حافظ سعید عاطف


آج امریکا بزعم خویش ایک سوپر پاور ہے۔ دنیا بھر کی سیاست پر اس کی گہری چھاپ ہے‘ پالیسیاں اس کے اشارۂ ابرو سے تشکیل پذیر ہو رہی ہیں‘مگر عملاً امریکی معاشرہ کس اخلاقی گراوٹ‘ معاشرتی انتشار‘ کھوکھلے پن اور انحطاط و زوال سے دوچار ہے‘ اس کی ایک کھلی گواہی خود امریکا کے سابق صدر جمی کارٹر پیش کر رہے ہیں۔ انھوں نے امریکا کو تباہی سے بچانے اور آیندہ نسلوں کے مستقبل کے تحفظ و بقا کے لیے صداے احتجاج بلند کی ہے اور اہل علم و فکر کو اس مسئلے پر سنجیدگی سے غوروفکر اور بروقت اقدام کے لیے توجہ دلائی ہے۔درحقیقت یہ امریکی تہذیب کے خلاف ایک صداے احتجاج ہے۔ مادر پدر آزادی نے ’فیملی یونٹ ‘کو جس طرح توڑ پھوڑ کر رکھ دیا ہے ، پھر   بے رحم سرمایہ داری نے ان رشتوں کو اپنے اوپر بوجھ قرار دے کر ان سے جس طرح جان چھڑائی ہے‘ اس رویے پر ایک طنز کے ساتھ ساتھ ایک افسردگی و تاسف بھی ہے کہ کوئی قوم جب اخلاق سے محروم ہو جاتی ہے تو اس کی اجتماعیت کس طرح بکھر کر رہ جاتی ہے۔

اس حوالے سے حال ہی میں ان کی کتاب Our Endangered Values (خطرات کی زد میں آئی ہوئی ہماری اقدار) سامنے آئی ہے۔ یہ کتاب ۱۶ ابواب پر مشتمل ہے۔ ہر باب چونکا دینے والے حقائق سے معمور ہے اور اپنی جگہ ایک اہمیت رکھتا ہے‘ تاہم چند عنوانات تو ’فرد جرم اور سلطانی گواہ ‘کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پہلے باب میں ’واشنگٹن میں بنیاد پرستی ‘کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں: آج کل واشنگٹن کا منظر مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے اور تقریباً ہر معاملے میں سخت جانب دارانہ بنیادوں پر فیصلے کیے جاتے ہیں ___بنیادی معاہدے لابی کاروں اور قانون ساز لیڈروں کے مابین ہوتے ہیں___بنیاد پرست رجحانات عروج پر ہیں اور مذہب و سیاست پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔(ص۲۴)

’سب سے زیادہ قتل امریکا میں ہوتے ہیں ‘کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں: امریکا میں آتشیں اسلحے سے قتل کی شرح‘ ۳۵زیادہ آمدنی والے ملکوں میں آتشیں اسلحے سے قتل کی مجموعی شرح سے ۱۹گنا زیادہ ہے ۔اس سال امریکا میں ۳۰ ہزار ۴ سو ۱۹ افراد کو ہینڈگنوں سے قتل کیا گیا۔(ص ۲۹)

’طلاق اور ہم جنس پرستی کے گناہ ‘ کے تحت لکھتے ہیں : ہمارے ہاں طلاق اب خطرناک حد تک عام ہو چکی ہے۔ تمام امریکی بالغوں میں سے ۲۵ فی صد میں کم از کم ایک مرتبہ طلاق ہوچکی ہے (ص ۷۵)۔گویا خاندان کا نظام امریکا میں بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکا ر ہے۔ کینیڈا اور یورپ کے مقابلے میں امریکا کے اندر جنسی بے راہ روی زیادہ ہے۔ یہاں اسقاط حمل بھی زیادہ ہوتا ہے‘ سوزاک اور ایڈز جیسی خطرناک بیماریوں کی شرح بھی زیادہ ہے۔(ص ۸۰)

’سزاے موت‘ کے تحت وہ لکھتے ہیں:  ایک ہزار امریکیوں میں سے سات جیل میں ہیں___ یہ دنیا میں قید کی سب سے زیادہ شرح ہے ۔بہت سی امریکی ریاستوں میں تعمیراتی صنعت کی سب سے بڑی مصروفیت جیلوں کی کو ٹھڑیاں بنانا ہے ___میرے بعد جارجیا کے گورنر رہنے والے ایک سیاست دان نے میری بیوی کے سامنے فخریہ کہا کہ اس کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ اس نے تقریباً ۴۵مربع میل رقبے پر جیل کی کوٹھڑیاں تعمیر کروائیں ہیں (ص ۸۴)۔ دنیا میں سب سے زیادہ بالغ مردوں و بچوں میں سزاے موت امریکا میں دی جاتی ہے۔(ص ۸۴)

