ذوالفقا ر احمد چیمہ


پچھلے دنوں بھارت کے ایک معروف فلمی شاعر جاوید اختر اور ندوۃ العلماء لکھنؤ کے فارغ التحصیل نوجوان اسکالر مفتی شمائل ندوی کے درمیان جو مباحثہ ہوا وہ دلچسپی سے دیکھا گیا۔

 اس مباحثے میں ایک دلچسپی کا پہلو یہ ہے کہ وجودِ الٰہی کے بارے میں جب بھی اور جہاں بھی بات ہوگی مسلمان اسے دلچسپی سے سنیں گے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ انڈیا میں نریندر مودی کی ہندو نسل پرست حکومت نے خاص منصوبہ بندی کے تحت مسلمانوں کی زندگی عذاب بنا کر رکھ دی ہے۔ وہ سماجی، معاشی اور سیاسی طور پر دلّتوں سے بھی زیادہ نیچے دھکیلے جارہے ہیں۔ مسلمان تیزی سے اپنی مذہبی اور ثقافتی شناخت کھو رہے ہیں اور ان کی نئی نسل زندہ رہنے کے لیے اپنے اسلامی نام چھپانے یا تبدیل کرنے پر مجبور ہورہی ہے۔ ان دگرگوں حالات میں کچھ معروف لوگوں نے تو اپنی معاشرتی بقا کے لیے اپنی اسلامی شناخت کو پس پشت ڈالنے کے مختلف حربے بھی استعمال کرنا شروع کردیئے ہیں، جیسے کہ ان میں سے کچھ نے ہندو عورتوں سے شادیاں کرلی ہیں اور کچھ جاویداختر جیسے اسلام سے لاتعلقی کا اعلان کرتے پھرتے ہیں۔ ان صاحب نے تو اپنے آپ کو انڈین سرکار اور نسل پرستوں کے دربار میں قابلِ قبول بنانے کے لیے اللہ کے وجود کے انکار اور اکثر اسلام اور پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کو اپنا وتیرہ بنارکھا ہے۔ یہاں تک کہ مئی ۲۰۲۵ء کی پاک انڈیا جنگ کے دوران اُس نے میڈیا پر کہا: اگر مجھے پاکستان اور دوزخ میں سے کسی ایک چیز کا انتخاب کرنا ہو تو میں دوزخ کا انتخاب کروں گا۔

پہلی نظر میں تو مذکورہ مباحثہ غیر متوازن (Uneven) نظر آتا تھا کیونکہ ایک جانب بے باک اور اخلاق و تہذیبی روایات کا باغی شاعر اور مکالمہ نگار تھا، جو لفظوں کا استعمال خوب جانتا ہے۔ دوسری طرف ایک دینی مدرسے کا پڑھا ہوا مؤدّب اور لفظوں کے انتخاب میں محتاط اور ذمّہ دار نوجوان تھا۔ اس جیسے نوجوانوں کے بارے میں عمومی تاثر یہی ہے کہ وہ جدید علوم اور فلسفے سے ناآشنا ہوتے ہیں اور انگریزی زبان کی تو بالکل ہی شدھ بدھ نہیں رکھتے۔ مگر اس مباحثے میں لاکھوں لوگوں نے دیکھا کہ یہ نوجوان اسکالر انگریزی اصطلاحات کا استعمال بھی جانتا ہے اور موضوع سے متعلق فلسفیانہ نکات سے بھی بھرپور شناسائی رکھتا ہے۔ 

جاوید اختر نے لفاظی کا سہارا لیا اور وہی گھسے پٹے سوال اُٹھائے جن کی تکرار ملحدین صدیوں سے کرتے آرہے ہیں کہ ’’اگر خدا موجود ہے تو دنیا میں برائی کیوں ہے اور لوگ مظالم کا شکار کیوں ہیں؟‘‘ کوئی ان عقل کے اندھوں سے یہ پوچھے کہ نوع انسان کی دوسری تمام مخلوقات پر فضیلت کی اساس ہی انسان کی فطرت میں ودیعت کردہ اچھائی اور بُرائی کی پہچان کی بناپر اس کا اپنی آزاد مرضی اور اختیار سے اچھائی کو اپنانا ہے (الشمس ۹۱:۷-۱۰)۔اگر بُرائی نہ ہوتی تو انسان اپنی آزاد مرضی سے اچھائی اختیار کرنے کا اختیار کیسے استعمال کرتا؟اندھیرا ہی روشنی کو شناخت بخشتا ہے، ’شر‘ دیکھ کر ہی ’خیر‘ کی پہچان ہوتی ہے۔ اگر ظلم اور گناہ نہ ہوتا تو پھر یہی دنیا جنّت بن جاتی۔ ان تمام سوالات کا تو دُنیا اور انسانوں کے خالق و مالک نے اپنی کتاب میں بڑی تفصیل سے جواب دیا ہے۔ 

مباحثے کے دوران جاوید اختر کو شمائل ندوی صاحب سے کئی الفاظ کا مطلب اور مفہوم پوچھنا پڑا، جس سے اس کے سطحی علم اور دانش کی قلعی کھل گئی۔ شمائل ندوی ابھی نوجوان ہیں، عمر کے ساتھ جب ان کے مطالعے اور تجربے میں اضافہ ہوگا تو ان کے دلائل میں مزید پختگی، گہرائی اور گیرائی پیدا ہوگی۔ تاہم، اس مباحثے میں شمائل ندوی نے جاوید اختر جیسے گھاگ کو چاروںشانے چِت کردیا۔ 

 حقیقت یہ ہے کہ ذاتِ باری تعالیٰ کا وجود مناظروں اور مباحثوں کا ہرگز محتاج نہیں۔ جن کے دلوں پر مہر لگ چکی ہو، جو لوگ نفرت کی حدوں کو چھوتے ہوئے شدید قسم کے تعصّب کا شکار ہوں، وہ تو شاید اپنے پیش روؤں کی طرح، ’میں نہ مانوں‘ کی ضد پر ہی قائم رہیں، ورنہ وہ لوگ جو تعصب کے بغیر عقل اور شعور کو استعمال کرتے ہوں، انھیں اپنے اردگرد ایسی بیسیوں ناقابلِ تردید شہادتیں مل جاتی ہیں، جو پکار پکار کر ایک قادرِ مطلق کے وجود کی گواہی دے رہی ہیں۔ 

وجودِ باری تعالیٰ کے منکر، ’فطرت‘ (Nature) کو ہر چیز کا خالق قرار دیتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ہر چیز ’مادّے‘ (Matter)سے وجود میں آئی ہے اور اسی سے پوری کائنات بن گئی ہے۔ مگر ’مادے‘ میں زندگی کیسے پیدا ہوئی یا اسے زندگی کس نے بخشی؟ اس کا ملحدین کے یا اس پہلو پر کلام کرنے والے سائنس دانوں کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ سائنس دان خود تسلیم کرتے ہیں کہ ’فطرت‘ (نیچر) شعور نہیں رکھتی، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا خود شعور سے محروم ’فطرت‘ کسی مخلوق کو شعور سے بہرہ مند کرسکتی ہے؟ اس کا جواب بھی ناں میں ہی ملتا ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ’انسان کو شعور کس نے عطا کیا؟‘ اس کا جواب بھی سائنس دانوں کے پاس نہیں ہے۔ اِن سوالوں کے جواب خالقِ کائنات نے اپنے مبعوث کردہ انبیا و رُسل پر وحی کے ذریعے انسانوں تک پہنچادیے ہیں۔

