شیخ احمد یاسین


شیخ احمد یاسین سے ایک انٹرویو

ترجمہ:  حافظ محمد عبداللہ

حماس کی جدوجہد کو ۱۵ برس ہو چکے ہیں۔ حماس کے اس سفر کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

یہ ہم سب پر بلکہ پوری دنیا پر اللہ کا فضل ہے کہ حماس کی جڑیں ملّت اسلامیہ فلسطین‘ عالم عرب بلکہ عالم اسلام تک پھیل چکی ہیں اور اب یہ ایک ایسی قوت بن چکی ہے جسے نظرانداز کرنا کسی کے بس میں نہیں۔ کئی ممالک کے ساتھ حماس کے مستقل روابط ہیں۔ عالم اسلام اور عرب‘ دنیا میں ہر جگہ سے انھیں تعاون حاصل ہو رہا ہے۔ ان شاء اللہ اب یہ تحریک بہتر سے بہترین کی جانب گامزن رہے گی۔

کئی لوگ تحریک انتفاضہ کے عسکری پہلو کے خاتمے کی بات کرتے ہیں- اس حوالے سے آپ کی کیا رائے ہے؟

یہ لوگ ہم سے شکست تسلیم کرلینے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہم صلح کا سفید پرچم لہرا دیں۔ آپ جانتے ہیں کہ ہتھیار ڈال دینے والے شکست خوردہ سپاہی کو شکست کی قیمت ضرور چکانا پڑتی ہے اور اگر ان کی بات مان لی جائے تو قضیے کے اختتام پر ہماری بھی یہی حالت ہوگی۔ ہم سے مذاکرات کی میز پر دب کر ‘ شرم ناک صلح کرلینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ ایسی صلح سے قوم کے سارے حقوق ضائع ہو جائیں گے۔ جان لینا چاہیے کہ جہاد و مزاحمت ہی کے سبب‘ قوم نے اپنا وجود اور اپنے دفاع کا حق حاصل کیا ہے۔ ماضی میں دشمن ہمارے وجود ہی سے انکاری تھا۔ پہلے بھی انتفاضہ ہی کے نتیجے میں اسے ہمارا وجود تسلیم کرنا پڑا۔ اب بھی یہ موجودہ تحریک ہی کا ثمرہ ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کی بات بھی ہونے لگی ہے۔ یہاں تک کہ لیکوڈ پارٹی بھی جو فلسطینیوں کے وجود کی سرے سے ہی انکاری تھی‘ اب فلسطینی مملکت کے قیام کی بات تو کرنے لگی ہے (اگرچہ بغیر کسی سرحد کے)۔ جہاد و مزاحمت کی انھی کارروائیوں کے سبب ہم آگے بڑھ رہے ہیں اور دشمن پسپائی پر مجبور ہے۔ دشمن چاہتا ہے کہ ہم اسے کچھ مہلت دیں تاکہ وہ قوم کا حوصلہ پست کرسکے۔ قوم نے نام نہاد امن کے اِن جھوٹے نعروں کو مسترد کر دیا ہے۔ قوم کے تمام طبقات میں مزاحمت جاری رکھنے پر مکمل اتفاق ہے۔ اس مزاحمت نے دشمن میں مایوسی اور نااُمیدی کو جنم دیا ہے اور اب وہ اپنی پالیسی پر ازخود نظرثانی کر رہا ہے۔

آپ نے بعض ایسے وسائل حرب کیوں اختیار کر رکھے ہیں جن کا نقصان دہ اور بے فائدہ ہونا سب کے سامنے ہے‘ جیسے فدائی کارروائیاں‘ مارٹر بموں اور القسام میزائلوں کا استعمال وغیرہ؟

