ڈاکٹر مالک بدری


۱۹۵۳ء میں‘ میں نے امریکن یونی ورسٹی‘ بیروت میں داخلہ لیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب یہ یونی ورسٹی ابھی تک صلیبی دور کے اسلام مخالف جذبات سے بری طرح متاثر تھی‘ بس یوں سمجھیے کہ یہ ایک مسیحی مشنری ادارہ تھا۔ طلبہ میں سے بیش تر مسلمان تھے‘ مگر یہ سب ہفتے میں تین روز یونی ورسٹی چرچ میں ہونے والی مذہبی گفتگوئوں میں شریک ہونے پر مجبور تھے۔ ان گفتگوئوں کا ایک درپردہ ہدف یہ ہوتا تھا کہ طلبہ کے ذہنوں میں مغربی جدیدیت (modernism) کے تصورات راسخ کیے جائیں۔ جو طلبہ ایسے پروگراموں میں شرکت سے معذرت یا انکار کرتے تھے‘ انھیں بعض مذہبی موضوعات پر لائبریری ریسرچ کے ایک زیادہ مشکل کام پر لگا دیا جاتا تھا۔ طلبہ پر پڑھائی کا پہلے ہی اتنا بوجھ ہوتا تھا کہ عموماً کوئی بھی اس نوعیت کے مشقت طلب کام کے لیے تیار نہیں ہوتا تھا۔ نتیجہ ظاہر ہے کہ متبادل راستہ یونی ورسٹی چرچ ہوتا۔

ہر لیکچر یا خطبے کے اختتام پر مقرر‘ تمام طلبہ کو کھڑے ہو کر عیسائی مذہبی گیت گانے کے لیے کہتا۔ مسیحی اور مغربی طلبہ‘ قدیم گرجا خانے (Chapel) کے آلاتِ موسیقی کی بلند لَے پر دل لبھاتے اجتماعی گانے (chorus) گاتے۔ مسلمان طلبہ خاموش کھڑے رہتے یا مجمعے کا ساتھ دینے کی اداکاری کرتے۔ اس وقت میری عمر ۲۱ سال تھی اور میری پرورش ۵۰ کے عشرے کے برطانوی مقبوضہ سوڈان میں ایک  نہایت مغرب زدہ خاندان میں ہوئی تھی۔ اس کے باوجود بطور مسلمان‘ مجھے یہ ساری کارروائی نہایت توہین آمیز معلوم ہوتی تھی۔

تمام طلبہ کے لیے اپنے پہلے اور دوسرے تعلیمی سالوں میں‘ اصل مضمون سے قطع نظر نصاب میں شامل دو کورس مکمل کرنا لازمی تھے۔ پہلے سال میں لازمی کورس کا عنوان ’’اسلامی فلسفہ‘‘ تھا۔ یہ کورس‘ جسے زیادہ تر مسیحی اساتذہ پڑھاتے‘ الفارابی‘ ابنِ سینا‘ اور اخوان الصفا جیسے ان ابتدائی مسلم فلسفیوں کے کام کی بنیاد پر تیار کیا گیا تھا‘ جو یونانی فلسفیوں کی بے راہ فکریات سے واضح طور پر متاثر تھے۔ طویل مبہم بحثیں فلسفیوں کے ان دلائل پر کی جاتیں‘ کہ آیا خدا انسانی زندگی کی خصوصیات سے واقف ہے یا نہیں؟ کیا انسان کے پاس انتخاب کی آزادی ہے یا خدا نے سب کچھ پہلے سے مقدر کر رکھا ہے؟ اور اگر سب کچھ خدا نے پہلے ہی تقدیر میں لکھ رکھا ہے تو اس طرح انصاف کا تقاضا کیوں کر پورا ہو سکتا ہے؟ کیا حیات بعد موت جسم اور روح دونوں کے لیے ہے‘ اور اس کی نوعیت صرف روحانی ہے یا بعدموت اجتماعی حیات کی کوئی حقیقت نہیں ہے؟ اور کیا انسان کی موت ہی بعد از زندگی اس کا آخری ٹھکانہ ہے؟ چاند تیسرے آسمان پر واقع ہے یا چھٹے آسمان پر؟ اور کیا پیغمبر کو ایک بہتر انسان سمجھنا چاہیے یا فلسفی کو؟

روایتی ثانوی اسکولوں سے آئے ہوئے مسلمان طلبہ کے لیے‘ جن میں سے اکثر کا تعلق عرب ممالک کے دیہات سے تھا‘ یہ تمام مسائل بہت پیچیدگی اور پراگندگی کا مظہر تھے‘ جنھیں نام نہاد مسلمان فلسفیوں کی قدیم کتابوں سے نہایت مہارت سے اخذ کیا گیا تھا‘ اور انھیں ابتدائی علما کے تطہیرشدہ (refined) اسلامی مذہب کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ اس کورس میں بڑی ہوشیاری سے منتخب کردہ چند ایسے تاریخی واقعات کو بھی شامل کیا گیا تھا‘ جن سے سُنیوں اور شیعوں کے درمیان اختلاف نمایاں ہو جائیں! مثلاً حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کے درمیان لڑی جانے والی جنگیں اور جنگ جمل میں حضرت سیدہ عائشہؓ کا کردار۔

دوسرا کورس عمومی تعلیم (جنرل ایجوکیشن) پرمشتمل تھا۔ ۱۲ کریڈٹ گھنٹوں کا یہ ایک طویل کورس تھا‘ جس میں طلبہ زمین پر پہلے انسان کی پیدایش سے لے کر جدید مغربی انسان تک انسانی داعیات کا مطالعہ کرتے تھے۔ قدیم اور جدید انسانی تاریخ‘ ارتقا‘ آرٹ‘ فن تعمیر‘ فلسفہ‘ مذاہب اور دیگر سماجی علوم کو مہارت کے ساتھ اس کورس کا حصہ بنایا گیا تھا۔ اس کورس کو پڑھانے کے لیے یونی ورسٹی اساتذہ کے ساتھ ساتھ مہمان اسکالرز کو بھی دعوت دی جاتی تھی۔ یہ اساتذہ اسلامی فلسفے پر پہلے کورس کی وجہ سے ابہام کے شکار طلبہ کو اس یقین و اعتماد کی طرف راغب کرتے تھے کہ: مغربی جدیدیت ہی درحقیقت تہذیب انسانی کا نقطۂ عروج ہے۔ ۵۰ کے عشرے میں مغربی نوآبادیاتی نظام کے زیر اثر ممالک کی نئی نسلوں کو قائل کرنے کے لیے اتنا کچھ کافی تھا۔ ابتلا و آزمایش کے ایسے تجربات سے طلبہ کو دوچار ہونا پڑتا تھا۔

  • سید مودودیؒ کا مجھ پر احسان عظیم: چنانچہ میں نے اپنے محدود پس منظر کے باوجود مستند اسلامی ماخذ کی طرف رجوع کیا اور اپنے ایام جوانی میں پہلی بار قرآن مجید کا مکمل مطالعہ کیا۔ اس مطالعے سے میں اس قابل ہوا کہ اپنے اساتذہ کی بے بنیاد تنقید پر کسی سمجھوتے کے بغیر ردِعمل ظاہر کرسکوں‘ اگرچہ ان گھاگ عیسائی مشنریوں کے مقابلے میں میرے سوالات سے میری سادگی کا اظہار ہوتا تھا۔ اسی ذہنی کیفیت کے ساتھ میں جلد ہی تحریک اخوان المسلمون کے چھوٹے سے گروہ میں شامل ہو گیا۔ اس گروہ میں مختلف ممالک سے آئے ہوئے ایسے طلبہ شامل تھے‘ جو میری ہی طرح کی بے چارگی اور مشکلات سے دوچار تھے۔ ان افراد میں اردن کی زرقا یونی ورسٹی کے موجودہ صدر پروفیسر اسحاق فرحان‘ اریٹیریا کے ڈاکٹر یاسین ابیرا (Aberra) مرحوم‘ شام کے ڈاکٹر نبیل  مہائنی (Mahayni) اور ڈاکٹر محمد قوجا (Qoja) اور سوڈان کے ڈاکٹر علی شبائیکا‘ نمایاں تھے۔ اخوان کا لٹریچر تاثیر اور روح سے پُر تھا۔ ان میں سے ایک بہت موثر پروفیسر محمدقطب کی لازوال کتاب شبہات حول الاسلام] اُردو ترجمہ‘ محمد سلیم کیانی :اسلام اور جدید ذہن کے شبہات[ تھی۔      یہ کتاب پانچویں‘ چھٹے اور ساتویں عشرے کی نئی نسل کے لیے نہایت موزوں تھی۔ کتاب میں پروفیسر محمد قطب کی رواں عربی زبان کا مسحورکن انداز‘ جذباتی اِدّعا اور مغربی جدیدیت پر بے لاگ تنقید بے حد متاثر کرنے والی اور لاجواب تھی۔

درحقیقت اس وقت اخوان کے بیش تر لٹریچر اور خطبات میں یہی اثر انگیزی اور شخصیت کا جذباتی پہلو نمایاں نظر آتا ہے۔ غالباً اس بلند آہنگی اور جوش و جذبے کا ایک سبب عرب اور مصری قومی کردار میں جوشیلے پن‘ جذباتیت اور ردعمل کی فراوانی بھی ہے۔ ان میں ایک منطقی ذہن کے بجاے جذبے سے معمور دل کے لیے زیادہ کشش تھی۔ چنانچہ میں ’اسرہ‘]اخوان المسلمون کا ایک تنظیمی و تربیتی حلقہ[ کے پروگراموں کے دوران‘ کتابچوں اور کتابوں پر مباحث اور ]یونی ورسٹی کا[ دورہ کرنے والے ممتاز اسلامی دانش وروں‘ مثلاً ڈاکٹر سعید رمضان اور ڈاکٹر مصطفی السبّاعی کی جوشیلی تقریر سے زیادہ متاثر ہوتا تھا۔ کیمپوں اور طلبہ سے بھرے ہوئے آڈیٹوریم میں پڑھی جانے والی نظمیں بھی بہت خوش گوار اور پُرتاثیر ہوتی تھیں۔

اب یہ انتہائی جذباتی فضا تو ہمارے لیے موجود تھی‘ لیکن بہرحال اس توازن کا فقدان تھا‘ جو ایمان اور اسلام کے حقیقی معنی اور عملی اور اطلاقی لحاظ سے ہماری ذاتی زندگیوں میںاس متبرک علم کی اہمیت سمجھنے سے حاصل ہو سکتا ہے۔ میں ایمان کے عملی پہلوئوں کے بارے میں الجھن کا شکارتھا‘ یا   کم از کم میرا فہم ناقص تھا اور نہ اسلام کے حقیقی معنی ہی سمجھ میں آئے کہ اسلام میں اطاعتِ خداوندی سے اصل مراد کیا ہے؟ محض احساسات کی شدت اور مغربی تہذیب پر جا و بے جا تنقید کے ذریعے اس روحانی و ذہنی اور مخمصے اور خلجان سے نجات نہیں مل سکتی تھی‘ جو پڑھائی کے دوران الجھا دینے والے مضامین (courses) اور یونی ورسٹی کیمپس میں امریکی طرز زندگی نے ہم میں پیدا کر دیا تھا۔ یہی وہ شدید ضرورت تھی جسے پورا کرنے میں‘ میں اپنے آپ کو سید مودودی مرحوم و مغفور کا انتہائی احسان مند محسوس کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو اور ان کی روح کو ابدی سکون سے ہمکنار کرے۔ (آمین)

عصر حاضر کے اس عظیم مجدد اور محسن سے میرا پہلا تعارف ان کی یادگار کتاب دینیات [Towards Understanding Islam] کے ذریعے ہوا۔ کتاب کے مترجم‘ پروفیسر خورشید احمد نے اپنے دیباچے میں لکھا ہے: ’’یہ کتاب اسلام کا ایک ابتدائی مطالعہ ہے اور نوجوانوں کے لیے  دین اسلام کی ایک سادہ اور قابل ِ فہم تشریح ہے‘‘۔ اگرچہ یہ کتاب ۱۹۴۰ء سے پہلے طبع ہوئی تھی‘ لیکن یہ ابھی تک سب سے زیادہ فروخت ہونے والی اسلامی کتابوں میں سرفہرست ہے۔ اگرچہ یہ نوجوانوں کے لیے لکھی گئی تھی‘ تاہم یہ تمام عمر کے افراد کو برابر متاثر کرتی چلی آ رہی ہے۔

دینیات کے ابتدائی چند صفحات کے مطالعے سے ہی میرا فہمِ اسلام تبدیل ہونے لگا۔ خدا کے عظیم منصوبۂ کائنات میں ہر شے کی اپنی مخصوص جگہ تھی‘ جیسا کہ کتاب نے بتایا۔ سورج‘ چاند‘ ستارے‘ متعین محور پر زمین کا گھومنا‘ انسانی بدن کے چھوٹے سے چھوٹے ذرے (cell) سے لے کر دل اور دماغ تک تمام اعضا‘ خدا کے مقرر کردہ قانون کے تحت ہی اپنے اپنے افعال انجام دیتے ہیں۔

کتاب میں نبوت‘ اسلامی عبادات اور قانون پر نہایت مدلل اور منطقی انداز میں بات کی گئی ہے۔ انسان کے رضاکارانہ ارادے (freewill) کے موضوع پر سید مودودیؒ نے میرے اس تمام ذہنی اور روحانی خلجان کو دُور کر دیا‘ جس کا شکار میں امریکی یونی ورسٹی کے نام نہاداسلامی فلسفے پر کورس پڑھنے کے دوران ہو چکاتھا۔ آپ فرماتے ہیں کہ اگرچہ ہر انسان مسلمان ہی پیدا ہوتا ہے اور جہاں تک   اللہ تعالیٰ کے تکوینی احکامات کی اطاعت کا تعلق ہے وہ مسلمان ہی رہتا ہے‘ تاہم دوسرے جان داروں کے برخلاف اسے ’ارادے‘ کی یہ آزادی بخشی گئی ہے کہ وہ اپنی زندگی گزارنے کے انداز اور اعتقادات کا انتخاب خود کرے۔ دوسرے پہلو سے سید مودودیؒ نے خوب صورتی سے یہ بتایا ہے کہ انسان:

--- اپنے ذہن سے سوچنے کی‘ منتخب یا مسترد کرنے کی اور اختیار کرنے یا چھوڑ دینے کی طاقت رکھتا ہے۔ وہ اپنے لیے زندگی کا کوئی بھی راستہ منتخب کر نے میں آزاد ہے۔ وہ کوئی بھی عقیدہ رکھ سکتا ہے --- اسے آزاد ارادے سے نوازا گیا ہے اور وہ اپنے رویے اور کردار کا تعین خود کر سکتا ہے۔ (دینیات‘ ص ۴)

ممکن ہے یہ بیانات ایسی مسلّمہ صداقتوں (axioms) کی طرح نظر آئیں‘ جو جذبات سے عاری ہیں‘ لیکن یہی وہ زندہ حقیقتیں تھیں جنھوں نے میرے پورے تصور جہاں (world view) کو تبدیل کرکے رکھ دیا۔ مجھے اب محسوس ہوتا ہے کہ اوائل عمری میں اس کتاب کے مجھ پر اثرات حقیقتاً میرے لیے تبدیلی مذہب کے مترادف تھے۔ گذشتہ برسوں میں‘ میں نے مختلف قومیتوں کے بہت سے لوگوں کو اسی سے ملتے جلتے جذبات کا اظہار کرتے دیکھا ہے‘ جنھوں نے اس مبارک کتاب کا مطالعہ کیا۔

سید مودودیؒ کی دیگر کتب کا مطالعہ کرنے کے بعد میں اس قابل ہو سکا کہ بیروت کی امریکن یونی ورسٹی میں اپنے دور طالب علمی میں اسلام کے خلاف کہی گئی ہر بات اور ہر اقدام کے خلاف‘ ایمان و اعتماد کے ساتھ کھڑا ہو سکوں۔ خدا کی غالب فطرت کا جو نیا کائناتی ادراک مجھے حاصل ہوا‘ اس نے میرے اندر ابہام کے پہاڑوں کو سنگ ریزوں میں تبدیل کر دیا۔ پاکستان میں ان کی تحریک اسلامی کے لٹریچر کے کچھ مطالعے کے بعد مجھ پر اس کم عمری میں بھی واضح ہو گیا کہ اخوان المسلمون کے نئے ارکان کی حیثیت سے ہماری تربیت اور تعلیم‘ علمی اور عملی اسلامی رویے کی تشکیل کے حوالے سے لٹریچر میں کمی تھی‘ جسے سید مودودیؒ نے بہتر انداز سے پورا کیا۔

  • چودھری غلام محمد سے ملاقات:  ۵۰ کے عشرے کی اخوان تحریک میں اپنے تربیت کے طریقوں میں حسی و جذباتی پہلو پر زیادہ زور دیا جاتا تھا اور محسوس ہوتا تھا کہ تحریک نے کرداری اور عملی پہلوئوں کو نظرانداز کردیا تھا۔ دوسری طرف سید مودودیؒ نے اپنی تحریک کے ارکان کی تربیت میں اسلامی علم اور عملی کردار پر اس کے علم کے براہ راست اثرات پر زیادہ انحصار کیاتھا۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ۱۹۵۶ء میںکسی وقت‘ ہمیں اخوان کے ایک رکن کے گھر میں جماعت اسلامی کے ایک پاکستانی بھائی کی گفتگو سننے کے لیے اکٹھا ہونے کو کہا گیا تھا۔ مقرر کوئی اور نہیں بلکہ جماعت اسلامی کراچی کے معروف امیر برادر استاذ چودھری غلام محمد تھے‘ جو بعد کے زمانے میں میرے بہت قریبی اور عزیز دوستوں میں شامل ہوئے۔ اللہ ان کی روح پر اپنی رحمتیں نازل کرے۔ میں ان سے دوبارہ ۱۰ برس بعد ملا‘ جب انھوں نے عمان (اردن) کا دورہ کیا۔ میں اس وقت اردن کی یونی ورسٹی میں شعبہ نفسیات میں ایسوسی ایٹ پروفیسر تھا۔ معروف اسلامی ماہر معاشیات برادر ڈاکٹر محمد سکر (Sakr) اور میری ان سے طویل اور بڑی دل چسپ گفتگوئیں ہوئیں۔

