ڈاکٹر محمد اسلم


۱۹۶۹ء تک میں‘ مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا۔یہ صدر ایوب مرحوم کی حکومت کے آخری دور کی بات ہے جب ان کی حکومت کے خلاف تحریک چل رہی تھی۔ صدر صاحب نے حزبِ اختلاف کو دعوت دی تھی کہ وہ ان سے مل کر آئینی معاملات طے کریں۔ کئی سیاست دانوں نے اس دعوت نامے کو رد کر دیا۔ حزبِ اختلاف میں چند قائدین کے مسلسل انکار کی وجہ سے حالات بہتری کی طرف نہیں جا رہے تھے۔ اسی دوران سیدمودودیؒ کا ایک بیان اخبار میں پڑھا جس کا ایک فقرہ اب بھی یاد ہے: ’’ملک کو کسی بڑی تباہی سے بچانے کے لیے اس موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہیے‘‘۔ جب یہ فقرہ پڑھا تو مجھے خیال آیا کہ یہ شخص ٹھیک کہہ رہا ہے۔ اگر بات چیت سے معاملات طے ہو سکتے ہیں تو پھر ہنگامہ آرائی اور ملک کو دوسرے مارشل لا کی طرف دھکیلنے کی ضرورت نہیں۔ مجھے یوں لگا کہ یہ کوئی خاصا سمجھ دار انسان ہے جس کو موقع کی نزاکت کا پورا پورا ادراک ہے‘ اور اگر یہ راستہ اختیار نہ کیا گیا تو معاملہ مزید بگڑسکتا ہے اور بعد میں ایسا ہی ہوا۔ مجھے یہ بیان اس لیے بھی اچھا لگا کہ چلو ہمارے مولوی صاحبان میں سے کسی ایک مولوی صاحب کو تو سیاسی بصیرت حاصل ہے۔ اس وقت تک میں جماعت اسلامی یا دیگر مذہبی سیاسی جماعتوں کے حدود اربع کے بارے میں کچھ نہ جانتا تھا۔ بہرحال ایوب صاحب جاتے جاتے اقتدار ایک فوجی جرنیل کے حوالے کرگئے۔ اس موقع پر مجھے مولانا مودودیؒ کا وہ بیان یاد آیا کہ کتنا ہی اچھا ہوتا کہ اس شخص کی بات مان لی جاتی اور حالات اتنے خراب نہ ہوتے۔

اسی دوران ۱۹۷۰ء کے عام انتخابات کا اعلان ہوا۔ عجب عالم تھا۔ پیپلز پارٹی ایک آندھی کی طرح آئی اور عام آدمی میں بہت مقبول بھی ہوئی۔ اس کا نشانہ بھی جماعت اسلامی اور مولانا مرحوم کی ذات تھی۔ کئی قسم کے نعرے ایجاد ہوئے۔ ان میں ایک نعرہ تھا جس نے مجھے مجبور کیا کہ میں مولانا مودودیؒ کو دیکھوں اور وہ نعرہ تھا: ’’سو یہودی‘ ایک …‘‘جب میں نے یہ نعرہ سنا تو مجھے بہت اشتیاق ہوا کہ اس شخص کو ضرور دیکھوں جسے یہ لوگ اس نام سے ’سرفراز‘ کرتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ مجھے یہ خیال بھی آتا کہ اگر یہ شخص اتنا ہی بُراہے تو پھر اس کا وجود کیوں برداشت کیا جا رہا ہے۔ میں نے مولانا کو اسی نعرے کی وجہ سے دیکھنے اور جاننے کا ارادہ کیا۔

