ڈاکٹر عبدالحی ابڑو


اسلام سے قبل دنیا کی مختلف تہذیبوں اور معاشروں کا جائزہ لیں اور عورت کی حیثیت کو پہچاننے کی کوشش کریں تو ہم اس نتیجے پرپہنچتے ہیں کہ عورت بہت مظلوم اور معاشرتی و سماجی عزّت و احترام سے محروم تھی۔ اسے تمام برائیوں کا سبب اور قابلِ نفرت تصور کیا جاتا تھا۔ یونانی، رومی، ایرانی اور زمانۂ جاہلیت کی تہذیبوں اور ثقافتوں میں عورت کو ثانوی حیثیت سے بھی کمتر درجہ دیا جاتا تھا۔  درحقیقت عورت کی عظمت، احترام اور اس کی صحیح حیثیت کا واضح تصور اسلام کے علاوہ کہیں نظر نہیں آتا۔ اسلام نے عورت کو مختلف نظریات و تصورات کے محدود دائرے سے نکال کر بحیثیت انسان عورت کو مرد کے یکساں درجہ دیا۔

  • دورِ جاہلیت میں عربوں کا نظامِ وراثت :اہل عرب مختلف قبیلوں اور طبقوں میں بٹے ہوئے تھے۔ وراثت میں ان کے ہاں چھوٹے بچوں اور عورتوں کا کوئی حصہ نہ تھا۔ان کے ہاں میراث پانے کے درج ذیل تین اسباب تھے:

۱- قرابت اور نسبی تعلق: لیکن اس کے لیے شرط یہ تھی کہ وارث بالغ اور جنگی صلاحیت کا حامل ہو، اور ترکہ کا سب سے پہلا حقدار بڑا بیٹا تھا، اس کے ہوتے ہوئے کوئی اور وارث نہیں ہوسکتا تھا۔ اس کے بعد پوتا، پھر باپ، دادا اور ان کے بعد بھائی اور چچا وغیرہ کا حق تھا۔

۲- وَلاء : اسی جنگ و جدال کی وجہ سے ایک قبیلہ دوسرے قبیلے سے اور ایک شخص دوسرے شخص سے باہم مدد اور نصرت کا معاہدہ کرتا تھا جسے ’وَلاء‘ کہا جاتا ہے اور قریبی وارث کی موجودگی میں بھی یہ شخص وارث ہوتا تھا۔

۳- تَبَــنِّیْ: سابقہ اقوام اور مذاہب میں لے پالک بیٹے کا رواج تھا اور اب بھی بہت سے فرقوں میں باقی ہے، کہ لوگ دوسروں کے بچے کو گود لیتے ہیں اور وہ حقیقی بیٹے کی طرح سمجھا جاتا ہے اور اس کی جائیداد کا وارث ہوتا ہے۔ عربوں میں بھی یہ طریقہ رائج تھا۔ اسلام نے آکر اسے ختم کیا۔

  • بعثتِ نبویؐ کے نتائج: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے جہاں شرک وکفرکا خاتمہ ہوا اور دیگر تمام باطل رسموں کی اصلاح ہوئی، اسی طرح یتیموں کے مال اور عورتوں کے حقوق ومیراث کے سلسلے میں بھی تفصیلی احکامات نازل ہوئے۔ دُنیائے انسانیت جاہلی تہذیب سے نکل کر اسلام کی پاکیزہ معاشرت میں زندگی گزارنے لگی۔
  • اسبابِ میراث :زمانۂ جا ہلیت میں جن اسباب کی وجہ سے آدمی کو میراث ملتی تھی،ان میں ایک سبب ’نسب‘ تھا تو دوسرا ’معاہدہ‘ (یعنی ایک دوسرے سے خوشی وغم میں تعاون کریں گے، ایک مرے گا تو دوسرا اس کا وارث بنے گا،اس بات کا معاہدہ کیا جاتاتھا)۔تیسرا سبب ’متبنٰی‘ (یعنی منہ بولا بیٹا ) وارث بنتاتھا۔اس کے علاوہ ابتدائے اسلام میں ان اسباب کے ساتھ مواخات وہجرت کی وجہ سے بھی میراث میں حصہ تھا ، جو حقیقت میں معاہدہ ہی کی ایک صورت تھی۔

لیکن اسلام نے تدریجاً ان اسباب کو ختم کردیا اور نسب، نکاح اور ولاء کو وراثت کا سبب قرار دیا۔ یعنی اب ترکہ میں سے صرف اس کو حصہ ملے گا جس کا میت کے ساتھ نکاح ہوگا یا کوئی نسبی تعلق ہوگا۔ چونکہ زمانے کا رواج میراث میں عورتوں کو نظرانداز کرنے اور محروم کرنے کا تھا اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں عورتوں کا ذکر خصوصیت سے کیا۔

