قرآن حکیم میں تخلیقِ آدمؑ کا واقعہ مختلف مقامات پر بیان ہوا ہے۔ سورۂ اعراف میں قصۂ تخلیق آدم تفصیل سے ملتا ہے۔ اس واقعہ کے مناظر کا تصور کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے تین کردار سامنے آتے ہیں:فرشتے ، آدمؑ اورشیطان ۔انسانی زندگی کی تعمیر و تخریب کے سارے راز انھی کرداروں میں مضمر ہیں۔
فرشتے اللہ تعالیٰ کی بندگی و اطاعت اور تسبیح و تہلیل میں ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں اور انھیں کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔ آدمؑ کو اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کا نائب اور علمی برتری کی بناپر فرشتوں سے سجدہ کروایا گیا اور انھیں صاحب ِ اختیار بنایا گیا۔ شیطان نے اپنے ارادہ و اختیار کا غلط استعمال کرتے ہوئے آدمؑ کے مقابلے میں خود کو برتر جانا اور تکبر کیا اور اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کی نافرمانی کا مرتکب ٹھیرا ۔شیطان نے آدمؑ سے حسد کیا اور اپنی غلطی تسلیم کرنے کی بجائے اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کے مقابلے پہ آیا، اور انسان کو اپنا دشمن سمجھا کہ اسی کی وجہ سے اُسے ذلت اٹھانا پڑی ہے:
قَالَ رَبِّ بِمَآ اَغْوَيْتَنِيْ لَاُزَيِّنَنَّ لَہُمْ فِي الْاَرْضِ وَلَاُغْوِيَنَّہُمْ اَجْمَعِيْنَ۳۹ (الحجر ۱۵:۳۹)شیطان بولا ’’میرے رب، جس طرح تو نے مجھے بہکایا اسی طرح اب میں زمین میں ان کے لیے دل فریبیاں پیدا کرکے ان سب کوبہکا دوں گا‘‘۔
آدمؑ نے خطا ہو جانے پہ فوری ردعمل، ندامت کی صورت میں ظاہر کیا، اپنی غلطی تسلیم کرلی۔ اپنی جان پہ خود ظلم کرلینے کا احساس ان کے ہر احساس پہ غالب آجاتا ہے اور اللہ کی طرف توبہ و انابت کی تڑپ ان کے جسم و جاں کو بے قرار رکھتی ہے، تو پکار اُٹھتے ہیں:
قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَـنَا ۰۫ وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ۲۳ (الاعراف۷:۲۳)(آدم و حوا) دونوں بول اٹھے ’’اے ہمارے رب ! ہم نے اپنے اُوپر ستم کرلیا۔ اب اگر آپ نے ہم سے درگزر نہ فرمایا اور رحم نہ کیا تو یقیناً ہم تباہ ہو جائیں گے‘‘۔
کچھ خصوصیات اولادِ آدم اور فرشتوں میں مشترک ہیں:
فرشتوں اوراولاد آدمؑ میں جو چیز مختلف ہے وہ ’ارادہ و اختیار‘ کا ہونا ہے۔ سب فرشتے اپنی اپنی عبادت (ڈیوٹی) میں مشغول ہیں۔ ہر فرشتے کا جو کام ہے اس کو وہی کرنا ہے اور اس کے علاوہ اُسے کوئی اختیار نہیں، اس کا اپنا کوئی ارادہ نہیں۔ اس لیے فرشتوں کے درمیان حقوق و فرائض کی باہمی کش مکش نہیں ہے۔ اولادِ آدمؑ کو ’ارادہ و اختیار‘ کے ساتھ ایک بڑے امتحان میں ڈالا گیا ہے۔ ’ارادہ و اختیار‘ وہ عظیم منصب ہے جس مسند عظمیٰ پہ بیٹھ کر وہ اپنے ’نفس‘ کو جنت یا دوزخ کا مستحق ٹھیراتا ہے اور باہم انسانوں کے درمیان حقوق و فرائض کی کش مکش ہی حقیقت میں اصل معرکہ ہے۔ اللہ کو اپنی اطاعت کے لیے تو فرشتے ہی کافی تھے۔ انسان کو دل دیا تو ساتھ ارادہ و اختیار دیا اور باہم دردِ دل کے لیے پیدا کیا۔
