قسط اوّل کا خلاصہ: گذشتہ قسط میں یہ واضح کیا گیا تھا کہ اسلامی معاشیات سرمایہ دارانہ نظام کی محض اصلاح شدہ صورت نہیں، بلکہ ایک اصولی اور تہذیبی متبادل ہے۔ مغربی معاشی فکر کو اس کے تاریخی پس منظر میں سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ وہ مخصوص یورپی حوادث کی پیداوار ہے، نہ کہ کوئی ماورائے تاریخ آفاقی سائنس۔ نیز یہ کہ اسلامی معاشیات کا ظہور نوآبادیاتی دور کے بعد ایک زندہ اجتہادی ضرورت کے طور پرہوا، اور اس کی فکری تشکیل مختلف مراحل یا نسلوں سے گزرتی رہی ہے۔(مقدمہ:گذشتہ سے پیوستہ)
سردست یہ بات غیرضروری ___ بلکہ بعض کے نزدیک گمراہانہ ہوسکتی ہے کہ مسلمان مغربی سماجی نظریات کا مطالعہ کریں۔ اگر اسلامی تعلیمات زندگی کے تمام پہلوئوں پر جامع رہنمائی فراہم کرتی ہیں، اور اگر مغربی فلسفے اُن لادینی اُصولوں پر مبنی ہیں جو عموماً اسلامی اقدار سے متصادم ہیں، تو پھر ایسی فکری روایت کا مطالعہ کرنے کی آخر ضرورت ہی کیا ہے جس کی خامیاں پہلے سے واضح ہیں؟
یہ اعتراض اپنی جگہ قابلِ فہم ہے، لیکن ایک نہایت اہم حقیقت کو نظر انداز بھی کر دیتا ہے۔ مغربی فکر صرف ایک عقلی نظریاتی نظام نہیں، بلکہ جدید دنیا کا معمار ہے۔ وہ ادارے، قوانین، معاشی ڈھانچے اور تعلیمی نظام جن کے ہاتھوں میں آج مسلم دنیا کی لگام ہے، ان سب کی بنیاد ان افکار پر ہے جو یورپ کے تاریخی تجربات کی کوکھ سے پیدا ہوئے تھے۔ لہٰذا، کسی حقیقی اصلاح کا پہلا قدم یہی ہے کہ ان نظریات کو سمجھا جائے۔اس ضرورت کی کم از کم چار بنیادی وجوہ ہیں:
یورپی نوآبادیات نے صرف زمینوں پر قبضہ نہیں کیا، بلکہ مسلم معاشروں کے ادارہ جاتی ڈھانچوں کو اَزسرِ نو تشکیل دیا۔قانونی اصول و ضوابط بدلے گئے، تعلیمی نظام نئے سانچوں میں ڈھالے گئے، بیوروکریسی کے نئے طریقے متعین کیے گئے، اور معاشی پالیسیوں کو ازسرِ نو مرتب کیا گیا۔ اور یہ سب مغربی معیارات کے مطابق تشکیل دیا گیا۔آزادی کے بعد بھی یہ ادارے جوں کے توں برقرار رہے۔ ان کی نظریاتی بنیادوں کو سمجھنے کی طرف ذرّہ برابر توجہ نہیں کی گئی۔
اصل بات یہ ہے کہ ادارے کسی معاشرے کے اجتماعی مقاصد کو عملی صورت دیتے ہیں، اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ اختیار کس کے پاس ہو، وسائل کس سمت کا رخ کریں، اور نظم کس کے مفاد میں قائم رہے؟ نوآبادیاتی دور میں جو ادارے یہاں قائم کیے گئے، ان کا بنیادی مقصد ’وسائل اور محاصل کا اخراج‘ تھا یعنی ایسا انتظام جس کے ذریعے پیداوار، زمین اور محنت کے ثمرات نوآبادیاتی حکمرانوں تک منتقل ہوں۔ آزادی کے بعد ان اداروں کا رخ کم و بیش وہی رہا۔ اب محاصل اور وسائل کا بہاؤ بیرونی حکمرانوں کے بجائے اندرونی اشرافیہ (خصوصاً وہ طبقہ جو انھی اداروں کے اندر تربیت پاتا اور انھی کے ذریعے اقتدار پاتا ہے) کی طرف ہوگیا۔ ان اداروں کے مقاصد سے آگاہ ہوئے بغیر جب تک انھی کے سانچوں میں رہتے ہوئے ’اصلاح‘ کی کوششیں کی جاتی رہیں گی، اسلامی اہداف کا حصول محدود یا بے معنی رہے گا۔ حقیقی اصلاح کا آغاز تو درست تشخیص سے ہوتا ہے۔
سماجی نظریات کا کام فقط تفہیمِ عصر حاضر میں معاونت کرنا نہیں ہے۔ وہ یہ بھی طے کرتے ہیں کہ ترقی کا معیار کیا ہے، کون سے نتائج مطلوب ہیں، اور کن ذرائع کو جائز سمجھا جائے گا؟ مثال کے طور پر مغربی معاشیات میں اکثر اوقات بنیادی مقصد ’تکثیرِ افادہ‘ یا ’شرحِ نمو‘ میں اضافہ ہوتا ہے۔یہ تصور ایسے ادارے پیدا کرتا ہے، جو انھی اہداف کی خدمت کرتے ہیں، جیسے بینک اور اسٹاک مارکیٹیں وغیرہ۔ جب یہ ادارے عوام کی رگ و پے میں سرایت کر جاتے ہیں، تو رفتہ رفتہ رویّے، توقعات اور اقدار بھی انھی کے مطابق ڈھلنے لگتی ہیں۔
اسلامی اقدار کا رخ بالکل مختلف ہے۔ اسلام میں دولت امانت ہے، ملکیت نہیں۔ معاشی سرگرمی کا مقصد عدل، باہمی منفعت اور سماجی فلاح ہونا چاہیے۔ اسلامی تہذیب کے ادارے زکوٰۃ، وقف، اخلاقی تجارت انھی اصولوں کی ترجمانی کرتے ہیں۔ لیکن یہ اہداف ان اداروں کے ذریعے حاصل نہیں ہو سکتے، جو سیکولر اور انفرادی مفادات کے حصول کے لیے بنے ہوں۔
آج کل کی غالب معاشی پالیسیوں میں کامیابی کا معیار عموماً مجموعی پیداوار اور دولت کے حجم میں اضافے کو سمجھا جاتا ہے ،جب کہ دولت کی منصفانہ تقسیم، بنیادی ضروریات کی فراہمی، اور کمزور و محروم طبقات کے حالات پس منظر میں رہتے ہیں۔اس کے برعکس اسلام میں معاشرہ اپنے ہر فرد کی کفالت کا اجتماعی طور پر ذمہ دار ہے، اور کسی نظام کی جانچ اس بنیاد پر کی جاتی ہے کہ کتنے لوگ بھوک، محرومی اور عدمِ تحفظ کا شکار رہے، اور یہ کہ وسائل عدل کے ساتھ پھیلے یا چند ہاتھوں میں سمٹ کر رہ گئے۔
اس رُخ کو بدلنے کے لیے سب سے پہلے یہ سمجھنا ناگزیر ہے کہ موجودہ معاشی نظام کن نظریات، معیارات اور ادارہ جاتی طریقوں کے ذریعے ہمارے اجتماعی شعور اور عملی فیصلوں کو ایک خاص سمت میں دھکیل رہا ہے۔ مغربی معاشیات اور اس سے وابستہ اداروں کا مطالعہ اسی تشخیص کے لیے ضروری ہے تاکہ اصلاح کی کوششیں محض نیک نیتی کا اظہار نہ رہیں، بلکہ درست ہدف کا رُخ کریں۔
عصرِ حاضر کی اسلامی تحریکوں میں عموماً منزلِ مقصود کی تعیین و تو ضیح کی جاتی ہے۔ یعنی اس بات کے اظہار پر زور دیا جاتا ہےکہ ایک مثالی اسلامی معاشرہ کیسا ہونا چاہیے؟ اس کے اصول، خدوخال اور ثمرات کیا ہوں گے؟ یہ زور بجا ہے، کیونکہ کسی بھی بڑی تبدیلی کے لیے مقصد کا واضح ہونا ناگزیر ہے۔ مگر اس کے ساتھ ایک اور سوال بھی برابر اہم ہے: ہم موجودہ حالات سے اُس منزل کی طرف پہلا قابلِ عمل قدم کیسے اٹھائیں؟ محض نقشۂ منزل کافی نہیں، راستے کی عملی ترتیب اور ابتدا کی سمت بھی متعین ہونی چاہیے۔
اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے خلافت کی بحالی کی دعوت ایک عمدہ مثال ہے۔ اس کے حامیان اس کی شرعی بنیادوں اور تاریخی افادیت کو نمایاں کرتے ہیں۔ یہ پہلو اپنی جگہ اہم ہے، مگر آج کی دُنیا میں اصل سوال یہ ہے کہ موجودہ صورتِ حال میں اس سمت بڑھنے کے ابتدائی عملی اقدامات کیا ہوسکتے ہیں؟ آج امت سیاسی سرحدوں، ریاستی مفادات، اور قومیت کے سانچوں میں بٹی ہوئی ہے۔ اس منتشر صورتِ حال کو نظرانداز کر کے وحدت کی کوئی بھی عملی صورت پیدا نہیں ہو سکتی۔ وحدت کا راستہ تبھی نکل سکتا ہے جب ہم رکاوٹوں کو دُور کرنے کے لیے تدریجی اور قابلِ عمل حکمت عملی اختیار کریں۔
اس تناظر میں سب سے بڑی رکاوٹ جدید قومی ریاست کا وہ تصور ہے، جو موجودہ عالمی نظام کی بنیاد بن چکا ہے اور جس نے مسلمانوں کے اجتماعی شعور اور سیاسی امکانات کو سرحدوں کے اندر محصور کر دیا ہے۔ اس لیے پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ ہم ایسی فکری اور ادارہ جاتی صورتیں تلاش کریں، جو ان حد بندیوں سے بلند ہو کر امت کے باہمی ربط اور تعاون کو مضبوط کریں، مثلاً علمی مکالمہ، مشترکہ عوامی شعور کی تشکیل، باہمی تعاون کے سلسلے، اور مشترکہ مقاصد پر عملی اشتراک۔ عويمر انجم کی اُمّاتکس جیسی کاوشیں اسی سمت اشارہ کرتی ہیں کہ آج وحدت کا سوال نئے فکری سانچوں اور نئے عملی راستوں کا متقاضی ہے۔
