فتح محمد ملک


صاحب ِطرز انشاء پرداز اشفاق احمد کے ایک افسانے کی مرکزی کردار مظلوم کشمیری لڑکی شازیہ اُردو کے نامور ادیبوں اور شاعروں کے پاس یکے بعد دیگرے جاتی ہے اور ان میں سے ہرایک کی خدمت میں کشمیری مسلمانوں کے انسانی حقوق کی پامالی کا مقدمہ پیش کرتی ہے، لیکن یہ سارے ادیب کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف صداے احتجاج بلند کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ ’’میری لائن انسان دوستی ہے سیاست نہیں‘‘۔ کوئی کہتا ہے کہ ’’یہ میری فیلڈ نہیں ہے میں گرامر، عروض اور ساختیات کا سٹوڈنٹ ہوں‘‘۔ یہ لڑکی مشہور فلم سازوں کے پاس بھی کشمیریوں کی مظلومیت کی فریاد لے کر جاتی ہے، مگر وہ لوگ بھی اس کی بات سنی اَن سنی کر دیتے ہیں۔ بالآخر یہ لڑکی افسانے کے واحد متکلم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتی ہے: ’’آپ کو اس بات کا خوف تو نہیں انکل کہ اگر آپ نے مظلوم کشمیریوں یا ستم رسیدہ افغانیوں کے حق میں کچھ لکھا، تو لوگ آپ کو مذہب پسند سمجھنے لگیں گے؟ آپ کو تنگ نظر، کوتاہ بین، قدامت پسند اور بنیاد پرست کہہ کر روشن خیال دائروں میں آپ کا داخلہ بند کر دیں گے؟‘‘

بھارت اور پاکستان کے اُردو ادیب واقعتاً اس خوف میں مبتلا ہیں۔ اُن کا یہ عارضہ اُتنا ہی پرانا ہے جتنا کشمیر کا تنازع۔ کشمیریوں کے مصائب سے ان کی غفلت اور ان کا فرار ایک پرانا عارضہ ہے۔ کشمیر میں بھارتی فوجوں کے جبرو استبداد کے آغاز ہی سے اُردو ادیب اس انسانی المیے سے لاتعلق ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ بنیادی انسانی حقوق سے محروم کشمیری چونکہ مسلمان واقع ہوئے ہیں، اس لیے ان سے یگانگت کا دم بھرنے سے اُس کی ترقی پسندی اور آزاد خیالی پر حرف آجائے گا۔ 

ڈاکٹر آفتاب احمد نے اپنی کتاب بیاد صحبت نازک خیالاں میں لکھا ہے: [’’۳جنوری ۱۹۴۸ء کو ] پاکستان کے ادیبوں کی طرف سے کشمیر کے بارے میں ایک مشترکہ اعلان شائع کیا گیا، جس پر  سواے [فیض احمد]فیض صاحب کے، سب ترقی پسند ادیبوں نے دستخط کرنے سے انکار کردیا۔ ترقی پسند حلقوں میں عام طور پر یہ مشہور ہوا کہ:’’یہ بیان [ڈاکٹر ایم ڈی]تاثیر صاحب کی ’سازش‘ کا نتیجہ تھا۔ چونکہ تاثیر صاحب کو معلوم تھا کہ ترقی پسند اس قسم کے بیان کی تائید نہیں کریں گے، اس لیے انھوں نے یہ گہری چال چل کر عوام اور حکومت کی نظرمیں زیادہ سے زیادہ انھیں مشتبہ کرنے کی کوشش کی تھی‘‘۔ اب اصل حقیقت سن لیجیے … ہندستان کے کچھ ادیبوں نے، جن میں دو ایک مسلمانوں کے نام بھی شامل تھے، کشمیر کے بارے میں ہندستانی نقطۂ نظر کی حمایت میں ایک بیان شائع کیا۔ محمد حسن عسکری، غلام عباس اور مَیں ایک جگہ جمع تھے۔ وہاں یہ ذکر آیا تو ہم نے سوچا کہ ’پاکستان کے ادیبوں کو اس معاملے میں خاموش نہیں رہنا چاہیے‘۔ چنانچہ تجویز یہ ہوئی کہ ایک بیان یہاں سے بھی شائع کیا جائے، جس میں پاکستانی نقطۂ نظر کی حمایت ہو، تاکہ دنیا کو حقیقت حال معلوم ہو سکے۔ غلام عباس اور مَیں، تاثیر صاحب کے پاس پہنچے اور اس تجویز کا ذکر کرنے کے بعدان سے بیان کی عبارت لکھنے کی درخواست کی۔ تاثیر صاحب نے ارتجالاً ایک مختصر سا بیان لکھ کر ہمارے حوالے کیا اور ہم نے ادیبوں سے دستخط لینے کی مہم شروع کر دی۔اسی سلسلے میں [احمد شاہ پطرس] بخاری صاحب کے پاس گئے، جو ان دنوں گورنمنٹ کالج [لاہور] کے پرنسپل تھے۔ انھیں تاثیر صاحب کی لکھی ہوئی عبارت پسند نہ آئی اور ناکافی معلوم ہوئی۔ ان کی رائے تھی کہ: ’’اس بیان میں ذرا تفصیل سے کام لینا چاہیے‘‘۔ انھوں نے مشورہ دیا کہ: ’’بیان فیض صاحب سے لکھوایا جائے اور انگریزی میں ہو تو اچھا ہے، تاکہ باہر کے ملکوں میں کام آ سکے‘‘۔ چنانچہ فیض صاحب سے وقت مقرر کیا گیا۔ دوسرے دن ہم ان کے ہاں پہنچے، فیض صاحب بولتے گئے اور مَیں لکھتا گیا۔ ٹائپ کرا کے ہم نے وہ بیان بخاری صاحب کو دکھایا، تو انھوں نے اسے بھی پسند نہ کیا‘‘۔ (ص ۸۲،۸۳)