ارادہ و اختیار کے ساتھ انتخاب کے لیے تنوع کا ہونا لازمی امر ہے۔ ’اختیار‘ کے ساتھ انتخاب کی آزادی لازم و ملزوم ہے۔ اگر انتخاب کرنے کے لیے متعدد راستے اور چیزیں نہ ہوں تو انتخاب کی آزادی بے معنی ہو جاتی ہے اور آزادی کے ساتھ اپنے ارادہ اور مرضی سے انتخاب کرنے میں غلطی کا احتمال بھی لازمی ہوتا ہے۔ ’آزادیٔ انتخاب‘ دراصل ایک بہت بڑا منصب ہے، ایک امتحان ہے عقل و شعور کا، عزم و ارادے اور ایمان و یقین کا ۔ انسان اپنے ارادے اور مرضی سے اپنے لیے کسی راستے کی ذمہ داری اٹھانے اور اسے نبھانے کا انتخاب کرتا ہے۔ اسی منصب و ذمہ داری کے بارے میں ربّ العزت فرماتے ہیں:
اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَيْنَ اَنْ يَّحْمِلْنَہَا وَاَشْفَقْنَ مِنْہَا وَحَمَلَہَا الْاِنْسَانُ۰ۭ اِنَّہٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَہُوْلًا۷۲ (الاحزاب۳۳:۷۲) ہم نے اپنی امانت کو آسمانوں اور زمین پر اور پہاڑوں پر پیش کیا لیکن سب نے اس کے اٹھانے سے انکار کر دیا اور اس سے ڈر گئے مگر انسان نے اسے اٹھا لیا ۔ وہ بڑا ہی ظالم اور سخت جاہل ہے ۔
انسان کے پاس اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ اختیار و ارادہ کی آزادی موجود تھی۔ اسی لیے وہ اس بارِ امانت کو اٹھانے پہ تیار ہوگیا۔ ’عہد اطاعت‘ کا امین ٹھیرا ۔ مجبور و مقہور مخلوق سے عہد لینے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ ظَلُوْمًا جَہُوْلًا سے مراد یہ ہے کہ انسان میں دو متضاد داعیے یا خواہش و ارادہ موجود ہیں اور کسی بھی کام کو کرنے یا نہ کرنے کی کشا کش ہی انسان کو دوسری مخلوقات سے ممتاز کرتی ہے۔ اس کشاکش کے بعد اپنے عزم و ارادہ سے کسی کام یا راستے کو اختیار کرتا ہے۔
’ظلم‘ عدل و انصاف کا متضاد ہے۔ ’جہل‘، ’علم‘ اور ’حلم‘ کا متضاد ہے۔ عدل و انصاف کا شعور رکھتے ہوئے جو ظلم کا مرتکب ہو وہ ’ظلوم ہے‘، اور جو ’علم و حلم‘ کی صلاحیت اور اتمامِ حجت کے باوجود اپنے نفس کے جذبات سے مغلوب ہو جائے وہ ’جہول‘ ہے۔ اسی طرح انسانی عقل ماحول سے متاثر ہوکر یا مفادات کی اسیر ہو کر انسان کو ظَلُوْمًا جَہُوْلًا کا مصداق بنا سکتی ہے۔ خیر و شر کے دوراستوں میں سے خیر کا انتخاب کرلینا ہی انسانی شرف کی بنیاد ہے۔ اس ’شرف‘ کو قائم رکھنے کے لیے ہرممکن کوشش کرنے والا انسان بھی کبھی غلطی سے مبرا نہیں ہوسکتا۔ اس لیے کہ انسان کی سرشت میں بھول جانے کا مادہ ہے اور اسی بناء پر وہ اپنے عزم میں پختہ نہیں رہتا:
وَلَقَدْ عَہِدْنَآ اِلٰٓى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَہٗ عَزْمًا۱۱۵ۧ (طٰہٰ۲۰:۱۱۵)ہم نے آدم کو تاکیدی حکم دیا تھا لیکن وہ بھول گیا اور ہم نے اس کو عزم میں پختہ نہ پایا۔
بھول جانا انسانی سرشت میں شامل ہے۔ شریعت نے اس کی کوئی سزا مقرر نہیں کی۔ یہ حقیقت متعدد احادیث سے معلوم ہوتی ہے، مثلاً بھول کر اگر روزے میں پیٹ بھر کر بھی کھانا کھالیا گیا ہو تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا لیکن جان بوجھ کر ایک دانہ یا ایک گھونٹ بھی پیٹ میں ڈالا گیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا اور اس کی نہ صرف قضا بلکہ کفّارہ بھی ادا کرنا ہوتا ہے۔ اسی طرح کوئی بھی کوتاہی بھول کر ہو گئی ہو یا کسی نے مجبور کیا ہو تو اس کا معاملہ اپنی خواہش، ارادے، منصوبے سے کیے گئے عمل سے مختلف ہوتا ہے۔ کسی پر ’شرعی حدود‘ کے نفاذ میں بھی اس امر کا خیال رکھا جاتا ہے۔
