طاہر کامران


سلطنتوں کے عروج و زوال کے مطالعے نے مؤرخین کو حیرتوں کے جہان کی سیر کرا ڈالی ہے۔ اس موضوع نے اہل دانش کو غور و فکر پر اُبھارا ہے۔ مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے اور مختلف صدیوں میں دانش کے چراغ روشن کرنے والے مفکرین ابنِ خلدون [م:۱۴۰۶ء]، ایڈورڈگبن [م:۱۷۹۴ء]، آرنلڈ ٹائن بی [م:۱۹۷۵ء]، اوسوالڈ سپینگلر[۱۹۳۶ء]، پال کینیڈی [پ:۱۹۴۵ء]، ول ڈیورانٹ [م:۱۹۸۱ء] اور جدید دور کے ایرک ہوبسباوم [م:۲۰۱۲ء]اور جان میئرشہائیمر[پ:۱۹۴۷ء] ایک فکر انگیز نکتے پر متفق نظر آتے ہیں: ’’سلطنتیں عام طور پر محض اچانک کسی آفت یا بیرونی حملے کی وجہ سے نہیں گرتیں۔ بلکہ، وہ اپنی کامیابی سے پیدا ہونے والے سست اور مجموعی عمل کے ذریعے اندر سے کھوکھلی ہوتی ہیں۔ ’طاقت‘ توسیع کو جنم دیتی ہے، توسیع ذمہ داریوں میں اضافہ کرتی ہے۔ سماجی ہم آہنگی میں پیچیدگی، اداروں اور اخلاقی مقاصد کے اہداف کو کمزور کر دیتی ہے‘‘___ جیسا کہ ول ڈیورانٹ نے کہا تھا:’’ایک عظیم تہذیب باہر سے اُس وقت تک فتح نہیں ہوتی جب تک کہ وہ خود کو اپنے اندر سے تباہ نہ کر لے‘‘۔ تاریخ بتاتی ہے کہ یہ کوئی اخلاقی کہاوت نہیں بلکہ ایک ساختیاتی قانون ہے۔ 

ابنِ خلدون کے ہاں ’عصبیت کا تصور‘ یعنی مشترکہ سختیوں سے پیدا ہونے والی سماجی یک جہتی، شاہی عروج و زوال کی اثر انگیز وضاحتوں میں سے ایک ہے۔ اپنی کتاب مقدمہ میں انھوں نے استدلال کیا کہ سیاسی اقتدار گروہی یک جہتی سے اُبھرتا ہے۔ یہ گروہی یک جہتی جو عام طور پر آباد مراکز کے بجائے سرحدی علاقوں میں پروان چڑھتی ہے۔ سلطنتیں اس وقت اُبھرتی ہیں، جب متحدگروہ زوال پذیر مراکز کو فتح کر لیتے ہیں، اور ان کا زوال تب شروع ہوتا ہے جب خوش حالی نظم و ضبط کو ختم کردیتی ہے، عیاشی سادگی کی جگہ لے لیتی ہے اور حکمران رضامندی کے بجائے جبر کا سہارا لیتے ہیں۔ قدیم ایرانی سلطنت اس متحرک عمل کی ایک مثال ہے۔ ’سائرس‘ اور ’دارا‘ کے دور میں، فارس (ایران) کی طاقت صرف فوجی فتوحات پر نہیں بلکہ ایک ایسی جامع شاہی اخلاقیات پر مبنی تھی، جو مقامی رسوم کا احترام کرتی تھی اور اشرافیہ کو شامل کر کے وسیع علاقوں میں وفاداری پیدا کرتی تھی۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ، درباری عیش و عشرت، شاہی سازشوں اور کرائے کے فوجیوں پر انحصار نے فارس کے اتحاد کو ختم کر دیا۔ جب سکندر اعظم فتوحات کرتا وہاں پہنچا، تو فارس کے پاس وسائل بلاشبہ بے پناہ تھے، لیکن ان کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کے لیے داخلی اتحاد اور اخلاقی عزم کی کمی تھی۔ 