ہمارے سامنے دو ہی راستے ہیں: مزاحمت یا شکست تسلیم کرلینا۔ یہ بات سب کے علم میں ہے کہ مزاحمت کی کوئی متعین شکل نہیں ہوتی۔ دشمن ہم پر حملہ آور ہے اور ہمیں قتل کیے دے رہا ہے۔ کیا اس نے بھی کبھی ہم سے پوچھا ہے کہ جناب ہم آپ کے خلاف کون سا ہتھیار استعمال کریں اور کون سا نہیں؟ بلکہ اس نے تو جنگ کے تمام دروازے ہمارے خلاف کھول رکھے ہیں۔ وہ ہمارے خلاف جنگی طیارے‘ ٹینک‘ میزائل اور کیا کچھ نہیں جو استعمال کر رہا ہے۔ پھر ہمیں سے کیوں مطالبہ ہے کہ ہم لڑائی میں کسی ایک معین طریقے پر کاربند رہیں؟ ہمیں اختیار حاصل ہے کہ ہم اپنے وسائل اور صلاحیتوں کے مطابق لڑائی کا نقشہ خود ترتیب دیں۔ دشمن ہمارے کمزور حصوں پر ضرب لگا رہا ہے‘ ہم بھی اس کے کمزورپہلوئوں کو نشانہ بنائیں گے۔ ہمیں قتل اور خوف کی اذیت میں مبتلا کر کے وہ خود تل ابیب‘ حیفا‘ لدّ اور رملہ میں کیسے محفوظ زندگی گزار سکتا ہے؟ ہمارے لیے امن و سکون نہیں ہے تو اس کے لیے بھی کوئی جاے پناہ نہیںہوسکتی۔

کیا خطے میں اور عالمی سطح پر وقوع پذیر ہونے والی تبدیلیوں پر بھی حماس کی نظر ہے؟ اور کیا ان کے بارے میں عصری تقاضوں کے مطابق حماس کی اپنی کوئی رائے اور پالیسی بھی ہے؟

اگر ہم مملکت اسرائیل کو تسلیم کرلیں‘ یہودی نوآبادیوں کو جائز مان کر ۱۹۶۷ء کی سرحدوں کو مستقل تسلیم کر لیں تو اسے ہماری سیاسی بصیرت کہا جائے‘اور اپنے مکمل حق کے حصول پر اصرار کو ہماری سیاسی بے بصیرتی سے تعبیر کیا جائے‘ تو اس سے زیادہ غیر متوازن اور نامنصفانہ بات اور کیا ہو سکتی ہے؟ حماس کا اپنا سیاسی اور فوجی نقطۂ نظر ہے جو دنیا کے مسلّمہ اصولوں پر مبنی ہے۔ ہماری فکر‘ دین اسلام کی روشنی سے منور ہے۔ دشمن ہماری سرزمین پر قابض ہے اور ہم اس کی آزادی چاہتے ہیں۔ ہم یہاں سے یہود اور غیر یہود کا اخراج نہیں چاہتے بلکہ ہم اپنی سرزمین پر مملکت اسلامیہ کا قیام چاہتے ہیں۔ ایسی مملکت جہاں مسلمان اور یہود و نصاریٰ سب لوگ اسلام کے جھنڈے تلے زندگی گزاریں جیسا کہ وہ پہلے بھی اسلامی جھنڈے تلے اپنی زندگیاں گزارتے آئے ہیں۔ ہماری سیاسی بصیرت اور ہمارے موقف کے بارے میں جو بھی کوئی حکم لگانا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ پہلے حماس کو اچھی طرح سمجھے۔

اب آپ حکمت عملی اور تدبیر کے لحاظ سے کس مرحلے میں ہیں؟

ہر انسان اپنی روز مرہ کی زندگی میں حکمت عملی سے کام لیتا ہے۔ ہماری حکمت عملی یہ ہے کہ ارضِ مقدس کی آزادی کے لیے تحریکِ مزاحمت کو ہر حال اور ہر انداز سے جاری رکھا جائے۔ کچھ عرصہ قبل ہم نے یک طرفہ طور پر فدائی کارروائیوں کو روکنے کا جو اعلان کیا تھا وہ ہماری جنگی تدبیر کا حصہ تھا۔ یہ تدبیر اگرچہ ہماری بنیادی حکمت عملی کے خلاف تھی‘ تاہم ضرورت اور حالات کے مطابق ایک وقت میں کبھی کارروائی روکی جاتی ہے تو دوسرے وقت میں اسے جاری رکھا جاتا ہے لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ سیاسی حکمت عملی کی خاطر اپنے اصل راستے کو ہمیشہ کے لیے چھوڑدیا جائے۔

