محسنہ علی


۱۸مارچ کو سحری کے وقت تباہ حال غزہ پہ بغیر کسی وارننگ کے اسرائیلی فضائیہ نے سو سے زیادہ جنگی جہازوں سے بمباری کرکے۲۷۹ معصوم بچوں سمیت ۴۲۹ ؍ افراد کو شہید اور ۵۳۰ کو زخمی کردیا۔ اسرائیل نے اس بار حماس کی غیر فوجی قیادت کو نشانہ بنا تے ہوئے غز ہ میں حکومت کی نگران کمیٹی کے سربراہ عصام الدعلیس، حماس کے سیاسی بیورو کے رکن یاسر حرب، وزارت انصاف کے انڈرسیکرٹری، احمد الحطا، وزارت داخلہ کے انڈر سیکرٹری میجر جنرل محمود ابو وفا اور انٹرنل سیکورٹی سروس کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بہجت ابو سلطان کوشہید کردیا۔ ان کے علاوہ اسلامی جہاد کے ناجی ابو سیف عرف ابو حمزہ نےبھی اپنےخاندان کے متعدد افراد کے ساتھ جام شہادت نوش کیا ۔

اس پر حماس نےیہ بیان دیا: ’’ہم اپنےعوام، سرزمین اور اپنے مقدس مقامات کے دفاع کے لیے ثابت قدمی اور شہادت کی تمنا کے ساتھ دشمن کی جارحیت میں شہید ہونے والے رہنماؤں کی شہادت پر سوگ کا اعلان کرتے ہیں‘‘۔ فلسطینی عوامی قائدین کا یہ عظیم گروپ لوگوں کے ساتھ ثابت قدمی، استقامت اور یک جہتی کے ساتھ دشمن کے ساتھ نبرد آزما رہا ۔ اس نے اپنے لوگوں کی خدمت، ان کی سلامتی اور سماجی استحکام کو مضبوط بنانے میں اَ ن تھک محنت کی شاندار مثال قائم کی۔ حماس نے زور دیا کہ ’’یہ جرائم فلسطینی عوام کی خواہش یا ان کی قیادت اور مزاحمت کے ساتھ ان کی مضبوط یک جہتی کو نہیں توڑسکیں گے۔ یہ جارحیت ہماری قوم کے عزم اور ثابت قدمی کو مزید مضبوط کرے گی‘‘۔حماس کے مطابق: ’’امریکی انتظامیہ کا یہ اعتراف کہ اسے صہیونی جارحیت کے بارے میں پیشگی مطلع کر دیا گیا تھا، فلسطینیوں کی نسل کشی میں شراکت داری کا واضح ثبوت ہے۔ واشنگٹن کی لامحدود سیاسی اور فوجی مدد نے امریکا کوغزہ میں خواتین اور بچوں کے قتل عام کےجرم میں برابر کا شریک ثابت کیا ہے‘‘۔

اسرائیل کی داخلی سیاست سے جو لوگ واقف ہیں وہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اچانک نتین یاہو پر یہ درندگی کا جنون کیوں سوار ہوگیا؟ امریکا کے معروف ماہر معاشیات پروفیسر جیفری شاس نے نیتن یاہو کو گہرے کالے کتے سے تعبیر کیا تھا اور اس ویڈیو کو اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے شیئر کرکے امریکی صدر نے بلا واسطہ اس کی تائید کردی تھی۔ اسی درندہ صفت نیتن یاہو سے یہ ظالمانہ حرکت کروائی ۔ یاہو کی پہلی مجبوری اپنی اقلیتی حکومت کا تحفظ ہے۔ اس کو سہارادینے والے امن کی دشمن جنگ پسند پارٹیاں ہیں۔

فلسطینی وزارتِ خارجہ نے ان حملوں کو غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے بین الاقوامی کوششوں میں خلل ڈالنے کی ظالمانہ حرکت قرار دیا اور کہا ہے کہ سیاسی حل ہی امن کے حصول کا واحد راستہ ہے۔ الجزیرہ نے اسرائیلی حملوں کو غیرانسانی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔

ان حملوں نے خطّے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو اور زیادہ بڑھا دیا ہے۔

یاد رہے اسرائیلی حکومت نے کہا ہے کہ یہ آپریشن غیرمعینہ مدت تک جاری رہے گا اور اس میں مزید شدت آئے گی۔ اب اسرائیل، حماس کے خلاف مزید فوجی طاقت کے ساتھ کارروائی کرے گا۔ اسرائیلی رائے عامہ میں ایک قابلِ ذکر تعداد اس حملے کی مخالف ہے، اور وہ چاہتے ہیں کہ پُرامن طریقے سے مسائل حل ہوں، جب کہ نیتن یاہو کا فاشسٹ ٹولہ غزہ میں مکمل نسل کشی پر تُلا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اس مقصد کے لیے یہ ٹولا اسلحے کے ساتھ ساتھ، پانی، خوراک، ادویات اور چھت کو چھین کر، مظلوم فلسطینیوں کی زندگی تباہ کرنے کے خوفناک منصوبے پر عمل کر رہا ہے۔ اسرائیل کی اس تازہ درندگی کا جو بھی پس منظر ہو، لیکن اصل چیز یہ ہے کہ اسے مسلم دُنیا کی طرف سے کسی دبائو کا سامنا نہیں اور امریکا کی اندھی سرپرستی اس کی درندگی کو بڑھانے کا ذریعہ ہے۔