ڈاکٹر احمد عروج مدثر


ہر قسم کی بڑائی اور فخر صرف اللہ رب العالمین کے لیے ہے، جو زمین و آسمان کا مالک، جن و انس، نباتات و جمادات، حیوانات و حشرات کا خالق، یومِ جزا کا منصف اور مٰلِكِ يَوْمِ الدِّينِ ہے۔ وہ ذات جو ہر شے پر قادر، ہر دل کے بھید سے واقف اور ہر عمل کا حساب لینے والی ہے۔ جب انسان کو خالق نے مٹی سے بنایا، وہ مٹی میں لوٹ جائے گا اور اسی مٹی سے دوبارہ اٹھایا جائے گا، تو اسے کس بات کا گھمنڈ؟  مِنْہَا خَلَقْنٰكُمْ وَفِيْہَا نُعِيْدُكُمْ وَمِنْہَا نُخْرِجُكُمْ تَارَۃً اُخْرٰى۝۵۵ (طٰہٰ۲۰: ۵۵) ’’ہم نے تمھیں اسی زمین سے پیدا کیا، اسی میں تمھیں واپس کریں گے اور اسی سے تمھیں دوبارہ نکالیں گے‘‘۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اِنَّہٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْـتَكْبِرِيْنَ۝۲۳ (النحل۱۶:۲۳) ’ ’وہ ہرگز ان لوگوں کو پسند نہیں فرماتا جو تکبر اور غرور میں مبتلا ہوں‘‘۔  

 یہ زمین کئی متکبروں کے انجامِ بد کی گواہ ہے، جن کو اللہ نے رہتی دنیا تک عبرت کا نشان بنا دیا۔ وَقَارُوْنَ وَفِرْعَوْنَ وَہَامٰنَ۝۰ۣ وَلَقَدْ جَاۗءَہُمْ مُّوْسٰي بِالْبَيِّنٰتِ فَاسْتَكْبَرُوْا فِي الْاَرْضِ وَمَا كَانُوْا سٰبِقِيْنَ۝۳۹ۚۖ (العنکبوت۲۹:۳۹) ’’اور قارون و فرعون و ہامان کو ہم نے ہلاک کیا موسٰی اُن کے پاس بیّنات لے کر آیا مگر انھوں نے زمین میں اپنی بڑائی کا زعم کیا حالانکہ وہ سبقت لے جانے والے نہ تھے‘‘۔ 

 اللہ رب العزت نے اپنے صالح بندوں کے لیے حضرت لقمان علیہ السلام کی نصیحت کے انداز میں ارشاد فرمایا: وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا۝۰ۭ اِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْـتَالٍ فَخُــوْرٍ۝۱۸ۚ وَاقْصِدْ فِيْ مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ۝۰ۭ اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيْرِ۝۱۹ۧ (لقمان۳۱: ۱۸-۱۹)’’اور لوگوں سے منہ پھیر کر بات نہ کر، نہ زمین میں اکڑ کر چل، اللہ کسی خود پسند اور فخر جتانے والے شخص کو پسند نہیں کرتا۔ اپنی چال میں اعتدال اختیار کر، اور اپنی آواز ذرا پست رکھ، سب آوازوں سے زیادہ بُری آواز گدھوں کی آواز ہوتی ہے‘‘۔ 

 اسی طرح سورۂ فرقان میں ارشاد ہے: وَعِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِيْنَ يَمْشُوْنَ عَلَي الْاَرْضِ ہَوْنًا  (الفرقان۲۵:۶۳) ’’رحمٰن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر نرمی اور انکساری سے چلتے ہیں‘‘۔ تکبر کی جڑ ایمان کی کمزوری اور دل سے اللہ کی عظمت کا شعور ختم ہونا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہو، اور وہ شخص جہنم میں نہ جائے گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو‘‘۔ (سنن ابن ماجہ: ۴۱۷۳)  

تکبر کی صورتیں 

  • علم کا غرور: علم کا غرور انسان کو اس فریب میں مبتلا کر دیتا ہے کہ وہ کامل ہو گیا ہے۔ حالانکہ علم کی حفاظت کرنے والا دماغ خود اس کی صحت کی ضمانت نہیں رکھتا۔ چند کتابوں کا مطالعہ کرلینے سے بعض افراد دوسروں کو حقیر سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ رویہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ علم سے حقیقی طور پر فیض یاب نہیں ہوئے۔ سچا علم تو وہی ہے جو انسان کو عاجزی سکھائے اور اسے اللہ کی بندگی کی طرف راغب کرے۔ جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’علم عاجزی پیدا کرتا ہے، اور جہالت تکبر‘‘۔ 
  • عبادت کا غرور: یہ غرور بڑے بڑوں کو تباہ کر دیتا ہے۔ جب کوئی شخص خود کو عظیم عابد سمجھنے لگتا ہے، تو اس کی شخصیت اور عبادت کا زوال شروع ہو جاتا ہے۔ وہ عبادت جو فخر جتانے کے لیے کی جائے، اللہ کے حضور مقبول نہیں ہوتی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’تین چیزیں ہلاکت کا باعث ہیں: چھپی ہوئی خواہش، حرص کی پیروی اور اپنی ذات پر فخر‘‘۔ (شعب الإيمان: ۵۵۳۹)  

