محمد عبد الحمید


عصر حاضر میں مسلمانوں کی نوجوان نسل کو امام البنا اور ان کی فکر و تحریک کے بارے میں پوری آگاہی کے ساتھ غورو خوض کرنا چاہیے، اس کے مختلف پہلوؤں پر پورے خلوص‘ سنجیدگی اور باریک بینی کے ساتھ نظر دوڑانی چاہیے ۔اس سے ان پر یہ حقیقت کھل کرواضح ہوجائے گی کہ کس طرح ا نسانوں کو راہ راست پر لاکر منظم کیا جاسکتا ہے، اور کس طرح انھیں دعوت کے کام پر آمادہ کیا جاسکتا ہے۔ انھی کاوشوں کے نتیجے میں اب عالمِ اسلام آزادی اور عروج کے حصول کی جانب تیزرفتار پیش قدمی کررہا ہے ،بالکل اس شیر کی طرح جسے بیڑیوں میں جکڑ دیا گیا ہو‘ یا جیسے کسی شاہین کے پر کاٹ دیے گئے ہوں لیکن پھر بھی وہ پہاڑوں کی بلندیوں میں اپنے بسیرے کی تلاش میں پھڑپھڑا رہا ہو۔

عالم اسلام کے ہر فرد پر واجب ہے کہ وہ ہر قسم کے لالچ ‘خوف‘بزدلی اور مایوسی سے پاک، بیداریِ اُمت کے قائد کی یاد تازہ کریں ،اس کی فکر کے اسلوب اور طریقۂ تربیت سے آگاہی حاصل کریں۔ امام شہیدؒ کو اس امت کا اصل مرض بخوبی معلوم تھا اور پھر وہ اس مرض کی دوا اور حقیقی علاج سے بھی پوری طرح آشنا تھے۔ انھیں معلوم تھا کہ اﷲ تعالیٰ کی معرفت حاصل نہ ہونا ہی اصل مرض ہے، اور اﷲ تعالیٰ کی معرفت ہی اس امت کا حقیقی علاج بھی ہے۔ انھیں اس بات کا پوراپورا ادراک حاصل تھا کہ نفس انسانی میں دو اطراف سے کمزوری در آتی ہے،جس کے بعد وہ جہاد فی سبیل اﷲ ترک کر بیٹھتا ہے۔ وہ دو چیزیں حرص اور خوف ہیں۔ اگر انسان کو اﷲ تعالیٰ کے تنہا رازق ہونے اور اسی کی طرف سے موت کا یقین ہوجائے تو وہ کبھی حق سے جی چرائے گا اور نہ پسپائی ہی اختیار کرے گا۔

انھوں نے کیسی خوب صورتی سے اس مفہوم کو اپنے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: ’’اے میرے بھائیو! تمھیں اس دنیا میں صرف دو باتوں کا لالچ ہوتا ہے: ایک اپنے رزق کا اور دوسرے لمبی عمر کا ۔ دونوں اﷲ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے قابو میں نہیں ہیں۔ اس لیے ان چیزوں کے لالچ میں آکر کبھی حق کا راستہ مت چھوڑو‘‘۔

اصلاح نفس میں معرفت خداوندی اور اس کی قدرو قیمت سے متعلق ان کا ایک شان دار قول ان کی بلند فکری پر دال ہے : ’’ معرفت خداوندی تبدیلی کا ایک مؤثر ذریعہ ہے جو فرد اور اجتماعیت دونوں کو بدل کر رکھ دیتا ہے‘‘۔ان کے نزدیک اصلاح معاشرہ، نفس کی اصلاح کے بغیر ممکن نہیں اور اصلاح نفس معرفت خداوندی کے ذریعے ہوتی ہے۔گویامعرفت خداوندی ایک ایسی اساس اور کنجی ہے جس پر فرد اور اجتماعیت دونوں کے نظم کا دار و مدار ہے۔ ہم سب کے حکیم و خبیر رب نے فرمایا ہے :  وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰھَا o فَاَلْھَمَھَا فُجُوْرَھَا وَتَقْوٰھَا o قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا o وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰھَا o (الشمس ۹۱:۷-۱۰) ’’اور نفس انسانی کی اور اس ذات کی قسم جس نے اسے ہموار کیا‘ پھر اس کی بدی اور اس کی پرہیز گاری اس پر الہام کردی‘ یقینا فلاح پاگیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور نامراد ہوا وہ جس نے اس کو دبادیا‘‘۔