یہاں اصلاح کے باب میں ایک بنیادی امتیاز کو سمجھنا ضروری ہے، اور وہ ہے منصوبہ بندی اور حکمت عملی کا فرق۔ منصوبہ بندی میں منزل متعین کر کے وہاں تک پہنچنے کے مراحل ترتیب دیے جاتے ہیں، مگر حکمت عملی اس وقت ناگزیر ہو جاتی ہے جب راستے میں فعال مزاحمت موجود ہو، یعنی ایسے مفادات، ادارے اور طاقت کے مراکز جو تبدیلی کو اپنے لیے خطرہ سمجھ کر اس کے خلاف ردِ عمل دکھائیں۔ یہ شطرنج کی بساط کی مانند ہے، اپنی چال سوچنا کافی نہیں، بلکہ مخالف کی ممکنہ چالوں کو بھی پیشِ نظر رکھنا پڑتا ہے۔اسی لیے حقیقی اصلاح کا آغاز صرف اس سوال سے نہیں ہوتا کہ ہم کیا چاہتے ہیں، بلکہ اس سے ہوتا ہے کہ ہم اس وقت کہاں کھڑے ہیں، طاقت کے مراکز کہاں ہیں، اور موجودہ نظام کن فکری مفروضات اور ادارہ جاتی ڈھانچوں کے ذریعے خود کو قائم رکھے ہوئے ہے؟ جب تک جدید بندوبست بالخصوص ریاست، معیشت اور علم کے مغربی سانچوں کی قوت و کمزوری کی درست تشخیص نہ کی جائے، نہ کوئی مؤثر منصوبہ بنایا جا سکتا ہے اور نہ قابلِ عمل حکمت عملی۔ اسی لیے مغربی فکر اور موجودہ نظام کا مطالعہ محض نظری مشغلہ نہیں، بلکہ اصلاح کی ایک عملی اور ناگزیر ضرورت ہے۔
جدید تعلیمی نظام عموماً اس نہج پر استوار ہے کہ وہ مغربی سماجی علوم کو ’معروضی‘، ’قدر سے ماورا‘ اور ’آفاقی حقیقت‘ کے طور پر پیش کرتا ہے ۔ اس عمل میں طلبہ صرف چند نظریات یا اصطلاحات نہیں سیکھتے، بلکہ رفتہ رفتہ ایک خاص تصورِ علم بھی اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں۔ ایسا تصور جس کے تحت اجتماعی زندگی کی تشکیل مذہبی و اخلاقی رہنمائی کے بجائے ایک نام نہاد غیرمذہبی ’عقل‘، تکنیکی مہارت اور پالیسی ساز اداروں کے سپرد کر دی جاتی ہے۔ اسی ذہنی سانچے میں اسلامی متبادل اکثر یا تو محض ایک جذباتی نعرہ بن کر رہ جاتا ہے، یا مغربی اداروں پر ایک سطحی سا ’اسلامی ملمّع‘ چڑھا دینے کی کوشش۔
اس فکری گرفت سے نکلنے یعنی حقیقی فکری آزادی اور تخلیقی متبادل کی صلاحیت پیدا کرنے کا ایک مؤثر راستہ یہ ہے کہ مغربی نظریات کو ان کے تاریخی پس منظر میں سمجھا جائے۔ جب ہم یہ جان لیتے ہیں کہ یورپ میں یہ تصورات کن حالات میں ابھرے (مذہبی تنازعات، کلیسائی اقتدار، ریاستی تشکیل، سرمایہ داری کا فروغ، اور ایک ’سیکولر‘ اجتماعی نظم کی جستجو) تو ’آفاقیت‘ کا طلسم خود بخود ٹوٹنے لگتا ہے۔ نظریات ’ہمیشہ کے لیے سچ‘ نظر آنے کے بجائے اپنے عہد کے مخصوص سوالات کے جوابات بن کر سامنے آتے ہیں۔ اسی تاریخی شعور سے یہ حقیقت بھی منکشف ہوتی ہے کہ بہت سے مغربی حل ہماری اجتماعی صورتِ حال پر جوں کے توں لاگو نہیں ہو سکتے، کیونکہ ہمارے ہاں علم اور وحی کے درمیان وہ تصادم کبھی اسی صورت میں موجود نہیں رہا جس کی وجہ سے یورپ میں ’لادینی نظمِ اجتماع‘ ناگزیر شکل اختیار کر گیا۔
اسی لیے تعلیم کا بنیادی فریضہ یہ ہونا چاہیے کہ طلبہ کو تربیت دی جائے کہ وہ نظریات کو تاریخی تناظر میں پرکھ سکیں، ان کے اخلاقی اور سیاسی مفروضات کو پہچانیں، اور یہ سمجھ سکیں کہ وہ کن اداروں اور کن عملی نتائج کو جنم دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ نئی نصاب سازی اور نئے علمی بیانیوں کی ضرورت بھی ناگزیر ہے۔ ایسے بیانیے جو اسلامی نقطۂ نظر کو محض ردِّ عمل یا تقلید کے طور پر نہیں، بلکہ ایک خود مختار، اصولی اور ہمہ گیر فکری نظام کے طور پر پیش کریں، اور اسی بنیاد پر ادارہ سازی کی راہیں ہموار کریں۔
سیاسی اور سماجی حکمتِ عملی بھی اسی فکری پختگی پر قائم ہوتی ہے۔ پائیدار اصلاح نہ محض خواہش سے جنم لیتی ہے اور نہ محض مذمت سے۔ اس کے لیے درست تشخیص، تدریجی پیش رفت، اور صبر آزما ادارہ جاتی عمل درکار ہوتا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ہم کیا چاہتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم ایسے ادارے کیسے تشکیل دیں جو اسلامی مقاصد یعنی عدل، کفالت، امانت اور فلاحِ عامہ وغیرہ کو جدید دنیا کی پیچیدگیوں میں بھی مؤثر صورت دے سکیں؟
اسی زاویۂ نظر سے کتاب کے آئندہ ابواب میں ہم یہ جائزہ لیں گے کہ مسلمان مفکرین نے مختلف ادوار میں کس طرح ایک ایسی اسلامی معیشت کی تشکیل کی کوشش کی، جو شریعت کے اصولوں سے ہم آہنگ بھی ہو اور عصرِ حاضر کے عملی تقاضوں کا سامنا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہو۔ یہ فکری سفر تین بڑے مراحل یا نسلوں پر مشتمل ہے، جن میں سے ہر ایک نے اپنے تاریخی سیاق میں اسلامی معاشیات کی تعمیر میں حصہ ڈالا اور مستقبل کے لیے اہم اسباق چھوڑے۔
جیساکہ پہلے بتایا جاچکا ہے کہ اس تحریر کے اوّلین مخاطب سیکولر افراد اور انگریزی خواں طبقے تھے، بالخصوص وہ لوگ جو اسلامی تعلیمات سے ناواقف ہیں۔ اس کا مقصد اسلام کا وہ مثبت اور متوازن تصور پیش کرنا تھا، جو اسلامی فکر، انسانی سماج کی تنظیم کے معروف مغربی طریقوں کے مقابل ایک مربوط اور اصولی متبادل فراہم کرتا ہے۔ اسی غرض سے یہ بھی واضح کیا کہ اسلامی معیشت اخلاقی بنیادوں پر قائم اُن مغربی روایتوں سے بھی ہم آہنگ ہےجو، روشن خیالی کی لادینی فکری لہر سے قبل، انسانی زندگی کے روحانی و اخلاقی پہلوؤں کو اجتماعی فلاح کا حصہ سمجھتی تھیں۔ یوں اس کتاب نے مغربی قارئین کو یہ دعوت دی کہ اسلام کو اجنبی نہ سمجھیں، بلکہ انسانیت کی اُس مشترکہ جستجو کے شریک کے طور پر دیکھیں جو عدل، امن اور صداقت کی تلاش میں مصروف ہے۔
البتہ اس اردو ترجمے کا مخاطب ایک مختلف طبقہ ہے، یعنی وہ مسلمان جو اسلام کی صداقت پر ایمان رکھتے ہیں، لیکن یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ عصرِ حاضر کے سنگین معاشرتی اور معاشی مسائل میں اسلامی اصول کس طرح راہنمائی کر سکتے ہیں؟
اس حلقۂ قارئین کے لیے اسلام کی معنویت پر از سرِ نو دلیل قائم کرنے کی چنداں حاجت نہیں۔ تاہم، ان کو یہ بتلانا مقصود ہے کہ موجودہ حالات کی تنگنائیوں میں رہتے ہوئے ایک عادلانہ اور اخلاقی معاشی نظام کی تشکیل میں اسلامی اصول و قوانین کیسے ہمارے ہادی بن سکتے ہیں؟ اس طرح یہ کتاب مسلمان مخاطبین کی معاونت کرے گی اور انھیں بتلائے گی کہ خود ان کے لیے بھی یہ ناگزیر ہے کہ وہ مغربی فکر کو سمجھیں اور یہ جان سکیں کہ وہ انسانی فطرت سے کب اور کیوں جدا ہوئی؟
اس مطالعے کے ذریعے یورپ کے مذہب سے بیزاری کے سفر اور اس کے نتیجے میں سیکولر نظریات کے ظہور سے واقف ہونے پر، مسلمانوں کے سامنے یہ حقیقت منکشف ہو جائے گی کہ مغربی معیشت کوئی آفاقی سائنس نہیں، بلکہ یورپ کے مخصوص بحرانوں کا ایک مقامی ردِعمل ہے۔ یہ ادراک مسلمانوں کے اندر اپنے فکری ورثے پر اعتماد کی نئی راہیں کھولے گا، اور انھیں یہ سمجھنے میں مدد دے گا کہ اسلامی معیشت دراصل ایک خودمختار اور جداگانہ روایت ہے، نہ کہ مغربی نظام کی کوئی شاخ یا ذیلی شکل۔
