ڈاکٹر تسنیم الغنوشی


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

میرے پیارے والد شیخ راشد الغنوشی کے نام!

جبر کی بنیاد پر عمل میں لائی گئی ان کی گرفتاری کی تیسری برسی کے موقعے پر اُس شخصیت کے نام جس نے مجھے سکھایا کہ آزادی صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ پوری زندگی کے لیے ایک عزم، قربانی، نظم و ضبط، فکر کی بنیاد اور سفر کا نقطۂ آغاز ہے۔

والد ِمحترم، آج آپ کی گرفتاری کو تین سال گزر چکے ہیں___ جدائی، درد اور انتظار کے تین سال___!

اور ساتھ ہی استقامت، ایمان، اُمید اور اللہ کے عدل و حکمت پر پختہ یقین کے بھی تین سال۔

ہم ہر روز آپ کو یاد کرتے ہیں..... ہم آپ کی بلند آواز کو یاد کرتے ہیں۔ جب آپ قرآن کی تلاوت کرتے تھے یا ہمیں نماز کی جماعت کراتے تھے۔ ہمیں نماز کے بعد آپ کی نصیحتوں اور ذکر و اذکار کی وہ محفلیں یاد آتی ہیں جن کو آپ تھکاوٹ کے باوجود بڑی توانائی سے جاری رکھتے تھے..... ہمیں ناشتے کی میز پر آپ کا بیٹھنا یاد ہے جب آپ اخبار پڑھتے تھے اور پھر اپنے طے شدہ پروگراموں اور مصروفیات کے لیے تیزی سے نکل جاتے تھے..... میری مراد تمام اہل وطن کے لیے آزادی کے پروگرام ہیں..... ہمیں آپ کے اپنے پوتوں پوتیوں کے ساتھ کھیل کود اور ان کے پیچھے بھاگنا اور بچوں کے قہقہوں کی آوازیں یاد ہیں جو پورے گھر کے ماحول کو خوشی سے بھردیتی تھیں۔ لیکن اب زندگی کی بہت سی یومیہ تفصیلات آپ کی غیر موجودگی میں تکلیف دہ یاد بن گئی ہیں۔

والد محترم، آپ نے جیل سے باہر اپنی زندگی ایک مُربی، والد، لیڈر اور ایک ایسے انسان کے طور پر گزاری جو اپنے اور اپنےاصولوں کے ساتھ مخلص رہا۔ آپ نے کبھی اپنی سوچ یا رائے ہم پر مسلط نہیں کی، بلکہ آپ نے دلیل اور منطق کے ذریعے قائل کرنے پر ہمیشہ عمل کیا، اور یہی بتایا کہ نرمی، مہربانی اور حُسنِ اخلاق ہی کسی فکر کے بہترین سفیر ہوتے ہیں، چاہے وہ اولاد کے لیے ہو یا اہل وطن کے لیے۔

آپ نے ہمیں سکھایا کہ سیاست اور اقتدار سے پہلےمرکزیت ’اخلاق‘ کو حاصل ہے، اورجمہوریت محض ایک لفظ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے، اور یہ ذمہ داری تمام اہل وطن کے لیے ہے،کسی ایک گروہ کے لیے نہیں۔

آج آپ اپنی کال کوٹھڑی میں ہیں، لیکن اس جبری دُوری کے باوجود آج بھی آپ ہمیں سکھا رہے ہیں..... پہلے سے کہیں زیادہ۔ آپ ہمیشہ سب کو یہی دعوت دیتے رہے کہ اپنے دلوں کو ایک دوسرے کے لیے کشادہ کریں اور کبھی کسی سے انتقام لینے کی کوشش نہ کریں۔ آپ نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ وطن کی کشتی سب کو ساتھ لے کر چل سکتی ہے بشرطیکہ سب اس کی حفاظت کریں۔

تاہم، اس کے باوجود، انھوں نے آپ کو جھوٹ اور بہتان کی بنیاد پر اور حقائق کو تلپٹ کرتے ہوئے گرفتار کر لیا،اور حکومت نے یہ مضحکہ خیز الزام لگایا کہ آپ تفرقہ بازی اور بغاوت پر لوگوں کو اُکسا رہے ہیں۔ یہ ایک سنگین، بدترین اور حقائق کے منافی الزام ہے۔