اسی طرح خطا کا معاملہ ہے۔ خطا اشتباہ کی بناء پر بھی ہو جاتی ہے،جیسے دو چیزوں کا ایک جیساہونا اور ان میں سے اپنی چیز سمجھ کر غلطی سے دوسرے کی اٹھا لینا۔
انسانوں کی ذہنی، علمی اور معاشرتی افتاد اور استعداد کے مختلف ہو جانے کی بنا پر اس طرح کی خطائیں بھی سرزد ہوسکتی ہیں، مثلاً کسی کے بارے میں حالات و واقعات کو سامنے رکھ کر کوئی رائے بناتے اور مشورہ دیتے ہوئے خطا کا سرزد ہونا۔ اسی طرح قاضی اپنی پوری تحقیق کے بعد کسی مقدمے میں فیصلہ سناتے ہوئے دو رائے میں سے کسی ایک رائے کا انتخاب کرنے میں بھی خطا کرسکتا ہے۔
خطا میں نیت کی خرابی اور فتور شامل نہیں ہوتا۔ حُسنِ نیت سے کوئی رائے بنانا، فیصلہ کرنا، کسی مشتبہ چیز کے بارے میں اسے اپنی ملکیت سمجھ لینا، مگر غلطی کا احتمال ہونے کایقین رکھنا انسان کو انسانی شرف سے نہیں گراتا۔
انسان کو ہر چیز میں اعلیٰ معیار کی چاہت پہ پیدا کیا گیا ہے۔ اس لیے وہ ہمیشہ بہتر سے بہترین کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے مگر بھول جانے کی سرشت اسے کبھی دوسری طرف متوجہ کردیتی ہے۔ انسان کی توجہ اور دل کا میلان بھی ایک وقت میں ایک چیز پہ ہی مرتکز رہ سکتا ہے، مثلاً آدم کو ابدی زندگی اور لازوال سلطنت کے تصورنے درخت کے پاس نہ جانے کا حکم بھلا دیا۔ وقتی طور پر یہ حکم پس پردہ چلا گیا اور ابدی و لازوال سلطنت کا مالک ہونے کا احسا س غالب آگیا:
فَوَسْوَسَ اِلَيْہِ الشَّيْطٰنُ قَالَ يٰٓاٰدَمُ ہَلْ اَدُلُّكَ عَلٰي شَجَرَۃِ الْخُلْدِ وَمُلْكٍ لَّا يَبْلٰى۱۲۰ (طٰہٰ ۲۰:۱۲۰ ) شیطان نے ان کے دل میں وسوسہ ڈالا اور کہنے لگا :’’آدم میں تمھیں بتائوں وہ درخت جس (کا پھل کھا کر) ابدی زندگی اور لازوال سلطنت حاصل ہوتی ہے‘‘۔
آدم و حوا نے اسی ’بہترین‘ کی اُمید پہ ممنوعہ پھل کھا لیا۔ یہی حربہ شیطان اولادِ آدم پہ استعمال کرتا ہے۔ عارضی دنیا کی عارضی نعمتوں کو ابدی اور لازوال بنانے کا جنون خطائوں میں مبتلا کرتا ہے اور خطائیں بتدریج گناہوں میں تبدیل ہوتی جاتی ہیں۔ اللہ رب العزت نے اپنے مومن بندوں کو سلیقہ سکھایا کہ وہ اپنی زندگی کو پاک و صاف رکھنے کی نیت اور کوشش کرنے کے ساتھ ساتھ دعا بھی مانگا کریں۔ سورۃ البقرہ کی آخری آیت میں یہ دُعا سکھائی گئی ہے: رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ اِنْ نَّسِيْنَآ اَوْ اَخْطَاْنَا ۰ۚ (البقرہ ۲:۲۸۶)’’اے ہمارے رب! ہم سے کوئی خطا ہوجائے یا بھول چوک ہو جائے تو ہمارا مواخذہ نہ کیجیو‘‘۔
خطائیں انسان سے ’ظلوم‘ اور ’جہول‘ کی بنا پر ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان بشری کمزوریوں کی وجہ سے اپنی رحمت کو اپنے غضب پہ غالب رکھا ہے، جس کے عملی اظہار کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت سے غلطی ‘ بھول چوک اور جو مجبور کر دیا گیا ہو معاف کر دیا ہے۔ (ابن ماجہ)