دونوں نظاموں کے مابین تفاوت اصولی درجے کا ہے۔ اس اختلاف کی گہرائی کو ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے: جب یورپ نے مذہب اور خدا کو اجتماعی زندگی سے بے دخل کر دیاتو وہاں کے اہلِ نظر کے حلقوں میں یہ رجحان مضبوط ہوگیا کہ ’’انسانی کامیابی کا معیار دنیاوی منفعت، لذت اور خواہشات کی تکمیل ہے‘‘۔ یہی مفروضہ مغربی معیشت کے قلب میں پیوست ہے، اور اسی نے انسانی رویّے اور معاشرتی ترقی سے متعلق تمام مغربی نظریات کو تشکیل دیا ہے۔
اس کے برعکس قرآن لذت کی طلب کو ’نفس پرستی‘ کہہ کر رَد کرتا ہے، اور انسان کو بلند تر مقاصد یعنی ’’عدل، جذبۂ رحم، روحانی بلندی اور بندگیِ خدا کی طرف بلاتا ہے‘‘۔ یہی بنیادی اختلاف اس امر کو واضح کرتا ہے کہ ’اسلامی معیشت‘ اور ’سرمایہ دارانہ معیشت‘ محض ایک ہی نظام کے دو رُخ نہیں، بلکہ ایک دوسرے سے براہِ راست متضاد تصورات ہیں۔
اس پورے مباحثے میں یہ کلیدی نکتہ ذہن سے محو نہیں ہونا چاہیے کہ افکار کو تاریخی تناظر میں سمجھنا ناگزیر ہے۔ جس طرح مغربی نظریات یورپ کے اپنے داخلی بحرانوں کا جواب تھے، اسی طرح اسلامی اقتصادیات جدید دور میں مسلمانوں کے مسائل کے حل کے طور پر ابھر کر سامنے آرہی ہے۔ اس زاویے سے دیکھا جائے تو ایک خالص اسلامی متبادل کی گنجائش نہ صرف واضح بلکہ ممکن اور ناگزیر دکھائی دینے لگتی ہے۔
’اسلامی معاشیات‘ سے مراد یہ ہے کہ قرآن و سنت کی دائمی ہدایات (عدل، امانت، تعاون، اور ظلم کی ممانعت) کو عصرِ حاضر کے نئے معاشی حالات میں کس طرح نافذ کیا جائے کہ دولت کی پیداوار اور تقسیم انسانیت کے لیے خیر کا ذریعہ بنے۔ یہی وجہ ہے کہ ’اسلامی معاشیات‘ محض ’جدید مغربی معیشت‘ کی کوئی ’اسلامی شکل‘ نہیں، اس کے اصول قدیم اور ابدی ہیں، مگر ان اصولوں کو جدید مالیاتی اداروں، کرنسی، بنکاری اور عالمی منڈی کے ماحول میں برتنے کے لیے اجتہادی بصیرت درکار ہے۔ اس پس منظر میں یہ اصطلاح جدید ضرور ہے، لیکن اس کی روح اسلام کے آغاز ہی سے موجود ہے۔
’اسلامی معاشیات‘ کا ظہور اچانک یا حادثاتی طور پر بھی نہیں ہوا ہے، بلکہ ماضیِ قریب میں کچھ ایسے حالات پیش آئے جن سے نپٹنے کے لیے دھیرے دھیرے اس کی صورت گری ہوتی رہی۔ ماضی قریب میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ امت کی عظیم اکثریت نوآبادیاتی تسلط کے زیرِ نگیں آگئی، اور وہ معاشی و سماجی ادارے شکست و ریخت کا شکار ہوگئے، جو صدیوں سے اسلامی معاشرے کے مقاصد اور اقدار کو مجسم کیے ہوئے تھے۔ نوآبادیاتی استعمار سے آزادی کے حصول کے بعد اس امر پر غور و فکر کرنے کا داعیہ پیدا ہواکہ معیشت کا نظم کس بنیاد پر استوار کیا جائے؟یہی وہ لمحہ تھا جب ’اسلامی معاشیات‘ ایک بامعنی اور منظم سوال کی صورت میں ابھری: جدید ریاست، کرنسی، بنکاری، عالمی منڈی اور نوآبادیاتی ورثے کے درمیان ہوتے ہوئے اسلامی اصولوں کے مطابق معاشی نظام کیسے تشکیل دیا جائے؟
یہی وہ کام تھا جس کا بیڑا ’اسلامی معاشیات‘ کی پہلی نسل نے اٹھایا یعنی اسلامی معاشرے کے معاشی خدوخال اور اس کی سمت کا تعین کرنا۔ مگر اس راستے میں جو رکاوٹیں اور پیچیدگیاں سامنے آئیں وہ اتنی نئی اور گنجلک تھیں کہ ماضی کا ذخیرۂ علم جوں کا توں کافی نہ رہا، اور نئے اجتہادی سوالات ناگزیر ہو گئے۔
یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ اسلامی معاشیات محض ایک نظری خاکہ نہیں، بلکہ قرآن و سنت کی رہنمائی سے جنم لینے والی ایک زندہ و آزمودہ تہذیبی روایت ہے،جس نے صدیوں تک مسلم معاشروں کی اجتماعی تنظیم کی۔ زکوٰۃ، صدقات، حقوقِ قرابت، بیت المال، بازار کی نگرانی، اور بالخصوص اوقاف جیسے ادارے اسی رہنمائی کی عملی صورتیں تھے۔ انھی کے ذریعے کمزور طبقات (غریبوں، یتیموں، بیواؤں، مسافروں) کی کفالت معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری سمجھا جاتا تھا۔ تعلیم، علاج، پانی، اور دیگربنیادی سماجی خدمات بڑے پیمانے پر خیراتی اور وقف نظام کے تحت فراہم کی جاتیں۔ عثمانی دور میں سرکاری کھاتوں میں درج اراضی کا ایک تہائی حصہ وقف تھا، اور انھی اوقاف کے سہارے مدارس، شفاخانوں، لنگر خانوں، مسافر خانوں اور رفاہی اداروں کا ایک وسیع جال قائم رہا۔ اس تاریخی تجربے کی روشنی میں اسلامی معاشیات کا بنیادی دعویٰ یہ ہے کہ دولت محض ذاتی ملکیت نہیں، بلکہ ایک امانت ہے، جس کے ذریعے معاشرے میں عدل اور کفالت کے تقاضے پورے کیے جاتے ہیں۔
اس کے برعکس جدید مغربی معاشیات کی فکری بنیاد اس تاریخی مرحلے میں پڑی جب یورپ نے اجتماعی زندگی کی تنظیم کے لیے مذہبی ہدایت کو خیرباد کہہ کر نام نہاد ’قدر سے ماورا عقل‘ کو رہنما بنالیا۔ جب خدا، آخرت اور یومِ حساب کو اجتماعی نظمِ حیات سے خارج کر دیا گیا، تو دنیاوی کامیابی (منفعت، لذت اور اقتدار) رفتہ رفتہ مقصدِ حیات بنتی چلی گئی، اور یہی ترجیحات جدید معاشی نظریے کے بنیادی مفروضات میں سرایت کر گئیں۔ اس تبدیلی کے ساتھ ’معاشرے‘ کا تصور بھی بدل گیا۔اسلامی روایت میں اہلِ ایمان کو ایک جسم کی مانند سمجھا جاتا ہے، جہاں ایک عضو کی تکلیف پورے بدن کی تکلیف شمار ہوتی ہے۔ اس کے برعکس جدید مغربی تصور میں سماج ایسے افراد کا مجموعہ ہے جو کسی مشترک اخلاقی مقصد پر متفق نہیں ہوتا، وہ محض ایک معاہدے کے تحت یہ طے کرتا ہے کہ باہم رہتے ہوئے کن قانونی قواعد کی پابندی کی جائے۔
اس طرح واضح ہو جاتا ہے کہ اسلامی معاشیات اور سرمایہ دارانہ معاشیات کا اختلاف محض چند مالی احکام یا تکنیکی تفصیلات تک محدود نہیں، بلکہ معاشرے کی ساخت، اجتماعی ذمہ داری اور مقصدِ زندگی کے بارے میں دو بنیادی اور متضاد تصورات پر قائم ہے۔ ایک تصور وہ ہے جو تعاون، کفالتِ عامہ اور اجتماعی خیر کے لیے ذاتی مفاد کی قربانی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، اور دوسرا تصور وہ ہے جو مسابقت، انفرادیت، اور دنیاوی منفعت و لذت کو پورے نظام کی محرک قوت بنا دیتا ہے۔
سیاسی آزادی کے بعد مسلم دنیا کو ایک نیا مسئلہ درپیش ہوا۔ اسلامی تاریخ میں پہلی مرتبہ اجتماعی زندگی کے بڑے ادارے (ریاست، قانون، عدلیہ) معیشت اور تعلیم کئی نسلوں تک غیر اسلامی سانچوں میں ڈھل چکے تھے، اور یہی سانچے اب’معمول‘ بن کر ذہنوں میں بھی بیٹھ گئے تھے۔ آزادی کے بعد مسلمان مفکرین کے سامنے بنیادی سوال یہ تھا: اسلامی معاشرہ دوبارہ کیسے قائم کیا جائے؟
اسی سوال کے جواب میں پچھلے چند عشروں میں اسلامی معاشیات کی فکری و عملی کاوشیں مختلف صورتوں میں سامنے آئیں۔حالات بدلتے رہے، تجربات کے نتائج ظاہر ہوتے گئے، اور اسی کے ساتھ مختلف مناہج بھی ارتقا پذیر رہے۔ سہولت کے لیے ان کاوشوں کو ہم تین نمایاں فکری مراحل یا ’تین نسلوں‘ میں تقسیم کر سکتے ہیں: پہلی نسل نے ایک اصولی اور انقلابی متبادل پیش کیا، دوسری نے موجودہ نظام کے اندر رہ کر تدریجی اصلاح کا راستہ اپنایا، اور تیسری نے دوبارہ بنیادوں کی طرف رجوع کرتے ہوئے نیچے سے ادارہ سازی کے ذریعے متبادل تعمیر پر زور دیا۔
دو عظیم عالمی جنگوں نے یورپ کے لاکھوں نوجوانوں کو نگل لیا، اور نوآبادیاتی طاقتوں کو عسکری و معاشی لحاظ سے مضمحل کر کے رکھ دیا۔ یہ وہ موقع تھا جب ایشیا اور افریقہ میں آزادی کی تحریکوں کو کامیابی کا راستہ ملا، اور بعد کے عشروں میں متعدد مسلم معاشرے اپنی خودمختاری واپس حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔
اس مرحلے پر اسلامی معیشت کے علَم بردار اہلِ دانش کی پہلی نسل سامنے آئی، اور انھوں نے سرمایہ داری، اشتراکیت اور کمیونزم کے مقابل اسلامی معیشت کو ایک انقلابی متبادل کے طور پر پیش کیا۔ انھوں نے مغربی معاشرتی و معاشی نظاموں پر بصیرت افروز تنقید کی، اور قرآن، سنت اور اسلامی تاریخ کی روشنی میں عہدِ حاضر کے لیے ایک عادلانہ اور منصفانہ خاکہ پیش کیا، جس کے ذریعے نوآبادیاتی مظالم اور معاشی استحصال سے نجات کی راہ ہموار ہو سکتی تھی۔
لیکن جلد ہی یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ سیاسی آزادی تو حاصل ہو گئی ، مگر اسلامی نظام کے نفاذ کا خواب پھر بھی شرمندۂ تعبیر نہ ہو سکا۔ نوآبادیاتی راج اپنے پیچھے ایک ایسا مضبوط طبقہ چھوڑ گیا جو مقامی ضرور تھا، مگر ذہناً اور عملاً استعماری مفادات کا خادم تھا۔ یہ وہ سامراج نواز طبقہ تھا، جو اقتدار، دولت اور مفادات کی لالچ میں استعمار کی فکری و اخلاقی وفاداری کا دم بھرتا تھا۔ آزادی کے بعد بھی یہی طبقہ سیاست، بیوروکریسی، فوج اور معیشت کے کلیدی مناصب پر قابض رہا۔ ان کی وفاداری اپنی قوم سے نہیں بلکہ مغرب کی اقدار و معیارات سے تھی۔ اسی لیے اسلامی متبادل کے قیام کی ہرکوشش کے آگے بند باندھے گئے۔ اس حقیقت نے یہ واضح کر دیا کہ محض فکری برتری یا اخلاقی اپیل سے نظام تبدیل نہیں ہوتا، اس کے لیے سیاسی اور ادارہ جاتی قوت بھی درکار ہوتی ہے۔ یوں جدوجہد کا رخ اقتدار کے حصول کی طرف مڑا، مگر طاقت کے ناہموار توازن اور اندرونی و بیرونی مفادات کی مزاحمت نے ان کوششوں کو بڑی حد تک ناکام یا محدود کر دیا۔
چنانچہ پہلی نسل کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ اس نے اسلامی معیشت کے اصولی خدوخال واضح کیے اور ایک واضح متبادل کا فکری نقشہ پیش کیا۔ مگر یہی مرحلہ اس ادراک پر بھی منتج ہوا کہ طاقت کے موجودہ توازن میں فوری اور ہمہ گیر تبدیلی ممکن نہیں اور یہیں سے دوسری نسل کی تمہید بندھی۔
جب عمل کے میدان میں فوری اور ہمہ گیر تبدیلی کی راہ مسدود نظر آئی تو بہت سے اہلِ علم اس نتیجے پر پہنچے کہ موجودہ عالمی نظام کے اندر رہتے ہوئے بتدریج اصلاح کی جائے۔اس منہج کا بنیادی خیال یہ تھا کہ ’اسلامی معاشیات‘ کو ’سرمایہ دارانہ معاشیات‘ کی ایک ’اصلاحی صورت‘ میں ڈھالا جاسکتا ہے: lجو اجزا اسلام سے ہم آہنگ ہوں انھیں قبول کر لیا جائےl جو جزوی تعارض رکھتے ہوں ان میں مناسب ترمیم کی جائے، اور l جو صریحاً خلافِ شریعت ہوں انھیں ترک کر دیا جائے۔ یہ راستہ بظاہر اس لیے بھی قابلِ عمل دکھائی دیتا تھا کہ جدید معاشیات نے صدیوں کی ریاضت سے بہت سا علمی و فنی مواد، تجزیاتی آلات، ادارہ جاتی تجربات اور فنی مہارتوں کا ایک بڑا ذخیرہ جمع کر لیا تھا۔ چنانچہ ’اَزسرِ نو تعمیر‘ کے بجائے ’اصلاح و تطبیق‘ کو زیادہ حقیقت پسندانہ حکمت عملی سمجھا گیا۔ اسی دور میں اسلامی بنکاری اور مالیاتی اداروں کی متعدد صورتیں سامنے آئیں۔
تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ اس منہج کی حدود بھی نمایاں ہونے لگیں۔ جدید معاشیات کے بعض بنیادی مگر دقیق مفروضات مثلاً منفعت کو مرکزی محرک ماننا، فرد کو بنیادی اکائی سمجھنا، اور اداروں کو منافع کے تابع رکھنا اکثر صورتوں میں جوں کے توں برقرار رہے۔ نتیجتاً کئی اصلاحات ظاہری صورت سے آگے نہ بڑھ سکیں اور اصل روح پوری طرح منتقل نہ ہو سکی۔دوسری طرف خود سرمایہ دارانہ نظام کے اندرونی بحران بالخصوص ۰۸-۲۰۰۷ء کے عالمی مالیاتی بحران نے یہ حقیقت پوری شدت سے آشکار کر دی کہ ’’مسئلہ محض جزوی اصلاحات کا نہیں، بلکہ نظام کی ساخت اور بنیادوں سے جڑا ہوا ہے‘‘۔
ان تجربات کے بعد مفکرین کی ایک نئی لہر سامنے آئی، جس نے سوال کو ایک بار پھر بنیاد سے اٹھایا: اگر بنیاد ہی درست نہ ہو تو عمارت میں جزوی ترمیم کیسے کافی ہو سکتی ہے؟ چنانچہ تیسری نسل اس بات پر زور دیتی ہے کہ ’’اسلامی معاشیات کو سرمایہ دارانہ نظام کی کسی شاخ یا ترمیم کے طور پر نہیں، بلکہ قرآن و سنت کے اخلاقی اور سماجی اصولوں کی بنیاد پر ازسرِ نو تعمیر کرنا ہوگا‘‘۔
البتہ اس بار منہج قدرے مختلف ہے۔ ریاستی طاقت کے زور پر اوپر سے تبدیلی نافذ کرنے کے بجائے، توجہ نیچے سے (برادریوں، مقامی اداروں، اور عملی نمونوں کی) تعمیر پر ہو، تاکہ ایک متبادل نظم بتدریج پروان چڑھے اور وقت کے ساتھ وسیع تر سطح پر اثر انداز ہو۔ اس نسل کے نزدیک ’’اسلامی معاشیات، سرمایہ داری کی پیوندکاری یا محض ایک نظری منصوبہ نہیں، بلکہ اصولی طور پر سرمایہ داری سے مختلف ایک جامع نظمِ حیات، کامل نظامِ فکر اور ادارہ سازی کا ایک زندہ عملی نمونہ ہے، جس کی بنیاد عدل، تعاون، کفالتِ عامہ اور اللہ کے حضور جواب دہی جیسے تصورات پر ہے‘‘۔
اس طرح یہ کتاب فکری اعتبار سے دوسری اور تیسری نسل کے درمیان ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ اُس دور میں لکھی گئی جب اصلاحی منہج غالب تھا، مگر اس نے اسی تناظر میں ’جزوی اصلاح‘ کی حدود واضح کر کے یہ دکھانے کی کوشش کی کہ اسلام اور سرمایہ داری کا اختلاف محض چند احکام کا نہیں بلکہ بنیادوں کا ہے۔ یہی ادراک بعد ازاں تیسری نسل کی فکری سمت کو واضح کرنے میں مددگار ثابت ہوا۔
اس تمہیدی مقالے میں چند بنیادی نکات واضح کیے گئے ہیں:
اس مفصل مقدمے کے بعد اب اصل متن کا آغاز ہوگا۔ آئندہ اقساط میں یہ کتاب بتدریج اس بنیادی سوال کے گرد گردش کرے گی کہ بدلتے ہوئے معاشی حالات میں قرآن و سنت کی ہدایات کو عملاً کیسے برتا جائے، یعنی ایسے ادارے اور ایسے پیمانے کیسے قائم ہوں جو دولت کو مقصد نہیں بلکہ امانت سمجھیں، جو معیشت کو محض پیداوار کا نظام نہیں بلکہ اخلاقی نظمِ حیات کا حصہ مانیں، اور جن کی کامیابی کا معیار یہ ہو کہ معاشرے میں کتنے لوگ محرومی سے بچے، کمزور کس حد تک محفوظ ہوئے، اور عدل کہاں تک قائم ہو سکا۔
ہر قسط کے ساتھ تشریحی حواشی بھی شامل کیے جائیں گے، تاکہ قاری اس بحث کے تاریخی پس منظر، فکری حوالوں اور عصرِ حاضر سے اس کے ربط کو واضح طور پر دیکھ سکے۔ یوں یہ بات بھی سامنے آئے گی کہ اسلامی معاشیات محض ایک نظری مشق نہیں، بلکہ اصلاح کی ایک عملی ضرورت ہے کیونکہ موجودہ بندوبست کی درست تشخیص کے بغیر نہ درست راستہ متعین ہوتا ہے، نہ مؤثر حکمت عملی وجود میں آتی ہے۔
ہم قارئین کو دعوت دیتے ہیں کہ اس سلسلے کو توجہ اور غور کے ساتھ پڑھیں، سوالات اٹھائیں، اور اپنے علمی و فکری حلقوں میں اس پر گفتگو کریں، تاکہ اسلامی معاشیات محض ایک اصطلاح نہ رہے، بلکہ ہمارے اجتماعی شعور اور ادارہ سازی کے عمل میں زندہ اور رہنما قوت بن سکے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں وہ بصیرت عطا فرمائے جس کی روشنی میں ہمیں حق ہمیشہ حق اور باطل ہمیشہ باطل نظر آئے اور ہمیں حق کی پیروی اور باطل سے بچنے کی توفیق دے۔ آمین !
