محمود عالم


عالم اسلام کی ایک عظیم شخصیت ‘ ورلڈ اسمبلی آف مسلم یوتھ(WAMY) ‘ ریاض کے سیکرٹری جنرل اور مملکت سعودی عرب کی مجلس شوریٰ کے ممبر ڈاکٹر مانع بن حماد الجہنیؒ ۴ اگست ۲۰۰۲ء بروز اتوار صبح ساڑھے سات بجے ریاض ایئرپورٹ جاتے ہوئے کارکے حادثے میں انتقال کر گئے۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون--- ان کی موت عالم اسلام کا ایک عظیم خسارہ ہے۔ ان کے اُٹھ جانے سے ایک ایسا خلا پیدا ہو گیا ہے جو فوری طور پر پورا ہوتا نظر نہیں آتا۔ اللہ تعالیٰ اس خلا کو پُرکرنے کا ساماں فرمائے۔

شیخ مانع الجہنیؒ ۱۹۴۳ء میں حجاز میں پیدا ہوئے۔ ابتدا میںانھوں نے الیکٹرونک انجینیرنگ میں کئی ٹیکنیکل سرٹیفیکیٹس حاصل کیے۔ پھر طائف اسکول میں شام کی کلاسوں میں داخلہ لیا اور وہاں سے سیکنڈری اسکول کا امتحان پاس کیا اور پورے ملک میں اول آئے۔ ۱۹۷۲ء میں ریاض یونی ورسٹی سے انگریزی زبان و ادب میں بی اے کا امتحان پاس کیا۔ ۱۹۷۶ء میں انڈیانا یونی ورسٹی‘ امریکہ سے ایم اے (انگریزی) کا امتحان پاس کیا اور ۱۹۸۲ء میں وہیں سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ۱۹۸۲ء سے ۱۹۹۳ء تک کنگ سعود    یونی ورسٹی ریاض کے شعبہ انگریزی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پرفائز رہے۔ ۱۹۹۲ء سے ۱۹۹۵ء تک اسی شعبے میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کے عہدے پر کام کیا۔

ڈاکٹر مانع کو ابتدا ہی سے طلبہ کے معاملات سے دل چسپی رہی اور وہ متعدد طلبہ اور نوجوانوں کی تنظیموں کے ممبر اور صدررہے۔ ۱۹۸۳ء سے ۱۹۸۶ء تک وہ ورلڈ اسمبلی آف مسلم یوتھ کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل رہے۔ ۱۹۸۷ء سے اس کے سیکرٹری جنرل تھے۔ ۱۹۹۷ء میں وہ سعودی عرب کی مجلس شوریٰ کے ممبر بنائے گئے۔ انتقال کے وقت تک وہ ان دونوں عہدوں پر فائز تھے۔

ڈاکٹرمانع نے بحیثیت سیکرٹری جنرل ’وامی‘ کے کاموں کو بڑی وسعت دی۔ ملک اور بیرون ملک میں اس کے متعدد علاقائی دفاتر قائم کیے۔ مسلم طلبہ اور نوجوانوں کو اسلامی دعوت اور خدمت خلق کے کام میں متحرک کرنے کے لیے متعدد بار پوری دنیا کے دورے کیے۔ متعدد اسلامی تنظیموں نے ’وامی‘ کی ممبرشپ اختیار کی‘ جن میں طلبہ اور نوجوانوں کی تنظیمیں خاص ہیں۔ اس سے وابستہ تنظیموں کی تعداد ہزاروں تک پہنچتی ہے۔ باضابطہ ممبر تنظیموں کی تعداد ۴۵۵ ہے۔

