ماجد عبدالسلامہ


میرے اہل خانہ اور غزہ کے عوام کے لیے، اگست ۲۰۲۰ء کے دن بہت خوفناک رہے۔  اسرائیل نے تقریباً روزانہ کی بنیاد پر غزہ کی پٹی پر بمباری کی۔ اس دوران ہمیں ایسا محسوس ہوتا رہا کہ ہم کبھی نہ ختم ہونے والے زلزلے کے مرکز پر پھنس گئے ہیں۔ دھماکے ، کبھی کبھی تو ہمارے گھر سے بمشکل ایک کلومیٹر کے فاصلے پر ہوتے اور اتنے زوردار ہوتےکہ ، میری دو سالہ بھانجی رات بھر سونہیں سکتی تھی۔ جب بھی وہ ز ور دار دھماکے کی آواز سنتی، جلدی سے کھلونے سمیٹ کراپنے اردگرد جمع کر لیتی ، کہ یہ کھلونے اسے اسرائیل کے بموں سے بچا لیں گے۔

اگست کا مہینہ واقعتاً بھیانک توتھا ہی، لیکن یہ کسی طرح سے غیر معمولی نہیں تھا۔ اسرائیل کے فوجی ، جنگی طیارے ، ڈرون اور بندوق بردار کئی عشروں سے غزہ کے عوام کو بڑے تسلسل سے ہراساں کررہے ہیں ، دھمکا رہے ہیں اور اس سے آگے بڑھ کر مار بھی رہے ہیں۔ اسرائیل کے    یہ بہیمانہ حملے، غزہ کی روزمرہ زندگی کے معمولات کا حصہ ہیں۔ زندہ رہنے کے قابل ہونے کے لیے اور کسی ایسی چیز کی رہنمائی کرنے کے لیے جو عام زندگی سے ملتی ہے ، ہم اہل غزہ کے پاس ، اپنے اوپر ہونے والے تشدد کو معمول کے مطابق قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ بھی تو نہیں ہے۔

 غزہ میں پیدا ہونے اور پرورش پانے کے دوران میں نے ہمیشہ ایمرجنسی ، دہشت اور کسی بھی لمحے اسرائیل کی جانب سے مسلط ہوجانے والی درندگی کا احساس محسوس کیا ہے۔میرا خاندان ہمیشہ بدترین حالات و انجام کا سامنا کرنے کے لیے تیار چلا آرہا ہے، کیونکہ بدترین انجام کسی بھی وقت ہمارے دروازے پر دستک دے سکتا ہے ، جیسا کہ اس نے ماضی قریب میں غزہ پر۲۰۰۸ء، ۲۰۰۹ء ۲۰۱۲ء اور ۲۰۱۴ء میں حملوں کے دوران کیا تھا۔ بچپن سے میں جانتا تھا کہ ہر دن خوف میں رہنا ہی ہمارا مقدر ہے۔ میرے دل نے روزمرہ کی ہولناکیوں کے خاتمے کے خوش کن تصور کو مسترد کردیا ہے ، کیوں کہ اَب میں اپنی انسانی قسمت سے رابطہ نہیں کھونا چاہتا ۔یوں مجھے آخر کار اپنے گردونواح کی اس صورتِ حال سے اتفاق کرنا پڑا جس میں مَیں پیدا ہوا تھا۔

اب ، میری بھانجی اور ہزاروں دوسرے بچے ، جو غزہ میں اسرائیلی محاصرے میں رہ رہے ہیں ، اسی خوف اور مسلسل ہنگامی صورتِ حال کے ایک جیسے احساس کے ساتھ پل بڑھ رہے ہیں۔  جب وہ بموں کی آوازوں میں سونے کی کوشش کرتے ہیں ، اور اپنے کھلونوں کو خوفناک دہشت سے بچاتے ہیں جو ان کے دروازے پر دستک دے رہی ہے، اور فضا سے ان پر مسلط ہے، تو انھیں معمول کے مطابق ایک پُرتشدد حقیقت کو قبول کرنا ہی ہے۔ ایسا پُرتشدد ماحول دُنیا کا کوئی معاشرہ، کوئی ملک یا کوئی باپ اپنے بچے کو کبھی نہیں دکھانا چاہتا۔