امام شہیدؒ میں ایسی روحانی خصوصیات جمع ہوگئی تھیں، جو ان کے علاوہ کسی دوسری دینی یا سیاسی شخصیت یا ان کے معاصر قائدین میں نہیں ملتیں، مثلاً : فطری عظمت ‘ روحانی بلندی‘ پاکیزگیِ نفس، روشن ضمیری، سخن دل نوازی، توانا جسم۔ آپ ایسی سحر انگیز قوتوں کے مالک تھے کہ آپ کے ساتھ کوئی ایک مرتبہ بیٹھ جاتا تو اس کا ظاہر و باطن اسلام کے رنگ میں رنگے بغیر نہ رہتا۔ان کی روحانی شخصیت ہر شخص کو روشنی اور سربلندی کی جانب کھینچ لاتی تھی۔

داعیانہ کردار ایسا تھا کہ ہر کسی کو نیکی اور عبادت کی طرف متوجہ کرتے رہتے ۔یہی وجہ ہے کہ امام شہیدؒ میں اسی بندۂ مومن کی فطرت جھلکتی ہے جس کی تعریف کرتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : اذا رؤی ذکر اﷲ ، کہ اسے دیکھ کر اﷲ یاد آجاتا ہے۔ ایمان کی کیفیت جو دین کے ایک سپاہی‘ عام بندۂ مومن میں بڑی آسانی سے جھلکتی ہو‘ وہ مسلمانوں کے اس قائد میں کس قدر نمایاں طور پر دکھائی دے گی، جو نہ صرف دوسروں سے منفرد ہو بلکہ لوگوں کو بیدار کرنے والا وقت کا جلیل القدر امام بھی ہو۔

امام شہید ؒ کے اثرات ایک کھلی کتاب کی مانند ہیں ‘جو ان کی روحانیت کی روشن دلیل ہیں۔ وہ ایسی بے مثال شخصیت ہیں جیسے وہ ان الہامی روحوں اور پاک بازہستیوں کی کرنوں سے مل کر بقعۂ نور بن گئے ہوں ‘جو اپنے چہار اطراف میں روشنی اور تروتازگی بکھیرتے ہیں۔حسن البنا شہید آپ کے روح و قلب کو منور اور معطر کرنے والی باتیں بیان کرتے دکھائی دیتے ہیں‘جنھیں دیکھ کر آپ دل کی اتھاہ گہراہیوں سے بے اختیار پکار اٹھتے ہیں: مَا ھَذَا بَشَرا۔ اِن ھَذَا اِلَّا مَلِکُ کَرِیْمٌ (یوسف۱۲: ۳۱) ’’کہ یہ تو کوئی مقرب فرشتہ ہے‘ یہ انسان تو نہیں لگتا‘‘۔

وہ اپنی ذات میں ایک ایسا سیل رواں تھے جو کسی اور کا اثر قبول کیے بغیر دوسروں پر اثر انداز ہوتا ہو، جو مسلسل پیش قدمی کرتا ہو، کبھی پیچھے نہ ہٹتا ہو‘ اس کی تیز روشنی میں ہر چمک دار چیز بھی مدھم پڑجاتی ہو۔ وہ مثل آتش فشاں تھے جس کے آگے کوئی بند اور رکاوٹ نہ ٹھیر سکے۔ دلوں پر نرمی‘ آسانی اور مہربانی کے ساتھ مسلسل اثر انداز ہوتے جیسے کوئی پرسکون نالہ جو پہاڑوں اور وادیوں کے درمیان بہتا چلا جائے جس سے پورا علاقہ سرسبز و شاداب اور بارونق ہوجائے۔

