ہر قسم کی بڑائی اور فخر صرف اللہ رب العالمین کے لیے ہے، جو زمین و آسمان کا مالک، جن و انس، نباتات و جمادات، حیوانات و حشرات کا خالق، یومِ جزا کا منصف اور مٰلِكِ يَوْمِ الدِّينِ ہے۔ وہ ذات جو ہر شے پر قادر، ہر دل کے بھید سے واقف اور ہر عمل کا حساب لینے والی ہے۔ جب انسان کو خالق نے مٹی سے بنایا، وہ مٹی میں لوٹ جائے گا اور اسی مٹی سے دوبارہ اٹھایا جائے گا، تو اسے کس بات کا گھمنڈ؟ مِنْہَا خَلَقْنٰكُمْ وَفِيْہَا نُعِيْدُكُمْ وَمِنْہَا نُخْرِجُكُمْ تَارَۃً اُخْرٰى۵۵ (طٰہٰ۲۰: ۵۵) ’’ہم نے تمھیں اسی زمین سے پیدا کیا، اسی میں تمھیں واپس کریں گے اور اسی سے تمھیں دوبارہ نکالیں گے‘‘۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اِنَّہٗ لَا يُحِبُّ الْمُسْـتَكْبِرِيْنَ۲۳ (النحل۱۶:۲۳) ’ ’وہ ہرگز ان لوگوں کو پسند نہیں فرماتا جو تکبر اور غرور میں مبتلا ہوں‘‘۔
یہ زمین کئی متکبروں کے انجامِ بد کی گواہ ہے، جن کو اللہ نے رہتی دنیا تک عبرت کا نشان بنا دیا۔ وَقَارُوْنَ وَفِرْعَوْنَ وَہَامٰنَ۰ۣ وَلَقَدْ جَاۗءَہُمْ مُّوْسٰي بِالْبَيِّنٰتِ فَاسْتَكْبَرُوْا فِي الْاَرْضِ وَمَا كَانُوْا سٰبِقِيْنَ۳۹ۚۖ (العنکبوت۲۹:۳۹) ’’اور قارون و فرعون و ہامان کو ہم نے ہلاک کیا موسٰی اُن کے پاس بیّنات لے کر آیا مگر انھوں نے زمین میں اپنی بڑائی کا زعم کیا حالانکہ وہ سبقت لے جانے والے نہ تھے‘‘۔
اللہ رب العزت نے اپنے صالح بندوں کے لیے حضرت لقمان علیہ السلام کی نصیحت کے انداز میں ارشاد فرمایا: وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا۰ۭ اِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْـتَالٍ فَخُــوْرٍ۱۸ۚ وَاقْصِدْ فِيْ مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ۰ۭ اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيْرِ۱۹ۧ (لقمان۳۱: ۱۸-۱۹)’’اور لوگوں سے منہ پھیر کر بات نہ کر، نہ زمین میں اکڑ کر چل، اللہ کسی خود پسند اور فخر جتانے والے شخص کو پسند نہیں کرتا۔ اپنی چال میں اعتدال اختیار کر، اور اپنی آواز ذرا پست رکھ، سب آوازوں سے زیادہ بُری آواز گدھوں کی آواز ہوتی ہے‘‘۔
اسی طرح سورۂ فرقان میں ارشاد ہے: وَعِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِيْنَ يَمْشُوْنَ عَلَي الْاَرْضِ ہَوْنًا (الفرقان۲۵:۶۳) ’’رحمٰن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر نرمی اور انکساری سے چلتے ہیں‘‘۔ تکبر کی جڑ ایمان کی کمزوری اور دل سے اللہ کی عظمت کا شعور ختم ہونا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہو، اور وہ شخص جہنم میں نہ جائے گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو‘‘۔ (سنن ابن ماجہ: ۴۱۷۳)
