غفیرہ قادر


سرینگر، بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مکھن دین نامی نوجوان ضلع کٹھوعہ، کشمیر کی ایک خالی مسجد میں کھڑا اپنے موبائل فون پر آخری ویڈیو پیغام ریکارڈ کر رہا ہے۔سر پر ٹوپی اور نیلے اور سفید رنگ کی اسپورٹس جیکٹ پہنے، یہ ۲۵سالہ باریش نوجوان کہتا ہے: ’’میں اپنی جان ’قربان‘ کرنے جا رہا ہوں تاکہ خطّے میں کسی اور کو پولیس کے ’تشدد‘ کا سامنا نہ کرنا پڑے‘‘۔ پولیس نے اس پر ’شدت پسندوں سے وابستگی‘ کا شبہ ظاہر کیا تھا۔ —یہ وہ اصطلاح ہے جو بھارتی حکمرانی کے خلاف برسرِ پیکار نوجوانوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

۵ فروری کو ریکارڈ کیے گئے اس چار منٹ کے دھندلے ویڈیو کلپ کے درمیان، اس نوجوان کو ایک شیلف سے قرآن اٹھاتے اور اسے اپنے سر پر رکھ کر قسم کھاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے کہ ’’میں نے کبھی کسی باغی کو نہیں دیکھا‘‘۔ وہ بیان کرتا ہے کہ پچھلی رات پولیس حراست میں اس پر کیا بیتی۔ پھر وہ قرآن کو واپس رکھ دیتا ہے اور مسلسل دعا کرتا رہتا ہے۔

’’میں مر جاؤں گا تاکہ میرے بعد دوسرے لوگ بچ جائیں۔ یااللہ! میری قربانی قبول فرما۔ میری فیملی کو ہمیشہ خوش رکھ، یا اللہ! مجھے قبر کے عذاب سے بچا… تو سب کچھ دیکھ رہا ہے… فرشتے بھیج جو میری روح مسجد سے لے جائیں۔ یااللہ! مجھے معاف کر دے‘‘۔وہ اتنا کہہ کر کیمرہ بند کر دیتا ہے۔

۷ فروری کو جاری کردہ ایک بیان میں، کشمیر پولیس نے دعویٰ کیا کہ: مکھن دین کے پاکستان اور دیگر غیر ملکی ممالک میں متعدد مشکوک روابط تھے۔ اس پر تشدد نہیں کیا گیا۔ اس سے تفتیش کی گئی، وہ گھر گیا، اور خودکشی کرلی۔ جموں ضلعی انتظامیہ دین کی خودکشی اور مبینہ تشدد کی تحقیقات کر رہی ہے۔

دوسری جانب، دین کا ویڈیو پیغام خطے کے اندر اور باہر لاکھوں موبائل فونز اور ٹی وی اسکرینوں تک پہنچ چکا تھا، جس نے کشیدگی کو بڑھا دیا اور وادیٔ کشمیر میں ہونے والے تشدد اور دیگر مظالم کی تلخ یادیں تازہ کر دیں۔ یہ وہ خطّہ ہے جہاں عشروں سے مسلح بغاوت جاری ہے۔

۱۹۴۷ء میں برطانوی راج سے آزادی اور تقسیم کے بعد، پورے کشمیر پر انڈیا اور پاکستان کے درمیان اس پر تنازعہ پیدا ہوا۔ دونوں جوہری طاقتوں نے اس متنازع علاقے پر تین بڑی جنگیں لڑی ہیں اور اس کی برف پوش سرحدوں پر دسیوں ہزار فوجی تعینات ہیں۔ انڈیا، پاکستان پر الزام لگاتا ہے کہ وہ بھارتی کشمیر میں جاری بغاوت کو تربیت اور مدد فراہم کرتا ہے۔ تاہم، اسلام آباد اس الزام کو مسترد کرتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ صرف بین الاقوامی سطح پر سفارتی حمایت فراہم کرتا ہے۔ انڈیا نے وادیٔ کشمیر میں۵[۸] لاکھ سے زائد فوجی تعینات کر رکھے ہیں، جس سے یہ دنیا کے سب سے زیادہ عسکری علاقوں میں سے ایک بن چکا ہے۔ انڈین افواج کو وہاں خصوصی اختیارات اور استثنا حاصل ہے تاکہ وہ بغاوت کو کچل سکیں۔

مقامی باشندے کہتے ہیں کہ ۲۰۱۹ء کے بعد سے نئی دہلی نے خطے پر اپنی گرفت مزید سخت کر دی ہے، جس سال نریندر مودی کی حکومت نے بھارتی آئین کے آرٹیکل ۳۷۰ [اور ۳۵-اے] کو منسوخ کر دیا، جو بھارتی کشمیر کو کچھ حد تک خودمختاری دیتا تھا، اور خطے کو دو وفاقی علاقوں —جموں و کشمیر اور لداخ —میں تقسیم کر دیا۔ حکومت نے دعویٰ کیا کہ ’’اس اقدام سے خطے میں ’معمول کی صورتِ حال‘، امن اور ترقی آئے گی‘‘، لیکن کشمیریوں کو خدشہ ہے کہ نئی دہلی کی طرف سے بنائے گئے نئے قوانین اور پالیسیوں کا مقصد مسلم اکثریتی آبادی کے تناسب کو بدلنا ہے۔

