مارچ ۲۰۲۶

فہرست مضامین

اسلامی اقتصادیات : سرمایہ دارانہ نظامِ معیشت کی نقیض -۲

ڈاکٹر اَسعدزمان | مارچ ۲۰۲۶ | نظامِ حیات

Responsive image Responsive image

قسط اوّل کا خلاصہ: گذشتہ قسط میں یہ واضح کیا گیا تھا کہ اسلامی معاشیات سرمایہ دارانہ نظام کی محض اصلاح شدہ صورت نہیں، بلکہ ایک اصولی اور تہذیبی متبادل ہے۔ مغربی معاشی فکر کو اس کے تاریخی پس منظر میں سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ وہ مخصوص یورپی حوادث کی پیداوار ہے، نہ کہ کوئی ماورائے تاریخ آفاقی سائنس۔ نیز یہ کہ اسلامی معاشیات کا ظہور نوآبادیاتی دور کے بعد ایک زندہ اجتہادی ضرورت کے طور پرہوا، اور اس کی فکری تشکیل مختلف مراحل یا نسلوں سے گزرتی رہی ہے۔(مقدمہ:گذشتہ سے پیوستہ)  

۱- مغربی فکر کو سمجھنا کیوں ضروری ہے؟ 

سردست یہ بات غیرضروری ___ بلکہ بعض کے نزدیک گمراہانہ ہوسکتی ہے کہ مسلمان مغربی سماجی نظریات کا مطالعہ کریں۔ اگر اسلامی تعلیمات زندگی کے تمام پہلوئوں پر جامع رہنمائی فراہم کرتی ہیں، اور اگر مغربی فلسفے اُن لادینی اُصولوں پر مبنی ہیں جو عموماً اسلامی اقدار سے متصادم ہیں، تو پھر ایسی فکری روایت کا مطالعہ کرنے کی آخر ضرورت ہی کیا ہے جس کی خامیاں پہلے سے واضح ہیں؟ 

یہ اعتراض اپنی جگہ قابلِ فہم ہے، لیکن ایک نہایت اہم حقیقت کو نظر انداز بھی کر دیتا ہے۔ مغربی فکر صرف ایک عقلی نظریاتی نظام نہیں، بلکہ جدید دنیا کا معمار ہے۔ وہ ادارے، قوانین، معاشی ڈھانچے اور تعلیمی نظام جن کے ہاتھوں میں آج مسلم دنیا کی لگام ہے، ان سب کی بنیاد ان افکار پر ہے جو یورپ کے تاریخی تجربات کی کوکھ سے پیدا ہوئے تھے۔ لہٰذا، کسی حقیقی اصلاح کا پہلا قدم یہی ہے کہ ان نظریات کو سمجھا جائے۔اس ضرورت کی کم از کم چار بنیادی وجوہ ہیں: 

الف: عالمِ اسلام میں نوآبادیاتی اداروں کی گہری بنیادیں  

یورپی نوآبادیات نے صرف زمینوں پر قبضہ نہیں کیا، بلکہ مسلم معاشروں کے ادارہ جاتی ڈھانچوں کو اَزسرِ نو تشکیل دیا۔قانونی اصول و ضوابط بدلے گئے، تعلیمی نظام نئے سانچوں میں ڈھالے گئے، بیوروکریسی کے نئے طریقے متعین کیے گئے، اور معاشی پالیسیوں کو ازسرِ نو مرتب کیا گیا۔ اور یہ سب مغربی معیارات کے مطابق تشکیل دیا گیا۔آزادی کے بعد بھی یہ ادارے جوں کے توں برقرار رہے۔ ان کی نظریاتی بنیادوں کو سمجھنے کی طرف ذرّہ برابر توجہ نہیں کی گئی۔  

اصل بات یہ ہے کہ ادارے کسی معاشرے کے اجتماعی مقاصد کو عملی صورت دیتے ہیں، اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ اختیار کس کے پاس ہو، وسائل کس سمت کا رخ کریں، اور نظم کس کے مفاد میں قائم رہے؟ نوآبادیاتی دور میں جو ادارے یہاں قائم کیے گئے، ان کا بنیادی مقصد ’وسائل اور محاصل کا اخراج‘ تھا یعنی ایسا انتظام جس کے ذریعے پیداوار، زمین اور محنت کے ثمرات نوآبادیاتی حکمرانوں تک منتقل ہوں۔ آزادی کے بعد ان اداروں کا رخ کم و بیش وہی رہا۔ اب محاصل اور وسائل کا بہاؤ بیرونی حکمرانوں کے بجائے اندرونی اشرافیہ (خصوصاً وہ طبقہ جو انھی اداروں کے اندر تربیت پاتا اور انھی کے ذریعے اقتدار پاتا ہے) کی طرف ہوگیا۔ ان اداروں کے مقاصد سے آگاہ ہوئے بغیر جب تک انھی کے سانچوں میں رہتے ہوئے ’اصلاح‘ کی کوششیں کی جاتی رہیں گی، اسلامی اہداف کا حصول محدود یا بے معنی رہے گا۔ حقیقی اصلاح کا آغاز تو درست تشخیص سے ہوتا ہے۔ 