انسان کی اپنی ساخت پر غور کریں تو ایک جہانِ حیرت کھل جاتا ہے۔ جوملحد  ڈاکٹر دل، دماغ، جگر، گردے، آنکھ، کان یا زبان کی تمام کارکردگی (functions) سے آگاہ ہیں، ان سے پوچھیں تو وہ کہتے ہیں کہ ’’یہ اعضا خود بخود وجود میں آگئے اور اپنے آپ سے انھوں نے اس قدر مشکل اور پیچیدہ فرائض انجام دینے شروع کردئیے‘‘۔ ایسا کہنا یا سوچنا بھی حد درجے کی جہالت کے سوا کچھ نہیں۔ 

انسان کا دماغ (Brain) اپنی جگہ ایک تخلیقی کرشمہ ہے۔ اب تک کی تحقیق کے مطابق اس میں ۸۶؍ ارب نیورون ہوتے ہیں۔ یہ ایک عام ۲۰واٹ کے بلب کی انرجی کے ساتھ ایسے حیرت انگیزفرائض سرانجام دیتا ہے جو شاید سُپر کمپیوٹرز بھی صحیح طور پر انجام نہ دے سکیں۔ انسان کے ’جگر ‘کو ڈاکٹر انسانی جسم کا ایک ششدر کردینے والا معجزہ قرار دیتے ہیں۔ انسانی جسم کا یہ عضو پانچ سو مختلف انتہائی اہم اور پیچیدہ قسم کے کام (functions)کرتا ہے۔ یہ ایک قسم کا کیمیکل پلانٹ ہے، جس میں اربوں سیل ہیں اور جسم کے لیے ضروری انرجی، شوگر، گلوکوز اور کولیسٹرول یہی پیدا کرتا ہے۔ یہ ایک منٹ میں ڈیڑھ لٹر خون فلٹر کرتا ہے۔ اس کی حرکت (function) میں جس قدر پیچیدگی، اور جس قدر توازن ہے، اس کا مشاہدہ کرتےہوئے ماہرین دنگ رہ جاتے ہیں۔ بلاشبہ یہ سب کچھ ایک عظیم خالق اور منتظم کے حسنِ تخلیق کا کرشمہ ہے، جسے اس نے بجا طور پر لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ   فِيْٓ   اَحْسَنِ  تَقْوِيْمٍ۝۴ۡ(التین۹۵:۴) سے تعبیر کیا ہے۔ 

تاریخ کی گواہی

صدیوں کی انسانی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ خالق کی موجودگی کے منکروں نے جب بھی کوئی علاقہ یا خطہ فتح کیا، تو وہاں وحشیانہ شیطانی کھیل کھیلے۔ انسانی کھوپڑیوں کے مینار بنائے، عورتوں کی آبروریزی کی اور عمارتیں جلا کر راکھ کر ڈالیں اور کتب خانوں کو نذرِآتش کردیا۔ مگر اس کے برعکس جب خدا کو ماننے والے فتح یاب ہوئے اور جب مکّہ ان کے قدموں میں تھا، تو اُٹھی ہوئی تلواروں کو روک دیا گیا اور پھر مکہ کی وادیوں میں اسلامی لشکر کے سالارِ اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز گونجی: لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ۝۰ۭ يَغْفِرُ اللہُ لَكُمْ۝۰ۡ ، بے پناہ ظلم کرنے والے اپنے جانی دشمنوں سے کہا گیا:’’جائو آج تم پر کچھ ملامت نہیں، اللہ تمھیں معاف کرے‘‘۔(سیرۃ ابن ہشام)

 فلسطین فتح ہوا تو کسی ایک خاتون کی بھی بے حرمتی نہ کی گئی اور کسی ایک مفتوح کو بھی قتل نہ کیا گیا۔ وہاں بھی فاتح فوج کے سپریم کمانڈر فاروقِ اعظم عمر بن الخطابؓ نے پہلا اعلان یہی کیا کہ ’’آج سے غیر مسلموں کا تحفظ بھی ہماری ذمہ داری ہے‘‘۔ حضرت عمرؓ نے بیت المقدس کے معاہدے میں تحریر کیا: ’’یہ وہ امان ہے جو اللہ کے غلام امیرالمومنین عمر نے ایلیا کے لوگوں کو دی ہے۔ یہ امان اُن کی جان، مال، گرجا، صلیب، تندرست، بیمار اور ان کے تمام مذہب والوں کے لیے ہے۔ اس طرح کہ ان کے گرجائوں میں نہ سکونت کی جائے، نہ ڈھائے جائیں، نہ ان کی صلیبوں اور ان کےمال میں کچھ کمی کی جائے گی۔ مذہب کے بارے میں ان پر جبر نہیں کیا جائے گا… جو کچھ اس تحریر میں ہے، اس پر خدا کا، اس کے رسولؐ، خدا کے خلیفہ کا اور مسلمانوں کا ذمہ ہے، ۱۵ ہجری‘‘۔

قسطنطنیہ (استنبول) فتح ہوا تو سلطان محمدفاتح سفید گھوڑے پر شہر میں داخل ہوا، مگر اس کی گردن اپنے خالق ومالک کے آگے عجز و انکسار سے جھکی ہوئی تھی، نہ استنبول کی گلیاں خون سے سرخ ہوئیں اور نہ کسی مفتوح پر تلوار اٹھائی گئی۔ بھلا یہ کن تعلیمات کا کرشمہ تھا، یہ اُسی خالق کائنات کے احکامات (Divine guidence) کا نتیجہ تھا، جس نے انسانوں کو رحم اور انسانی جان کی حُرمت کا حکم دیا ہے، جنگ اور فتح کے آداب سکھائے ہیں اور مخالفین پر بھی ظلم کرنے سے منع کیا ہے۔

خالق کائنات کی طرف سے انسانوں کے لیے اُترنے والا سب سے قیمتی تحفہ جس نے انسانی معاشروں کو رہنے کے قابل بنایا، وہ عدل اور انصاف کا تصوّرہے۔ تم جس ہستی کے بارے میں ہرزہ سرائی کرتے ہو کہ دنیا میں اتنا ظلم ہورہا ہے اور وہ دیکھ رہا ہے۔ جانتے ہو اُس ہستی نے انسانوں کو کس معیار کا انصاف کرنے کے احکامات دیئے ہیں؟ نہیں جانتے تو سنو، وہ انسانوں کو حکم دیتا ہے کہ ’’انصاف پر قائم رہنے والے بنو (یعنی ہر حال میں انصاف کرو) چاہے اس کی زدتمھارے عزیز واقارب پر یا تمھارے والدین پر یا تمھاری اپنی ذات پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو؟‘‘ یعنی اپنے والدین کے خلاف بھی فیصلہ کرنے سے گریز نہ کرو اور انصاف کا تقاضا ہو تو اپنے خلاف بھی فیصلہ کردو مگر کسی صورت انصاف کا پرچم سرنگوں نہ ہونے دو۔ پھر یہاں تک حکم دیا کہ ’’کسی گروہ کی دشمنی تمھیں انصاف کی راہ سے نہ ہٹادے‘‘۔ (المائدہ ۵:۸)