ایسی عظیم شخصیات قدرت کا عطیہ ہوتی ہیں، بلند و بالا آفاقی نظریات کی حامل ، جو نہ گھٹیا خصلتوں کو اپناتی ہیں‘ نہ خوںخوار پرندوں اور لومڑیوں کی سی عیاری سے کام لیتی ہیں۔ یہ آفاقی خوبیاں نہ علم کے ذریعے حاصل کی جاسکتی ہیں اور نہ تگ و دو کرکے اختیار کی جاسکتی ہیں۔ یہ تو خداداد صلاحیتیں ہیں۔ اﷲ تعالیٰ جسے چاہتا ہے ان خوبیوں سے نوازتا ہے۔

امام شہیدؒ بھی ان پاکیزہ نفوس میں سے ایک تھے، جو ہر طرف روشنی بکھیرنے والے‘ مستقل مزاجی سے کام کرنے والے اور ہر گام خوشبو مہکانے والے تھے۔ امام شہیدؒ کی نمایاں خصوصیات میں سے ان کا تحریکی مزاج اور ان کی وہ قوت عمل ہے جو ان کے رگ و پے میں سرایت کرچکی تھی۔

آپ حیران کن حد تک منفرد شخصیت کے مالک تھے۔ آپ تن تنہا مادی طاقتوں اور دنیا کے خود ساختہ قوانین کے آگے کسی وقت بھی نہیں جھکتے تھے اور ہر دم بیدار‘ انتہائی سرگرم اورروشن فکر کے حامل تھے۔ان کے فکروعمل اور راہ نمائی و تربیت کے حلقات کا ایک لامتناہی سلسلہ تھا، جس کے لیے وہ اپنے پرایوں سب میں یکساں مقبول، انتہائی مخلص اور عوامی قائد کے طور پر ابھرے تھے۔ انھی کے درمیان اٹھتے بیٹھتے تھے۔ وہ شروع دن ہی سے مصر کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے گروہوں کے ساتھ گھل مل گئے تھے۔ انھیں مختلف طبقات کو درپیش معاشی اور سماجی تکالیف اور مشکلات کا بھی شدت سے احساس تھا۔

امام شہید ؒنے عام روش سے ہٹ کر بالکل علیحدہ راہ اختیار کی۔ ان کی نگاہ، بلند و بالا عزائم اور مقاصد پر تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا ہر اقدام ممتازہوا کرتا تھا۔ آپ کی کاوشیں کسی ایک فرد تک محدود نہ ہوتیں، بلکہ پوری امت کا احاطہ کرتیں۔ ان کو یہ بات معلوم تھی کہ ان کی زندگی جاری دعوت کے کام سے بہت کم ہے۔ اسی لیے انھوں نے دعوت دین کے لیے ہر قسم کے وسائل و ذرائع کو ممکن بنانا چاہا اور اس کی حفاظت کا پورا بندوبست کیا۔ اس کے لیے ممکنہ حد تک افراد اور وسائل کی فراہمی پر توجہ دی۔ انھیں اس با ت کا بخوبی اندازہ ہوچکا تھا کہ معاشرے کی مشکلات پر قابو پانے کے لیے ان کا محدود وقت بالکل ناکافی ہے۔یہی وجہ ہے کہ انھوں نے ہر جگہ اس بات کو بطور علامت (سلوگن) عام کردیا : ’’ فرائض، اوقات سے بہت زیادہ ہیں‘‘۔