عبادت کا مقصد صرف قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۝۱۶۲ۙ (الانعام۶: ۱۶۲) ’’کہو، میری نماز، میرے تمام مراسمِ عبودیت، میرا جینا اور میرا مرنا، سب کچھ اللہ ربّ العالمین کے لیے ہے‘‘ ہونا چاہیے۔ ایسی عبادت سے معاشرے پر رحمت نازل ہوتی ہے، ورنہ عبادت کے غرور میں مبتلا شخص سے نحوست ٹپکتی ہے۔ مال و دولت، عہدہ و منصب، حُسن و جمال، یہ سب عارضی نعمتیں ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ یہ چیزیں کسی کے پاس مستقل نہیں رہتیں۔ خلفائے راشدین سے لے کر یزید اور حجاج تک، سخی و منصف سے لے کر ظالم و جابر تک، اقتدار ہر طرح کے لوگوں کے ہاتھ آیا، مگر نہ کوئی ہمیشہ قائم رہا اور نہ ہمیشہ اقتدار ان کے پاس رہا۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے: وَمَا الْحَيٰوۃُ الدُّنْيَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ۝۱۸۵ (اٰل عمرٰن۳:۱۸۵) ’’رہی یہ دُنیا تو یہ محض ایک ظاہر فریب چیز ہے‘‘۔ جو چیز فانی ہے، اس پر غرور صرف نادان ہی کر سکتا ہے۔  

  •  حسب و نسب کا غرور: حسب و نسب پر فخر کرنا بے معنی ہے۔ تاریخ میں ایسی کئی مثالیں ہیں کہ جن کا شجرہ امراء و رؤسا سے ملتا تھا، مگر وہ وقت کی ستم ظریفی یا ظلم کی وجہ سے نیست و نابود ہوگئے۔ آج کئی شہزادوں اور شہزادیوں کے شجرے مغلیہ سلاطین سے ملتے ہیں، مگر وہ بنگال کی کچی بستیوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔حسب و نسب کی بڑائی پر غرور بے معنی عمل ہے۔  
  •  صلاحیتوں کا غرور: عصرِ حاضر میں بعض لوگ اپنے خیالات اور تصوّرات کو کلیدی سمجھ کر فخر کرتے ہیں۔ وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ ان کے مشورے کے بغیر کوئی تدبیر کامیاب نہیں ہوسکتی۔ یہ مرض بڑی کمپنیوں سے لے کر چھوٹے بازاروں تک پھیلا ہوا ہے۔ اسی طرح بعض واعظ اپنی خطابت کو ہی محراب و منبر کی روح سمجھتے ہیں۔ صلاحیتوں پر غرور بھی نقصان دہ ہے۔ ہماری صلاحیتیں اللہ کی امانت ہیں، جنھیں اخلاص اور ریاکاری سے پاک ہو کر ادا کرنا ضروری ہے۔  
  • معاشرتی رجحانات میں تکبر: آج کے دور میں سوشل میڈیا اور معاشرتی دباؤ نے تکبر کی نئی صورتیں جنم دی ہیں۔ لوگ اپنی ظاہری شخصیت، لباس، طرزِ زندگی اور سماجی حیثیت کو نمایاں کر کے دوسروں پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ رجحانات انسان کو اپنی اصل حقیقت سے دور کر دیتے ہیں۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے: كَلَّآ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَيَطْغٰٓى۝۶ۙ اَنْ رَّاٰہُ اسْتَغْنٰى۝۷ۭ( العلق۹۶: ۶-۷)’’ہرگز نہیں، انسان سرکشی کرتا ہے اس بناپر کہ وہ اپنے آپ کو بے نیاز دیکھتا ہے‘‘۔ یہ گمانِ بے نیازی ہی انسان کو تکبر کی طرف لے جاتا ہے۔ 
  • تکبر کا نفسیاتی اور معاشرتی نقصان:تکبر نہ صرف روحانی زوال کا باعث ہے بلکہ نفسیاتی اور معاشرتی نقصانات کا بھی پیش خیمہ ہے۔ متکبر شخص اپنی خود ساختہ برتری کے خول میں بند ہو کر دوسروں سے دُوری اختیار کر لیتا ہے، جس سے اس کے رشتوں میں دراڑیں پڑتی ہیں۔ وہ اپنی رائے کو حتمی سمجھتا ہے اور دوسروں کی بات سننے کا روادار نہیں ہوتا ہے۔ یہ چیز اس کی شخصیت کو تنہائی اور خود پسندی کی دلدل میں دھکیل دیتی ہے۔ تکبر معاشرے میں نفرت اور دشمنی کو جنم دیتا ہے، کیونکہ لوگ اس شخص سے دوری اختیار کرتے ہیں جو اپنی بڑائی کا گرویدہ ہو۔  

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’متکبر شخص اسی طرح ذلیل ہوتا ہے جیسے پانی کے نیچے دبائی گئی چیز اوپر آنے کی کوشش کرتی ہے، مگر ناکام رہتی ہے‘‘۔ (مسند احمد:۱۲۳۴۵) اس لیے ہر مومن کو چاہیے کہ وہ اپنے دل کو تکبر سے پاک رکھے تاکہ معاشرتی ہم آہنگی اور روحانی سکون میسر رہے۔  

  •  تواضع کے ذریعے روحانی ترقی:تواضع صرف ایک اخلاقی خوبی ہی نہیں، بلکہ روحانی ترقی کا زینہ ہے۔ جب انسان اپنی کمزوریوں اور اللہ کی عظمت کا شعور رکھتا ہے، تو اس کا دل اللہ کی طرف جھکتا ہے۔ تواضع انسان کو دوسروں کے دُکھ درد کو سمجھنے اور ان کی مدد کرنے کا شعور عطا کرتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ اس کی روشن مثال ہے کہ آپ ؐنے غلاموں کے ساتھ ایک ہی دستر خوان پر کھانا کھایا اور اپنے جوتوں کی مرمت خود کی۔ آپ ؐنے فرمایا: ’’جو شخص اللہ کے لیے عاجزی کرتا ہے، اللہ اسے اسی قدر بلند کرتا ہے‘‘۔ (صحیح ابن حبان: ۵۹۴)  

تواضع کے ذریعے انسان نہ صرف اللہ کے نزدیک محبوب بنتا ہے، بلکہ معاشرے میں بھی عزّت و مقام پاتا ہے۔ یہ خوبی انسان کو اپنی اصلیت سے جوڑتی ہے اور اسے اللہ کی رحمت کا مستحق بناتی ہے۔  