کہا جاتا ہے کہ آپ کی پالیسی کا مقصد فلسطین میں حکومت یا اقتدار کا حصول ہے؟

اس وقت یہ باتیں بے فائدہ اور لاحاصل ہیں۔ ہم نے ہر جگہ اور ہرمحفل میں اپنا یہ موقف دہرایا ہے کہ ہم موجودہ انتظامیہ کا بدل نہیں ہیں۔ ہماری قوم‘ سرزمین اور فلسطینی انتظامیہ کوئی بھی آزاد نہیں ہے۔ غلامی میں اقتدار ہمارے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا اور نہ ہم نے کبھی ایسے اقتدار کی خواہش ہی کی ہے۔ قابض قوتیں تو فلسطینی انتظامیہ اس لیے بنانا چاہتی ہیں کہ وہ ان کے ساتھ مل کر اپنی ہی قوم اور تحریکِ مزاحمت کا قلع قمع کرے اور ان کے دیے ہوئے امن منصوبے کی حمایت کرے۔ البتہ آزادی حاصل کر لینے کے بعد قوم کی مرضی اور بیلٹ بکس کے راستے سے اس پر بھی بات ہو سکتی ہے‘ تاہم فی الحال ہم جہاد و شہادت اور آزادی کے لیے جدوجہد کے مرحلے میں ہیں۔

اختلافات کے اسباب میں سے ایک وال چاکنگ اور مساجد کے باہر سائن بورڈ لگانا بھی ہے- آپ ان اسباب کا خاتمہ کیوں نہیں کر دیتے؟

انتفاضہ نام ہے جدوجہد اور اس کے اعلان کا۔ وال چاکنگ ان سرگرمیوں کو اُجاگر کرنے کا ذریعہ ہے۔ اصل چیز ان ذرائع کا استعمال ترک کرنا نہیں بلکہ مسئلے کی جڑ اور مشکل کا حل تلاش کرنا ہے۔ ہم سب سے بڑھ کر قومی وحدت اور تحریک کے تسلسل کے متمنی ہیں۔ ہم اپنے عوام اور شہدا کے خون کی حفاظت چاہتے ہیں۔ دوسروں کو چاہیے کہ مشکلات کھڑی کرنا چھوڑ دیں اور معاملات کو احسن انداز میں آگے بڑھنے دیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ تحریک کی راہ میں مشکلات کھڑی کی جا رہی ہیں۔ اصل مسئلہ ذرائع ابلاغ کا استعمال نہیں‘ آئے دن کی نئی سے نئی مشکلات ہیں۔ لیکن ہماری بھی یہ سوچی سمجھی پالیسی ہے کہ مواقع کی تلاش میں رہنے والوں کو ہرگز کوئی موقع فراہم نہیں کریں گے۔ حالات خواہ کیسے ہی کیوں نہ ہوں‘ کش مکش اور جھگڑے میں نہیں پڑیں گے۔ اگر کوئی فرد ایسا کام کرتا بھی ہے تو یہ اس کا انفرادی اور ذاتی فعل ہے۔ یہ حماس کا اجتماعی فیصلہ اور طریقہ ء کار نہیں۔

فلسطینی وزیر خوراک ابو علی شاہین نے حال ہی میں بیان دیا ہے کہ حماس نے قاہرہ میں امریکی انتظامیہ سے مذاکرات کیے ہیں اور الفتح سے مذاکرات صرف ایک پردہ اور آڑ تھی- کیا یہ صحیح ہے؟