ب: سماجی نظریات اور اداروں کی سمت متعین کرنے کی صلاحیت 

سماجی نظریات کا کام فقط تفہیمِ عصر حاضر میں معاونت کرنا نہیں ہے۔ وہ یہ بھی طے کرتے ہیں کہ ترقی کا معیار کیا ہے، کون سے نتائج مطلوب ہیں، اور کن ذرائع کو جائز سمجھا جائے گا؟ مثال کے طور پر مغربی معاشیات میں اکثر اوقات بنیادی مقصد ’تکثیرِ افادہ‘ یا ’شرحِ نمو‘ میں اضافہ ہوتا ہے۔یہ تصور ایسے ادارے پیدا کرتا ہے، جو انھی اہداف کی خدمت کرتے ہیں، جیسے بینک اور اسٹاک مارکیٹیں وغیرہ۔ جب یہ ادارے عوام کی رگ و پے میں سرایت کر جاتے ہیں، تو رفتہ رفتہ رویّے، توقعات اور اقدار بھی انھی کے مطابق ڈھلنے لگتی ہیں۔ 

اسلامی اقدار کا رخ بالکل مختلف ہے۔ اسلام میں دولت امانت ہے، ملکیت نہیں۔ معاشی سرگرمی کا مقصد عدل، باہمی منفعت اور سماجی فلاح ہونا چاہیے۔ اسلامی تہذیب کے ادارے زکوٰۃ، وقف، اخلاقی تجارت انھی اصولوں کی ترجمانی کرتے ہیں۔ لیکن یہ اہداف ان اداروں کے ذریعے حاصل نہیں ہو سکتے، جو سیکولر اور انفرادی مفادات کے حصول کے لیے بنے ہوں۔ 

آج کل کی غالب معاشی پالیسیوں میں کامیابی کا معیار عموماً مجموعی پیداوار اور دولت کے حجم میں اضافے کو سمجھا جاتا ہے ،جب کہ دولت کی منصفانہ تقسیم، بنیادی ضروریات کی فراہمی، اور کمزور و محروم طبقات کے حالات پس منظر میں رہتے ہیں۔اس کے برعکس اسلام میں معاشرہ اپنے ہر فرد کی کفالت کا اجتماعی طور پر ذمہ دار ہے، اور کسی نظام کی جانچ اس بنیاد پر کی جاتی ہے کہ کتنے لوگ بھوک، محرومی اور عدمِ تحفظ کا شکار رہے، اور یہ کہ وسائل عدل کے ساتھ پھیلے یا چند ہاتھوں میں سمٹ کر رہ گئے۔ 

اس رُخ کو بدلنے کے لیے سب سے پہلے یہ سمجھنا ناگزیر ہے کہ موجودہ معاشی نظام کن نظریات، معیارات اور ادارہ جاتی طریقوں کے ذریعے ہمارے اجتماعی شعور اور عملی فیصلوں کو ایک خاص سمت میں دھکیل رہا ہے۔ مغربی معاشیات اور اس سے وابستہ اداروں کا مطالعہ اسی تشخیص کے لیے ضروری ہے تاکہ اصلاح کی کوششیں محض نیک نیتی کا اظہار نہ رہیں، بلکہ درست ہدف کا رُخ کریں۔  

ج:منزل کے شعور سے حکمتِ عملی تـک: پہلا عملی قدم  

عصرِ حاضر کی اسلامی تحریکوں میں عموماً منزلِ مقصود کی تعیین و تو ضیح کی جاتی ہے۔ یعنی اس بات کے اظہار پر زور دیا جاتا ہےکہ ایک مثالی اسلامی معاشرہ کیسا ہونا چاہیے؟ اس کے اصول، خدوخال اور ثمرات کیا ہوں گے؟ یہ زور بجا ہے، کیونکہ کسی بھی بڑی تبدیلی کے لیے مقصد کا واضح ہونا ناگزیر ہے۔ مگر اس کے ساتھ ایک اور سوال بھی برابر اہم ہے: ہم موجودہ حالات سے اُس منزل کی طرف پہلا قابلِ عمل قدم کیسے اٹھائیں؟ محض نقشۂ منزل کافی نہیں، راستے کی عملی ترتیب اور ابتدا کی سمت بھی متعین ہونی چاہیے۔  

اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے خلافت کی بحالی کی دعوت ایک عمدہ مثال ہے۔ اس کے حامیان اس کی شرعی بنیادوں اور تاریخی افادیت کو نمایاں کرتے ہیں۔ یہ پہلو اپنی جگہ اہم ہے، مگر آج کی دُنیا میں اصل سوال یہ ہے کہ موجودہ صورتِ حال میں اس سمت بڑھنے کے ابتدائی عملی اقدامات کیا ہوسکتے ہیں؟ آج امت سیاسی سرحدوں، ریاستی مفادات، اور قومیت کے سانچوں میں بٹی ہوئی ہے۔ اس منتشر صورتِ حال کو نظرانداز کر کے وحدت کی کوئی بھی عملی صورت پیدا نہیں ہو سکتی۔ وحدت کا راستہ تبھی نکل سکتا ہے جب ہم رکاوٹوں کو دُور کرنے کے لیے تدریجی اور قابلِ عمل حکمت عملی اختیار کریں۔ 

اس تناظر میں سب سے بڑی رکاوٹ جدید قومی ریاست کا وہ تصور ہے، جو موجودہ عالمی نظام کی بنیاد بن چکا ہے اور جس نے مسلمانوں کے اجتماعی شعور اور سیاسی امکانات کو سرحدوں کے اندر محصور کر دیا ہے۔ اس لیے پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ ہم ایسی فکری اور ادارہ جاتی صورتیں تلاش کریں، جو ان حد بندیوں سے بلند ہو کر امت کے باہمی ربط اور تعاون کو مضبوط کریں، مثلاً علمی مکالمہ، مشترکہ عوامی شعور کی تشکیل، باہمی تعاون کے سلسلے، اور مشترکہ مقاصد پر عملی اشتراک۔ عويمر انجم کی اُمّاتکس جیسی کاوشیں اسی سمت اشارہ کرتی ہیں کہ آج وحدت کا سوال نئے فکری سانچوں اور نئے عملی راستوں کا متقاضی ہے۔ 