غرور، گھمنڈ اور تکبر کی متضاد کیفیت تواضع و انکساری ہے، جو اللہ ربّ العزت کو بہت پسند ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ تواضع کی اعلیٰ مثال ہے۔ آپ ؐسادہ لباس پہنتے، زمین پر بیٹھتے، اپنے ہاتھوں سے کام کرتے اور کبھی اپنی عظمت کو نمایاں نہ کرتے۔ آپ ؐنے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے مجھے عاجزی اور انکساری اختیار کرنے کا حکم دیا، تاکہ کوئی کسی پر فخر نہ کرے‘‘۔ (مسنداحمد: ۱۷۱۴۴)  

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعا میں عاجزی و انکساری کا مظاہرہ فرماتے تھے۔ حدیث میں ہے کہ آپ ؐدعا فرماتے: ’’اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس علم سے جو نفع نہ دے، اس دل سے جو تیری بارگاہ میں عاجزی نہ کرے، اس دعا سے جو قبول نہ ہو، اس نفس سے جو کبھی سیر نہ ہو، اور اس بھوک سے جو بدترین ساتھی ہے۔ میں تیری پناہ مانگتا ہوں خیانت سے، سستی سے، بخل سے، بزدلی سے، بڑھاپے سے، اور اس عمر سے جو انسان کو بے توقیر کر دے۔ میں تیری پناہ مانگتا ہوں دجال کے فتنے، قبر کے عذاب اور حیات و موت کے ہر فتنے سے۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایسی دعا مانگتے ہیں جو تیرے حضور رجوع کرنے والی ہو، اور ایسے اعمال مانگتے ہیں جو تیری مغفرت کا سبب اور عذاب سے نجات کا ذریعہ ہوں۔ ہم ہر گناہ سے حفاظت اور ہر نیکی کی توفیق مانگتے ہیں جو جنت تک لے جائے اور جہنم سے نجات دلائے‘‘۔’’جو رضائے الٰہی کی خاطر تواضع اختیار کرتا ہے، اللہ عزوجل اسے بلندی عطا فرماتا ہے‘‘۔ (صحیح مسلم: ۲۵۸۸)  

  • تکبر سے بچنے کا راستہ: تکبر سے بچنے کا سب سے بڑا ذریعہ اللہ کی عظمت کا شعور اور اپنی حقیقت کا ادراک ہے۔ انسان کو ہر وقت یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وہ مٹی سے بنا اور مٹی میں لوٹ جائے گا۔ اس کی ہر نعمت، خواہ وہ علم ہو، مال ہو، حسن ہو یا منصب، اللہ کی عطا کردہ امانت ہے۔ اسے اس امانت کو شکر اور اخلاص کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص اپنے بھائی کے سامنے عاجزی کرتا ہے، اللہ اسے بلند کرتا ہے، اور جو تکبر کرتا ہے، اللہ اسے ذلیل کرتا ہے‘‘ (ابن ماجہ: ۴۱۷۴)۔ ہمیں ہر قسم کے تکبر سے بچنا چاہیے، خواہ وہ علم، مال،حُسن، صلاحیت یا منصب سے متعلق ہو۔ ہر نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے، عجز و انکساری اپنانا، اخلاص کے ساتھ عمل کرنا اور تکبر سے بچنے کی دعائیں مانگنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں تواضع کی دولت سے نوازے اور تکبر کے شر سے محفوظ رکھے، آمین!    

’نرگسیت‘ ایک ایسی نفسیاتی حالت ہے جو انسان کو اپنی ذات کے گرد گھما دیتی ہے۔ یہ کوئی نئی بیماری نہیں ہے، بلکہ انسانی فطرت کے عدم توازن سے پیدا ہونے والا ایک پرانا مرض ہے، جو ہر دور میں مختلف شکلوں میں سامنے آتا رہا ہے۔ آج کے دور میں انفرادی آزادی کے نام پر ہرفرد کی سوشل میڈیا تک آسان رسائی کی وجہ سے یہ مرض خطرناک حد تک پھیل رہا ہے۔ امریکی نفسیاتی جریدے Journal of Personality  (۲۰۲۳ء) کے ایک مطالعے کے مطابق، ۱۸ سے ۳۵سال کی عمر کے ۶۲ فی صد نوجوانوں میں ’نرگسیت‘ کی سطح بہت بلند پائی گئی، جو ۱۹۹۰ء کے عشرے کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے۔ ذیل میں ’نرگسیت‘ کی حقیقت، اس کی علامات، سماجی اور انفرادی اثرات اور قرآن و سنت کی روشنی میں اس کے تدارک پر بات کی جائے گی۔ 

نرگس (Narcissus) اصل میں یونانی پھر فارسی لفظ ہے، جو ایک قسم کے پودے اور پھول کا نام ہے جس میں صرف چھ پتیاں ہوتی ہیں اور وہ پیالے اور آنکھ سے بہت مشابہ ہوتا ہے۔ نرگس مجازاً پُرکشش آنکھ اور چشمِ محبوب کے لیے مستعمل ہے، جس کو علّامہ اقبال نے استعارتاً اپنے شعر میں یوں استعمال فرمایا: ’’ہزاروں سال نرگس اپنی بے نُوری پہ روتی ہے___ بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا‘‘۔ 

