مفتی محمد شفیعؒ و دیگر


اِنَّـآ اَنْزَلْنٰـہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ o وَمَآ اَدْرٰکَ مَا لَیْلَۃُ الْقَدْرِ o

لَیْلَۃُ الْقَدْرِلا خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَھْرٍ o  تَنَزَّلُ الْمَلٰٓئِکَۃُ وَالرُّوْحُ

فِیْھَا بِاِذْنِ رَبِّھِمْج مِنْ کُلِّ اَمْرٍ o سَلٰمٌقف ھِیَ حَتّٰی مَطْلَعِ الْفَجْرِ o (القدر ۹۷:۱-۵)

ہم نے اِس (قرآن) کو شبِ قدر میں نازل کیا ہے۔ اور تم کیا جانو کہ شب قدر کیا ہے؟ شبِ قدر ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے۔ فرشتے اور رُوح اُس میں اپنے رب کے اِذن سے ہر حکم لے کر اُترتے ہیں۔ وہ رات سراسر سلامتی ہے طلوعِ فجر تک۔

مفتی محمد شفیع ؒ

حضرت ابن ابی حاتمؓ نے مجاہد سے مرسلاًروایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کے ایک مجاہد کا حال ذکر کیا جو ایک ہزار مہینے تک مسلسل مشغولِ جہاد رہا‘ کبھی ہتھیار نہیں اُتارے۔ مسلمانوں کو یہ سن کر تعجب ہوا۔ اس پر سورئہ قدر نازل ہوئی جس میں اس اُمت کے لیے صرف ایک رات کی عبادت کو اُس مجاہد کی عمربھر کی عبادت‘ یعنی ایک ہزار مہینے سے بہتر قرار دیا ہے۔ ابن جریر نے بروایت مجاہد ایک دوسرا واقعہ یہ ذکر کیا ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک عابد کا یہ حال تھا کہ ساری رات عبادت میں مشغول رہتا اور صبح ہوتے ہی جہاد کے لیے نکل کھڑا ہوتا اور دن بھر جہاد میں مشغول رہتا۔ ایک ہزار مہینے اُس نے اسی مسلسل عبادت میں گزار دیے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے سورئہ قدر نازل فرما کر اس اُمت کی فضیلت سب پر ثابت فرما دی۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شبِ قدر اُمتِ محمدیہ کی خصوصیات میں سے ہے۔ (مظہری)

ابن کثیرنے یہی قول امام مالکؒ کا نقل کیا ہے اور بعض ائمۂ شافعیہ نے اس کو جمہور کا قول لکھا ہے۔ خطابی نے اس پر اجماع کا دعویٰ کیا ہے مگر بعض محدثین نے اس میں اختلاف کیا ہے۔ (ماخوذ از ابن کثیر)۔ معارف القرآن‘ج۸‘ ص۷۹۱)

مولانا سید ابوالاعلٰی مودودیؒ

یہاں فرمایا گیا ہے کہ ہم نے قرآن کو شب ِقدر میں نازل کیا ہے ‘اور سورئہ بقرہ میں ارشاد ہوا ہے: شَھْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ، (البقرہ ۲:۱۸۵) ’’رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا‘‘ ۔ اس سے معلوم ہواکہ وہ رات جس میں پہلی مرتبہ خدا کا فرشتہ غارِحرا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلّم کے پاس وحی لے کر آیا تھا وہ ماہِ رمضان کی ایک رات تھی۔ اِس رات کو یہاں شب ِقدر کہا گیاہے اور سورئہ دُخان میں اِسی کو مبارک رات فرمایا گیا ہے:  اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ فِی لَیْلَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ(۴۴:۳)’’ہم نے اسے ایک برکت والی رات میں نازل کیا ہے‘‘۔

اس رات میں قرآن نازل کرنے کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک کہ یہ اِس رات پورا قرآن حاملِ وحی فرشتوں کے حوالہ کر دیا گیا‘ اور پھر واقعات اور حالات کے مطابق وقتاً فوقتاً ۲۳ سال کے دوران میں جبریل علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کی آیات اور سورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم پر نازل کرتے رہے۔ یہ مطلب ابن عباسؓ نے بیان کیا ہے (ابن جریر‘ ابن المنذر‘ ابن ابی حاتم‘ حاکم‘ ابن مردُویہ‘ بیہقی)۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے نزول کی ابتدا اِس رات سے ہوئی۔ یہ امام شعبی کا قول ہے‘ اگرچہ اُن سے بھی دوسرا قول وہی منقول ہے جو ابن عباس کا اُوپر گزرا ہے (ابن جریر)۔ بہرحال دونوں صورتوں میں بات ایک ہی رہتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم پر قرآن کے نزول کا سلسلہ اسی رات کو شروع ہوا اور یہی رات تھی جس میں سورئہ علق کی ابتدائی پانچ آیات نازل کی گئیں۔ تاہم یہ بات اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن کی آیات اور سورتیں اللہ تعالیٰ اُسی وقت تصنیف نہیں فرماتا تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم اور آپ کی دعوتِ اسلامی کو کسی واقعہ یا معاملہ میں ہدایت کی ضرورت پیش آتی تھی‘ بلکہ کائنات کی تخلیق سے بھی پہلے ازل میں اللہ تعالیٰ کے ہاں زمین پر نوعِ انسانی کی پیدایش‘ اس میں انبیا کی بعثت‘ انبیا پر نازل کی جانے والی کتابوں ‘ اور تمام انبیا کے بعد آخر میں محمد صلی اللہ علیہ وسلّم کو مبعوث فرمانے اور آپؐ پر قرآن نازل کرنے کا پورا منصوبہ موجود تھا۔  شب ِقدر میں صرف یہ کام ہوا کہ اس منصوبے کے آخری حصے پر عمل درآمد شروع ہو گیا۔ اُس وقت اگر پورا قرآن حاملینِ وحی کے حوالے کر دیا گیا ہو تو کوئی قابلِ تعجب امر نہیں ہے۔

قدر کے معنی بعض مفسرین نے تقدیر کے لیے ہیں‘ یعنی یہ وہ رات ہے جس میں اللہ تعالیٰ تقدیر کے فیصلے نافذ کرنے کے لیے فرشتوں کے سپرد کر دیتا ہے۔ اس کی تائید سورئہ دُخان کی یہ آیت کرتی ہے: فِیْھَا یُفْرَقُ کُلُّ اَمْرٍ حَکِیْمٍ o (الدخان ۴۴:۴)’’اُس رات میں ہرمعاملے کا حکیمانہ فیصلہ صادر کر دیا جاتا ہے‘‘۔ بخلاف اِس کے امام زُہری کہتے ہیں کہ قدر کے معنی عظمت و شرف کے ہیں‘ یعنی وہ بڑی عظمت والی رات ہے۔ اِس معنی کی تائید اِسی سورہ کے اِن الفاظ سے ہوتی ہے کہ ’’شب ِ قدر ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے‘‘۔

اب رہا یہ سوال کہ یہ کون سی رات تھی ‘ تو اس میں اتنا اختلاف ہوا ہے کہ قریب قریب ۴۰مختلف اقوال اِس کے بارے میں ملتے ہیں۔ لیکن علماے اُمت کی بڑی اکثریت یہ رائے رکھتی ہے کہ رمضان کی آخری دس تاریخوں میں سے کوئی ایک طاق رات شب ِ قدر ہے‘ اور ان میں بھی زیادہ تر لوگوں کی رائے یہ ہے کہ وہ ستائیسویں رات ہے…غالباً کسی رات کا تعین اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اس لیے نہیں کیا گیا ہے کہ شب ِ قدر کی فضیلت سے فیض اُٹھانے کے شوق میں لوگ زیادہ سے زیادہ راتیں عبادت میں گزاریں اور کسی ایک رات پر اکتفا نہ کریں۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جس وقت مکّۂ معظمہ میں رات ہوتی ہے اُس وقت دنیا کے ایک بہت بڑے حصے میں دن ہوتا ہے‘ اس لیے اُن علاقوں کے لوگ تو کبھی شب ِ قدر کو پا ہی نہیں سکتے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ عربی زبان میں اکثر رات کا لفظ دن اور رات کے مجموعے کے لیے بولا جاتا ہے۔ اس لیے رمضان کی اِن تاریخوں میں سے جو تاریخ بھی دنیا کے کسی حصہ میں ہو اُس کے دن سے پہلے والی رات وہاں کے لیے شب ِ قدر ہوسکتی ہے۔(تفہیم القرآن‘ ج ۶‘ ص ۴۰۴-۴۰۶)