اس معیار کا انصاف کرنے کا تصور کیا کوئی انسان دے سکتا ہے؟ کیا انسانی تاریخ میں کسی انسان نے ایسا تصوّر دیا ہے؟ کیا کوئی ملحد، تاریخ انسانی کے کسی بھی دور میں گزرے ہوئے کسی بھی فلسفی یا دانش ور مثلاً ارسطو، افلاطون، مارکس یا روسو کی کسی تحریر سے انصاف، رحم یا انسانی مساوات کے بارے میں ایسی تلقین کی کوئی معمولی سی جھلک بھی دکھا سکتا ہے، جو قادرِمطلق کی آخری کتاب میں اور آخری نبیؐ کی تعلیمات میں جگہ جگہ ملتی ہے؟ جی نہیں، آپ لوگ انصاف کے ایسے معیار کی کوئی بھی مثال پیش نہیں کر سکتے، جس کا تصوّر زمین وآسمان کے مالک نے دیا اور جس کی عملی تعبیر رسالت مآبؐ کی اپنی شخصیّت تھی، جنھوں نے یہ کہہ کر کہ ’’میری بیٹی فاطمہ بھی ایسا کرتی تو اسے بھی ایک عام آدمی کی طرح وہی سزا ملتی‘‘، قانون کی نظر میں سب کے لیے برابری (Equality before law)  کا اصول ہمیشہ ہمیشہ کے لیے طے کردیا۔

خالق کائنات کا وجود

ملحدین کے ان سطحی دلائل کو میں بے وزن اور کھوکھلا سمجھ کر کیوں مسترد کر رہا ہوں اور کیوں اللہ کے وجود کو اور اس کی صفات کو دل کی گہرائیوں سے تسلیم کرتا ہوں؟ اس کی وجہ بتائے دیتا ہوں۔  دُنیا کے مسلّمہ معیارات کے مطابق بہرحال میں ایک پڑھا لکھا شخص ہوں۔ میرے گھر کے صحن میں علی الصبح سورج کی روشنی پڑتی ہے، جب کہ رات کو وہی سورج کہیں اوجھل ہوجاتا ہے اور آسمان پر چاند اور ستارے نمودار ہوجاتے ہیں۔ یہ دیکھ کر میرے ذہن میں تجسّس پیدا ہوتا ہے کہ یہ سورج، چاند، ستارے کیسے وجود میں آئے؟ 

کالج اور یونی ورسٹی میں مجھے ایک دو ایسے اساتذہ ملے، جو اسلام کا مذاق اڑاتے تھے۔ دوتین بار وقت لے کر میں ان کے دفتر گیا اور ان سے پوچھا:’’استادِ محترم، مذہبی لوگوں میں ہزار خامیاں ہوں گی، مگر یہ سورج، چاند اور یہ زمین کیسے وجود میں آئے، ذرا اس کی وضاحت فرما دیجیے؟‘‘ ایک نے ڈارون کی تھیوری کا ذکر کیا۔ میں نے ایک دو سوال کیے، تو انھوں نے فرمایا: ’’میں نے ابھی مکمل تھیوری نہیں پڑھی۔ مکمل پڑھ کر جواب دوں گا‘‘۔ میں نے کہا کہ ’’سائنس دان خود کہتے ہیں کہ ابھی تک کوئی ایک بھی شہادت ایسی نہیں ملی، جو انسان کی تخلیق کے بارے میں ڈارون کے نظریے کو ثابت کرے یا اس کی تصدیق کرے۔ یہ تو صرف ایک قیاس ہے‘‘۔ اس پر وہ خاموش رہے اور انھوں نے مولویوں کے خلاف کچھ لطیفے سنا کر بات ختم کردی۔ 

دوسرے پروفیسر صاحب کے پاس جاکر پوچھا: ’’سر! یہ سورج، چاند، زمین، اور یہ انسان، اُس کے حیرت انگیز اعضا اور اس کا شعور کس نے تخلیق کیا ہے؟‘‘ وہ فرمانے لگے: ’’دیکھیں ہر چیز ذرّے سے پیدا ہوتی ہے اور خلیے نے ہی پھیل کر یہ شکلیں اختیار کرلی ہیں‘‘۔ میں نے پوچھا:  ’’ذرّے یا خلیے میں جان یا زندگی کیسے پیدا ہوئی ہے؟‘‘ انھوں نے فرمایا: ’’فی الحال سائنس کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں‘‘۔ میں نے پوچھا: ’’آپ کائنات کا خالق کس کو سمجھتے ہیں؟‘‘کہنے لگے: ’’ہم سمجھتے ہیں ہر چیز خودبخود نیچر (فطرت) کے زور پر پیدا ہوئی ہے‘‘۔ پھر میں نے پوچھا: ’’دنیا کے کسی کونے میں کوئی ایک پل یا کسی عمارت کا ایک کمرہ خودبخود وجود میں آیا ہے تو بتادیجئے‘‘۔ وہ خاموش رہے تو میں نے پوچھا: ’’سر! کیا نیچر یا فطرت شعور رکھتی ہے؟‘‘ اس کا انھوں نے دیانت دارانہ جواب دیا :’’نہیں، فطرت شعور کی حامل نہیں ہے‘‘۔ 

اس پر میں نے کہا:’’جو نیچر خود شعور سے محروم ہے، وہ انسان کو بھلا شعور کیسے بخش سکتی ہے؟‘‘ اس پر وہ فرمانے لگے: ’’ہاں ٹھیک کہتے ہو، کائنات اور انسان کی تخلیق کی کچھ گتھیاں ابھی سلجھنے والی ہیں اور سائنس دان جنھوں نے ایٹم بم، جہاز اور کمپیوٹر بنالیے ہیں، وہ یہ بھی سلجھالیں گے‘‘۔ میں نے کہا: ’’ابھی تک سائنس دان انسانی خون کا ایک قطرہ تخلیق نہیں کرسکے۔ سائنس کے جتنے بھی کارنامے ہیں وہ اہلِ تحقیق اور اہلِ سائنس نے فطرت میں سے discover کیے ہیں۔ یعنی انھوں نے ریسرچ کے ذریعے فطرت کے کچھ اصول اور کچھ صلاحیتیں دریافت کی ہیں اور ان کی بنیاد پر بہت سی (مفید اور مضر) چیزیں بنالی ہیں۔ بلاشبہ یہ سب ایجادات بڑی زبردست ہیں، مگر کیا آپ یہ فرماسکتے ہیں کہ فطرت کے وہ اصول یا قوانین مثلاً: کششِ ثقل کا اصول کس سائنس دان نے بنایا ہے؟‘‘ کہنے لگے: ’’کسی سائنس دان نے نہیں بنایا، مگر سائنس دان نے تحقیق کے بعد دریافت کیا ہے‘‘۔ میں نے پوچھ لیا:’’پھر یہ بتادیں کہ کششِ ثقل سمیت فطرت اور کائنات کے قوانین کو تخلیق کس نے کیا ہے؟‘‘ کہنے لگے:’’ہاں ،کچھ سائنس دان اب یہ کہتے ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ کوئی Metaphysical Force (مافوق الفطرت قوت) موجود ہو‘‘۔

اُن کے بعد بھی میں بہت سے ملحد پروفیسر صاحبان سے ملتا رہا اور کچھ سائنس دانوں سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔ ان کے ہاں یا تو قیاس اور گمان کی بنیاد پر کھڑی کی گئی تھیوریاں ہیں، جن کی صداقت کا کوئی ثبوت موجود نہیں، یا پھر بے یقینی کی صورتِ حال ہے۔ مگر اب وہ کسی مابعدالطبیعاتی قوت یا ہستی (Metaphysical Force)کے امکان کو تسلیم کرتے ہیں،لیکن کچھ ابھی تک وسوسوں اور گمانوں کے اندھیروں میں ہی ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں۔ اُن کی یہ بات کہ یہ دنیا اور پوری کائنات خودبخود پیدا ہوگئی یا اسے فطرت نے تخلیق کیاہے، عقل اور شعور کو بالکل ہی اپیل نہیں کرتی ، اور کوئی بھی عقل اور شعور رکھنے والا شخص خود بخود پیدا ہونے والی بات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ 