عورتوں کا حصہ بیان کرنے میں قرآن کااسلوب

آپ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں غور فرمائیں: لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ۝۰ۚ (النساء۴:۱۱)  ﴾یعنی لڑکے کو دو لڑکیوں جتناحصہ ملے گا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے: لِلْاُنْثَیَیْنِ مِثْلُ حِــظِّ الذَّکَرِ نہیں فرمایا کہ دولڑکیوں کو ایک لڑکے جتنا حصہ ملے گا۔ علامہ آلوسی ؒنے روح المعانی میں لکھاہے کہ اللہ تعالیٰ نے لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ۝۰ۚ فرمایا ،اس کی وجہ یہ ہے اہل عرب صرف لڑکوں کو حصہ دیا کرتے تھے ،لڑکیوں کو نہیں دیتے تھے۔ان کی اس عادت سیئہ پر رد اور لڑکیوں کے معاملے میں اہتمام کے لیے فرمایا کہ لڑکے کو دو لڑکیوں جتناحصہ ملے گا۔گویا یہ فرمایا کہ تم صرف لڑکوں کو حصہ دیتے ہو ،ہم نے ان کاحصہ دگنا کر دیا ہے، لڑکیوں کے مقابلے میں،لیکن لڑکیوں کو بھی حصہ دینا ہوگا،ان کو بالکلیہ میراث سے محروم نہیں کیا جائے گا۔

امام قرطبیؒ احکام ا لقرآن میں اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں : ہٰذِہِ الْآیَةُ رُکْنٌ مِنْ اَرْکَانِ الدِّیْنِ ، وَعُمْدَةٌ مِنْ عُمَدِ الْاَحْکَامِ ، وَاُمٌّ مِنْ اُمَّہَاتِ الْآیَاتِ، فَاِنَّ الْفَرَائِضَ عَظِیْمَةُ الْقَدْرِ، حَتّٰی اِنَّھَا ثُلُث الْعِلْمِ  (تفسیرقرطبی، القرطبی، جلد۶، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، طبع ۲۰۰۶ء، ص ۹۳)، یہ آیت (یوصیکم اللہ فی اولادکم) ارکان دین میں سے ہے اور دین کے اہم ستونوں میں سے ہے اور امہات آیات میں سے ہے، اس لیے کہ فرائض (میراث)کا بہت عظیم مرتبہ ہے ،یہاں تک کہ یہ علم کا ایک تہائی ہے۔

اس آیت کریمہ میں میراث کے احکام بیان فرمانے کے بعد اس کے اخیر میں اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا: تِلْكَ حُدُوْدُ اللہِ  ط  (النساء ۴:۱۳)یعنی یہ میراث کے احکام اللہ تعالیٰ کی بیان کردہ حدود ہیں۔ ان حدود پر عمل کرنے والوں کے لیے بطور انعام وجزا کے فرمایا : وَمَنْ يُّطِعِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ يُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْھَا۝۰ۭ وَذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ۝۱۳ (النساء۴:۱۳)’’جو اللہ اور اُس کے رسولؐ کی اطاعت کرے گا اسے اللہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور ان باغوں میں وہ ہمیشہ رہے گا اور یہی بڑی کامیابی ہے‘‘۔

اسی طرح دوسری جگہ پر جاہلیت کی رسوم کے خلاف اسلام کے امتیازی قانون کو قرآن مجید نے اس طرح بیان کیا ہے: لِلرِّجَالِ نَصِيْبٌ مِّـمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ ۝۰۠ وَلِلنِّسَاۗءِ نَصِيْبٌ مِّـمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ مِـمَّا قَلَّ مِنْہُ اَوْ كَثُرَ۝۰ۭ نَصِيْبًا مَّفْرُوْضًا۝۷ (النساء۴: ۷) ’’مردوں کے لیے اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو، اور عورتوں کے لیے بھی اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو، خواہ  تھوڑا ہو یا بہت، اور یہ حصہ (اللہ کی طرف سے ) مقرر ہے‘‘۔

اس آیت میں پانچ قانونی حکم دیے گئے ہیں: ایک یہ کہ میراث صرف مردوں ہی کا حصہ نہیں ہے، عورتیں بھی اس کی حقدار ہیں۔ دوسرے یہ کہ میراث بہر حال تقسیم ہونی چاہیے خواہ وہ کتنی ہی کم ہو، حتیٰ کہ اگر مرنے والے نے ایک گز کپڑا چھوڑا ہے، اس کے دس وارث ہیں تو اسے بھی دس حصوں میں تقسیم ہونا چاہیے، یہ اور بات ہے کہ ایک وارث دوسرے وارثوں سے ان کا حصہ خرید لے۔ تیسرے یہ کہ وراثت کا قانون ہر قسم کے اموال واملاک پر جاری ہوگا خواہ وہ منقولہ ہوں یا غیر منقولہ، زرعی ہوں یا صنعتی یا کسی اور صنف مال میں شمار ہوتے ہوں۔ چوتھے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ میراث کا حق اس وقت پیدا ہوتا ہے جب مورث کوئی مال چھوڑ مرا ہو۔ پانچویں اس سے یہ قاعدہ بھی نکلتا ہے کہ قریب تر رشتہ دار کی موجودگی میں بعید تر رشتہ دار میراث نہ پائے گا۔

