سلمیٰ یاسمین نجمی


مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ نے جب تحریکِ اسلامی کا آغاز کیا تو اس وقت مسلم دنیا ایک انتشار کا شکار تھی۔ سرمایہ دارانہ نظام اور اشتراکیت کی کش مکش چل رہی تھی۔ استعماریت اور حریت پسندی کے درمیان معرکہ بپا تھا۔مسلم ممالک چونکہ کسی نہ کسی طاقت کے غلام تھے یا غلامی کے بندھنوں سے تازہ تازہ آزاد ہوئے تھے‘ اس لیے اپنے آقائوں کے نظریات کے زیراثر تھے۔ آدھی دنیا پر مغربی فکر کا غلبہ تھا تو باقی لوگ کمیونزم کے جال میں پھنس رہے تھے۔

یہی حال ہندستان کا تھا۔ ہم انگریز کے خلاف بھی تھے اور اس سے مرعوب بھی۔ اس کی تہذیب‘ کلچر‘تمدن‘ تعلیمی نظام‘ قانون‘ معیشت‘غرضیکہ ہر چیز جو اُن سے تعلق رکھتی تھی اچھی لگتی تھی۔ مغربی نظامِ حیات آئیڈیل لگنے لگا تھا‘ جو دراصل ایک بے خدا اور ملحدانہ نظامِ حیات تھا۔ خدا کو انھوں نے چرچ تک محدود کر دیا تھا۔ سو ہم بھی یہی چاہتے تھے کہ ہماری دنیا میں اللہ تعالیٰ دخل نہ دیںاور وہ مسجد تک ہی محدود رہیں۔ ہمیں اپنے مسلمان ہونے پر فخر کی بجاے شرم محسوس ہونے لگی تھی۔ اس میں کچھ قصور ہمارے بیش تر علما کا مگر زیادہ تر کٹھ ملائوں کا بھی تھا۔ انھوں نے دین کو چند عبادات اور رسومات کی تنگنائے میں قید کر دیا تھا۔ اسلام کے لامحدود اور انقلابی تصور کو محدود کر دیا تھا اور علم و اجتہاد کا دروازہ بند کر کے بس وہی باتیں کہتے رہتے تھے‘ جو اُن کے محدود تصورِ دین سے مطابقت رکھتی تھیں۔ ان بھلے لوگوں نے اسلام کو مختلف مسالک کی کوٹھڑیوں میں بند کرکے اس کی آفاقیت پر ضرب لگائی۔ اسلام کا پرچار کرنے کے بجاے مسلکوں کا پرچار کرنے لگے۔ اکثریت پیروں‘ فقیروں‘ کرامات اور بدعات میں مبتلا ہوگئی۔

ظاہر ہے کہ ان سب نظریات و افکار کا اثر عورتوں پر بھی پڑنا تھا۔ اسلام کے نام پر  تنگ نظر لوگوں نے عورت کو گھر میں پابند کر دیا۔ جائز ضروریات کے لیے نکلنا بھی ممنوع تھا۔ ان ضروریات کے لیے بھی وہ مردوں کی محتاج تھیںکہ  جو لا دیں وہی پہنیں‘ اوڑھیں اور وہی پکائیں‘ کھائیں۔ ان کی اپنی پسند ناپسند سب مرد کے تابع تھی۔ پڑھنا لکھنا بھی عورتوں کے لیے شجرممنوعہ تھا۔ بہت ہوا تو اتنی شدبدحاصل کرنے کی اجازت تھی کہ وہ ناظرہ قرآن پڑھ لیں اور مسئلے مسائل کے لیے پہلے تو چند چھوٹی چھوٹی نظمیں یاد کرا دی جاتیں اور پھر نئے زمانے میں بہشتی زیور۔ دین کے بارے میں مرد اپنی پسند ناپسند اور مزاج کے مطابق جو بتاتے تھے اس پر عمل کیا جاتا تھا۔ اس معاملے میں خود سے تحقیق کرنے ‘سوچنے یا رائے دینے کا اختیار نہ تھا۔ انھیں اپنے حقوق کا کوئی علم نہ تھا۔ وہ حق مہر اور حق وراثت سے محروم تھیں۔ طلاق کے اسلامی طریقے‘ نان نفقہ‘ شادی میں لڑکی کی مرضی کی اہمیت‘ بیوہ کی شادی اور اسی طرح کے دوسرے حقوق کا کوئی علم نہ تھا۔ اسی لیے انھوں نے کسی بھی بے انصافی کے خلاف نہ کبھی کوئی احتجاج کیا اور نہ مطالبہ پیش کیا۔