میں نے مولانا کے گھر کا پتا لیا اور ان کی رہایش گاہ پر پہنچا۔ راستے میں طرح طرح کے خیالات میرے ذہن میں آئے اور جوں جوں میں اچھرہ کی حدود کے قریب پہنچتا گیا‘ مجھ میں    بے چینی بڑھتی گئی۔ میں عصرکی نماز کے بعد وہاں پہنچا تو دیکھا کہ وہاں پر کچھ لوگ کرسیوں پر اور کچھ نیچے صفوں پربیٹھے ہوئے تھے۔ ایک چھوٹی سی میز اور ایک کرسی رکھی ہوئی تھی‘ جو اس بات کا پتادیتی تھی کہ کسی نے آکر یہاں بیٹھنا ہے۔ وہاں ایک فرد سے معلوم کرنے پر پتا چلا کہ یہاں مولانا مودودیؒ بیٹھیں گے۔ یہ بات سن کر میں بہت خوش ہوا کہ چلو مولانا کو دیکھ لیں گے کیونکہ میں یہ سوچ کر آیا تھا کہ مولانا کو ملنے کے لیے ان کے سیکرٹری کو ملنا ہوگا۔ ملاقات کا وقت لیا جائے گا اور معلوم نہیں کتنا وقت ملے گا وغیرہ وغیرہ۔ مولانا تشریف لائے اور کرسی پر تشریف فرما ہوئے۔ ان کے آنے اور بیٹھنے کی عاجزی کو دیکھ کر میرے دل نے گواہی دی کہ یہ شخص ایسا تو نہیں ہو سکتا‘ جس طرح اس کے خلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ میری موجودگی میں کئی ایک حضرات نے اُلٹے سیدھے سوالات پوچھے۔ مولانا نے بڑے تحمل اور بردباری سے ان سوالات کے نہایت معقول جوابات دیے۔ کچھ لوگوں نے ایسے ایسے سوال بھی کیے کہ میں سمجھتا تھا کہ ان کے جوابات بہت مشکل ہیں اور مولانا کیا جواب دیں گے۔ لیکن مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ مولانانے ان کے مختصر اور بہت ہی صحیح جواب دیے۔ ان کے بولنے کا انداز بتاتا تھا جیسے ان کو جواب دینے میں کوئی دشواری نہیں ہو رہی۔

ان سوالوں میں دینی مسائل بھی تھے اور سیاسی باتیں بھی۔ ان دنوں مولانا عصر سے لے کر مغرب تک باہر لان میں عصری نشست کرتے تھے۔ چنانچہ میں نے بھی کبھی کبھار وہاں جانا شروع کر دیا۔ جتنی دفعہ بھی گیا اچھی چیز ہی دیکھی اور میرے اندر ان کی ذات کے بارے میں جو نقشہ لوگوں کی غلط باتوں سے بنا ہوا تھا وہ ریت کے گھروندے کی مانند مسمار ہوتا گیا۔

کچھ عرصے بعد میں نے بھی ہمت کر کے سوالات پوچھنے شروع کیے۔ ان سوالوں کا سلسلہ کچھ اس طرح ہوگیا کہ وہاں پر موجود لوگوں نے مجھے جاننا شروع کر دیا اور مولاناؒ نے بھی۔ وہ اس لیے کہ مجھے اونچی آواز میں ذرا جلدی جلدی بولنے کی عادت تھی۔ ایک دفعہ میں نے مولاناؒ سے جب یہ پوچھا: ’’لوگ آپ کے بارے میں بہت ہی نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہیں‘‘۔ ابھی میرا سوال پورا ہی نہیں ہوا تھاکہ مولانا خلافِ معمول میرا سوال کاٹ کر فرمانے لگے: ’’اور آپ کو اس پر غصہ آتا ہوگا‘‘۔ میں نے کہا: بالکل آتا ہے‘وہ اس لیے کہ جب کوئی شخص کسی کا احترام کرتا ہوتواس کے بارے میں غلط بات سننے پر غصہ آتا ہے‘‘۔مولانا نے فرمایا: ’’لگتا ہے کہ آپ نے تاریخِ اسلام کا توجہ سے مطالعہ نہیں کیا۔ اگر آپ نے ایسا کیا ہوتا تو آپ مجھ سے یہ سوال نہ پوچھتے۔ آپ تاریخِ اسلام اٹھا کر دیکھیے ہمارے بزرگوں کے ساتھ تو بہت کچھ ہوا تھا۔ اس کے مقابلے میں میرے ساتھ تو کچھ بھی نہیں ہوا‘‘۔ ان کا یہ جواب سن کر میرے دل نے کہا کہ مولانا آپ کی عظمت کو سلام!