احکام میراث سے متعلق احادیث

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

عَنْ اِبْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: عَنِ النَّبِي صلى الله عليه و سلم قَالَ: أَلْـحِقُوْا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِأَوْلٰى رَجُلٍ ذَكَرٍ (صحیح بخاری، کتاب الفرائض، باب میراث الولد من ابیہ وامّہ، حدیث: ۶۳۶۳) جن ورثا کے حصے مقرر ہیں انھیں ان کے حصے دے دو، جو بچ جائے وہ زیادہ قریبی مرد رشتہ دار کاہے۔

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جنگ احد کے بعد حضرت سعد بن ربیع ؓکی بیوی اپنی دوبچیوں کو لیے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ یارسول ؐاللہ!یہ سعد کی بچیاں ہیں، جو آپؐ کے ساتھ اُحد میں شہید ہوئے ہیں۔ ان کے چچانے پوری جائیداد اپنے قبضہ میں لے لی ہے اور ان کے لیے ایک حبّہ تک نہیں چھوڑا ہے، اب بھلا ان بچیوں سے کون نکاح کرے گا؟ اس پر میراث کی درج بالا آیات نازل ہوئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے چچا کو بلاکر فرمایا :’’ بچیوں کو کل ترکہ کا دوتہائی اور ان کی ماں کو آٹھواں حصہ دے دو، جو بچ جائے وہ تمھارا ہے‘‘۔ (ترمذی، ابواب الفرائض، عن رسول اللہ ، باب ماجاء فی میراث البنات، حدیث: ۲۰۶۹)

 حضرت زید بن ثابتؓ سے مروی ہے کہ ان سے پوچھا گیا کہ ایک عورت کا ترکہ اس کے شوہر اور سگی بہن میں کس طرح تقسیم ہوگا؟ تو انھوں نے دونوں کو ترکہ میں نصف نصف کا حقدار ٹھیرایا اور کہا کہ میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کا فیصلہ فرماتے دیکھا ہے۔ (مسنداحمد، مسندالانصار، حدیث زید بن ثابت، حدیث: ۲۱۱۱۲)

ھُزیل بن شرحبیل کہتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے میراث کے ایک مسئلہ کے بارے میں پوچھا گیا جس میں میت ایک بیٹی، پوتی اور بہن چھوڑ مرا تھا تو انھوں نے کہا کہ کل ترکہ کا نصف بیٹی کو اور بقیہ نصف بہن کو ملے گا۔ پھر کہا کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے بھی پوچھ لو وہ میری تائید ہی کریں گے۔ سائل نے حضرت ابن مسعودؓ کے ہاں حضرت ابوموسیٰؓ کا فتویٰ ذکر کیا تو انھوں نے کہا کہ اگر میں بھی وہی فتویٰ دوں جو ابو موسیٰؓ نے دیا ہے تو یقینا میں راہ راست سے بھٹک جاؤں گا۔ میں اس کے بارے میں وہی فتویٰ دوں گا جو آنحضورؐ نے دیا تھا: بیٹی کو کل ترکہ کا نصف، پوتی کو چھٹا حصہ (بیٹوں کے دوتہائی حصہ کی تکمیل کے طور پر) اور باقی بہن کا ہوگا۔ بخاری اور مسند احمد کی روایت میں ہے کہ ہم نے حضرت ابو موسیٰؓ کو ابن مسعودؓ کے فتویٰ کے متعلق بتایا تو انھوں نے کہا کہ جب تک ایسا بڑا عالم تمھارے درمیان موجود ہو، مجھ سے مسائل نہ پوچھا کرو۔

اسود کہتے ہیں: ’’حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ جب یمن میں تھے، تو اس وقت انھوں نے میت کے ورثا صرف بہن اور بیٹی ہونے کی صورت میں ہر ایک کو ترکہ میں سے نصف دیا، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت حیات تھے‘‘۔