وہ اسلامی احیا کی جدید تحریک کے مخلص اور کھلے ذہن کے مالک قائدین میں سے ایک تھے۔ ۱۹۵۶ء میں بیروت میں انھوں نے جو گفتگو کی تھی‘ وہ ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی تھی۔ ہم اس وقت امریکن یونی ورسٹی میں اخوان المسلمون کے مختصر مگر پر لگن گروہ کی صورت میں متحرک تھے۔ میں ان کی تقریر سے اور اس معتدل اور متحمل انداز سے تدریجاً بہت متاثر ہوا کہ جس طرح وہ پاکستان میں اپنی جماعت کے مکمل رکن بننے کے خواہش مند افراد کے کردار کے بارے میں پہلے چھان بین کرتے تھے۔ ایسے خواہش مندوں کو پہلے یہ بتایا جاتا تھا کہ: ’’انھیں مکمل رکن بنانے سے قبل ان کے طرزِ زندگی کا تفصیلاً جائزہ لیا جائے گا۔ وہ دیکھتے تھے کہ ایسے شخص کا اپنے والدین اور اپنی بیوی کے ساتھ سلوک کیسا ہے؟ کیا وہ اپنے کام (پیشہ ورانہ ذمہ داریوں) اور مالی معاملات میں دیانت دار ہے؟ وہ اپنے بچوں کی تربیت کیسے کر رہا ہے؟ ایسے ہی دیگر معاملات جن سے بطور مخلص اور ثابت قدم مسلمان اس کی ایک درست تصویر بن سکے اور وہ ایسے بے لوث رکن کے طور پر سامنے آ سکے جو     اپنی غیرذمہ داری‘ کاہلی اور غیر معقول عادتوں کی بنا پر اسلامی تحریک کو مایوس نہیں کرے گا۔ اس    جانچ پڑتال میں بعض اوقات کئی سال لگ جاتے ہیں‘‘۔

دوسری طرف میں اس ابتدائی دور میں بھی اخوان کے ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو اپنی بعض کرداری کمزوریوں کے باوجود محض اپنی اس خوبی کی بنا پر اخوان کے نوجوانوں کی قیادت تک میں پہنچ گئے تھے کہ وہ جذباتی اور دھواں دار تقریروں سے مجمع میں جوش و ولولہ پیدا کر سکتے تھے۔ ان میں سے کچھ ایسے بھی تھے جو اپنے قرضے ادا نہیں کرتے تھے‘ بعض تو نمازیں وقت پر نہیں پڑھتے تھے‘ جنھوں نے نمازِ فجر کبھی خال ہی طلوعِ آفتاب سے قبل پڑھی ہو‘ اور وہ اپنی سرکاری ملازمتوں میں لاپروا تھے‘ کہ جہاں سے وہ اپنی ماہانہ تنخواہیں وصول کرتے تھے۔ دراصل تحریک کی توجہ زیادہ تر اپنے ارکان کی شخصیتوں کے حِسی اور جذباتی رخ پر تھی‘ اور سیاسی فوائد نے ان کی کرداری کمزوریوں کو چھپا دیاتھا۔ اگرچہ نظری طور پر اخوان میں ارکان کی جانچ پڑتال کا نظام موجود تھا‘ لیکن درحقیقت نوجوان نسل نے اُسے نظرانداز کیا تھا۔ مجھے یاد ہے ۱۹۵۷ء میں‘ میں نے اخوان کے برادران میں اپنے انتہائی قریبی ساتھیوں ڈاکٹر اسحاق فرحان اور ڈاکٹر محمد قوجا سے اس مسئلے پر بڑی مفصل گفتگوئیں کی تھیں‘ جو تحریک پر اس تنقید و تجزیہ کو کھلے ذہنوں سے قبول کرتے تھے۔ میں نے ان پرزور دیا کہ: ’’وہ سید مودودی کا مطالعہ کریں اور پاکستان کی جماعت اسلامی کے لٹریچر سے واقفیت حاصل کریں‘‘۔

  • افسردگی کے سال:۱۹۵۰ء کے عشرے کا اواخر اور ۶۰ء کے عشرے کا زمانہ ہمارے لیے افسردگی‘ دل شکستگی‘ اور فریب نظر سے نکلنے کا زمانہ تھا۔ یہ مصر کے قوم پرست‘ سوشلسٹ آمر مطلق صدر جمال ناصر کی عرب قومیت کے عروج کا عرصہ تھا۔ اس دوران خاص طور پر مصر میں اخوان کی تحریک کو سخت بے رحمانہ تعذیب اور ابتلا سے گزرنا پڑا۔ سوڈان میں ہمارے محترم ڈاکٹر حسن ترابی سے متاثر اخوان کی ایک جماعت اس نتیجے پر پہنچ چکی تھی کہ: اخوان کا نظام تربیت‘ اپنی کمزوریوں کے باوجود اتنا سست رفتار اور غیر موثر ہے کہ تحریک سوڈان میں سیاسی اقتدار تیزی سے حاصل نہیں کرسکتی۔ ڈاکٹر حسن ترابی صاحب کا خیال تھا کہ جو کوششیں اور وقت تربیت میں ضائع کیا گیاہے‘ اگر وہ سیاسی جدوجہد میں لگایا جاتا تو اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والی طاقت اور اقتدار کے ذریعے زیادہ لوگوں میں زیادہ تیزی کے ساتھ تبدیلی لائی جاسکتی تھی۔

میں نے بیروت میں برادر چودھری غلام محمد کے ساتھ پاکستان کی جماعت اسلامی میں ارکان کی وابستگی اور تربیت کے نظام پر جو گفتگوئیں کی تھیں‘ وہ محترم ڈاکٹر ترابی کے نزدیک ارکان کی تربیت کے تصورات کی یقینا نفی کرتی تھیں۔

ہمارے نزدیک تو ایسی بات کہنا ’اخوان‘ جیسی بین الاقوامی تحریک کے پورے ڈھانچے اور تعلیمات کے خلاف بغاوت کے مترادف تھا۔ ہمارے اکثر ساتھیوں‘ بشمول ڈاکٹر جعفر ادریس‘ شہید محمد صالح عمر اور استاذ محمود برات (Burrat) نے اپنی تحریک کی اس ’آزاد روی‘ کے خلاف سخت احتجاج کیا۔ خطرہ پیدا ہو گیا کہ یہ اختلاف کہیں تحریک کو دولخت کرنے کا باعث نہ بن جائے۔ چنانچہ تحریک کے ذمہ دار برادران کا ایک اجلاس اس مسئلے کے حل کے لیے دارالحکومت خرطوم میں طلب کیا گیا۔

مجھے اس اجلاس میں بھائی ڈاکٹر حسن ترابی کے الفاظ بڑی اچھی طرح یاد ہیں‘ انھوں نے کہا تھا: ’’مالک بدری اور جعفر ادریس خرطوم یونی ورسٹی میں طالبات کو اس پر قائل کرنے میں بلاوجہ اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں کہ انھیں اپنے مختصر لباس ترک کر کے لمبے لمبے اسلامی کرتے (جُبیّ) پہننے چاہییں۔ حالانکہ جب ہماری حکومت آئے گی تو ہمیں تمام سوڈانی خواتین کو اسلامی لباس پہنانے کے لیے صرف ایک صدارتی حکم نامے کی ضرورت ہو گی‘‘۔ جناب ترابی نے مزید کہا تھا: ’’ہمیں ایک مقبول اسلامی جماعت ہونا چاہیے‘ جسے اپنے ارکان کی ذاتی زندگیوں میں دخل دینے کی ضرورت نہیں۔ کوئی بھی شخص جسے ہمارے مقاصد سے اتفاق ہو‘ جو ہمیں رفاہی اور اجتماعی سرگرمیوں کے لیے چندہ اور  عام انتخابات میں ووٹ دیتا ہے ‘ ہمیں اس کو مکمل رکن تصور کرنا چاہیے‘‘۔ عین اسی وقت جب انھوں نے اپنا جملہ مکمل کیا باہر سے ایک انجان‘ آوارہ اور شرابی شخص اچانک اجلاس کے کمرے میں داخل ہوا اور گالیاں بکنے لگا۔ جب کچھ نوجوان اسے باہر نکالنے کی کوششیں کر رہے تھے تو میں نے جناب ترابی سے کہا: ’’آپ کے معیار کے مطابق تو یہ فرد بھی تنظیم کا مکمل رکن بن سکتا ہے‘‘۔ باقی افراد نے قہقہہ لگایا‘ مگر ترابی صاحب ذرا پریشان نہ ہوئے اور کہا: ’’جی ہاں‘ میں اسے قبول کر کے مزید خراب ہونے کے لیے چھوڑ نہیں دوںگا‘‘۔

ہماری شدید مزاحمت کے باوجود ترابی صاحب اور ان کے ہم نوا ساتھی اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے اور انھوں نے ایک وسیع البنیاد سیاسی اسلامی گروپ تشکیل دے دیا۔ جب کہ خود اخوان سیاسی سرگرمی کے اس سمندر میں ایک چھوٹا سا ڈوبتا ہوا جزیرہ بن کر رہ گئی۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اخوان المسلمون کے وہ رکن جو اس وقت ڈاکٹر ترابی صاحب کے ساتھ کھڑے تھے اور انھوں نے ان کے تمام طور طریقے اور سیاسی جوڑ توڑ کے انداز سیکھ لیے تھے‘ اب خود انھوں نے ترابی صاحب کو جماعت کی قیادت سے الگ کر دیا ہے جس کے لیے انھوں نے سخت جدوجہد کی۔ اوریہ وہی لوگ ہیں جنھوں نے اب انھیں قید (جیل) میں ڈال دیا ہے۔

اخوان کا یہ گروپ رفتہ رفتہ علمی‘ ادراکی اور روحانی جہتوں سے محروم ہوتا چلا گیا‘ تاہم حِسی اور جذباتی عوامل نے طلبہ اور نوجوانوں کو قدیم مقاصد سے وابستہ رکھا۔ سوڈان میں آج تحریک کے ارکان کی اکثریت‘ دیگر سیاسی جماعتوں کے ارکان کے اطوار سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔

  • مولانا مودودیؒ سے مراسلت: مولانا مودودیؒ اور ان کی جماعت سے میرا   سب سے اہم تعارف ۱۹۶۰ء کے عشرے میں ہوا۔ میں نے ۱۹۶۱ء میں لیسٹر یونی ورسٹی‘ برطانیہ سے  پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور سوڈان واپس چلا آیا۔ خرطوم یونی ورسٹی میں چونکہ اس وقت      علم النفسیات (سائیکالوجی)اور علم التعلیم (ایجوکیشن) کا کوئی شعبہ قائم نہیں تھا‘ چنانچہ مجھے امریکن  یونی ورسٹی‘ بیروت اور اردن یونی ورسٹی میں بطور لیکچرر ملازمت اختیار کرنی پڑی۔ مصر اور دیگر عرب ممالک میں جو کچھ اخوان کے ساتھ ہوا‘ اور پھر سوڈان میں جو کچھ ہوا اس سے ہماری آنکھیں کھل گئیں۔ یہی وہ دل شکستگی او رافسردگی کا عرصہ تھا جب اخوان المسلمون میں ہمارے ایک گروپ نے ان حالات کا تجزیہ کرنے اور ان کی وجوہ کو سمجھنے کی سنجیدہ کوشش شروع کی۔ ہم نے اس پر بحث کا آغاز کیا کہ: اخوان کو جس مصیبت و ابتلا کا سامنا کرنا پڑا ہے‘ اس کے اسباب میں تحریک کی تنظیمی کمزوریاں اور اس میں تعلیم و تربیت کے طریقے بھی ایک عامل کی حیثیت سے شامل ہو سکتے ہیں۔ ہم نے   اخوان کی تحریکوں اور دیگر اسلامی تحریکوں کے درمیان موازنہ کیا اور فیصلہ کیا کہ اس تباہی‘ بحرانی اور  بے سروسامانی کے عالم میں ہم سید مودودیؒ اور ان کی تحریک سے کافی کچھ سیکھ سکتے ہیں۔

اس طرح سید مودودی ؒسے ہماری مراسلت شروع ہوئی۔ ہم نے خط و کتابت کا یہ سلسلہ چند ماہ تک جاری رکھا۔ ہم اپنے خطوط میں جو تفصیلی مسائل اٹھاتے سید مودودیؒ کمال تحمل‘ ہمدردی‘ خلوص اور دُوراندیشی کے ساتھ ان کی وضاحت کرتے۔ اپنی مصروفیت اور گرتی ہوئی صحت کے باوجود وہ ہمارے خط پہنچنے پر اسی روز ان کے جواب تحریر کرتے۔ اپنے آخری خط میں انھوں نے ہمیں‘ یعنی استاذ محمود برات اور مجھے‘ پاکستان آ کر براہ راست تحریک کا مطالعہ کرنے کی دعوت دی۔ مارچ ۱۹۶۸ء میں اسلامی یونی ورسٹی کے بانی اور وائس چانسلر‘ ام درمان (سوڈان) پروفیسر کامل الباقر نے بیروت      یونی ورسٹی کا دورہ کیا اور مجھے یہاں سے مستعفی ہو کر اپنی یونی ورسٹی کے نئے قائم شدہ تعلیم اور نفسیات کے شعبوں میں کام کرنے کی دعوت دی۔ میں نے اپنے وطن سوڈان کی یونی ورسٹی میں کام کی دعوت بخوشی قبول کرلی‘ اگرچہ مجھے بیروت کی یونی ورسٹی سے ملنے والی گریجویٹی سے ہاتھ دھونا پڑ رہاتھا‘ کیونکہ میں موجودہ ملازمت چھوڑنے کے لیے معاہدہ ملازمت (کنٹریکٹ) کی شرائط کو قبل از وقت توڑ رہا تھا۔

  • کویت سے لاہور تک :پاکستان جانے کا وعدہ پورا کرنے کی غرض سے میں نے اپنے قریبی دوست محمود برات‘ کو اللہ ان کی روح پر رحمتیں نازل کرے‘ قائل کیا کہ وہ اس سفر پر میرے ساتھ چلیں‘ جو میری زندگی کا ایک خطرناک ترین تجربہ ثابت ہوا۔

اگست ۱۹۶۸ء میں بجاے اس کے کہ میں اپنی نئی تقرری کے لیے سوڈان تک براہ راست سفر کرتا‘ میں نے ایک کار خریدنے اور اسی پر پاکستان جانے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت ہوائی ٹکٹ بہت مہنگے تھے اور ایک چھوٹی کار پر پٹرول کا خرچ کم پڑتا تھا۔ کار بیروت سے سوڈان تک بحری جہاز پر ہی لے جائی جا سکتی تھی۔ چنانچہ میں نے فیصلہ کیا کہ کار خرید کر اس پر پہلے پاکستان جائوں اور پھر وہاں کراچی سے بذریعہ بحری جہاز اسے سوڈان لے جائوں۔ اس طرح ہم دونوں افراد کے ہوائی ٹکٹ کی بچت ہوتی تھی۔ چنانچہ میں نے کویت سے ایک نئی ویگن خریدی۔ محمود برات نے مشرق کی طرف اس پُرخطر سفر کے لیے مجھے بغداد میںملنا تھا۔

تہران تک یہ سفر آسان اور رواں تھا۔ لیکن وہاں سے مشہد تک یہ سفر زندگی اور موت کے درمیان آنکھ مچولی کا ایک سلسلہ ثابت ہوا۔ اس وقت تارکول کی پختہ سڑک تہران سے چند کلومیٹر دُور جا کر ختم ہوجاتی تھی۔ اس کے بعد ۸۰۰ کلومیٹر سے زیادہ مٹی اور پتھر کی کچی سڑک بنی ہوئی تھی‘ جو انتہائی گرد آلود اور دشوار گزار تھی۔ جلد ہی ہم پر واضح ہو گیا کہ اس سڑک پر ہم واحد مسافر تھے جو ایک چھوٹی کار میں سفر کر رہے تھے۔ اس دشوارراستے پر صرف بڑی بسیں اور ٹرک ہی کامیابی سے چل سکتے تھے۔ یہ بڑی بڑی گاڑیاں ہماری چھوٹی سی کار کے پیچھے اس طرح بھاگتی اور چنگھاڑتی ہوئی آتیں جیسے جنگل میں شیر خرگوش کے پیچھے دوڑتا ہے۔ گاڑیاں ہمارے قریب سے گزرتیں تو ان کے تیزی سے گھومتے پہیوں سے اچٹ کر پتھر اور بجری کے ایک دو ٹکڑے ہم پر آگرتے اور گہری گرد اور دھند کا طوفان ہمیں اندھا سا کر دیتا۔ خود ہماری اپنی کار کے پہیوں سے بھی بجری اور چھوٹے پتھر اچٹ کر کار کے نچلے حصے سے ٹکراتے اور ہماری ویگن کے انجن کی آواز اس شور میں دب کر رہ جاتی۔ ایسے لگتا تھا کہ جیسے ٹین کی چھت پر زبردست ژالہ باری ہو رہی ہو۔ چند گھنٹوں میں ہی ہماری کار کی سفید شفاف سطح ایسے ہو گئی جیسے کسی سفید فام شخص کے منہ پر چیچک کے دانے نکل آئے ہوں۔

زیادہ تر ڈرائیونگ میں کر رہا تھا اور جب بھی کوئی بڑا ٹرک تیزی سے ہمارے پاس سے گزرتا‘ اس دوران میں پوری توجہ سڑک پر اپنی سمت درست رکھنے پر لگاتا۔ یہ عمل ہماری زندگی بچا لینے میں مددگار ثابت ہوتا‘ کیونکہ اس میں سو فی صد اندازے سے کام لینا پڑتا تھا کہ جس سڑک پر ہم ہیں وہ کس طرف کو جا رہی ہے۔ بعض اوقات جب کوئی بس پہاڑی کے کسی موڑ سے اچانک سامنے آ جاتی تو ڈرائیونگ کرنا انتہائی خطرناک ہو جاتا۔ ایک رات ڈرائیونگ کرتے ہوئے ہم اچانک گہرے پانی میں جا پڑے۔ یہ پانی اونچے پہاڑوں سے گر رہا تھا اور سڑک پر اس سے ایک ندی سی بن گئی تھی۔   اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہماری ویگن مضبوط چادر کی تھی اور انجن بھی پانی سے محفوظ تھا۔ میں نے بہ مشکل گاڑی باہر نکالی اور ہم خشک سڑک پر آ گئے۔