۲۰۱۹ء کے اس اقدام کے بعد مہینوں تک سکیورٹی لاک ڈاؤن اور عوامی احتجاج پر پابندی بھی عائد کر دی گئی، جب کہ ہزاروں افراد، —طلبہ، وکلاء، کارکنان، حتیٰ کہ بھارت نواز سیاست دان بھی —جیلوں میں ڈال دیے گئے۔ لیکن پانچ سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود، اس خطّے کی بے چین سڑکوں پر حقیقی امن تاحال نظر نہیں آتا۔

مگر مکھن دین کا مبینہ پولیس تشدد کے بعد خودکشی کا واقعہ شہریوں میں خوف کو مزید بڑھا رہا ہے۔ ایک ۲۲ سالہ نوجوان نے، جو انتقامی کارروائی کے خوف سے نام ظاہر نہیں کرنا چاہتا، کہا: ’’یہ خوفناک تھا کہ ایک شخص نے خودکشی جیسا انتہائی قدم اٹھایا، حالانکہ وہ جانتا تھا کہ یہ ایک سنگین گناہ ہے۔ ہمارا مذہب [اسلام] ہمیں اس عمل سے سختی سے روکتا ہے‘‘۔

اس نوجوان نے مزید کہا کہ ’’دین کے اس دل دہلا دینے والے اقدام نے میرے اعتماد کو ہلاکر رکھ دیا ہے‘‘۔میں اس تکلیف کا تصور بھی نہیں کر سکتا جو اس نے برداشت کی ہوگی۔ ایسے واقعات کے بارے میں یہاں کم ہی بات کی جاتی ہے۔ زیادہ تر خبریں اب زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہتیں۔ کشمیر میں وقت بدل چکا ہے‘‘۔’’یہ درحقیقت ایک اختتام کا آغاز ہے‘‘۔

مکھن دین کی خودکشی کے اگلے ہی دن، ۳۲ سالہ وسیم احمد میر، جو شمالی کشمیر کے ضلع سوپور سے تعلق رکھنے والا ایک ٹرک ڈرائیور تھا، بھارتی فوج کے ہاتھوں گولی کا نشانہ بنادیاگیا۔ فوج کے بیان کے مطابق: وسیم میر نے سری نگر -بارہ مولہ ہائی وے پر ایک سکیورٹی چوکی عبور کی اور رُکنے کے احکامات کو نظرانداز کیا۔ فوج نے دعویٰ کیا کہ ٹرک کا ۲۳ کلومیٹر تک پیچھا کرنے کے بعد اسے گولی مار دی گئی۔تاہم، میر کے اہلِ خانہ نے فوج کے اس موقف کو مسترد کر دیا۔

فوج کہتی ہے کہ انھوں نے ۲۳ کلومیٹر تک پیچھا کیا، جب کہ [سپرنٹنڈنٹ آف پولیس] نے ہمیں بتایا کہ تعاقب ۳۵ کلومیٹر تک کیا گیا۔ ہم یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ جب اسے سری نگر جانا تھا تو گاڑی مخالف سمت بارہ مولہ کی طرف کیوں جا رہی تھی؟” میر کے ایک کزن نے انڈین ایکسپریس اخبار کو بتایا، اور فوج اور پولیس کے بیانات میں تضاد کی نشاندہی کی: اس کے کپڑے مٹی میں لت پت تھے۔ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ کیا اسے مارا یا تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا، قتل سے پہلے؟‘‘

بے پناہ خوف

بھارتی فورسز کے مبینہ مظالم کے نتیجے میں ان دو عام شہریوں کی ہلاکت ایسے وقت میں ہوئی جب ۵۰۰ سے زائد کشمیریوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ یہ گرفتاریاں ۳ فروری کو ’’جنوبی کشمیر کے کولگام میں ایک ریٹائرڈ فوجی افسر کے قتل کے بعد عمل میں آئیں، جسے مشتبہ باغیوں نے گولی مار دی تھی، جب کہ اس کی بیوی اور بھانجی زخمی ہو گئی تھیں۔

قتل کے بعد حکام نے جنوبی کشمیر کے کئی اضلاع میں نوجوانوں کو پکڑنا شروع کر دیا، جن میں سے زیادہ تر پہلے ہی حکومت مخالف احتجاج یا مسلح بغاوت میں ملوث ہونے کے الزامات کا سامنا کر چکے تھے۔ مختلف سکیورٹی چوکیوں پر گاڑیوں اور لوگوں کی تلاشی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔

پلوامہ کے ایک ۲۱ سالہ نوجوان نے بتایا:’’حالیہ کریک ڈاؤن کے بعد میں خوف زدہ ہوں، کیونکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم اپنے ہی کشمیر میں سکون سے نہیں زندہ رہ سکتے۔ یا تو ہمیں مسلسل خوف میں رہنا ہوگا، یا پھر یہاں سے چلے جانا ہوگا۔ آپ کبھی نہیں جان سکتے کہ کب اور کس وقت فوج آکر آپ کو اٹھا لے، اور پھر آپ کو بے گناہ ہونے کے باوجود تکلیف اٹھانی پڑے‘‘۔

اس نوجوان نے مزید کہا:’’یہاں بہت زیادہ خوف ہے۔ کئی نوجوانوں کو فوجی کیمپوں سے کالیں آ رہی ہیں، انھیں ’طلب‘ کیا جا رہا ہے۔ یہ سب انتہائی دہشت زدہ کر دینے والا ماحول ہے۔

اُوپر سے، گھریلو دباؤ بھی ہے۔ ہمارے خاندان خوف زدہ ہو جاتے ہیں۔ جب کوئی گھر سے نکلتا ہے، تو یہ یقینی نہیں ہوتا کہ وہ پھر واپس آئے گا یا نہیں؟ اگر ہمیں یہاں رہنا ہے، تو ہمیں ہروقت تیار رہنا ہوگا کہ جب وہ بلائیں، ہم فوراً حاضر ہو جائیں‘‘۔

صحافتی حلقوں کی جانب سے کئی ایسے افراد سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی جو حالیہ دنوں میں حراست میں لیے گئے تھے یا جن سے پوچھ گچھ ہوئی تھی، لیکن ایسے نوجوانوں نے ’نتائج‘ کے خوف سے میڈیا سے بات کرنے سے انکار کر دیا۔

ایک سابقہ حراستی قیدی نے کہا:’’مجھے نہیں معلوم کہ میں کیسے رہا ہوا؟ میرا ذہن فی الحال آزاد ہے، لیکن اگر میں بات کروں گا، تو ایک اور خوف اور پریشانی میں مبتلا ہو جاؤں گا۔ مجھے دوبارہ پکڑ لیا جائے گا، کیونکہ میں نے آپ سے بات کی ہے‘‘۔

۵۰۰؍افراد کی حراست: قانون کی خلاف ورزی؟

جنوبی کشمیر کے شوپیاں ضلع سے تعلق رکھنے والے وکیل اقبال نے کہا کہ ’’پولیس کو کسی کو بھی ’شک‘ کی بنیاد پر حراست میں لینے کا اختیار حاصل ہے، لیکن یہ حراست ۲۴ گھنٹوں سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔ اس دوران، مشتبہ شخص کو عدالت میں پیش کرنا اور گرفتاری کی وجوہ اس کے اہل خانہ کو بتانا ضروری ہوتا ہے۔۵۰۰ کے قریب لوگوں کو حراست میں لینا، جیسا کہ رپورٹ کیا گیا ہے، قانون کی صریح خلاف ورزی اور پولیس کے اختیارات کے ناجائز استعمال کی مثال ہے۔ ہم نے بارہا دیکھا ہے کہ زیرِ حراست افراد کے حقوق اور ان کے لیے دستیاب قانونی تحفظات کی خلاف ورزی کی جاتی ہے‘‘۔

ممبئی کے مصنف اور انسانی حقوق کے کارکن رام پونیانی نے کہا:’’پولیس محض شک کی بنیاد پر اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو حراست میں نہیں لے سکتی۔ ضرور کوئی قانونی اصول ہوگا جس کی وہ خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ مگر یہ تو واضح طور پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے‘‘۔

’ہمارا خون سستا نہیں‘

عام شہریوں کی اموات اور بڑے پیمانے پر گرفتاریوں نے کشمیری سیاستدانوں میں بھی شدید غم و غصہ پیدا کر دیا ہے، جنھوں نے نئی دہلی کے اس دعوے پر سوال اٹھایا ہے کہ’’اگست ۲۰۱۹ء کے بعد کشمیر میں معمول کی صورتِ حال بحال ہو چکی ہے‘‘۔

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی رہنما التجا مفتی نے بیان دیا: ’’خدشہ یہ ہے کہ پولیس وہی قانون توڑ رہی ہے جس کی وہ حفاظت کرنے کی پابند ہے۔ نتیجتاً، لوگ پولیس ہی سے خوف زدہ ہیں، نہ کہ عسکریت پسندوں سے۔ یہ ایک انتہائی بگڑا ہوا نظام ہے‘‘۔

۲۰۱۹ء کے بعد کشمیر میں وزیر اعلیٰ کے اختیارات کو سختی سے محدود کر دیا گیا ہے، اور اب پولیس براہِ راست وفاقی حکومت کے کنٹرول میں ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے چیئرمین آکار پٹیل نے کہا کہ بھارتی حکومت کشمیریوں کے انسانی حقوق میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی۔

بھارتی پارلیمنٹ میں کشمیری رکنِ پارلیمان شیخ عبدالرشید نے وسیم میر اور مکھن دین کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا:’’ہمارا خون سستا نہیں‘‘، ’’ہمیں بھی جینے کا حق حاصل ہے‘‘۔