ہم جب امریکہ سے مذاکرات کرنا چاہیں گے تو کسی سے ڈریں گے نہیں۔ ہم ایک ایسے دشمن سے نبردآزما ہیں جس نے ہماری سرزمین پر قبضہ کر رکھا ہے۔ ہم ایک کو ہٹا کر کسی دوسرے کو اپنے اُوپر مسلط نہیں کرنا چاہتے۔ ہم نے مصری سرپرستی میں الفتح سے قاہرہ میں مذاکرات کیے ہیں۔ اگر الفتح خود کو امریکہ سے مذاکرات کے لیے آڑ بنانا چاہتی ہے تو یہ اس کی اپنی سوچ ہے۔ اس حوالے سے ہمارا موقف سب پر واضح ہے۔ ہم اپنے کسی اقدام سے شرمندہ نہیں ہیں۔ ہم مغلوب اور شکست خوردہ نہیں ہیں۔ ہم اپنا حق کبھی نہیں چھوڑیں گے جو فرد بھی یہ الزام لگا رہا ہے اسے اچھی طرح یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ امریکہ کے مقابل ہم ہیں‘ اس سے کوئی بات ہوگی تو برابری کی سطح پر ہوگی نہ کہ اس کے ایجنٹ ‘ خادم اور تابع مہمل بن کر۔

ہم نے الفتح سے مذاکرات اس لیے کیے ہیں کہ ہم دشمن کے مقابلے میں قومی وحدت و مفاہمت چاہتے ہیں۔ دنیا بھر میں جو کوئی بھی چاہے‘ ہم بغیر کسی ڈر اور خوف کے اس سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ ہم صہیونی دشمن کے علاوہ کسی کے ساتھ مذاکرات سے انکاری نہیں ہیں اس لیے کہ ہم اپنے موقف کی سچائی اور مبنی برحق ہونے کا پختہ یقین رکھتے ہیں۔

اسرائیلی قیادت کا گمان ہے کہ آنے والا سال انتفاضہ کے خاتمے کا سال ہوگا۔ آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟

میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ نہ اسرائیل اور نہ امریکہ ہی بلکہ پوری دنیا بھی اس تحریک کو ختم نہیں کر سکتی۔ دشمن کبھی اتنا قوی نہیں ہو سکتا‘ بشرطیکہ ہماری اپنی قوم کا ایک قلیل حصہ دشمن سے تعاون پر آمادہ نہ ہو جائے۔ دشمن خود بھی اعتراف کر چکا ہے اور اس نے بارہا اقرار کیا ہے کہ فلسطینی انتظامیہ کی مدد کے بغیر انتفاضہ کا خاتمہ ممکن نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا فلسطینی انتظامیہ بھی دشمن سے تعاون پر آمادہ ہے؟ اگر ہاں‘ تو یہ تعاون کس چیز کے عوض کیا جا رہا ہے؟ ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ اوسلو معاہدے کے چھ سالہ وعدے کہاں گئے؟ اور کیا شارون ایک ہی وقت میں جنگ اور امن کا بھی چیمپئن بننا چاہتا ہے اور دشمن کے لیے امن وسلامتی کا مظہر بھی؟

        اس دنیا میں جس نے بھی آزادی‘ عزت اور عظمت چاہی ہے اسے اس کی قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔ ہم روے ارض کی قوی ترین قوم ہیں جس نے ثابت کیا ہے کہ وہ ہر قسم کی قربانی دینے کی استطاعت رکھتی ہے۔ اسرائیلی قبضہ زیادہ سے زیادہ دو یا تین عشروں میں ختم ہو جائے گا۔ خود انھوں نے اس کا اعتراف کرنا شروع کر دیا ہے اور اس کے آثار ابھی سے واضح بھی ہونے لگے ہیں۔ ہمارا کام ثابت قدمی کے ساتھ ڈٹے رہنا ہے۔