’نرگسیت‘ کا لفظ یونانی افسانوی کردار Narcissus سے نکلا ہے، جو اپنی خوب صورتی میں ڈوب کر ہلاک ہو گیا تھا۔ علمِ نفسیات میں اسے Narcissistic Personality Disorder کہا جاتا ہے۔ ’نرگسیت‘ انسانی فطرت میں موجود معمول کی خود پسندی نہیں، بلکہ ’نرگسیت‘ ایک ایسی ذہنی ساخت کو کہتے ہیں، جس میں انسان دوسروں کو اپنی توسیع سمجھتا ہے اور ان کی الگ حیثیت تسلیم نہیں کرتا۔ کیونکہ نرگسیت ایسی ذہنی حالت ہے جس میں فرد اپنے آپ کو فطری حد سے زیادہ اہمیت دیتا ہے اور وہ اپنی ذات میں اس قدر مشغول رہتا ہے کہ اسے دوسروں کے جذبات اور ضروریات کا خیال نہیں رہتا۔ یہ رویہ جب ایک حد سے زیادہ بڑھ جائے تو ایک نفسیاتی مرض بن جاتا ہے جو انسان کو اپنی حد سے زیادہ ستائش، خود فریفتگی، اپنی ذات، جسم یا صفات کے ساتھ غیرمعمولی لگائو کی وجہ سے خودپرستی اور انانیت تک پہنچا دیتا ہے۔ ’نرگسیت‘ زدہ شخص عموماً اپنی کامیابیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے اور اپنی غلطیوں کا الزام دوسروں پر ڈال دیتا ہے۔ اگرچہ عالمی سطح پر ۰ء۵ سے ایک فی صد تک آبادی اس مرض میں مبتلا ہے، لیکن یہ اعدادوشمار ’نرگسیت‘ کے شکار ۲۰ فی صد افراد پر مبنی ہیں کیوں کہ متاثرہ افراد میں سے جو تشخیص کے لیے کسی ڈاکٹر سے رجوع کرتے ہیں، ان کی شرح صرف ۲۰ فی صد تک پہنچتی ہے، جب کہ اکثروبیشتر متاثرہ افراد خود کو بیمار تسلیم ہی نہیں کرتے۔ 

یہ مرض بچپن سے جنم لیتا ہے۔ جب بچے کو بار بار یہ بتایا جائے کہ وہ سب سے خاص ہے، یا پھر اسے شدید تنقید کا سامنا ہو، تو دونوں صورتوں میں خود اعتمادی کا توازن بگڑ جاتا ہے۔  معروف مجلّے Child Development  (۲۰۲۱ء) میں شائع ایک تحقیق کے مطابق، جن بچوں کو والدین کی طرف سے غیر مشروط تعریف ملتی ہے، ان میں ۴۰ فی صد امکان ہوتا ہے کہ وہ ۲۰ سال کی عمر تک ’نرگسیت‘ کی طرف مائل ہو جائیں۔ والدین کی طرف سے ضرورت سے زیادہ لاڈ پیار اور ضرورت سے زیادہ تنقید دونوں ہی ’نرگسیت‘ کی جڑ بن سکتے ہیں۔ 

  • نرگسیت کی علامات:’نرگسیت‘ کی پہلی علامت خود کو مرکزِ کائنات سمجھنا ہے۔ ایسا شخص ہر بات کو اپنے حوالے سے دیکھتا ہے۔ اگر کوئی دوست تکلیف میں ہو، تو وہ اس پر توجہ کرنے یا اس سے ہمدردی کرنے کی بجائے اپنی کوئی پرانی کامیابی دُہراتا ہے۔ پرسینلیٹی اینڈ سوشل سائیکالوجی بلیٹن(۲۰۲۲ء)کے مطابق: ’نرگسیت زدہ، افراد گفتگو کا ۷۸ فی صد حصہ اپنی باتوں کے دُہرانے یا اپنی ذات کی تشریح و توصیف پر صرف کرتے ہیں۔ 

دوسری علامت ہمدردی کا فقدان ہے۔ وہ دوسروں کے درد کو سمجھتا ہی نہیں۔ اگر کوئی رو رہا ہو تو ایسے فرد کو لگتا ہے کہ یہ ڈراما ہے یا پھر توجہ کھینچنے کی کوشش۔ ایک تحقیقی اور تجزیاتی مطالعے میں ۱۵۰ ’نرگسیت‘ زدہ افراد کو ایک اداس فلم دکھائی گئی؛ صرف ۱۲ فی صد نے ہمدردی کا اظہار کیا، جب کہ نارمل افراد کے گروپ میں یہ شرح ۶۸ فی صد تھی۔ 

تیسری علامت حسد اور مقابلہ بازی ہے۔ وہ دوسروں کی کامیابی دیکھ کر جلتا ہے اور فوراً اپنی کوئی بڑی بات گھڑ لیتا ہے۔مجلہ ہاوردڈ بزنس ریویو (۲۰۲۰ء) نے ۵۰۰ کاروباری لیڈروں کا جائزہ لیا، جن میں نرگسیت کی سطح بلند تھی، ان میں سے ۸۴ فی صد نے حسد کو اپنی ترقی کا محرک قرار دیا۔ 

چوتھی علامت جھوٹ اور مبالغہ آرائی ہے۔ وہ اپنی کہانیوں میں رنگ بھرتا ہے، کامیابیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے اور ناکامیوں کو چھپاتا ہے۔ ایک سروے میں ۶۸ فی صد نرگسیت زدہ افراد نے تسلیم کیا کہ وہ روزانہ کم از کم ایک جھوٹ بولتے ہیں تاکہ اپنی ساکھ برقرار رکھ سکیں۔ 

سماجی زندگی پر اثرات:سماجی زندگی پر ’نرگسیت‘ کا اثر تباہ کن ہوتا ہے۔ خاندان میں ایسا شخص اپنی بیوی، بچوں اور بھائی بہنوں کو اپنی مرضی کا غلام بنانا چاہتا ہے۔ جرنل آف فیملی سائیکالوجی کے مطابق، جن شادیوں میں بیوی یا شوہر ’نرگسیت‘ زدہ ہوتا ہے، وہاں طلاق کی شرح ۷۳ فی صد تک پہنچ جاتی ہے۔ طلاق کی یہ شرح عام شرح سے ۲ء۵گنا زیادہ ہے۔ 