اللہ تعالیٰ کی طرف سے مغفرت اور رحمت واسعہ کا معاملہ اور پھر مہلتِ توبہ اور اصلاح عمل کی کوشش انسان کو مایوس ہونے سے بچاتی ہے۔ اللہ کی طرف سے اعلانِ عام ہے :
قُلْ يٰعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللہِ۰ۭ اِنَّ اللہَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا۰ۭ اِنَّہٗ ہُوَالْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ۵۳(الزمر۳۹:۵۳ ) کہہ دو اے میرے بندو! جنھوں نے اپنی جانوں پہ ظلم کرلیا ہے تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جائو۔ اللہ تعالیٰ یقینا تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ بے شک وہ غفور و رحیم ہے۔
احادیث نبویؐ کی روشنی میں ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ انسان توبہ و ندامت اور استغفار سے اپنے رب کو راضی کرسکتا ہے۔ اللہ رب العزت کو اپنے بندوں کا نادم ہونا، اس کی طرف رجوع کرنا، استغفار کرنا بے حد پسند ہے۔ بندے زمین و آسمان کے برابر بھی گناہ اور خطائیں کر گزریں مگر پھر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہوئے اپنی اصلاح کرلیں، تو وہ اپنے بندوں کی طرف مہربانی کے ساتھ متوجہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے قصور کا اعتراف کرنا ہی آدم کو شیطان سے ممتاز کرتا ہے۔ جو لوگ انسانیت کے اوصاف سے متصف ہوتے ہیں وہ اپنی غلطی مان لیتے ہیں، قصور کا اعتراف کرتے اور اپنی اصلاح کرلیتے ہیں۔ مومن کی شان اس سے بھی بالاوبرتر ہوتی ہے کہ وہ انسانوں کے سامنے اپنی غلطی کو تسلیم کرنے، ان کو ان کا حق دینے اور اصلاح کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے رب کی رضا کو بھی مدنظر رکھتے ہیں، اور ان کو خطا اور گناہ میں فرق بھی معلوم ہوتا ہے۔
خطا میں نیت، ارادہ و منصوبہ نہیں ہوتا جیسے کہ انسان کسی جگہ پر پھسل جاتا ہے۔ اس میں ارادہ نہیں ہوتا کہ وہ چوٹ کھائے اور تکلیف اٹھائے۔ بے شک اس کو پھسل جانے کی خطا پہ تکلیف ضرور اٹھانی پڑتی ہے۔ اسی طرح اللہ کی نافرمانی کرنے والا خود کو بے چین و مضطرب پاتا ہے۔ اَن جانے میں خطا ہو جانے کے باوجود اس کی روح بے قرار ہو جاتی ہے۔ یہ بے قراری جو رب کے سامنے نافرمانی وغلطی ہو جانے سے ہوتی ہے، یہی تو اللہ کو محبوب ہے اور یہ وہ نعمت ہے جو اللہ نے ’ضمیر‘ کی شکل میں انسان کے اندر رکھ دی ہے۔ غلطی یا خطا میں مومن کا اپنا عمل دخل ہے یا نہیں، اس سے غلطی کسی دوسرے نے کروا دی یا حالات و واقعات نے اس کو کمزور کر دیا___ معاملہ کوئی بھی ہو، خطاہو جانے کے بعد جو دل کی بے قرار کیفیت ہے وہ اللہ کی نظر میں قابلِ قدر ہے۔ اللہ دلوں کے حال جانتا ہے۔ آدم ؑ سے خطا سرزد ہوجانے پر بے قراری کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ نے اُن پر نظر کرم فرمائی: ثُمَّ اجْتَبٰىہُ رَبُّہٗ فَتَابَ عَلَيْہِ وَہَدٰى۱۲۲ (طٰہٰ ۲۰:۱۲۲) ’’پھر اس کے ربّ نے اسے برگزیدہ کیا اس کی توبہ قبول کرلی اور اسے ہدایت بخشی‘‘۔خطائوں کے بعد توبہ اور اصلاح سے ہی اولادِ آدم اللہ کی نظر میں برگزیدہ ہوسکتی ہے اور ہدایت کے راستے پر گامزن ہوسکتی ہے۔