فرائض کے نام پر جو ذمہ داریاں اُن کے سر منڈھ دی جاتی تھیں‘ وہ دین اسلام نے عائد نہیں کی تھیں ‘بلکہ ہندو معاشرے کے زیراثر پروان چڑھنے والی دقیانوسی سوچ تھی‘ جو مسلمانوں کے اندر اچھی طرح سرایت کر گئی تھی اور اُسے اسلام کا لبادہ اوڑھا دیا گیا تھا۔ ہندو مذہب میں عورت کی حیثیت ایک داسی کی ہے‘ اور پیر کی جوتی سے زیادہ اس کی وقعت نہیں ہے۔ مرد اس کا آقا اور مالک ہے۔ اسی لیے بے سوچے سمجھے ہمارے ہاں بھی عام طور پر مرد کو عورت کا مالک کہا جاتا ہے۔ سو یہی سوچ ہماری بھی بن گئی۔ اس کی مرضی پوچھے بغیر اُسے جس کے پلّے چاہا باندھ دیا۔ کبھی کسی بڈھے سے بیاہ دیا تو کبھی کسی بچے سے‘ کبھی وٹے سٹے میں تبادلہ کر لیا تو کہیں ’ونّی‘ کی رسم کی بھینٹ چڑھا دیا ۔ ذات پات کا تصور بھی ہندوئوں سے ہی آیا تھا۔ لہٰذا‘ اگر اپنی ذات میں رشتے نہیں ہیں تو بے شک لڑکی گھر کی چوکھٹ پر بیٹھے بیٹھے بوڑھی ہوجائے۔ اسی طرح ۳۲روپے حق مہر باندھا جاتا تھااور یہ ’شرعی حق‘ مہر کہلاتا تھا‘ حالانکہ قرآن اور حدیث میں کہیں اس کا ذکر نہیں ملتا۔ یہی حال طلاق کا تھا کہ ایک ساتھ تین طلاقیں دے کر تن کے کپڑے بھی اُترواکر گھر سے نکال دیا جاتا تھا اور جب چاہا حلالہ کے قانون کی دھجیاں اڑا کر دوبارہ گھر میں بسا دیا۔ غرضیکہ عورت مکمل طور پر تہی دست بلکہ مردوں کے زیردست تھی۔ آج بھی اکثریت کی یہی حالت ہے۔

دوسری طرف دنیا میں ایک نیا نظریہ‘ ایک نئی سوچ‘ تحریکِ آزادیِ نسواں یا مساوات مردوزن کے نام پر جنم لے رہی تھی۔ یہ نظریہ اس بات کا قائل تھا کہ مرد اور عورت برابر ہیں اور آزاد ہیں۔ اس آزادی کی راہ میں اگر خدا اور مذہب حائل ہوتاہے تو اس سے بھی اعلان بیزاری کر دیا گیا۔ ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جیسے چاہے زندگی گزارے۔ کسی کو اس پر انگلی اٹھانے کی اجازت نہیں۔ اس سے فری سیکس اور تسکین کے لیے فطری یا غیرفطری جو طریقہ بھی اختیار کیا جائے اس کا حق حاصل ہوگیا۔ مذہب‘ ریاست اور فرد‘کوئی قدغن نہیں لگا سکتا۔ لہٰذا شادی‘ خاندان اور عفت و عصمت کا تصور پاش پاش ہوگیا۔