یہ تو محض ایک سنجیدہ سوال تھا۔ یہاں میں چند ایک غیر مہذب سوالوں کا ذکر بھی کرنا چاہتا ہوں تاکہ اندازہ ہو‘ مولانا کتنے صابر اور بردبار انسان تھے۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ ۱۹۷۰ء کے انتخابات ایک عجیب و غریب دور کی علامت تھے۔ اسی دوران ایک شخص نے مولانا سے کہا: ’’مولانا‘ مخالف لوگ آپ کی داڑھی کو نقلی داڑھی کہتے ہیں‘‘۔ مولانا فرمانے لگے: ’’آپ میرے پاس آئیں اور خود دیکھ لیں کہ نقلی ہے یا اصلی‘‘۔ اسی طرح ایک دفعہ ایک شخض نے کہا: ’’آپ ۱۰۰ روپے والا پان کھاتے ہیں‘‘۔ مولانا مسکرا کر کہنے لگے کہ: ’’آپ آئیں اور میرے پان دان میں جتنے پان ہیں اٹھا لیں اور مجھے صرف ۱۰ روپے دے دیں‘‘۔کسی نے کہا: ’’مولانا سنا ہے آپ آدھا قرآن مجید مانتے ہیں اور آدھا نہیں مانتے‘‘۔مولانا نے کہا :’’میں نے ۲۸ پاروں تک اس کا ترجمہ تحریر کر دیا ہے‘ پھر بھلا میں کیسے آدھے قرآن کو مانتا ہوں اور آدھے کو نہیں‘‘۔

ان بھولے بسرے واقعات کا تذکرہ میں نے اس لیے کیا ہے کہ قارئین جان سکیں کہ مولاناؒ کی ذات کیسی تھی۔ اس لیے بھی کہ بعض حلقوں میں مولانا کے بارے میں یہ غلط تاثر تھا کہ مولانا بہت مغرور آدمی ہیں اور لوگوں سے باتیں کرتے وقت ان کا مزاج روکھا ہوتا ہے۔ دراصل ہم میں سے اکثر حضرات‘ چرب زبان آدمی کو بہت اچھا اور عقل مند سمجھتے ہیں‘ حالانکہ اکثر ایسا نہیں ہوتا۔ اصل بات یہ ہے کہ مولانا کم سخن تھے۔

ایک دفعہ ان کے ڈرائیور کو جو غالباً فیصل آباد (اُس وقت لائل پورتھا) کا رہنے والا تھا‘ چند دنوں کی رخصت چاہیے تھی۔ لیکن مولانا کی مصروفیات ان دنوں کچھ ایسی تھیں کہ ڈرائیور کا ہونا لازمی تھا۔ میری موجودگی میں مولانا نے جب ڈرائیور سے پوچھا: ’’کیا یہ چھٹیاں کم نہیں ہوسکتیں یا چند دن بعد نہیں لی جا سکتیں؟‘‘ تو اس نے کہا: ’’جی نہیں‘ مجھے بہت ضروری کام ہے‘‘۔ مولانا نے مسکرا کر صرف یہ کہا: ’’سب لوگوں کو ضروری کام ہیں۔ بس صرف میں ہی ہوں جسے کوئی کام نہیں‘‘۔مجھے نزدیک بیٹھا دیکھ کر فرمانے لگے: ’’آپ سن رہے ہیں‘‘ اور ساتھ ہی فرمایا: ’’آپ کسی اچھے سے اپنے اعتماد والے ڈرائیور کا بندوبست کر دیں‘‘۔ میں وعدہ کر کے لوٹ آیا۔ چونکہ میری کسی ڈرائیور تک کوئی رسائی نہ تھی‘ اس لیے میں بندوبست نہ کرسکا اور مزے کی بات یہ ہے کہ میں کافی دنوں تک مولانا کے ہاں بھی نہ جا سکا اور بات ان کے ذہن سے اتر گئی۔ آج ندامت ہوتی ہے کہ کم از کم مولاناکو جواب ہی دے دیا ہوتا‘ نہ جانے انھوں نے میرا کب تک انتظار کیا ہوگا۔