ایک پاکستانی خاندان کا واقعہ: ایک باپ اپنے بیٹے کو ڈاکٹر بنانا چاہتا تھا، جب کہ بیٹا انجینئر بننا چاہتا تھا۔ باپ نے بیٹے کو گھر سے نکال دیا۔ دس سال بعد بیٹا کامیاب انجینئر بنا، لیکن باپ سے رابطہ ختم ہو چکا تھا۔ نفسیاتی رپورٹ میں باپ کو Vulnerable Narcissism کا مریض پایا گیا۔ 

شادی شدہ زندگی میں ’نرگسیت‘ طلاق کی بڑی وجہ بنتی ہے۔ شریکِ زندگی کو ہر وقت تعریف، توجہ اور اطاعت چاہیے ہوتی ہے۔ اگر بیوی اپنی کوئی رائے دے تو اسے غرور سمجھا جاتا ہے۔ باہمی تعلقات میں محبت اورباہمی احترام کی بجائے کنٹرول غالب ہوتا ہے۔ 

دوستوں کے حلقے میں بھی یہی ہوتا ہے۔ شروع میں تو ’نرگسیت‘ کے مریض دل کش اور پُرجوش لگتے ہیں، لیکن جیسے ہی دوستی گہری ہوتی ہے، ان کی خود غرضی سامنے آنا شروع ہوجاتی ہے۔ وہ دوسروں کی مدد مانگتے ہیں لیکن خود کبھی مدد نہیں کرتے۔ ایک مطالعہ میں ۲۰۰ ’نرگسیت‘ زدہ افراد کے دوستوں میں سے ۹۱ فی صد نے کہا کہ وہ دوستی کو ’یک طرفہ‘ سمجھتے ہیں۔ 

کام کی جگہ پر ’نرگسیت‘ والے لوگ عموماً باس بننا چاہتے ہیں، لیکن وہ کبھی ٹیم لیڈر نہیں بن سکتے۔ ’تنظیمی رویے اور انسانی فیصلہ سازی پر مقالے‘ (۲۰۲۱ء)کے مطابق: ’نرگسیت‘ زدہ منیجروں کی ٹیمیں ۳۸ فی صد کم پیداواری ہوتی ہیں، کیونکہ وہ فیصلے اکیلے کرتے ہیں۔ 

  • نرگسیت اور سوشل میڈیا:موجودہ عہد میں سوشل میڈیا نے ’نرگسیت‘ کو حددرجہ ہوا دی ہے۔ ہر تصویر، ہر پوسٹ، ہرلائک توثیق کا ایک ذریعہ بن گیا ہے۔ مقالہ ’سائبرسائیکالوجی رویے اور سماجی نیٹ ورکنگ‘ (۲۰۲۴ء) کے مطابق: جو لوگ روزانہ تین گھنٹے سے زیادہ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں، ان میں ’نرگسیت‘ کی شرح ۵۱ فی صد زیادہ ہوتی ہے۔ 
  • نرگسیت کی حقیقت و انجام:جن افراد کی شخصیت پر ’نرگسیت‘ کا اثر گہرا ہوتا ہے، بظاہر وہ پُراعتماد لگتے ہیں، لیکن دراصل بہت کمزور ہوتے ہیں۔ تنقید اور اختلاف رائے ان کے لیے موت کے برابر ہوتے ہیں۔ امریکن جرنل آف سائیکاٹری (۲۰۲۳ء) کے مطابق: ’نرگسیت‘ زدہ افراد میں ڈپریشن کی شرح ۶۷ فی صد اور خودکشی کے خیالات ۴۲ فی صد تک پائے گئے۔ طویل مدت میں تنہائی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔ جب کوئی رشتہ ان کی توقعات پر پورا نہیں اترتا، وہ اسے توڑ دیتے ہیں۔ بڑھاپے میں جب تعریف کرنے والے کم ہو جاتے ہیں، تو وہ شدید اداسی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ایک مطالعہ میں ۶۰ سال سے زائد عمر کے ۱۲۰ ’نرگسیت زدہ‘ افراد کا جائزہ لیا گیا، ۷۸ فی صد نے تنہائی کو اپنا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا۔ 
  • نرگسیت کا علاج:’نرگسیت‘ کا علاج مشکل ضرور ہے، لیکن ناممکن نہیں۔ سب سے پہلے تو متاثرہ شخص کو یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ اسے کوئی مسئلہ ہے۔ سائیکوتھراپی ریسرچ (۲۰۲۵ء) کے مطابق، علاج کی کامیابی کی شرح صرف ۳۵ فی صد ہے کیونکہ ۶۵ فی صد مریض پہلے سیشن کے بعد ہی علاج چھوڑ دیتے ہیں۔ 

نفسیاتی علاج میں Cognitive Behavioral Therapy  (CBT) بہت کارآمد ہے۔ اس میں منفی سوچ کے نمونوں کو چیلنج کیا جاتا ہے اور ہمدردی سکھائی جاتی ہے۔ ایک کلینکل ٹرائل میں ۸۰ مریضوں پر CBT کا تجربہ کیا گیا، چھ ماہ بعد ۵۸ فی صد میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔ 

گروپ تھراپی بھی مددگار ہوتی ہے، جہاں وہ دوسروں کے درد سن کر اپنے اندر تبدیلی لاتے ہیں۔ ایک مطالعے میں گروپ تھراپی والے مریضوں کی ہمدردی کی صلاحیت ۴۴فی صد بڑھ گئی۔ 

خود آگاہی بڑھانے کے لیے اپنے ہاتھ سے علامات کو لکھنا، ذاتی جائزے کے لیے ’مراقبہ‘ کرکے اپنی خرابیوں کا شمار کرنا اور اپنی خامیوں کو تسلیم کرنا مفید ہے۔ خاندان کا ساتھ اور صبر بھی علاج کا اہم حصہ ہے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کی پرورش متوازن طریقے سے کریں۔ 