ترجمانُ القرآن کے قارئین کے لیے ہم اسلامی اقتصادیات کے جدید مباحث پر مبنی ایک اہم علمی سلسلہ پیش کر رہے ہیں۔اس سلسلے میں ممتاز ماہر معاشیات اور معروف مصنف ڈاکٹر اسعد زمان کی کاوش پیش کی جارہی ہے۔ انھوں نے امریکا کی ممتاز جامعات میں تعلیم حاصل کی، ۲۲ برس کی عمر میں پی ایچ ڈی مکمل کی، اور پندرہ برس تک وہاں اعلیٰ سطح پر تدریس و تحقیق سے وابستہ رہے۔ اس کے بعد انھوں نے اپنا علمی رُخ اسلامی دنیا کی طرف موڑا۔ ابتدا میں ترکیہ میں خدمات انجام دیں۔ ۲۰۰۲ء میں بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد سے وابستگی کے بعد ان کی علمی کاوشیں بالخصوص اسلامی معاشیات کے میدان میں نمایاں طور پر سامنے آئیں۔ ان کی تصانیف و مقالات وسیع پیمانے پر شائع ہو چکے ہیں، اور دنیا کے مختلف تعلیمی اداروں میں اسلامی معاشیات کے نصابی مطالعہ اور علمی مباحث میں ان کے کام سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ مؤلف کی کتاب: Islamic Economics: The Polar Opposite of Capitalist Economics اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس نے اسلامی معاشیات کی سمت طے کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
اس کتاب کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ اسلامی معاشیات کو محض چند مالی احکام یا بنکاری کے چند ظاہری تبدیلیوں تک محدود نہیں کرتی، بلکہ اسے انسان، معاشرہ، مقصدِ زندگی، اجتماعی ذمہ داری اور ادارہ سازی کے بڑے سوالات کے ساتھ جوڑتی ہے۔ یہی زاویہ آج اُردو دان قارئین کے لیے بھی نہایت اہم ہے، کیونکہ ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں معیشت کے غالب ادارے، تعلیمی سانچے، اور پالیسی کے پیمانے زیادہ تر غیر اسلامی فکری بنیادوں پر استوار ہیں۔ ایسے میں اصلاح کی کوئی سنجیدہ کوشش اسی وقت نتیجہ خیز ہو سکتی ہے جب وہ موجودہ بندوبست کو سمجھتے ہوئے متبادل راستہ دکھائے۔
زیر نظر کتاب ترکی، بنگالی اور انڈونیشی زبان میں ترجمہ ہو چکی ہے اور مختلف ملکوں میں وسیع حلقوں تک پہنچ چکی ہے۔ اردو ترجمہ اسی عالمی تسلسل کی اگلی کڑی ہے تاکہ وہ قارئین بھی براہِ راست اس بحث میں شریک ہو سکیں، جن کی علمی و فکری زبان اردو ہے اور جن کے سامنے جدید معاشی چیلنج روز بروز زیادہ شدت سے آ رہے ہیں۔
ہمیں امید ہے کہ یہ سلسلہ نہ صرف قاری کو اسلامی معاشیات کے بنیادی مباحث سے روشناس کرائے گا، بلکہ سنجیدہ فکری مکالمے کے نئے دروازے بھی کھولے گا۔ خصوصاً اس پہلو سے کہ جدید مغربی معاشی فکر کن تاریخی ضروریات کے تحت بنی، اور اسلامی روایت اس کے مقابل کس نوع کی متبادل راہیں پیش کرتی ہے؟ [مدیر]
۱- اسلامی اقتصادیات : دو مخمصے
’اسلامی اقتصادیات‘ سے کیا مراد ہے؟ اس سادہ سے سوال نے پریشان کن حد تک مختلف اور متنوع جوابات کو جنم دیا ہے۔ ایک حالیہ جائزے کے مطابق مختلف اہلِ علم نے اس کی ۳۰سے زائد تعریفات پیش کی ہیں۔ جب ہم اس میدان کے عملی مظاہر، یعنی نصابی کتابوں، یونی ورسٹیوں کے نصابات، علمی کانفرنسوں اور ادارہ جاتی پالیسیوں پر نظر ڈالتے ہیں تو تشویش اور ابہام مزید بڑھ جاتا ہے۔ ان تمام تعریفات میں اگر کوئی قدرِ مشترک ہے تو وہ یہ مفروضہ ہے کہ اسلامی معاشیات کی ابتدا مغربی معاشی نظام کے قائم کردہ مناہج و معیارات سے ہونی چاہیے، اور اس کے بعد کچھ اسلامی اصولوں، اصطلاحات یا مقاصد کے انضمام اور کچھ مغربی اصطلاحات کی قطع و برید کے بعد اسی نظام کو ’مشرف بہ اسلام‘ کر دیا جائے۔
یہ کتاب اسی عمومی مفروضے کو کلیتاً رَد کرتی ہے۔ کتاب کا عنوان: اقتصادیاتِ اسلام: سرمایہ دارانہ نظامِ معیشت کی نقیض اس مقدمے کا خلاصہ ہے کہ اسلام اور سرمایہ داری انسانی مقصدِ حیات، عدلِ اجتماعی اور معاشی زندگی کے اخلاقی اصولوں کے بارے میں ایک دوسرے سے بالکل متناقض تصورات رکھتے ہیں۔ چنانچہ جب تک سرمایہ دارانہ نظام کے دائرے میں رہتے ہوئے اسلامی معاشیات کی توضیح کرنے کی کوششیں کی جاتی رہیں گی، تب تک اس کا نتیجہ تضادات، سمجھوتوں اور فکری انتشار کے سوا کچھ نہیں نکلے گا۔ اس بات سے یہ بھی سمجھ آ جانا چاہیے کہ :
اتنی متضاد تعریفات کیوں پائی جاتی ہیں اور کیوں ابھی تک کسی حتمی تعریف تک نہیں پہنچا جاسکا؟
دوسرا حل طلب معما یہ ہے کہ ’اسلامی‘ معاشیات کا آغاز آخر ہوا کیسے؟ ایک ایسا علم جو بیسویں صدی میں پہلی مرتبہ سامنے آیا، اور جس کی اسلامی روایت میں کوئی مثال نہیں ملتی اسے ’اسلامی‘ کیسے کہا جا سکتا ہے؟ فقہ، تفسیر اور کلام جیسے روایتی علوم طویل اور مسلسل ارتقائی تاریخ رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس دورِ جدید میں اسلامی معاشیات کا ظہور، نوآبادیاتی پس منظر اور مغرب کی معاشی بالادستی کے ردعمل میں ہوا۔ کیا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ اصل میں صرف ایک جدید علمی ایجاد یا تخلیق ہے، جسے مذہبی لبادہ پہنا دیا گیا ہے؟ یا کوئی ایسی گہری علت موجود ہے جس کی بنا پر اسے ’اسلامی‘ کہنا درست قرار دیا جا سکتا ہے؟
یہ انھی دونوں گتھیوں کو سلجھانے کے لیے لکھی گئی ہے۔ مرکزی استدلال یہ ہے کہ اسلامی معاشیات، سرمایہ دارانہ نظام کی کوئی ترمیم شدہ صورت نہیں، بلکہ بالکل جداگانہ معاشی تصور کی تشکیل کا نام ہے، ایک ایسا تصور جو شریعت کے ابدی اصولوں پر بھی قائم ہواور عصرِ حاضر کی ضروریات کے مطابق اجتہادی بصیرت سے بھی مزین ہو۔نیز کتاب یہ بھی واضح کرتی ہے کہ اسلامی معاشیات کا بیسویں صدی ہی میں منظرِ عام پر آنا کوئی نقص نہیں بلکہ اسلام کی ابدی صلاحیتِ اجتہاد کا بیّن ثبوت ہے۔ وہ صلاحیت جس کے ذریعے وحی کی رہنمائی ہرزمانے کے بدلتے حالات میں قابلِ اطلاق رہتی ہے۔ زیرِ نظر تمہید کے بقیہ حصے میں اسی مدعا کو معقول دلائل کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔
۲- غیر متبدل اصول اور زمانی و مکانی حقائق، اسلامی تناظر میں
اپنے ابتدائی دنوں ہی میں اسلام نے یہ عظیم اصول بتلا دیا تھا کہ ’الٰہی ہدایت ابدی ہے، مگر اس کا اطلاق ہمیشہ بدلتے ہوئے زمان و مکان کے مطابق ہوگا‘۔ قرآن و سنت عدل، امانت، رحمت اور مساوات جیسے غیر متبدل اصول فراہم کرتے ہیں، مگر ان اصولوں پر عمل درآمد کی صورتیں ہمیشہ معاشرتی حالات، تکنیکی کیفیات اور تاریخی سیاق و سباق کے مطابق بدلتی رہی ہیں۔