خطا سے ندامت نہ ہو تو پھر گناہوں کا راستہ کھل جاتا ہے۔ خطا بغیر ارادے کے ہوسکتی ہے، مگر گناہ اس عمل کا نام ہے جب انسان اپنے ضمیر کی آواز کو مسلسل دباتے ہوئے گناہ کی آخری شکل تک پہنچ کر اسے کر گزرتا ہے، مثلاً ایک چور، ڈاکو، قاتل اور زانی و بدکار ایک تدریج کے ساتھ گناہ کے آخری مرحلے تک پہنچتا ہے۔ آخری مرحلے تک پہنچنے سے پہلے کسی بھی مقام پہ اگر ضمیر کا کہنا مان کر انسان جرم سے باز آجائے تو اس کے لیے پلٹ آنے کے سارے راستے کھلے ہیں، اور اگر گناہ کرلینے کے بعد بھی وہ نادم ہو، توبہ کرے اور آئندہ کے لیے اصلاح کرلے، تو وہ رب کو غفور اور رحیم پائے گا ۔ اصلاح کی شرط لازمی ہے۔ توبہ کے ساتھ اگر اصلاح نہ ہو تو بھی انابت الی اللہ نامکمل ہے۔ گناہ روح کی بیماری ہے، ضمیر اس بیماری کی نشاندہی کرنے والا خیر خواہ ہے جیسے تکلیف جسمانی ہو تو درد محسوس ہوتا ہے، بیماری کا علاج نہ کیا جائے تو بیماری بڑھ جاتی ہے۔ اسی طرح ضمیر کی آواز پہ کان نہ دھرے جائیں اور گناہ پہ نادم نہ ہوا جائے، تو بہ و اصلاح نہ کی جائے، تو روح کی بیماری بڑھتی جاتی ہے۔
انسانوں کے درجات کے مطابق ان کا احساسِ ندامت ہوتا ہے ۔انبیا علیہم السلام اپنے مشن میں معصوم عن الخطاء ہوتے ہیں۔ ان کے دل پہ غبار بھی ان کو دن میں ۱۰۰ مرتبہ استغفار کی طرف مائل کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’امور حیات میں مشغولیت کی وجہ سے میرے دل پہ ایک پردہ سا آجاتا ہے۔ اس لیے میں دن میں اللہ سے سو مرتبہ مغفرت طلب کرتا ہوں‘‘۔ (سنن ابی داؤد، حدیث:۱۵۱۱)
صدیقین و صالحین کو اپنی ذرا سی غفلت پہ پشیمانی و فکر مندی کا احساس ہر احساس پہ غالب آجاتاہے۔ صحابہ کرامؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں اور گھر میں اپنی مختلف قلبی کیفیات کا سوچ کر فکر مند ہو کر روتے بلکتے اپنے محبوب کے پاس پہنچتے ہیں کہ شاید یہ قلبی کیفیات کا تفاوت ان کو منافق بنا رہا ہے۔ یہی وہ فرق ہے جو مومنوں کے درجات متعین کرتا ہے ۔ صحابہ کرامؓ جن کو دنیا میں جنت کی بشارت سنا دی گئی تھی وہ معمولی خطائوں پر بھی ندامت کا اظہار کرتے رہتے اور مسلسل استغفار ان کا معمول تھا۔
اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچنے کا احساس رکھنے والے اپنی خطا پہ فوراً متنبہ ہو جاتے ہیں اور اپنے قصور پہ معافی مانگتے اور آئندہ کے لیے محتاط ہو جاتے ہیں تو اللہ علیم و حکیم انھیں معاف فرما دیتے ہیں:
اِنَّمَا التَّوْبَۃُ عَلَي اللہِ لِلَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ السُّوْۗءَ بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ يَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِيْبٍ فَاُولٰۗىِٕكَ يَتُوْبُ اللہُ عَلَيْھِمْ۰ۭ وَكَانَ اللہُ عَلِــيْمًا حَكِـيْمًـا۱۷(النساء۴:۱۷) اللہ انھی لوگوں کی توبہ قبول کرتا ہے جو نادانی کی وجہ سے کوئی برائی کرلیں تو پھر فوراً ہی ا س سے باز آجائیں اور توبہ کرلیں تو اللہ ان کی طرف متوجہ ہو جاتاہے۔ اللہ بہت علم والا اور حکمت والا ہے۔