دائمی تحرک اورفوری عمل درآمد آپ کا شعار بن چکا تھا۔آپ دعوت کی ضروریات اورتقاضے پورا کرنے میں دیوانہ وار لگے رہتے، جس کی مثال بہت کم ملتی ہے۔وہ کسی قسم کی خامی یا کوتاہی سے بچتے ہوئے نتائج کے حصول پر پوری توجہ مرتکز رکھتے تھے۔ وہ تیزی میں احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹنے دیتے تھے۔ ان کی سرگرمیاں بڑی مستحکم تھیں۔ان کی متوازن اورپاکیزہ شخصیت اس روشن چراغ کی مانند تھی جس کے تھوڑے سے تیل کا آخری قطرہ خشک ہونے کے بعد بھی اس کی لو نہیں بجھتی‘ جس کی پاکیزہ قوت کا آخری قطرہ بھی بہادیا جائے تب بھی وہ کلمۂ شہادت کا ورد کرتا رہے۔ ان کی ہمت‘ استطاعت سے کئی گنا بڑھ کر تھی اور یہ استطاعت ہر قسم کی تھکاوٹ اور تنگیِ وقت سے بالاترتھی۔ یہی وجہ ہے ان کی استطاعت عام انسانی استعداد سے بازی لے گئی تھی۔ ان کے شان دار کارنامے اولیا کی کرامات سے کسی طرح کم نہیں، جن میں ان کی پُرحکمت کاوشوں کا پورا دخل ہے۔

اخیر عمر میں ان کے ایک ساتھی نے جب دیکھا کہ نہ تو آپ رات میں ٹھیک سے سوتے ہیں اور نہ دن میں آرام لیتے ہیں‘ تھوڑی دیر کے علاوہ رات بھر یوں ہی جاگ کر کاٹ دیتے ہیں تو انھوں نے مشورہ دیا: ’’جناب مرشد! آپ کو کچھ دیر نیند یا آرام کرکے اپنے جسم پر رحم کرنا چاہیے‘‘۔ اس کے جواب میں امام شہیدؒ نے کہا: ’’ میرے پیارے! کل میں قبر میںلمبی نیند سوؤں گا اور خوب آرام کرسکوں گا‘‘۔

تائید ایزدی سے وہ ایسی عزیمت کے مالک تھے، جس کی مثال مشکل ہی سے ملتی ہے۔  ان میں ایک پورے مضبوط گروہ سے بڑھ کر ہمت و جرات تھی۔ دعوت دین کے کاموں میںیوں لگے رہتے گویا وہ تنہا ہی اس کے مکلف ہوں۔ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے پوچھتے کہ انھیں  کیا ہوگیا ہے کہ انھوں نے اتنا بھاری بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھارکھا ہے؟

آپ نے لوگوں کے ساتھ اتنا گہرا تعلق بنالیا جیسے پھول اور خوشبو کا باہمی تعلق ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ آپ کی سخت مصروفیات ‘ مشکلات کو جانتے ہوئے بھی خط لکھ کر اپنی نومولود بچی کا نام تک دریافت کرتے تھے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پہلے یہ شخص گناہ گار تھا اور اب دنیا کی تکالیف اور مشکلات کو برداشت کرکے اپنے گناہوں کا بوجھ ہلکا کرنا چاہتا ہے؟ ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ وہ تو اس سے پہلے بھی اچھی روش پر ہی قائم تھا۔ وہ ان تکالیف و مشکلات کو برداشت کرکے اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند درجات کے طلب گار تھے۔

امام شہید ۱۹۰۶ء میں امام محمد عبدہٗ کی وفات کے سال پیدا ہوئے اور انھوں نے ۱۹۲۸ء میں سعد زغلول کی وفات کے بعد اسی سال اپنی دعوت کا آغاز کیا۔انھوں نے امام عبدہٗ کی دعوت میں عسکریت کا اضافہ کردیا اور سعد زغلول کی دعوت پر اسلامی افکار غالب کردیے۔ اس لحاظ سے موجودہ اسلامی تحریک کو نبی کریم ؐ کے عہد میں پہلی اسلامی تحریک کے اتباع میں دوسرااڈیشن شمار کیا جاسکتا ہے۔