ڈاکٹر مانع کو اُمت مسلمہ کے مسائل سے خصوصی دل چسپی رہی۔ مسلمان جہاں کہیں اقلیت میں ہیں ان کے معاملات میں وہ گہری دلچسپی لیتے رہے۔ چنانچہ ’وامی‘ کی چھٹی عالمی کانفرنس ’’الاقلیات المسلمہ‘‘ کے موضوع پر ریاض میں ہوئی تھی جس میں مسلمانوں کے تعلیمی‘ اقتصادی‘ ثقافتی اور تہذیبی مسائل زیربحث آئے۔ مسلم اقلیت پر مظالم کو دیکھ کر ان کا دل بے چین ہو جاتا تھا۔ بوسنیا‘ چیچنیا‘ کوسووا‘ برما‘ کشمیر اور افغانستان اور جہاں کہیں مسلمانوں پر مصیبت آئی ڈاکٹر مانع نے بروقت اس کی طرف مسلم دنیا کی توجہ مبذول کرائی اور فوراً ایک کمیٹی تشکیل دے کر ریلیف کا کام شروع کروایا۔ عالم اسلام کے خلاف جب بھی کوئی سازش ہوئی‘ اس کو بے نقاب کرنے میں سب سے پہلا بیان ڈاکٹر مانع ہی کا ہوا کرتا تھا۔ وہ نہایت جرأت مندقائد تھے اور حق بات کہنے میں ذرا بھی پس و پیش نہیں کرتے تھے۔

اقوام متحدہ کی طرف سے جب بھی ایسی عالمی کانفرنس منعقد کی گئی جس میں اسلامی تہذیب و روایات کے خلاف تجاویز پاس کی گئیں تو اس کی مخالفت میں سب سے پہلی اور سب سے مؤثر آواز ڈاکٹر مانع ہی کی بلند ہوتی۔ عالم گیریت اور ’’نیا عالمی نظام‘‘ کے تحت اسلام اور اسلامی تہذیب کے خلاف کچھ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تو اسلام کی مدافعت کے لیے سب سے پہلے وہی سامنے آئے۔ ڈاکٹر مانع کی سب سے نمایاں خوبی یہ تھی کہ وہ عالم اسلام کے حالات سے باخبر رہتے تھے اور بوقت ضرورت فوراً مؤثر کارروائی شروع کردیتے تھے۔ اگرچہ وہ بنیادی طور پر انگریزی ادب کے اسکالر تھے لیکن تنظیمی امور میں ان کو خاص مہارت حاصل تھی۔ وہ تقسیم کار کے سائنٹیفک اصول پر عمل کرتے تھے۔ تمام اہم شعبوں کی نگرانی کے لیے انھوں نے الگ الگ کمیٹی بنا دی تھی اور وہ صرف اس کی سرپرستی کرتے تھے۔ ان کی نگاہ بہت ہی دُور رس تھی۔ ان ممالک میں جہاں مسلمان اکثر ناخواندہ ہیں اور غربت و افلاس کا شکار ہیں‘ عیسائی مشنریاں میڈیکل ریلیف کے نام پر مسلمانوں کو نصرانی بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ڈاکٹر مانع نے مسلم ڈاکٹروں کی کمیٹی بنائی تاکہ اس میدان میں وہ ریلیف پہنچائیں اور اپنا داعیانہ کردار ادا کریں۔ عالم اسلام کو جن سنگین حالات کا سامنا ہے وہ نہ صرف ان کو خوب سمجھتے تھے بلکہ مسلم دنیا اور بالخصوص مسلم نوجوانوں کو ان کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار بھی کرنا چاہتے تھے۔ ’وامی‘ کی آٹھویں بین الاقوامی کانفرنس کا موضوع بھی یہی تھا۔ عالم گیریت کے نام پر عالم اسلام کو جن نئے خطرات کا سامنا ہے ان سے نبردآزماہونے کے لیے ’وامی‘ کی نویں عالمی کانفرنس کا انعقاد اسی موضوع پر اکتوبر میں ہونا طے پایا ہے۔

فلسطین کے مسئلے سے ان کو خاص دل چسپی تھی۔ القدس کے لیے وہ برابر آواز بلند کرتے رہے اور علمی‘ فکری اور عملی سطح پر ہر ممکن تعاون اہل انتفاضہ سے کرتے رہے۔ مجلہ المستقبل الاسلامی میں ان کے بیانات اور مضامین اس کی شہادت دیتے ہیں۔ یہی معاملہ کشمیر کے مسلمانوں کی جنگ آزادی سے تھا۔ اس سلسلے میں ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ ہندستانی مسلمانوں کے مسائل سے بھی وہ غافل نہیں رہے۔ موجودہ حکومت نے جب درسی کتابوں میں تاریخی حقائق کا چہرہ مسخ کرنا شروع کیا تو ڈاکٹر مانع نے اس کا سخت نوٹس لیا اور حکومت ہند کو اس علمی بددیانتی کی طرف توجہ دلائی۔ ہندستان اور جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے مسائل میں ان کی غیر معمولی دلچسپی ہی تھی کہ انھوں نے حالات ناسازگار ہوتے ہوئے بھی ’وامی‘ کا علاقائی دفتر دہلی میں قائم کیا۔