یہاں اصلاح کے باب میں ایک بنیادی امتیاز کو سمجھنا ضروری ہے، اور وہ ہے منصوبہ بندی اور حکمت عملی کا فرق۔ منصوبہ بندی میں منزل متعین کر کے وہاں تک پہنچنے کے مراحل ترتیب دیے جاتے ہیں، مگر حکمت عملی اس وقت ناگزیر ہو جاتی ہے جب راستے میں فعال مزاحمت موجود ہو، یعنی ایسے مفادات، ادارے اور طاقت کے مراکز جو تبدیلی کو اپنے لیے خطرہ سمجھ کر اس کے خلاف ردِ عمل دکھائیں۔ یہ شطرنج کی بساط کی مانند ہے، اپنی چال سوچنا کافی نہیں، بلکہ مخالف کی ممکنہ چالوں کو بھی پیشِ نظر رکھنا پڑتا ہے۔اسی لیے حقیقی اصلاح کا آغاز صرف اس سوال سے نہیں ہوتا کہ ہم کیا چاہتے ہیں، بلکہ اس سے ہوتا ہے کہ ہم اس وقت کہاں کھڑے ہیں، طاقت کے مراکز کہاں ہیں، اور موجودہ نظام کن فکری مفروضات اور ادارہ جاتی ڈھانچوں کے ذریعے خود کو قائم رکھے ہوئے ہے؟ جب تک جدید بندوبست بالخصوص ریاست، معیشت اور علم کے مغربی سانچوں کی قوت و کمزوری کی درست تشخیص نہ کی جائے، نہ کوئی مؤثر منصوبہ بنایا جا سکتا ہے اور نہ قابلِ عمل حکمت عملی۔ اسی لیے مغربی فکر اور موجودہ نظام کا مطالعہ محض نظری مشغلہ نہیں، بلکہ اصلاح کی ایک عملی اور ناگزیر ضرورت ہے۔ 

د: تعلیم کے تقاضے اور حکمتِ عملی 

جدید تعلیمی نظام عموماً اس نہج پر استوار ہے کہ وہ مغربی سماجی علوم کو ’معروضی‘، ’قدر سے ماورا‘ اور ’آفاقی حقیقت‘ کے طور پر پیش کرتا ہے ۔ اس عمل میں طلبہ صرف چند نظریات یا اصطلاحات نہیں سیکھتے، بلکہ رفتہ رفتہ ایک خاص تصورِ علم بھی اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں۔ ایسا تصور جس کے تحت اجتماعی زندگی کی تشکیل مذہبی و اخلاقی رہنمائی کے بجائے ایک نام نہاد غیرمذہبی ’عقل‘، تکنیکی مہارت اور پالیسی ساز اداروں کے سپرد کر دی جاتی ہے۔ اسی ذہنی سانچے میں اسلامی متبادل اکثر یا تو محض ایک جذباتی نعرہ بن کر رہ جاتا ہے، یا مغربی اداروں پر ایک سطحی سا ’اسلامی ملمّع‘ چڑھا دینے کی کوشش۔ 

اس فکری گرفت سے نکلنے یعنی حقیقی فکری آزادی اور تخلیقی متبادل کی صلاحیت پیدا کرنے کا ایک مؤثر راستہ یہ ہے کہ مغربی نظریات کو ان کے تاریخی پس منظر میں سمجھا جائے۔ جب ہم یہ جان لیتے ہیں کہ یورپ میں یہ تصورات کن حالات میں ابھرے (مذہبی تنازعات، کلیسائی اقتدار، ریاستی تشکیل، سرمایہ داری کا فروغ، اور ایک ’سیکولر‘ اجتماعی نظم کی جستجو) تو ’آفاقیت‘ کا طلسم خود بخود ٹوٹنے لگتا ہے۔ نظریات ’ہمیشہ کے لیے سچ‘ نظر آنے کے بجائے اپنے عہد کے مخصوص سوالات کے جوابات بن کر سامنے آتے ہیں۔ اسی تاریخی شعور سے یہ حقیقت بھی منکشف ہوتی ہے کہ بہت سے مغربی حل ہماری اجتماعی صورتِ حال پر جوں کے توں لاگو نہیں ہو سکتے، کیونکہ ہمارے ہاں علم اور وحی کے درمیان وہ تصادم کبھی اسی صورت میں موجود نہیں رہا جس کی وجہ سے یورپ میں ’لادینی نظمِ اجتماع‘ ناگزیر شکل اختیار کر گیا۔  

اسی لیے تعلیم کا بنیادی فریضہ یہ ہونا چاہیے کہ طلبہ کو تربیت دی جائے کہ وہ نظریات کو تاریخی تناظر میں پرکھ سکیں، ان کے اخلاقی اور سیاسی مفروضات کو پہچانیں، اور یہ سمجھ سکیں کہ وہ کن اداروں اور کن عملی نتائج کو جنم دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ نئی نصاب سازی اور نئے علمی بیانیوں کی ضرورت بھی ناگزیر ہے۔ ایسے بیانیے جو اسلامی نقطۂ نظر کو محض ردِّ عمل یا تقلید کے طور پر نہیں، بلکہ ایک خود مختار، اصولی اور ہمہ گیر فکری نظام کے طور پر پیش کریں، اور اسی بنیاد پر ادارہ سازی کی راہیں ہموار کریں۔ 