گناہ ہو جائے تو معافی اور فرماں برداری میں جلدی اور شدتِ احساس ہی آئندہ کے لیے گناہ سے بچاسکتا ہے۔ جب انسان قصوروار ہوتا ہے اور اللہ کی نافرمانی کرتا ہے تو بندے اور اللہ کے درمیان ایک حجاب حائل ہو جاتا ہے۔ جتنی جلدی کوئی توبہ کرکے اصلاح کرلے تو یہ حجاب دُور ہوجاتا ہے۔ جب خطا کار یہ حجاب دُور نہیں کرتا تو اس کا دل حجاب در حجاب میں چھپتا چلا جاتا ہے اور یہ حجاب دل کی بیماریوں کا سبب و بیج بن جاتا ہے۔اگر وہ بندہ گناہ چھو ڑکر اللہ سے معافی مانگتا ہے اور توبہ کرتا ہے تو اس کا دل صاف ہو جاتا ہے۔ اگر وہ گناہ کا اعادہ کرے تو سیاہ نشان کا اضافہ ہوجاتا ہے یہاں تک کہ سارا دل (سیاہ نشان سے) ڈھک جاتا ہے ۔ (ترمذی، حدیث: ۳۳۳۴)
یہی ’ران‘ ہے جس کا ذکر قرآن میں ہے:
كَلَّا بَلْ ۰۫ رَانَ عَلٰي قُلُوْبِہِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ۱۴(المطففین۸۳ :۱۴) ہرگز نہیں بلکہ دراصل ان لوگوں کے دلوں پہ ان کے بُرے اعمال کا زنگ لگ گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے جسم کے ہر عضو کی کوئی خاصیت اور اس کا کام مقرر فرمایا ہے۔ ہاتھ، پائوں، زبان، آنکھ اور کان کا اپنا کام ہے۔ اسی طرح دل کا اصل کام ربّ العزت کی خشیت طاری رکھنا ہے اور دل جسم میں سب سے اعلیٰ اور افضل عضو ہے۔ اس کی یہ فضیلت ربّ العزت کی محبت سے مامور ہونے کی بنا پر ہے۔ دل کا کام حقیقت میں اپنی اصل فطرت کے لحاظ سے ہدایت کو قبول کرنا ہے۔ دل کا اللہ کے ذکر سے مامور رہنا ہی اس کی زندگی اور اطمینان ہے : اَلَا بِذِكْرِ اللہِ تَطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُ۲۸ۭ۔ طبعی خواہشات اور شہوات کی پیروی کی بنا پر دل پر غفلت طاری ہوجاتی ہے۔
دل کی نگری میں فرشتوں اور شیطان کی ہر وقت کش مکش جاری رہتی ہے۔ جب تک کوئی ایک دوسرے پہ غالب نہ آجائے، یہ اُتار چڑھائو ہروقت جاری رہتا ہے۔ قلب کے معنی ہی متحرک اور ہرآن انقلابی کیفیت طاری رہنے کے ہیں۔ اس انقلابِ خیر و شر پہ ہی انسان کا عمل موقوف ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے یہ ٹھیک ہو تو سارا جسم ٹھیک ہوتا ہے۔ اس میں بگاڑ ہو تو سارے جسم میں بگاڑ پید اہو جاتا ہے۔ سنو وہ گوشت کا لوتھڑا دل ہے۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث:۸۶۴)
نیکی و بھلائی پہ ثابت قدم رہنے یا انکار کرنے میں دل تین طرح کے ہوتے ہیں:
اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللہُ ثُمَّ اسْـتَقَامُوْا تَـتَنَزَّلُ عَلَيْہِمُ الْمَلٰۗىِٕكَۃُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَبْشِرُوْا بِالْجَنَّۃِ الَّتِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ۳۰ نَحْنُ اَوْلِيٰۗــؤُكُمْ فِي الْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَۃِ۰ۚ (حٰم سجدہ۴۱:۳۰-۳۱)جن لوگوں نے کہا اللہ ہی ہمارا ربّ ہے اور اس پہ ثابت قدم رہے یقیناً ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ نہ ڈرو، نہ غم کھائو اور خوش ہو جائو، کہ تمھارے لیے اس جنت کی بشارت ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔ ہم دنیا و آخرت میں آپ کے دوست و مددگار ہیں۔