آزادیِ نسواں کا یہ زہر مسلمانوں کے اندر بھی پھیلنے لگا۔ مغربی تہذیب کی چکاچوند سے آنکھیں چندھیائی جا رہی تھیں۔ لہٰذا خواتین کی تعلیم کا چرچا ہونے لگا۔ عیسائی مشنری اداروں کے تحت بھی اسکول اور کالج کھلنے لگے۔ اکبر الٰہ آبادی نے طنزیہ انداز میں کہا    ؎

لڑکیاں پڑھ رہی ہیں انگریزی

قوم نے ڈھونڈ لی فلاح کی راہ

عورتوں کا اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا یا انگریزی پڑھنا بری بات نہیں۔ لیکن انگریز اور اس کے کافرانہ فکروفلسفہ اور تہذیب سے مرعوب ہونا اور اپنی روایات‘ اپنے تشخص اور طور طریقوں سے بے زار ہونا اور جان چھڑانا بری بات ہے۔

مغربی اباحیت زدہ لوگوں نے ایسا ادب تخلیق کرنا شروع کیا جس میں مسلّمہ مذہبی اور مشرقی اخلاقیات اور خدا و مذہب سے بغاوت کا درس دیا جانے لگا۔ ذہنوں کو مسموم کرنے کا ہر حربہ استعمال کیا جا رہا تھا۔ اسلامی پردہ رجعت پسندی کی علامت سمجھا جاتا تھا‘ لہٰذا سب سے پہلے اسی پر ضرب لگائی گئی اور مسلم عورت کو چادر اور چار دیواری سے نکالنے کی مہم کا آغاز کیا گیا۔ بالائی طبقے اور سرکاری ملازمین کے ہاں سے پردے اترنے لگے۔ مخلوط دعوتیں شروع ہوگئیں۔ راگ رنگ کی محفلیں‘ سینما اور تھیٹر شروع ہو گئے۔

اعلیٰ طبقے کی دیکھادیکھی مڈل کلاس جو کسی بھی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے اور اپنی روایات کی پاسبان بھی‘ ان خیالات سے متاثر ہونے لگی۔ بے پردگی‘ آزادی‘ مخلوط تعلیم اور اختلاطِ مرد وزن نے اسلامی ضابطوں‘ اخلاقی تقاضوں اور شرم وحیا کی روایات کو پارہ پارہ کردیا۔ گویا مذہبی تنگ نظری‘ مغربی مادہ پرستی‘ نام نہاد روشن خیالی اور اشتراکی دہریت کے تحت پستی کا سفر جاری رہا۔ اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے دو شخصیتیں سب سے زیادہ نمایاں نظرآتی ہیں ایک علامہ اقبالؒ اور دوسرے سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ۔ مولانا نے اپنی خداداد بصیرت اور تبحرعلمی سے کام لے کر مغربی نظریات کا بدصورت چہرہ اور اُن سے مرعوبیت کا پردہ چاک کیا۔ اس بے مہار آزادی کے خلاف آواز بلند کی‘ صحیح اسلامی حدود و قیود کا فرق واضح کیا اور ایک انتہائی متوازن اور معتدل نظریہ پیش کیا۔ مولانا‘ خواتین پر ایسی بے جا پابندی کے خلاف تھے جس کی وجہ سے عورتوں کی ذہانت‘ صلاحیت اور قابلیت کو اُبھرنے اور پنپنے کا موقع نہ ملے۔ اسی طرح وہ مغرب سے درآمد شدہ آزادی کے بھی خلاف تھے جو عورت کو اس کے مقام سے ہٹا کر ایک شوپیس بنا کر رکھ دے‘ یا اس کو اُن کاموں پر لگا دے جو اس کے مزاج‘ فطرت اور ساخت کے خلاف ہوں۔ انھوںنے قرآن و حدیث کی روشنی میں عورت کو اس کی صحیح شناخت اور حیثیت سے آگاہ کیا۔ اس کی حدود‘ حقوق اور فرائض بتائے۔