قبیصہ بن ذؤیب کہتے ہیں کہ ایک دادی /نانی حضرت ابوبکرؓ کے پاس آئی اور ان سے (اپنے پوتے /نواسے کے) ترکہ میں سے حصہ دینے کا مطالبہ کیا۔ حضرت ابوبکرؓ نے اسے کہا کہ اللہ کی کتاب میں تمھارے حصے کا ذکر نہیں، نیز مجھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مطہرہ میں بھی تمھارے لیے کوئی حصہ ہونے کا علم نہیں۔ فی الحال تم چلی جاؤ میں لوگوں سے پوچھ کر تمھیں بتاؤں گا۔ چنانچہ حضرت مغیرہ بن شُعبہؓ نے کہا کہ میں نے رسولؐ اللہ کو اسے (دادی /نانی کو)چھٹا حصہ عطا فرماتے دیکھاہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے ان سے پوچھا کیا تمھارے ساتھ کوئی اور بھی ایسی گواہی دے سکتا ہے؟ اس پر محمد بن مسلمہ انصاریؓ اٹھے اور حضرت مُغیرہ کی بات کی تائید کی۔ چنانچہ حضرت ابو بکرؓ نے اسے ترکہ میں سے چھٹا حصہ دینے کا فیصلہ فرمادیا۔ پھر حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں ایک اور دادی/نانی آپؓ کے پاس آئی جو حصہ طلب کر رہی تھی۔ حضرت عمرؓ نے اسے کہا کہ اللہ کی کتاب میں تمھارے لیے کوئی حصہ مقرر نہیں، البتہ چھٹا حصہ ہے۔ اگر تم دونوں کسی مسئلہ میں جمع ہوجاؤ تو یہ تم دونوں میں تقسیم ہوگا، اور اگر تم دونوں میں سے کوئی ایک ہی ہوگی تو یہ اس کا حصہ ہوگا۔

حضرت بریدہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماں کی عدم موجودگی میں دادی /نانی کو کل ترکہ کا چھٹا حصہ عطا فرمایا۔ (سنن ابی داؤد، کتاب الفرائض، حدیث: ۲۸۹۵)

حضرت مقدام بن معدیکربؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جوشخص مال چھوڑ کر فوت ہوا ہو وہ اس کے ورثاء کا ہوگا، اور میں (اسلامی حکومت کے سربراہ کے طور پر) اس شخص کا وارث ہوں جس کا کوئی وارث نہ ہو۔ اس کی مالی ذمہ داریاں اداکروں گا اور اس کے ترکہ کا وارث بنوں گا، اور جس شخص کا کوئی اور قریبی وارث موجود نہ ہو تو اس کا ماموں اس کا وارث قرار دیا جائے گا‘‘۔(سنن ابی داؤد، کتاب الفرائض، باب میراث ذوی الارحام، حدیث: ۲۸۹۹)

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’جب کسی بچے نے پیدایش کے بعد چیخنے کی آواز نکالی اور پھر فوت ہوگیا تو وہ وارث قرار دیا جائے گا‘‘۔ (ابوداؤد، کتاب الفرائض، باب فی المولود یستھلّ ثم یموت حدیث: ۲۷۳۸)

حضرت اسامہ بن زیدؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مسلمان کسی کافر کا اور نہ کوئی کافر کسی مسلمان کا وارث بن سکتا ہے‘‘۔(صحیح مسلم، کتاب الفرائض، حدیث:۳۱۱۲)

حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: قاتل کو مقتول کے ترکہ میں سے حصہ نہیں ملے گا۔ (سنن ابن ماجہ، کتاب الدّیات، حدیث: ۲۶۴۱)