’بنیاد پرستی حکومت میں ‘ کے تحت انھوں نے برملا اعتراف کیا ہے کہ: اب بعض نیو کونز حکومت کے اعلیٰ ترین مشاورتی مناصب پر فائز ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ انھوں نے پوری دنیا پر امریکی تسلط قائم کرنے کا تہیہّ کر رکھا ہے اور انھوں نے اس استعماری ہدف کو پانے کے لیے پیش بندی کی جنگ کو قابل قبول قرار دیا ہے۔ نائب صدر ڈک چینی اور اس کے دوستوں نے ناین الیون سے پہلے یا فوری بعد عراق کو پہلے ہدف کے طور پر چن لیا تھا ۔جس کا بظاہر مقصد اسرائیل کو لاحق خطرے کا تدراک کرنا‘ نیز عراق کو مشرق وسطیٰ میں ہمارا مستقل فوجی ‘معاشی اور سیاسی اڈا بنانا ہے۔(ص ۱۰۱)

مختلف النوع اسلحہ و میزائل بنانے کے الزام محض نمایشی تھے ،اصل منصوبہ پہلے سے طے شدہ تھا۔ وہ آگے مزید لکھتے ہیں: ۲۰۰۰ء کے صدارتی انتخابات کے فوراََ بعد یہ واضح ہو گیا کہ ہمارے بعض نئے لیڈروں نے عراق پر حملہ کرنے کا تہیہ کررکھاہے۔ ناین الیون کے بعد جھوٹے اور مسخ شدہ دعوئو ں کے ذریعے انھوں نے امریکی کانگرس اور امریکی عوام کو یہ یقین دلا کر گمراہ کیا کہ صدام حسین ورلڈ ٹریڈٹاور اور پینٹا گان پر حملوں کا ذمہ دار ہے‘ اور یہ کہ عراق ایٹمی اسلحے اور دوسرے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار تیار کر رہا ہے اور امریکا کی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ بن چکاہے ۔ اگرچہ بعد میں ان بیانات کی فریب کا ری عیاں ہوگئی ، تاہم وہ اپنا کام کر چکے تھے اور ہمارے بھروسا کرلینے والے شہری جنگ کے حامی بن چکے تھے ۔وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے غیر موجود ہتھیار وںکے حوالے سے بڑھا چڑھا کر کیے جانے والے اعلانات نے خوف کو برقرار رکھا ۔ نائب صدر ڈک چینی مسلسل جھوٹے بیانات دیتے رہے۔ (ص ۱۴۱)

امریکی خارجہ پالیسی کے تحت وہ لکھتے ہیں : اگرچہ امریکا کی خارجہ پالیسی پر بہت سے دوسرے پیچیدہ اساسی عناصر نے منفی اثر ڈالا ہے‘ تاہم بنیاد پرستوں نے جذباتی معاملات پر   شعلہ بیانی کر کے اور مخالفوں سے مذاکرات سے گریز کرکے امریکی خارجہ پالیسی کی صورت کو   بگاڑ دیا ہے (ص ۱۰۳)۔ امریکا کی مشرق وسطیٰ میں پالیسی پر کچھ عیسائی بنیاد پرستوں کا بھرپور اثر ہے۔ امریکا میں تقریباًہر شخص ۱۲ کتابوں پرمشتمل Left Behind سیریز سے واقف ہے جس کے  مصنف ’ٹم لااورجیری بی جنیکنس ہیں ۔ان کتابوں نے فروخت کے سارے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ انھوں نے یہ کتابیں بائیبل کی احتیاط سے منتخب کردہ عبارتوں خصوصاً ’بک آف ریویلیشن‘سے    لی گئی عبارتوں کی اساس پر لکھی ہیں اور ان میں دنیا کے ختم ہونے کی منظرکشی کی گئی ہے… امریکی حکومت کی پالیسیوں میں ایسے نظریات کا پایا جانا تشویش کا سبب ہے ۔ انھی نظریات کو سامنے رکھتے ہوئے چند عیسائی لیڈرعراقی جنگ کو بڑھانے میں پیش پیش رہتے ہیں‘ اور بار بار اسرائیل کے دورے کرتے رہتے ہیں۔ وہ اس کی مدد کے لیے اسے چندے دیتے رہے ہیں اور فلسطینی علاقے کو نو آبادی بنانے کے لیے واشنگٹن میں لابی کرتے رہے ہیں (ص ۱۱۱-۱۱۲)۔مسلم دنیا کو بنیاد پرستی کا طعنہ دینے والے خود کس قدر متشدد‘انتہا پسند ‘مذہبی جنونی ہیںکہ اپنے چند عقائد کی بنا پر دنیا کو جنگ میں جھونکنے کے لیے تلے بیٹھے ہیں۔