عبادت کا مقصد صرف قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۱۶۲ۙ (الانعام۶: ۱۶۲) ’’کہو، میری نماز، میرے تمام مراسمِ عبودیت، میرا جینا اور میرا مرنا، سب کچھ اللہ ربّ العالمین کے لیے ہے‘‘ ہونا چاہیے۔ ایسی عبادت سے معاشرے پر رحمت نازل ہوتی ہے، ورنہ عبادت کے غرور میں مبتلا شخص سے نحوست ٹپکتی ہے۔ مال و دولت، عہدہ و منصب، حُسن و جمال، یہ سب عارضی نعمتیں ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ یہ چیزیں کسی کے پاس مستقل نہیں رہتیں۔ خلفائے راشدین سے لے کر یزید اور حجاج تک، سخی و منصف سے لے کر ظالم و جابر تک، اقتدار ہر طرح کے لوگوں کے ہاتھ آیا، مگر نہ کوئی ہمیشہ قائم رہا اور نہ ہمیشہ اقتدار ان کے پاس رہا۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے: وَمَا الْحَيٰوۃُ الدُّنْيَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ۱۸۵ (اٰل عمرٰن۳:۱۸۵) ’’رہی یہ دُنیا تو یہ محض ایک ظاہر فریب چیز ہے‘‘۔ جو چیز فانی ہے، اس پر غرور صرف نادان ہی کر سکتا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’متکبر شخص اسی طرح ذلیل ہوتا ہے جیسے پانی کے نیچے دبائی گئی چیز اوپر آنے کی کوشش کرتی ہے، مگر ناکام رہتی ہے‘‘۔ (مسند احمد:۱۲۳۴۵) اس لیے ہر مومن کو چاہیے کہ وہ اپنے دل کو تکبر سے پاک رکھے تاکہ معاشرتی ہم آہنگی اور روحانی سکون میسر رہے۔
تواضع کے ذریعے انسان نہ صرف اللہ کے نزدیک محبوب بنتا ہے، بلکہ معاشرے میں بھی عزّت و مقام پاتا ہے۔ یہ خوبی انسان کو اپنی اصلیت سے جوڑتی ہے اور اسے اللہ کی رحمت کا مستحق بناتی ہے۔
غرور، گھمنڈ اور تکبر کی متضاد کیفیت تواضع و انکساری ہے، جو اللہ ربّ العزت کو بہت پسند ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ تواضع کی اعلیٰ مثال ہے۔ آپ ؐسادہ لباس پہنتے، زمین پر بیٹھتے، اپنے ہاتھوں سے کام کرتے اور کبھی اپنی عظمت کو نمایاں نہ کرتے۔ آپ ؐنے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے مجھے عاجزی اور انکساری اختیار کرنے کا حکم دیا، تاکہ کوئی کسی پر فخر نہ کرے‘‘۔ (مسنداحمد: ۱۷۱۴۴)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعا میں عاجزی و انکساری کا مظاہرہ فرماتے تھے۔ حدیث میں ہے کہ آپ ؐدعا فرماتے: ’’اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس علم سے جو نفع نہ دے، اس دل سے جو تیری بارگاہ میں عاجزی نہ کرے، اس دعا سے جو قبول نہ ہو، اس نفس سے جو کبھی سیر نہ ہو، اور اس بھوک سے جو بدترین ساتھی ہے۔ میں تیری پناہ مانگتا ہوں خیانت سے، سستی سے، بخل سے، بزدلی سے، بڑھاپے سے، اور اس عمر سے جو انسان کو بے توقیر کر دے۔ میں تیری پناہ مانگتا ہوں دجال کے فتنے، قبر کے عذاب اور حیات و موت کے ہر فتنے سے۔ اے اللہ! ہم تجھ سے ایسی دعا مانگتے ہیں جو تیرے حضور رجوع کرنے والی ہو، اور ایسے اعمال مانگتے ہیں جو تیری مغفرت کا سبب اور عذاب سے نجات کا ذریعہ ہوں۔ ہم ہر گناہ سے حفاظت اور ہر نیکی کی توفیق مانگتے ہیں جو جنت تک لے جائے اور جہنم سے نجات دلائے‘‘۔’’جو رضائے الٰہی کی خاطر تواضع اختیار کرتا ہے، اللہ عزوجل اسے بلندی عطا فرماتا ہے‘‘۔ (صحیح مسلم: ۲۵۸۸)