اسلام کے قانونِ وراثت کی چند اہم خصوصیات

  • اسلام نے ورثاء کی ایک بڑی تعداد کو ترکہ میں حصہ دار بنا کر ایک جگہ جمع ہوجانے والی دولت کو پھیلایا اور اسے گردش میں لایا ہے۔ اس سے ایک طرف تو بڑے بڑے سرمائے ایک جگہ جمع ہو رہنے کے بجائے مختلف چھوٹی چھوٹی ملکیتوں میں تقسیم ہوجاتے ہیں، تو دوسری طرف خاندان کی اکائی مضبوط ہوتی ہے اور اس میں استحکام پیدا ہوتا ہے۔ ملکیت کے حوالے سے حسد و کینہ اور کدورت کے عوامل ختم ہوجانے کی وجہ سے خاندان متحد ومنظم رہتاہے۔
  • اسلام کے نقطۂ نظر سے ترکہ کی تقسیم ناگزیر ہے۔ کوئی شخص اپنی زندگی میں اپنے ترکہ میں سے حصہ پانے والے کسی وارث کو اس سے محروم نہیں کرسکتا۔ وارث کو ہر صورت میں میت کے ترکہ میں سے حصہ مل کر رہے گا، بشرطیکہ اس میں حصہ پانے کی شرائط پائی جائیں۔ البتہ وارث کسی ایک یا تمام ورثاء کے حق میں اپنی آزاد مرضی سے اپنے حصہ سے دست بردار ہوسکتا ہے۔
  • اسلام نے حصوں کی کمی بیشی میں قرابت داری کو بنیاد بنایا ہے۔ چنانچہ جو زیادہ قریبی رشتہ دار ہے وہ نسبتاً دور والے رشتہ دار کو حصہ پانے سے محروم کردے گا یا اس کے مقابلے میں زیادہ حصہ پائے گا۔ لہٰذا باپ کو دادا پر، ماں کو دادی اور نانی پر اور بیٹے کو پوتے پر، اور بیٹے،پوتے اور باپ کو بھائی پر فوقیت دی گئی ہے۔
  • اسلامی قانون وراثت میں میت کے ترکہ میں سے حصہ پانے والوں کا تعین خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور ترکہ کی تقسیم کا اختیار مورّث (میت) کو نہیں دیا۔ اس لیے کہ انسان پر خواہشاتِ نفس کا غلبہ ہوسکتا ہے جن کی بنا پر وہ کسی وقتی جذبے کے تحت ترکہ کے بعض حق داروں کو یا تو بالکل محروم کرسکتا ہے یا پھر بلا جواز ان کے حصوں میں کمی کر سکتا ہے۔ اس لیے شریعت اسلامیہ نے ورثا اور ان کے حصوں کا تعین فرماکر اس بات کا سد باب کردیا ہے۔
  • اسلام نے قانون میراث کے ذریعے کمزور افراد، عورتوں اور بچوں کو ان کے حقوق دیے اور ان کا خاطر خواہ تحفظ کیا، جب کہ دیگر مذاہب اور تہذیبوں میں عورت اپنے جائز حقِ وراثت سے محروم رہی ہے اور عموماً اسے نظرانداز کیا گیا ہے۔
  • اسلام نے بعض صورتوں میں ضرورت واحتیاج کو حصوں میں کمی و بیشی کی بنیاد بنایا ہے۔ اسی لیے بیٹی کا حصہ اس کے بھائی کے مقابلے میں آدھا رکھا گیا ہے۔ اس لیے کہ اسے مالِ ملکیت کی زیادہ ضرورت ہے۔ اس کی مالی ذمہ داریاں بیٹی کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں۔ اس نے اپنی بیوی کو مہر دینا ہوتا ہے، اپنے بیوی بچوں، والدین، بہن بھائیوں اور دیگر رشتہ داروں کی اگر وہ تنگدست ہوں، کفالت کرنا ہوتی ہے، جب کہ عورت پر اس طرح کی کوئی ذمہ داری اسلام نے نہیں ڈالی، بلکہ ولادت سے وفات تک اس کی کفالت کی تمام تر ذمہ داری مرد پر رکھی گئی ہے۔ چنانچہ عدل وانصاف کا تقاضا یہی تھا کہ اس کا حصہ بھی اس کے بھائی کے مقابلے میں کم رکھا جائے۔
  • ضرورت و احتیاج کے اسی اصول کے پیش نظر اسلام نے فوت شدہ کے بیٹے کا حصہ اس کے باپ کے حصہ سے زیادہ رکھا ہے۔ اس لیے کہ بیٹا نوعمر ہے، اسے ابھی زندگی کے مسائل و مشکلات کا سامنا کرناہے، جب کہ باپ بوڑھا وکمزور ہے، اسے اتنا ہی مال درکار ہے جس سے وہ اپنے بڑھاپے کی حفاظت کرسکے اور ضروریات زندگی کے لیے کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلائے۔

مرد کا حصہ دوگنا کیوں؟

اسلام میں عورت کے حصہ کا مرد سے آدھا ہونے پر مغرب زدہ حضرات کی طرف سے اعتراضات کا ایک سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ مثلاً یہ کہ عورت کے ساتھ صنفی تخصیص روا رکھی گئی ہے، یا یہ کہ عورت کو آدھے مرد کے برابر قرار دیا گیا ہے، یہ کہاں کا انصاف ہے کہ مرد کو دوحصے دیئے جائیں اور عورت کو ایک، جب کہ عورت زیادہ قابل رحم اور مالی اعانت کی زیادہ مستحق ہے۔ وہ مردوں کی طرح تجارت وزراعت نہیں کرسکتی۔ شوہر کی دست بستہ غلام ہے۔ بچوں کی پرورش کرنے والی ہے۔ علاوہ ازیں وضع حمل کی تکلیف اور رضاعت کی محنت ومشقت اسے بالکل ناتواں کردیتی ہے۔ اس لیے اس کا حصہ ہونا تو زیادہ چاہیے تھا، اور اگر زیادہ نہیں کم از کم برابر تو ضرور ہونا چاہیے تھا۔

ان اعتراضات کی وجہ کم علمی اور ہمارے ہاں عورت کی ابتر معاشی حالت ہے،اور اس کا سبب اسلامی نظام میراث نہیں، بلکہ ہمارا معاشرہ ہے۔ جس معاشرے میں آج تک عملی زندگی میں عورت کے حق وراثت کو تسلیم نہیں کیا گیا ہے، اور عموماً عورتوں کو ان کے حق سے محروم رکھا جاتا ہے، خصوصاً بیٹیاں پرایا دھن سمجھی جاتی ہیں، لہٰذا انھیں بوقت شادی جہیز کی صورت میں کچھ دے دلا کر رخصت کردیا جاتا ہے اور انھیں خاندانی جائیداد اور وراثت میں حصہ نہیں دیا جاتا۔ حالانکہ ایسا کرنے والا صریحاً اللہ اوراس کے رسولؐ کے احکام کی نافرمانی کا مرتکب ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کے اس نظام کی مصالح اور حکمتوں کو کماحقہٗ سمجھنا، ہماری ناتواں عقل سے باہر ہے۔ بایں ہمہ ہمارے خیال میں اس حکم کی مصلحتیں حسب ذیل ہوسکتی ہیں:

۱- اسلام میں عورت کا حصۂ میراث نصف مقرر کرنے میں اللہ تعالیٰ کی عظیم حکمت کارفرما ہے۔ اس سلسلے میں پہلی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مرد کو دوگنا حصہ اس کی ذمہ داریوں کی وجہ سے دیا ہے۔ کیونکہ زندگی میں زیادہ تر معاشی، تعلیمی اور تربیتی ذمہ داریاں بنیادی طور پر مردوں پر ہیں، جن سے عورت بالکل مستثنیٰ ہے، بلکہ خود عورت کی اپنی کفالت کا بار بھی شادی سے پہلے اس کے سرپرست پر رکھا گیا ہے اور شادی کے بعد خاوند یا اس کی اولاد پر۔ ایسی صورت میں دونوں کو مساوی حقوق دینا کسی طرح قرین انصاف نہ تھا۔ نامور مفکر محمد قطبؒ لکھتے ہیں: اسلام کا قانون یہی ہے کہ میراث میں مرد کا حصہ عورت سے دوگنا ہے۔ یہ بالکل فطری اور منصفانہ تقسیم ہے کیونکہ عورت پر مالی ذمہ داریوں کا بوجھ نہیں ہوتا۔ دوسرے انداز سے دیکھیے: کل ورثے کا ایک تہائی عورت(بیٹی) کو صرف اپنی ذات کے لیے ملتا ہے، جب کہ باقی دوتہائی مرد (بیٹے) کو دیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنے بیوی بچوں اور خاندان کی ضروریات پوری کرے۔ اس سے ظاہر ہے کہ وراثت کا بیشتر حصہ کس کو ملتا ہے عورت کو یا مرد کو۔

مرد خاندان کی معاشی ذمہ داریاں پوری کرنے کا پابند ہے۔ اگر وہ بیوی کو نان و نفقہ دینے سے انکار کردے یا آمدنی کے لحاظ سے اس کو کم خرچہ دے، تو بیوی ذاتی طور پر مال دار اور صاحب ِحیثیت ہونے کے باوجود بھی اس کے خلاف مقدمہ دائر کر کے نان ونفقہ کا مطالبہ کر سکتی ہے۔ اس لیے کہ مرد کو گھرانے کا سربراہ ہونے کی وجہ سے جو ذمہ داریاں پوری کرنا پڑتی ہیں، ان کا تقاضا ہے کہ اسے وراثت میں زیادہ حصہ دیا جائے۔

۲- میراث میں آدھے حصے کی تلافی بھی اسلام کرتا ہے۔ وہ اس طرح کہ ایک تو بیوی کو شوہر سے مہر دلواتا ہے جو کہ بلا شرکت غیرے صرف اسی کا ذاتی حق ہے۔ دوسرے یہ کہ شادی میں جو مال وزر اور تحفے تحائف دیے جاتے ہیں، اس کی مالک بھی وہ خود ہی ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر اس کے پاس کوئی جائیداد وغیرہ ہے، تو وہ صرف اسی خاتون کاحق ہے، کوئی اسے اس کے خاوند یا بچوں پر خرچ کرنے پر مجبور نہیں کرسکتا، جب کہ مرد قانونًا اپنے حصے کے مال و دولت کو دوسروں پر خرچ کرنے کا پابند ہے۔ماں باپ کی طرف سے ملنے والا حصہ بھی ذاتی طور پر اسے مل جاتا ہے اور اسے اپنے بچوں یا شوہر کی کفالت بھی نہیں کرنی پڑتی۔

۳- قانون وراثت میں اصل اہمیت چونکہ نسب کو دی جاتی ہے، اس لیے اس ضابطے کے تحت ضروری نہیں کہ مرد کو زیادہ حصہ ہی ملے۔ یہ عین ممکن ہے کہ ایک عورت مورث (میت) سے قریبی تعلق رکھتی ہو اور اس مرد سے زیادہ حصہ پائے جو مورث کا دور کا رشتہ دار ہے۔ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ عورت اپنے خاندان(والدہ، والد، بھائی، بہن وغیرہ) سے بھی وراثت میں حصہ پاتی ہے اور اپنے خاوند کے خاندان (خاوند اور اپنے بیٹے، بیٹیوں وغیرہ) سے بھی۔