۳۵ برس قبل افغانستان میں ڈرائیونگ کرتے وقت بہت اچھے مناظر نظر آتے تھے۔ سڑک کافی اچھی اور مناظر بھی نہایت خوب صورت تھے۔ لیکن نہ تو ہمیں ان سے کوئی دل چسپی تھی اور نہ اتنا وقت اور اطمینان حاصل تھا کہ ہم اس سفر سے لطف اندوز ہوتے۔ اگر ہم عام سیاح ہوتے تو ہم نے ایران کے مقدس شہر مشہد میں خوب صورت یادگاریں ضرور دیکھی ہوتیں۔ ہم نے مزید ایک دن    امام رضا کا مقبرہ دیکھنے میں بھی صرف کیا ہوتا۔ لیکن ہم دو ایسے مریدوں کی طرح تھے جو اپنے شیخ یا گُرو سے ملنے کے لیے بے چین ہوں‘ ہمارا صرف ایک ہی مقصد تھا کہ کسی طرح جلد از جلد شہر لاہور پہنچ جائیں‘ سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے حضور! ہماری یہ جلدی اور خواہش اپنی جگہ‘ تاہم جب ہم درۂ خیبر کی سانپ کی طرح بل کھاتی سڑک سے ہوتے ہوئے پشاور کی طرف چلے تو سفر کی تمام ناخوش گواری کے باوجود ہمارا جوش و خروش پہلے سے بھی زیادہ بڑھ گیا۔ وہ بہت صبح سویرے کا سہانا وقت تھا‘ جب ہماری    تھکی ماندی کار درے کے سحر انگیز پہاڑوں کے درمیان گھومتی‘بل کھاتی سڑک پر سے گزری۔

  • سید مودودیؒ سے ہماری پہلی ملاقات: عصر کے ذرا بعد ہم لاہور پہنچے۔ ہم نے ایک سستے سے ہوٹل میں کمرہ لیا اور سستائے بغیر میں نے ٹیلی فون ڈائریکٹری سے سید مودودیؒ کا ٹیلی فون نمبر ڈھونڈ کر انھیں فون کیا۔ جواب میں انھوں نے بتایا کہ وہ کسی کو بھیج رہے ہیں جو ہمیں ان کی رہایش گاہ تک پہنچا دے گا۔ ہم یہ دیکھ کر حیران بھی ہوئے اور متأثر بھی‘ کہ ان کی رہایش گاہ‘ درحقیقت اچھرہ میں جماعت اسلامی کے مصروف ترین ہیڈ کوارٹر میں محض چند کمرو ںکے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ رات کا اندھیرا چھا چکا تھا‘ جب سید مودودی ؒنے بہ نفس نفیس عمارت کے برآمدے میں گرم جوشی‘ محبت اور شفقت سے ہمارا استقبال کیا۔ یہ دوسرا موقع تھا جب میں نے انھیں دیکھا۔

پہلا موقع وہ تھا جب ۱۹۵۶ء میں وہ شام کے دارالحکومت دمشق میں بین الاقوامی اسلامی کانفرنس سے فلسطین کے موضوع پر خطاب کرنے کے لیے تشریف لائے تھے۔ تب ہم نوجوان طالب علم تھے اور بیروت سے معزز مہمانوں اور مختلف اسلامی تحریکات اور تنظیموں کے قائدین کی خدمت کے لیے آئے تھے۔ اخوان نے ہم میں سے ہر ایک کو ایک ایک مہمان کی خدمت اور انھیں سہولت بہم پہنچانے کی ذمہ داری سونپی تھی۔ ان دنوں بھی میری خواہش تھی کہ مجھے سید مودودیؒ کی خدمت کی سعادت حاصل کرنے پر مامور کیا جائے‘ لیکن مجھے ڈاکٹر محمد ناصر کی خدمت پر مامور کیا گیا تھا‘ جو انڈونیشیا کی اسلامی تحریک‘ مسجومیپارٹی کے قائد تھے۔

وجیہہ اور مطمئن‘ سید مودودیؒ نے اس عمر میں ایک پرعزم ‘ متین اور کرشماتی قائد کی حیثیت سے مجھے بہت متاثر کیا تھا۔ جب وہ وقار کے ساتھ چلتے ہوئے اپنی نشست پر بیٹھے تو میں نے تحسین اور عقیدت کے ساتھ انھیں دیکھا۔ انھوں نے امیّہ مسجد میں کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھی کیونکہ طویل قید و بند کی صعوبت اٹھانے کے باعث وہ گھٹنوں کی تکلیف کا شکار تھے۔ انھیں اس طرح نماز پڑھتے دیکھ کر   مجھے ایک طرح کی شرمساری کا احساس ہوا۔ طویل العمری اور خراب صحت کے ساتھ ۱۹۶۸ء میں جب مجھے برآمدے میں کھڑے ملے تو وہ مجھے ایک صوفی کی طرح نظر آ رہے تھے‘ جس سے روحانیت اور زہد و تقویٰ کی روشنی پھوٹتی ہوئی واضح طور پر محسوس ہوتی ہے۔

  • امیر جماعت‘ سید مودودیؒ سے ملاقات: آیندہ چند روز جو ہم نے سید مودودیؒ کے ساتھ گزارے‘ بطور کارکنان تحریکِ اسلامی ہمارے لیے وہ آگہی اور روشن طبعی کے اہم ترین دنوں میں سے تھے۔ سید مودودیؒ جس طرح زندگی گزارتے اور کام کرتے تھے‘ اس نے میرے دل پر گہرے اثرات چھوڑے۔ جب میں قرونِ اولیٰ کے بے لوث مسلمان قائدین اور علما کی سوانح پڑھتا تھا تو بعض اوقات محسوس ہوتا کہ ان رہنمائوں کے شاگرد اور معتقدین نے ان سے اپنی بے پناہ محبت اور ادب و احترام کے سبب ان کے کارناموں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے۔ یہ سوانح عمریاں‘ اتنی اچھی ہوتی ہیں کہ ان پر یقین کرنا دشوار ہوجاتا ہے۔ میرا احساس ہے کہ جب آیندہ نسلیں سید مودودیؒ کی زندگی کے بارے میں پڑھیں گی تو وہ بھی اس سے ملتا جلتا تاثر ہی قائم کریں گی‘ لیکن میں گواہی دیتا ہوں کہ سید مودودیؒ کی زندگی کے بارے میں کسی کو ایسی دشواری نہیں ہونی چاہیے۔کیونکہ حقیقتاً ان کا طرزِ عمل ناقابل یقین حد تک متوازن اور افسانوی حد تک مثالی تھا۔ جو وقت ہم نے لاہور میں ان کے ساتھ گزارا‘ اس سے ہمیں ایک غیر معمولی حقیقت کا عملاً مشاہدہ اور تجربہ حاصل ہوا۔

اپنی زندگی میں‘ میں کسی ایسے اسلامی رہنما کو نہیں جانتا ہوں جس نے اس دنیا پر آخرت کو اتنی واضح ترجیح دے رکھی ہو‘ اور جس نے شعوری طور پر اﷲ تعالیٰ کی اطاعت و بندگی میں فرائض کی بجاآوری کا اتنا خیال رکھا ہو۔ میں کسی ایسے شخص سے واقف نہیں ہوں‘ جو اپنے علم اور دعوت و تبلیغ کا صرف دوسروں ہی پر نہیں بلکہ اپنی زندگی پر بھی اطلاق اتنی احتیاط اور باریک بینی سے کرتا ہو کہ جس طرح سید مودودیؒ کرتے تھے۔

سید مودودیؒ کی اہلیہ محترمہ اور بیٹے‘ بیٹیوں کو یقینا بہت سی قربانیاں دینی پڑی ہوں گی‘ کیونکہ اس فعال جماعت کے ہیڈکوارٹر میں روزانہ سیکڑوں ارکان آتے اور جاتے رہتے تھے اور یہاں کے چھ سات کمرے‘ جن کے سامنے برآمدے تک بھی نہیں تھے‘ اکثر پاکستان بھر سے آئے ہوئے مخلص اور دین دار کارکنوں سے بھرے رہتے تھے۔ سید مودودیؒ کو ذاتی زندگی کے لیے لازماً کوئی فرصت میسر نہیں تھی‘ کیونکہ یہ فعال تحریک ہی اس بزرگ شخص کی زندگی تھی۔

بلاشبہہ سید مودودیؒ غربت کی وجہ سے ایسی زندگی گزارنے پر مجبور نہیں تھے‘ بلکہ یہ ان کا زُہد اور تقویٰ تھا‘ جس کے ساتھ انھوں نے اپنی زندگی وقف کر رکھی تھی۔ اگر وہ چاہتے تو پاکستان کے متمول ترین علما میں شمار ہو سکتے تھے۔ مادی اعتبار سے ایک بہت اچھی زندگی گزارنے کے لیے ان کی کتابوں کی آمدنی ہی کافی تھی۔ تاہم جیسا کہ ہمیں معلوم ہوا دو چار کتابوں کو چھوڑ کر انھوں نے باقی تمام کتابوں کی آمدن جماعت اسلامی کے لیے ہدیہ کر دی تھی۔ ایک چھوٹی سی پرانی ’مورس مائنر‘ کار عمارت کے احاطے میں کھڑی تھی۔ یہ کار سید مودودیؒ کے استعمال کے لیے ہے اور اس کے علاوہ جماعت کے دیگر کم فاصلے والے کاموں کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے۔ جب سید مودودیؒ اسے جماعت کے کام کے لیے استعمال کرتے ہیں‘ تو ان سے کوئی معاوضہ نہیں لیا جاتا‘ تاہم جب کبھی سیدمودودیؒ اسے ذاتی طور پر کہیں آنے جانے کے لیے استعمال کرتے ہیں تو ان سے فی میل کے حساب سے کچھ مخصوص رقم بطور معاوضہ یا کرایہ وصول کی جاتی ہے۔

دفتری اوقات میں وہ عموماً مہمانوں سے اپنی لائبریری میں ملاقات کرتے تھے۔ ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جو چھت تک کتابوں کی الماریوں سے بھرا ہوا تھا۔ ایک بڑی میز پر عربی‘ اُردو اور انگریزی کی حوالہ جاتی کتب اور ترتیب سے کاغذوں کا ڈھیر پڑا تھا۔ ۱۹۶۸ء میں ان کی صحت بہت گِر چکی تھی اور حکومت نے ایک جراحی (آپریشن) کے لیے جس کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں تھا‘ انھیں لندن جانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ چنانچہ اس خطرے کے پیش نظر کہ جب بیماری کے باعث ان کے لیے لکھنا ممکن نہ رہے‘ وہ اپنی یادگار تفہیم القرآناور دیگر کتابوں پر کام جلد از جلد مکمل کرنا چاہتے تھے۔ وہ لوگوں سے بہت ضروری معاملات کے لیے مختصر وقت میں ملتے تھے۔ درحقیقت ان کے چہرے کے تاثرات اور ان کی میز پر نظر ڈالنے سے ہی مہمان کو اندازہ ہو جاتا تھا کہ اسے مختصر بات کرنی اور رخصت ہو جانا چاہیے۔ جب ظہر یا دیگر نمازوں کا وقت ہوتا تو جماعت کے ہیڈکوارٹر میں موجود ارکان برآمدے میں جمع ہو جاتے۔ وہ عین وقت پر اپنے کمرہ ٔ مطالعہ کا دروازہ کھولتے اور اس کے ساتھ ہی اقامت کا اعلان ہو جاتا اور آپ نماز کی امامت کرتے۔ نماز اور دُعا کے بعد آپ جلد ہی اپنی لائبریری میں واپس چلے جاتے تاکہ اپنا مشقت طلب ذہنی کام جاری رکھ سکیں۔

عصر سے مغرب تک وہ وقت ہوتا تھا جب سید مودودی ؒایک شفیق باپ کی سی مسکراہٹ سجائے فرصت کے ساتھ پرسکون حالت میں نظر آتے۔ دل چسپی‘ توجہ اور بشاشت سے دوسروں کی سنتے اور اپنے چٹکلوں اور تبصروں میں بھرپور حس مزاح کو بھی استعمال میں لاتے۔ عمارت کے باغیچے میں ہلکی کرسیاں بچھائی جاتیں‘ جہاں مہمان اورلاہور یا باہر دُور دراز سے آئے ہوئے مہمان تشریف رکھتے اور سید مودودیؒ سے اسلام کے بارے میں سوال پوچھتے‘ یا پیچیدہ مسائل پر رہنمائی طلب کرتے۔ وہ جب مسکراتے تو گھنی ڈاڑھی اور سفید ٹوپی کے ساتھ آپ کے چہرے کے گرد ایک سفید ہالہ بن جاتا جو اخلاص اور روشنی سے دمکنے لگتا۔ معمول کے مطابق چہرے پر تحمل تو رہتا ہی تھا‘ اس پر طمانیت بھری مسکراہٹ آپ کے خدوخال کو اس طرح تبدیل کر دیتی کہ آپ بجا طور پر ایک ملکوتی انسان دکھائی دیتے۔

  • ایک پُرمسرت موقع:ایک روز جب برادر محمود برأت اور میں تحریک کے مرکزی دفترمیں پہنچے تو وہاں ہمیں غیرمعمولی سرگرمی اور رونق نظر آئی۔ صحن میں بیسیوں کرسیاں اور میزیں ایک ترتیب سے بچھی ہوئی تھیں۔ ہمیں بتایا گیا کہ یہ تقریب سید مودودیؒ کے بڑے بیٹے سید عمر فاروق کی شادی کی تقریب ہے۔ دولہا اور سید مودودیؒ نے بہترین صاف ستھرا اور بڑا باوقار لباس زیب تن کررکھا تھا‘ لیکن مجھے وہ کچھ پریشان نظر آ رہے تھے‘ وجہ یہ تھی کہ کچھ مہمانوں کو تقریب میں لانے کے لیے گاڑی کی ضرورت تھی۔ ان کے پاس صرف وہی جماعت کی ایک چھوٹی مورس کار تھی۔ میں نے مولانا کو اپنی گاڑی دینے کی پیش کش کی‘ مگر انھوں نے نہایت شایستگی اور شکریے کے ساتھ اس   پیش کش کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ بعد ازاں مجھے معلوم ہوا کہ ایسا کیوں کیا گیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ چونکہ میری کار کی نمبر پلیٹیں کویتی تھیں اس لیے سید مودودیؒ کے مخالفین یہ الزام تراشی کر سکتے تھے کہ تحریک کویت اور دیگر خلیجی ریاستوں سے پیسے لیتی ہے۔
  • جماعت اسلامی پاکستان: اب ہم ۱۹۶۰ء کے عشرے کے اواخر کی جماعت اسلامی کے بارے میں اپنے تجربے کی طرف آتے ہیں۔ کیونکہ یہاں آ کر ہم نے جو کچھ دیکھا اور سنا اس سے ہم بہت متاثر ہوئے۔

ہم نے کئی اجلاسوں میں شرکت کی‘ عوامی خطابات سنے اور دوستانہ مجلسوں میں شریک ہوئے۔ بے شک ہم نے یہ جانا کہ اس وقت تحریک کی منظم سرگرمیاں اور زہد و تقویٰ کی حقیقت ہماری ان توقعات سے زیادہ بلند تھی‘ جو ہم نے ان کا لٹریچر پڑھ کر قائم کی تھیں۔ ارکان میں علم کی طلب اور پھر اس علم کے مطابق بغیر جذباتی ہوئے اپنی زندگیاں گزارنے کی تمنا بہت نمایاں تھی۔ اس معاملے میں خود سید مودودیؒ کے اثرات اور ان کی زندہ مثال اور کردار کوتاہیوں سے مبرا تھا۔ یہ صرف اسلام کے بارے میں علم نہیں تھا کہ جس کے بارے میں ارکان بے تابی سے ایسی جستجو کرتے تھے‘ بلکہ ہر اس شے کے بارے میں معلومات حاصل کرنا جو دعوت کے کام میں تحریک کے لیے مددگار ثابت ہو‘ ان کا مطمح نظر تھا۔

کوئی رکن ایک بڑے سائز کی ڈائری یا نوٹ بک اور قلم کے بغیر صبح گھر سے نہیں نکلتا تھا۔ وہ جو کچھ بھی دیکھتے یا سنتے جس کی کوئی اہمیت ہو سکتی تھی‘ فوراً اسے لکھ لیتے۔ یہی وجہ ہے کہ جب تحریک میں عربی زبان کے ماہر برادر خلیل احمد حامدی سے ان کے دفتر دارالعروبہ میں ہماری ملاقات ہوئی تو انھوں نے خود میرے بارے میں اپنی تفصیلی معلومات کا اظہار کر کے مجھے حیران کر دیا۔ میں نے بڑی حیرانی سے پوچھا کہ ان معلومات کا ماخذ کیا ہے؟ تو انھوں نے بتایا: ’’چودھری غلام محمد‘ جنھوں نے بیروت‘ اردن اور سوڈان میں آپ سے ملاقاتوں کے بعد تفصیلی رپورٹ تحریر کی تھی‘‘۔

جیسا کہ میں نے بتایا کہ یہ دعوت کا وہ ٹھنڈا‘ عقلی‘ گہرا اور غیر جذباتی انداز تھا‘ جسے   جماعت ِاسلامی پاکستان اور اخوان المسلمون اور دیگر عرب تحریکوں میں بنیادی فرق کہا جا سکتا ہے۔ مجھ پر یہ فرق میرے دورۂ لاہور کے درمیان واضح ہوا۔ ہمارے کچھ پاکستانی دوست‘ بشمول ا ستاذ  خلیل احمد حامدی چاہتے تھے کہ ہمارے اس دورے سے استفادہ کرتے ہوئے تحریک سے منحرف ایک سرکردہ شخص کو دوبارہ جماعت میں شمولیت کے لیے قائل کیا جائے‘ جو اشتراکی گروپ میں چلا گیا تھا۔ انھوں نے ہمیں صرف اتنا بتایا کہ یہ برادر کبھی ہمارے حمایتی ہوتے تھے‘ مگر اب نہیں ہیں اور ممکن ہے ہمارا ان کے گھر جانا ان کی تحریک میں واپسی کا سبب بن جائے۔ ہم بغیر اطلاع دیے ان کے گھر گئے تو انھیں اپنے نئے کامریڈوں (یعنی کمیونسٹ دوستوں) اور دوستوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے پایا۔ لیکن جماعت کے ساتھی اس محفل کے ان شرکا کو دیکھ کر بالکل پریشان نہ ہوئے۔ علیک سلیک کے بعد انھوں نے ہمیں متعارف کرایا اور بڑی خوبی سے اسلام میں استقامت اور احیاے اسلام کی جدوجہد میں سیدمودودیؒ کے اہم کردار کی بات چھیڑ دی۔