مولانا مودودی ؒکہتے ہیں:’’خواتین مردوں کا ضمیمہ نہیں ہیں‘ وہ اپنے دین کو مردوںکے حوالے نہ کریں‘‘۔ یعنی عورتیں اپنا ایک علیحدہ وجود رکھتی ہیں۔ بحیثیت انسان وہ مرد کے برابر ہیں‘ ان کو بھی اللہ تعالیٰ نے دل و دماغ‘ عقل و فہم اور شعور عطا کیا ہے۔ اُن کو خود دین کا علم اور فہم حاصل کرنا چاہیے اور اس کے مطابق زندگی گزارنی چاہیے۔ اللہ کی عائد کردہ حدود کے اندر رہتے ہوئے دعوت دین اور امربالمعروف اور نہی عن المنکرکا فریضہ انجام دینا چاہیے۔

اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کو جو دینی‘ معاشی‘ تمدنی اور معاشرتی حقوق دیے ہیں اُن کی چشم کشا وضاحت کی اور انھیں بتایا: تمھارا مقام مردوں کے قدموں میں نہیں بلکہ پہلو میں ہے۔ بس وہ ایک درجہ تم سے برترہیں لیکن ماں بن کر تم اُن سے تین درجے بلندہوجاتی ہو۔ تمھاری کفالت کی ذمہ داری مردوں کے کندھوں پر ہے۔ تمھیں دفتروں اور کارخانوں کی خاک چھاننے کی ضرورت نہیں--- وہ کہتے ہیں: ’’زندگی کی گاڑی کے دو پہیے ہیں۔ ایک پہیہ عورت ہے۔ اس کو ساتھ لیے بغیر کوئی انقلاب نہیں آسکتا‘ جب کہ یہ (یعنی عورت) تبدیلی نیچے سے لے کر اوپر تک کرتی ہے۔ نئی نسل عورت کی گود میں پلتی ہے‘‘۔

مولانا مودودیؒ نے مغرب کے مساوات مرد و زن کے نظریے پر بھی کاری ضرب لگائی اور کہا:’’یہ نظریہ محض ایک فریب ہے جس کے ذریعے مردوں نے عورتوں کے نازک کندھوں پر اپنی ذمہ داریوں کا بار بھی ڈال دیا اور گھر سے باہر لاکر اپنے عیش و عشرت کا سامان بھی کرلیا۔ اس کو معاشی خود کفالت کا سبق پڑھا کر دفتروں‘ کارخانوں میں لا بٹھایا اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنی فطری ذمہ داریاں بھی پوری کرنے پر مجبور ہے کیونکہ بہرحال بچوں کی پیدایش‘ رضاعت اور پرورش تو صرف عورت ہی کرسکتی ہے مرد نہیں‘ تو پھر یہ کیسی مساواتِ مرد و زن ہے؟ سید مودودیؒ کہتے ہیں: ’’عورت سے اُن فطری ذمہ داریوں کی بجاآوری کا بھی مطالبہ کیا جائے جس میں مرد اس کا شریک نہیں ہے اور پھر تمدنی ذمہ داریوں کا بوجھ بھی اس پر مرد کے برابر ڈال دیا جائے۔ اس سے کہا جائے کہ تو وہ ساری مصیبتیں برداشت کرجو فطرت نے تیرے اوپر ڈالی ہیں اور پھر ہمارے ساتھ آکر روزی کمانے کی مشقتیں بھی اُٹھا۔ سیاست‘ عدالت‘ صنعت و حرفت‘ تجارت و زراعت اور قیام امن اور مدافعت وطن کی خدمتوں میں بھی برابر کا حصہ لے۔ ہماری سوسائٹی میں آکر ہمارے دل بھی بہلا اور ہمارے لیے عیش و مسرت اور لطف و لذت کا سامان بھی فراہم کر۔ یہ عدل نہیں ظلم ہے‘ مساوات نہیں صریح نامساوات ہے‘‘۔ (پردہ‘ ص۱۶۳)