ڈاکٹر مانع کا معمول تھا کہ وہ ریڈیو اور ٹی وی کے علاوہ تقریباً تمام عربی اور انگریزی روزناموں پر ایک طائرانہ نظر ضرور ڈالتے تھے۔ ان خبروں کوخاص طور پر پڑھتے تھے جو ’وامی‘ کے شعبہ بیرونی تعلقات اور انفارمیشن سیکرٹری یا کسی شعبے کے سیکرٹری نشان زد کر کے ان کے پاس بھیجتے تھے۔ ان کے پاس دفتری امور سے متعلق جتنے معاملات اور کاغذات پہنچتے تھے وہ روزانہ ان کو نپٹا دیا کرتے تھے خواہ اس کے لیے ان کو رات کے ۱۲ بجے تک رکنا پڑے یا دوپہر کا کھانا عصر کے وقت کھانا پڑے۔

کتب بینی ان کا خاص مشغلہ تھا۔ ریسرچ میگزین اور کتابوں سے ان کی دل چسپی حد سے بڑھی ہوئی تھی۔ ان کے ذاتی کتب خانے میں ۱۵ ہزار سے زائد کتابیں ہوں گی ۔ جن کتابوں کی راقم الحروف نے ترتیب و درجہ بندی کرکے ان کی فہرست کمپیوٹر کی مدد سے تیار کی تھی ان کی تعداد ۱۱ ہزار ۳ سو ۵۵ ہے۔ گذشتہ پانچ برسوں میں ان میں جو اضافہ ہوا وہ ان کے علاوہ ہے۔ سال میں ۲۵‘ ۳۰ مرتبہ بیرون ملک کا دورہ ہوتا تھا اور ہر دورے سے واپسی کے وقت ان کے ساتھ دو تین کارٹن کتابوں کے ضرورہوا کرتے تھے۔ کتابیں پڑھنے اور جمع کرنے کا شوق ’’عشق‘‘ کی حد تک پہنچا ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حافظہ بھی نہایت عمدہ دیا تھا اور بفضلہ تعالیٰ ذہنی وفکری سطح بھی نہایت بلند تھی۔ کئی کتابوں کا انھوں نے ترجمہ کیا اور متعدد مضامین اور کتابیں خود بھی لکھیں۔ سیمی نار اور کانفرنس کے مقالات اور ریڈیائی خطبات کی تعداد سیکڑوں میں ہو گی۔ یہ سب چیزیں’وامی‘ کی آرکائیو میں محفوظ ہیں۔ ان کی تین کتابوں کا اُردو میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ ۱- اسلامی بیداری مستقبل کے تناظر میں (ترجمہ: مظہر سیدعالم)‘ ۲- اسلام اور امن عالم ‘۳- تضامن اسلامی اور مملکت سعودی عرب (ترجمہ: ڈاکٹر محمد سمیع اختر)۔

وہ نہایت خوش مزاج اور خوش اخلاق انسان تھے‘ عربوں کی مہمان نوازی اور خوش اخلاقی اور اسلامی روایات کے وہ امین تھے۔ راقم الحروف کو بارہا ان کے گھر پر ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ چائے کی ٹرے خود اُٹھا کرلاتے اور خود سے چائے بنا کر پیش کرتے۔ پیالی خالی بھی نہیں ہو پاتی تھی کہ دوسری بنا دیتے۔ یہ خوش اخلاقی ان کے سبھی بچوں اور تمام اہل خانہ میں پائی جاتی ہے۔