مثال کے طور پر مسلم معاشرے کے دفاع کے مسئلہ کو دیکھیے ۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اس کا مطلب گھڑ سواری، تیراکی اور تیراندازی جیسے فنون میں مہارت تھا۔ بعد کے ادوار میں اسی ذمہ داری کا تقاضا آتشیں اسلحے اور بحری طاقت میں مہارت ہوگیا۔ آج کے دور میں اس کے ذیل میں سائبر سکیورٹی، خلائی انجینئرنگ، معاشی استحکام اور بین الاقوامی قانون جیسے شعبے داخل ہو چکے ہیں۔ اصول (دفاع کی ذمہ داری) ایک ہی رہا، مگر صورتیں بدلتی رہیں۔ غیر متبدل اقدار اور متبدل حالات کے اسی تعلق نے اجتہاد کو اسلامی روایت کا نہ صرف جائز بلکہ لازمی جزو بنادیا۔
یہ اصول معاشی زندگی پر بھی اسی طرح لاگو ہوتا ہے۔ شریعت نے معاشی عدل کے بہت واضح معیارات قائم کیے ہیں: سود کی حرمت، زکوٰۃ کی فرضیت، عقود کی پاسداری، دولت کی مسؤلیت اور محنت و مزدوری کا احترام۔ لیکن ان اصولوں کے عملی اطلاقات (ادارے، قوانین، پالیسیاں) ہمیشہ ہر دور کے معاشرتی، سیاسی اور تکنیکی حالات کے مطابق تشکیل پاتے ہیں۔
اسلامی تاریخ ایسے اجتہادی ارتقا سے بھری پڑی ہے۔دورِ خلافت کی متنوع مالیاتی پالیسیاں، اوقاف کی ترقی یافتہ صورتیں، منڈیاں اور حکومتی محاصل کے ضابطے، یہ سب اس امر کی زندہ مثالیں ہیں کہ مسلمانوں نے ہمیشہ ابدی اصولوں کو اپنے زمانے کے نئے تقاضوں اور حالات کے مطابق برتا۔فقہاء اس اصول کی تعبیر یوں کرتے ہیں : تتغیر الفتویٰ بتغیر الزمان والمکان،یعنی زمان و مکان کے بدلنے سے فتویٰ بدل جاتا ہے ۔ چنانچہ عدل کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ دنیا کو روحِ عصر کے ساتھ سمجھا اور برتا جائے۔
یہی علمی و عملی شعور ہمارے مرکزی استدلال کی اساس ہے۔ عہدِ حاضر میں مسلمان ایسے معاشی مسائل کا شکار ہیں جن کی نوعیت نہایت گنجلک، ہمہ گیر اور ماضی سے یکسر مختلف ہے: ریاستیں اور خاندان قرض کے جال میں جکڑے ہوئے ہیں، مہنگائی میں اضافے اور کرنسی کی قدر میں مسلسل گراوٹ نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر دی ہے ، بنکاری نظام قرض کی بنیاد پر پیسے کی تخلیق کے ذریعے معیشت کو غیر فطری سمت میں دھکیل رہا ہے، اور عالمی مالیاتی اداروں کی عائد کردہ شرائط کے تحت قومی پالیسیاں تشکیل پا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کارپوریٹ اجارہ داریوں کا پھیلاؤ، میڈیا اور اشتہارات کے ذریعے خواہشات کی صنعت کا فروغ، اور محنت کش انسان کی قدر و منزلت کی پامالی نئی اور زیادہ پیچیدہ صورتوں میں سامنے آ رہی ہے۔ ان مسائل کا جواب مروجہ جدید نظاموں کی اندھی تقلید میں ہے، نہ ماضی کے کسی جامد تصور کی ہوبہو نقالی میں۔ صائب راستہ یہی ہے کہ اسلامی اصولوں کی روشنی میں معاشی معیارات پر از سرِ نو غور و فکر کیا جائے اور پھر ان کی بنیاد پر ادارے اور پالیسیاں وضع کی جائیں۔اسلامی معاشیات کی ذمہ داری اسی کارِ خیر کو انجام دینا ہے ۔
۳- تاریخی تجربات اور معاشرتی نظریات کی تشکیل
خیالات کبھی خلا میں جنم نہیں لیتے۔ معاشرتی نظریات خواہ ان کا تعلق معاشیات سے ہو، سیاست سے یا قانون سے زمان و مکان سے بے نیاز مجرد صداقتیں نہیں ہوتے۔ وہ ہمیشہ کسی نہ کسی تاریخی مسئلے کے جواب کے طور پر سامنے آتے ہیں، جنھیں مفکرین اپنے عہد کے فکری، سماجی اور اخلاقی بحرانوں سے نبرد آزما ہو کر وضع کرتے ہیں۔ کسی نظریے کو اس کے شانِ نزول سے کاٹ کر سمجھنا ایسا ہی ہے جیسے سوال سنے بغیر ہی جواب سمجھنے کی کوشش کی جائے۔
جس طرح اسلامی روایت ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ ہم ابدی اصولوں کو اجتہاد کے ذریعے بدلتے حالات پر منطبق کریں، بالکل اسی طرح دیگر فکری روایات کو بھی ان کے تاریخی پس منظر کے ساتھ سمجھنا ناگزیر ہے۔ جب کسی نظریے کے نتائج کو ماورائے تاریخ ’آفاقی صداقت‘ سمجھ لیا جائے، گویا وہ کسی تاریخی تجربے کے بجائے عقلِ محض سے مستنبط ہوں، تو نہ صرف اس نظریے کی تفہیم مسخ ہوجاتی ہے بلکہ خود وہ مسئلہ اور وہ زمانہ بھی نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے، جس کے جواب میں وہ نظریہ وجود میں آیا تھا۔
اسی اصول کا اطلاق جدید مغربی معاشی فکر پر بھی ہوتا ہے۔یہ فکر کسی ماورائے زمان و مکان ’عقلِ محض‘ کی ریاضت کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ یورپ کی مخصوص مذہبی کشاکش اور اس کے بعد ’تحریکِ تنویر‘ (Enlightenment Movement)کے فکری ماحول میں بتدریج تشکیل پائی۔ اس دور میں یہ رجحان مضبوط ہوتا چلا گیا کہ ’مذہب کو محض ایک نجی معاملہ قرار دے کر‘ اجتماعی اور معاشی نظمِ حیات سے الگ کر دیا جائے۔ اسی تاریخی تناظر میں، جیسا کہ آر ایچ ٹاؤنی جیسے مؤرخ نے اپنی کتاب Religion and the Rise of Capitalismمیں واضح کیا ہے ’’معاشی سرگرمیوں کے اخلاقی پیمانے بدلنے لگے: نفع، سود اور دولت کی اندھی دوڑ کو رفتہ رفتہ ’جواز‘ فراہم کیا گیا، اور اُخروی جواب دہی کے تصورات عملی زندگی سے دور ہوتے چلے گئے‘‘۔
کارل پولانی کی کتاب The Great Transformation:Economic and Political Origins of Our Times کے مطابق، جب معیشت کو معاشرت سے کاٹ کر ایک خودمختار منڈی کے سانچے میں ڈھالا گیا، تو انسان اور سماج کے مقاصد بھی عملاً محض دنیاوی کامیابی تک محدود ہوگئے، یعنی طاقت، دولت اور خواہشات کی تسکین۔ اگر اس پورے تاریخی پس منظر کو نظر انداز کر دیا جائے تو یہی عارضی اور مخصوص مفروضے ’آفاقی سچائیوں‘ کے رُوپ میں نظر آنے لگتے ہیں۔ یہی رویہ مغربی معاشی فکر کی درست تفہیم میں بھی سب سے بڑی رکاوٹ بنتا ہے،اور اس کے متبادل نظریات کی تشکیل کے راستے میں بھی ایک مضبوط دیوار کھڑی کر دیتا ہے۔
بدقسمتی سے یہ تاریخی بے بصیرتی آج مغرب اور مسلم دنیا دونوں میں عام ہو چکی ہے ۔ البتہ اس کے اسباب دونوں جگہ مختلف ہیں۔ مغرب میں ’تحریکِ تنویر‘ کے فکری رہنمائوں نے علم کو شعوری طور پر الٰہیات سے کاٹنے کی کوشش کی۔عقل کو خودمختار، غیر جانب دار اور تمام تاریخی و مذہبی قیود سے بالاتر قرار دیا گیا۔ اسی دعوے نے ’سماجی علوم کی معروضیت‘ کے نئے تصور کو جنم دیا۔ ’آفاقیت پرستی‘ کے نظریے کی ترویج سے جدید مغربی تعقل کو ایسی بالادستی حاصل ہوگئی کہ مغربی نظریات اب محض نظریات نہ رہے، بلکہ ایسی آفاقی صداقتوں کے قالب میں پیش کیے جانے لگے جو ہر عہد کے ہرشخص پر یکساں لاگو ہوں۔