کائنات میں تیرتی اس دُنیا میں حالیہ برسوں کے دوران شاید ہی کوئی ایسا دن دیکھنے میں آیا ہو، جس میں اسرائیل نے فلسطین کے انتہائی گنجان آباد علاقوں پر بمباری یا فائرنگ نہ کی ہو یا جسمانی طور پر حملہ نہ کیا ہو ، بلکہ ایک ایسی جگہ بھی تھی، جس کا بدترین محاصرہ ہوئے ۱۳ سے زیادہ دن گزرگئے، جن میں عام انسانی کی زندگی کے لیے بنیادی ضروریات تک میسر نہ تھیں۔

اسرائیل کا نوآبادیاتی انفراسٹرکچر ہمارے اوپر آسمان کو اور ہمارے ارد گرد زمین کو اور پھیلے ہوئے سمندر کو کنٹرول کرتا ہے ۔ غزہ میں ، جہاں بھی آپ نظر ڈالتے ہیں ، آپ کو جبر ، قبضے اور جنگی آلات نظر آتے ہیں ۔ سرحد پر تقسیم کرتی دیواریں ، بکتر بند گاڑیاں ، جنگی طیارے اور قلعہ نما چوکیوں کا منظر، جس میں ہم رہتے ہیں___ اس کو ’غزہ‘ کہتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب آپ گھر میں ہوتے ہیں، تو فوجی ڈرون کی منحوس آواز آپ کو یاد دلاتی ہے کہ آپ قید ہیں ، اور آپ پر کسی بھی وقت حملہ ہوسکتا ہے۔

 مجھے یقین ہے کہ اسرائیل غزہ کے فلسطینیوں کو اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے یہ سب شعوری طور پر کرتا ہے۔ اپنے قبضے کو ظاہر کرنے کے لیے نہایت گھناؤنی طاقت کا مکروہ مظاہرہ کرتا ہے،اور ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ’’ہم تمھیں کبھی عام انسان نہیں بننے دیں گے ، اور کبھی تمھیں  عام زندگی بسر نہیں کرنے دیں گے‘‘۔

اسرائیل کے نزدیک ، ’’غزہ ایسی جگہ نہیں ہے جہاں ۲۰لاکھ مرد ، خواتین اور بچے اپنی پناہ گاہ کو گھر کہہ سکیں، البتہ اپنے آپ کو ’دشمن کا نشانہ بننے والی ایک مخلوق سمجھ سکتے ہیں‘‘۔ وہ یہ بھی سمجھ سکتے ہیں کہ ’’ہم ایک اجنبی جگہ کے باشندے ہیں، جو انسانی شائستگی کے سلوک کے مستحق نہیں ہیں‘‘۔ اسرائیل کی پروپیگنڈا مشین ، دنیا بھر میں اپنے حلیفوں کی مدد سے ، غزہ کے عوام کو غیر مہذب، متشدد ’انتہا پسندوں‘ کا نام دینے کے لیے اَن تھک کام کرتی ،اور یہ تاثر دیتی ہے کہ ’ارضِ فلسطین پر اسرائیل کا قبضہ ’انسانیت پسندانہ‘ اور ’مہذبانہ اقدام‘ ہے۔

بلاشبہہ، حقیقت اس سے بہت مختلف ہے۔ اسرائیل کی طرف سے ہمیں دہشت زدہ کرنے کی کوششوں کے باوجود ، ہم غزہ کے عوام کو ، ہمارے غاصب فسطائی حاکم، اپنی رُودادِغم سنانے کی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اسی لیے ہم اپنے خوف ، خطرات اور مایوسیوں کو مزاحمت میں بدل کر دنیا کے ہر اس چوراہے پر پہنچ جاتے ہیں کہ جہاں اپنی المناک صورتِ حال کو بیان کرکے اپنے جابر قابضین کو شرمندہ کرنے کے لیے آواز بلند کر سکتے ہیں۔

غزہ کی پٹی اور پھر پوری دنیا میں بکھرے غزہ کے بہت سے مظلوموں کی طرح ، میں نے بھی زندگی بھر اسرائیل کی نوآبادیاتی پالیسیوں کا مقابلہ کیا ہے۔ میں غزہ میں پہلے اپنے مہاجر کیمپ میں ، اور بعد میں جرمنی میں ، انصاف اور آزادی کے لیے فلسطینی جدوجہد میں صفِ اوّل میں رہا ہوں۔ ان کوششوں پر مجھے دھمکیاں دی گئیں ، ستایا ، ڈرایا گیا اور یہاں تک کہ ایک بار گولی مار دی گئی۔ لیکن میں کبھی اس جدوجہد سے دست بردار نہیں ہوا ، کیونکہ میں یہ جانتا ہوں کہ مزاحمت ہی اس بات کا یقین کرنے کا واحد راستہ ہے کہ میرے لیے ، میرے اہل خانہ اور میرے پیارے اہلِ غزہ کے لیے زندگی کی راہ اسی خطرناک گھاٹی سے گزر کر نکلے گی۔