سیاسی اور سماجی حکمتِ عملی بھی اسی فکری پختگی پر قائم ہوتی ہے۔ پائیدار اصلاح نہ محض خواہش سے جنم لیتی ہے اور نہ محض مذمت سے۔ اس کے لیے درست تشخیص، تدریجی پیش رفت، اور صبر آزما ادارہ جاتی عمل درکار ہوتا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ہم کیا چاہتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم ایسے ادارے کیسے تشکیل دیں جو اسلامی مقاصد یعنی عدل، کفالت، امانت اور فلاحِ عامہ وغیرہ کو جدید دنیا کی پیچیدگیوں میں بھی مؤثر صورت دے سکیں؟ 

اسی زاویۂ نظر سے کتاب کے آئندہ ابواب میں ہم یہ جائزہ لیں گے کہ مسلمان مفکرین نے مختلف ادوار میں کس طرح ایک ایسی اسلامی معیشت کی تشکیل کی کوشش کی، جو شریعت کے اصولوں سے ہم آہنگ بھی ہو اور عصرِ حاضر کے عملی تقاضوں کا سامنا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہو۔ یہ فکری سفر تین بڑے مراحل یا نسلوں پر مشتمل ہے، جن میں سے ہر ایک نے اپنے تاریخی سیاق میں اسلامی معاشیات کی تعمیر میں حصہ ڈالا اور مستقبل کے لیے اہم اسباق چھوڑے۔ 

۷- مخاطَب کی تبدیلی اور فکری تناظر کی توضیح (اسلام اور مغربی روایت) 

جیساکہ پہلے بتایا جاچکا ہے کہ اس تحریر کے اوّلین مخاطب سیکولر افراد اور انگریزی خواں طبقے تھے، بالخصوص وہ لوگ جو اسلامی تعلیمات سے ناواقف ہیں۔ اس کا مقصد اسلام کا وہ مثبت اور متوازن تصور پیش کرنا تھا، جو اسلامی فکر، انسانی سماج کی تنظیم کے معروف مغربی طریقوں کے مقابل ایک مربوط اور اصولی متبادل فراہم کرتا ہے۔ اسی غرض سے یہ بھی واضح کیا کہ اسلامی معیشت اخلاقی بنیادوں پر قائم اُن مغربی روایتوں سے بھی ہم آہنگ ہےجو، روشن خیالی کی لادینی فکری لہر سے قبل، انسانی زندگی کے روحانی و اخلاقی پہلوؤں کو اجتماعی فلاح کا حصہ سمجھتی تھیں۔ یوں اس کتاب نے مغربی قارئین کو یہ دعوت دی کہ اسلام کو اجنبی نہ سمجھیں، بلکہ انسانیت کی اُس مشترکہ جستجو کے شریک کے طور پر دیکھیں جو عدل، امن اور صداقت کی تلاش میں مصروف ہے۔ 

البتہ اس اردو ترجمے کا مخاطب ایک مختلف طبقہ ہے، یعنی وہ مسلمان جو اسلام کی صداقت پر ایمان رکھتے ہیں، لیکن یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ عصرِ حاضر کے سنگین معاشرتی اور معاشی مسائل میں اسلامی اصول کس طرح راہنمائی کر سکتے ہیں؟ 

اس حلقۂ قارئین کے لیے اسلام کی معنویت پر از سرِ نو دلیل قائم کرنے کی چنداں حاجت نہیں۔ تاہم، ان کو یہ بتلانا مقصود ہے کہ موجودہ حالات کی تنگنائیوں میں رہتے ہوئے ایک عادلانہ اور اخلاقی معاشی نظام کی تشکیل میں اسلامی اصول و قوانین کیسے ہمارے ہادی بن سکتے ہیں؟ اس طرح یہ کتاب مسلمان مخاطبین کی معاونت کرے گی اور انھیں بتلائے گی کہ خود ان کے لیے بھی یہ ناگزیر ہے کہ وہ مغربی فکر کو سمجھیں اور یہ جان سکیں کہ وہ انسانی فطرت سے کب اور کیوں جدا ہوئی؟ 

اس مطالعے کے ذریعے یورپ کے مذہب سے بیزاری کے سفر اور اس کے نتیجے میں سیکولر نظریات کے ظہور سے واقف ہونے پر، مسلمانوں کے سامنے یہ حقیقت منکشف ہو جائے گی کہ مغربی معیشت کوئی آفاقی سائنس نہیں، بلکہ یورپ کے مخصوص بحرانوں کا ایک مقامی ردِعمل ہے۔ یہ ادراک مسلمانوں کے اندر اپنے فکری ورثے پر اعتماد کی نئی راہیں کھولے گا، اور انھیں یہ سمجھنے میں مدد دے گا کہ اسلامی معیشت دراصل ایک خودمختار اور جداگانہ روایت ہے، نہ کہ مغربی نظام کی کوئی شاخ یا ذیلی شکل۔ 

دونوں نظاموں کے مابین تفاوت اصولی درجے کا ہے۔ اس اختلاف کی گہرائی کو ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے: جب یورپ نے مذہب اور خدا کو اجتماعی زندگی سے بے دخل کر دیاتو وہاں کے اہلِ نظر کے حلقوں میں یہ رجحان مضبوط ہوگیا کہ ’’انسانی کامیابی کا معیار دنیاوی منفعت، لذت اور خواہشات کی تکمیل ہے‘‘۔ یہی مفروضہ مغربی معیشت کے قلب میں پیوست ہے، اور اسی نے انسانی رویّے اور معاشرتی ترقی سے متعلق تمام مغربی نظریات کو تشکیل دیا ہے۔ 