ایک دفعہ رمضان کا مہینہ تھا‘ وہاں پر موجود لوگوں کو کھجور اور سموسے افطاری کے لیے دیے جا رہے تھے۔ اتفاق سے میں اس جگہ کھڑا تھا جہاں سے مولانا اپنے گھر کے لان سے اپنے کمرے کی طرف جا رہے تھے۔ جب وہ میرے پاس سے گزرے تو میں نے اپنا کھجور اور سموسے والا لفافہ آگے بڑھاتے ہوئے مولانا سے کہا: ’’آپ بھی افطار کے لیے لیجیے‘‘۔ مولانا کہنے لگے: ’’شکریہ‘ یہ چیزیں زیادہ سخت ہیں۔ میں تو چائے وغیرہ سے افطار کرتا ہوں‘ آپ میرے ساتھ آجایئے‘‘۔ میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور وہیں کھڑا سوچتا رہا کہ یہ شخص مجھے جانتا تک نہیں‘ صرف عام لوگوں کے ساتھ بیٹھ کرگفتگو سنی ہے اور چند ایک سوال کیے ہیں اور اس سے بڑھ کر کچھ نہیں‘ لیکن اس شخص نے مجھ پر کتنا اعتماد کیا ہے کہ ایک بار اس نے مجھے ڈرائیور لانے کو کہا جو میں نہ کر سکا اور انھوں نے مجھ سے وجہ تک دریافت نہیں کی۔ پھر میں نے روزہ افطار کرنے کی    پیش کش کی تو انھوں نے کتنی محبت سے مجھے اپنے ساتھ روزہ افطار کرنے کے لیے کہا ہے۔ یہ اس شخص کی اعلیٰ ظرفی نہیں تو اور کیا ہے۔ یہاں میں معذرت کے ساتھ لکھنا چاہتا ہوں کہ اس سے پہلے اور بعد بھی اکثر دینی رہنمائوں کو بڑے قریب سے دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے۔ ان کی آن بان‘ جبہ ودستار‘ رعب داب اور اپنے مریدین کے ساتھ حسن سلوک کو بھی دیکھا ہے۔ لیکن مولاناؒ کے نزدیک ان چیزوں کا شائبہ تک نہیں تھا۔ ایک دفعہ مولانا محترم‘ شادباغ لاہور میں ایک جلسے میں خطاب کے لیے تشریف لائے۔ کسی شخص نے نعرہ لگایا: ’’پیر مودودی زندہ باد‘‘۔ مولاناؒ نے فوراً اس نعرہ کو روکا اور کہا: ’’میں اس چیز کو پسند نہیں کرتا‘ آپ میرے لیے یہ نعرہ نہ لگائیں‘‘۔

کچھ لوگوں نے جو کہ اب مرحوم ہوچکے ہیں‘ مولاناؒ کی ذات تو کیا ان کی بیٹیوں تک کو بھی نہیں بخشا۔ اس ضمن میں ایک واقعہ بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ چند علما حضرات کی طرف سے مولانا مودودیؒ کی فیملی کے بارے میں یہ مشہور کیا گیا تھا کہ ان کا گھرالٹرا ماڈرن ہے۔ گھر کے کچھ افراد صوم و صلوٰۃ تک کے پابند نہیں‘ پردے کی پابندی بھی بطور خاص نہیں کی جاتی وغیرہ وغیرہ (یہ الفاظ تو میں بڑے محتاط انداز سے تحریر کر رہا ہوں‘ جب کہ اصل الفاظ تو تہذیب سے گرے ہوئے تھے)۔ میں نے صرف اپنے اطمینان کے لیے ایک دن اپنی والدہ محترمہ کو ساتھ لیا اور ذیلدار پارک مولانا کے گھر گیا۔ میں خود تو عصری نشست میں بیٹھ گیا اور والدہ محترمہ کو مولانا کے گھر بھجوا دیا۔ مغرب کی نماز کے بعد ہم لوگ واپس آئے۔ والدہ محترمہ نے مجھے بتایا: ’’میں نے تو وہاں کوئی اچنبھے کی بات نہیں دیکھی‘ بس عام سا سادا سا گھر ہے لیکن خوب صاف ستھرا۔ گھر کے بچے خاصے شایستہ ہیں۔ گھر میں سب نے باقاعدہ نماز عصر اورمغرب پڑھی۔ مولانا صاحب کی بیگم اور ان کی بیٹیاں بہت ملنسار ہیں‘‘۔ انھوں نے والدہ محترمہ کی سکنجبین سے تواضع کی۔ جب وہ گھر کے اندر داخل ہوئیں تو اس وقت مولانا کی بیگم اور بچیاں چاول اور مونگ کی دال پکانے کے لیے صاف کر رہی تھیں۔اس واقعے کے بعد خود مجھے اپنے آپ پر ندامت ہوئی کہ میں نے والدہ کو بھیج کر ایسا کیوں کیا؟ ان ذاتی تجربات کے بعد مجھے مولاناؒ کی ذات پر بہت ترس آیا کہ ایک شریف النفس آدمی پر کیسا کیچڑ اُچھالا جا رہا ہے اور وہ شریف آدمی کسی بات کا نوٹس نہیں لے رہا۔