مولانا امین احسن اصلاحیؒ

یہ ایک رات ہزار مہینوں سے بڑھ کر ہے۔ یہ بہتری‘ ظاہر ہے کہ حصولِ مقصد کے اعتبار سے ہے۔ جس طرح اس مادی دنیا میں فصلوں‘ موسموں اور اوقات کا اعتبار ہے‘ اسی طرح روحانی عالم میں بھی ان کا اعتبار ہے۔ جس طرح خاص خاص چیزوں کے بونے کے لیے خاص خاص موسم اور مہینے ہیں‘ ان میں آپ بوتے ہیں تو وہ پروان چڑھتی اور مثمرہوتی ہیں‘ اور اگر ان موسموں اور مہینوں کو آپ نظرانداز کر دیتے ہیں تو دوسرے مہینوں کی طویل سے طویل مدت ان کا بدل نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح روحانی عالم میں بھی خاص خاص کاموں کے لیے خاص موسم اور خاص اوقات و ایام مقرر ہیں۔ اگر ان اوقات و ایام میں وہ کام کیے جاتے ہیں تووہ مطلوبہ نتائج پیدا کرتے ہیں اور اگر وہ ایام و اوقات نظرانداز ہوجاتے ہیں تو دوسرے ایام و اوقات کی زیادہ سے زیادہ مقدار بھی ان کی صحیح قائم مقامی نہیں کر سکتی۔ اس کو مثال سے یوں سمجھیے کہ جمعہ کے لیے ایک خاص دن ہے۔ روزوں کے لیے ایک خاص مہینہ ہے‘ حج کے لیے خاص مہینہ اور خاص ایام ہیں۔ وقوفِ عرفہ کے لیے معینہ دن ہے۔ ان تمام ایام و اوقات کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے بڑی بڑی عبادتیں مقرر کر رکھی ہیں جن کے اجروثواب کی کوئی حدّونہایت نہیں ہے لیکن ان کی ساری برکتیں اپنی اصلی صورت میں تبھی ظاہر ہوتی ہیں جب یہ ٹھیک ٹھیک ان ایام و اوقات کی پابندی کے ساتھ عمل میں لائی جائیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو وہ برکت فوت ہوجاتی ہے جو ان کے اندر مضمر ہوتی ہے۔

یہی حال لیلۃ القدر کا ہے۔ یہ بڑی برکتوں اور رحمتوں کی رات ہے۔ بندہ اگر اس کی جستجو میں کامیاب ہوجائے تو اس ایک ہی رات میں خدا کے قرب کی وہ اتنی منزلیں طے کر سکتا ہے جتنی ہزار راتوں میں نہیں کر سکتا۔ ’ہزار راتوں‘ کی تعبیر بیانِ کثرت کے لیے بھی ہوسکتی ہے اور بیان نسبت کے لیے بھی لیکن مدعا کے اعتبار سے دونوں میں کوئی بڑا فرق نہیں ہوگا۔ مقصود یہی  بتانا ہے کہ اس رات کے پردوں میں روح و دل کی زندگی کے بڑے خزانے چھپے ہوئے ہیں۔ خوش قسمت ہیں وہ جو اس کی جستجو میں سرگرم رہ سکیں اور اس کو پانے میں کامیاب ہوجائیں۔ (تدبر قرآن‘ ج ۸‘ ص ۴۶۷-۴۶۸)

سید قطب شہیدؒ

اس رات کی عظمت کی حقیقت انسانی فہم و ادراک سے ماورا ہے۔ وَمَآ اَدْرٰکَ مَا لَیْلَۃُ الْقَدْرِ ’’اور تم کیا جانو! شبِ قدر کیا ہے!‘‘ اس رات کے سلسلے میں جو افسانوی داستانیں عوام میں پھیلی ہوئی ہیں اس کی عظمت کا اُن سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ اس لیے عظیم ہے کہ اسے قرآن کے--- جس میں عقیدہ‘ فکر‘ قانون اور زندگی کے وہ تمام اصول و آداب ہیں جن سے زمین اور انسانی ضمیر کی سلامتی وابستہ ہے--- نزول کے آغاز کے لیے منتخب کیا گیا۔ یہ اس لیے بھی عظیم ہے کہ اس میں ملائکہ‘ بالخصوص جبریل علیہ السلام اپنے رب کے اذن کے ساتھ قرآن لے کر زمین پر نازل ہوئے‘ اور پھر یہ فرشتے کائنات کے اس جشنِ نوروز کے موقع پر زمین و آسمان کے مابین پھیل گئے۔ سورت اِن امور کی عجیب و غریب انداز میں تصویرکشی کرتی ہے…

نوع انسانی اپنی جہالت و بدبختی سے اِس شب کی قدروقیمت‘ اس واقعہ--- وحی-- کی حقیقت اور اس معاملے کی عظمت سے غافل ہے‘ اور اس جہالت و غفلت کے نتیجے میں وہ اللہ کی بہترین نعمتوں سے محروم ہے۔ وہ سعادت اور حقیقی سلامتی‘ دل کی سلامتی‘ گھر کی سلامتی اور سماج کی سلامتی کو--- جو اسلام نے اسے بخشی تھی--- کھوچکی ہے۔ مادی ارتقا اور تہذیب و تمدن کے جو دروازے آج نوعِ انسانی پر کھلے ہیں‘ اُس سے اِس محرومی کی تلافی نہیں ہوسکتی۔ آج انسانیت شقاوت و بدبختی کا شکار ہے حالانکہ پیداوار کی افراط ہے اور وسائلِ معاش کی بہتات۔ حسین و جمیل نور‘ جو انسانیت کی روح میں ایک بار چمکا تھا‘ بجھ چکا ہے۔ ملاء اعلیٰ سے ربط و تعلق کی فرحت و انبساط کا خاتمہ ہوچکا ہے اور ارواح و قلوب پر سلامتی کا جو فیضان تھا وہ مفقود ہوچکا ہے۔ روح کی اِس مسرت‘ آسمان کے اِس نور اور ملاء اعلیٰ سے ربط و تعلق کی مسرت کا کوئی بدل اسے نہیں مل سکا ہے۔

ہم اہلِ ایمان مامور ہیں کہ اِس یادگار واقعہ کو فراموش نہ کریں‘ نہ اُس سے غافل ہوں۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری ارواح میں اس یاد کو تازہ رکھنے کا بہت آسان طریقہ مقرر فرما دیا تاکہ ہماری ارواح اُس رات سے اور جو کائناتی واقعہ --- وحی آسمانی--- اس میں رونما ہوا‘ اس سے ہمیشہ وابستہ رہیں۔ آپؐ نے ہمیں اس بات پر ابھارا کہ شبِ قدر کو ہم ہر سال رمضان کے آخری عشرے کی راتوں میں ڈھونڈیں اور اس رات میں جاگ کر اللہ کی عبادت کریں۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے:  تَحَرُّوْا لَیْلَۃَ الْقَدْرِ فِیْ الْعَشْرِ الْاَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ ،’’شبِ قدر کو رمضان کی آخری دس راتوں میں تلاش کرو‘‘۔ صحیحین ہی کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَنْ قَامَ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ اِیْمَانًا وَّاحْتِسَابًا غُفِرَلہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنِبْہٖ ، ’’جس کسی نے ’شبِ قدر‘ اللہ کی عبادت ایمان اور احتساب کی حالت میں کی اُس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے!‘‘

اسلام ظاہری شکلوں اور رسموں کا نام نہیں ہے۔ اسی واسطے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’شبِ قدر‘ کے بارے میں فرمایا کہ وہ ’ایمان‘ اور ’اِحتساب‘ کی حالت میں ہو!--- ایمان کا مطلب یہ ہے کہ شبِ قدر جن عظیم مطالب و معانی سے وابستہ ہے (دین‘ وحی‘ رسالت اور قرآن) انھیں ہم ذہن میں تازہ کریں‘ اور’’احتساب‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ عبادت صرف اللہ کی رضا کے لیے اور اخلاص کے ساتھ ہو۔ اِسی صورت میں قلب کے اندر اُس عبادت کی متعینہ حقیقت زندہ و بیدار ہوسکتی ہے اور قرآن جس تعلیم کو لے کر آیا ہے‘ اس سے ربط و تعلق قائم ہوسکتا ہے۔

تربیت کا اسلامی نظام‘ عبادت اور قلبی عقائد کے درمیان ربط قائم کرتا ہے اور اُن ایمانی حقائق کو زندہ رکھنے‘ انھیں واضح کرنے اور انھیں زندہ صورت میں مستحکم بنانے کے لیے عبادات کو بطور ذریعہ کے استعمال کرتا ہے تاکہ یہ ایمانی حقائق غوروفکر کے دائرے سے آگے بڑھ کر انسان کے احساسات اور اس کے قلب و دماغ میں اچھی طرح پیوست ہوجائیں۔

یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ تربیت کا یہی نظام اِن حقائق کو زندہ و تازہ رکھنے اور دل کی دنیا اور عمل کی دنیا میں انھیں حرکت بخشنے کے لیے موزوں ترین نظام ہے۔ یہ بات بھی واضح ہوچکی ہے کہ اِن حقائق کا صرف نظری علم‘ عبادت کی معاونت کے بغیر اِن حقائق کو زندہ و برقرار نہیں رکھ سکتا اور نہ یہ کسی طریقے سے ممکن ہے اور نہ اِس نظام کے بغیر ان حقائق کو فرد اور معاشرے کی زندگی میں قوتِ محرکہ کی حیثیت حاصل ہو سکتی ہے۔

شبِ قدر کی یاد اور اس میں ایمان و احتساب کے ساتھ اللہ کی عبادت اِس کامیاب اور بہترین اسلامی تربیتی نظام کا ایک جزو ہے۔ (ترجمہ: سید حامد علی‘ فی ظلال القرآن‘ تفسیر۳۰واں پارہ‘ ص ۳۷۷-۳۳۹)۔ (انتخاب و ترتیب:  امجد عباسی)