ہمارے نئے میزبان نے جو اپنے نئے اشتراکی کامریڈوں کی موجودگی سے متاثر تھے‘ انھوں نے بے ساختہ سید مودودیؒ پر تنقید کرتے ہوئے جارحانہ انداز اپنایا۔ وہ یقین رکھتے تھے کہ اسلامی تحریک کا طریق کار سست اور غیر انقلابی ہے۔ دوسری طرف انھوں نے مارکسسٹوں کے انقلابی اور اعلیٰ طریق کار کی مدح سرائی کی۔ بہرحال عین اسی وقت میرے علاوہ سب لوگ حیران رہ گئے‘ جب میرے رفیق محمود برات نے میز پر مُکّہ مار کر بلند آواز میں ان کی مخالفت کی‘ اور انھیں مرتد اور غدار قرار دے دیا۔ اس پر ہماری ملاقات فوراً ہی ختم ہو گئی۔ اپنے ہوٹل واپس جاتے ہوئے ہم نے پاکستانی اپنے دوستوں کو موردِ الزام ٹھیرایا کہ وہ ہمیں ایسے شخص کے پاس کیوں لے گئے تھے جس نے مارکس ازم کو قبول کر لیا تھا۔تاہم‘ جماعت اسلامی کے ساتھیوں کا ردِعمل مقابلتاً بہت پرسکون اور متین تھا۔

میرے لیے ان کا یہ رویہ اپنی خداشناسی کے اعتبار سے متاثر کن اور خوب صورت تھا۔ میں اس وقت اپنے آپ سے شرمندہ ہوا جب میں نے ان میں سے ایک کو یہ کہتے سنا: ’’ ابلیس نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ اولادِ آدم کو کفر کی طرف لے جائے گا۔ دعوت کے کام میں ہمارا بڑا مقصد یہی ہے‘ اگر ہم واقعی اپنے اللہ سے محبت کرتے ہیں اور اسے خوش کرنا چاہتے ہیں تو پھر ابلیس سے لڑائی کریں اور اس کے شیطانی طریق کار کو سب کے سامنے واضح کر دیں۔ ہم آپ کو اس لیے اپنے ساتھ لے گئے تھے کہ اپنے اس بھائی کو شایستگی کے ساتھ اس کے نظریاتی مخمصے سے بچا سکیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اس کے اندر بہت سی خوبیاں بھی ہیں‘ لیکن ہمیں یہ بھی اندازہ ہے کہ ہمارا جارحانہ ردِعمل اسے سیدھے راستے سے مزید دُور لے جائے گا۔ اگر وہ لوگ جو ہمیں چھوڑ کر کسی دوسری اسلامی تنظیم یا کسی گروہ میں شامل ہوجائیں یا اپنی جگہ اچھے مسلمانوں کی طرح رہیں تو ہمیں ان سے جھگڑا نہیں کرنا چاہیے۔ وہ اس طرح بھی ہمارے بھائی ہی رہتے ہیں۔ ہمیں صرف یہ افسوس ہوتا ہے کہ ہم ان کی سرگرم حمایت سے محروم ہوگئے ہیں یا وہ اسلامی طور پر کسی کمزور گروپ میں شامل ہو گئے ہیں‘‘۔

جماعت اسلامی کے اس رفیق نے جو کچھ کہا‘ جب اس کا موازنہ میں نے اس سے کیا جو ہم سوڈان میں کرتے رہے ہیں‘ تو واقعہ یہ ہے کہ میں تو شرمندہ ہو گیا۔ جو لوگ ہم سے علیحدہ ہو جاتے ہیں ہم عموماً انھیں بدنام کرتے ہیں‘ بڑے سخت لفظوں سے انھیں یاد کرتے ہیں اور ان سے قطع تعلق کر لیتے ہیں۔ ہماری تحریک کے ارکان ہمیشہ اسی طرح محسوس کرتے اور کہتے ہیں: ’’تنظیم ہمیشہ درست ہوتی ہے اور ہمیشہ وہی غلطی پر ہوتے ہیں جو ہمیں چھوڑ جاتے ہیں‘‘۔ کئی مثالیں ہیں جب ۶۰کے عشرے کے اواخر میں اخوان کی نئی سیاسی تحریک ’’اسلامی میثاق محاذ‘‘ کے اعلیٰ ترین انتظامی دفتر نے حکم جاری کیا تھا کہ تحریک کا کوئی رکن مستعفی ہونے والوں سے بات تک نہیں کرے گا۔

مجھے یاد ہے کہ جب ایک بار ایک اعلیٰ تنظیمی عہدے دار ہمارے گھر آیا تو وہاں ایک ایسا شخص بھی بطور مہمان موجود تھا جو تحریک سے اختلاف کرنے والوں میں شامل تھا۔ اس عہدے دار نے مجھ سے بڑی گرم جوشی سے مصافحہ کیا‘ لیکن میرے اس مہمان سے ہاتھ ملانے سے انکار کر دیا کہ جس نے سلام کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا ہوا تھا‘ بلکہ منہ سے اس کے سلام کا جواب تک نہ دیا۔ افسوس ناک  امریہ ہے کہ اس غیر اسلامی رویے کو تنظیم کے دیگر ارکان کی طرف سے بے حد سراہا گیا‘ کیونکہ ان کے یقین کے مطابق: ’’یہ برتائو تنظیم کے فیصلوں پر عمل درآمد اور اس سے پختہ وابستگی کا ایک عملی اظہار تھا‘‘۔

یہاں پر یہ ذکر دل چسپی سے خالی نہ ہو گا کہ ہمارے دورۂ پاکستان کے ایک برس بعد جب ہمیں یقین ہو گیا کہ اسلامی نام کے ساتھ یہاں سوڈان میں ہماری تحریک محض ایک سیاسی جماعت بنتی جا رہی ہے‘ تو ہمارا گروپ سوڈانی ’اسلامی میثاق محاذ‘ سے الگ ہو گیا تھا۔ ہم دیکھ رہے تھے کہ ڈاکٹر ترابی نے ۶۰کے عشرے کے اوائل میں جو منصوبہ بندی کی تھی‘ وہ رفتہ رفتہ تکمیل پذیر ہو رہی ہے اور اخوان کی اسلامی بنیاد رفتہ رفتہ تحلیل ہوتی چلی جا رہی ہے۔ ہمارے ان خدشات نے فی الاصل ۹۰ کے عشرے میں حقیقت کا روپ دھارا۔ ہمارے استعفوں پر شدید ردِعمل ظاہر کیا گیا۔ ہم میں سے کچھ لوگوں کو غدار اور منحرف قرار دے دیا گیا۔ جماعت سے نکلنے پر قرآنی آیات اور احادیث کے حوالوں کو کم علم ارکان کو ہمارے خلاف بھڑکانے کے لیے بڑی مہارت سے استعمال کیا گیا۔

اپنی ایک مشہور جذباتی تقریر میں ’اسلامی میثاق محاذ‘ کے مرکزی قائد نے مسلم کی اس مستند حدیث کا حوالہ دیا‘ جس میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :کہ جو شخص ’الجماعتہ‘ کے فیصلوں اور احکام کی خلاف ورزی اور حکم عدولی کرے گا وہ جاہلیت کی موت مرے گا‘ اور پھر یہ بھی کہ جو ’الجماعتہ‘میں تفرقہ ڈالنے کی کوشش کرے اس کا سرقلم کر دینا چاہیے۔ انھوں نے جوش خطابت میں فرمایا ’’اگرچہ ہم یہ کہنا نہیں چاہتے کہ جو لوگ ہمیں چھوڑ گئے ہیں وہ مسلمان نہیں رہے‘ لیکن وہ منافقین کی طرح اسلام کے بجاے کفر کے زیادہ نزدیک ہیں‘‘‘ اور پھر انھوں نے سورۂ آل عمران کی آیت ۱۶۷ کا ایک حصہ تلاوت کیا کہ ’’تب وہ ایمان سے زیادہ کفر کے نزدیک ہو گئے‘‘۔

یہ واضح تھا کہ عربی لفظ الجماعۃ کو‘ جو مسلم امّہ کی طرف اشارہ کرتا ہے‘ جدید اسلامی تحریک کے لیے استعمال ہونے والے اسی لفظ کے ساتھ جان بوجھ کر یا بے سوچے سمجھے گڈ مڈ کر دیا گیا۔ جن لوگوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و سلم اورآپؐ کے صحابہ کرامؓ کی زندگیوں میں انھیں چھوڑا تھا انھوں نے حقیقتاً اسلام کو ترک کیا تھا۔ لیکن وہ افراد جو جدید اسلامی تحریک سے علیحدگی اختیار کرتے ہیں بہرحال وہ اسلامی امت سے خارج نہیں ہوتے‘ بلکہ اسی کا حصہ رہتے ہیں۔ اس ابہام کے سبب جسے گمراہ کن جذبات سے مزید ہوا دی جاتی ہے‘ کئی جدید اسلامی تحریکوں نے یہ رویہ اختیار کیا ہے کہ جیسے ان کی جماعت ہی خود اصل اسلام ہے۔

کوئی بھی منظم جماعت یا گروہ‘ جس کے ارکان میں گہری ہم آہنگی اور یک جہتی موجود ہو‘ اس کے ارکان میں اپنے لیے احساس برتری اور فخر‘جب کہ دوسروں کے لیے نفرت اور تحقیر کے جذبات پیدا ہوہی جاتے ہیں۔ جدید سماجی نفسیات میں اس کا مطالعہ ’گروہ کے اندر‘ اور ’گروہ سے باہر‘ کے رویوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ اس کا مشاہدہ چھوٹے گروہو ں میں بھی کیا جا سکتا ہے اور پوری قوموں اور ثقافتوں میں بھی۔ یہی وہ مظہر ہے جسے قبائل پرستی‘ نسل پرستی‘ قوم پرستی‘ فسطائیت یا نسلی تفاخر اور  اگر دیکھا جائے تو بڑی آسانی سے ’’جماعت پرستی‘‘ کے پس منظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

ہر مثال میں‘ کسی مخصوص گروہ سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے عقائد اور ثقافت کو تفاخر کے ساتھ دیکھتے ہیں‘ جب کہ دوسروں کو دیکھنے کے لیے ان کا زاویۂ نظر کافی مختلف ہوتا ہے۔ وہ اپنے  گروہ سے باہر کے افراد کو ایک ایسے اجتماع کے طور پر بھی دیکھتے ہیں‘ جس کے ارکان میں آپس میں کوئی  فرق و امتیاز نہیں ہے۔ ان کے نزدیک وہ سب کے سب بلا امتیاز کافر ‘منافق یا دشمنِ دین  ہیں۔ حیاتیاتی اعتبار سے کم تر ہیں یا ان میں ایسی کوئی قابل نفرت خاصیت ہے۔ جیساکہ معلوم ہے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و سلم نے ان گروہی جذبات و نفسیات کا سختی سے مقابلہ کیا تھا‘ جس کا مظاہرہ عرب قبائل پرستی کے بدنما چہرے سے ہوتا تھا‘ اور جب بھی روحِ اسلام کمزور پڑتی تھی یہ قبائل پرستی اپنی پوری تنگ نظری کے ساتھ ابھر آتی تھی۔

میرے تجزیے کے مطابق‘ جدید اسلامی بیداری کے لیے سید مودودی ؒکے اہم ترین کارناموں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انھوں نے اس ابہام کو ختم کرنے کے لیے ان تھک کوشش کی۔ جماعت اسلامی کی ابتدائی کتب کے پس ورق پر تحریک کی نوعیت کے بارے میں ایک مختصر بیان    جلی حروف میں تحریر ہوتا تھا کہ جماعت اسلامی ‘  الجماعۃ نہیں ہے‘ بلکہ مسلمانوں کی ایک جماعت ہے‘ جس میں شامل ہونے والے مسلمان بیان کردہ مقاصد کے حصول کے لیے جمع ہوئے ہیں -- نئے ارکان کی تربیت میں ان ہدایات کو لازماً ملحوظِ خاطر رکھا جاتا تھا اور ارکان کو محض جذباتی نعروں‘ دعووں اور افعال سے بچایا جاتا تھا۔ جماعت سے نکل جانے والوں کے بارے میں سید مودودیؒ کی جماعت کے ارکان کے تحمل سے پُر رویے کے پس پشت یہی تربیت کارفرما ہے۔ اسی تربیت نے ارکان کو اس امر سے بھی بچایاکہ کہیں وہ تحریک کو ہی دین اسلام نہ تصور کر یں اور ایک دیوتا سمجھ کر اس کی پرستش نہ کرنے لگیں۔

  • جذباتی پہلو کو حاوی نہ ہونے دینا: سید مودودی ؒنے ادراکی یا علمی اور عملی یا کرداری پہلوئوں پر دیگر دو پہلوئوں کے مقابلے میں زیادہ زور دیا ہے۔ انھیں اس کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ تحریک اسلامی کے ارکان تو ایک طرف‘ کوئی بھی وہ مسلمان جو خدا کو اپنا مالک تصور کرتا ہے‘ آخر کیوں فوراً اپنے اس علم پر عمل شروع نہیں کر دیتا جو اسلام کے بارے میں اسے حاصل ہے۔ علم سے عمل کے درمیان دوئی پیدا کرنے والی کسی جذباتی یا روحانی جہت کا سید مودودیؒ کے ہاں کوئی مقام نہیں۔ اگرچہ یہ چیز ان کی تمام تحریروں میں واضح ہے لیکن ان کی نہایت قابلِ قدر کتاب خطبات میں (جس کا انگریزی ترجمہ Let Us Be Muslims کے عنوان سے خرم جاہ مراد نے کیا ہے) اس کی وضاحت مکمل صراحت کے ساتھ ہو جاتی ہے۔ اس کتاب میں’’ علم اور عمل‘‘ کے عنوان کے تحت‘ ایک باب میں لکھتے ہیں کہ علمی اور عملی پہلو نہ صرف اہم ہیں‘ بلکہ ایک مسلمان اور ایک کافر کے درمیان فرق بھی انھی سے واضح ہوتا ہے۔ ان کے ا لفاظ میں:

چنانچہ دو چیزیں جو مسلم اور کافر کے درمیان امتیاز کرتی ہیں‘ وہ علم اور اعمال ہیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ پہلے آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ آپ کا مالک کون ہے‘ اس کے احکام کیا ہیں‘ اس کی پیروی کا طریقہ کیا ہے‘ کون سے اعمال اسے پسند ہیں اور کون سے نا پسند؟ جب یہ معلومات حاصل ہو جائیں تو پھر دوسرا قدم یہ ہے کہ آپ اپنی وہ خواہشات ترک کر کے جو آپ کے مالک کی مرضی کے خلاف ہیں‘ اپنے آپ کو اس کا سچا خادم (غلام) بنائیں۔ (خطبات‘ ص ۵۴)

زندگی بہت سادہ اور آسانی سے گزرتی اگر انسان وہی کچھ کرتے جو وہ جانتے ہیں۔   صحت مند زندگی گزارنا انسان کو بہت عزیز ہے اور اس کی اہمیت اس پر عیاں بھی ہے‘ مگر اس کے باوجود لوگ بلکہ مسلمان ڈاکٹر بھی یہ بہت اچھی طرح جانتے ہوئے کہ سگریٹ نوشی اور پھیپھڑوں کے کینسر کے درمیان کتنا تعلق ہے‘ تمباکو نوشی جاری رکھتے ہیں۔ انسانی صحت کے لیے شراب کے نقصانات سے وہ واقف ہیں‘ مگر پھر بھی پیتے ہیں۔ وہ ایڈز کے خطرے سے بخوبی آگاہ ہیں مگر غیرازدواجی تعلقات سے باز نہیں آتے۔

میں یہ کہنے کی جرأت کروں گا کہ ذاتی طور پر سید مودودیؒ کا غیر معمولی زُہد و تقویٰ اور اپنی روزمرہ زندگی میں واضح طور پر غیرجذباتی رویہ ان کی تحریک کی صورت گری میں کارفرما رہا ہے۔ میں یہ کہنے کی جسارت بھی کروں گا کہ اپنی اوائل عمری میں ایک معزز سید گھرانے سے تعلق کی بناپر سیدمودودیؒ کو اپنے جذبات کا اظہار نہ کرنے یا انھیں اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دینے کی تربیت ملی تھی۔ ان کی نفسیات میں یقینا یہ بات پختہ ہو چکی ہو گی‘ کہ ایسا جذباتی رویہ کمزوری اور خوف کی بنا پر ہوتا ہے‘ جس کی توقع صرف خواتین اور چھوٹے بچوں سے ہی کی جا سکتی ہے۔ اس ضمن میں ان کی ابتدائی سخت تعلیم کی طرف بھی اشارہ کیا جا سکتا ہے‘ جو بمشکل تین سال کی عمر میں ان کے والد صاحب کے ہاتھوں شروع ہوئی۔ انھوں نے محض چار سال کی عمر میں نماز کی ادایگی اور چھ سال کی عمر سے روزے کا اہتمام شروع کر دیا تھا۔ وہ صرف ۱۴ برس کی عمر ]۱۹۱۷ئ[ میں ]قاسم امین کی[ ایک عربی کتاب ] المِرَۃ الجَدِیدَہ - جدید خاتون[ کا اُردو میں ترجمہ کرکے مصنف بھی بن چکے تھے۔

سید مودودیؒ کی تقریباً تمام سرگرمیوں میں‘ جذبات پر قابو کا آسانی سے مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں ایک مثال ان کے اس جرأت مندانہ اور بے خوف ردِعمل کی بھی دی جا سکتی ہے کہ جب مشہور کتاب قادیانی مسئلہ تحریر کرنے پر عدالت میں انھیں سزاے موت کا حکم سنایا گیا تھا۔ پروفیسر عبدالرحمن عبد اپنی کتاب میں رقم طراز ہیں:

آہنی اعصاب کے مالک سید مودودی ؒپر سزاے موت سنائے جانے کا شمہ بھر اثر نہ ہو ا۔ تحمل کے اس پیکر نے اپنی ناکردہ گناہی کی سزا ]یعنی سزاے موت[ سن کر پورے اطمینان کے ساتھ صرف اتنا کہا ’’بہت اچھا‘‘۔

برادران: میاں طفیل محمد‘ سید نقی علی‘ محمد اکبر اور نصراللہ خان عزیز جن کے دل‘ غم اور حوصلے سے معمور تھے۔ قیدخانے میں سید مودودیؒ کو پھانسی کی کوٹھڑی میں لے جایا جا رہا تھا‘ اور جب ان سب نے کانپتے ہاتھوں کے ساتھ آپ سے الوداعی مصافحہ و معانقہ کیا تو سب کا دل بھر آیا ۔عبد نے اپنی مذکورہ بالا کتاب میں لکھا ہے کہ صرف سید مودودیؒ کی آنکھیں تھیں جن میں خوف کی پرچھائیں تک نہیں تھی۔ ایک شہید کے طور پر موت کا سامنا کرنے کے لیے ان کا تحمل اور حوصلہ مندی قابلِ فہم ہے‘ لیکن اپنے قریبی ساتھیوں کو جو ان سے زندگی میں آخری بار مل رہے تھے‘ جذبات کی عدم موجودگی کی وضاحت کرنا ایک ماہر نفسیات کے لیے بھی بڑا مشکل کام ہے۔ میرے خیال کے مطابق اپنے جذبات کو دبانا اور مارنا ان کی شخصیت کا ایک لازمی حصہ بن چکا تھا۔ان کی برپا کردہ تحریک پر بھی اس ضبطِ نفس کے اثرات موجود تھے۔

دوسری مثال وہ ہے جب وہ عوامی جلسوں سے خطاب کرتے تھے۔ ۵۰ کے عشرے میں دمشق میں منعقدہ کانفرنس میں‘ جس کا میں پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں‘ بیش تر مقررین نے جذباتی انداز میں تقریریں کی تھیں‘ مثلاً ڈاکٹر سعید رمضانؒ، ابوالحسن علی ندویؒ، سوڈان کے شیخ البیلی اور عراق کے شیخ محمد محمود صوافؒ۔ ان میں سے کچھ نے نہایت جوشیلے اور بلند آہنگ خطاب کیے۔ شیخ محمود صواف تو فلسطینی بچوں کی کس مپرسی اور بے چارگی پر بات کرتے ہوئے خود بھی روپڑے اور اپنے ساتھ اور بہت سے لوگوں کو رُلا دیا۔ پورا ایوان اللّٰہ اکبر وللّٰہِ الحمد اور اخوان کے دیگر اسلامی نعروں سے گونج اٹھا۔

لیکن جب سید مودودی نے خطاب شروع کیا تو ماحول بالکل تبدیل ہو گیا‘ اور اس میں متانت اور خردمندی آگئی۔ انھوں نے اپنی تقریر میں فلسطین کے حالات کی ذمہ داری پوری کی پوری یہودیوں اور مغرب پر نہیں ڈال دی تھی۔ انھوں نے کہا: ’’اپنے بھائیوں اور بہنوں کے اس بحران کے ذمہ دار مسلمان بھی ہیں‘‘۔ دیگر تمام مقررین کے برعکس انھوں نے مسئلے کے حل کے لیے عملی تجاویز بھی پیش کیں۔ انھوں نے اپنی اس پختہ رائے پر زور دیا:’’مغربی نظریات کے اثرات کو صرف ا ور صرف علم‘دانش اور دلیل کی سطح پر ہی زائل کیا جا سکتا ہے‘‘۔ دراصل یہی وہ عزم تھا جس سے انھیں اپنی تحریک کے لیے اور مسلم امہ کے لیے عظیم کتب تحریر کرنے کی تحریک ملی اور انھی سے وہ عصر حاضر میں عالمی اسلامی احیا کے پس پشت ایک مرکزی شخصیت کے طور پر ممتاز ہوئے۔

گو اس وقت ان کی تلخ مگر سچی باتیں بہت سے نوجوان عرب بھائیوں کو متاثر نہ کر سکیں‘ لیکن ہم میں سے کچھ افراد پر ان کے ٹھنڈے خردمندانہ انداز اور اﷲ تعالیٰ کی پرخلوص بندگی کے گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ اسی سبب فن خطابت کے استاد ڈاکٹر سعید رمضانؒ نے برعظیم پاک و ہند کے دوعظیم اسلامی مفکرین‘ یعنی سید مودودی اور سید ابوالحسن علی ندویؒ کا ان الفاظ میں موازنہ کیا: ’’اگر سیدمودودی ؒکے سامنے کوئی نیا مسئلہ آئے تو ان کا فوری ردِعمل ذہن سے آئے گا‘ اگرچہ ان کا دل بھی اس سے غیر متعلق نہیں ہو گا‘ جب کہ سید ابوالحسن علی ندویؒ کا فوری ردِعمل دل سے آئے گا جس سے ان کا ذہن غیر متعلق نہیں ہو گا‘‘۔

تاہم‘ جب وہ اپنے ملک پاکستان میں اردو زبان میں خطاب کرتے تھے‘ تو ان کے ٹھنڈے اور عقلی انداز کے باوجود حاضرین پر ان کے خیالات اور منطقی زبان کا اثر جادو کی طرح ہوتا تھا۔ میں نے لاہور کی ایک مسجد میں انھیں ایک بڑے مجمع کو خطبۂ جمعہ دیتے دیکھا ہے۔ چونکہ میں اُردو نہیں  سمجھتا تھا اس لیے میں نے اپنی پوری توجہ سید مودودی پر اور حاضرین پر مرکوز رکھی۔ میرے سامنے ایک عجیب منظر تھا۔ وہ ایسے بولتے تھے جیسے انھیں سامعین کی داد اور ذوق سے کوئی دل چسپی نہ ہو۔ لیکن عجب بات ہے کہ مجمعے کی محویت کا عالم یہ تھا کہ محاورے کی زبان میں کہوں:’’ اگر سوئی گر جائے تو اس کی آواز سنائی دے‘‘۔ ان کے ڈیڑھ گھنٹے پر مبنی اس خطاب کو سننے میں لوگ اس طرح جذب ہوچکے تھے جیسے وہ بچے ہوں اور حیرت انگیز واقعات پر مبنی تجسس سے پُر کوئی ٹیلی ویژن ڈراما دیکھ رہے ہوں۔

m  سید مودودی کی خطابت‘ ایک موازنہ:جماعت میں جذباتی عنصر کو حداعتدال میں رکھ کر‘ سید مودودیؒ درحقیقت اپنی ہی قوم میں قدیم ثقافتی رو کے خلاف چل رہے تھے۔ آیا ان کی یہ کوشش سوچی سمجھی تھی یا یہ ان کی بلند و بالا شخصیت کے اثرات تھے۔ بہرحال ان کی اس حکمت عملی سے ۶۰ کے عشرے میں تحریک اسلامی کو بہت فوائد پہنچے۔ عربوں کی طرح پاکستانیوں کے جذبات کو آسانی سے انگیخت کیا جا سکتا ہے۔ جس سے تحریک کے نوجوان ارکان میں بے قابو اور جارحانہ رویے کو تحریک مل سکتی ہے اور کم سواد لوگ واہ‘ واہ بھی کر سکتے ہیں۔ تاہم‘ اس رجحان کو قابو میں رکھنے کے لیے سید مودودیؒ نے سب پر واضح کر دیا تھا‘ کہ:’’اپنے انقلابی مقاصد کے حصول کے لیے تحریک اسلامی سختی سے پرامن ذرائع پر اکتفا کرے گی‘‘۔ یہ دانش اور دور اندیشی سے پُر فیصلے تھے‘ جنھوں نے تحریک کو تشدد اور قتل و غارت گری سے بچائے رکھا‘ افسوس کہ جن سے دیگر اسلامی تحریکیں محفوظ نہ رہ سکی تھیں۔ اگر انھیں محض ایک کتاب لکھنے پر سزاے موت سنائی جاسکتی تھی‘ تو تصور کیا جا سکتا ہے کہ اگر تحریک کے کوئی ارکان کسی حکومتی وزیر وغیرہ کو قتل کرنے کی کوشش کرتے تو کیا کچھ نہیں ہو سکتا تھا؟

جب میں کسی پورے کلچر کا موازنہ اس کی ہیجان خیزی کے حوالے سے کسی دوسرے نسبتاً معتدل (cool) کلچر سے کرتا ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں کسی بے خبری کا مظاہرہ کر رہا ہوں۔ میرا احساس یہ ہے کہ کچھ ثقافتوں میں اسلامی تحریکوں کو اپنے ارکان میں جذباتی پہلوئوں کو ایک حد تک رکھنے کی ہی ضرورت ہوتی ہے ‘ جب کہ کچھ ثقافتوں میں جہاں بچوں کو سنجیدگی‘ ضبط اور غیر جذباتی ماحول میں پروان چڑھایا جاتا ہے‘ تحریک کے کارکنوں میں جذباتی عامل کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کی ایک واضح مثال پاکستانیوں اور ملائیشیا کے مالے مسلمانوں کے موازنے کے دوران میرے تجربے میں آئی ہے۔ چند برس قبل مجھے اپنے انسٹی ٹیوٹ کی مسجد میں خطبۂ جمعہ دینے کے لیے کہا گیا۔ اس کے ایک ہفتے بعد ہجرت نبویؐ کا مقدس دن آتا تھا‘ چنانچہ میں نے اس دن کی مناسبت سے اپنا خطبہ تیار کیا۔

اگرچہ خیال یہ تھا کہ یہ موضوع جذبات کو متحرک کرنے والا ہے‘ لیکن انسٹی ٹیوٹ اور دیگر جگہوں پر میرے ملائیشین سامعین نے یہ خطبہ اس طرح سنا جیسے وہ اکائونٹنگ پر کوئی لیکچر سن رہے ہوں۔ اسی ہفتے میں ’پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (PIMA) کے سالانہ اجلاس میں کلیدی خطبہ دینے کے لیے جمعرات کو کوئٹہ پہنچا۔ اگلی صبح تمام شرکا ایک مقامی مسجد میں نماز جمعہ کے لیے گئے۔ نماز کے بعد اچانک مجھے خطاب کرنے کے لیے کہہ دیا گیا۔ چونکہ میں اس کے لیے تیار نہیں تھا‘ چنانچہ میں نے کوالالمپور میں ہی کی گئی اپنی تقریر یہاں دہرانے کا فیصلہ کیا۔ سامعین کا ردعمل بہت حیرت انگیز تھا۔ اللہ اکبر کے جوشیلے نعروں یا حضور پاک صلی اللہ علیہ و سلم پر درود و سلام کے ساتھ لوگوں کے سر دائیں سے بائیں والہانہ انداز میں جھوم رہے تھے‘ حتیٰ کہ کچھ کی آنکھیں بھی بھر آئی تھیں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر سید مودودی اپنی بے مثال کرشمہ گر اور متاثرکن شخصیت کے ساتھ لوگوں میں جذباتی عنصر کو ابھارتے تو ممکن ہے پوری تحریک کب کی ایک تباہ کن صورت حال سے دوچار ہو چکی ہوتی۔

میں یہ تاثر نہیں دینا چاہتا کہ جیسے میں کسی مناسب گروپ میں موزوں وقت پر اخلاص پر مبنی جذبات اور حقیقی احساسات کو ابھارنے کے خلاف ہوں۔ بعض اوقات جذبات کو تحریک دینا یا انھیں اچانک انگیخت کرنا ضروری بھی ہوتا ہے‘ تاکہ کسی انسان کے دل و دماغ کے سرد خانوں میں دینی علم‘ حمیت اور جذبات کو حرارت کا لباس پہنا کر سامنے لایا جاسکے۔ اس طرح کی مثالوں میں یہ انداز انسانوں کو اپنی زندگیاں تبدیل کر لینے یا اسلام کی خاطر بہادری سے لڑنے پر آمادہ کرتے ہیں۔ تاہم جذبات کو ایک حد کے اندر ہی رکھنا چاہیے۔ علم میں اضافہ اور عمل میں بہتری اس کے ساتھ ساتھ ہونی چاہیے۔ بصورت دیگر اس کے اثرات جلد ہی زائل ہو جائیں گے‘ اور لوگ اسی طریق پر زندگی گزارنا شروع کر دیں گے جس طرح وہ پہلے گزارتے رہے ہیں۔

میں نے ان لوگوں کو سنا ہے جو میرے خیال کے مطابق اپنی گفتگو اور خطاب سے سامعین کے جذبات ابھارنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ عربی اور انگریزی میں بالترتیب ڈاکٹر سعید رمضان اور میلکم ایکس کا شمار ایسے ہی خطیبوں میں ہوتا ہے۔

برادر سعید رمضان‘ اللہ ان کی روح پر رحمتیں نازل کرے‘ عربی زبان کی تحریر و تقریر میں    بے مثال صلاحیت کے حامل تھے۔ وہ ایک وجیہ اور کرشماتی شخصیت کے مالک تھے۔ اپنے الفاظ کے چنائو اور لہجے کے اتار چڑھائو کے ذریعے سامعین کو آبدیدہ یا جوش اور مسرت سے بے قابو کر دینے پر قادر تھے۔ ان کی عادت تھی کہ وہ تدریجاً سامعین کے جذبات کو تحریک دیتے اور رفتہ رفتہ اپنی تقریر کے اختتام تک انھیں نقطۂ عروج پر پہنچا دیتے۔ ایک بار سوڈان کے ایک شہر عطبرہ (Atbara) میں کارکنوں کے ایک جلسے میں انھوں نے ایسی ہی ایک جذباتی تقریر کی تھی۔ اس تقریر کو سننے کے لیے اتنے لوگ جمع ہو گئے تھے کہ تل دھرنے کو جگہ نہ تھی اور کچھ لوگ عمارت کی اونچی دیواروں پر بھی چڑھے بیٹھے خطاب سن رہے تھے۔ تقریر کے اختتام پر سامعین اتنے جذباتی ہو گئے کہ یہ بھی بھول گئے کہ کہاں بیٹھے ہیں‘ نعرے لگانے کے جوش میں اکثر دیواروں سے گر کو خود کوزخمی کر بیٹھے۔

میلکم ایکس سے میری ملاقات ۵۰ کی دہائی کے اواخر میں ہوئی‘ جب انھوں نے سوڈان کا دورہ کیا۔ اس وقت وہ علی جاہ محمد کے بے لوث پیروکار تھے اور انھیں انتہائی قابلِ عزت و احترام گردانتے تھے۔ امریکہ میں اپنی سیاہ فام قوم پر یہ ثابت کرنے کے لیے بے چین تھے کہ وہ کوئی قدیم بے تہذیب نسل نہیں ہیں‘ جیسا کہ اس وقت گورے امریکی‘ سیاہ فاموں کو یقین دلانا چاہتے تھے۔    وہ سوڈانیوں کے گرم جوش‘ مہذبانہ رویے اور مضبوط سوڈانی کلچر سے خاصے متاثر تھے۔ میں انھیں    ام درمان اور خرطوم جیسے شہروں میں لے گیا‘ جہاں انھوںنے اپنی فلم کی اچھی خاصی عکس بندی کی۔ میں نے ان کے گمراہ عقائد کو چھیڑنا مناسب نہیں سمجھا بلکہ اسلام کے بارے میں اس کی خالص توحیدی فطرت کے حوالے سے سادہ سی گفتگو کی۔

مناسب ہو گا اگر میں ان کے ساتھ اپنے چند تجربات اس  نقطۂ نظر سے قارئین کے سامنے رکھوں‘ تاکہ ان کا موازنہ سید مودودیؒ اور چند دیگرایسے مسلم قائدین کے ساتھ کیا جا سکے‘ جنھوں نے اپنی دعوت میں جذباتی عنصر کو استعمال کرنے سے گریز کی راہ اپنائی ہے۔

جب میلکم ایکس نے سچا اسلام قبول کیا اور اپنا مشہور حج کیا تو مکہ میں انھیں چند سوڈانیوں نے میرے بارے میں بتایا کہ میں بیروت کی امریکن یونی ورسٹی میں پڑھا رہا ہوں۔ انھوں نے نیویارک کے لیے ہوائی سفر کا اپنا روٹ تبدیل کرتے ہوئے کاسابلانکا کے بجاے بیروت میں ٹھیرنے کا فیصلہ کیا‘ تاکہ ہماری ملاقات ہو سکے۔ ۱۹۶۵ء کی ایک سہ پہر فلیٹ پر میرے ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ اور ایک خوب صورت گہری آواز نے امریکی لہجے میں کہا: ’’میں ملک الشہباز بول رہا ہوں‘‘۔ میں نے اشتیاق آمیز آواز میں دریافت کیا: ’’کیا آپ کا مطلب ہے کہ برادر میلکم ایکس‘‘؟ -- ’’جی ہاں‘‘۔ انھوں نے اپنی آمد پر مجھے بتایا کہ: ’’بیروت مجھ کو پسند نہیں ہے لیکن صرف آپ سے ملاقات کے لیے یہاں آیا ہوں‘‘۔ کھانے اور گھر میں کچھ آرام کے بعد میں نے امریکن یونی ورسٹی میں خطاب کے لیے ان سے اصرار کیا۔ انھوں نے ہچکچاتے ہوئے ہامی بھرلی۔

ان کے خطاب کے لیے اجازت کی غرض سے میں نے سب سے پہلے اپنے شعبے کے سربراہ پروفیسر حبیب کُرانی سے بات کی جو ایک لبنانی عیسائی تھے۔ انھوں نے مجھے آرٹس اور سائنس کی فیکلٹی کے ڈین پروفیسر ہناییان سے ملنے کی نصیحت کی‘ جو ایک اور عیسائی عرب ہیں۔ انھوں نے کہا: ’’صاف بات ہے کہ‘میلکم ایکس ایک متنازع شخصیت ہیں‘ اس لیے مجھے یونی ورسٹی کے نائب صدر پروفیسر فواد سروف سے اجازت لینا چاہیے‘‘۔ وہ بھی ایک لبنانی عیسائی تھے۔ پھر نائب صدر نے فرمایا: ’’اس سلسلے میں بیروت یونی ورسٹی کے امریکی ]نژاد[ صدر سے بات کر کے بتاؤں گا‘‘۔ یونی ورسٹی صدر سے جلد ہی جواب موصول ہو گیا ‘جس میں مجھے بتایا گیا: ’’چونکہ یونی ورسٹی کیمپس کی زمین امریکہ کی ملکیت ہے اور میلکم ایکس امریکہ کے دشمن ہیں‘ اس لیے وہ کیمپس میںخطاب نہیں کر سکتے‘‘۔