انھی لوگوں پہ شیطان کے وار کامیاب نہیں ہوتے، ان سے شیطان مایوس ہو چکا ہوتا ہے کیونکہ وہ پہلے ہی تسلیم کر چکا ہے کہ ’’تیرے مخلص بندوں پر میرا زور نہیں چلے گا۔‘‘ (الحجر ۱۵:۴۰)
شیطان کے اصل ہدف وہ دل ہیں جو ہر لمحہ اور ہروقت برسرِپیکار ہیں۔ ’کھینچے ہے مجھے کفر تو روکے ہے مجھے ایماں‘ کی کیفیت میں مبتلا رہتے ہیں۔ ہم مسلمانوں کی اکثریت اسی گروہ سے تعلق رکھتی ہے۔ شیطان کی طرف سے خواہشاتِ نفس، دنیا کی محبت اور اس کی دل فریبیوں میں مگن ہوجانے کے لیے پھیلائے ہوئے خوب صورت جال، اور اللہ رب العزت کی طرف سے دل میں ڈالا گیا نیکی کا جذبہ و خیال، دونوں میں ایسی مسلسل کش مکش ہے کہ جس سے کسی کو مفر نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے ’ضمیر‘ کی شکل میں انسان کو ایسا خیر خواہ عطا فرمایا ہے جو نیکی کی طرف اسے متوجہ ایسے کرتا ہے جیسے خوشبو کا جھونکا۔ اگر اس لمحے کو کھو دیا تو پھر شیطان اس نیکی کے خیال کو وسوسے کی نذر کر دے گا جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ اور بندے کے درمیان حجاب آجائے گا۔ اس کا علاج یہ ہے:
وَاِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللہِ۰ۭ اِنَّہٗ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۲۰۰ اِنَّ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّہُمْ طٰۗىِٕفٌ مِّنَ الشَّيْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَا ہُمْ مُّبْصِرُوْنَ۲۰۱ (الاعراف۷:۲۰۰-۲۰۱) اور اگر کبھی شیطان وسوسہ ڈال کر اکسائے تو اللہ کی پناہ مانگو وہ سب کچھ جاننے اور سننے والا ہے۔ حقیقت میں تقویٰ والے یہ طرز عمل اختیار کرتے ہیں کہ کبھی شیطان کے اثر سے بُرا خیال ان کو چھو کر بھی گزرے تو وہ فوراً چوکنے ہو جاتے ہیں اور پھر انھیں صاف نظر آنے لگتا ہے کہ صحیح طریق کار کیا ہے؟
شیطانی وساوس سے ہوشیار اور چوکنا رہنا، برائی کرنے سے باز آجانا یا برائی کرلینے کے بعد توبہ کرلینا‘ حتیٰ کہ نزع کے عالم سے پہلے پہلے ہی توبہ کی توفیق مل جانا بھی انسان کی کامیابی ہے۔ البتہ کامیاب لوگوں کے درجات ضرور مختلف ہوسکتے ہیں۔ بُرائی کا احساس چھو لینے پہ ہی دل توبہ کی طرف مائل ہو جائے تو یہ دراصل عظیم لوگوں کی نشانی ہے۔ ان لوگو ں کو غلطی یا گناہ کے چھوٹے ہونے کی بجائے اس اللہ ربّ العزت کے عظیم ترین مرتبے کا علم ہوتا ہے جس کی نافرمانی ہورہی ہوتی ہے۔ اسی لیے گناہ کا خیال آجانا بھی ان کے لیے باعثِ ندامت ہوتا ہے اور اس کے لیے بھی وہ اپنے ربّ سے معافی کے خواستگار رہتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں اللہ تعالیٰ اپنے شایانِ شان جن سے محبت کرتا ہے۔ کسی سے گناہ سرزد ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کی نظر میں پسندیدہ بندہ وہ ہے جو اپنے ربّ کے حضور فوراً معافی کی درخواست پیش کردے۔ وہ غفور و رحیم ہے۔ وہ اپنے بندوں کے گناہ معاف کرنے پر ہر لمحہ تیار ہے اور منتظر ہے کہ گنہگار اس کی طرف پلٹ آئیں:
وَمَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا اَوْ يَظْلِمْ نَفْسَہٗ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللہَ يَجِدِ اللہَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا۱۱۰ (النساء ۴:۱۱۰ ) جو شخص برائی کرے یا اپنی جان پر ظلم کر بیٹھے تو اللہ سے استغفار کرے وہ اللہ کو بخشنے والا مہربان پائے گا۔
وَالَّذِيْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً اَوْ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ ذَكَرُوا اللہَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِھِمْ۰۠ وَمَنْ يَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللہُ۰ۣ۠ وَلَمْ يُصِرُّوْا عَلٰي مَا فَعَلُوْا وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ۱۳۵
(اٰل عمرٰن ۳:۱۳۵) جب ان سے کوئی ناشائستہ کام ہو جائے یا گناہ کربیٹھیں تو فوراً اللہ کو یاد کرتے اور اللہ سے استغفار کرتے ہیں۔ فی الواقع اللہ کے سوا کون ہے جو گناہوں کو معاف کرسکتا ہے۔ (اور ان کی خوبی یہ ہے کہ ) اپنے برے کام پہ اصرار نہیں کرتے، اور جانتے بوجھتے بُرے کام کو کرنے پر ہٹ دھرمی اختیار نہیں کرتے۔
گویا کہ اللہ تعالیٰ کے ناپسندیدہ بندوں کی یہ نشانی ہے کہ وہ شیطانی طرز عمل اختیار کرتے ہیں، یعنی اپنے قصور کو نہ ماننا، شرمندہ نہ ہونا، اپنی غلطی کو درست قرار دینے کے لیے بے سروپا دلائل دینا، گناہ اور غلطی پہ استغفار نہ کرنا، بندوں سے معذرت کرنے کو حقیر جاننا، بدلحاظ و بے مروت ہوجانا، جانتے بوجھتے اپنی غلطی‘ نافرمانی اور گناہ پر اَڑ جانا۔ اس کے علاوہ شیطانی طرز عمل یہ بھی ہے کہ اپنی کمزوریوں، گناہوں اور جرائم کو افشا ہوتے دیکھ کر زخمی اَنا کے غرورِ نفس میں مبتلا ہو کر ظالمانہ رویہ اختیار کرلینا۔ ایسا خطرناک ہوجانا جیسا کہ زخمی سانپ خطرناک ترین ہو جاتا ہے۔ تکبر و غرور کے غبارے میں جب ہوا بھرجاتی ہے تو متکبرین میں شیطانی روح بدرجۂ اَتم بیدار ہو جاتی ہے ۔ حسد، بغض و عناد، انتقام، کینہ اسی تکبر کا ہی نتیجہ ہوتا ہے۔ ان روحانی بیماریوں کے نتیجے میں انسان ذہنی امراض کا شکار ہو جاتا ہے۔ ذہنی ونفسیاتی بیماری بالآخر جسمانی آزار میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
قصۂ آدم و ابلیس میں انسانی زندگی کی تعمیر و تخریب کا یہی رازہے کہ اگر اولادِ آدم اپنے والدین (آدم و حوا) کے نقش قدم پر چلے گی، یعنی اللہ کی نافرمانی اور حقوق العباد میں کوتاہی ہو جانے کے بعد توبہ و انابت کا طرزِعمل اختیار کرے گی اور اپنی اصلاح کرلے گی، تو جنّت میں ان کے ساتھ رہے گی اور ان کے لیے مغفرت طلب کرنے والے فرشتے سلام و مرحبا کے ساتھ ان کا استقبال کریں گے ۔اگر شیطان کا متکبرانہ طرزِ عمل اختیار کرے گی تو شیطان کے ساتھ جہنم کو اپنا ٹھکانہ پائے گی، کیونکہ ’’ہر شخص اپنے ہی کیے ہوئے اعمال کے بدلے گروی ہے‘‘۔ (المدثر ۴۷:۳۸)
عمل سے زندگی بنتی ہے جنّت بھی جہنّم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے