھی، وہ تیونسی عوام کے شاندار استقبال میں تیونس واپس آئے اور اس سفر کا اختتام اس وقت ہوا جب وہ تیونس کی پارلیمنٹ کے اسپیکر بنے۔
راشد الغنوشی کے خلاف ’عمر قید‘ کی تیسری سزا ۲ جون ۲۰۲۶ء کو سنائی گئی ہے، جو آمرمطلق صدر قیس سعید کے جاری دور میں سامنے آئی ہے۔ یوں راشد الغنوشی کو سنائی گئی مجموعی سزائیں ۱۰۸سال بنتی ہیں، جو کہ تیونس کے طاغوت’قیس سعید اور ان کے گماشتوں‘ کی ہوسِ اقتدار کا ظالمانہ و مستبدانہ اظہار ہے۔
راشد الغنوشی کی قائم کردہ النہضہ تحریک نے اپنی ۴۵ ویں سالگرہ پر ۶ جون ۲۰۲۶ء کوایک جامع بیان جاری کیا ہے جو تیونس کی سیاسی، سماجی، اقتصادی اور امن و امان کی ناگفتہ بہ صورتِ حال کو بیان کرتا ہے۔ یہاں اس کے اہم نکات درج کیے جاتے ہیں:
۶جون ۱۹۸۱ءکو النہضہ تحریک نے اپنی تشکیل کا اعلان کیا۔ یہ محض ایک عام سیاسی فیصلہ نہیں تھا، بلکہ فکری، سیاسی اور وجودی طور پر ایک ایسے تہذیبی اور جامع منصوبے کی شروعات تھی جو اس بات پر یقین ہے کہ تیونس اپنی قدیم عرب اسلامی شناخت کے ساتھ ساتھ، جدت پسندی اور عقلی اقدار کے لیے بھی کھلا رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تحریک نے آغاز ہی سے آمریت کے سامنے پُرامن عوامی جدوجہد کا مشکل ترین اور بہترین راستہ چنا، جو جبر و تشدد کے رجحان کو قطعی طور پر مسترد کرتا ہے۔تحریک کا یہ ایمان ہے کہ جو قومیں جابرانہ نظاموں تلے دب کر زندگی گزار رہی ہیں، وہ صرف مضبوط ارادے، اجتماعی شعور، حق پر ثابت قدمی اور اس پر صبر و استقامت کے ذریعے ہی اپنی آزادی حاصل کر سکتی ہیں۔
کارکنان تحریک نے اس اصولی موقف کی بھاری قیمت چکائی۔ ان میں سے ہزاروں کارکن، ظالموں کے قید خانوں میں بند ہوئے، سیکڑوں شہید ہوئے، کچھ تشدد کے باعث دنیا سے رخصت ہوگئے، اور ہزاروں یورپ اور دنیا بھر میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے۔ اس کے نتیجے میں خاندان اُجڑ گئے، منصوبے اور خواب تباہ ہوگئے، اور عمر کے بہترین سال ضائع ہو گئے۔ ان تمام مشکلات کے باوجود، تحریک میں انتشار پیدا نہیں ہوا اور نہ اپنے اصولوں سے پیچھے ہٹی، بلکہ اس نے آزمائش کے برسوں کو فکری گہرائی، خود احتسابی، دوسروں کے لیے کشادگی، اور تجربات سے سیکھنے کے لیے استعمال کیا۔اس نے اسلام اور جمہوریت کے درمیان ہم آہنگی، سول ریاست کے اصولوں، اور ایک تکثیری معاشرے میں اسلامی پس منظر رکھنے والی سیاسی تحریک کے جمہوری عمل کی خصوصیات پر گہرائی سے غور کیا۔ اس نے زیادہ بالغ نظری، عقلی پختگی، حقیقت پسندانہ اور کھلی سیاسی فکر کی بنیاد رکھی۔
۲۰۱۱ءکی جنوری کی صبح جب نمودار ہوئی، تو النہضہ تحریک جمہوری تبدیلی کے موقع کو کامیاب بنانے کے لیے پہلی صفوں میں کھڑی تھی۔ اس نے اکتوبر ۲۰۱۱ء کے پہلے آزاد اور منصفانہ انتخابات میں کامیابی حاصل کی، اور ایک مشکل قومی مکالمے میں حصہ لیا جس نے ملک کو افراتفری کے گڑھے میں گرنے سے بچایا۔ تحریک نے ۲۰۱۴ء کے آئین کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا، جسے عرب دساتیر میں سب سے زیادہ ترقی پسند اور متوازن قرار دیا گیا،اور جب تحریک ۲۰۱۴ء کے انتخابات ہار گئی تو اس نے انتخابی نتائج کو تسلیم کیا اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اقتدار کو منتقل کر دیا۔ اس نے عرب تبدیلیوں کے تناظر میں ایک نادر مثال قائم کرتے ہوئے، اعلیٰ ترین قومی مفاد کی خدمت کے لیے عارضی ذاتی فوائد کو قربان کر دیا۔ تحریک اس تاریخ کو کسی فخر یا دکھاوے کے طور پر پیش نہیں کرتی، بلکہ یہ اس بات کی گواہی ہے کہ جمہوریت سے اس کی وابستگی کوئی عارضی حربہ یا نمائشی فیصلہ نہ تھا، بلکہ یہ روشن خیال اسلامی فکر کے مرجع سے جڑی ایک راسخ یقین دہانی تھی، جس کا اس نے مشکل ترین لمحات میں بھی پاس رکھا۔
۲۵جولائی ۲۰۲۱ء کو، ہمارے ملک کا جمہوری تجربہ، جو تکلیفوں اور قربانیوں کے ساتھ پروان چڑھا تھا، ایک بڑے دھچکے کا شکار ہو گیا۔ جب صدرِ جمہوریہ[قیس سعیّد] نے پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے سے پہلے اس کی سرگرمیاں معطل کر دیں، منتخب حکومت کو برطرف کر دیا، اور قانون سازی، انتظامی اور عدالتی اختیارات کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ انھوں نے ۲۰۱۴ء کے اس آئین کو پسِ پشت ڈال دیا جس کی حفاظت کا انھوں نے حلف اُٹھایا تھا، اور اس ادارہ جاتی توازن کے نظام کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جسے تیونس کے عوام نے پورے ایک عشرے کے دوران بہت سی قربانیوں اور تحمل و برداشت سے تعمیر کیا تھا۔تحریک نے اس وقت جو کچھ ہوا اسے جمہوریت اور آئین کے خلاف ’بغاوت‘ قرار دیا تھا، اور آج یہ حقیقت پہلے سے کہیں زیادہ سچ اور درست ثابت ہو چکی ہے۔ اب اس سچائی پر نہ صرف سیاسی مخالفین متفق ہیں، بلکہ انسانی حقوق کی بڑی تنظیمیں، ماہرینِ تعلیم کے خصوصی ادارے اور اقوامِ متحدہ کے اداروں کی رپورٹیں بھی اس کی تصدیق کر رہی ہیں۔
اس راستے کے پانچ سال بعد، ہم اس نتیجے پر کھڑے ہیں:
تحریک یہ انتباہ کسی تنگ نظر سیاسی دشمنی کی وجہ سے نہیں، بلکہ گہری قومی ذمہ داری کے احساس کے تحت کر رہی ہے۔ تیونس کسی حکومت کی ملکیت نہیں اور نہ یہ کسی ایک پارٹی کا ملک ہے۔ جو بھی اس کی یک جہتی کو خطرے میں ڈال رہا ہے وہ بغیر کسی استثنا کے سب کو متاثر کرے گا۔ آج کے خطرات ماضی کے کسی بھی مرحلے کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ اور خطرناک ہیں۔
النہضہ تحریک جمہوری جدوجہد کے تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پُرامن جمہوری جدوجہد کا سفر جاری رکھنے کا پختہ عزم دُہراتی ہے۔ اس مرحلے پر عوام کے ساتھ رابطے، معیشت کی ترجیحات اور وسیع تر قومی اتحاد قائم کرنے میں درپیش کمزوریوں اور خامیوں کی نشان دہی کرتی ہے:
۱- تمام سیاسی قیدیوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی لازمی ہے، اور یہ سب سے پہلا اور اہم ترین مطالبہ ہے۔ سیاسی موقف، جماعتی وابستگی، یا رائے کے اظہار کی وجہ سے قید کیے گئے تمام افراد کا مکمل وقار بحال کیا جانا چاہیے۔ عدلیہ کی آزادی کو بحال کیا جانا چاہیے، اور منصفانہ ٹرائل کی ضمانت دی جانی چاہیے۔
۲- تحریک ملک کی تمام سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کو دعوت دیتی ہے کہ وہ حقوق و آزادیوں کے دفاع، جمہوری راستے کی بحالی، اور ایک نئے سماجی معاہدے کی بنیاد رکھنے کے لیے متحدہ کوششیں کریں۔ یہ معاہدہ زیادہ منصفانہ اور آزادی، جمہوریت اور اقتدار کی پُرامن منتقلی کے اصولوں کو مزید پختہ کرنے والا ہونا چاہیے۔
۳- ایک حقیقی ڈھانچا جاتی اقتصادی اصلاحاتی پروگرام کے نفاذ کی ضرورت ہے جو کاروباری ماحول میں اعتماد بحال کرے، سرمایہ کاری کے دروازے کھولے، اور ساتھ ہی سماجی انصاف کا سختی سے تحفظ اور معاشرے کے کمزور طبقات کی حفاظت کرے۔
اسی طرح ایک وسیع سماجی مکالمے کے دائرے میں عوامی قرضوں کے معاملے کا سنجیدہ حل،اور ملک چھوڑنے والے نوجوانوں کی واپسی، اور وطن میں روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے مخصوص پالیسیاں،سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کرنا اور انتظامی کرپشن کا خاتمہ ملکی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔
_______________
قرآن پر ایمان لانے میں پہل کرنے والے اور اوّلین مخاطب صحابہ کرامؓ تھے۔ انھوں نے خود کو کس طرح قرآن کے حوالے کر دیا تھا، اس کا کچھ اندازہ ذیل کے واقعات سے ہو سکتا ہے:
مال ہر انسان کو محبوب اور مرغوب ہے، اِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌ (العادیات ۱۰۰:۸) یہ انسان کو سہولتیں مہیا کرنے کا بھی ذریعہ ہے اور سماجی حیثیت (status) کے اظہار کا بھی۔ صحابہ بھی انسان تھے۔ انھیں بھی ان چیزوں کی ضرورت تھی لیکن جب قرآن کا حکم آیا تو انھوں نے خرچ کرنے سے دریغ نہ کیا:
لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ۰ۥۭ (اٰل عمرٰن۳:۹۲) تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ تم اپنی وہ چیزیں (راہِ خدا میں) خرچ نہ کرو جنھیں تم محبوب رکھتے ہو۔
آپ نے فرمایا: ’’اسے وقف کردو‘‘۔(بخاری، مسلم، کتاب الوصایا)
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت ابوالدحداح انصاریؓ نے عرض کیا: یارسول اللہ! کیا اللہ ہم سے قرض چاہتا ہے؟ حضورؐ نے جواب دیا: ہاں۔ ابودحداحؓ نے یہ سن کر عرض کیا: ذرا اپنا ہاتھ میری طرف کیجیے۔‘‘ آپؐ نے اپنا ہاتھ ان کی طرف بڑھایا تو انھوں نے آپؐ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھاما اور کہا: میں نے اپنا باغ اپنے رب کو قرض دے دیا۔‘‘ حدیث کے راوی حضرت عبداللہؓ بن مسعود فرماتے ہیں کہ اس باغ میں کھجور کے چھ سو درخت تھے۔ اس میں ان کا گھر بھی تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات کرکے وہ سیدھے باغ میں پہنچے اور گھر کے دروازے پر کھڑے کھڑے بیوی کو پکار کر کہا: ’’اے دحدح کی ماں! بچے کو لے کر باہر نکل آئو۔ یہ باغ میں نے اللہ کو قرض دے دیا ہے۔‘‘ یہ سن کر اس اللہ کی بندی نے بڑی خوش دلی سے کہا:’’اے دحدح کے باپ! تم نے بڑے نفع کا سودا کیا ہے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے انھوں نے اپنے بچے اور سامان کو لیا اور باغ سے باہر نکل آئیں۔(ابن ابی حاتم، تفسیر ابن کثیر)
اظہارِ حُسن کے لیے بنائو سنگھار کرنا عورت کی عمومی عادت ہے۔ہر دور میں مردوں کی نسبت عورتیں فیشن کی زیادہ دلدادہ رہی ہیں۔ زمانۂ جاہلیت میں عورتیں اپنے سینوں پر کوئی اوڑھنی نہ ڈالتی تھیں۔ گردن، بال، چوٹی اور بالیاں وغیرہ صاف نظر آتی تھیں۔
انصاری خواتین بھی قرآنی حکم پر من و عن عمل کرنے میں تاخیر کرنے والی نہ تھیں۔ حضرت عائشہؓ ہی فرماتی ہیں:’’بلاشبہ قریش کی عورتوں کے لیے بڑی فضیلت ہے اور اللہ کی قسم! میں نے انصار کی خواتین سے بڑھ کر کوئی عورت اللہ کی کتاب کی تصدیق اور نازل شدہ احکام پر ایمان لانے والی نہیں دیکھی۔ اللہ نے سورۂ نور میں آیت: وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰي جُيُوْبِہِنَّ ۰۠ نازل فرمائی تو ان کے مرد گھروالوں کی طرف لپکے اور جو حکم نازل ہوا، وہ انھیں سنایا تو ہر عورت اپنے نقش و نگار والی بڑی چادر کی طرف لپکی اور اللہ نے اپنی کتاب میں جو نازل کیا تھا، اس کی تصدیق کرتے اور ایمان لاتے ہوئے اپنے سروں کو اوڑھنیوں سے ڈھانپ لیا۔ جب انھوں نے اگلی صبح رسول اللہ کے پیچھے نماز فجر ادا کی تو دیکھا گیا کہ سب عورتوں نے خود کو ڈھانپا ہوا ہے۔ وہ ایسی لگتی تھیں گویا ان کے سروں پر کوّے بیٹھے ہوئے ہیں۔(تفسیر ابن ابی حاتم، رقم: ۱۴۴۰۶)
لذت پرستی بالخصوص نشہ آوری کی لت سے جان چھڑانا بڑی قوت ارادی سے ہی ممکن ہے۔ شراب نوشی عرب کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی، لیکن اللہ تعالیٰ نے جب سورۂ مائدہ کی آیت ۹۰-۹۱ میں شراب سے اجتناب کا حکم دیا اور اس کی حرمت کی علّت بتاتے ہوئے ان سے سوال کیا: فَہَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَہُوْنَ(پس کیا اب تم اس سے باز آجائو گے؟)
اس حکم پر کس قدر فوری عمل ہوا، حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ ابوطلحہ انصاریؓ کے گھر پر میں ابوعبیدہؓ بن جراح، ابیؓ بن کعب، سہیلؓ بن بیضاء اور دیگر صحابہ کی ایک جماعت کو شراپ پلا رہا تھا۔ لذتِ شراب سے سب لطف اندوز ہو رہے تھے۔ قریب تھا کہ نشے کا پارا چڑھ جائے۔ اتنے میں کسی صحابی نے آکر خبر دی کہ تمھیں علم نہیں کہ شراب حرام ہو گئی ہے؟ یہ سنتے ہی ابو طلحہؓ نے کہا: انسؓ بس کرو اور جو باقی بچی ہے، اسے بہا دو۔ اللہ کی قسم! اس کے بعد ایک قطرہ بھی ان میں سے کسی کے حلق میں نہیں گیا۔ میں نے دیکھا کہ مدینہ کے گلی کوچوں میں شراب بہہ رہی ہے۔ (مسنداحمد، بخاری و مسلم،کتاب الاشربہ و کتاب التفسیر)
کسی بھلائی کے نہ کرنے کی قسم کھانا ایک اظہار ہوتا ہے کہ جس شخص کے ساتھ وہ بھلائی نہیں کی جائے گی، اس سے آدمی کو حد درجہ نفرت ہے یا اس سے قسم کھانے والے کی سخت دلآزاری ہوئی ہے۔ صحابہ نے بھی ایسی قسمیں کھائیں۔ لیکن اگر قرآن میں اس کے برعکس حکم آگیا تو ان کی کیفیت کیا ہوتی تھی؟
چنانچہ آپؓ نے مسطحؓ بن اثاثہ کی مدد بحال کر دی اور ان پر پہلے سے بھی زیادہ احسان کرنے لگے۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی یہ روایت ہے کہ حضرت ابوبکرؓ کے علاوہ یہ قسم بعض دیگر صحابہ نے بھی کھائی تھی کہ جن جن لوگوں نے اس بہتان میں حصہ لیا ہے، ان کی وہ مدد نہ کریں گے۔ اس آیت کے نزول کے بعد ان سب نے اپنی قسم سے رجوع کر لیا۔(تفسیر ابن کثیر، ۳/ ۵۹۹، تفہیم القرآن ۳/ ۳۷۲)
وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاۗءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَہُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ اَنْ يَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَہُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَہُمْ بِالْمَعْرُوْفِ۰ۭ (البقرہ۲: ۲۳۲)جب تم عورتوں کو طلاق دے دو، پھر وہ اپنی عدت پوری کر لیں تو پھر انھیں اپنی پسند کے شوہروں سے نکاح کرنے سے نہ روکو، جب کہ معروف طریقے سے وہ باہمی نکاح پر راضی ہوں۔
معقلؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ میں اللہ کے حکم پر ضرور عمل کروں گا۔ چنانچہ انھوں نے نئے نکاح کے ساتھ اپنی بہن کی شادی اسی آدمی سے کر دی۔(صحیح بخاری)
قرآن کتابِ الٰہی کے سننے سے اہلِ ایمان کے بدن کےرونگٹے کھڑے ہونے، دلوں کے نرم پڑنے اور یادالٰہی کی طرف متوجہ ہونے کی خبر دیتا ہے:تَــقْشَعِرُّ مِنْہُ جُلُوْدُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّہُمْ۰ۚ ثُمَّ تَلِيْنُ جُلُوْدُہُمْ وَقُلُوْبُہُمْ اِلٰى ذِكْرِ اللہِ۰ۭ (الزمر ۳۹: ۲۳) ’’اُسے سن کر اُن لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے ربّ سے ڈرنے والے ہیں، اور پھر اُن کے جسم اور ان کے دل نرم ہوکر اللہ کے ذکر کی طرف راغب ہوجاتے ہیں‘‘۔
عمار بن یاسرؓ نے انھیں خون آلود دیکھ کر کہا:’’سبحان اللہ! آپ نے مجھے اسی وقت کیوں نہ بتایا جب آپ کو پہلا تیر لگا تھا؟ حضرت عبادؓ بن بِشرنے کہا:میں اس وقت نماز میں سورۂ کہف کی تلاوت کر رہا تھا۔ میں نے گوارا نہ کیا کہ میں اسے درمیان میں چھوڑ دوں۔ اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ بکثرت خون بہنے سے میری موت واقع ہو سکتی ہے اور تمھیں جگا کر مورچہ سنبھالنے کا فرض ادا نہ کیا تو میں ایک بڑی خیانت کا مرتکب ہوں گا، تو میں کبھی سورۂ کہف کی تلاوت نہ چھوڑتا، خواہ میری جان ہی چلی جاتی۔(سیرۃ ابن ہشام، ص ۷۴۹، ابن قیم، زاد المعاد، ۲/۱۱۲ )
قرآن سے تعلق کی لذت نے صحابۂ رسولؐ کو ہر دکھ اور تکلیف سے بے نیاز کر دیا تھا۔
صحابہ کرامؓ نے قرآن کے رنگ میں اس طرح خود کو رنگ لیا تھا، کہ انھوں نے کوئی عمل کیا تو اس کی تعریف خود اللہ نے مختلف مواقع پر فرمائی۔
ایک انصاری نے کہا کہ حضوؐر میں اس کی مہمان نوازی کروں گا۔ وہ مہان کو گھر لے گئے اور بیوی کو کہا کہ یہ اللہ کے رسولؐ کے مہمان ہیں۔ آج ہمیں چاہے کھانے کو کچھ نہ ملے لیکن یہ بھوکے نہ رہیں۔ بیوی نے کہا کہ آج گھر میں صرف اتنا کھانا ہے کہ بچے سیر ہو سکیں۔ انصاری نے کہا کہ بچوں کو تو بہلا پھسلا کر سُلا دو اور ہم دونوں بھی فاقے سے رات گزار لیں گے، اور کھانے کے وقت چراغ بجھا دینا تاکہ مہمان کو پتہ نہ چلے کہ ہم کھا رہے ہیں یا نہیں، تاکہ وہ سیر ہو کر کھا لے۔ چنانچہ کھانا رکھتے ہی بیوی نے چراغ کو درست کرنے کے بہانے اسے بجھا دیا۔ مہمان نے کھانا کھایا اور سارے خاندان نے رات بھوک سے گزاری۔
صبح جب یہ انصاری مہمان کے ساتھ خدمتِ نبویؐ میں حاضر ہوئے تو آپؐ نے فرمایا: اس شخص اور اس کی بیوی کے رات کے عمل سے اللہ خوش ہوا اور ہنس دیا۔‘‘ انھی کے بارے میں سورۂ حشر کی آیت : يُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓي اَنْفُسِہِمْ وَلَوْ كَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ۰ۭۣ (الحشر ۵۹:۹) ’’وہ دوسروں کو خود پر ترجیح دیتے ہیں، چاہے خود انھیں کتنی ہی سخت حاجت ہو‘‘، نازل ہوئی۔(بخاری، کتاب التفسیر)
قبا کی بستی میں جب حضورؐ سےملاقات ہوئی تو رسولؐ اللہ نے انھیں مبارکبا دی کہ تم نے بہت ہی نفع بخش سودا کیا ہے اور پھر یہ آیت پڑھی:وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْرِيْ نَفْسَہُ ابْـتِغَاۗءَ مَرْضَاتِ اللہِ۰ۭ لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی جو اللہ کی رضا جوئی کے لیے اپنی جان کا بھی سودا کر دیتا ہے‘‘ (البقرہ۲:۲۰۷)۔(مستدرک حاکم، ۳ /۳۹۸ ، ابن ہشام، ص۱۰، طبقات ابن سعد، ۳/ ۱۶۲)
_______________
تاریخ اگر بقول ایمرسن بڑے آدمیوں کا سایہ ہے تو برصغیر کے گذشتہ کئی عشروں کی فکری اور علمی تاریخ، مولانا مودودیؒ کے سائے کا نام ہے۔ حالات ایک رخ پر سفر کرتے ہیں، لمحوں کے بعد لمحے آتے جاتے رہتے ہیں اور ان کی ایک زنجیر سی بنتی رہتی ہے۔ عام انسان اس زنجیر میں جکڑے ہوئے اسی طرف بہتے رہتے ہیں جدھر زمانہ ان کو لے جانا چاہتا ہے۔ لیکن وقت کی آغوش میں تقدیر الٰہی سے ایک ایسا انسان پیدا ہوتا ہے اور تاریخ کی زنجیر جبراً ٹوٹ جاتی ہے۔ عہد کہن اپنے آثار کو سمیٹ کر رخصت ہونے لگتا ہے اور مستقبل کی نئی عمارتیں تعمیر ہوتی ہیں۔ ماضی وحال کے دھندلکوں میں بھٹکنے والے انسان سفر حیات کی نئی جہتوں اور نئی منزلوں سے آشنا ہوتے ہیں۔ تب ہم اس انسان کو انسان نہیں کہتے ایک علامت کہتے ہیں اور اس کا زمانہ اس کی علامت سے پہچانا جاتا ہے۔ مولانا مودودی بھی ایک ایسے انسان، ایک ایسی ہی علامت تھے اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا زمانہ مولانا مودودی کا زمانہ ہے۔
مولانا مودودی ایک ایسے وقت میں پیدا ہوئے جب روشنیاں اور تاریکیاں ایک دوسرے کو کاٹ رہی تھیں۔ مسلمان بحیثیت مجموعی بہت اِدبار [پستی و ذلت]کا شکار تھے۔ لادینی علوم اور جاہلی فکری تبلیغ و اشاعت نے مسلمانوں کو ذہنی انتشار میں مبتلا کر دیا تھا۔ ایمان اور یقین کے چراغ جھلملا رہے تھے، دلوں میں شکوک اور اوہام کی آندھیاں چل رہی تھیں۔ اہل علم میں اسلام کا نام لینا باعثِ خفت تھا۔ مغربی تہذیب کے زیر اثر طرح طرح کے فتنے مسلمانوں میں پھیل رہے تھے۔ لوگوں کی زندگی سے مقصدیت کی روشنی غائب ہو گئی تھی۔ پڑھا لکھا طبقہ خداشناسی اور خودشناسی کو بھول کر گمراہی اور بے یقینی کے راستوں پر بھٹک رہا تھا۔ اقبالؒ کی آواز بلند ہو چکی تھی مگر اس کے سننے والے اور سن کر سمجھنے والے خال خال تھے۔
بحیثیت مجموعی یہ ایک ایسے خلفشار کا زمانہ تھا، جس کی تہہ سے تاریکی ہی تاریکی ابل رہی تھی۔ ایسے میں مشیت الٰہی نے ایک چراغ روشن کیا، حق کی آواز بلند ہوئی اور مولانا مودودی نے اسلام اور مسلمانوں کی سربلندی کا ایک نیا خواب دیکھا۔ ایسا خواب جو کفر و الحاد کی فضا کو بدل دے۔ ایک ایسا انقلاب جو اسلام کو زندہ کر دے۔ تم دیکھ رہے ہو کہ ایک ایسا انقلاب جو ہمارے دروازوں اور دلوں پر دستک دے رہا ہے۔ یقیناً اس انقلاب کی تعمیر میں بہت سی قوتیں بہت سی توانائیاں، بہت سی آوازیں شامل ہیں، مگر دیکھو ان سب میں سب سے بلند، سب سے روشن اور سب سے نمایاں آواز کس کی ہے؟ تمھارا جواب صرف ایک ہی ہو گا سیّد مودودی کی آواز، مولانا مودودی کی آواز!
مولانا مودودی نے جب اپنے کام کا آغاز کیا، تب حالات آج جیسے نہیں تھے، پہاڑ جیسی مشکلات مولانا کے راستے میں حائل تھیں۔ وہ خدا کی وسیع دنیا میں اپنے مقصد کے ساتھ یکتا و تنہا تھے۔ ان کا کام آسان نہیں تھا۔ یہ اندھیرے میں چراغ جلانے بلکہ آفتاب ڈھالنے کا کام تھا۔ مولانا مودودی اس کام کی مشکلات سے واقف تھے کہ چراغ جلاؤ تو ہوا کتنی تیز ہو جاتی ہے۔ مولانا مودودی کے خلاف آندھیاں اٹھ کھڑی ہوئیں۔ جس وقت تک وہ سطریں لکھی جا رہی تھیں تو لاکھوں درد مند دل ان تیروں سے زخمی ہوئے جو مولانا مودودی کی طرف اس جرم میں پھینکے گئے کہ وہ حق کی سربلندی کیوں چاہتے تھے؟
میں یہ نہیں کہتا کہ مولانا سے غلطیاں نہیں ہوئیں، ضرور ہوئی ہوں گی۔ میں یہ نہیں کہتا کہ مولانا سے اختلاف نہیں کرنا چاہیے، یقیناً اتفاق کی طرح اختلاف بھی ہر شخص کا حق ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ مولانا پر نکتہ چینی گناہ ہے، مولانا بھی انسان تھے تنقید اور نکتہ چینی سے بلند نہیں تھے۔ لیکن میں یہ ضرور کہتا ہوں کہ مولانا اس دور میں اسلام کی ایک ایسی آواز تھے جس کو کفر و الحاد کی سب قوتیں خاموش کر دینا چاہتی تھیں۔ گمراہی کی ہر تلوار مولانا پر اٹھتی تھی، کفر کی ہر توپ کا رخ مولانا کی طرف تھا۔ دنیا کی ہر وہ قوت جو اسلام کی دشمن تھی، مولانا کی بھی دشمن تھی۔ پھر اس کا کیا سبب ہے کہ مودودی دشمنی میں اسلام کے دشمن اور اسلام کے نام نہاد دوست ایک ہو جائیں؟ یقیناً مولانا بیگانوں کے تیر سہہ سکتے تھے، دشمنوں کے وار برداشت کر سکتے تھے، مگر ذرا اس قلب کی حالت پر غور کرو، جس پر زخم لگانے والوں میں غیروں کے ساتھ اپنے بھی پیش پیش تھے۔