اسلامی تعلیمات کی آفاقیت اپنی جگہ مسلّم ہے، مگر اس آفاقیت کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ ہم ہردور میں ان تعلیمات کے عملی نفاذ کے وسائل سے بخوبی آگاہ ہوں۔ مثال کے طور پر قرآن و سنت بار بار بھوکوں کو کھانا کھلانے اور محتاجوں کی کفالت کی ترغیب دیتے ہیں۔ یہ حکم ابدی ہے، لیکن آج اس کو مؤثر طور پر پورا کرنے کے لیے زراعت، آبپاشی، ذخیرہ اندوزی کی روک تھام، طلب اور رسد، اور جدید پیداواری تکنیکوں کا فہم ضروری ہے، ورنہ نیک نیتی کے باوجود غربت و افلاس کا مسئلہ برقرار ر ہے گا۔ اسی طرح سود، زکوٰۃ، اور مالی معاملات سے متعلق شرعی اصول بھی ابدی ہیں،مگر ان کے اطلاق کے لیے جدید کرنسی، بنکاری اور مالیاتی نظام کی ساخت کو سمجھے بغیر کوئی بامعنی پیش رفت ممکن نہیں۔شرعی اصولوں کی آفاقیت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ماضی کی جزئیات کو من و عن حال پر چسپاں کیا جانے لگے ، وگرنہ تصورِ اجتہاد ایک بے معنی شے بن کر رہ جائے گا۔
خلاصہ یہ کہ آفاقیت کا غلط تصور جہاں جدید علوم کے فہم میں خرابی کا باعث بنتا ہے ، وہیں اسلامی علوم کے ناقص یا غیر صائب اطلاق کا سبب بھی بن سکتاہے ۔ اسی لیےعلوم کے تاریخی ارتقا سے واقفیت اَزبس ضروری ہے ۔
دینی اور دُنیاوی تعلیم کی تقسیم: ایک رکاوٹ
یہ وہ مرحلہ ہے جہاں آ کر ہمارا موجودہ تعلیمی نظام بھی ایک گہرا اور عملی خلا پیدا کرتا ہے۔ مسلم دنیا میں تعلیم کی تقسیم نے دینی مدارس اور یونی ورسٹیوں کو دو متوازی بلکہ بالکل منقطع راستوں پر ڈال دیا ہے، جس کا سب سے گہرا اثر اسلامی معاشیات جیسے بین العلومی (interdisciplinary) میدان پر پڑتا ہے۔مدارس کے طلبہ کو شرعی اصولوں، فقہی قواعد اور اخلاقی تصورات سے واقفیت کے بھرپور مواقع میسر آتے ہیں، مگر جدید معاشی نظام، اس کی ادارہ جاتی ساخت اور بنیادی مفروضات ان کے سامنے اکثر مبہم رہتے ہیں۔جدید نظامِ زر و بنکاری کی حقیقت سے بھی وہ زیادہ آگاہ نہیں ہوتے۔ نتیجتاً ان میں وہ صلاحیت ہی پیدا نہیں ہوتی کہ وہ علم معاشیات کی آفاقیت کے دعوے کو علمی طور پر پرکھ سکیں اور اس کے تاریخی و اخلاقی پس منظر کوجانچ سکیں ۔
دوسری طرف جدید یونی ورسٹیوں کے طلبہ جدید معاشیات کی تکنیکی تربیت تو حاصل کر لیتے ہیں، مگرشرعی علوم سے بالکل بے بہرہ ہوتے ہیں۔مزید برآں یونی ورسٹیوں میں مغربی سماجی علوم ، بالخصوص معاشیات ، جس اسلوب میں پڑھائے جاتے ہیں،وہ مسئلے کو اور پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ سماجی علوم بشمول علم معاشیات چونکہ طبیعی سائنس کی ہیبت و ہیئت میں پروان چڑھے ہیں، اس لیے ان کے دعوؤں کو بھی اکثر طبیعیات کی طرح چند غیر متبدل قوانین کے قالب میں پیش کیا جاتا ہے۔ چنانچہ طلب و رسد جیسے اصول بھی اس انداز میں پڑھائے جاتے ہیں گویا وہ کششِ ثقل کے قانون کی طرح ہرحال میں یکساں ہوں، حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ قواعد، مخصوص سرمایہ دارانہ نظامِ معیشت سے وابستہ ہیں۔ جہاں منڈی کی جگہ منصوبہ بندی، یا سرکاری نرخ آ جائیں، وہاں یہ ’قوانین‘ اپنی وہ شکل برقرار نہیں رکھ پاتے، جو کتابوں میں بطور آفاقی حقیقت پیش کیے جاتے ہیں۔ اس طرزِ تعلیم کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ طلبہ اس علم کے مفروضات کو غیر متبدل اور اٹل حقائق سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں۔ سو ان پر تنقیدی نگاہ ڈالنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔
یوں دونوں تعلیمی دھاروں میں الگ الگ مگر عمیق فکری خسارے جنم لیتے ہیں۔ مدارس میں جدید معاشی علم کی تاریخی اور ادارہ جاتی تفہیم کمزور رہتی ہے، اور یونی ورسٹیوں میں اخلاقی و شرعی بنیادوں سے رشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔ اس صورتِ حال میں وہ دوہری بصیرت جو جدید اسلامی معاشیات کی تفہیم اور تشکیل کے لیے ناگزیر ہے، شاذ ہی پیدا ہوتی ہے۔
اسلامی معاشیات کی ضرورت اسی مقام پر پوری شدت سے سامنے آتی ہے۔ یہ جدید معاشی علم کو سمجھ کر اس کے آفاقیت کے دعووں کی حدیں متعین کرتی ہے، ان کے تاریخی اور اخلاقی پس منظر کو بے نقاب کرتی ہے، اور پھر قرآن و سنت کی روشنی میں وہ اصولی اور عملی سوالات اٹھاتی ہے، جن کے بغیر ’جدید اسلامی معیشت‘ کی صورت گری ممکن نہیں۔ یوں اسلامی معاشیات محض ایک اضافی مضمون نہیں، بلکہ ایک ناگزیر فکری پل ہے، جو ابدی اسلامی اصولوں اور بدلتے ہوئے معاشی حقائق کے درمیان ربط قائم کرتا ہے۔
۴-مغرب کا تصورِ آفاقیت اور اس کی تاریخی بنیادیں
یہ سوال اہم ہے کہ مغربی فکر نے اپنے سماجی نظریات کو آفاقی صداقتوں کے طور پر کیوں اور کیسے پیش کرنا شروع کردیا؟ ان نظریات کے اندر ایسی کیا خصوصیت تھی کہ انھیں سب انسانوں کے لیے ہر زمانے میں قابلِ اطلاق سمجھ لیا گیا؟ اس کا جواب نظریات کے مواد میں نہیں بلکہ ان تاریخی حوادث میں پوشیدہ ہے، جن کے جواب میں یہ فکر پیدا ہوئی۔
یورپ میں صدیوں پر محیط مذہبی تنازعات کے بعد، اہلِ تنویر نے یہ جستجو شروع کردی کہ علم، اخلاق اور سیاسی اقتدار کی بنیاد وحیِ الٰہی کے سوا کسی اور چیز پر استوار کی جائے۔ کیتھولک اور پروٹسٹنٹ فرقوں کی بے مہار جنگیں، کلیسائی ادارۂ تفتیش و تعزیر (Inquisition) کا ظلم و عدوان، اور فرقہ وارانہ سیاست کا انتشار اُس مہیب اور تاریک تجربے کا حصہ تھے، جس نے یورپی اذہان پر گہرے اثرات چھوڑے۔ ان حالات میں یورپ کے دانشوروں نے یہ حل تجویز کیا کہ معرفت، اخلاق اور اقتدار کی بنیاد وحی کے بجائے عقل پر رکھی جائے، ایسی عقل جو ’عالم گیر‘ ہو، ’معروضی‘ ہو، اور مذہب سے مکمل طور پر آزاد ہو۔یہ کوئی غیر جانب دار دریافت نہیں تھی، بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی تھی کہ مذہب، جو اجتماعی زندگی کے لیے مشعلِ راہ ہوا کرتا تھا، اسے بے دخل کر کے ایک ایسے علم کو منصبِ امامت پر فائز کر دیا جائے جو بظاہر غیر جانب دار اور عالم گیر ہو۔
ڈیکارٹ کو جدید مغربی فلسفے کا بانی کہا جاتا ہے۔ اس کے افکار ایک مخصوص تاریخی بحران کا جواب تھے۔ اُس دور میں یورپ میں اسلامی تہذیب سے آنے والی علمی و سائنسی میراث نے طبیعی سائنس کو نئی سمتیں عطا کیں، مگر کلیسا کی کڑی نگرانی اور بے جا احتساب کی وجہ سے اہلِ علم کی فکری آزادی تب بھی خطرے میں تھی۔ اس خطرے سے مستقل طور پر خلاصی کے لیے ڈیکارٹ نے یہ راستہ نکالا کہ ’یقینی علم‘ کی بنیاد وحی یا روایت پر نہیں بلکہ ’عقلِ عام‘ (Common Sense) پر رکھی جائے تاکہ فرد تنِ تنہا اپنی دلیل سے آفاقی سچائی تک پہنچ سکے، اور علم کو کلیسا کی گرفت سے ایک محفوظ دائرہ مل جائے۔ وقت کے ساتھ اسی تصور نے اس تقسیم کو مضبوط کر دیا کہ ایک طرف ’دینی علم‘ ہے جس کا تعلق بس ایمان اور عبادات کے ساتھ ہے، اور دوسری طرف ’دُنیوی علم‘ ہے، جس کا دائرہ سیاست، معیشت اور سائنس پر محیط ہے۔دنیوی علم عقلِ انسانی کا خود مختار میدان قرار پایا۔ یہی دوئی(dichotomy) آگے چل کر سیکولر فکر کی بنیاد بنی، جہاں اجتماعی زندگی کے بڑے فیصلے مذہبی رہنمائی کے بجائے ’غیرمذہبی‘ عقل اور تجربے کے حوالے کر دیے گئے۔