فَاقْضِ مَآ اَنْتَ قَاضٍ۝۰ۭ اِنَّمَا تَقْضِيْ ہٰذِہِ الْحَيٰوۃَ الدُّنْيَا۝۷۲ۭ (طٰـہٰ۲۰:۷۲) تُو جو فیصلہ کرنا چاہتا ہے کر لے، تو صرف اسی دنیا کی زندگی کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ 

یہ مبارک آیت آپ پر ظلم کرنے والے حاکم کے لیے آپ کا جواب ہے۔ ظلم کتنا ہی بڑھ جائے اور سرکشی کتنی ہی طاقت ور کیوں نہ ہو جائے، اللہ کا عدل مہلت تو دیتا ہے مگر بھولتا نہیں، اور اس کی رحمت زیادہ وسیع اور غالب ہے۔

میرے پیارے والد محترم، انھوں نے آپ کو اس لیے قید کیا کیونکہ آپ نے ظلم کو مسترد کیا، اور آپ نے ظلم اور بغاوت کے خلاف اس وقت ’نہیں‘ کہا جب بہت سے لوگ خاموشی کا  راستہ منتخب کرکے خاموش بیٹھ گئے تھے۔ لیکن اب آپ تنہا نہیں ہیں۔ ہماری ریاست آج واقعی ’انصاف پسند‘ ثابت ہوئی ہے، کیونکہ آج بغاوت کے الزام میں آپ کے ساتھ تیونس کی تمام جماعتوں کے سربراہان قید ہیں۔ واہ، کیا کارنامہ ہے! اور کیسی کامیابی ہے ! مگر افسوس کہ آج اہلِ تیونس تنہا ہوکر رہ گئے ہیں، ان کے مسائل مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔

والد ِ محترم، آپ عمر کے نویں عشرے میں ہیں، مگر سزائوں کی مدت آپ کی مجموعی زندگی سے زیادہ ہے۔ ان ظالمانہ فیصلوں میں عشروں کی قید کا اعلان کیا جارہا ہے۔ اللہ آپ کی عمر دراز کرے، آپ کی روح اب بھی زندگی اور توانائی سے بھرپور ہے، کیونکہ آپ کے پاس وہ کچھ ہے جو ان کے پاس نہیں۔ آپ کے پاس ایمان ہے، آپ کے پاس مقصد ہے، اور آپ کے پاس یقین ہے۔

وہ جیلوں کے مالک ہیں.....اور آپ اپنے الفاظ، حکمت اور اللہ اور اس کے قوانین پر اپنے پختہ یقین کے مالک ہیں۔وہ ایک لمحے کے مالک ہیں جو تاریخ میں مختصر ہو گا، اور آپ تاریخ، شعور اور ایک ایسی یاد کے مالک ہیں جو ہمیشہ زندہ رہے گی۔

میرے پیارے ابّا جان!ہم جانتے ہیں اور پوری دنیا بھی جانتی ہے کہ یہ مقدمات سیاسی ہیں، اور وہ عدلیہ جسے مخالفین کو ختم کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، وہ عدلیہ نہیں رہی..... بلکہ وہ ظلم اور گمراہی کا ہتھیار اور درندگی کی مشین بن چکی ہے۔

آج تیونس میں جو کچھ ہو رہا ہے..... وہ صرف لوگوں پر ظلم نہیں ہے..... بلکہ یہ اس خواب کو چکنا چور کرنے کی کوشش ہے کہ ہم ایک ایسے وطن تیونس میں رہیں جس میں ہر شہری جبرو استبداد کے بغیر آزادی و عزّت کے ساتھ جی سکے۔

محترم ابّا جان، خواب مرتے نہیں ہیں، آپ اس بات کو مجھ سے زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ اور آپ یقیناً یہ بھی جانتے ہیں کہ جھوٹ کی رسی، جس کے ذریعے آزاد لوگوں پر جھوٹے الزامات لگائے جاتے ہیں، بہت کمزور ہوتی ہے۔اور یہ کہ ظلم اندھیرا ہے، لیکن اس کی رات کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، اس کے بعد سورج ہمیشہ طلوع ہوکر رہتا ہے۔

اِنَّ   مَوْعِدَہُمُ الصُّبْحُ۝۰ۭ اَلَيْسَ الصُّبْحُ    بِقَرِيْبٍ۝۸۱ (هود۱۱:۸۱)

بے شک ان کے (عذاب کا) وعدہ صبح کا ہے___ کیا صبح قریب نہیں ہے؟

آپ کے لیے سلامتی کی دعا اور ظالمانہ قید میں موجود تمام آزاد لوگوں کے لیے بھی !

آپ کی بیٹی تسنیم

 _______________