تیسری طرف انھوں نے اپنے بیش بہا حکیمانہ لٹریچر‘ اپنی فعال تنظیم جماعت اسلامی اور خصوصاً اسلامی جمعیت طلبہ اور اسلامی جمعیت طالبات جیسی موثر تنظیموں اور مولانا کی فکر سے متاثر ادبِ اسلامی کے شعرا اور ادیبوں کے ذریعے ہر قدم پر مغربی دہریت و اباحیت اور اشتراکیت کے فتنے کا مقابلہ کیا۔ اس وقت اس فتنے کے علم برداروں کا طوطی تعلیم ’ادب‘ ثقافت بلکہ ہر جگہ بول رہا تھا۔ نئی نسل اپنے اساتذہ اور ادیب شاعروں سے متاثر ہوتی ہے۔یہ مولانا ہی کے انقلاب آفریں لٹریچر کا کمال تھا کہ انھوں نے اس وقت کی نئی نسل کو تشکیک‘ نام نہاد ترقی پسندی کی کشش اور دلفریبی سے بچا کر سیدھے راستے پر ڈال دیا‘ جو بہت بڑا کارنامہ ہے۔ اگر مولانا نہ ہوتے اور اُن کی برپا کی ہوئی یہ تحریک نہ ہوتی تو بہت ممکن ہے کہ افغانستان اور اس کے بعد پاکستان بھی روس کے سرخ سیلاب کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتا۔

مختصر یہ کہ سید مودودیؒ کی بدولت ہم خواتین سرخ انقلاب کی بجاے اسلامی انقلاب کا خواب دیکھنے لگیں۔ مغربی مساوات کے فریب سے آزاد ہو گئیں۔ ہم نے مردوں کو قوامون علی النساء تسلیم کرلیا اور ہمیں اپنے حقوق سے آگاہی بھی حاصل ہوگئی ۔ ہمیں پتا چل گیا کہ عظمتِ آدم کا تاج صرف مردوں کے سر پر نہیں ہے‘ ہم بھی اُن کی طرح عزت اور شرف رکھتی ہیں۔ ہم مردوں کی کنیزیں نہیں‘ بلکہ اُن کے گھروں کی ملکہ ہیں۔ ہم شمع محفل نہیں بلکہ چراغِ خانہ ہیں‘ اور ہم ایسا چراغ نہیں ہیں جسے مرد جب چاہے پھونک مار کر بجھا دے۔ ہمیں پورا حق حاصل ہے کہ ہم خود قرآن کو پڑھیں‘ اس کو سمجھیں اور اس پر عمل کریں۔ ہمیں ‘ اسلام میں عطا کردہ اپنے غصب شدہ حقوق کے لیے جدوجہد کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔

آج بھی افراط و تفریط موجود ہے۔انتہا پسند طبقے اپنی شدت پسندی پر اسی طرح جمے ہوئے ہیں۔ رواداری کا نام و نشان نہیںہے۔ نفرت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ آج بھی کہا جا رہا ہے کہ نو سال کی بچی کو پردہ کرا دینا چاہیے۔ آواز کا پردہ اتنا سخت ہے کہ ٹیلی فون پر سلام کا جواب دینا بھی کفر ہے۔ لڑکیوں کو صرف دینی مدرسوں میں تعلیم حاصل کرنی چاہیے۔ عورتوں کے لیے اپنے محرموں کے ساتھ بھی گھر سے باہر نکلنا یا سیروتفریح کے لیے جانا غیراسلامی ہے۔ کچھ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ عورت شدید گرمی میں بھی دستانے اور موزے پہنے رکھے۔ نماز پڑھتے ہوئے   کوٹ اور عبا یا پہنے۔ یہاں تک کہ خوب صورت جوتے بھی پہنے نہیں جا سکتے‘کیونکہ وہ بھی مردوں کے جذبات کو انگیخت کرسکتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اپنے نفس پر قابو پانے اور غض بصر کرنے کی بجاے ساری کوششیں اس نکتے پر کیوں ہیں کہ عورت ہی دراصل برائی کی جڑ ہے‘ بس اس جڑ کو گھر میں بند کر دینا چاہیے۔