میں نے اپنے مسلمان دوستوں اور ساتھی پروفیسروں کو اس بات سے آگاہ کیا اور ہم نے یونی ورسٹی سے چند بلاک دور سوڈان کلچر سنٹر میں یہ پروگرام کرنے کا فیصلہ کیا۔ سوڈانی کلچر اتاشی نے جو میلکم ایکس کے بارے میں کچھ زیادہ نہ جانتے تھے‘ بآسانی ہمیں اس کی اجازت دے دی۔ مسلمان طلبہ نے اس پروگرام کے اشتہارات یونی ورسٹی کیمپس میں جگہ جگہ لگا دیے۔ شام تک یہ جگہ لوگوں سے اتنی پُر ہو چکی تھی کہ منتظمین کو عمارت سے باہر جمع ہو جانے والے لوگوں کے لیے بھی عبدالعزیز سٹریٹ میں لائوڈ سپیکر لگانے پڑے‘ اور پولیس کو اس مصروف سڑک پر ٹریفک کنٹرول کرنے کے لیے اضافی عملہ تعینات کرنا پڑا۔

میں نے کوئی ایسا خطیب نہیں دیکھا جو اپنے سامعین کے جذبات کو اس طرح موڑ سکتا ہو جیسے وہ اس کے ماہرانہ ہاتھوں میں ربڑ کے ٹکڑے ہوں۔ تاہم‘ میلکم نے طلبہ کو اتنا جذباتی کر دیا تھا کہ ایک طالب علم نے اپنے پیچھے بیٹھے ایک سفید خام شخص کو اس لیے تھپڑ مار دیا کہ اس نے میلکم کے بارے میں سرگوشی کرتے ہوئے کوئی منفی تبصرہ کیا تھا۔ یہ واقعہ بڑے تشدد کا باعث بن سکتا تھا اگر میلکم اپنی غیرمعمولی صلاحیت سے کام لیتے ہوئے صورت حال کو سنبھال نہ لیتے۔ انجینیرنگ کے ایک سیاہ فام پروفیسر کی اہلیہ نے‘ جو اپنی عام زندگی میں دھیمے مزاج کی مالک تھیں‘ اونچے اور جارحانہ لہجے میں گورے امریکیوں کی طرف سے اس سلوک کے بارے میں کوسنے دینے شروع کر دیے‘ جو وہ اس کے شوہر سے محض اس کی سیاہ رنگت کے سبب روا رکھے ہوئے تھے۔ اس دوران‘ جب کہ سامعین آبدیدہ ہو جاتے‘ میلکم انھیں کوئی لطیفہ سناتے اور وہ چھوٹے بچوں کی مانند اسی حالت میں ہنسنا شروع کردیتے‘ کہ آنسو ابھی ان کی آنکھوں سے اور گالوں پہ بہہ رہے ہوتے۔ جس گرم جوشی اور والہانہ انداز میں بیروت میں ان کی تقریر سنی گئی‘ اس سے اس شہر کے بارے میں ان کا رویہ تبدیل ہو گیا۔ سوڈان کلچرل سنٹر میں ان کے تاریخی خطاب کے بعد امریکن یونی ورسٹی نے ایک دانش مندانہ فیصلہ یہ کیا کہ انھیں ان کے آیندہ دورۂ بیروت کے دوران کیمپس میں خطاب کرنے کی اجازت دے دی۔

میرے خیال میں خواب غفلت کے شکار مسلمانوں کی بیداری میں سعید رمضان اور     میلکم ایکس جیسے خطیبوں کا کردار بھی نہایت اہم ہے‘ تاہم جو لوگ اس کا ادراک کر لیں انھیں فوراً ہی حصولِ علم کے مشکل راستے پر گامزن ہو جانا چاہیے۔ انھیں چاہیے کہ دلوں کی پاکیزگی اختیار کر لیں‘ اور برے کاموں اور کاہلی سے بچتے ہوئے اچھے کاموں کے ذریعے اپنی زندگیوں کو تبدیل کریں۔ بصورتِ دیگر مسلمان جلسہ گاہوں میں جوق درجوق ضرور آئیں گے مگر صرف لذت تقریر یا خطیبانہ شگوفوں سے لطف اندوز ہونے کے لیے یا خطبوں کی فصاحت و بلاغت کی داد دینے کے لیے‘ جیسے وہ شاعروں کے ندرتِ خیال پر جھومتے اور خطیبوں کے انداز بیان پر فدا ہوتے قدیم عرب ہوں۔

  • صوفی کی روحانیت سے پرہیز:مجھے ایسا لگتا ہے کہ سید مودودی نے اس روحانی عامل (factor) کو‘ جسے روایتی صوفی لٹریچر میں بہت اہم سمجھا جاتا ہے کم اہمیت دی ہے۔ وہ عام طور پر ’الروح‘،’الشہود‘ یا ’التزکیہ‘ جیسی ’روحانی‘ اصطلاحیں استعمال کرنے سے یا اپنی تحریر و تقریر میں ابتدائی مسلم صوفیا اور اولیا کے تذکرے پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔ ایک استثنا ان کی معروف کتاب  تجدید و احیاے دین ہے‘ جس میں انھوں نے خلیفہ عمر بن عبدالعزیزؒ سے اپنے دور تک مسلم مصلحین اور مجددین (revivalists) کا ذکر کیا ہے۔ چونکہ ان میں سے اکثر صوفیا تھے‘ اس لیے انھوں نے ان کے عدم توازن اور غیر دانش ورانہ فکر کا محاکمہ کیا ہے‘ اور ان کے پیروکار جس طرح انھیں احترام اور تقدس کا درجہ دیتے ہیں‘ اس پر بھی جرح کی ہے۔ اپنی دیگر کتابوں میں‘ جو ارکان کی تربیت کے لیے تیار کی گئی تھیں‘ انھوں نے صحابہ کرامؓ اور اولین مسلمان اولیا کی زندگی کے واقعات کو ]جن میں روحانی پہلو غالب ہے[ کم ہی بیان کیا ہے۔

مجھے ایسا لگتا ہے کہ وہ علم اور عمل پر زیادہ زور اس لیے دیتے تھے کہ ان کے نزدیک اچھے اعمال کے ذریعے ہی کوئی انسان اپنی روحانیت کو ترقی دے سکتا ہے۔ ’ادراک‘ سے ’اطلاق‘ تک کا تیز رفتار راستہ ہی بہترین ’تزکیہ‘  ہے۔ اگرچہ انھوں نے ارکان کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و سلم کی دعائیں پڑھنے کی نصیحت کی ہے‘ لیکن انھوں نے امام حسن البناء شہیدؒ کی طرح تحریک الاخوان میں‘ صبح شام دہرانے کے لیے ’الماثورات‘ اور ’ورد الرابطہ‘ جیسے خصوصی اوراد اور دعائیں تحریر نہیں کی ہیں۔

اپنے کارکنوں کی تربیت اس طرح کرنے کے لیے کہ وہ طہارتِ قلب اور خدا سے قربت کی بلندی تک پہنچنے کے لیے معروف صوفی طریقوں کی پیروی نہ کریں‘ وہ درحقیقت احتیاط پسندی کی دوسری انتہا پر پہنچ گئے اور میرے خیال میں بعض ایسے روحانی اعمال کی اہمیت پر بھی زور نہیں دیاجن کا ذکر خود  بعض احادیث میں ہے۔ مثال کے طور پر سید مودودی اپنی کتاب ہدایات میں رقم طراز ہیں کہ: ’’ہم کیوں کر یہ معلوم کریں کہ اللہ کے ساتھ ہمارا کتنا تعلق ہے‘ اور ہمیں کیسے پتہ چلے کہ وہ بڑھ رہا ہے یا گھٹ رہا ہے؟ اسے معلوم کرنے کے لیے آپ کو خواب کی بشارتوں اور کشف و کرامت کے ظہور‘اور اندھیری کوٹھڑی میں انوار کے مشاہدے کا انتظار کرنے کی کوئی حاجت نہیں ہے۔ اس تعلق کو ناپنے کا پیمانہ تو اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے قلب ہی میں رکھ دیا ہے۔ آپ بیداری کی حالت میں اور دن کی روشنی میں ہر وقت اس کو ناپ کر دیکھ سکتے ہیں… رہیں بشارتیں اور کشوف و کرامات اور انواروتجلیات‘ تو آپ ان کی فکر میں نہ پڑیں۔ سچی بات یہ ہے کہ اس مادی دنیا میں توحید کی حقیقت کو پالینے سے بڑا کوئی کشف نہیں ہے‘‘۔

یہ ایک صحابی کا خواب ہی تھا اور پھر بالکل اسی جیسا ایک خواب حضرت عمرؓ ابن الخطاب نے بھی دیکھا تھا‘ جس نے مسلمانوں کو مسجدوں میں نماز کی دعوت دینے کے لیے عیسائی چرچوں کی طرح گھنٹیاں بجا نے سے محفوظ رکھا۔ مدینہ میں ایک بڑی گھنٹی اس مقصد کے لیے لگا دی گئی تھی‘ مگر جب ایک صحابیؓ نے اپنا ایک خواب بیان کیا جس میں انھوں نے اذان کے اصل الفاظ سنے تھے اور پھر جب حضرت عمرؓ نے فر مایا: میں نے بھی بالکل ایسا ہی ایک خواب دیکھا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اعلان کر دیا کہ یہ خواب سچے ہیں اور حضرت بلالؓ کو حکم دیا کہ وہ اذان دیں‘ جسے ہم آج تک سنتے آرہے ہیں۔پیغمبر صلی اللہ علیہ و سلم اپنے صحابہؓ سے دریافت فرمایا کرتے تھے‘ کہ انھوں نے گذشتہ رات کیا خواب دیکھے ہیں اور پھر ان کی تعبیر بیان فرماتے تھے۔ خواتین بھی آپؐ کو اپنے خواب   بتاتی تھیں اور آپ انھیں اچھی اور حوصلہ افزا تعبیریں بتاتے تھے۔ بخاری‘ مسلم اور حدیث کی دیگر مستند کتب کے ’’باب الرویا‘‘ ایسی مثالوں سے بھرے پڑے ہیں۔

یہاں یہ ذکر کر دینا دل چسپی سے خالی نہ ہو گا کہ جب سید مودودی کو موت کی سزا ہو جانے پر پوری قوم صدمے اور غم سے نڈھال تھی‘ سرگودھا کے میاں رحیم بخش نے ایک خواب دیکھا تھا جس میں انھوں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتے دیکھا تھا: ’’خدا وند رحم کر۔ مودودی میرے دین کا نام لینے والا ہے‘ تو اسے ابھی زندہ رکھ۔ وہ تیرے دین کا کام کر رہا ہے۔ مسلمانوں کو اس کی سخت ضرورت ہے خداوند رحم کر‘‘۔ پھر میں نے دیکھا کہ اچانک حرکت سی ہوئی‘ آواز آئی:  ’’اے محمد‘ ہم نے دعا قبول کی‘‘۔ اس کے بعد اچانک میری آنکھ کھل گئی۔ یہ صبح کا وقت تھا اور موذن   اﷲ اکبر کی صدا دے رہا تھا۔ میں گھبرا کر اٹھ کھڑا ہوا۔ پھر اچانک میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ میں بہت دیر تک سکتے کے عالم میں اپنی چارپائی پر بیٹھا رہا۔ اس خواب کی تعبیر جلد ہی سامنے آئی‘‘۔

m  مجرد روحانیت کو کم اہمیت دینے کا سبب : سید مودودی ان تمام روحانی پہلوئوں سے یقینا بہ تمام و کمال واقفیت رکھتے تھے‘ بلکہ دیگر علما کم ہی اس بارے میں اتنا جانتے ہوں گے۔ چنانچہ سوال یہ ہے کہ انھوں نے اپنے ارکان کی تربیت میں اس پہلو کو نظرانداز کیوں کیا؟ تزکیہ نفس اور روحانی بالیدگی مکمل طور پر ان قابل مشاہدہ اعمال کی پیداوار نہیں ہیں جن اعمال کی طرف عموماً توجہ دلائی جاتی ہے۔ ’احسان‘ کی اقلیم میں قلب کے داخلی روحانی سفر میں دو اہم ستون ’فکر‘ اور ’ذکر‘ ہیں۔ ’احسان‘ کا درجہ اللہ تعالیٰ کی سچی محبت اور بندگی کا درجہ ہے اور یہ درجہ کسی خارجی سرگرمی کا تقاضا نہیں کرتا۔ چنانچہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ سید مودودی نے اس طرزِ عبادت کی حوصلہ افزائی سے کیوں خود کو باز رکھا؟ انھوں نے تمام ارکان کو وظیفے کے لیے خصوصی دعائیں اور اذکار انھیں کیوں نہیں بتائے جس طرح کہ شہید حسن البناؒ نے تحریک اخوان میں ارکان کی تربیت کے لیے تجویز کیا؟ میراخیال ہے کہ وہ اپنے بچپن کے ابتدائی تجربوں اور اپنی پرورش کی بنا پر یہ رویہ اختیار کرنے پر مائل ہوئے۔

ہمیں معلوم ہے کہ سید مودودی‘ صوفیا کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں‘ حتیٰ کہ ان کا نام چشتی سلسلے کے بانی شیخ خواجہ قطب الدین مودودؒ کے نام پر رکھا گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ انھوں نے اوائل عمری میں ہی یہ جان لیا تھا کہ مغرب کے ساتھ اسلام کی کش مکش کی نوعیت ذہنی اور علمی ہے‘ جس کے لیے اسلام کے علم برداروں کو اپنی لمبی لمبی تسبیحیں چھوڑ کر حرف ‘قلم اور عمل سے جہاد کرنا پڑے گا۔ انھوں نے یقینا عظیم صوفیا کے تذکرے پڑھے بھی ہوں گے اور سنے بھی ہوں گے۔ ان میں سے کچھ تو خود ان کے آباو اجداد میں شامل تھے‘ جنھو ں نے اپنے آپ کو چھوٹی چھوٹی مسجدوں‘ تکیوں اور خانقاہوں تک محدود کر لیا تھا۔ جنھیں نہ تو اسلام اور کفر کی جنگ کا کچھ علم تھا اور نہ انھوں نے اپنے عوام کے اخلاقی اور سیاسی مخمصوں میں کوئی خاص دل چسپی ظاہر کی تھی کہ زندگی کا اجتماعی اور تہذیبی چلن جس رخ پر بہہ رہا ہے‘ بہتا رہے‘ انھیں اس سے چنداں کوئی غرض نہیں ہے۔ چنانچہ اوائل عمری سے ہی سید مودودی کی شخصیت میں اس غیر فعال طرزِ عمل سے‘ اگر نفرت نہیں تو ایک طرح کی بیزاری ضرور پیدا ہو چکی تھی۔

چنانچہ ہوا یہ کہ جب بھی انھیں کوئی عبادت گزار طول طویل مراقبے اور ذکر و فکر میں مستغرق نظر آتا تو ان کے ذہن میں بے کاری اور بے عملی کی ایک منفی تصویر ابھر آتی۔ اپنے بچپن اور نوجوانی میں انھوں نے اپنے بڑوں سے اپنے بزرگوں کے کشف و کرامات اور خوابوں کی کہانیاں یقینا سنی ہوں گی اور انھوں نے اس سب کو اپنے ذہن میں ایک غیر متحرک صوفی کی منفی تصویر سے وابستہ کر لیا ہو گا۔ وہ دیکھتے تھے کہ مسلمانوں کو عمل پر ابھارنے کے بجاے خوابوں اور کشف و کرامات کے قصو ں کو استعمال کیا جاتا تھا۔ حالانکہ دوسری طرف یہ بھی ممکن ہے کہ جن لوگوں کو ایسے تجربے نہیں ہوئے ہیں‘ وہ ان سے زیادہ اچھے مسلمان ہوں۔ چنانچہ میرا ذاتی تصور یہ ہے کہ اپنے ارکان کی تربیت کے دوران سید مودودی کا یہ رویہ بے عملی کے اس مذکورہ بالا طرزِ عمل کا سیدھا سادا ردعمل تھا۔ تاہم‘ ممکن ہے کچھ لوگ یہ محسوس کریں کہ اپنی ذہنی اور فکری تحریک کو ایک صوفی تنظیم میں تبدیل ہونے سے بچانے کے لیے ان کی یہ احتیاط کچھ ضرورت سے زیادہ محتاط رویے پر مبنی تھی۔

  • امیر کے مقام اور اختیارات میں کمی: میرا اندازہ ہے کہ سید مودودی کی ابتدائی تربیت پر ان کا ردِعمل ان کی دوسری صورت میں ایک عظیم کارنامے کی صورت میں ظاہر ہوا۔ میری خواہش ہے کہ کاش! دیگر ہم عصر قائدین سید مودودی کی سوانح عمری پڑھیں اور اس مسئلے پر ان کی مثال کی پیروی کریں۔ مجھے یقین ہے کہ سادات کے ایک عظیم خاندان سے تعلق رکھنے کی بنا پر اور ایک صوفی سلسلے کے قائدین کے وارث ہونے کی بنا پر بہت سے سادہ مسلمان سید مودودی اور ان کے بزرگوں کی تعلیم میں اس طرح کی مبالغے سے کام لیتے‘ جیسا کہ مسلمان عام طور پر اشراف او رصوفیوں کے بارے میں اختیار کرتے ہیں۔ ایک مخلص‘ بے لوث اور منکسرالمزاج شخص‘ جیسے کہ وہ تھے‘ انھوں نے یقینا ان افراد کے لیے اس حد سے بڑھے ہوئے عزت و احترام کو ناپسند کیا ہو گا‘ جنھوں نے مغرب کے استعماری حکمرانوں کی لادینیت اور ان کے مادہ پرستانہ طورطریقے کی پیروی کرنے والے ہندستانیوں کے خلاف کش مکش میں کوئی خاص کارنامے انجام نہ دیے تھے۔