ایڈورڈ گبن نے، روم پر لکھتے ہوئے، اسی رجحان کو شہری فضیلت (Civic Virtue) کے خاتمے کے پس منظر میں بیان کیا۔ گبن کے نزدیک: ’’روم کا زوال کوئی اچانک حادثہ نہیں بلکہ  بڑے شاہانہ کرّوفر کا فطری اور ناگزیر‘ نتیجہ تھا۔ جمہوری نظم و ضبط، شہری فوجوں اور عوامی فرض کے کلچر نے روم کے عروج کو ممکن بنایا تھا، لیکن شاہی حد سے تجاوز (Imperial Overreach) نے شہریوں اور سپاہیوں کو ’کرائے کے فوجیوں‘ میں بدل کر رکھ دیا۔ سلطنت کی سرحدیں اس کی مالی اور سماجی استطاعت سے زیادہ تیزی سے پھیلیں، جس نے اسے زوال کے گھاٹ اُتار دیا‘‘۔ پال کینیڈی نے کہا: ’’روم ایک لمحے میں نہیں گرا___ یہ صدیوں تک فوجی اخراجات، بیوروکریٹک جمود اور گرتے ہوئے عوامی اعتماد کے بوجھ تلے کھوکھلا ہوتا رہا‘‘۔ 

منگول سلطنت، ابنِ خلدون کے فکری دائرے کی ایک تیز رفتار شکل پیش کرتی ہے۔ اس کا عروج تاریخ کی شاید شدید ترین’عصبیت‘ پر مبنی تھا، جو قابلیت کے سختی سے کیے گئے اعتراف اور کرشماتی قیادت کے ذریعے پیدا ہوئی تھی۔ پھر چنگیز خان نے اس اتحاد کو فوجی لچک میں بدل دیا اور آگے بڑھ کر تیزرفتار منگول توسیع نے ہی اس کے استحکام کو نقصان پہنچایا۔ جب فتوحات کے بعد نظم و نسق کا وقت آیا، تو یہ اتحاد، خاندانی اور علاقائی تقسیم میں بکھر گیا۔ عیاشی نے سادگی کی جگہ لے لی اور سلطنت ایسی خانقاہوں میں تقسیم ہو گئی جن میں وہ اصل سماجی جڑاؤ (Social Glue) موجود نہ تھا۔ یہاں ٹائن بی کا نکتہ قابلِ غور ہے: ’’تہذیبیں اس لیے زوال پذیر نہیں ہوتیں کہ وہ شکست کھا جاتی ہیں، بلکہ اس لیے زوال آشنا ہوتی ہیں کہ وہ نئے چیلنجوں کا تخلیقی جواب دینے میں ناکام رہتی ہیں‘‘۔ 

عثمانی سلطنت نے ثابت کیا ہے کہ بقا کا انحصار ادارہ جاتی لچک پر ہے۔ اس کا عروج سرحدی یک جہتی، مذہبی جواز اور انتظامی جدت کا مجموعہ تھا، خاص طور پر متنوع آبادیوں کی لچکدار شمولیت اور ایک پیشہ ور بیوروکریسی کے ذریعے ممکن ہوا۔ صدیوں تک عثمانیوں نے بدلتی ہوئی فوجی،  جغرافیائی اور سیاسی حقیقتوں کے ساتھ کامیابی سے مطابقت پیدا کی۔ لیکن ان کا زوال تب شروع ہوا جب ادارے جمود کا شکار ہو گئے، اصلاحات نے مقتدر اشرافیہ کو خطرے میں ڈال دیا اور اقتصادی طاقت بحرِ اوقیانوس کی دنیا کی طرف منتقل ہو گئی۔ ٹائن بی کا یہ انتباہ کہ ’’تہذیبیں قتل ہونے کے بجائے خودکشی سے مرتی ہیں‘‘ عثمانی سلطنت اس کی ایک درست مثال ہے۔ 

پال کینیڈی کا برطانوی سلطنت کا تجزیہ معاشی ڈھانچے کو سامنے لاتا ہے۔ برطانیہ بحری غلبے، صنعتی پیداوار اور نسبتاً جامع سیاسی اداروں کے ذریعے اُبھرا، جنھوں نے سرمائے اور جدت کو متحرک کیا۔ برطانوی سلطنت کا انحصار قبضے سے زیادہ تجارت، مالیات اور سمندری کنٹرول پر تھا۔ تاہم، اس کامیابی نے عالمی وعدوں کو جنم دیا، جو برطانیہ کی معاشی استطاعت سے بڑھ گئے۔ دوعالمی جنگوں اور عالمی نظام کو برقرار رکھنے کی لاگت نے اس کی مالی بنیاد اور ساکھ کو ختم کر دیا۔ جیساکہ پال کینیڈی نے خبردار کیا تھا: ’’فوجی طاقت معاشی بنیادوں کے ساتھ ابھرتی اور گرتی ہے۔ برطانیہ کا زوال اہلیت یا ہمت کی ناکامی نہیں تھی، بلکہ حساب کتاب (Arithmetic) کی ناکامی تھی‘‘۔ 