کفایت شعاری‘ سادگی‘ تواضع اور خاکساری ان کے مزاج کا خاصہ تھیں۔ ایک بار ’وامی‘ کی مسجد میں رحل بے ترتیب رکھے ہوئے تھے۔ کئی لوگ اس وقت مسجد میں موجود تھے جن سے وہ ان کو ترتیب سے رکھنے کے لیے کہہ سکتے تھے لیکن انھوں نے کسی کو حکم دینے کے بجائے خود ہی یہ کام انجام دیا۔ اور ایسا اکثر کرتے تھے کہ کسی کام کا دوسروں کو حکم دینے کے بجائے خود ہی آگے بڑھ کر ‘ کر ڈالتے۔ ایک مرتبہ جب شروع شروع میں لائبریری کی کتابوں کی ترتیب کا کام چل ہی رہا تھا‘ وہ تشریف لائے‘ ایک شیلف میں کتابیں ابھی بے ترتیب رکھی تھیں‘ خود کھڑے کھڑے ترتیب دی اور بغیر کچھ کہے چلے گئے۔ اسٹیشنری کے استعمال میں عام طور پر اہل عرب فضول خرچی کرتے ہیں اور اوراق برباد کرتے ہیں لیکن ڈاکٹر مانع کو میں نے اس معاملے میں بڑا محتاط پایا۔ وہ ایک ورق کاغذ بھی برباد نہیں کرتے تھے۔ ٹیوب لائٹ بلاوجہ جلتی ہوئی دیکھتے توخود بجھا دیتے۔ جب تک دل کا آپریشن نہیں ہوا تھا مزدوروں اور کارکنوں کے ساتھ بھاری بوجھ اٹھانے میں ان کا ہاتھ بٹاتے تھے۔

خاکسار کا معمول ہے کہ کہیں کوئی اخبار کا ٹکڑا جس پر اللہ کا نام یا قرآنی آیت کے ہونے کا امکان ہو‘ اسے بڑی حفاظت سے اُٹھا کر کبھی اپنی جیب میں یا پھر ایسی اُونچی جگہ رکھ دیتا ہے جہاں وہ محفوظ رہے۔ ایک بار جب میں ان کی ذاتی لائبریری کو ترتیب دے رہا تھا تو انھوں نے مجھ سے فرمایا کہ جو کتابیں مکرر (duplicate) ہیں ان کو ایک جگہ الگ کر دوں۔ میں نے مکرر کتابوں کو ایک جگہ ٹیبل پر رکھنا شروع کیا۔ قرآن پاک کے کچھ نسخے بھی مکررتھے جو معمولی کاغذ پر چھپے ہوئے خستہ حال تھے۔ میں نے ان نسخوں کوبھی ان مکررات کے ساتھ رکھ دیا۔ میں بھول گیا کہ یہ عام کتاب نہیں ہے بلکہ قرآن مجید ہے۔ ڈاکٹر مانع آئے تو قرآن پاک کے ان نسخوں کو وہاں سے اُٹھا کر الماری میں سب سے اُونچے شیلف میں سجا دیا۔ زندگی میںپہلی بار اپنے قد کے چھوٹے ہونے کا احساس شدت سے ہوا۔

راقم الحروف نے ان کو خوش مزاج اور خوش اخلاق پایا۔ ’وامی‘ کے اسٹاف سے وہ دوستانہ ماحول میںنہایت نرم لہجے میں گفتگو کرتے تھے۔ طبیعت میں مزاح کا پہلو بھی تھا۔ ایک بار کتابوں کو ترتیب دیتے وقت ایک کتاب میں سونے کی ایک چوڑی ملی۔ میں نے اس کو میز پر رکھ دیا۔ دیکھا تو فرمایا کہ ’’محمود‘ یہ تمھاری تو نہیں ہے؟‘‘

جب بھی سفر پر جاتے میں ان کی خیر و عافیت سے واپسی کے لیے دعائیں کرتا‘ یہاں تک کہ وہ لوٹ آتے۔ ’’اے اللہ! ان کی ہر چیز میں برکت دے‘‘ یہ تو ان کے حق میں میری مستقل دعا تھی۔ انتقال کے دن بھی فجر کی نماز کے بعد ان کے حق میں یہی دعا کی تھی۔ خبر پرانی ہو گئی لیکن یقین نہیں آتا۔ دل کہتا ہے ایسے انسان کو مرنا نہیں چاہیے لیکن قدرت کا فیصلہ اٹل ہے۔ دل اُداس ہے‘ آنکھیں اشک بار ہیں لیکن زبان سے ہم وہی کہیںگے جس کی تعلیم حضور اقدسؐ نے دی ہے: انا للّٰہ وانا الیہ راجعون!