لیکن ، یہ افسوس ناک بات ہے کہ دنیا ہماری بات سننے میں دل چسپی نہیں رکھتی۔ اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں کے خلاف جاری جرائم کا انکشاف بار بار، صحافیوں ، اقوام متحدہ کے نمایندوں، کارکنوں اور خود فلسطینیوں کے ذریعے ہوا ہے۔ اس کے باوجود ، بیش تر عالمی حکومتوں نے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ کچھ لوگوں نے اسرائیل کی محض رسمی ’مذمت‘ کرنے ، اور فلسطینیوں کے خلاف اپنے جارحانہ حملوں کو روکنے کے لیے چند پامال لفظوں پر مبنی کھوکھلے بیانات جاری کیے ، لیکن دوسری طرف اسرائیل کو سفارتی ، سیاسی اور فوجی مدد فراہم کرتے رہے۔ بہت سے تو مکمل طور پر خاموش رہے اور ہمارے دُکھوں کی طرف سے آنکھیں بند کیں ، جو غلیظ خودغرضی اور اخلاقی غداری ہے۔

لیکن عالمی برادری ہماری حالت زار کو نظرانداز نہیں کرسکتی۔ اقوام متحدہ نے تین سال پہلے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ ۲۰۲۰ء تک غزہ ناقابلِ رہایش علاقہ بن جائے گا۔ تب سے اسرائیل نے نہ صرف یہ کہ غزہ کو تیزی سے بگاڑنا شروع کیا ہے، بلکہ غزہ پٹی پر اپنے حملے تیز کردیے۔  مقامی لوگوں کی کوشش ہے کہ اس کھلی جیل کو مزید لمبے عرصے تک رہنے کے قابل بنایا جائے۔ کورونا وائرس اب پورے غزہ کے مہاجر کیمپوں اور بستیوں میں پھیل رہا ہے۔ ہم اپنے دکھوں کی صورتِ حال تسلیم کرانے اور کارروائی کرنے کے لیے مزید انتظار کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے ہیں۔

 ہر سال ۱۵ مئی کا دن، فلسطینیوں نے ہم وطنوں کی نسل کشی اور ۱۹۴۸ء میں فلسطینی معاشرے کی تباہی کا حوالہ بنا رکھا ہے۔ اس افسوس ناک دن کے بعد سے ، اسرائیل کا بنیادی اسٹرے ٹیجک مقصد فلسطینیوں کو اسی ٹکڑے میں قید رکھنا ہے۔ تباہی کی اس حالت کا مقصد اسرائیلی نوآبادیاتی ڈھانچے کی تعمیر کے ذریعے اہلِ فلسطین کے لیے ہر روشن دان بند کرنے کا انتظام ہے۔

اسرائیل نے فلسطین کو اتنے لمبے عرصے سے تباہ کن حالت میں دبوچے رکھا ہے، کہ اب ہماری یہ خستہ صورتِ حال پوری دنیا کو ’معمول کی صورتِ حال‘ لگتی ہے۔ حالانکہ اسرائیل ہماری سماجی، معاشی اور ذاتی زندگیوں کو تباہ کرنے کے لیے پوری قوت، تسلسل سے لگا رہا ہے۔

 فلسطینی عوام بلاشبہہ اسرائیل کی نوآبادیاتی پالیسیوں کے خلاف مزاحمت کو نچلی سطح تک منظم کرکے چلا رہے ہیں، لیکن یہ بات بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم آزادی ، مساوات اور وقار کے لیے اپنی عدل و انصاف پر مبنی اخلاقی جنگ کو عالمی برادری کی حمایت کے بغیر نہیں جیت سکتے۔

اسی لیے ہم عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فلسطین میں اسرائیلی جرائم کا حصہ نہ بنیں۔ اگر دنیا ہمارے حالات کو ’معمول‘ کے حالات سمجھ کر عملی اقدامات کرنے میں ناکام رہی تو میرے ہم وطن اپنے گھربار کو بچانے سے ہمیشہ کے لیے محروم رہ جائیں گے۔(الجزیرہ، انگلش، ترجمہ: س م خ)