ڈاکٹر محمد سعود عالم قاسمی


معاش یا معیشت تلاش رزق کی آزادانہ جدوجہد کا نام ہے۔ عربی زبان میں ’عیش‘ زندگی گزارنے کو کہتے ہیں اور ’معاش زندگی‘ گزارنے کے وسائل کو حاصل کرنے کو کہتے ہیں۔ تاریخ اور عمرانیات کے نام وَر عالم ابن خلدون کہتے ہیں :

اِنَّ الْمَعَاشَ ھُوَ ابْتِغَاءُ الرِّزْقِ وَالسَّعْیُ فِیْ تَحْصِیْلِہٖ،معاش رزق تلاش کرنے اور اس کے حصول میں دوڑ دھوپ کرنے کا نام ہے۔ (مقدمہ ، ص ۴۶۳، قاہرہ ۲۰۰۴ء)

وسائل رزق کے لیے معاش کا لفظ قرآن پاک میں بھی استعمال کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

وَ لَقَدْ مَکَّنّٰکُمْ فِی الْاَرْضِ وَجَعَلْنَا لَکُمْ فِیْھَا مَعَایِشَط قَلِیْلًا مَّا تَشْکُرُوْنَO (اعراف۷:۱۰) اور بے شک ہم نے تم کو زمین میں ٹھکانہ دیا اور اس میں تمھاری زندگی کا سامان رکھا، مگر تم لوگ کم ہی شکر کرتے ہو۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین میں آباد کیا ہے، اسے خلیفہ بنایا ہے اور اسے عقل وشعور کے ساتھ قوت واختیار اور مالکانہ حقوق سے نوازا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حیوانات کو بھی پیدا کیا ہے مگر نہ تو ان کو عقل وشعور عطا کیا ہے اور نہ حق ملکیت عطا کیا ہے۔ حیوانات کسی چیز کے مالک نہیں ہوتے، جب کہ انسان کو ہر شے کی ملکیت عطا کی گئی ہے، یہاں تک کہ حیوانات کی بھی۔ انسان کی عظمت وفضیلت اس کی قوت وقدرت اور آزادی واختیار سے ظاہر ہوتی ہے۔ جس انسان کو حق ملکیت حاصل نہیں ہے اسے آزادی بھی حاصل نہیں ہے۔ اس کے ارادہ ، اختیار اور قدرت میں کمی ہے۔ گویا حق ملکیت انسان کی آزادی کی علامت ہے اور حق ملکیت سے محرومی غلامی کی علامت ہے۔ اسی نکتے کو قرآنِ پاک میں اس طرح مثال دے کر سمجھایا گیا ہے:

ضَرَبَ اللّٰہُ  مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْکًا   لَّا   یَقْدِرُ عَلٰی  شَیْ ئٍ   وَّ مَنْ   رَّزَقْنٰہُ   مِنَّا رِزْقًا  حَسَنًا فَھُوَ  یُنْفِقُ  مِنْہُ سِرًّا  وَّ جَھْرًا ط ھَلْ یَسْتَوٗنَ ط   اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ط   بَلْ اَکْثَرُھُمْ           لَا یَعْلَمُوْنَO (النحل۱۶ :۷۵) اللہ نے غلام بندے کی مثال دی ہے جو کسی چیز کی قدرت نہیں رکھتا اور اس بندے کی مثال دی ہے جس کو ہم نے اچھا رزق عطا کیا ہے ، تو وہ اس میں سے کھلے اور چھپے خرچ کرتا ہے۔ کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں ؟ الحمدللہ  مگر ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے۔

غلام کو مالکانہ حقوق حاصل نہیں ہوتے ۔ اس لیے وہ اپنی مرضی سے مال خرچ نہیں کر سکتا ۔ وہ اپنے مالک کی مرضی کا محتاج رہتا ہے۔ اس کے مقابلے میں آزاد انسان اپنے ارادے اور اختیار سے جس طرح چاہے مال خرچ کر سکتا ہے۔ کوئی اسے روکنے ٹوکنے والا نہیں۔ ان دونوں انسانوں میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔ایک مختار ہے دوسرا محتاج، ایک مالک ہے دوسرا مجبور۔

اللہ تعالیٰ نے یہ کائنات انسان کے لیے بنائی ہے اور انسان کے لیے اس میں منافع اور برکتیں رکھی ہیں۔ انسانوں کو اپنی عقل وبصیرت اور فہم وفراست سے کام لے کر آزاد انہ تصرف کرنے کی سہولت فراہم کی ہے۔ رزق کے وسائل اور معیشت کے ذرائع اس زمین میں کثرت سے پیدا کیے ہیں اور انسانوں کو اپنی لیاقت اور محنت سے ان کو کام میں لانے کی دعوت دی ہے اور اپنی زندگی کو خوش حال بنانے کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ اللہ پاک کا ارشاد ہے :

ھُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاکِبِھَا وَکُلُوْا مِنْ رِّزْقِہٖ ط وَاِلَیْہِ النُّشُوْرُ O (الملک ۶۷:۱۵) اور اللہ ہی ہے جس نے تمھارے لیے زمین کو پست بنا دیا ، چلو اس کے کندھوں پر اور کھائو اس کا رزق اور اسی کی طرف مرنے کے بعد اُٹھ کر جانا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے رزق کے وسائل پر کسی خاص خاندان ، گروہ اور قوم کا حق نہیں رکھا ہے، بلکہ ان کو تمام انسانوں کے استفادے کے لیے بنایا ہے۔ ارشاد فرمایا کہ :

ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَکُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا(البقرہ ۲:۲۹) اور اللہ ہی ہے جس نے تمھارے لیے زمین کی ساری چیزیں پیدا کیں۔

 کوئی بھی شخص اپنی صلاحیت اور محنت سے ان کو بروے کار لا سکتا ہے اور ان سے استفادہ بھی کر سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو انفرادی ملکیت کا حق بھی دیا ہے اور اس میں تصرف کی آزادی بھی بخشی ہے۔ اسی کے ساتھ بعض بنیادی چیزوں کو تمام انسانوں کی مشترکہ ملکیت بھی قرار دیا ہے، جن میں ہوا ، پانی، روشنی ، آگ اور گھاس وغیرہ شامل ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: اَلْمُسْلِمُوْنَ شُرَکَاءُ فِیْ ثَلَاثٍ فِی الْکَلَاءِ  وَالْمَاءِ وَالنَّارِ(سنن ابو داؤد ، کتاب البیوع )’’تین چیزوں میں تمام مسلمان شریک ہیں: گھاس، پانی، اور آگ میں‘‘۔

اللہ تعالیٰ نے وسائل رزق کی فراوانی کے ساتھ انسانوں کو محنت وعمل کی آزادی بھی بخشی ہے۔ کوئی بھی شخص اپنی مرضی اور ارادے سے حلال رزق کا کوئی بھی ذریعہ اختیار کر سکتا ہے ۔ کوئی بھی پیشہ پسند کر سکتا ہے اور کوئی بھی میدانِ عمل منتخب کر سکتا ہے ۔ اس پر کوئی پابندی نہیںہے، بلکہ   اللہ تعالیٰ نے مومن بندوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت بجا لانے کے ساتھ حلال رزق کی جدوجہد میں اپنا وقت لگائیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوۃُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ وَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَO(الجمعہ۶۲ :۱۰) پس جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جائو اور اللہ کا فضل، یعنی رزق تلاش کرو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرو، شاید تم کامیاب ہو جائو۔

حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

خَیْرُ الْکَسْبِ کَسْبُ یَدِ الْعَامِلِ اِذَا نَصَحَ (مسند احمد ۲/۳۳۴) بہترین کمائی وہ ہے جو محنت کش اپنے ہاتھ سے کماتا ہے بشرطیکہ وہ خیر خواہ ہو۔

ایک شخص نے امام احمد بن حنبلؒ سے پوچھا کہ اس شخص کے بارے میں آپ کی کیا راے ہے جو یہ سوچ کر گھر یا مسجد میں بیٹھ جائے کہ میری روزی خود بخود میرے پاس پہنچ جائے گی۔ اس کے لیے مجھے محنت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ امام احمد بن حنبل ؒنے جواب دیا کہ ایسا شخص جاہل ہے۔ اسے معلوم نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے :

اِنَّ اللہَ جَعَلَ رِزْقِیْ تَحْتَ رُمْحِیْ (فتح الباری ج۱۱، ص۶۰۳) اللہ تعالیٰ نے میرا رزق میرے نیزے کے نیچے رکھا ہے۔

ابن خلدون نے لکھا ہے کہ : ’’روزی کمانے کے لیے کوشش کرنا اور محنت کرنا ضروری ہے‘‘۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فَابْتَغُوْا عِنْدَ اللہِ الرِّزْقَ (مقدمہ ،ص ۴۶۲) ’’اللہ کے پاس رزق تلا ش کرو‘‘۔