مجھے سورج، چاند، زمین، کائنات کے اصولوں اور انسانی جسم کے اندر چلنے والی حیرت انگیز فیکٹریوں کی تخلیق کے بارے میں ملحد دانش وروں کی جانب سے کوئی واضح جواب نہیں مل سکا، یعنی ملحدانہ نظریۂ حیات ایسی تھیوریاں پیش کرتا ہے جو نہ ثابت ہوسکیں، اور نہ انسانی عقل انھیں ماننے کے لیے تیار ہے۔ 

عقلی ثبوت

میں اسی جستجو اور حقیقت کی تلاش میں تھا کہ آوازسنائی دی: ’’اِدھر آؤ، ہم بتاتے ہیں کہ اس کائنات کا خالق کون ہے!‘‘

دیکھا تو وہ ایک ایسی پاکیزہ کردار شخصیّت کی آواز تھی، جس نے اپنی چالیس سالہ زندگی میں کبھی معمولی سا جھوٹ بھی نہیں بولا تھا۔ اس نے اپنی بات کا آغاز کرنے سے پہلے بستی والوں کو بلا کر پوچھا:’’اگرمیں کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے دشمن پہنچ چکے ہیں تو کیا تم مان لوگے؟‘‘ سب نے بیک زبان کہا :’’آپ ایک سچّے انسان ہیں، اس لیے ہمیں یقین ہے کہ آپ سچ ہی بولیں گے، اور ہم آپ کی ہر بات تسلیم کریں گے‘‘۔

پھر اس سو فی صد سچے انسان نے ایک ایسی بات کہہ دی کہ سب حیران و پریشان ہوگئے۔ اُس پاکیزہ کردار انسان نے کسی استاد سے تعلیم حاصل نہ کی تھی۔ سوائے ملک شام کے ایک تجارتی سفر کے اور کوئی ملک بھی نہیں دیکھا تھا۔ مگر اب اس نے انسانی ذہن کے سب سے بڑے سوال کا جواب بتانا شروع کردیا۔ اب اس نے صرف قریش یا اہلِ مکہ نہیں، بلکہ دنیا بھر کے انسانوں کو مخاطب کرنا شروع کردیا، اور زندگی گزارنے کے طریقے اور ضابطے بتانے شروع کردیئے۔ اور جب اس نے یہ کہا:’’اس کائنات اور انسانوں کا خالق اور پالنہار صرف ایک اللہ ہے، وہی ہر چیز کا خالق بھی ہے اور مالک بھی، اس لیے اپنی پوری زندگی کے افکار و افعال صرف اسی کی ہدایات و احکام کے مطابق ڈھالو، صرف اس کے آگے سجدہ کرو اور صرف اسی سے مانگو۔ وہ تمھارے ہر عمل اور فعل کا حساب رکھتا ہے۔ اس زندگی کے بعد سب کو اس کے حضور پیش ہونا ہوگا اور وہ دنیا میں تمھارے تمام اعمال کا حساب کرکے مکمل عدل کے ساتھ سزا اور جزا دے گا‘‘۔ یہ پیغام سننے کے بعد اس بستی کے بڑوں کو اپنی سرداریاں خطرے میں نظر آئیں۔ لہٰذا، وہ سب اس کی جان کے دشمن بن گئے۔ 

سرداروں نے پوچھا :’’آپ ایسی باتیں کیوں کرنے لگے ہو، تو جواب آیا: ’’کائنات کے خالق نے انسانوں تک اپنا پیغام اور ہدایات پہنچانے کے لیے مجھے اپنا نمائندہ (رسول) مقرر کیا ہے، جس طرح کہ مجھ سے پہلے بھی اللہ نے اپنے نمائندے (نبی اور رسول) مقرر کیے تھے۔ اللہ کا فرشتہ مجھے جوپیغام پہنچاتا ہے وہ میں آپ کو بتارہا ہوں‘‘۔ وہ کلام سنایا گیا تو سننے والے حیران و ششدر رہ گئے۔ یہ تو کوئی انوکھا اور حیرت انگیز کلام تھا۔ عرب کے بڑے بڑے ماہرین زبان و ادب جنھیں اپنی فصاحت وبلاغت پر ناز تھا، اس کلام کا طرزِ تخاطب اور حسنِ کلام دیکھ کر حیرت میں ڈوب گئے۔ 

ایسا کلام کسی نے پہلے کبھی نہیں سنا تھا۔ اختلاف کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن بن جانے والے سردار وں کواب بھی اس کی صداقت وامانت پر پورا یقین تھا، پھر بھی پورا کھوج لگایا گیا کہ یہ کلام کہاں سے لکھوایا جاتا ہے؟ مگر کچھ بھی نہ ملا۔ پیغام بر (رسولؐ) چالیس سال تک اس بستی میں انھی لوگوں کے ساتھ رہتا تھا۔ اس کی زبان سے وہ اچھی طرح واقف تھے، اسی لیے ان سب کو معلوم ہوگیا کہ اس کی اپنی زبان و انداز اور ہے اور جسے یہ اللہ کا کلام کہتا ہے اس کا اسلوب و انداز، زبان اور طرزِ کلام بالکل مختلف ہے۔ اس نئے کلام میں ایک جلال ہے۔ یہ ایک commanding voice ہے۔ اس کا انداز authoritartive ہے۔ اس کا ایک ایک فقرہ بتاتا ہے کہ اس کلام کی وساطت سے کلام کرنے والا مخاطبین سے ایسے بات کررہا ہے، جیسے کوئی حاکم اپنی رعایا سے اور مالک اپنے غلاموں سے بات کرتا ہے۔ اس کلام کا جلال اور کمانڈنگ طرزِ تخاطب پہلے فقرے سے لے کر آخری فقرے تک ایک جیسا ہی رہتا ہے۔ 

۲۳برس تک آسمانوں اور پردئہ غیب سے پیغام آتا رہا۔ اس دوران پیغام بر (رسولؐ) کو شدید مظالم سہنے پڑے اور ذاتی صدموں سے بھی گزرنا پڑا، مگر اس پیغام کا شکوہ اور جلال اسی طرح برقرار رہا اور اس میں انسانی صدمات یا جذبات کی معمولی سی بھی جھلک نظر نہیں آتی۔ اس کے ایک ایک لفظ سے یہ واضح نظر آتا ہے کہ پیغام بھیجنے والے کی سطح اپنے مخاطبین سے بہت بلند ہے۔ سننے والوں میں دو باتوں پر مکمل اتفاق تھا کہ اپنے آپ کو اللہ کا نمائندہ (رسول) قرار دینے والا شخص بڑے سے بڑے فائدے کے لیے بھی جھوٹ نہیں بولتا، اور دوسرا یہ کہ جسے وہ آسمانوں سے اُترنے والا کلام کہتا ہے وہ اس کا نہیں ہے۔ اس کا اسلوب اور معیار بہت ہی مختلف اور بہت ہی بلند ہے۔ وہ دل سے مانتے تھے کہ یہ کلام نہ صرف پیغام بر کا نہیں بلکہ یہ کسی بھی انسان کا کلام نہیں لگتا ۔

انتہائی پاکیزہ کردار کا حامل انتہائی سچا اور حق گو انسان چالیس سال تک اپنی چھوٹی سی بستی مکّہ میں عام لوگوں جیسی زندگی گزارتا رہا اور عام لوگوں جیسی باتیں کرتا رہا۔ مگر اچانک ایک روز اس نے بستی کے لوگوں کو یہ بتا کر حیران کردیا کہ ’’زمین وآسمان کو ایک عظیم الشان ہستی نے تخلیق کیا ہے، وہ پوری کائنات کا خالق بھی ہے اور منتظم و مدبر بھی۔ خالق انسانوں کو تخلیق کرکے ان سے بے نیاز ہو کر نہیں بیٹھ گیا بلکہ وہ ہر انسان کے ہر عمل کی خبر رکھتا ہے۔ اس دنیا کو اس نے انسانوں کا امتحان لینے کے لیے پیدا کیا ہے۔ اس کے خاتمے کے بعد وہ اپنی عدالت لگائے گا اور وہ یومِ حساب ہوگا، جب ہر انسان کے اعمال کے مطابق اس کی جزا اور سزا کا فیصلہ ہوگا‘‘۔ 