ذہنی ورزشوں کے علاوہ، روحانی تربیت بھی ’نرگسیت‘ کو کم کرتی ہے۔ شکر گزاری کے رویے کی پرورش کے لیے روزانہ رات کو وہ تین باتیں لکھنی چاہییں جن پر انھیں شکر ادا کرنا چاہیے۔ یہ مشق بھی نرگسی انانیت کو توڑتی ہے۔ جرنل آف پازٹیو سائیکالوجی  (۲۰۲۲ء) کے مطابق: جو لوگ ۳۰ دن تک شکر گزاری کی مشق کرتے ہیں، ان کی ’نرگسیت‘ کی سطح ۲۷ فی صد کم ہوجاتی ہے۔ 

ایک عملی حل یہ ہے کہ متاثرہ شخص ہر ہفتے ایک چھوٹا کام دوسروں کی مدد کے لیے کسی بھی قسم کے بدلے کی توقع کے بغیر کرے۔ یہ عمل ہمدردی کے پٹھوں کو مضبوط کرتا ہے۔ ایک تجرباتی مطالعہ میں ۵۰؍ افراد نے آٹھ ہفتوں تک رضاکارانہ کام کیا تو ان کی خود غرضی کی سطح ۳۹ فی صدکم ہوگئی۔ 

بچوں میں ’نرگسیت‘ کی روک تھام کے لیے اسکولوں میں ’ہمدردی کی تعلیم‘ شامل کی جانی چاہیے۔ فن لینڈ کے ایک تجربے میں جہاں بچوں کو ہر ہفتے ایک کہانی سنائی جاتی تھی، جس میں ہمدردی کا پیغام ہوتا تھا، پانچ برس بعد ان بچوں میں ’نرگسیت‘ کی شرح ۵۲ فی صد کم پائی گئی۔ 

  • والدین کے لیے مشورہ:بچّے کی ہر بات پر ’واہ!‘ کہنے کے بجائے، اس کی کوشش کی تعریف کریں۔ ’تم نے بہت محنت کی‘ کہنا ’تم سب سے ہوشیار ہو‘ کہنے سے بہتر ہے۔ جرنل ڈویلپمنٹ سائیکالوجی (۲۰۲۱ء) کے مطابق: جن بچوں کی تعریف کی بجائے ان کی کوشش کی تعریف کی جائے، ان بچوں میں ’نرگسیت‘ کا امکان ۶۱ فی صد کم ہوتا ہے۔ 

قرآن و سنت کی روشنی میں ’نرگسیت‘ اور اس کا تدارک 

قرآن و سنت کے تجزیاتی مطالعہ سے مرضِ نرگسیت کی ابتداء آدم علیہ السلام کی تخلیق سے قبل ہوچکی تھی۔ آدم علیہ السلام اور بنی نوع انسان کو زمین پر بطورخلیفۃ اللہ بنائے جانے کے اعلان اور باقی مخلوقات کو بنی آدم و آدم علیہ السلام کی خلافت فی الارض کو قبول کرنے کے اظہار کے طور پر آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کے حکم کے موقع پر گہری نرگسیت (Grandiose Naracissism) میں مبتلا ابلیس نے تکبر (انانیت) کی بنا پر نہ صرف اپنے اور تمام مخلوقات کے خالق و رازق اور الٰہ کے حکم کو ماننے سے انکار کر دیا بلکہ اپنی انانیت (نرگسیت کی شدید ترین صورت) کا برملا اظہار کرتے ہوئے اَنا خیر منہ کے دعوے پر جم گیا۔ یہی نہیں بلکہ ’نرگسیت‘ اور انانیت کے اس شدید ترین مریض نے باقی مخلوقات خصوصاً بنی نوع انسان کے ہرفرد کو اس مرض کا مریض بنانے کا بیڑا بھی اُٹھا لیا اور اپنے خالق و مالک کے سامنے عاجزی کرتے ہوئے اپنی غلطی کی معافی مانگنے کی بجائے انسانوں کو ’نرگسیت‘ میں مبتلا کرنے کو اپنا مقصد حیات بنائے ہوئے ربّ العزت سے قیامت تک کے لیے مہلت اور اذن بھی مانگ لیا۔ خود نرگسیت میں مبتلا ہونا اور دوسروں کو ’نرگسیت‘ میں مبتلا کرنے کے لیے ہر جتن کرنا ہی شیطانیت ہے۔ 

بنی آدم اور آدم علیہ السلام کو نرگسیت کے بدترین مریض ابلیس کے ہتھکنڈوں سے متعارف کرانے، اس سے بچنے اور نرگسیت کا شکار ہوجانے کی صورت میں اس کے تدارک (توبہ) کی تربیت، ربّ العزت نے انسان کو جنت میں سکونت دے کر فرمائی۔ آدم علیہ السلام نے اس تربیت کو کامیابی سے مکمل کرنے کا مظاہرہ، ابلیسی سازش کا شکار ہوکر ربّ العزت کی نافرمانی کرگزرنے کا احساس ہوتے ہی اپنی غلطی کا ربّ العزت کے سامنے ندامت و عاجزی سے اعتراف کرتے ہوئے ربّ العزت کی رحمت، عفوودرگزر اور مغفرت کا طلب گار ہوتے ہوئے کیا۔ 