معاشی آزادی کے لیے آزاد تجارت اور فری مارکیٹ بھی ضروری ہے۔ حکومت کنٹرول ریٹ پر غلہ اور اشیاے خوردو نوش تو فراہم کر سکتی ہے مگر آزادانہ تجارت پر پابندی عائد نہیں کر سکتی ۔ لوگ جس طرح چاہیں کاروبار کریں ، جیسے چاہیں لین دین کریں، اس میں مداخلت کرنے کا جواز نہیں۔

حضرت انس بن مالک ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چیزوں کی قیمتیں مہنگی ہو گئیں۔ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بازار کی اشیا کا بھائو مقرر کرنے کی درخواست کی تو آں جناب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

اِنَّ اللہَ ھُوَ الْمُسَعِّرُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الرَّازِقُ  وَ اِنِّیْ  لَاَرْجُوْ اَن اَلْقَی اللہَ  وَلَیْسَ اَحَدٌ مِنْکُمْ یُطَالِبُنِیْ بِمَظْلَمَۃٍ فِیْ دَمٍ وَلَا مَالٍ  (سنن ابی داؤد ، کتاب البیوع) بے شک نرخ مقرر کرنے والا اللہ ہے، وہی روزی تنگ کرتا ہے، وہی روزی کشادہ کرتا ہے، اور وہی روزی مہیا کرتا ہے۔ میری آرزو ہے کہ میں اللہ سے اس حال میں ملاقات کروں کہ تم میں سے کوئی مجھ سے کسی جانی یا مالی زیادتی کا مطالبہ کرنے والا نہ ہو۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اگر چاہتے تو بازاری اشیا کی قیمت متعین کر سکتے تھے اور لوگ آپؐ کی مقرر کردہ قیمتوں کو بخوشی قبول بھی کر لیتے ۔ پھر بھی آپؐ نے آزادیِ تجارت کو برقرار رکھنے کے لیے مداخلت نہیں فرمائی، بلکہ یہ معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیا کہ وہی حالات ساز گار کرنے والا ہے۔ وہی حالات تنگ کرنے والا ہے۔ اسی کے قبضۂ قدرت میں انسانی قلوب اور ذہن ہیں۔

اسلام نے معاشی آزادی کے لیے کاروبار کی آزادی کو یقینی بنایا ہے۔ آزادانہ تجارت     اور لین دین کی رکاوٹوں کو دُور کرنے پر زور دیا ہے، اور ایسے طور طریقوں کو اختیار کرنے سے منع   کیا ہے جو آزادانہ تجارت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ چنا نچہ حضرت جابر ؓ روایت کرتے ہیں کہ جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

لَا یَبِیْعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَدَعُوْا النَّاسَ یَرْزُقُ اللہُ بَعْضَھُمْ مِنْ بَعْضٍ (سنن ابن ماجہ ) کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال لے کر نہ بیچے (دلالی نہ کرے )۔ لوگوں کو چھوڑ دو کہ وہ خود سے کاروبار کریں۔ اللہ بعض کو بعض کے ذریعے رزق دیتا ہے۔

غرض یہ کہ اسلام نے آزادانہ تجارت کی نہ صرف اجازت دی ہے بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ کیوں کہ اس سے تمدن کی ترقی اور سماج کی خوش حالی جڑی ہوئی ہے۔ جب کبھی آزادانہ معیشت پر قدغن لگایا جائے گا اور عوام کو معاشی جبر میں مبتلا کیا جائے گا تو ملک میں بدامنی پھیلے گی اور حکمران کے خلاف بغاوت کے شعلے بھڑکیں گے۔ معاشی جبر انسان کے ایمان واخلاق کو بھی برباد کرتا ہے اور ملک میں برائی اور فساد کا بھی ذریعہ ہے۔ ماضی قریب میں بعض مسلم ممالک میں جو بغاوت کی لہر اٹھی وہ بہت حد تک اسی معاشی جبر کا نتیجہ تھی۔ حکمراں طبقہ معاشی وسائل پر سانپ بن کر بیٹھ گیا تھا اور عوام پر رزق کے راستے تنگ کر دیے تھے۔ اس کا نتیجہ بغاوت اور انقلاب کی شکل میں رُونما ہوا۔ ۱۹۷۹ء میں ایران کے شہنشاہ آریہ مہر رضا شاہ پہلوی کے خلاف جو بغاوت رونما ہوئی اس کا بنیادی سبب حکمران کی معاشی اصلاحات سے عوام کی بے اطمینانی اور بے چینی تھی۔ ۲۰۱۱ء میں تیونس میں عوامی انقلاب ، ۲۰۱۲ء میں لیبیا اور مصر میں عوامی انقلاب حکمرانوں کے معاشی جبر کا ردعمل تھا۔ حکمران خاندان نے معاشی وسائل اور ذرائع تجارت پر قبضہ کر لیا تھا اور عوام کو ملکی وسائل کی آمدنی سے محروم کر دیا تھا۔ حکمران عیش وعشرت کی زندگی گزار رہے تھے اور عوام تنگ دستی میں مبتلا تھے، بلکہ فاقہ کشی پر مجبور تھے۔ اس جبرو استبداد کو ختم ہونا تھا بالآخر عوامی رد عمل نے ان حکمرانوں کو کیفر کردار تک پہنچا دیا۔