ایرک ہوبسباوم اس دلیل کو مزید گہرا کرتے ہوئے شاہی عروج و زوال کو سرمایہ داری کے طویل چکروں کے اندر سمو دیتے ہیں: سلطنتیں محض سیاسی اکائیاں نہیں ہوتیں، وہ مخصوص معاشی نظاموں کا اظہار ہوتی ہیں۔ انیسویں صدی کی یورپی سلطنتیں صنعتی سرمایہ داری اور شاہی طاقت کے ذریعے فعال عالمی منڈیوں سے لازم و ملزوم تھیں۔ ان کا خاتمہ محض اخلاقی زوال کے سبب نہیں ہوا، بلکہ اس معاشی نظام کی تھکن کی وجہ سے ہوا جس نے انھیں سہارا دیا تھا۔ ہوبسباوم کے نزدیک: ’’بیسویں صدی نے ایک ساختیاتی دراڑ پیدا کی۔ عوامی سیاست، قوم پرستی اور صنعتی جنگ نے سلطنت کو سیاسی طور پر غیر قانونی اور معاشی طور پر ناقابلِ برداشت بنا دیا۔ عالمی جنگیں کوئی اتفاقی واقعات نہیں بلکہ نظامی بحران کی علامات تھیں‘‘۔ 

یہ فریم ورک آج کی اندھی، بہری اور منہ زور امریکی طاقت کو سمجھنے کے لیے ناگزیر ہے۔ ریاستہائے متحدہ امریکا سابقہ سلطنتوں سے ان معنوں میں مختلف ہے کہ اس کی رسمی کالونیاں نہیں ہیں، لیکن اس کے باوجود اس کی غیر رسمی سلطنت، ڈالر کی بالادستی، فوجی اڈوں، عالمی اداروں اور ثقافتی تسلط پر مبنی ہے، جو کسی نوآبادی سے کم نہیں۔ یہ امریکی برتری ایک غیر معمولی سنگم سے پیدا ہوئی: براعظمی پیمانے پر وسائل، صنعتی بالادستی، دوسری عالمی جنگ میں فتح اور حریف طاقتوں کی تباہی۔ ۱۹۴۵ء کے بعد دُنیا کا نظم و ضبط اس بات کی عکاسی کرتا ہے جسے ہوبسباوم نے سرمایہ داری کا ’سنہرا دور‘ کہا تھا، جب امریکی پیداواری صلاحیت، سماجی ہم آہنگی اور ادارہ جاتی قیادت ایک ساتھ جمع تھے۔ ۱۹۷۰ء کے عشرے سے اس معاشی ماڈل کے کٹاؤ نے صنعتی زوال، مالیاتی استحصال (Financialisation) اور بڑھتی ہوئی عدم مساوات کے ذریعے امریکی بالادستی کی مادی بنیادوں کو کمزور کر دیا ہے۔ اس نقطۂ نظر سے، اُمڈتا ہوا امریکی زوال بنیادی طور پر اقدار یا قیادت کی ناکامی نہیں ہے، بلکہ تیزی سے نازک ہوتی ہوئی معاشی بنیاد پر شاہانہ وعدوں کو برقرار رکھنے کا نتیجہ ہے۔ 

جہاں ہوبسباوم نے تاریخی ڈھانچا فراہم کیا ہے، وہیں جان جوزف میئرشہائیمر نے طاقت کی سیاست کی سفاکانہ منطق فراہم کی ہے۔ اپنی کتابThe Treagedy of Great Power Politics  میں میئرشہائیمر کا استدلال ہے کہ بین الاقوامی سیاست انارکی کے تابع ہے۔ کسی اعلیٰ اتھارٹی کی عدم موجودگی میں، بڑی طاقتیں بقا کو یقینی بنانے کے لیے غلبہ حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ تنازعہ کوئی حادثہ نہیں بلکہ طاقت کی منتقلی کا ایک ساختیاتی نتیجہ ہے۔ چیلنجوں کا عروج لازمی طور پر غالب طاقت میں خوف پیدا کرتا ہے، قطع نظر یہ کہ اس کے ارادے کیا ہوں۔ ادارے اور اصول رویے میں اعتدال تو لا سکتے ہیں، لیکن وہ نظام کے بنیادی تضادات کو ختم نہیں کر سکتے۔ 

یہ حقیقت پسندانہ نقطۂ نظر تھوسیڈائڈز (Thucydides) کی قدیم بصیرت کو مزید واضح کرتا ہے۔ چین کا عروج، ایتھنز یا جرمنی کے عروج کی طرح، حکمران طاقت میں خوف پیدا کرتا ہے، اس لیے نہیں کہ چیلنج منفرد طور پر جارحانہ ہے، بلکہ اس لیے کہ اس کی بڑھتی ہوئی صلاحیتیں موجودہ عالمی نظامِ مراتب (Hierarchy) کے لیے خطرہ ہیں۔ چین کو روکنے کی امریکی کوششیں اور امریکی طاقت کو مشرقی ایشیا سے نکالنے کی چینی کوششیں محض پالیسی انتخاب نہیں ہیں، بلکہ یہ ساختیاتی ضرورتیںاور تقاضے ہیں۔ 

میئرشہائیمر ایک مکرر شاہی بیماری کو بھی بے نقاب کرتے ہیں: زوال پذیر طاقتیں اکثر نتائج کو کنٹرول کرنے کی اپنی صلاحیت کا غلط اندازہ لگاتی ہیں، چیلنجوں کے عزم کو کم سمجھتی ہیں، اور ایسی حکمتِ عملی اپناتی ہیں جو ان کے خلاف توازن پیدا کرنے کے عمل کو تیز کردیتی ہیں۔ اس لحاظ سے’حد سے تجاوز‘ نہ صرف معاشی بلکہ تزویراتی (Strategic) بھی ہوتا ہے۔ 

 جب اس مشترکہ تاریخی اور حقیقت پسندانہ عینک سے دیکھا جائے، تو امریکی سلطنت کے لیے یہ آثار فکر انگیز ہیں۔ ابنِ خلدون اور فوکویاما کمزور ہوتی ہوئی اندرونی ہم آہنگی اور ادارہ جاتی لچک کو نوٹ کریں گے، گبن بے پناہ بڑائی کے خطرات کو پہچانے گا، پال کینیڈی حد سے بڑھے ہوئے وعدوں کی نشاندہی کرے گا، ہوبسباوم مٹتی ہوئی معاشی بنیادوں پر زور دیں گے، اور میئرشہائیمر خبردار کریں گے کہ طاقت کی منتقلی فطری طور پر خطرناک ہوتی ہے۔ تاہم، برطانیہ کی طرح، ریاستہائے متحدہ امریکا کے اچانک گرنے کا امکان نہیں ہے۔ لیکن اس بات کا امکان بھی کم ہے کہ وہ ایسی دنیا میں اپنی بلامقابلہ برتری برقرار رکھ سکے، جہاں معاشی غلبہ اور تزویراتی عزم مشرق کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ 

دوسری طرف، چین کا عروج ان بہت سی خصوصیات کو ظاہر کرتا ہے جو ابتدائی شاہی عروج سے وابستہ ہیں: معاشی تحرک، تکنیکی ترقی، مضبوط ریاستی صلاحیت، اور قومی استقلال و ترقیاتی کامیابی پر مبنی ’عصبیت‘ کی جدید شکل۔ تاہم، تاریخ احتیاط کا مشورہ دیتی ہے۔ جیسے جیسے چین امیر اور پیچیدہ ہوتا جائے گا، اسے عدم مساوات، داخلی سطح پر آبادیاتی دباؤ، ادارہ جاتی جمود اور حد سے تجاوز کے انھی چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے گا، جنھوں نے تمام بڑی طاقتوں کے وجود کو جھنجھوڑا ہے۔ 

عالمی شاہی تاریخ کا دائمی سبق یہ نہیں ہے کہ زوال ناگزیر ہے، بلکہ یہ ہے کہ طاقت اپنے اندر اپنے ہی کٹاؤ کے بیج رکھتی ہے۔ سلطنتیں یک جہتی، لچک اور جامع اداروں کے ذریعے ابھرتی ہیں، وہ تب زوال پذیر ہوتی ہیں، جب کامیابی اتحاد کو کھا جاتی ہے، ذمہ داریاں وسائل سے بڑھ جاتی ہیں، اشرافیہ اصلاحات کے خلاف مزاحمت کرتی ہے اور معاشرے نئی حقیقتوں کا تخلیقی جواب دینے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں۔ جیسا کہ ابنِ خلدون، گبن، ٹائن بی ،ہوبسباوم اور میئرشہائیمر ہمیں مختلف انداز میں یاد دلاتے ہیں کہ سلطنتیں تاریخ سے فرار حاصل نہیں کرتیں ، وہ اس کے تابع ہوتی ہیں۔ المیہ یہ نہیں ہے کہ طاقت ختم ہو جاتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اکثر اپنی بنیادوں کی حدود کو تب پہچانتی ہیں، جب تبدیلی مشکل اور تنازعہ یقینی ہو جاتا ہے۔(ترجمہ: س م خ)