’’آخر ہماری درخواست پر وہ اس بیان کو کاٹ چھانٹ کر درست کرنے پر آمادہ ہوگئے۔ دوسرے دن جب ہم ان کے پاس پہنچے تو وہ لاج کے برآمدے میں بیٹھے بیان کی صاف کاپی ٹائپ کر رہے تھے۔ مستردشدہ مسودوں کا ڈھیر ان کے پاس پڑا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ رات گئے تک اس کام میں لگے رہے تھے۔ اب سوال تھا اُردو ترجمے کا۔ چونکہ بیان اُردو کے ادیبوں کی طرف سے جاری ہونے والا تھا، اس لیے بخاری صاحب کا اصرار تھا کہ: ’’اس انگریزی متن کا ایک آزاد ترجمہ ہماری طرف سے ہی ہونا چاہیے ، اور عبارت ادیبوں کے شایان شان ہونی چاہیے۔ انگریزی بیان کا ترجمہ اگر اخباروں کے مترجموں پر چھوڑا گیا، تو وہ نہ جانے اس کا کیا حشر کریں گے‘‘۔ چنانچہ اُردو ترجمے کا کام صوفی [غلام مصطفیٰ]تبسم صاحب کے سپرد ہوا۔ شام کو جب صوفی صاحب،عباس صاحب اور مَیں اُردوبیان لے کر بخاری صاحب کے پاس پہنچے، تو انھوں نے اسے بھی پسند نہ کیا۔ مشکل یہ تھی کہ بخاری صاحب کا معیارِ حسنِ نگارش اتنا بلند تھا کہ اس معاملے میں ان کی خوش نودی حاصل کرنا آسان نہیں تھا۔ آخر انھوں نے اس متن کی نظرثانی شروع کی‘‘ (ص۶۷، ۶۸)۔ ’’رات گئے تک یہ کام مکمل ہوا، اور دوسرے دن انگریزی اوراُردو بیانات اخبارات میں دے دیے گئے۔ یہ ہے اس بیان کی اشاعت کی داستان۔ اگر یہ ’سازش‘ تھی تو اس میں بخاری صاحب بھی شریک تھے اور فیض صاحب بھی‘‘۔(ص ۸۳،۸۴)

تنازع کشمیر کے باب میں ہمارے ادیبوں نے آغاز کار ہی میں وابستگی کے بجاے لاتعلقی کا رویہ اپنایا، تو ڈاکٹر تاثیر نے انھیں غیر جانب داری کی گپھاوں سے باہرنکل کر حق کی تائید اور باطل کی تردید کی روش اپنانے کا مشورہ دیا، مگر اسے انھوں نے ’سازش‘ پر محمول کیا۔
ہمارے ادیب آج تک اسی روش پر قائم ہیں۔ ستمبر۱۹۶۵ء میں جب کشمیر سے توجہ ہٹانے کی خاطر بھارت نے لاہور پر حملہ کر دیا، تو ہمارے ادیبوں اور شاعروں نے قلمی جہاد کی ایک نئی اور درخشندہ روایت کی بنیاد ڈالی، مگر اعلان تاشقند کے پس پردہ کارفرما عقل نے اس روایت کو کچھ دھندلا دیا۔ چنانچہ آج ہمارے ادبی اور تہذیبی محاذ پر پھر سے ۱۹۴۸ء کا سا عالم طاری ہے۔ ہمارے ادیب اور دانش وَر پھرسے اُسی گومگو کے عالم میں بیٹھے سوچ رہے ہیں کہ کشمیر میں جبر و استبداد پر یوں ہی مہر بہ لب بیٹھے رہیں یا لب کشائی کی جرأت کریں؟ اس تذبذب کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ستم زدگا نِ کشمیر مسلمان ہیں۔ پھر انھیں کسی سارتر یا ایڈورڈ سعید کی حمایت بھی حاصل نہیں ہے۔ اوپر سے میڈیا میں کشمیر کی تحریکِ مزاحمت کی جو تصویریں ابھرتی ہیں، اسے حریت پسندوں کی داڑھیوں نے’’خراب‘‘ کر رکھا ہے۔ ذرا سوچیں کہ داڑھی تو ان کے ہیرو چی گویرا کی بھی تھی، مگر اسے وہ اسلامی نہیں ’’انقلابی‘‘ داڑھی سمجھتے ہیں۔ الغرض اس نوعیت کے گونا گوں ’نظریاتی‘ سوالات ہیں، جن میں اُلجھے ہوئے اُردو ادیب خود کو تحریک آزادی کشمیر سے لا تعلق رکھنے پر ’مجبور‘ہیں۔ بھلا وہ مسلمانوں کے انسانی حقوق کی جدو جہد میں شریک ہو کر خود کو’ رجعت پسند‘ بلکہ ’طالبان پسند‘ کیسے کہلائیں؟