معاشی جبر  جس طرح انسان کو فساد میں مبتلا کر دیتا ہے، اسی طرح معاشی وسائل کی کثرت اور دولت کی فراوانی انسان کو برباد کر دیتی ہے۔ حکمران طبقے کے ساتھ بالعموم یہی ہوتا ہے۔ ان کی تعیش پسند زندگی ان کو انجام سے بے خبر کر دیتی ہے اور ان کی نگاہوں پر پردے ڈال دیتی ہے۔ معاشیات کے اسی نکتے کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح سمجھایا ہے :

وَلَوْ بَسَطَ اللّٰہُ الرِّزْقَ لِعِبَادِہٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ وَلٰـکِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآئُ ط اِنَّہٗ بِعِبَادِہٖ خَبِیْرٌم بَصِیْرٌO(الشوریٰ ۴۲:۲۷) اگر اللہ تعالیٰ بندوں کے لیے وسائل رزق کی فراوانی کردے تو وہ زمین میں سرکشی کرنے لگیں، لیکن اللہ جتنا چاہتا ہے اندازے سے نازل کرتا ہے۔ وہ اپنے بندے کے احوال پر نظر رکھتا ہے اور خبر رکھتا ہے۔

  •  معاشی اصول و ضوابط: اسی لیے اسلام نے بے قید معاشی آزادی کی حوصلہ افزائی نہیں کی۔ ایسی تجارت کو پسند نہیں کیا جو دوسرے کے نقصان یا استحصال کا ذریعہ ہو۔ دوسروں کی آزادی میں مخل ہو، اور دوسروں کے نفع ونقصان پر اثر انداز ہو۔ چنانچہ اسلام نے معاشی آزادی کے ساتھ کچھ اصول وضوابط بھی مقرر کیے تا کہ یہ آزادی استعمار اور استحصال کا موجب نہ بن جائے۔ ان اصولوں کی وجہ سے فرد کی معاشی آزادی کا تحفظ بھی ہوتا ہے اور عام انسانوں کو راحت اور سکون بھی ملتا ہے۔ اگر آزادی کے نام پر ان اصولوں کو نظر انداز کر دیا جائے تو معاشرے میں وہی تباہی آئے گی جو قارون اور ہامان اور فرعون کے زمانے میں آئی تھی۔
  •  پہلا اصول یہ ہے کہ تجارت اور مالی لین دین عادلانہ طریقوں اور باہمی رضا مندی سے کیا جائے ، زور زبر دستی اور جبر واکراہ سے کسی کا مال نہ حاصل کیا جائے۔ کسی کے مال اور جایداد پر حیلہ اور تدبیر سے قبضہ نہ کیا جائے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے :

لَا تَاْکُلُوْٓا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّآ اَنْ تَکُوْنَ تِجَارَۃً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْکُمْ (النساء۴ : ۲۹) اور نہ کھائو ایک دوسرے کا مال غلط طریقے سے اِلا یہ کہ باہمی رضا مندی سے تجارت ہو۔

اسی لیے اسلا م نے چوری، ڈاکا زنی، جوا، لاٹری وغیرہ کے ذریعے حاصل کیے ہوئے مال کو انسان کی ملکیت تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔ کیوں کہ یہ باطل طریقے سے مال کمانا ہے۔

  • دوسرا اصول یہ ہے کہ تجارت میں شفافیت اور ایمان داری ہو دھوکا دہی نہ ہو اور نہ کسی فریق کا نقصان ہو۔ حضر ت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں:

نَھٰی رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ بَیْعِ الْغَرَرِ  (سنن الترمذی ، ابواب البیوع )نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دھوکے کی تجارت سے منع فرمایا ہے ۔