’حقوق انسانی پر نہیں دہشت گردی پر حملہ؟ ‘کے تحت کہتے ہیں : افغانستان اور عراق میں جنگوں کے دوران بالغ مردوں کے علاوہ بہت سے کم عمر لڑکوں کو گرفتارکر کے گوانتا نامو ،کیوبا میں واقع ایک امریکی قید خانے میں منتقل کر دیا گیا۔ اس قید خانے میں ۴۰ملکوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً۵۲۰ افرادکو رکھا گیا ہے۔انھیں اس قید خانے میں تین سال کا عرصہ گزر گیا ہے‘ جب کہ نہ تو ان پر باقاعدہ کوئی الزام عائد کیا گیا ہے اور نہ انھیں قانونی مشاورت حاصل کرنے کا موقع ہی دیا گیا ہے۔ کئی امریکی اہل کاروں نے تصدیق کی ہے کہ ان قیدیوں پر جسمانی تشدد بھی کیا جا رہا ہے(ص۱۱۶)۔ پینٹاگون کے ایک اہل کار نے کہا کہ ’’قید کرتے ہوئے عمر کو ملحوظ نہیں رکھا جاتا‘‘ (ص۱۱۷)۔جو فوج عراق میں لاکھوں دودھ پیتے بچوں کی فخریہ قاتل ہو‘ اس کے لیے بالغ و نابالغ کی تمیزچہ معنی دارد!

ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق باب میں سابق امریکی صدر فرماتے ہیں : اس وقت دنیا بھر میں تقریباً۳۰ ہزار ایٹم بم موجود ہیں جن میں سے ۱۲ ہزار ایٹم بم امریکا کے پاس ہیں ۔روس کے پاس۱۶ ہزار‘ چین کے پا س ۴۰۰، فرانس کے پاس ۳۵۰، اسرائیل کے پاس ۲۰۰، برطانیہ کے پاس ۱۸۵ اور ہندستان اور پاکستان کے پاس ۴۰‘ ۴۰ ایٹم بم ہیں… امریکا ایٹمی عدم پھیلائو کے تمام معاہدوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور ایٹمی اسلحے کے عالم گیر پھیلائو کا سب سے بڑا مجرم بن چکا ہے(ص ۱۲۹)۔ ایسا ’مجرم ملک ‘جب عالمی لیڈر بن جائے تو دنیا میں امن وآشتی کیسے قائم ہوسکتی ہے؟اﷲکا قانون یہ ہے کہ ایسی قوم اپنے انجام ہلاکت سے نہیں بچ سکتی۔ ہمیں ان سے مرعوب ہونے کے بجاے اپنے قومی کردار کی تشکیل کرنی چاہیے اور ہر قسم کے خوف سے قوم کو بچانا چاہیے۔

ایک باب ’امریکا کی ماحولیات دشمنی ‘ہے۔ اس ضمن میں کارٹرہمت کرتے ہوئے لکھتے ہیں: اس وقت امریکا دنیا میں سب سے زیادہ ماحولیاتی آلودگی پھیلانے والا ملک ہے۔ہماری حکومت کی طرف سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے سے انکار عالمی ماحول کے تحفظ کے تاریخی وعدوں سے انحراف کے سلسلے کی محض ایک اور المناک کڑی ہے ۔خداوند کی دنیا کا تحفظ ہماری ایک ذاتی اور سیاسی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔(ص ۱۶۴)

یہ امریکی معاشرے کا ایک آئینہ ہے۔ یہ ایک دل خراش حقیقت ہے کہ کوئی بھی فرد چاہے وہ سابق امریکی صدر ہی کیوں نہ ہو‘ امریکا کی بنیادی سرمایہ دارانہ، استعماری پالیسیوں میں تبدیلی نہیں لا سکتا ۔ اس پہلو سے خود صدر کارٹر کے عہد حکومت کا ریکارڈ بھی بہت اچھا نہیں ہے۔تاہم‘ ان کاجرأت مندانہ اقدام ہے کہ انھوں نے ٹھوس حقائق کو بنیاد بنا کر امریکا کی داخلہ و خارجہ پالیسیوں پر تنقید کی ہے۔ یوں تو امریکی دانش ور نوم چومسکی وغیرہ بھی اس طرح کے سوالات پیش کرکے امریکی پالیسی سازوں کو متوجہ کرتے رہتے ہیں‘لیکن جمی کارٹر چونکہ صدارت عظمیٰ تک پہنچے ہیں‘ لہٰذا ان کی بات ایک خاص وزن رکھتی ہے ۔کتاب چونکا دینے والے حقائق سے پُر ہے ۔اس میں اعدادوشمار کی زبان میں بھی اور استدلالی و استقرائی ہر پہلو سے امریکا کی متعدد پالیسیوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔

امریکی حکمرانوں‘سرمایہ داروں‘نام نہاد جمہوریت پسندوںاور دیگر ’پردہ نشینوں ‘ کے چہرے سے جب نقاب اترتا ہے تو ان کا چہرہ انتہائی بھیانک نظر آتا ہے۔ کروڑوں لوگوں کے خون ناحق سے ان کا دامن داغ دارہے۔ قتل و غارت گری میں بیرون امریکا و اندرون امریکا کا ریکارڈ ساری دنیا سے’شان دار‘ ہے۔عصمت فروشی ، زنا بالجبر ،ہم جنس پرستی ،اسقاط حمل و طلاقوںکی شرح کے اعتبار سے بھی ’اولیت ‘ کا شرف انھیں حاصل ہے۔قید خانوں کی وسعت‘ سزاے موت کا خبط اور نابالغ بچوں تک کو اس کی بھینٹ چڑھانے میں یہ ’مثالی کردار‘کے مالک ہیں۔ عالمی انسانی     حقوق و ماحولیات کی پامالی کے جرائم میں بھی بقول کارٹر امریکی پالیسی ساز انسانیت کے سب سے بڑے مجرم ہیں۔ عراق و افغانستان سے گوانتا نامو تک جبروقتل‘اور انسانیت کی تحقیر و تذلیل بھی ان کے ضمیر کو بیدار نہیں کرتی۔ان ہوش ربا حقائق سے جمی کارٹر نے دنیا کے سامنے امریکی پالیسی سازوں کا حقیقی تعارف کروایا ہے ۔کتاب تیسری دنیا کے دانش وروں کی اُس سوچ کی تصدیق کرتی ہے جو وہ امریکی استعمار کے متعلق بیان کرتے آئے ہیں۔ ’مذہبی جنونیت ‘کا واویلا کرکے مسلم دنیا پر یلغار کرنے والے اپنے جنون کی خاطر لاکھوں انسانوں کی جانوں سے کھیلتے دکھائی دیتے ہیں ۔

امریکی معاشرے میں جن اخلاقی ،روحانی اور مثبت معاشرتی قدروں کو پامال کیا جا رہا ہے اس کے خلاف یہ ایک نوحہ اور ایک صداے احتجاج ہے۔ امریکی معاشرہ ‘ابراہام لنکن کا دیس اور اقوام متحدہ کو اپنے عظیم شہر میںسمونے والا ملک بہت سی مثبت اقدار بھی رکھتا ہے۔ آزادی اظہار وہاں کی روایت ہے جو اگرچہ اب مختلف قوانین کے تحت پہلے جیسی توانائی سے محروم ہو چکی ہے‘ تاہم غنیمت ہے کہ کارٹر جیسے لوگ اپنا مقدمہ اپنے عوام کی خدمت میں پیش کر دیتے ہیں ۔

اس تجزیے سے امریکا کی مرعوبیت ختم ہو جاتی ہے۔ اس عفریت کا خوف نہیں رہتا اور اس  کی انسانیت کش پالیسیوں کے خلاف احتجاج کا حوصلہ بڑھ جاتا ہے۔ تاہم‘ اس کے پاس ایک مہیب جنگی مشینری ہے جس کے بل پر اس کا نظام جبر آخری ہچکیوں کے باوجود اپنا دبدبہ رکھے ہوئے ہے ۔اخلاقی اقدار کے فقدان ،آمریت کی حوصلہ افزائی اور ہرظالم کی سرپرستی کرنے کے سبب یہ نظامِ ظلم ختم ہونے کو ہے ۔انسانیت کا ضمیر بیدار ہو رہا ہے۔ عراق پر جنگی یلغار سے قبل ایک مثالی عالمی احتجاج نے بتا دیا ہے کہ انسانیت ظلم کو برداشت نہیں کرسکتی! (جمی کارٹر کی کتاب کے اقتباسات اس کے ترجمے امریکا کا اخلاقی بحران ‘محمد احسن بٹ‘ دارالشعور‘ لاہور سے لیے گئے ہیں۔)