اس نفسیاتی اور روحانی کش مکش کے نتیجے میں سید مودودی کا عظیم کارنامہ یہ تھا کہ انھوں نے جماعت اسلامی کے بانی اور کرشماتی قائد کے طور پر اپنے شخصی مقام و مرتبے کے روحانی رعب کو کم سے کم کرنے کی مسلسل کوشش کی۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے ایک ایسا آئینی و قانونی ڈھانچہ تشکیل دینے کے لیے شدید جدوجہد کی‘ جس سے یہ امید تھی کہ ان کی ریٹائرمنٹ یا رحلت کے بعد بھی تحریک اسی جذبہ و عمل کے ساتھ جاری رہے گی۔ میرے خیال میں یہ ان کی ایک عظیم کامیابی ہے۔ ان کے اخلاص‘ زہد اور طاعت و بندگی کا ایک کھلا ثبوت بھی ہے۔ اگر وہ جاہ و اقتدار کے دلدادہ ہوتے اور ثروت مندی اور خوش حالی کی ایسی زندگی گزارنا چاہتے جس میں ان کے بے شمار پیروکار انھیں ایک مقدس ہستی سمجھ کر سر آنکھوں پر بٹھاتے‘ تو وہ بڑی آسانی سے خود اپنے آباو اجداد کے صوفی سلسلے کا شیخ ہونے کا اعلان کر سکتے تھے۔ اگر وہ ایسا کرتے اور ان کی شخصیت میں جو کرشمہ اور خداداد صلاحیتیں موجود تھیں‘ تو ’مودودیہ‘ سلسلہ ہم عصر صوفی سلاسل میں ایک سرکردہ صوفی سلسلہ قرار پاتا۔ حریر و ریشم‘ اور خوشبو و خدمت کے اس راستے کو منتخب کرنے کے برعکس انھوں نے بطور ’امیر‘ اپنے مقام کو بڑھانے کی بجاے کم کرنے کی دانستہ اور اختیاری کوشش کی۔ پھر اپنے کارکنان میں معتدل‘ احتسابی اور تنقیدی فکر کی حوصلہ افزائی کی۔

ہر سال تحریک کے عمومی اجلاس میں سید مودودی ارکانِ جماعت اسلامی کو دعوت دیتے کہ  وہ کھلے عام ان پر تنقید کریں‘ ان کی خامیوں اور کمزوریوں کی نشان دہی کریں۔ وہ ارکان کی ان  غلط فہمیوں کو دُور فرماتے جن کی بنیاد ناقص معلومات اور غلط طرزِ فکر پر ہوتی‘ اور خود سے سرزد ہونے والے غلط اندازوں اور غلطیوں پر برسرعام معذرت کرتے۔ انھوں نے ان نئے ارکان کے رویے پر افسوس کا اظہار کیا ہے جنھیں اس بات پر صدمہ پہنچا تھا کہ ان کا عظیم قائد ایک نوجوان رکن کے سامنے اپنی غلطی پر معذرت کر رہا ہے۔ ۶۰کے عشرے کے ایک عام پاکستانی کو مودودی جیسی عظیم شخصیت کے گرد تقدس کا ہالہ بننے سے باز رکھنے کے لیے کسی ایسی ہی ’’الیکٹرک شاک تھراپی‘‘ کی ضرورت تھی۔ قیادت کا غلطی سے ماورا نہ ہونے کا تصور ہی وہ اہم عامل تھا‘ جس نے تحریک کو‘ سید مودودی اور جماعت کے دشمنوں کے خلاف انتہا پسندانہ اور متشدد طرز عمل اپنانے سے محفوظ رکھا۔ اسی سبب سے تحریک کی قیادت بھی سید مودودی سے میاں طفیل محمد کی طرف بڑے خوش گوار انداز کے ساتھ (اکتوبر ۱۹۷۲ء میں) منتقل ہوئی اور بعد ازاں میاں طفیل محمد سے قاضی حسین احمد کے سپرد (اکتوبر ۱۹۸۷ئ) ہوئی۔

جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ کاش! دیگر اسلامی تحریکات کے قائدین بھی انکسار‘ تنقید کے لیے قبولیت‘ اور جب ضرورت پڑے اختیارات کی منتقلی جیسے اوصاف میں سید مودودی کی مثال کی پیروی کریں۔ ۶۰کے عشرے کے اواخر میں جب انھوں نے جماعت کی قیادت سے اس خواہش کے تحت علیحدہ ہونا چاہا‘ تاکہ وہ  تفہیم القرآن اور دیگر کتب کی تکمیل کے لیے اپنا زیادہ وقت صرف کرسکیں تو اکثر ارکان یہ تسلیم کرنے پر آمادہ نہ تھے۔ کارکنوں کو اپنے بانی قائد سے لگائو اور تعظیم و تقدیس سے بچانے کے لیے ان کی تمام تر کوششوں کے باوجود ایک کرشماتی اور عظیم قائد کے ساتھ ان کی وابستگی اور جذبے کو ختم نہ کیا جا سکا‘ تو ان ارکان سے سید مودودی نے برملا فرمایا: ’’میں بوڑھا اور بیمار ہو رہا ہوں۔ اپنی موت سے پہلے جماعتِ اسلامی کو مودودی کے بغیر بھی پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتا ہوں‘‘۔

اس مثالی طرزعمل کے برعکس‘ میں ذاتی طور پر تین ایسے اسلامی قائدین کو جانتا ہوں‘ جنھوں نے قیادت میں رہنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور اﷲ رحم کرے‘ انھوں نے اپنے رفقا کے خلاف سازش سمیت ہر طرح کے ذرائع استعمال کیے۔ ان میں سے ایک لیڈر کی عمر ۷۰ برس تھی اور ایک دوسرے کی عمر ۸۰ برس سے بھی زیادہ تھی۔ ان دونوں قائدین کو جارحانہ اور غیر معیاری مقابلوں کے بعد ان کے خلاف ووٹنگ کے ذریعے قیادت سے ہٹایا گیا تھا۔ ان میں سے ایک نے اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے عزت سے گھر رہنا پسند کیا‘ جب کہ دوسرا قیادت سے علیحدگی برداشت نہ کر سکا اور اس نے مقابلے میں ایک نئی مخالف جماعت کھڑی کر لی۔

  • کراچی کا سفر اور چودھری غلام محمد سے آخری ملاقات: لاہور میں قیام کے بعد‘ برادر محمود برات کو وہاں چھوڑ کر‘ میں اپنی ویگن پر کراچی کے لیے روانہ ہوا۔ ایک پاکستانی بھائی صفدر حسن صدیقی اس لمبے سفر میں میرے ہمراہ تھے‘ جو درحقیقت ذہنی طور پر جماعت اسلامی سے علیحدگی اختیار کر چکے تھے‘ تاہم انھوں نے جماعت میں اپنے دوستوں سے اچھے تعلقات برقرار رکھے ہوئے تھے۔ موسم خشک اور گرم تھا اور میری تھکی ماندی ویگن صحرا کی گردآلود فضا میں اپنے راستے پر جارہی تھی۔ مجھے ابھی تک ان کے ساتھ اپنی بحث یاد ہے۔ وہ تحریک میں رکن بننے کے طویل عمل اور سیاسی اقتدار کے حصول کے سست اور پرامن طریقۂ کار پر معترض تھے۔ میں ان کے اس استدلال پر حیران ہوا تھا۔ اگر وہ آج ان اسلامی تحریکوں کی موجودہ حالت زار دیکھنے کے بعد ‘جنھوں نے سیاسی اقتدار کے لیے مختصر راستہ (shortcut) اختیار کیا تھا‘ ان کے داخلی و خارجی اثرات دیکھ لیں تو شاید اپنی رائے سے رجوع کر لیں۔

میں نے جماعت اسلامی پر اسی طرح کی تنقید ۷۰ کے عشرے میں بھی سنی تھی۔ لیکن اس بار تنقید کرنے والے معروف مسلم اسکالر پروفیسر محمد الاوا تھے‘ جو قانون کے مشہور مصری استاد تھے۔ انھوں نے ریاض میں برادر پروفیسر احمد العسال کے گھر میں میاں طفیل محمد صاحب سے مخاطب ہو کر کہا تھا: ’’آپ اس شخص کو کیا جواب دیں گے جو پوچھتا ہے کہ آپ نے دعوت کے سست طریقۂ کار کے تحت ۴۰سال صرف کرنے کے بعد آخر کیا حاصل کیا‘‘؟ ایسے لگتا ہے کہ میاں طفیل محمد اس طرح کے سوالات سے کافی تنگ آ چکے تھے۔ انھوں نے فرمایا: ’’میں اسے کہوں گا کہ حضرت نوح علیہ السلام نے ۹۵۰برس لوگوں کو ان تھک تبلیغ کرتے ہوئے گزار دیے تھے۔ کیا ہم ان سے پوچھ سکتے ہیں کہ آخر انھوں نے کیا حاصل کیا تھا؟‘‘

کراچی میں‘ میں اپنے پیارے بھائی اور دوست چودھری غلام محمد سے ملا‘ جو جماعت اسلامی کراچی کے مقبول امیر تھے۔ جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا‘ میری ان سے ملاقات بیروت میں بھی ہوئی تھی پھر اردن اور سوڈان میں بھی۔ سوڈان میں ہم ۱۹۶۷ء میں ملے تھے‘ وہ اسی سال جون میں عربوں کی عبرت ناک شکست کے بعد عرب ممالک کا دورہ کرنے والے ایک اسلامی وفد کے رکن تھے۔ وفد کے دوسرے ارکان اردن کے برادر خلیفہ اور انڈونیشیا کے محمد ناصر تھے۔ برادر غلام محمد کو ان دنوں کمر اور بدن کے دیگر حصوں میں شدید درد کی شکایت تھی۔

اس وقت سوڈان میں اخوان کے تعلیمی پروگرام کو جاری رکھنے کے حامیوں اور محترم ڈاکٹر ترابی کی نئی سیاسی اپروچ کے مخالفین میں تنازع اپنے عروج پر تھا۔ اکثر مخلص برادران کو یہ خدشہ تھا کہ کہیں یہ جھگڑا پوری تحریک کے مستقبل کو ہی خطرے میں نہ ڈال دے۔ انھوں نے تجویز کیا کہ اخوان کو اس داخلی انتشار سے بچانے کے لیے ایک قابلِ اعتماد رکن کو اپنا نیا قائد چن لینا چاہیے۔ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس مشکل کام کے لیے میرا انتخاب عمل میں آیا۔

امیر کے طور پر مجھے ہی اپنازیادہ وقت مہمانوں کو دینا ہوتا تھا‘ بالخصوص برادر غلام محمد کے ساتھ میں نے خاصا وقت گزارا۔ جتنا زیادہ میں ان کے ساتھ رہا اتنا ہی میرے دل میں ان کے لیے عزت اور محبت پیدا ہوئی۔ میں گاڑی پر ان کے ہوٹل تک چھوڑنے جاتا اور خرطوم میں بھی جہاں جانا ہوتا ان کے ساتھ جاتا۔ اس وقت مجھ پر یہ واضح ہو گیا تھاکہ وہ کتنے بیمار ہیں اور شدید درد اور اذیت کے باوجود اپنے مشن کو جاری رکھنے کے لیے کس قدر کوشش کررہے ہیں۔ میں نے انھیں اپنی سوڈانی تحریک کے ان گھمبیر مسائل کے بارے میں بتایا‘ جو اس کی قیادت سنبھالنے کے بعد مجھ پر واضح ہوئے تھے۔ میں نے انھیں بتایا کہ کس طرح یہ جماعت رفتہ رفتہ اسلامی طور پر نیم جان سیاسی پارٹی میں تبدیل ہو رہی ہے۔ میں نے انھیں ان شکایات سے بھی آگاہ کیا جو مجھے بطور امیر نوجوان مخلص کارکنان کی طرف سے تحریک کے عہدیداران کے رویے کے بارے میں موصول ہوتی تھیں اور جنھیں مجھے تحقیق کے بعد تسلیم کرنا پڑتا تھا۔ غلام محمد صاحب نے مجھے مشورہ دیا: ’’اگر تحریک کو داخلی طور پر بہتر بنانے کی کوئی امید باقی نہیں ہے‘ تب مجھے اسے چھوڑ کر صحیح اسلامی بنیادوں پر ایک نئی جماعت بنا لینی چاہیے‘‘۔ یہ درحقیقت ان تمام برادران کے مشترک احساسات تھے جو دینی تربیت کو اہمیت دیتے تھے۔

جب ۱۹۶۸ء میں کراچی میں ان سے ملا تو ان کی صحت بہت بگڑ چکی تھی۔ انھیں کینسر کی تشخیص کی گئی تھی۔ جب میں ان سے جماعت اسلامی کراچی کے مرکزی دفتر (ہیڈکوارٹر) میں ملا تو بے حد متاثر ہوا۔ وہ کرسی پر بیٹھ کر تحریک کا کام بھی کرتے تھے اور مہمانوں سے بھی ملتے تھے۔ جب درد ناقابلِ برداشت ہو جاتا تو وہ زمین پر بچھے ایک گدے پر تھوڑی دیر کے لیے لیٹ جاتے تھے۔ جب درد قابل برداشت ہو جاتا تو وہ دوبارہ میز پر آ کر کام کرنے لگتے تھے‘ سبحان اللہ!

میں نے خود سے کہا:سیدمودودی نے اپنے شاگرد کی کیسے تربیت کی ہے اور کیا ناقابلِ یقین انقلاب انسانوں کے دلوں میں پیدا کر دیا ہے! کوئی اور مریض اگر محترم غلام محمد جیسی حالت میں مبتلا ہوتا تو نہ صرف وہ ہسپتال میں داخل ہوتا‘ بلکہ مکمل طور پر نیند اور درد کی دوائوں کے زیر اثر زندگی گزار رہا ہوتا۔ اپنے ناقابل برداشت دردوں کے لیے دوائیں کھانے سے انکار کرنا ممکن ہے ایک بہادرانہ عمل سمجھا جائے‘ لیکن اپنی دعوت اور کام کرنے پر اصرار جاری رکھنا تو مقدس بہادری سے بھی کچھ بڑھ کر ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی روح پر رحمتیں نازل کرے اور ان سے راضی ہو جائے۔ (آمین!)

  • سوڈان واپسی: میں نے اپنی کار سوڈان کے لیے کراچی بندرگاہ سے بحری جہاز میں بک کرادی اور خود بذریعہ ہوائی جہاز خرطوم کے لیے روانہ ہو گیا‘ تاکہ ام درمان اسلامک یونی ورسٹی میں اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھال لوں۔ میرا تقرر شعبۂ نفسیات میں ایسوسی ایٹ پروفیسر اور یونی ورسٹی کائونسلنگ یونٹ کے ڈائریکٹر کے طور پر ہوا تھا۔ تحریک میں اخوانیوں اور حسن ترابی صاحب کے ہمدردوں کے درمیان قیادت کی کش مکش جاری تھی اور اب یہ کش مکش بہت شدت اختیار کر چکی تھی۔ کیونکہ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر نامناسب الزامات عائد کیے جا رہے تھے۔ میں نے مختلف یونی ورسٹیوں‘ اداروں‘ اسکولوں اور کلبوں میں جماعت اسلامی پاکستان کے پروگرام اور طریقۂ کار پر کافی لیکچر دیے اور ان کا موازنہ سوڈان کی تحریک کی صورت حال سے کیا۔ ان لیکچروں سے قائل تو اکثر ہوئے‘ لیکن ان میں سے چند ہی تھے جو ایک نئی تحریک کی داغ بیل ڈالنے کے جرأت مندانہ اقدام کے لیے تیار ہوئے۔ میں نے باقاعدگی سے ان چند لوگوں کے ساتھ ملاقاتیں کیں اور یوں ہم مستقبل کی جماعت کے ایک عمومی پروگرام پر متفق ہوگئے۔
  • سوڈان سے فرار: ان دو مشکل برسوں کے بعد‘ جس دوران ہماری نئی جماعت زیرِزمین چلی گئی تھی‘ مجھے اس کی قیادت‘ اپنے ایک اور ساتھی کو سونپنا پڑی‘ کیونکہ مجھے اپنے بیٹے کو علاج اور تشخیص کے لیے بیروت لے جانا تھا۔ اس کی پیدایش ۱۹۶۵ء میں ہوئی تھی اور صرف چھ ماہ کی عمر میں وہ گردن توڑ بخار کا شکار ہو گیا تھا۔ اس وقت سوڈان کے ہسپتالوں کی حالتِ زار ناگفتہ بہ تھی‘ اور معمولی علاج معالجے کے لیے جس تھوڑی بہت جدید مشینری کی ضرورت ہوتی اس سے استفادے کے لیے قاہرہ جانا پڑتا تھا۔ مجھے سوڈان میں بلیک لسٹ کر دیا گیا تھا اور میرے سوڈان سے باہر سفر پر پابندی تھی۔

دوبارہ میں نے اپنے رشتہ داروں کی مدد حاصل کی۔ میرا ایک بھتیجا وزارتِ داخلہ میں ملازم تھا اور اس نے ایک دوسرے افسر کی مدد سے میرے پاسپورٹ پربیرونی ویزے کی مہر لگوا دی تھی۔ میں نے ۲۵ مئی ۱۹۷۱ء کی رات کو بیروت کے لیے ایک فلائیٹ پکڑی۔ یہ رات میں نے اس لیے منتخب کی تھی کہ اس رات ’’انقلاب کا جشن‘‘ منایا جا رہا تھا۔ وہ تمام افسران جو مجھے پہچان سکتے تھے اس جشن میں مصروف تھے۔ لیکن اس کے باوجود میں اپنے معذور بیٹے کو اپنے ساتھ نہیں لے جا سکا۔ مجھے خطرہ تھا کہ کچھ افسروں کی توجہ اس کی طرف مبذول ہو سکتی ہے۔ میرے بیروت پہنچنے پر میرے ایک کزن نے اسے وہاں پہنچا دیا۔ مجھے مشورہ دیا گیا تھا کہ میں لبنان میں معذوروں کے لیے ایک خصوصی اسکول میں اسے داخل کرا دوں۔ اس کی تربیت او رعلاج خاصا مہنگا تھا‘ کیونکہ گردن توڑ بخار کے سبب وہ ذہنی طور پر نارمل نہیں تھا۔ مجھے اس کی خصوصی تعلیم کے اخراجات پورے کرنے تھے۔ اس لیے میں نے ریاض یونی ورسٹی میں نفسیات پڑھانے کی ایک پیش کش قبول کر لی۔