ربّ العزت نے بنی آدم و آدم علیہ السلام کو نہ صرف نرگسیت کے تدارک کی عملی ترتیب دینے کے بعد ہی زمین پر خلیفۃ اللہ ہونے کی ذمہ داری نبھانے کے لیے زمین پر اُتارا   (ان تمام تفاصیل کے لیے دیکھیے البقرہ ۲:۳۰-۳۹، الاعراف ۷:۱۱-۲۵، الحجر ۱۵:۲۶-۴۲)۔ بلکہ بنی نوع انسان کو نرگسیت سے محفوظ رکھنے کے لیے اسلامی اعتقاد کی بنیاد ہی اشھدا ان لا الٰہ الا اللہ ،’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ (قابلِ پرستش) نہیں‘‘، یعنی خودپرستی (انانیت) ’نرگسیت‘ کی نفی کرتے ہوئے خالص اللہ پرستی پر ہی رکھی۔ ربّ العزت نے خود پرستی (انانیت) ’نرگسیت‘ کی نفی فرماتے ہوئے فرمایا: اَفَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰــہَہٗ ہَوٰىہُ وَاَضَلَّہُ اللہُ عَلٰي عِلْمٍ  (الجاثیہ ۴۵:۲۳)’’کیا آپ نے ایسے شخص کو دیکھا ہے کہ جس نے اپنی خواہش کو ہی اپنا الٰہ بنا لیا ہے اور اس بناپر اللہ نے اسے علم کے باوجود گمراہ ہونے دیا‘‘۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود پرستی اور ’نرگسیت‘ کو ایمان کے منافی قرار دیتے ہوئے فرمایا: لا یؤمن احدکم حتی یکون ھواہ تبعًا لما جئت بہ (السنن الکبریٰ، للبیہقی) ’’تم میں سے کوئی مومن ہو ہی نہیں سکتا جب تک کہ اس کی خواہشات بھی اس کے تابع نہ ہوجائیں جو میں لے کے آیا ہوں‘‘۔ 

اعتقاد میں خالص اللہ پرستی کو رائج کرتے ہوئے انسانی رویے سے ’نرگسیت‘ کی سرایت کی جڑ کاٹنے کے ساتھ ساتھ قرآن کریم عملی تعلیمات میں بھی ’نرگسیت‘ کی بیماری کا بہترین علاج پیش کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’کسی شخص کو اس کی آرزوئیں دھوکا نہ دیں‘‘ (النحل۱۶: ۲۳)۔ ’نرگسیت‘ دراصل آرزوؤں کا اسیر ہونا ہے۔ جب انسان اپنی ذات کو بھول کر اللہ کی ذات کو ہی اپنی زندگی کا مرکز بناتا ہے، تو خود پسندی (’نرگسیت‘)ختم ہو جاتی ہے۔ 

سورئہ فرقان میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا: وَعِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِيْنَ يَمْشُوْنَ عَلَي الْاَرْضِ ہَوْنًا وَّاِذَا خَاطَبَہُمُ الْجٰہِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا۝۶۳ (۲۵:۶۳) ’’رحمٰن کے (اعلیٰ) بندے وہ ہیں جو زمین پر نرم چال چلتے ہیں اور جاہل ان کے منہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام‘‘۔ اس آیت کریمہ میں تعلیم کردہ تواضع اور نرمی ’نرگسیت‘ کا علاج ہے۔ جو شخص زمین پر نرمی سے چلے، وہ خود کو آسمانوں کا مالک نہیں سمجھ سکتا۔ ایک اور آیت میں فرمایا گیا:الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ كَمَثَلِ حَبَّۃٍ اَنْۢبَتَتْ سَـبْعَ سَـنَابِلَ فِيْ كُلِّ سُنْۢبُلَۃٍ مِّائَۃُ حَبَّۃٍ۝۰ۭ (البقرہ۲:۲۶۱) ’’جو لوگ اپنی دولت کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، ان کی مثال اس دانے کی سی ہے جو سات بالیں اُگاتا ہے، ہر بالی میں سو دانے ہوتے ہیں‘‘ ۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ جو دیتا ہے، وہ بڑھتا ہے۔ ’نرگسیت‘ والا شخص لینے میں یقین رکھتا ہے،جب کہ قرآن دینے کی ترغیب دیتا ہے۔ 

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا یدخل الجنۃ من کان فی قلبہ مثقال ذرۃ من کبر ’’جو شخص اپنے دل میں ذرا برابر بھی تکبر رکھتا ہے، وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا‘‘ (مسلم، کتاب الایمان، حدیث:۱۵۸)۔ تکبر ’نرگسیت‘ کی جڑ ہے۔ تکبر چھوڑنے کا مطلب ہے دوسروں کی عزّت کو اپنی عزّت سمجھنا۔  

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا:الکبر بَطْرَ الحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ ’’تکبر اس بات کا نام ہے کہ حق کو رَد کر دو اور لوگوں کو حقیر سمجھو‘‘۔ (مسلم، کتاب الایمان، حدیث:۱۵۶) 

ایک اور حدیث میں ہے:المؤمن مرأۃ المؤمن ’’مومن دوسرے مومن کا آئینہ ہے‘‘ (ابو داؤد، کتاب الادب، حدیث: ۴۲۹۳)۔ یعنی مومن دوسرے کی خامی دیکھ کر اپنی اصلاح کرتا ہے، نہ کہ اسے حقیر سمجھتا ہے۔ ’نرگسیت‘ زدہ شخص دوسروں کو آئینہ نہیں، بلکہ اپنی توسیع سمجھتا ہے۔ 

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا:من کان یؤمن باللہ والیوم الْاٰخِر  فلا یُؤذ جارہ ’’جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ اپنے پڑوسی کو ایذا نہ دے‘‘ (بخاری، کتاب النکاح، حدیث: ۴۸۹۳)۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ دوسروں کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھنا ایمان کا حصہ ہے، اور یہ ’نرگسیت‘ کے بالکل برعکس ہے۔ 

عملی ارکانِ اسلام میں نماز بنیادی اہمیت کی حامل ہے اور اقامت ِ صلوٰۃ نہ صرف ’نرگسیت‘ سے بچائو کا تیربہدف نسخہ ہے بلکہ ’نرگسیت‘ کا بہترین علاج بھی ہے۔ جب انسان سجدہ کرتا ہے تو اس کی ناک زمین سے لگتی ہے۔ یہ عمل روزانہ پانچ وقت کم از کم ۴۰  بار اسے بتاتا ہے کہ وہ کچھ بھی نہیں، سب کچھ اللہ کا ہے۔ سجدہ خود پسندی و خود پرستی کو توڑتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اقرب ما یکون العبد من رَبِّہٖ  وھو ساجدٌ ’’بندے کا اپنے ربّ سے سب سے قریب ہونے کا وقت سجدہ ہوتا ہے‘‘ (مسلم، کتاب الصلوٰۃ،حدیث: ۷۷۳) 