اس کے برعکس قرآن لذت کی طلب کو ’نفس پرستی‘ کہہ کر رَد کرتا ہے، اور انسان کو بلند تر مقاصد یعنی ’’عدل، جذبۂ رحم، روحانی بلندی اور بندگیِ خدا کی طرف بلاتا ہے‘‘۔ یہی بنیادی اختلاف اس امر کو واضح کرتا ہے کہ ’اسلامی معیشت‘ اور ’سرمایہ دارانہ معیشت‘ محض ایک ہی نظام کے دو رُخ نہیں، بلکہ ایک دوسرے سے براہِ راست متضاد تصورات ہیں۔ 

اس پورے مباحثے میں یہ کلیدی نکتہ ذہن سے محو نہیں ہونا چاہیے کہ افکار کو تاریخی تناظر میں سمجھنا ناگزیر ہے۔ جس طرح مغربی نظریات یورپ کے اپنے داخلی بحرانوں کا جواب تھے، اسی طرح اسلامی اقتصادیات جدید دور میں مسلمانوں کے مسائل کے حل کے طور پر ابھر کر سامنے آرہی ہے۔ اس زاویے سے دیکھا جائے تو ایک خالص اسلامی متبادل کی گنجائش نہ صرف واضح بلکہ ممکن اور ناگزیر دکھائی دینے لگتی ہے۔ 

۸-اسلامی اقتصادیات: تعریف، ماخذ اور تاریخی ظہور 

’اسلامی معاشیات‘ سے مراد یہ ہے کہ قرآن و سنت کی دائمی ہدایات (عدل، امانت، تعاون، اور ظلم کی ممانعت) کو عصرِ حاضر کے نئے معاشی حالات میں کس طرح نافذ کیا جائے کہ دولت کی پیداوار اور تقسیم انسانیت کے لیے خیر کا ذریعہ بنے۔ یہی وجہ ہے کہ ’اسلامی معاشیات‘ محض ’جدید مغربی معیشت‘ کی کوئی ’اسلامی شکل‘ نہیں، اس کے اصول قدیم اور ابدی ہیں، مگر ان اصولوں کو جدید مالیاتی اداروں، کرنسی، بنکاری اور عالمی منڈی کے ماحول میں برتنے کے لیے اجتہادی بصیرت درکار ہے۔ اس پس منظر میں یہ اصطلاح جدید ضرور ہے، لیکن اس کی روح اسلام کے آغاز ہی سے موجود ہے۔ 

’اسلامی معاشیات‘ کا ظہور اچانک یا حادثاتی طور پر بھی نہیں ہوا ہے، بلکہ ماضیِ قریب میں کچھ ایسے حالات پیش آئے جن سے نپٹنے کے لیے دھیرے دھیرے اس کی صورت گری ہوتی رہی۔ ماضی قریب میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ امت کی عظیم اکثریت نوآبادیاتی تسلط کے زیرِ نگیں آگئی، اور وہ معاشی و سماجی ادارے شکست و ریخت کا شکار ہوگئے، جو صدیوں سے اسلامی معاشرے کے مقاصد اور اقدار کو مجسم کیے ہوئے تھے۔ نوآبادیاتی استعمار سے آزادی کے حصول کے بعد اس امر پر غور و فکر کرنے کا داعیہ پیدا ہواکہ معیشت کا نظم کس بنیاد پر استوار کیا جائے؟یہی وہ لمحہ تھا جب ’اسلامی معاشیات‘ ایک بامعنی اور منظم سوال کی صورت میں ابھری: جدید ریاست، کرنسی، بنکاری، عالمی منڈی اور نوآبادیاتی ورثے کے درمیان ہوتے ہوئے اسلامی اصولوں کے مطابق معاشی نظام کیسے تشکیل دیا جائے؟ 

یہی وہ کام تھا جس کا بیڑا ’اسلامی معاشیات‘ کی پہلی نسل نے اٹھایا یعنی اسلامی معاشرے کے معاشی خدوخال اور اس کی سمت کا تعین کرنا۔ مگر اس راستے میں جو رکاوٹیں اور پیچیدگیاں سامنے آئیں وہ اتنی نئی اور گنجلک تھیں کہ ماضی کا ذخیرۂ علم جوں کا توں کافی نہ رہا، اور نئے اجتہادی سوالات ناگزیر ہو گئے۔ 

یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ اسلامی معاشیات محض ایک نظری خاکہ نہیں، بلکہ قرآن و سنت کی رہنمائی سے جنم لینے والی ایک زندہ و آزمودہ تہذیبی روایت ہے،جس نے صدیوں تک مسلم معاشروں کی اجتماعی تنظیم کی۔ زکوٰۃ، صدقات، حقوقِ قرابت، بیت المال، بازار کی نگرانی، اور بالخصوص اوقاف جیسے ادارے اسی رہنمائی کی عملی صورتیں تھے۔ انھی کے ذریعے کمزور طبقات (غریبوں، یتیموں، بیواؤں، مسافروں) کی کفالت معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری سمجھا جاتا تھا۔ تعلیم، علاج، پانی، اور دیگربنیادی سماجی خدمات بڑے پیمانے پر خیراتی اور وقف نظام کے تحت فراہم کی جاتیں۔ عثمانی دور میں سرکاری کھاتوں میں درج اراضی کا ایک تہائی حصہ وقف تھا، اور انھی اوقاف کے سہارے مدارس، شفاخانوں، لنگر خانوں، مسافر خانوں اور رفاہی اداروں کا ایک وسیع جال قائم رہا۔ اس تاریخی تجربے کی روشنی میں اسلامی معاشیات کا بنیادی دعویٰ یہ ہے کہ دولت محض ذاتی ملکیت نہیں، بلکہ ایک امانت ہے، جس کے ذریعے معاشرے میں عدل اور کفالت کے تقاضے پورے کیے جاتے ہیں۔ 

اس کے برعکس جدید مغربی معاشیات کی فکری بنیاد اس تاریخی مرحلے میں پڑی جب یورپ نے اجتماعی زندگی کی تنظیم کے لیے مذہبی ہدایت کو خیرباد کہہ کر نام نہاد ’قدر سے ماورا عقل‘ کو رہنما بنالیا۔ جب خدا، آخرت اور یومِ حساب کو اجتماعی نظمِ حیات سے خارج کر دیا گیا، تو دنیاوی کامیابی (منفعت، لذت اور اقتدار) رفتہ رفتہ مقصدِ حیات بنتی چلی گئی، اور یہی ترجیحات جدید معاشی نظریے کے بنیادی مفروضات میں سرایت کر گئیں۔ اس تبدیلی کے ساتھ ’معاشرے‘ کا تصور بھی بدل گیا۔اسلامی روایت میں اہلِ ایمان کو ایک جسم کی مانند سمجھا جاتا ہے، جہاں ایک عضو کی تکلیف پورے بدن کی تکلیف شمار ہوتی ہے۔ اس کے برعکس جدید مغربی تصور میں سماج ایسے افراد کا مجموعہ ہے جو کسی مشترک اخلاقی مقصد پر متفق نہیں ہوتا، وہ محض ایک معاہدے کے تحت یہ طے کرتا ہے کہ باہم رہتے ہوئے کن قانونی قواعد کی پابندی کی جائے۔ 

اس طرح واضح ہو جاتا ہے کہ اسلامی معاشیات اور سرمایہ دارانہ معاشیات کا اختلاف محض چند مالی احکام یا تکنیکی تفصیلات تک محدود نہیں، بلکہ معاشرے کی ساخت، اجتماعی ذمہ داری اور مقصدِ زندگی کے بارے میں دو بنیادی اور متضاد تصورات پر قائم ہے۔ ایک تصور وہ ہے جو تعاون، کفالتِ عامہ اور اجتماعی خیر کے لیے ذاتی مفاد کی قربانی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، اور دوسرا تصور وہ ہے جو مسابقت، انفرادیت، اور دنیاوی منفعت و لذت کو پورے نظام کی محرک قوت بنا دیتا ہے۔ 

۹- اسلامی معاشیات کی علَم بردار تین نسلیں 

سیاسی آزادی کے بعد مسلم دنیا کو ایک نیا مسئلہ درپیش ہوا۔ اسلامی تاریخ میں پہلی مرتبہ اجتماعی زندگی کے بڑے ادارے (ریاست، قانون، عدلیہ) معیشت اور تعلیم کئی نسلوں تک غیر اسلامی سانچوں میں ڈھل چکے تھے، اور یہی سانچے اب’معمول‘ بن کر ذہنوں میں بھی بیٹھ گئے تھے۔ آزادی کے بعد مسلمان مفکرین کے سامنے بنیادی سوال یہ تھا: اسلامی معاشرہ دوبارہ کیسے قائم کیا جائے؟ 

اسی سوال کے جواب میں پچھلے چند عشروں میں اسلامی معاشیات کی فکری و عملی کاوشیں مختلف صورتوں میں سامنے آئیں۔حالات بدلتے رہے، تجربات کے نتائج ظاہر ہوتے گئے، اور اسی کے ساتھ مختلف مناہج بھی ارتقا پذیر رہے۔ سہولت کے لیے ان کاوشوں کو ہم تین نمایاں فکری مراحل یا ’تین نسلوں‘ میں تقسیم کر سکتے ہیں: پہلی نسل نے ایک اصولی اور انقلابی متبادل پیش کیا، دوسری نے موجودہ نظام کے اندر رہ کر تدریجی اصلاح کا راستہ اپنایا، اور تیسری نے دوبارہ بنیادوں کی طرف رجوع کرتے ہوئے نیچے سے ادارہ سازی کے ذریعے متبادل تعمیر پر زور دیا۔ 

پہلی نسل  (۱۹۵۰ء- ۱۹۷۵ء ) 

دو عظیم عالمی جنگوں نے یورپ کے لاکھوں نوجوانوں کو نگل لیا، اور نوآبادیاتی طاقتوں کو عسکری و معاشی لحاظ سے مضمحل کر کے رکھ دیا۔ یہ وہ موقع تھا جب ایشیا اور افریقہ میں آزادی کی تحریکوں کو کامیابی کا راستہ ملا، اور بعد کے عشروں میں متعدد مسلم معاشرے اپنی خودمختاری واپس حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ 

اس مرحلے پر اسلامی معیشت کے علَم بردار اہلِ دانش کی پہلی نسل سامنے آئی، اور انھوں نے سرمایہ داری، اشتراکیت اور کمیونزم کے مقابل اسلامی معیشت کو ایک انقلابی متبادل کے طور پر پیش کیا۔ انھوں نے مغربی معاشرتی و معاشی نظاموں پر بصیرت افروز تنقید کی، اور قرآن، سنت اور اسلامی تاریخ کی روشنی میں عہدِ حاضر کے لیے ایک عادلانہ اور منصفانہ خاکہ پیش کیا، جس کے ذریعے نوآبادیاتی مظالم اور معاشی استحصال سے نجات کی راہ ہموار ہو سکتی تھی۔ 

لیکن جلد ہی یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ سیاسی آزادی تو حاصل ہو گئی ، مگر اسلامی نظام کے نفاذ کا خواب پھر بھی شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکا۔ نوآبادیاتی راج اپنے پیچھے ایک ایسا مضبوط طبقہ چھوڑ گیا جو مقامی ضرور تھا، مگر ذہناً اور عملاً استعماری مفادات کا خادم تھا۔ یہ وہ سامراج نواز طبقہ تھا، جو اقتدار، دولت اور مفادات کی لالچ میں استعمار کی فکری و اخلاقی وفاداری کا دم بھرتا تھا۔ آزادی کے بعد بھی یہی طبقہ سیاست، بیوروکریسی، فوج اور معیشت کے کلیدی مناصب پر قابض رہا۔ ان کی وفاداری اپنی قوم سے نہیں بلکہ مغرب کی اقدار و معیارات سے تھی۔ اسی لیے اسلامی متبادل کے قیام کی ہرکوشش کے آگے بند باندھے گئے۔ اس حقیقت نے یہ واضح کر دیا کہ محض فکری برتری یا اخلاقی اپیل سے نظام تبدیل نہیں ہوتا، اس کے لیے سیاسی اور ادارہ جاتی قوت بھی درکار ہوتی ہے۔ یوں جدوجہد کا رخ اقتدار کے حصول کی طرف مڑا، مگر طاقت کے ناہموار توازن اور اندرونی و بیرونی مفادات کی مزاحمت نے ان کوششوں کو بڑی حد تک ناکام یا محدود کر دیا۔ 

چنانچہ پہلی نسل کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ اس نے اسلامی معیشت کے اصولی خدوخال واضح کیے اور ایک واضح متبادل کا فکری نقشہ پیش کیا۔ مگر یہی مرحلہ اس ادراک پر بھی منتج ہوا کہ طاقت کے موجودہ توازن میں فوری اور ہمہ گیر تبدیلی ممکن نہیں اور یہیں سے دوسری نسل کی تمہید بندھی۔ 

دوسری نسل (۱۹۷۵ء- ۲۰۰۸ء) 

جب عمل کے میدان میں فوری اور ہمہ گیر تبدیلی کی راہ مسدود نظر آئی تو بہت سے اہلِ علم اس نتیجے پر پہنچے کہ موجودہ عالمی نظام کے اندر رہتے ہوئے بتدریج اصلاح کی جائے۔اس منہج کا بنیادی خیال یہ تھا کہ ’اسلامی معاشیات‘ کو ’سرمایہ دارانہ معاشیات‘ کی ایک ’اصلاحی صورت‘ میں ڈھالا جاسکتا ہے: lجو اجزا اسلام سے ہم آہنگ ہوں انھیں قبول کر لیا جائےl جو جزوی تعارض رکھتے ہوں ان میں مناسب ترمیم کی جائے، اور l جو صریحاً خلافِ شریعت ہوں انھیں ترک کر دیا جائے۔ یہ راستہ بظاہر اس لیے بھی قابلِ عمل دکھائی دیتا تھا کہ جدید معاشیات نے صدیوں کی ریاضت سے بہت سا علمی و فنی مواد، تجزیاتی آلات، ادارہ جاتی تجربات اور فنی مہارتوں کا ایک بڑا ذخیرہ جمع کر لیا تھا۔ چنانچہ ’اَزسرِ نو تعمیر‘ کے بجائے ’اصلاح و تطبیق‘ کو زیادہ حقیقت پسندانہ حکمت عملی سمجھا گیا۔ اسی دور میں اسلامی بنکاری اور مالیاتی اداروں کی متعدد صورتیں سامنے آئیں۔ 

تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ اس منہج کی حدود بھی نمایاں ہونے لگیں۔ جدید معاشیات کے بعض بنیادی مگر دقیق مفروضات مثلاً منفعت کو مرکزی محرک ماننا، فرد کو بنیادی اکائی سمجھنا، اور اداروں کو منافع کے تابع رکھنا اکثر صورتوں میں جوں کے توں برقرار رہے۔ نتیجتاً کئی اصلاحات ظاہری صورت سے آگے نہ بڑھ سکیں اور اصل روح پوری طرح منتقل نہ ہو سکی۔دوسری طرف خود سرمایہ دارانہ نظام کے اندرونی بحران بالخصوص ۰۸-۲۰۰۷ء کے عالمی مالیاتی بحران نے یہ حقیقت پوری شدت سے آشکار کر دی کہ ’’مسئلہ محض جزوی اصلاحات کا نہیں، بلکہ نظام کی ساخت اور بنیادوں سے جڑا ہوا ہے‘‘۔ 

تیسری نسل (۲۰۰۸ء - تاحال)  

ان تجربات کے بعد مفکرین کی ایک نئی لہر سامنے آئی، جس نے سوال کو ایک بار پھر بنیاد سے اٹھایا: اگر بنیاد ہی درست نہ ہو تو عمارت میں جزوی ترمیم کیسے کافی ہو سکتی ہے؟ چنانچہ تیسری نسل اس بات پر زور دیتی ہے کہ ’’اسلامی معاشیات کو سرمایہ دارانہ نظام کی کسی شاخ یا ترمیم کے طور پر نہیں، بلکہ قرآن و سنت کے اخلاقی اور سماجی اصولوں کی بنیاد پر ازسرِ نو تعمیر کرنا ہوگا‘‘۔ 