اس میں سے پہلا کام جس کا تعلق علم و فکر سے ہے، تین شرائط کی تکمیل چاہتا ہے:
۱۔ دین کا معتبر اور مستند علم اور اس کی روح اور جسم، یعنی ظاہر و باطن کی ایسی تفہیم جس کی بنیاد بصیرت پر ہو۔ صاحبِ پیغام اصول و فروع کو جانتا ہو، ان کے موقع و محل سے واقف ہو۔ عقل، وجدان اور استدلال کے تقاضوں کو پورا کر سکتا ہو۔
۲۔ عہد حاضر کا علم، یعنی اسے علم ہو کہ عہد حاضر کا علمی و عملی چیلنج کیا ہے اور وہ کون سے افکار و مسائل ہیں جو انسانوں کو اجتماعی اور انفرادی اعتبار سے متاثر کر رہے ہیں؟ پھر اسے یہ معلوم ہو کہ ان تقاضوں کی روشنی میں اسلام کے اصول کس طرح بروئے کار آ سکتے ہیں اور حکمت و تدبیر کے اعتبار سے انھیں بروئے کار لانے کا طریقہ کیا ہے؟
۳۔ ترسیلِ علم کی صلاحیت، یعنی صاحبِ پیغام اپنے علم اور فکر کو تحریر و تقریر کے ذریعے مؤثر انداز میں دوسروں تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
اسی طرح دوسرا کام جس کا تعلق عمل و کردار سے ہے، اس کی بھی تین شرائط ہیں:
(۱)ایمان کامل: صاحبِ پیغام کو یقین ہو کہ وہ جو کچھ پیش کر رہا ہے وہ حق ہے اور حق کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ (۲) ملت صالح: صاحبِ پیغام کا مقصد غلبۂ حق ہو اور غلبۂ حق کے سوا کوئی ذاتی، جماعتی، گروہی، نسلی، وطنی، قومی مقصد اس کے پیش نظر نہ ہو۔ (۳) عمل صالح: صاحبِ پیغام جو کچھ کہتا ہو اس کا ہر عمل اس کے علم و فکر کی تصدیق کرتا ہو۔
تیسرا کام جس کا تعلق تربیت و تنظیم سے ہے، اس کی بھی تین شرائط ہیں:
(۱) اتفاق و اتحاد: صاحبِ پیغام جو جماعت تیار کرے وہ اس کے پیغام پر مکمل طور پر متفق و متحد ہو۔ (۲) نظام مراتب: جماعت کے افراد کو ان کے ایمان، صلاحیت اور کردار کے اعتبار سے اس طرح منظم کیا جائے کہ ان میں ان کا مقام اور اہلیت کی مکمل درجہ بندی ہو جائے اور درجوں کے خلط ملط سے انتشار اور فساد نہ پیدا ہو۔ (۳) نظام کار: جماعت کے افراد میں ان کی درجہ بندی کے اعتبار سے ہر درجہ کے لوگوں کو واضح طور پر معلوم ہو کہ ان کا دائرۂ کار کیا ہے، اور اس دائرہ کے مطابق ان کے فرائض اور پروگرام کی تشکیل لفظوں میں ہو۔
یہ تمام شرائط پانچ موضوعات کے تحت آ جاتی ہیں:
(۱) علم و فکر (۲) کردار و عمل (۳)تحریر و تقریر (۴) تربیت و تنظیم (۵) سیاسی اثر و نفوذ۔
اب ذرا ان موضوعات کے اعتبار سے غور کرو کہ برصغیر کی گذشتہ ڈھائی سو سالہ تاریخ میں مولانا مودودی کے سوا وہ کون فردِ واحد ہے، جس میں یہ پانچوں خصوصیات موجود ہوں اور کس کا نام ہے جسے تم مطلوبہ معیار اور مقدار کے مطابق پاتے ہو؟