دو ایک روز کے بعد میں پھر عصر کے بعد ان کی روزانہ کی نشست میں شامل ہوا اور مولاناؒ سے سوال کیا:’مولانا محترم‘ یہ کوثرنیازی آپ کی جماعت میں تھے اور اب اتنی دُوری کیوں؟‘‘ مولانا کہنے لگے:’’وہ اچھے آدمی تھے جو وہ چاہتے تھے میرے پاس نہیں تھا۔ جہاں سے ان کو مل گیا وہاں وہ چلے گئے‘‘۔ ایسا جواب سننے کے بعد مزید سوال کی کوئی گنجایش نہ تھی۔ انھی دنوں کی بات ہے کہ ہمارے حلقۂ انتخاب میں جماعت اسلامی کے چودھری غلام جیلانی صاحب قومی اسمبلی اور شیخ محمد رفیق اشرفی صاحب صوبائی اسمبلی کے امیدوار تھے۔ چودھری غلام جیلانی شاید گلے کی پُرانی خرابی کی وجہ سے بہت ہی آہستہ بولتے تھے اور شیخ محمد رفیق اشرفی ذرا اٹک اٹک کر بولتے تھے۔ ان کے مقابلے میں دوسری سیاسی پارٹیوں کے امیدوار بڑی گرج دار آواز اور آستینیں چڑھا چڑھا کر بولتے تھے اور ان لوگوں کے جلسے بھی خوب جمتے تھے۔ اس کے مقابلے میں جماعت اسلامی کے جلسوں میں حاضری بہت کم ہوتی تھی اور سونے پر سہاگہ ان دوحضرات کی آواز۔ دوایک دفعہ ان کے جلسوں کی یہ کیفیت دیکھ کر میں نے مولانا سے سوال کیا: ’’مولانا کسی اچھے مقرر کاانتخاب کیا ہوتا تو کتنا اچھا ہوتا‘‘۔ مولانا کہنے لگے: ’’کیا آپ چرب زبانی کو اچھا سمجھتے ہیں؟‘‘ پھر کہا: ’’ہمارے پاس چرب زبان نہیں ہیں‘ اچھے ورکر ضرور ہیں‘‘۔

انھی دنوں کی بات ہے کہ ایک دفعہ غلام غوث ہزاروی صاحب نے مولانا کے بارے میں بڑے جذباتی انداز میں ایک ناخوش گوار‘ سخت تکلیف دہ بیان دیا۔ میں نے مولانا سے کہا: مولانا‘ آپ ان کا جواب کیوں نہیں دیتے؟‘‘مولانا نے کہا: ’’کس کس کا جواب دوں‘ میرا یہ مزاج نہیں کہ میں ان سوال و جواب میں الجھوں۔ لیکن میں آپ کو یہ بتاتا ہوں کہ جس مقام پر مولانا ہزاروی صاحب بول رہے ہیں‘ میں اس مقام پر نہیں جا سکتا اور جس مقام پر میں ان کو دیکھنا چاہتا ہوں وہ ان کے بس کی بات نہیں‘ اور اگر ہم نے انھی کا طرزخطابت اپنانا ہے تو پھر ہمیں اپنی علیحدہ جماعت بنانے کا کیا فائدہ‘ ہم کیوں نہ ان کی جماعت میں ضم ہوجائیں‘‘۔

مولاناؒ صاحب کا لباس جو میں نے اکثر دیکھا وہ سفید رنگ کا کُرتا اور سفید رنگ کا کھلے پائنچے والا پاجامہ ہوتا۔ ایک دن مولانا سے پوچھا:’’مولانا‘ آپ کا جی نہیں چاہتاکہ آپ بھی دوسرے لوگوں کی طرح رواج کے مطابق اپنے لباس کو تبدیل کیا کریں جو کہ اکثر غیرشایستہ نہیں ہوتا‘‘۔ مولانا کہنے لگے: ’’اس میں کوئی مضائقہ تو نہیں لیکن دنیا والے تو بڑی تیزی سے آئے دن رواج بدلتے ہیں‘ کسی جگہ رکتے ہی نہیں۔ آدمی اس شخص کا پیچھا کرے جس نے کسی ایک جگہ ٹھیرنا ہو‘ مسلسل پیچھا کرنے سے تو آدمی تھک جائے گا اس سے یہ بہتر نہیں کہ آدمی اپنی چال چلے‘‘۔

مولانا نے اپنی کسی تحریر میں قیامت کے ظہورپذیر ہونے کو سائنسی لحاظ سے ثابت کیا تھا۔ یہ تحریر پڑھ کر ایک طالب علم نے جس کا تعلق لاہور سے باہر کسی شہر سے تھا‘ سوال کیا: ’’مولانا‘ میرے سائنس کے استاد نے آپ کی تحریر پڑھی ہے اور آپ کے تجزیے سے اتفاق کرتے ہوئے انھوں نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ التماس کروں کہ آپ اپنی تحریروں میں اسی طرح سائنسی حوالے دیا کریں‘‘۔ مولانا فرمانے لگے: ’’جہاں ضروری سمجھتا ہوں وہاں پر حوالہ دے دیتا ہوں لیکن آپ اپنے استاد محترم سے کہہ دیجیے کہ میں قرآن مجید کو سائنس کی کتاب نہیں بنانا چاہتا‘‘۔