غرر ایک جامع لفظ ہے۔ اس میں ہر طرح کی دھوکے بازیاں، مال مجہول اور تجارتی      جعل سازیاں شامل ہیں۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: مَنْ غَشَّ فَلَیْسَ مِنَّا  (سنن ترمذی) جو دھوکا دے گا وہ ہماری امت میں سے نہیں ہے۔ تجارت اور کاروبار کی آزادی اس بات سے جڑی ہوئی ہے کہ کسی فریق کا نقصان نہ ہو اور اس کی حکمت یہ ہے: لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ فِی الْاِسْلَامِ، ’’نہ تو نقصان اٹھائو اور نہ نقصان پہنچائو‘‘۔ یہی اسلامی معیشت کی روح اور جان ہے اور یہی نظام عدل واحسان ہے۔ اگر کسی فریق کے تجارتی فائدے میں دوسرے فریق کا نقصان ہو تو اس کاروبار کو عادلانہ نہیں کہا جا سکتا اور ایسی آزادی کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا ۔

  • تیسرا اصول یہ ہے کہ ایک مسلمان کو صرف انھی اشیا کی تجارت کی آزادی ہے جو حلال اور پاک ہیں ۔ حرام اور ناپاک چیزوں کی تجارت کی آزادی نہیں ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے :

وَ کُلُوْا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ حَلٰلًا طَیِّبًا ص وَّ اتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیْٓ اَنْتُمْ بِہٖ مُؤْمِنُوْنَO (المائدہ ۵:۸۸) جو پاکیزہ حلال رزق اللہ نے تم کو دیا ہے اس میں سے کھائو اور اس اللہ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔

ایک مسلمان کو اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ وہ سور، شراب، مردار اور خون کی تجارت کرے، یا بدکاری اور فحش چیزوں کا دھندا کرے، یا سودی لین دین کرے۔ شریعت نے جن چیزوں کو حرام قرار دیا ہے وہ اللہ کی نظر میں ناپاک ہیں اور پاکیزہ عقیدے کے حاملین کو ناپاک اشیا کی تجارت زیب نہیں دیتی۔ اس کے مقابلے میں پاک چیزوں کی تجارت کا وسیع میدان موجود ہے۔

  • چوتھا اصول یہ ہے کہ ایسی تجارت اور لین دین سے گریز کیا جائے جس میں فریقین میں جھگڑا اور تصادم ہو۔ اسی لیے شریعت نے تجارت کی شرطوں اور طریقوں کو وضاحت سے بیان کرنے اور اختیار کرنے پر زور یا ہے ۔ ایسی تجارت اور کاروبار جس میں تنازع ہو، فتنہ وفساد ہو  کوئی خیروبرکت نہیں ہے۔ اگر بیچنے اور خریدنے والے میں تنازع ہو جائے تو بات بیچنے والے کی تسلیم کی جائے گی، خریدنے والے کو معاملہ ختم کرنے کا حق ہے۔
  • پانچواں اصول یہ ہے کہ فرد اور سماج کی ضرورت اور مجبوری کا استحصال نہ کیا جائے ۔ کسی آجر کے کام میں کمی نہ کی جائے اور کسی مزدور کی اُجرت اس کی محنت سے کم نہ دی جائے۔ سماج میں اگر خوردونوش کی اشیا کی قلت ہو تو گوداموں میں مال جمع کر کے نہ رکھا جائے تا کہ قیمت تناسب سے بڑھ جائے اور گراں قیمت وصول کی جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سامان خوردونوش کی قلت کے وقت سامان جمع کر کے رکھنے والوں کو گنہگار قرار دیا ہے۔ لَا یَحْتَکِرُ اِلَّاخَاطِئیٌ، ’’صرف گنہگار ہی احتکار کرتا ہے‘‘ ۔
  • چھٹا اصول یہ ہے کہ تجارت تو کی جائے مگر سودی لین دین سے گریز کیا جائے۔ سود بھی اصلاً معاشی استحصال کی ایک شکل ہے ۔ اللہ کا ارشاد ہے:

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْکُلُوا الرِّبٰٓوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَۃً ص وَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَO(اٰل عمرٰن ۳:۱۳۰ ) اے مومنو ! مت کھائو سود بڑھا چڑھا کر۔ اللہ سے ڈرو شاید کہ تم کامیاب ہو جائو۔

اسلام نے اس طرح کی متعدد شرطوں اور حدوں کا تعین کیا ہے ، جن پر عمل کر کے انسانی معاشرے کو فساد سے اور بدامنی سے بچایا جا سکتا ہے اور معاشی آزادی کو بامعنی بنایا جا سکتا ہے۔