دوسری طرف دیکھیے الیکٹرانک میڈیا کے دوش پر یورپین تہذیب اپنی تمام تر خباثتوں کے ساتھ ہر گھر میں پہنچ رہی ہے۔ پردہ تو ایک طرف رہا‘ لباس اتررہے ہیں۔ مغربی لباس پسندیدہ لباس بن چکا ہے۔ ماڈلز اور فلم ایکٹریس آئیڈیل بن چکی ہیں۔ رقص و سرود خاص طور پر پاپ میوزک‘ ڈرامے‘ فلمیں‘ تھیٹر‘ دفتروں میں ملازمتیں اور مخلوط تعلیم ہمارے کلچر کا حصہ بن گئے ہیں۔ لڑکے لڑکیاں آزادانہ مل رہے ہیں۔ ہوٹلنگ کا رواج بھی عام ہو رہا ہے۔ خفیہ شادیاں بلکہ بغیر شادی کے رہنے کا رواج آ رہا ہے۔ اب تو’گے کلب‘ بھی بن رہے ہیں۔ کن کن خرافات کا ذکر کیا جائے۔

اسی طرح ہندو تہذیب بھی پوری قوت سے حملہ آور ہے۔ خاص طور پر ہماری شادی کی تقریبات انھی کی شادیوں کا چربہ بن گئی ہیں۔ بس آگ کے گرد پھیرے لگانے کی کسر رہ گئی ہے۔ ہولی‘ دیوالی‘ بسنت‘ راکھی‘ بندھن کے تہوار منائے جا رہے ہیں۔ ویلنٹائن ڈے بھی منانا شروع کر دیا ہے۔

ان سب کے علاوہ بھی آج کی مسلمان عورت کو بہت سے چیلنج درپیش ہیں۔ لڑکیاں جدید تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ ظاہر ہے کہ تعلیم حاصل کرتی ہیں تو پھر ملازمتیں بھی کرتی ہیں۔ ایسی صورت حال میں کیا کیا جائے؟ انھیں اگر ایک طرف گھٹن سے نکالنا ہے تو دوسری طرف دوسری تہذیبوں کی بے کنار آزادی سے بھی بچانا ہے۔ بقول سیدمودودیؒ: ’’یہ حرم کا قلعہ اگر مغربی تہذیب اور اس کے غلط اثرات سے محفوظ رہے گا تو قوم بھی غلط راہوں پر جانے سے محفوظ رہے گی‘ اور اگر اس قلعے میں کوئی بداخلاقی راہ پا گئی تو نسلوں کو بدی کے طوفان سے کوئی نہیں بچاسکتا‘‘۔

ان چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ہم خواتین کو مولانا مودودیؒ کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔ وہ اس عہد کے مجتہد اور مفکرہیں۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اُن کے لٹریچر کو غور سے پڑھیں  اور اسے لوگوں تک پہنچائیں اور پیش آمدہ مسائل پر غوروفکر کی اجتماعی کوششوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ مولانا کے الفاظ ہیں: ’’عورت کے ہاتھ میں بڑی طاقت ہے۔ عورت کی پسند اور ناپسند ہر مرد دیکھتا ہے‘‘۔ مزید کہتے ہیں: ’’انقلاب یا ارتقا ہمیشہ قوت ہی کے اثر سے رونما ہوا ہے اور قوت ڈھل جانے کا نام نہیں‘ ڈھال دینے کا نام ہے۔ مڑجانے کو قوت نہیں کہتے‘ موڑ دینے کو کہتے ہیں‘‘--- آیئے‘ خواتین ہمیں اللہ تعالیٰ نے جو بھی طاقت یا قوت عنایت کی ہے‘ اس سے کام لے کر اپنے گھروں اور اپنے معاشرے میں وہ انقلاب لانے کی کوشش کریں‘ جس کا خواب اقبالؒ اور مودودیؒ نے دیکھا تھا ۔