ربّ العزت کی عظمت کی یاد اور اس کے سامنے عاجزی ہی اقامت الصلوٰۃ سے مطلو ب ہے۔ارشادِ ربانی ہے: وَاَقِـمِ الصَّلٰوۃَ لِذِكْرِيْ۝۱۴ (طٰہٰ۲۰: ۱۴)’’اور میری یاد کے لیے نماز کو قائم کرو‘‘۔ پھر فرمایا: وَقُوْمُوْا لِلہِ قٰنِتِيْنَ۝۲۳۸(البقرہ۲:۲۳۸)’’اور نماز میں اللہ کے سامنے پوری عاجزی اور یکسوئی کے ساتھ کھڑے ہوجائو‘‘۔ اور جو نماز اللہ کی یاد سے خالی ہو اور خودنمائی کے لیے پڑھی جائے وہ نمازی کے لیے باعث ِ ہلاکت ہے۔ ارشادِ ربانی ہے: فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّيْنَ۝۴ۙ  الَّذِيْنَ ہُمْ عَنْ صَلَاتِہِمْ سَاہُوْنَ۝۵ۙ (الماعون۱۰۷:۴-۵)’’ہلاکت ہے ان نمازیوں کے لیے جو اپنی نمازوں میں غافل رہتے ہیں۔وہ جو (اپنی نماز) لوگوں کو دکھاتے ہیں‘‘۔ 

صدقہ اور خیرات بھی ’نرگسیت‘ مٹاتا ہے۔ جب انسان اپنا مال دوسروں پر خرچ کرتا ہے تو اس کا دل دوسروں کی طرف کھلتا ہے۔ حدیث ہے:ما نقصت صدقۃ من مالٍ ’’صدقہ مال کو کم نہیں کرتا‘‘ (مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، حدیث: ۴۷۹۵)۔ یعنی جو دیتا ہے، وہ بڑھتا ہے نہ صرف مال میں، بلکہ دل کی وسعت میں بھی۔ 

ارکانِ اسلام میں سے زکوٰۃ کا نظام بھی ’نرگسیت‘ کا ایک مؤثر علاج ہے۔ جب انسان اپنی دولت کا ۲ء۵ فی صد غریبوں کو دیتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ یہ سب اس کا نہیں، اللہ کی امانت ہے۔ قرآن کہتا ہے:خُذْ مِنْ اَمْوَالِہِمْ صَدَقَـۃً تُطَہِّرُھُمْ وَتُزَكِّيْہِمْ بِہَا (التوبہ ۹:۱۰۳) ’’اے نبیؐ، تم ان کے اموال میں سے صدقہ لے کر انھیں پاک کرو اور (نیکی کی راہ میں) انھیں بڑھائو‘‘۔یعنی زکوٰۃ ان کے مال کو پاک کرتی ہے۔  

اسی طرح ارکانِ اسلام میں سے روزہ ’نرگسیت‘ کو توڑنے کا زبردست طریقہ ہے۔ جب انسان بھوکا رہتا ہے تو اسے غریبوں کی تکلیف کا احساس ہوتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:من صام ایمان واحتسابًا غفرلہ ما تقدم عن ذنبہ’’جس نے رمضان کے روزے ایمان اور احتساب کے ساتھ رکھے، اس کے پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں‘‘ (بخاری، کتاب الایمان، حدیث:۳۸)۔ روزہ ’اَنا‘ کو پگھلاتا ہے۔ 

تلاوتِ قرآن بھی ’نرگسیت‘ کا ایک مؤثر علاج ہے۔ جب انسان كُلُّ نَفْسٍ ذَاۗىِٕقَۃُ الْمَوْتِ۝۰ۭ  (اٰل عمرٰن ۳: ۱۸۵) ’’ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے‘‘ پڑھتا ہے، تو اسے یاد آتا ہے کہ یہ دُنیا عارضی ہے۔ ’نرگسیت‘ زدہ شخص دنیا کو ہی سب کچھ سمجھتا ہے۔ 

ذکرِ الٰہی دل کو نرم کرتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس شخص کی مثال جو ذکر کرتا ہے اور جو نہیں کرتا، زندہ اورمُردہ کی سی ہے‘‘ (بخاری، کتاب الدعوات، حدیث:۶۰۵۳)۔ ذکر سے دل میں اللہ کی عظمت بڑھتی ہے، انسان کی عظمت کم ہوتی ہے۔ 

مطلب یہ ہے کہ ’نرگسیت‘ کا اصل علاج جیساکہ تفصیل سے گزر چکا ہے توبہ اور استغفار ہی ہے۔ جب انسان اپنی خامیوں کو مانتا اور اللہ سے معافی مانگتا ہے، تو اس کی ’اَنا‘ پگھل جاتی ہے۔ قرآن کہتا ہے:  اِنَّ اللہَ يُحِبُّ التَّـوَّابِيْنَ (البقرہ۲:۲۲۲)’’بے شک اللہ توبہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے‘‘ ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کل بنی آدم خطاؤن وخیر الخطائین التوابون ’’ آدم کی اولاد خطا کار ہے، اور بہترین خطا کار توبہ کرنے والے ہیں‘‘۔ (ترمذی، کتاب الذبائح، حدیث: ۲۴۸۳) 

 اللہ ہمیں اپنی ذات کے حصار اور اپنی ذات کی غلامی سے نکال کر فنا فی اللہ اور فنا فی الرسول ہوجانے کی توفیق و ہمت عطا فرماتے ہوئے اپنی مخلوق کی خدمت کی توفیق عطافرمائیں، اور ہر قسم کی خود پسندی سے محفوظ فرمادیں، آمین!