البتہ اس بار منہج قدرے مختلف ہے۔ ریاستی طاقت کے زور پر اوپر سے تبدیلی نافذ کرنے کے بجائے، توجہ نیچے سے (برادریوں، مقامی اداروں، اور عملی نمونوں کی) تعمیر پر ہو، تاکہ ایک متبادل نظم بتدریج پروان چڑھے اور وقت کے ساتھ وسیع تر سطح پر اثر انداز ہو۔ اس نسل کے نزدیک ’’اسلامی معاشیات، سرمایہ داری کی پیوندکاری یا محض ایک نظری منصوبہ نہیں، بلکہ اصولی طور پر سرمایہ داری سے مختلف ایک جامع نظمِ حیات، کامل نظامِ فکر اور ادارہ سازی کا ایک زندہ عملی نمونہ ہے، جس کی بنیاد عدل، تعاون، کفالتِ عامہ اور اللہ کے حضور جواب دہی جیسے تصورات پر ہے‘‘۔  

اس طرح یہ کتاب فکری اعتبار سے دوسری اور تیسری نسل کے درمیان ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ اُس دور میں لکھی گئی جب اصلاحی منہج غالب تھا، مگر اس نے اسی تناظر میں ’جزوی اصلاح‘ کی حدود واضح کر کے یہ دکھانے کی کوشش کی کہ اسلام اور سرمایہ داری کا اختلاف محض چند احکام کا نہیں بلکہ بنیادوں کا ہے۔ یہی ادراک بعد ازاں تیسری نسل کی فکری سمت کو واضح کرنے میں مددگار ثابت ہوا۔ 

اختتامی کلمات اور دعوتِ مطالعہ 

اس تمہیدی مقالے میں چند بنیادی نکات واضح کیے گئے ہیں:  

  • اوّل یہ کہ جدید مغربی معاشیات اگرچہ اپنے آپ کو ایک ’آفاقی علم‘ کے طور پر پیش کرتی ہے، مگر اس کی فکری جڑیں یورپ کے مخصوص تاریخی تجربات اور مخصوص مقاصدِ حیات میں پیوست ہیں۔  
  • دوم یہ کہ اسلامی معاشیات محض چند مالی احکام یا تکنیکی ضوابط کا نام نہیں، بلکہ ایک ہمہ گیر تہذیبی روایت ہے، جس نے صدیوں تک مسلم معاشروں میں اجتماعی ذمہ داری، کفالتِ عامہ اور عدل کے اداروں کو عملی صورت دی۔ اور،  
  • سوم یہ کہ نوآبادیاتی تسلط اور ادارہ جاتی انہدام کے بعد، جدید دور میں اسلامی بنیادوں پر معاشرتی و معاشی تعمیرِ نو ایک ناگزیر سوال بن کر سامنے آیا اور اسلامی معاشیات کی فکر اسی سوال کے جواب میں مختلف مرحلوں سے گزرتی ہوئی تشکیل پاتی رہی۔ 

اس مفصل مقدمے کے بعد اب اصل متن کا آغاز ہوگا۔ آئندہ اقساط میں یہ کتاب بتدریج اس بنیادی سوال کے گرد گردش کرے گی کہ بدلتے ہوئے معاشی حالات میں قرآن و سنت کی ہدایات کو عملاً کیسے برتا جائے، یعنی ایسے ادارے اور ایسے پیمانے کیسے قائم ہوں جو دولت کو مقصد نہیں بلکہ امانت سمجھیں، جو معیشت کو محض پیداوار کا نظام نہیں بلکہ اخلاقی نظمِ حیات کا حصہ مانیں، اور جن کی کامیابی کا معیار یہ ہو کہ معاشرے میں کتنے لوگ محرومی سے بچے، کمزور کس حد تک محفوظ ہوئے، اور عدل کہاں تک قائم ہو سکا۔ 

ہر قسط کے ساتھ تشریحی حواشی بھی شامل کیے جائیں گے، تاکہ قاری اس بحث کے تاریخی پس منظر، فکری حوالوں اور عصرِ حاضر سے اس کے ربط کو واضح طور پر دیکھ سکے۔ یوں یہ بات بھی سامنے آئے گی کہ اسلامی معاشیات محض ایک نظری مشق نہیں، بلکہ اصلاح کی ایک عملی ضرورت ہے کیونکہ موجودہ بندوبست کی درست تشخیص کے بغیر نہ درست راستہ متعین ہوتا ہے، نہ مؤثر حکمت عملی وجود میں آتی ہے۔ 

ہم قارئین کو دعوت دیتے ہیں کہ اس سلسلے کو توجہ اور غور کے ساتھ پڑھیں، سوالات اٹھائیں، اور اپنے علمی و فکری حلقوں میں اس پر گفتگو کریں، تاکہ اسلامی معاشیات محض ایک اصطلاح نہ رہے، بلکہ ہمارے اجتماعی شعور اور ادارہ سازی کے عمل میں زندہ اور رہنما قوت بن سکے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں وہ بصیرت عطا فرمائے جس کی روشنی میں ہمیں حق ہمیشہ حق اور باطل ہمیشہ باطل نظر آئے اور ہمیں حق کی پیروی اور باطل سے بچنے کی توفیق دے۔ آمین !