۴- اصولی طور پر اسلام نے عورتوں کو سماج میں مردوں کے مساوی حیثیت دی، اور وراثت کا مستحق ٹھیرایا۔ اسلام کی جانب سے عورتوں کی مزید عزت افزائی کا مظہر یہ ہے کہ اس نے تقسیمِ میراث میں حصۂ نسواں کو اصل پیمانہ قرار دیا ہے اور اس کی نسبت سے مردوں کا حصہ بیان کیا ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:يُوصِيكُمُ اللهُ فِيْٓ  أَوْلَادِكُمْ ق لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ ج (النساء ۴: ۱۱) ’’تمھاری اولاد کے بارے میں اللہ تمھیں ہدایت کرتا ہے کہ مرد کا حصہ دوعورتوں کے برابر ہے‘‘۔

قرآن کی یہ تعبیر قابلِ غور ہے۔ یوں بھی کہا جاسکتا تھا کہ عورت کے لیے مرد کے حصہ کا نصف ہے یا دو عورتوں کو ایک مرد کے برابر حصہ ملے گا۔لیکن اس کے بجائے یہ کہا گیا کہ مرد کے لیے دو عورتوں کے حصے کے برابر ہے۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ قرآن کی نظر میں میراث میں لڑکی کا حصہ اصل ہے، اسی لیے اسے تقسیم میراث کے معاملے میں پیمانہ اور بنیاد بنایا گیا ہے۔

پھر یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ مستحقینِ میراث میں کچھ لوگ وہ ہیں جو دوسرے وارثین کی موجودگی میں میراث سے بالکلیہ محروم ہوجاتے ہیں، مثلاً: بھائی جو باپ کی موجودگی میں محروم رہتا ہے۔ اور بعض لوگ وہ ہیں جو محروم تو نہیں ہوتے البتہ ان کا حصہ کم ہوجاتا ہے۔ چھ وارثین ایسے ہیں جو کسی بھی حال میں بالکلیہ میراث سے محروم نہیں ہوتے: شوہر، بیٹا، باپ، بیوی، بیٹی اور ماں۔ اس فہرست میں اگر تین مرد ہیں تو تین عورتیں بھی ہیں۔

اس کے علاوہ میراث میں اصحاب الفروض کے جو حصے متعین کیے گئے ہیں، ان کے مستحقین میں عورتوں کی تعداد مردوں کے مقابلے میں تین گنا ہے۔

نیز تقسیمِ میراث کے متعدد حالات ایسے ہیں جن میں عورت کا حصہ مرد کے برابر ہوتا ہے اور ان کے درمیان کوئی تفریق نہیں ہوتی۔ جیسے: نرینہ اولاد کی موجودگی میں ماں باپ میں سے ہرایک کو چھٹا حصہ ملے گا۔ میت کے اصول(باپ دادا ) اور فروع (بیٹا، بیٹی، پوتا، پوتی…) میں سے کوئی نہ ہو اور اس کے اخیافی (ماں شریک) بہن بھائی ہوں تو سب ایک تہائی میں برابر کے حصہ دار ہوں گے۔نیز بعض حالات میں حقیقی بہن اتنا ہی حصہ پاتی ہے جتنا حقیقی بھائی مستحق بنتا ہے۔

ان صورتوں کے علاوہ جن میں عورت کا حصہ مرد سے زیادہ یا اس کے برابر ہوتا ہے، صرف درج ذیل حالتوں میں ہی عورت کا حصہ مرد کا نصف ہوتا ہے۔جیسے: اولاد اور شوہر یا بیوی کی عدم موجودگی میں ماں کا حصہ ایک تہائی ہوتا ہے اور بقیہ کا مستحق باپ قرار پاتاہے۔

•          میاں بیوی میں سے کوئی ایک وفات پاجائے اور دوسرے کو چھوڑ جائے تو عورت یعنی بیوی کا حصہ مرد یعنی شوہر کے مقابلے میں نصف ہوتا ہے۔

•          اگر میت کی اولاد بیٹے بیٹیاں یا پوتے پوتیاں(تا آخر) ہوں تو ان کے درمیان میراث اس طرح تقسیم ہوگی کہ ہر ایک لڑکے کو دو لڑکیوں کے برابر حصہ ملے گا۔

•          اسی طرح اگر میت کے حقیقی یا باپ شریک بھائی بہن ہوں تو ان کے درمیان بھی میراث اس طرح تقسیم ہوگی کہ ہر مرد کو دو عورتوں کے برابر حصہ ملے گا۔