ظاہر ہے کہ مجھ جیسا عقل اور شعور رکھنے والا انسان، ایسی باتیں کرنے والے کی جانب ضرور متوجہ ہوگا اور اس کی بات ماننے یا نہ ماننے سے پہلے دیکھے گا کہ چالیس سال تک اس شخص نے کبھی معمولی سا بھی جھوٹ نہیں بولا۔ اب اگر اس کی بات غلط ہے تو اسے اتنا بڑا جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت پیش آئی ہے؟ اس کا اصل مقصداور محرک (motive) کیا ہے؟ وہ ایک انتہائی مخالفانہ ماحول میں نہ صرف خود اپنے موقف پر قائم رہا، بلکہ دوسروں کو بھی اپنے نظریے کا قائل کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ ایسا کرنا خونخوار بھیڑیوں کے منہ میں ہاتھ دینے کے مترادف تھا، مگر وہ ایسا کرگزرا۔ اس پر ظلم اور جبر کے پہاڑ توڑے گئے، مگر وہ اپنے موقف پر ڈٹا رہا۔ اسے کہاگیا کہ وہ ایسی باتیں کہنا چھوڑدے۔ اگر وہ اپنے نظریے کا پرچار نہ کرے تو سب سے خوب صورت عورت سے اس کا نکاح کردیا جائے گا اور پورے عرب کی سرداری اسے سونپ دی جائے گی۔ 

یہ اس زمانے اور حالات کے مطابق سب سے دل کش پیش کشیں تھیں، مگر اس نے ہرپیش کش کو ٹھکرادیا اور اس کے پائے استقامت میں معمولی سی بھی لرزش پیدا نہ ہوئی۔ وہ تکالیف سہتا رہا مگر اپنے موقف پر قائم رہا۔ اب ایک باشعور شخص یہ دیکھے گا کہ مکّہ کے تمام اکابرین کو ناراض کرنے میں اس کا مفاد کیا ہے؟ میں قانون کا طالب علم ہوں جس میں کوئی چیز ثابت کرنے کے لیے طرزِعمل (conduct ) اور محرک (motive ) بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر اس کا کوئی دنیاوی مفاد ہوتا تو وہ اتنی دلکش آفرز قبول کرلیتا، مگر اس نے تمام پیش کشیں مسترد کرکے نہ صرف مصیبتوں کو گلے لگالیا بلکہ اپنی اور اپنے جانثاروں کی جانوں کو بھی خطرے میں ڈال دیا۔ آخر کیوں؟ 

اب یہ دیکھا جائے گا کہ وہ اس پیغام کے ذریعے اپنے لیے کون سی مراعات یا کون سا سٹیٹس طلب کررہا تھا؟ ممکن ہے کچھ لوگوں کا خیال ہو کہ وہ شاید اپنے لیے کسی مافوق الفطرت مرتبے کا طلب گار ہو؟ مگر وہ جو کلام اور پیغام سناتا ہے، اس میں تو اس کے لیے صرف ’پیغام بر‘ کی ذمّہ داری کا ذکر ہے۔ اس نے کائنات کی حقیقتوں یا روزِ قیامت کے بارے میں بھی کسی قسم کا علم یا اختیار رکھنے کا کوئی دعویٰ نہیں کیا۔ وہ تو ہر سوال کا یہی جواب دیتا ہے کہ ’’ہر چیز کی خبر اور علم رکھنے والا صرف اللہ ہے۔ میں تو صرف اس کا پیغام بر ہوں اور اس کا پیغام اور ہدایات آپ تک پہنچاتا ہوں‘‘۔ 

اب میں یہ سوچوں گا کہ ایک انتہائی حق گو انسان کسی دنیاوی مفاد کے بغیر اتنی تکلیفیں برداشت کررہا ہے مگر پیغام میں معمولی سی بھی لچک دکھانے کے لیے تیار نہیں، آخر کیوں؟ یہ تبھی ہوسکتا ہے جب اسے اپنے پیغام کی صداقت پر ہزار فی صد یقین ہو۔ اتنا حق گو اور بے لوث شخص جو پیغام سنارہا تھا، وہ بھی حیرت انگیزاور غیرمعمولی ہے۔ اور پھر یہ دیکھ کر تواس کے مخالفین بھی حیران وششدر رہ گئے، کہ پیغام بر نے نہ صرف خدائی حکومت میں کوئی اختیار رکھنے کا کوئی دعویٰ نہیں کیا بلکہ دو تین موقعوں پر معمولی انسانی لغزش پر پیغام بھیجنے والی ہستی نے پیغام بر کوجو تنبیہ کی تھی، وہ بھی اس نے چھپائی نہیں بلکہ سب کو صاف صاف بتادی۔ اس پر بستی کے کچھ سمجھ دار لوگ کہنے لگے کہ ’’اگر یہ کلام اس کا اپنا ہوتا تو سرزنش والا حصہ اس میں کبھی شامل نہ ہوتا‘‘۔ صاحبانِ دانش اب آپس میں کہنے لگے کہ یہ اب جس نوعیّت کی باتیں کررہا ہے، یہ صرف اس کی نہیں، یہ تو مکہ کے ہر شخض کی علمی اور عقلی سطح سے بہت بلند ہیں۔ یہ انسانی پیدائش کے مختلف مدارج بتارہا ہے۔ یہ انصاف کی اور انسانوں کے درمیان برابری کی بات کرتا ہے، عورتوں اور یتیموں کے حقوق بتا رہا ہے اور یہ جو اس نے وراثت کا پورا قانون بناکر دے دیا ہے، اس طرح کا پیچیدہ اور منصفانہ قانون تو عرب کے قابل ترین افراد اکٹھے مل کر بھی نہیں بناسکتے۔ 

اب اندر سے وہ اس کے دعوے کے قائل ہورہے ہیں اور ان کا نظریۂ الحاد پر اعتقاد ڈگمگانے لگا ہے، ہر نئی وحی آنے کے ساتھ گروہِ منکرین پر لرزہ طاری ہوجاتا ہے اور نظریۂ الحاد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگتا ہے۔ اس لیے فیصلہ ہوتا ہے کہ سرزمینِ عرب کے زبان و بیان کے تمام ماہرین اور شعراء کو کہا جائے کہ اس کلام کا توڑ پیش کریں۔ اِدھر یہ منصوبے بن رہے ہیں اور اُدھر اس پر آسمانوں سے وحی اترتی ہے کہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا کر لائو، سب اکٹھے ہوکر اس جیسی ایک آیت ہی بنا کر لے آئو۔ بڑے بڑے ماہرین زبان و ادب یہ چیلنج سن کر گنگ ہوجاتے ہیں، کوئی ایک بھی یہ چیلنج قبول کرنے کی ہمّت نہیں کرتا۔ 

اس کے ساتھ ہی کچھ عمر رسیدہ اسکالرز کی زبانی پتہ چلتا ہے کہ یہ پیغام پہلی بار انسانوں کو نہیں سنایا جارہا، بلکہ ہزاروں سال پہلے وقت کے ایک جلیل القدر انسان ابراہیم علیہ السلام نے، جو اسی کی طرح سچّا اور حق گوانسان تھا، اپنی بستی کے لوگوں کو ہو بہو ایسا ہی پیغام سنایا تھا کہ زمین و آسمان کو کسی اور نے نہیں بلکہ اللہ نے تخلیق کیا ہے۔ تمام انسانوں کو اس کے سامنے پیش ہونا پڑ ے گا، جہاں ان کے اعمال کے مطابق جزا اور سزا کا فیصلہ ہوگا۔ اس کے صدیوں بعد ایک اور غیر معمولی شخصیّت نے بالکل ویسا ہی پیغام اس وقت کے انسانوں تک پہنچایا۔ اُس کا نام موسیٰ علیہ السلام تھا اور پھر سیکڑوں برسوں بعد ایک اور جلیل القدر ہستی عیسیٰؑ اِبن مریم نے انسانوں تک یہی پیغام پہنچایا، اس کے بنیادی نکات بھی یہی تھے۔ لہٰذا، اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ صرف پیغام بر بدلتے رہے ہیں، مگر ذریعہ (Source) ایک ہی ہے یعنی پیغام بھیجنے والی ہستی اور اس کا پیغام ایک ہی ہے۔ 

مکّہ میں انتہائی سچے پیغام برؐ نے جو پیغام سنایا، اس میں بھی واضح طور پر کہا گیا ہے کہ یہ پیغام نیا نہیں، یہی پیغام ہم پہلے پیغام بروں (انبیاؑ اور رسولوںؑ)کے ذریعے بھیج چکے ہیں۔ یہ سارے حقائق ، شواہد اور واقعاتی شہادتیں (Circumstantial Evidences) پیغام بر کا کیس مضبوط بنارہی ہیں۔ پوری کوشش کے باوجود مخالفین نہ پیغام بر میں کوئی کمزوری ڈھونڈ سکے اور نہ پیغام میں کوئی جھول تلاش کرسکے ہیں۔ اگر اب تک کی شہادتوں کا جائزہ لیں، یعنی سب سے پہلے پیغام بر کے طرزِ عمل کا جائزہ لیں تو پورے عرب میں اس کے پائے کا سچّا اور پاکیزہ کردار انسان کوئی نہیں۔ پھر محرک کا جائزہ لیں تو پوری کوشش کے باوجود مخالفین اس کا کوئی دنیاوی مفاد تلاش نہیں کرسکے ۔ پورے عرب کا حکمران بننے کے بعد بھی اس کا طرزِ زندگی انتہائی سادہ رہا اور اکثر اس کے ہاں ون ڈش یعنی ایک سالن بھی نہیں پکتا تھا۔اور پھر جو پیغام وہ سنارہا تھا، وہ بھی نیا نہیں، یہ وہی پیغام تھا جو صدیوں سے کچھ اور جلیل القدر اور سچّے افراد، انسانوں تک پہنچاتے رہے، یہ اُسی کا تسلسل ہے۔ اب عقل ماننے لگی ہے کہ اس کا کیس بہت مضبوط ہے۔

دوسری طرف گروہِ ملحدین کی جانب مکمل خاموشی ہے یا مکمّل اندھیرا۔ ان سے صرف یہی پوچھ لیا جائے کہ آپ انسانی جسم کے ایک عضو’ جگر‘ کے بارے میں حتمی طور پر بتادیں کہ کیا جگر خودبخود بن گیا ہے اور اس کے سارے وظائف و افعال (functions) اپنے آپ ہی شروع ہوگئے ہیں؟ تو کوئی ایک سائنس دان یا ماہرِ اجسام وثوق سے یہ نہیں کہہ سکے گا کہ یہ خود بخود ہی سب کچھ کررہا ہے۔ وہ اب مانتے ہیں کہ اس کے پیچھے کسی کی منصوبہ بندی کار فرما ہے۔ مگر پھر سوال پیدا ہوتا ہے، کس کی ہے؟ اس کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں ۔مگر دوسری جانب واضح جواب موجود ہے کہ صرف انسانوں کو نہیں پوری کائنات کو ایک عظیم الشان ہستی نے پیدا کیا ہے۔ اس ہستی کا مکمل تعارف بھی کرایا جاتا ہے اور انسانوں کو پیدا کرنے کا مقصد بھی بتایا جاتا ہے۔ 

اب گروہِ ملحدین کے پاس نہ ماننے کی صرف ایک دلیل رہ جاتی ہے کہ مانا کہ پیغام بر کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔ اس کا کوئی دُنیاوی محرک اور مفاد بھی نہیں، اس ذمّہ داری کے باعث اس نے ایک پُرامن اور خوش حال زندگی چھوڑ کر اپنے لیے بے پناہ مصیبتیں مول لے لیں اور جان خطرے میں ڈال لی۔ اس کا پیغام بھی انسانی نہیں بلکہ واقعی آسمانی لگتاہے۔ جس کی صداقت کی گواہیاں صدیوں سے دی جارہی ہیں، مگر ہم خالق یا اللہ کو اُس وقت ہی مانیں گے جب اسے آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ اس پر کچھ اہلِ دانش نے ان ملحدین سے کہا کہ ’’کچھ حقیقتیںعینی شہادت نہیں واقعاتی شہادت کی بنا پر تسلیم کی جاتی ہیں، جس طرح آپ اپنے باپ کے خانے میں جو نام لکھتے ہیں، وہ تو آپ آنکھوں سے مشاہدہ کیے بغیر یا ڈی این اے دیکھے یا چیک کرائے بغیر صرف ماں اور باپ کی بات مان کر یقین کرلیتے ہیں، تو ہم دنیا بھر کے والدین سے زیادہ سچّے اور اُجلے کردار کی حامل ہستی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بات پر کیوں یقین نہ کریں، جب کہ ان کی پیش کردہ اور بیان شدہ Corroborative Evidence (تائیدی شہادت) تو اور بھی بہت مضبوط ہے ‘‘۔

 وجودِ باری تعالٰی کے واضح شواہد 

ایک صاحبِ شعور انسان کی حیثیت سے ’نظریۂ الحاد‘ ، یعنی انسان اور کائنات کے خودبخود ’تخلیق‘ ہونے کا جب بھی جائزہ لیا، سچی بات ہے کہ عقل کو بالکل ہی اپیل نہیں کرتا۔ جسم کا ہر عضو انتہائی حسّاس اور پیچیدہ قسم کے فرائض سرانجام دے رہا ہے۔ جگر، دل ، دماغ یا آنکھ کے کام اور وظائف کا جائزہ لیا جائے تو عقل دنگ رہ جاتی ہے اور ہر صاحبِ عقل پکار اُٹھتا ہے کہ ان اعضا کی تخلیق کسی عظیم ترین خالق کے حسنِ تخلیق کا نتیجہ ہے۔ کسی خالق کی حکیمانہ سوچ کے بغیرایسی حیرت انگیز فیکٹریوں کی تخلیق کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دوسری جانب تمام شواہد، وقت کے سب سے سچّے اور امین انسان حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے نظریۂ تخلیق کی صداقت کو تسلیم کرنے پر مجبور کردیتے ہیں۔ 

فرض کریں کہ کسی انسان نے اللہ خالق کائنات کا تصوّر تخلیق کرنا ہو تو وہ اسے کسی شہنشاہ کے طور پر پیش کرے گا۔ وہ اس قسم کی بات کرے گا کہ آسمانوں پر رہنے والے ہزاروں فرشتے اللہ کے بیٹے ہیں۔ ہندو مذہبیات (Mythology)میں دیوی دیوتائوں کا تصوّر ایسے ہی انسانی تصوّر وخیال کا نتیجہ ہے۔ ماہرینِ نفسیات کہتے ہیں کہ انسانی ذہن اگر خالق کا تصوّر خود تراشتا تو اسے بے اولاد کبھی نہ دکھاتا اور ہزاروں سال پہلے مرے ہوئے انسانوں کا زندہ ہونا اور دربارِ الٰہی میں پیش ہوکر اپنے ہر عمل کا حساب دینے کا تصوّر آج سے ہزاروں سال قبل انسان کے خواب و خیال میں بھی نہیں آسکتا تھا۔ مگر اصل خالق کے بارے میں آسمانوں سے اُترنے والے تعارقی فقروں میں بتایا گیا کہ وہ واحد خالق و مالک ہے یعنی زمین وآسمان اور کائناتوں کی سلطنت چلانے میں اس کا کوئی پارٹنر یا شریک ِکار نہیں۔ اس کا کوئی باپ نہیں اور نہ اس کا کوئی بیٹا یا بیٹی ہے۔ وہ ہر چیز سے باخبر ہے، جو ہرانسان کو اس کے ہر اچھے اور بُرے کام کا اجر اور سزا دے گا۔ ہماری عقل نے فوراً کہا کہ وہ عظیم الشان ہستی ایسی ہی ہونی چاہیے، جو انسانی جذبات، ضروریات اور جبلّتوں سے پاک اور بلند ہو اور وہ اتنا طاقت ور ہو کہ ہرشخص کو اس کے کیے کی سزا یا جزا دینے کی قدرت رکھتا ہو۔ 

جب اس جیسا کلام تخلیق کرنے کا چیلنج دیا گیا تو عرب کے سب فصیح وبلیغ گنگ رہ گئے۔ اب کہا گیا کہ یہ پیغام اور یہ ہدایات چونکہ اَزل تک تمام انسانوں کے لیے ہیں، اس لیے میں اس میں ایک لفظ کی بھی تحریف نہیں ہونے دوں گا اور اس کی حفاظت خود کروںگا۔ پندرہ سو سال بیت گئے مگر تحریف کی سب کوششیں اور سازشیں ناکام ہوئیں اور پیغامِ حق اپنی اصل صورت میں کاغذ پر بھی اور کروڑوں حفّاظ کے سینوں میں بھی بالکل محفوظ ہے۔ جو خود اپنی جگہ ایک غیر معمولی معجزہ ہے۔ 

جب پیغام بھیجنا شروع کیا تویہ نہیں کہا کہ بس تم نے سن لیا تو اسی وقت آنکھیں بند کرکے اسے قبول کرو ورنہ سزا کے لیے تیار ہوجائو، بلکہ بار بار کہا گیا کہ تمھارے آس پاس زمین اور آسمان میں سورج، چاند اور ستاروں میں واضح نشانیاں ہیں۔ ان پر غور کرو، تفکّر اور تدبّر کرو۔ تم ہر چیز میں حیرت انگیز توازن، ربط اور درجۂ کمال کی کاملیّت (Perfection) کا مشاہدہ کروگے، تو تمھارا دل اور دماغ پکار اُٹھے گا کہ یہ خودبخود تخلیق نہیں ہوسکتا، یہ واقعی کسی عظیم الشان ہستی کی تخلیق ہے۔

پھر خالق نے اپنے تخلیقی شاہکار کے بارے میں چیلنج دے دیا، فرمایا:’’ تم رحمان کی تخلیق میں کسی قسم کی بے ربطی نہ پائو گے۔ پھر پلٹ کر دیکھو ، کہیں تمھیں کوئی خلل نظر آتا ہے؟ بار بار نگاہ دوڑائو۔ تمھاری نگاہ تھک کر نامراد پلٹ آئے گی‘‘ (الملک ۶۷:۳-۴)۔ دنیا بھر کے سائنس دان طاقت ور ترین دوربینوں سے مشاہدہ کرچکے، مگر وہ اس عظیم الشّان تخلیق میں کوئی خامی اور کوئی معمولی سا بھی نقص (Infirmity) نہیں ڈھونڈ سکے۔ اللہ کی تخلیق کردہ اس کائنات میں ایسا توازن اور تناسب ہے کہ آج تک کوئی کہیں معمولی سا بھی جھول، بدنظمی، بے ترتیبی یا بے ربطی تلاش نہیں کرسکا۔ کیا کوئی انسانی تخلیق ایسی ہوسکتی ہے، جس میں ہزاروں برس بعد بھی تخریب نہ ہو؟ کائنات کی تخلیق اور خالق کے بارے میں صاحبانِ عقل ودانش کے لیے کیا یہی ثبوت کافی نہیں ہے!

پھر اگر کسی انسان نے طریقۂ ٔ تخلیق تراشنا ہوتا تو ممکن ہے وہ اس قسم کی کہانی گھڑتا کہ ’’اللہ نے ہزاروں فرشتوں اور جنوں کو اس کام پر لگایا اور پھر یہ دنیا، سورج اور چاند وغیرہ تخلیق ہوئے‘‘۔ مگر آسمانوں سے جواب آتا ہے:’’اس کی شان یہ ہے کہ جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اسے فرمادیتا ہے کہ ہوجاؤ، تو وہ ہوجاتی ہے‘‘ (مریم ۱۹:۳۵)۔ بے شک ربّ ِ کائنات کی یہی شان ہونی چاہیے۔ 

اتنی طاقت ور ہستی نے ایک کامل (perfect) کائنات اور دنیا بنائی، تو ساتھ ہی اس کی فطرت میں (کششِ ثقل کی طرح کے) ایسے قوانین ڈال دیئے ہیں اور اس کے مختلف اجزا (گیسوں وغیرہ) میں اس طرح کا توازن پیدا کردیا ہے، جو انسانی بقاء اورنشوونما کے لیے ضروری ہے۔ یہ سب خالق کی نعمتیں ہیں۔ اب مجھے دیکھنا ہے کہ کیا یہ طاقت ور ترین ہستی انسانوں کو پیدا کرکے ان سے بے نیاز ہوکر بیٹھ گئی ہے کہ وہ جیسے چاہیں زندگی گزاریں؟ نہیں، ایسا ہوتا تو طاقت ور، کمزور کو بھیڑیوں کی طرح چیر پھاڑ دیتا اور کمزور کی عورتوں اور جائیدادوں پر قبضہ کرلیتا۔ اس عظیم الشّان خالق نے ایک خوش گوار اور متوازن معاشرہ تشکیل دینے کے لیے اصول بتائے ہیںاور بڑے واضح اور سخت احکامات جاری کیے ہیں۔ 

اس نے سب سے پہلے انسانی جان کی حرمت قائم کی ہے اور واضح طور پر کہہ دیا ہے : اگر ایک بے گناہ انسان کو ہلاک کروگے تو ہم تمھیں پوری انسانیت کا قاتل سمجھیں گے اور ایک قتل کی نہیں پوری انسانیت کے قتل کی سزا دیں گے: مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَيْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ  فِي الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيْعًا۝۰ۭ وَمَنْ اَحْيَاہَا فَكَاَنَّمَآ اَحْيَا النَّاسَ جَمِيْعًا۝۰ۭ (المائدہ ۵:۳۲)۔ اس سے دنیا کے کروڑوں انسانوں کی جانیں محفوظ ہوگئیں۔ کیا دنیا کا کوئی مفکر یا ماہرِ سماجیات انسانی جان کے تحفظ کے لیے اس سے بہتر الفاظ یا قانون تخلیق کرسکتا تھا یا کرسکا ہے؟ بالکل بھی نہیں۔ 

