آصف محمود


سپریم کورٹ کے ججز کی تعیناتی کا معاملہ ہو تو یہ ہمارے ہاں قومی سیاسی موقف اور بحث کا محور بن جاتا ہے۔ لیکن سخت حیرت کی بات یہ ہے کہ پارلیمان سے لے کر صحافت تک کہیں یہ معاملہ زیربحث نہیں آ سکا کہ وفاقی شرعی عدالت اس وقت ۸ کے بجائے صرف دو ججز سے کام کررہی ہے اور ایک عرصے سے ججز کی آسامیاں خالی پڑی ہیں ۔

 سپریم کورٹ میں مقدمات کی سماعت کے لیے جب بنچ تشکیل دیے جاتے ہیں،تو ان کی خبریں ذرائع ابلاغ پر اہتمام سے شائع کی جاتی، لیکن اس نکتے پر کبھی کسی نے آواز نہیں اٹھائی کہ سپریم کورٹ کا شریعت ایپلیٹ بنچ دوسال سے معطل ہے اور اس کے سامنے پچھلی صدی کے مقدمات زیر التواپڑے ہیں کہ بنچ بنے تو ان کی سماعت ہو۔

ریاست پاکستان جس کا مملکتی مذہب آئین کے آرٹیکل ۲ کے تحت اسلام ہے، اور جس کے آئین میں اللہ کی حاکمیت اعلیٰ کو تسلیم کیا گیا ہے، اور جس کے آرٹیکل ۳۱ کے تحت ریاست پابند ہے کہ ایسے اقدامات کرے، جن کے نتیجے میں لوگ قرآن و سنت کی روشنی میں اپنی زندگی کا مفہوم سمجھ سکیں۔اس کے ذمہ داران واقعتاً اپنا نظمِ اجتماعی قرآن وسنت کے مطابق مرتب کرنا چاہتے ہیں یا اسلام کی بات یہاں محض برائے وزن بیان کی جاتی ہے؟اگر عملی سطح پر اہلِ حل و عقد کا طرزِ عمل دیکھا جائے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ معاملاتِ زندگی نو آبادیاتی دور غلامی کے قانونی ڈھانچے کے مطابق ہی چلانا چاہتے ہیں۔

یہاں سپریم کورٹ کا شریعت ایپلیٹ بنچ بنایا گیا اور طے کیا گیا کہ اس میں دو جید علما جج بھی شامل ہو ں گے۔ یہ دو جج وفاقی شرعی عدالت سے بھی لیے جا سکتے ہیں اور صدر مملکت چاہیں تو جناب چیف جسٹس کی مشاورت سے براہ راست علمائے کرام میں سے ان کا انتخاب کیا جا سکتا ہے۔لیکن ان علما ججوں کے ساتھ جو ’ حُسن سلوک‘ کیا جا رہا ہے، آئیے اس پر ایک نظر ڈال لیتے ہیں تاکہ آپ کو اس باب میں کوئی شک نہ رہے کہ ہمارا انتظامی ڈھانچا اور مقتدرہ ’ اسلامائزیشن ‘ کے لیے کتنے سنجیدہ ہیں۔

سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان کی مجموعی تنخواہ دس لاکھ روپے سے زیادہ ہے، تقریباً ۱۳یا ۱۴لاکھ روپے ماہانہ۔ لیکن اسی سپریم کورٹ کے شریعت ایپلیٹ بنچ کے علما جج صاحبان کی تنخواہ مبلغ ۲ لاکھ۶۶ ہزار روپے ہے، جو ضلعی عدالت کے جج کی تنخواہ سے بھی شاید کچھ کم ہی ہے۔ سپریم کورٹ کے شریعت ایپلیٹ بنچ کے علما جج صاحبان کو مراعات یعنی گاڑی ، ڈرائیور ، دفتر ، سٹاف وغیرہ کی سہولیات صرف اس دوران ملتی ہیں، جب وہ بنچ میں کسی مقدمے کی سماعت کر رہے ہوں۔ مقدمے کی سماعت کے دس دن ( اور زیادہ سے زیادہ پندرہ دن) بعد ان سے یہ تمام مراعات لے لی جاتی ہیں۔فیصلہ سازوں نے طے کر رکھا ہے کہ سپریم کورٹ کے شریعت ایپلیٹ بنچ کے علما جج صاحبان کو میڈیکل الائونس بھی نہیں دینا، وہ بیمار ہوں تو ہوتے رہیں۔ اس ملک میں ایک چوکیدار کو بھی میڈیکل الائونس دیا جاتا ہے، لیکن سپریم کورٹ کے شریعت ایپلیٹ بنچ کے علما جج صاحبان کو نہیں دینا۔ (سچ پوچھیں تو علما ججوں کے ساتھ اس سے بہتر سلوک ایسٹ انڈیا کمپنی کے ابتدائی دور میں کیا گیا تھا)۔