بایں ہمہ شریعت اسلامیہ کے پورے قانون میں معاشی، معاشرتی اور قانونی ذمہ داریوں کا بار چونکہ زیادہ تر مرد پر ہی عائد کیا گیا ہے، اس لیے عورت کو مرد کے مقابلے میں اکثر اوقات نصف حصہ یا نصف رقبہ دیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر وراثت، دیت اور قانون شہادت وغیرہ میں عورت کا حصہ کئی جگہ مرد کے مقابلے میں نصف رکھا گیا ہے، مگر اس کا مطلب عورت کے درجے اور رُتبے میں کمی ہرگز نہیں، بے شمار دوسرے مواقع پر عورت کا درجہ زیادہ یا مساوی رکھا گیا ہے۔ مثلاً علم و عمل اور اُخروی اجروثواب کے حصول میں دونوں میں کوئی فرق نہیں، جب کہ خدمت واطاعت میں اولاد کے لیے والدہ کا درجہ زیادہ ہے۔ اولاد میں سے دُختری اولاد کی پرورش، تربیت اور نگہداشت پر لڑکوں کی نسبت زیادہ اجر وثواب ہے۔ علاوہ ازیں بہت سے مقامات پر اللہ تعالیٰ نے عورت کا درجہ مرد سے بڑھادیا ہے۔ اس طرح شریعت نے دونوں کے مابین توازن اور اعتدال قائم رکھا ہے جو کہ صحت مند معاشرے کے لیے ضروری ہے۔

پاکستانی سماج میں خواتین کی میراث کی عملی صورت حال

اسلام کی مندرجہ بالا تعلیمات کی روشنی میں اگر ہم اپنے معاشرے کا عمومی جائزہ لیں تو ہمارے ہاں عملی صورت حال بہت مختلف اور ظالمانہ ہے۔ بیٹی اور بہن کو وراثت سے محروم کرنے کے لیے نہایت افسوس ناک حیلے اور ہتھکنڈے اختیار کیے جاتے ہیں۔ پنجاب اور سندھ میں عام طور پر شادی کے موقع پر بیٹی کو جہیز کے نام پر ترکہ سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ معاشرتی جبر اس حد کو پہنچا ہے کہ بے چاری اسی کو اپنا نصیب مان کر خاموش رہتی ہے اور کبھی مطالبہ کرنے کا سوچتی بھی نہیں۔ اگر کہیں اس بات کا امکان ہو کہ سسرال کی طرف سے دباؤ ڈالے جانے پر بے چاری کہیں مطالبہ ہی نہ کر دے تو اس کا انتظام اس طرح کیا جاتا ہے کہ شادی سے پہلے یا بعد میں اس سے لکھوا لیا جاتا ہے کہ اس نے اپنا حصہ بھائیوں یا بیٹوں کو بخش دیا ہے اور کبھی حق کا دعویٰ نہیں کرے گی۔

پاکستان کی مختلف برادریوں میں عورت کو جائیداد سے محروم رکھنے کے لیے جو ظالمانہ حیلے اختیار کیے جاتے ہیں، ان کی ایک جھلک یوں ملاحظہ کی جاسکتی ہے:جاگیر دار خاندانون میں لڑکیوں کی شادیاں چچا یا تایا زاد بھائیوں سے کی جاتی ہیں تاکہ وراثت کے ذریعے ان کی زمینیں خاندانوں سے باہر نہ جاسکیں۔ کبھی لڑکی کو ایسے ہم نثراد سے بیاہ دیا جاتا ہے جو عمر میں اس سے چھوٹا ہوتا ہے یا بالکل بھی صحیح جوڑ نہیں ہوتا۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں تو لڑکوں کی موجودگی میں عورتیں زمین کی وارث نہیں بن سکتیں، اور باپ کی طرف سے بیٹیوں کے لیے غیر منقولہ جائیداد حاصل کرنے کا کوئی رواج نہیں۔ اسی طرح بیواؤں کے لیے الگ سے وراثت کا کوئی تصور نہیں؛ عموماً انھیں جائیداد میں وارث کی حیثیت سے قبول نہیں کیا جاتا۔ صوبہ بلوچستان میں ہزارہ جاتوں اور نوآباد لوگوں میں لڑکیوں کو جائیداد میں حصہ دیا جاتا ہے لیکن اس کا تمام کنٹرول چچاؤں کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ پھر ان علاقوں میں عورتیں باپ کی جائیداد میں حصہ لے سکتی ہیں لیکن عملاً سماج اسے قبول نہیں کرتا تو انھیں اپنے حصے سے دست بردار ہونا پڑتا ہے۔ بیواؤں کی جائیداد ہتھیانے کے لیے انھیں سسرال میں دوبارہ شادی کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

خلاصہ یہ کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں قانونی طور پر (۱۹۶۲ء سے ) اسلامی قانون کی روشنی میں عورت کا حقِ میراث تسلیم کیے جانے کے باوجود خواتین کے لیے میراث کے حوالے سے کوئی سہولیات پیدا نہیں کی گئیں۔ دوسری طرف دینی اداروں کی طرف سے اس حوالے سے شعور وآگہی فراہم کرنے کی سنجیدہ اور قابل ذکر کوشش نہیں کی گئی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نبی کریمؐ کی تعلیمات پر عمل کیا جائے اور ان کو قابل عمل بنا کر پیش کیا جائے۔ من جملہ ان تعلیمات کے خواتین کا حق میراث بھی ہے؛ جسے عام کرنا اور عملی زندگی میں رُوبہ عمل لانا بھی حقوقِ مصطفےٰ ؐ میں داخل ہے۔