انسانی معاشرے اور معاشرے کو رہنے کے قابل بنانے کے لیے جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ عدل اور انصاف ہے، اور انسانیت کو یہ گراں قدر تحفہ بھی انسانوں سے نہیں آسمانوں سے ملا ہے۔ کیونکہ پتّوں سے تن ڈھانپنے والے انسانوں سے لے کر آج کے سب سے ترقی یافتہ ملک کے صدر تک سب کی فطرت اور سوچ یکساں ہے۔ ان کی سرشت میں عدل نہیں غلبہ ہے، انصاف نہیںکمزور انسان یا ملک کے وسائل پر قبضہ اور مخالف کا خاتمہ ہے۔ 

آج کے نام نہاد ’مہذّب ترین‘ انسان اپنے جیسے لاکھوں بے گناہ انسانوں کو بے شرمی اور دیدہ دلیری سے ہلاک کررہے ہیں اور ان کے وسائل پر زبردستی قبضہ کررہے ہیں۔ نہ ان کا تمدّن ان کا گریبان پکڑتا ہے، نہ ان کی تہذیب اور قوانین ان کے ہاتھ روکتے ہیں۔ یہ نام نہاد مہذّب انسان نہیں ،انسانوں کا خالق ہی ہے جو انسانوں کو ظلم اور زیادتی سے روکتا ہے۔ ہر چیز پر اختیار رکھنے والے خالق اور مالک کا حکم ہے کہ ہرقیمت پر اور ہر حال میں انصاف کرو، چاہے تمھیں اپنے والدین یا اپنی ذات کے خلاف ہی کیوں نہ فیصلہ کرنا پڑے۔ قرآن کریم ہی میں یہ فرمایا گیا: وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَـنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓي اَلَّا تَعْدِلُوْا۝۰ۭ اِعْدِلُوْا۝۰ۣ ہُوَاَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى۝۰ۡ(المائدہ ۵:۸) ’’اور کسی قوم کی دشمنی تمھیں اس بات پر آمادہ نہ کردے کہ تم عدل و انصاف چھوڑ دو۔ عدل کیا کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے‘‘۔

انصاف کا یہ معیار اللہ نے مقرر کیا ہے، جس کی عملی تفسیر اللہ کے آخری نمائندے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلمتھے۔ ایسا معیار تو دُور کی بات ہے اسرائیل اور مظلوم فلسطینیوں کے درمیان کیا کبھی کسی امریکی یا یورپی حکمران نے اللہ کے قائم کردہ معیار سے سو گنا کم درجے کا بھی انصاف روا رکھا ہے؟ بالکل نہیں۔ ظاہر ہے کہ میرا شعور پکار اُٹھے گا کہ کمزور کو ہلاک کرنے والوں کا نظریہ جھوٹ اور باطل ہے اور عدل و انصاف کا حکم دینے والا ہی اصل خدا ہے۔ 

اب ذرا اس سوال کا جواب سوچیے:

دنیا میں ایک شخص سو آدمیوں کی جان بچاتا ہے یا مالی امداد کے ذریعے سینکڑوں گھرانوں کی کفالت کرتا ہے۔ دوسری جانب ایک ظالم اور قاتل فرد، ہزاروں انسانوں کو ہلاک کردیتا ہے۔ کیا دنیا میں ان دونوں کو انصاف کے مطابق جزا اور سزا دی جاسکتی ہے؟ نہیں، کبھی نہیں۔ قادرِ مطلق کی شانِ ربوبیّت کا تقاضا ہے کہ تمام فریقوں کے ساتھ کامل انصاف ہو۔ ایسے کامل انصاف کا تقاضا صرف عادلِ مطلق ہی پورا کرسکتا ہے اور وہ یومِ حساب کو پورا کرکے دکھا دے گا۔ ایسا کامل انصاف کرنا نہ دُنیا میں ممکن ہے اور نہ کسی انسان کے اختیار میں ہے۔ 

خالق نے اپنی جو صفات بتائی ہیں، انسانی ذہن توان کا احاطہ ہی نہیں کر سکتا تھا۔ اب جن صفات کا علم ہوا ہے تو دل پکار اُٹھتا ہے کہ واقعی خالقِ کائنات ایسی ہی صفات کا حامل ہونا چاہیے۔

ہر وہ انسانی عمل جو انسانی تمدّن میں زہر گھولتا ہے، اس سے منع کردیا گیا۔ جھوٹ، بدعہدی، قتل، زنا، غیبت، تجارت میں بددیانتی، بہتان، حتیٰ کہ دوسروں کو برے القاب سے پکارنے اور تکبّر سے اکٹر کر چلنے تک سے منع کردیا گیا اور انسانوں پر رحم کرنے، والدین سے، عورتوں سے نرم رویّہ رکھنے اور غریبوں، مسکینوں اور حق داروں پر دل کھول کر خرچ کرنے کا حکم دیا گیا۔ پھر اُس زمانے میں عورتوں کو وراثت کا حق دار قرار دے دیا جب عورت کو زندہ گاڑ دیا جاتا تھا۔ کیا خالق کے سوا کوئی اور صدیوں پہلے والدین اور عورتوں کے حقوق کے بارے میں ایسا سوچ سکتا تھا اور انسانوں کو ایسے اعلیٰ اخلاق سکھا سکتا تھا؟ کیا انسانی عقل انصاف اور مساوات کے اتنے اعلیٰ معیار قائم کرسکتی تھی؟ ہرگز نہیں۔ 

پھر کیا کوئی انسان پورے اعتماد کے ساتھ ایسا کہہ سکتا ہے کہ کوئی پتّا بھی میرے علم کے بغیر نہیں ہلتا۔ کسی شخص میں یہ طاقت نہیں کہ اللہ کے حکم کے بغیر مرجائے۔ اس نے موت کا وقت مقرر کررکھا ہے۔ میں جسے چاہتا ہوں رزق دیتا ہوں اور جسے چاہتا ہوں نہیں دیتا۔ اگر ایسی طاقت ور ہستی جو خود انسان کی محدود عقل کے ادراک سے باہر ہے، یہ کہتی ہے: میں نے یہ دنیا آزمائش کے لیے پیدا کی ہے۔ میں نے انسان کو سب کچھ کرنے کا ارادہ اور اختیار دیا ہے۔ مگر اس کے عمل کے مطابق اسے جزا اور سزا دوں گا___ تو ہر صاحبِ عقل کا دل گواہی دیتا ہے کہ اُس عظیم الشان شہنشاہ کو ایسا کرنے کا اختیار ہے۔ 

حیرت ہے کہ ہم جو مقامی حاکم سے اس کے غیر قانونی احکامات کے بارے میں پوچھنے تک کی ہمّت نہیں رکھتے، مگر خالقِ کائنات سے انسانوں کی آزمائش کی حکمت پوچھنے پر اصرار کرتے رہتے ہیں؟ ہر انسان کا فرض ہے کہ اس عظیم الشان ہستی کا مقامِ ربّانی تسلیم کرے اور اپنے آپ کو اس کی غلامی میں دے دے۔ مگر اس کی شانِ کریمی ملاخطہ کریں کہ وہ بار بار کہتا ہے کہ لاتعداد گناہ کرنے والا شخص بھی اگر سچّے دل سے توبہ کرکے اس سے معافی مانگ لے تو وہ اسے معاف کردے گا۔ یہ کسی انسان کی نہیں صرف رحمان کی صفت ہی ہوسکتی ہے۔ 

اس موضوع پر ہزاروں کتابیں لکھی جاسکتی ہیں، یہ تحریر سمندر کا ایک قطرہ بھی نہیں۔ مگر مجھے یقین ہے کہ اگر کوئی شخص بلاتعصّب، خالی ذہن کے ساتھ کلامِ الٰہی کا مطالعہ کرے تو وہ ملحد رہ ہی نہیں سکتا۔