 اب آئیے ملک کے نظام عدل کے اس اہم ترین اسلامی اور شرعی ستون کی فعالیت کا عالم دیکھ لیتے ہیں۔ یاد رہے کہ شریعت ایپلیٹ بنچ ہی نے وہ مقدمات سننے ہوتے ہیں، جن کا تعلق اسلامی قانون کی تعبیر سے ہو۔ حتیٰ کہ اگر کسی کے خیال میں کوئی قانون اسلام سے متصادم ہے تو یہ مقدمہ بھی فیڈرل شریعت کورٹ سے پھر سپریم کورٹ کے شریعت ایپلیٹ بنچ میں آتا ہے۔

’رشیدہ پٹیل کیس‘ کا فیصلہ ۱۹۸۹ء میں وفاقی شرعی عدالت نے کیا۔ اس فیصلے میں لکھا گیا کہ ’زنا بالجبر کا جرم اصل میں حرابہ ہے‘ ۔ اس فیصلے کے خلاف اپیل ہوئی اور شریعت ایپلیٹ بنچ نے ابھی تک اس پر فیصلہ نہیں کیا۔ ۳۲سال گزر گئے، فیصلہ معطل پڑا ہوا ہے۔ بنچ بنے گا اور بنچ کو کیس بھیجا جائے گا، تب بنچ فیصلہ سنائے گا۔ اس اپیل پر فیصلہ آ جاتا تو شاید جنرل پر ویز مشرف کو ویمن پروٹیکشن بل لانا ہی نہ پڑتا۔ یاد رہے کہ مشرف دور کی اس قانون سازی کے خلاف بھی وفاقی شرعی عدالت فیصلہ دے چکی ہے اور سپریم کورٹ کے شریعت ایپلیٹ بنچ کے پاس اپیل زیر التوا ہے۔ آخری مرتبہ اس بنچ نے ۲۰۱۰ء میں اس اپیل پر سماعت کی تھی۔ ۱۲ سال گزر گئے اپیل وہیں کی وہیں پڑی ہے۔ اب بنچ بنے گا اور بنچ کو کیس بھیجا جائے گا، تب بنچ فیصلہ سنائے گا۔

یہی معاملہ کورٹ فیس ایکٹ کے ساتھ ہوا۔ مغلوں کے زمانے میںیہ نہیں ہوتا تھا۔ برطانوی نو آبادیاتی دور غلامی میں رعایا سے کہا گیا: ’’انصاف لینے آتے ہو تو فیس بھی ادا کیا کرو‘‘۔ چنانچہ کورٹ فیس عائد کر دی گئی۔ فیڈرل شریعت کورٹ نے ۱۹۹۴ء میں اس کورٹ فیس کے خلاف فیصلہ دیا کہ ’’یہ غیر اسلامی ہے اور انصاف کے لیے عدالت آنے والوں سے یہ فیس نہیں لی جا سکتی‘‘۔ لیکن اس فیصلے کے خلاف اپیل ہوئی اور اس اپیل پر آج تک فیصلہ نہیں ہو سکا۔ بنچ بنے گا اور بنچ کو کیس بھیجا جائے گا، تب بنچ فیصلہ سنائے گا۔ سپریم کورٹ کے شریعت ایپلیٹ بنچ نے آخری سماعت ۵دسمبر ۲۰۲۰ء کو کی تھی۔پانچ دن سماعت ہوئی اور پھر بنچ ٹوٹ گیا۔یہیںیہ نکتہ بھی اہم ہے کہ پچھلے ۲۰،۳۰ سال میں شریعت ایپلیٹ بنچ کے سامنے ایسے کتنے مقدمات سماعت کے لیے رکھے گئے، جن کا تعلق قوانین کو اسلام کی رُو سے جانچنے سے تھا کیونکہ اس بنچ کا اصل مقصد تو یہی تھا۔

پارلیمان اگر آئین سے مخلص ہے ، اگر وہ واقعی آئین کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے، تو اسے اس سوال کا جواب دینا ہو گا کہ سپریم کورٹ کے شریعت ایپلیٹ بنچ کی عدم فعالیت کی وجوہ کیا ہیں اور اس سلسلے میں وہ ضروری قانون سازی کیوں نہیں کر پا رہی؟ مقدمات کب تک التوا میں رہیں گے اور بنچ کب تک نہیں بنیں گے؟ سماعت کب تک نہیں ہو گی؟ یہ سوالات اب معاشرے کے اجتماعی ضمیر کا رستا ہوا ناسور بن چکے ہیں۔ اس سلسلے میں اگر قانو ن سازی کی ضرورت ہے تو کیوں نہیں کی جاتی؟ کم از کم اتنا قانونی ضابطہ تو بنا دیا جائے کہ یہ بنچ زیادہ سے زیادہ کتنے دن یا ہفتے یا مہینے یا سال غیرفعال رہ سکتا ہے اور اسے زیر التوا مقدمات کا فیصلہ کتنے عرصے میں کر دینا چاہیے۔ابھی تو کسی کو کچھ معلوم نہیں کہ کب بنچ بنے گا اور کب سماعت ہو گی؟ کیا اسلامائزیشن اس طرح ہوتی ہے؟