۱۹۷۰ء کے انتخابات کے زمانے میں ایک روز کسی نے مولانا صاحب نے سوال کیا: ’’مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) میں مجیب الرحمن اور مغربی پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کو بہت مقبولیت حاصل ہو رہی ہے‘ ان حالات کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟‘‘ مولانا کہنے لگے: ’’اگر مشرقی پاکستان میں شیخ صاحب اور مغربی پاکستان میں بھٹو صاحب کامیاب ہوگئے تو پاکستان کا خدا ہی حافظ ہوگا‘‘ (پھرانتخابی نتائج بھی ایسے ہی آئے اور سال بھر میں پاکستان دولخت ہوگیا)۔

پہلے عام انتخابات کے اگلے روز مولانا کے گھر پر کافی لوگ جمع تھے اور مولانا اپنے گھر کے لان کے بجاے برآمدے سے ذرا آگے بیٹھے تھے۔ قریب کھڑی ایک کار کے ساتھ ٹیک لگاکر میاں طفیل محمد صاحب کھڑے تھے۔ عجیب اداسی کا سماں تھا۔ کارکن خاصے بددل نظر آرہے تھے‘ کیوں کہ نتیجہ مایوس کن تھا۔ کسی صاحب نے سکوت توڑتے ہوئے سوال کیا: مولانا‘ کیا یہ نتیجہ ہمارے کارکنوں کی کاوش میں کوتاہی کی وجہ سے تو نہیں ہوا‘‘۔ مولانا نے ایک لمحے کا توقف کیے بغیر‘ قدرے بلند آواز اور بڑے مضبوط لہجے میں کہا: ’’نہیں‘ نہیں ایسا نہیں ہے‘ بلکہ جماعت کے ان مخلص اور تنگ دست کارکنوں نے تو بھوکے رہ کر اور اپنی جیب سے پیسے خرچ کر کے سخت مشکل حالات میں کام کیا ہے‘‘۔ اسی مجلس میں مجیب الرحمن شامی صاحب نے سوال کیا: ’’مولانا‘ موجودہ نتائج کی روشنی میں آپ لوگوں کے مزاج کے بارے میں کیا کہیں گے؟‘‘ مولانا نے برجستہ کہا: ’’اگر لوگوں کا مزاج اچھا ہوتا تو وہاں مجیب صاحب اور یہاں بھٹو صاحب اس قوم کے گلے نہ پڑتے‘‘۔

۱۹۷۴ء میں مجھے اومان کے ایک کیڈٹ اسکول میں ملازمت مل گئی۔اس اسکول میں کچھ فوجی افسران جن کا تعلق درس و تدریس سے تھا‘ اُردن سے آئے ہوئے تھے۔ ایک دن موسیٰ نامی ایک کپتان میرے دفتر میں کسی کام سے آئے۔ باتوں باتوں میں ان کپتان صاحب کو پتاچل گیا کہ میرا تعلق پاکستان کے شہر لاہور سے ہے۔ وہ کہنے لگے: ’’کیا آپ نے مولانا مودودیؒ کو دیکھا ہے؟‘‘ میں نے اثبات میں جواب دیا‘ تو کہنے لگے: ’’میں نے مولانا مودودیؒ کا   لٹریچر پڑھا ہے‘ لیکن ان کو دیکھا نہیں‘‘۔اس کے ساتھ وہ مجھے اپنے ساتھ اسکول کی لائبریری میں لے گئے اور مولانا مودودیؒ کی کچھ کتابیں دکھائیں اور پوچھنے لگے: ’’آپ رخصت پر کب لاہور جا رہے ہیں؟‘‘میں نے جب جانے کی تاریخ بتائی تو فرطِ جذبات میں کہنے لگے:

" Please Muhammad, when you go this time to Lahore, please see Maulana Maududi with my eyes".

میں نے اس کی فرمایش پوری کی اور جب دوبارہ مسقط گیا اور اس کو بتایا تو اس نے میرا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: "You are a lucky man that you live in the city where a great Muslim scholar lives".