ریاض میں میری ملاقات پروفیسر احمد العسال‘ پروفیسر الاواء اور پروفیسر محمد مصطفی الاعظمی  جیسے ممتاز اسکالروں سے ہوئی۔ اس دوران علم نفسیات اور دیگر کرداری علوم (behavioural sciences) کی اسلامائزیشن میں میری دل چسپی تازہ ہوئی‘ جس کا آغاز میںنے ایک نوجوان طالب علم کے طور پر کیا تھا۔ میرے عزیز دوست مصطفی الاعظمی‘ جماعت اسلامی کے کارکن تھے۔انھوں نے مجھے بتایا: ’’میں نے سید مودودی سے مشورہ مانگا تھاکہ کیا : ’’مجھے جماعت کا ایک رکن بننا چاہیے یا حدیث کا ایک عالم‘‘۔ مولانا نے انھیں فرمایا تھا: ’’ہمارا کوئی بھی بھائی کارکن بن سکتا ہے‘ لیکن عالم (اسکالر) کوئی کوئی ہی بنتا ہے‘‘۔ چنانچہ پروفیسر الاعظمی کہتے ہیں ’’اور میں نے مطالعہ حدیث کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دیا‘‘۔ حدیث پاک کا کمپیوٹر پروگرام بنانے والے وہ پہلے شخص ہیں اور اس طرح اس میدان میں ان کا یہ کارنامہ ان کے تصور سے بھی باہر تھا۔ ان کی یونی ورسٹی نے حدیث کے لیے  ان کی اس خدمت پر ان کی تحسین کی اور انھیں ’’شاہ فیصل ایوارڈ‘‘ سے نوازا گیا۔

میرا احساس ہے کہ اسلامائزیشن وہ میدان ہے‘ جس میں‘ میں اسلام کی کچھ خدمت کر سکتا ہوں اور مجھے اپنی کوششوں کو اسی تک محدود کرنا چاہیے۔ اس خیال کو اس حقیقت سے بھی تقویت ملتی ہے کہ میرے سوڈان چھوڑنے کے جلد بعد ہی ہماری تحریک کے برادران نے‘ جس کا آغاز ہم نے ۱۹۶۹ء میں کیا تھا‘ اخوانیوں کے ساتھ مل کر محترم ڈاکٹر ترابی کی سیاسی اسلامی پارٹی کے برعکس ایک علیحدہ گروپ بنانے کا فیصلہ کر لیا۔ چنانچہ اپنے اس خیال کے تحت میں نے ۱۹۷۱ء سے علم نفسیات [سائیکالوجی] کی اسلامائزیشن پر کام جاری رکھا اور الحمدللہ طبی اخلاقیات اور متعلقہ موضوعات پر میری متعدد کتب اور مضامین شائع ہو چکے ہیں۔

جب میںنے اسلامائزیشن اور دیگر علمی کاموں پر اپنی کوششوں کو مرکوز کیا تو مجھ پر واضح ہونا شروع ہوا کہ میں اپنی روحانی بالیدگی کے لیے کوششوں کی ضرورت کو نظرانداز کرتا رہا ہوں۔ میں دوسروں کو تبدیل کرنے میں اتنا مصروف رہا کہ خود اپنی روحانی تطہیر کے پروگرام پر کوئی خاص توجہ نہ کرسکا۔ شائد یہ میری بڑھتی ہوئی عمر (بڑھاپے) کے سبب ہے یا اسلامی تحریکوں کے ساتھ اپنے کسی واہمے کی وجہ سے‘ یا ان دونوں وجوہ سے کہ میں اپنے آپ کو امام غزالی ؒ، المحاسبیؒ اور عبدالقادر جیلانی ؒ جیسوں کی طرف زیادہ مائل پاتا ہوں اور ان کا مطالعہ میرے لیے زیادہ لطف کا باعث ہے۔

  • مولانا مودودی‘ اسلامائزیشن کے اولین پیش رو: میں مولانا مودودی کا اس لیے بھی احسان مند ہوں کہ ان کی تحریروں سے مجھے نوجوانی میں ہی سماجی علوم کی اسلامائزیشن کا خیال سوجھا۔ مجھے یہ اعتراف بھی کرنا چاہیے کہ اس کی ایک وجہ امریکی نظام تعلیم بھی ہے جو تخلیقی صلاحیت اور تنقیدی فکر کی حوصلہ افزائی کرتا ہے‘ حتیٰ کہ اس وقت بھی جب کسی کی تخلیقی صلاحیت تسلیم شدہ سیکولر اصولوں کی پیروی سے انکار کر دے۔ اس لحاظ سے میں اپنے امریکی اور عرب پروفیسروں کی اچھی  پیشہ ورانہ تعلیم اور مدد کو نہیں بھول سکتا‘ مثلاً فریڈرک کورف‘ حبیب کیو رانی‘ ڈارلمپل الفرڈ اور ڈاکٹر نجارین۔ جب میں نے ۱۹۵۴ء میں بچوں کی نفسیات کا دوسرا کورس لیا تو اپنے ٹرم پیپر کا عنوان رکھا:  Child Development in Islam (اسلام میں بچوںکی تربیت)--- عمومی تعلیم کے کورس میں میرا مقالہ تھا: Islam: an Iconoclastic Movemant (اسلام: ایک بت شکن تحریک)۔ عمرانیات کے کورس میں میرا عنوان تھا: (Islamic Soical Movements in the Arab World) (عرب دنیا میں اسلامی عمرانی تحریکیں)--- یہ تمام مقالہ جات میں نے ۱۹۵۴ء اور ۱۹۵۶ء کے دوران لکھے تھے۔

میں اس وقت یہ مقالے سید مودودی اور پروفیسر محمد قطب کی تحریروں کو پڑھے بغیر نہیں لکھ سکتا تھا۔ چنانچہ سید مودودی کو اسلامائزیشن کا پیش رو کہنا‘ ایک ایسے شخص کی طرف سے کوئی مبالغہ نہیں ہے جو ان سے محبت رکھتا ہے اور ان کا احترام کرتا ہے۔ تعلیم‘ فلسفہ‘ اور سیاسیات کی اسلامائزیشن پر ان کی تحریریں گذشتہ صدی کے چوتھے عشرے کی ہیں‘ جب اس عملی تحریک کے جدید چیمپئن ابھی پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ان میں سے چند غیر تحریکی چیمپئن‘ اسلامائزیشن کی کوششیں کرنے والے سیدمودودی‘ پروفیسر محمد قطب اور مالک بن نبی جیسے پیش روؤں کے کام پر بے جا تنقید کرتے ہیں۔ میں نے بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی کے ۱۹۹۱ء میں ایک سیمی نار میں جو مقالہ پڑھا تھا ‘اس میں ایسے رویے پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار درج ذیل الفاظ میں کیا تھا:

ایک نیم دلی کا شکار دانش ور --- جو اتنا ’سائنسی‘ ہو چکا ہے کہ کوئی پختہ اسلامی بات نہیں کر سکتا‘ اپنی تسلیم شدہ مغربی مہارت اور کام کے باوجود اسلامائزیشن کے میدان میں زیادہ کارکردگی نہیں دکھا سکے گا --- جب کہ دوسری طرف ایک بے لوث اور مخلص مسلمان اسکالر‘ جو خود ایک سوشل سائنٹسٹ نہیں ہے‘ ممکن ہے اسلامائزیشن کے لیے کہیں زیادہ بہتر اور پائے دار کام کرے۔ بے شک اسلامائزیشن کے حقیقی پیش روؤں کی پہلی نسل میں ابوالاعلیٰ مودودی‘ سید قطب‘ پروفیسر محمد قطب اور مالک بن نبی جیسے نام شامل ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی اعلیٰ سند یافتہ سوشل سائنٹسٹ نہیں تھا‘ لیکن ان کے نام اور کارنامے مسلسل روشنی بکھیر رہے ہیں۔ ان کا لٹریچر کئی زبانوں میں سیکڑوں بار شائع ہو چکا ہے اور ہو رہا ہے‘ جس کے اثرات سوشل سائنٹسٹوں اور عام لوگوں پر مسلسل پڑ رہے ہیں۔

آج ہمارے چند (غیر تحریکی) رفقا ممکن ہے ان کے کام کے کچھ حصوں اور طریقۂ کار پر تنقید کریں‘ لیکن یہ تنقید غیر منصفانہ بھی ہے اور ناشکری کی علامت بھی۔ ان کی اصل تحریروں کو جو بعض مثالوں میں ۴۰ یا ۶۰سال پہلے لکھی گئی تھیں‘ آج کے تجزیے کے معیارات کے مطابق نہیں پرکھا جا سکتا۔ ان لوگوں میں سے بعض جو ان پر آج بے جا تنقید کر رہے ہیں‘ وہی ہیں جنھوں نے اپنے طالب علمی کے دور میں ان کی لاثانی تحریروں سے ہی سیکھ کر اپنے اپنے میدان میں اسلامی ذہن کے ساتھ مہارت کی سیڑھیاں چڑھی ہیں۔ کئی عشروں سے ان کی کتابیں جدید دنیا میں اسلامائزیشن کا واحد ماخذ ہیں۔ (بدری‘ ص ۱۳)

اس مقالے کو بعد ازاں انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی پریس نے Use and Abuse of Human Sciences in the Muslim World (مسلم ممالک میں انسانی علوم کا صحیح اور غلط استعمال)  کے عنوان سے شائع کیا۔

میں نے اسلامائزیشن پر اپنی پہلی کتاب Islam and Alcoholism  سید مودودیؒ کے احسانات کے اعتراف کے طور پر ان کے نام معنون کی ہے۔ جب یہ کتاب پہلی بار امریکن ٹرسٹ  پبلی کیشنز (واشنگٹن) کی طرف سے شائع ہوئی تو مجھے اس کے ڈائریکٹر پبلیکیشن برادر ابراہیم دسوقی نے بتایا کہ اس کتاب کی فروخت سید مودودی کی مشہور کتاب Towards Understanding Islam  کے بعد سب سے زیادہ رہی ہے۔ اگرچہ یہ میرے لیے ایک اعزاز تھا‘ لیکن میں جانتا تھا کہ جلد ہی میری کتاب کی فروخت نیچے چلی جائے گی‘ جب کہ سید مودودی کی کتاب مسلسل سرفہرست ہی رہی رہے گی۔ میری دوسری کتاب The Dilemma of Muslim Psychologists (مسلمان ماہرین نفسیات کا تذبذب ) بھی سید مودودی اور اسلامائزیشن کے میدان کے دیگر پیش کاروں کے نام معنون کی گئی ہے۔

  • امام مودودیؒ سے میری آخری ملاقات: جب صدر جعفر نمیری ایک جوابی انقلاب کے بعد دوبارہ کامیاب ہو گئے تو انھوں نے اپنی حکومت کو کمیونسٹوں کے اثرات سے بچانے اور سابق دشمنوں ]یعنی اسلامی عناصر[ کے ساتھ خیرسگالی کے اظہار کے لیے‘ سوڈانی یونی ورسٹیوں کو سوشلسٹ کمیونسٹ اسٹاف کی بالادستی سے نجات دلا دی۔ ۱۹۷۷ء میں مجھے خرطوم یونی ورسٹی میں نفسیات کے پروفیسر کے عہدے کی پیش کش کی گئی۔ صرف ایک سال میں‘ میں فیکلٹی آف ایجوکیشن کا ڈین بن گیا۔ ۱۹۷۸ء کی خزاں میں ]تب وفاقی وزیر‘ حکومت پاکستان[ برادر پروفیسر خورشید احمد نے مجھے اپنے منصوبہ بندی کمیشن آف پاکستان میں کنسلٹنٹ (صلاح کار) کے طور پر پاکستان آنے کی دعوت دی‘ تاکہ میڈیا خصوصاً ٹیلی ویژن کے پروگراموں کی اسلامائزیشن کے لیے ان کی مدد کر سکوں۔ ہمارے یونی ورسٹی حکام کو یہ تجویز خود صدر ضیاء الحق کی طرف سے دی گئی تھی۔

میں نے پاکستان میں میڈیا کے تمام مراکز کا دورہ کیا اور ذمہ دار افراد سے طویل گفتگوئیں کیں۔ میرا مقصد یہ تھا کہ میڈیا کو سامعین و ناظرین کے لیے بے لطف بنائے بغیر اسے کیسے اسلامائز کیا جائے؟ مجھے یاد ہے کہ میں نے پاکستان کی وزارت مواصلات کو مشورہ دیا تھا کہ وہ دیگر عرب اور مسلمان ممالک کی وزارتوں اور میڈیا سے متعلق اداروں کے ساتھ قریبی روابط پیدا کریں۔ مصر‘ شام اور ترکی میں اعلیٰ پیشہ وارانہ اسلامی تعلیمی پروگرام تیار کیے جا رہے تھے۔ ان پروگرامات کو اردو زبان میں ڈب کر کے پیش کیا جا سکتا تھا۔ میں نے اسلامی ذہن کے نوجوان افراد کو اعلیٰ معیار کے اسلامی پروگراموں کی تخلیق و تشکیل (پروڈکشن )کی تربیت کے لیے بیرون ملک بھجوانے کی تجویز بھی دی تھی۔

اپنی رپورٹ مکمل کرنے کے بعد میں اسے پروفیسر خورشید احمد کے ساتھ صدر مملکت کی خدمت میں پیش کرنے کے لیے گیا۔ شہید محمد ضیاء الحق نے اپنے گھر میں ہمارا استقبال کیا اور ’کافی‘ سے ہماری تواضع کی۔ وہ ایک سادہ اور منکسر المزاج صدر تھے۔ ہمارے درمیان دوستانہ گفتگو ہوئی اور پھر صدر ہمیں چھوڑنے باہر تک آئے اور خود میری کار کا دروازہ کھولنے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا۔ جب میں واپس سوڈان آ گیا تو ہمارے وزیر خارجہ نے مجھے بتایا کہ محمد ضیاء الحق نے سوڈان کے صدر جعفر نمیری کو ایک خط لکھا تھا‘ جس میں میرے دورے اور میڈیا کی اسلامائزیشن کے لیے میرے کام کو سراہا گیا تھا۔ انھوں نے اپنے خط میں لکھا تھا کہ وہ میری پیش کردہ رپورٹ سے متاثر ہوئے ہیں۔

سوڈان میری واپسی سے قبل پروفیسر خورشید احمد نے مجھے بتایا کہ پنجاب یونی ورسٹی لاہور میں تنظیم اساتذہ پاکستان کی ایک قومی کانفرنس ہو رہی ہے اور اس کے کچھ منتظم امریکن یونی ورسٹی بیروت میں میرے طالب علم رہے ہیں‘ اور وہ چاہتے ہیں کہ میں اس کانفرنس میں ایک کلیدی خطبہ دوں۔ مجھے یہ سن کر بہت خوشی ہوئی کیونکہ اس طرح میری اچھرہ میں سید مودودی سے بھی ملاقات ہو جائے گی۔ عظیم سید زادے سے میری یہ آخری ملاقات تھی۔

میں سید مودودی سے ان کے مطالعے کے کمرے میں ملا۔ وہ چاک و چوبند اور مضبوط شخص جو ۱۹۶۸ء میں اپنی کرسی پر عجز اور مضبوطی کے امتزاج کے ساتھ ایسے بیٹھتا تھا ‘ اب کافی کمزور نظر آ رہا تھا۔ ان کے بدن پر بیماری کے اثرات بہت واضح تھے۔ لیکن ان کا چہرہ اطاعت خداوندی اور تحمل کے روحانی نورسے دمک رہا تھا۔

اس بیماری کے عالم میں بھی ان کی حس مزاح ماند نہ پڑی تھی۔ انھوں نے مجھ سے کہا: ’’میں نے ان اسلامی کارکنوں کے بارے میں آپ کے طنزیہ تبصروں کے بارے میں سنا ہے جنھوں نے  سعودی عرب میں ملازمتیں اختیار کر لی تھیں اور اپنی جماعتوں کے اسلامی کام کے برعکس‘ جن کے لیے دولت زیادہ دل چسپی کا باعث بن چکی ہے‘‘۔ میں کہا کرتا تھا:’’جی ہاں‘ وہ ڈیپ فریزز میں رکھ دیے گئے ہیں‘‘۔ سید مودودی ؒنے جواب میں بے ساختہ کہا: ’’آپ کا تبصرہ درست ہے لیکن اس منفی انداز میں نہیں جو آپ نے اختیار کیا ہے۔ جب یہ کارکنان اور برادران اپنے ملکوں کو واپس جائیں گے تو وہ ایسے ہی اچھے ہوجائیں گے جیسے بالکل تازہ دم ہوں۔ ان شاء اﷲ وہ اپنی سابق سرگرمیوں کی طرف بالکل اسی طرح لوٹ آئیں گے جیسے ڈیپ فریزر میں رکھا ہوا کھانا تازہ رہتا ہے۔ جب آپ اسے گرمی پہنچاتے ہیں تو اس کاذائقہ اور خوشبو اسی طرح بحال ہو جاتی ہے جیسے اسے تازہ تازہ پکایا گیا ہو‘‘۔ ان کے اس یقین اور امید افزا جواب پر ہم دونوں ہنس پڑے۔ سید مودودیؒ کے اس امید افزا تبصرے اور اُس میں چھپی ہوئی شفقت اور رفقا کے بارے میں بات کرتے وقت احتیاط پسندی نے میرا دل موہ لیا۔ میری ان سے یہ آخری ملاقات تھی۔ وہ اس ملاقات کے تقریباً آٹھ ماہ بعد انتقال کر گئے۔ اناللّٰہ وانا الیہ راجعون!

دعا ہے کہ اﷲ تعالیٰ اپنے اس مخلص خادم ابوالاعلیٰ مودودیؒ سے راضی ہو جائے۔ ہم گواہی دیتے ہیں کہ انھوں نے اخلاص کے ساتھ اسی پیغام کے مطابق خدمت انجام دی ہے‘ جو حضرت محمد صلی اﷲ علیہ و سلم نے دنیا کو دیا تھا‘ جیسا کہ سرگودھا کے میاں رحیم بخش نے اپنے متبرک خواب میں    رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ و سلم کو انھوں نے تصدیق کرتے دیکھا تھا۔