اس طرح وہ نظریہ جو محض یورپ کے اپنے داخلی انتشار کے حل کے طور پر سامنے آیا تھا، تدریجاً اسے ’آفاقیت‘ کی سند مل گئی، یعنی جو مسئلہ یورپی تھا، وہ ’انسانی‘ بن گیا۔مغربی تعلیم اور پالیسی ساز اداروں کی ساکھ ہی اس تصور پر استوار ہوگئی کہ علم، خاص کر سماجی علوم، ’قدر سے عاری‘ اور ’معروضی‘ ہونے چاہییں۔ نوآبادیاتی استعمار نے پھر اس نظریے کی ترویج کی، اور مغربی تعلیمی نظام کے ذریعے دنیا کے چپے چپے پر اس فکر نے اپنے پنجے گاڑ دیے۔ خصوصاً معاشیات کو ایک تکنیکی سائنس کے طور پر پڑھایا گیا، یعنی ایسی سائنس جو ماورائے زمان، تہذیب و ثقافت کی قیود سے آزاد اور آفاقیت کی حامل ہے۔
لیکن یہ محض ایک دعویٰ اور بے بنیاد مفروضہ ہے، علمی حقیقت نہیں۔ مغربی معاشی و سماجی نظریات کے رَگ و پَے میں جو بنیادی مفروضات سرایت کیے ہوئے ہیں، جیسے انسانی خودغرضی، لذت پسندی، عقل پرستی، بے محابا مقابلہ، اور ریاست کا مخصوص کردار، یہ سب یورپ کے مخصوص اخلاقی و سیاسی تجربات کی پیداوار ہیں، نہ کہ انسانیت کی آفاقی فطرت کے یقینی حقائق۔ انھیں ’آفاقی‘ بنا کر پیش کرنے کے پیچھے خود ایک تاریخی ضرورت کارفرما رہی۔ ابتدا میں یہ دعویٰ اس لیے مفید تھا کہ نئی سائنسی و فکری کاوشوں کے لیے کلیسا کی نگرانی سے پرے ایک محفوظ میدان میسر ہو۔ بعد کے دور میں یہی دعویٰ نوآبادیاتی نظام کے لیے بھی نہایت کارآمد ثابت ہوا۔ یورپی فکر کو ’عقلِ عام‘ کا معیار قرار دے کر یہ تاثر پھیلایا گیا کہ ’غیر یورپی اقوام عقل و تدبیر میں کم تر ہیں، اس لیے ان پر حکومت کرنا اور انھیں ’مہذب‘ بنانا نہ صرف جائز بلکہ قابلِ توصیف ذمہ داری ہے‘۔
مگر یہ ملحوظ رہے کہ ہماری تنقید کا مقصود فی نفسہٖ عقل یا جدید علم کی نفی نہیں، بلکہ مغربی افکار کو’حتمی جواب‘ سمجھنے کے بجائے ان کو تاریخی و تہذیبی سیاق میں رکھ کر پرکھنا ہے۔ جب یہ حقیقت واضح ہو جائے تو اگلا نتیجہ خود بخود سامنے آتا ہے۔ سماج کی سمت متعین کرنے والے مقاصد اگر مختلف ہوں تو ان مقاصد کو پورا کرنے والے ادارے بھی لازماً مختلف ہوں گے۔ ادارے دراصل وہ عملی سانچے ہیں جن کے ذریعے کوئی معاشرہ اپنی اجتماعی ترجیحات ( عدل، فلاح، مساوات، یا محض نفع و نمو) کو حقیقت بناتا ہے۔ اسی لیے جب اسلامی اصولِ تنظیمِ معاشرہ سرمایہ دارانہ مقاصد سے مختلف ہیں تو اسلامی معیشت کے ادارے بھی مختلف ہوں گے۔
مثال کے طور پر ’بینک‘ کا مرکزی محرک سرمائے کی بڑھوتری اور منافع کی توسیع ہے، جب کہ ’وقف‘ کا بنیادی مقصد فیاضی، خدمت اور دیرپا اجتماعی کفالت ہے۔ اسی وجہ سے اسلامی تاریخ میں طویل عرصے تک ’اوقاف‘ معاشرتی زندگی کا مرکزی ستون رہے۔ ’اوقاف‘ نے تعلیم، صحت، غریبوں کی کفالت، مسافروں کی خدمت، اور شہری سہولیات تک کے لیے وہ بنیادی ڈھانچا فراہم کیا جس نے معاشرے کی تشکیل کی۔ اِس کے برعکس جدید یورپی تاریخ میں ’بینک‘ سے وابستہ ادارے ریاست، صنعت اور تجارت کے لیے سرمایہ کی فراہمی اور ارتکاز کا مرکزی وسیلہ بنتے گئے، اور رفتہ رفتہ مالی نظام کی ریڑھ کی ہڈی قرار پائے۔
۵- جدید تناظر میں اسلامی اصولوں کی تطبیق اور اجتہاد
اگر مغربی فکر کی خرابی یہ ہے کہ وہ اپنے مخصوص تاریخی تجربے کو آفاقی صداقت بنا کر پیش کرتی ہے، تو ہمارے ہاں ایک اور نوعیت کی مشکل درپیش ہے۔ وہ یہ ہے کہ شریعت کے آفاقی اصولوں کو عصرِ حاضر کے پیچیدہ معاشی اور مالیاتی مسائل پر منطبق کرنے کے لیے جدید نظامِ معیشت کی جس سطح کی سنجیدہ اور گہری تفہیم کی ضرورت ہے ، وہ ہمارے مذہبی حلقے میں کمیاب ہے۔ ’اجتہاد‘ کے لیے دینی علوم میں رسوخ ایک عمر کا تقاضا کرتا ہے، اور جدید معیشت کی تہہ در تہہ حقیقتوں کو سمجھنا بھی محض سطحی مطالعے سے ممکن نہیں۔ اسی لیے یہ میدان انفرادی کوشش سے بڑھ کر اجتماعی، فکری اور ادارہ جاتی کاوش کا طالب ہے۔
اسلامی شریعت کی رہنمائی اپنی اصل میں آفاقی ہے۔ عدل، امانت، حقوق و فرائض، فلاحِ عامہ اور ظلم کی حرمت جیسے اصول ہر زمانے میں معتبر چلے آرہے ہیں، مگر ان اصولوں کا درست نفاذ حالات، وسائل اور سماجی ساخت کی حقیقی تفہیم کے بغیر ممکن نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ علمائے سلف نے ہردور میں اپنے زمانے کے نئے مسائل کو سامنے رکھ کر ’اجتہاد‘ کیا، یعنی پہلے درست صورتِ مسئلہ کی تشخیص کی ، پھر شریعت کے اصولوں کی روشنی میں اس کا حل تجویز کیا۔ آج بھی اصل ضرورت یہی ہے کہ جدید نظامِ معیشت کی حقیقت اور ساخت کو سمجھا جائے، تاکہ شرعی اصولوں کی تطبیق محض ظاہری مشابہت کے بجائے مضبوط اور بامعنی بنیاد پر ہو سکے۔
اس فرق کو ’حج‘ کی مثال سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔ شریعت ’حج‘ کے مناسک متعین کرتی ہے، یعنی احرام، طواف، سعی، وقوفِ عرفہ وغیرہ___ مگر ان مناسک تک پہنچنے اور انھیں ادا کرنے کے انتظامات ہر دور میں بدلتے رہے ہیں۔ آج کا پاکستانی حاجی آن لائن رجسٹریشن، بینک ادائیگی، سفری و سرکاری دستاویزات، ویزہ و کوٹہ سسٹم، اور بین الاقوامی سفر کے پیچیدہ نظام سے گزر کر ہی حرمین تک پہنچتا ہے۔ یہ امور مناسک کا حصہ نہیں، لیکن موجودہ دور میں انھی کے ذریعے حج عملاً ممکن ہوتا ہے۔ فقہ نے ہمیشہ مقاصد اور ذرائع میں امتیاز قائم رکھا ہے، جو اس امر کا غماز ہے کہ شریعت کے آفاقی احکام کے درست اطلاق کے لیے عصرِ حاضر کے نظاموں اور وسائل کو سمجھنا ناگزیر ہے۔
یہاں ایک اور بنیادی فرق کا ادراک بھی ضروری ہے۔ طبیعیات اور دیگر طبیعی علوم (Natural Sciences) میں درسی کتابیں عموماً ایسے علم تک لے جاتی ہیں، جس کے نتائج دنیا بھر میں یکساں طور پر نمایاں ہوتے ہیں۔ ان علوم کی بنیاد اُن خارجی مظاہر پر ہے، جن کے باہمی تعلقات بڑی حد تک مستقل رہتے ہیں، اور انھی کی بدولت ایسی ٹکنالوجی وجود میں آتی ہے، جو ہماری روزمرہ زندگی پہ براہِ راست اثرانداز ہوتی ہے۔ اس کے برعکس جدید سماجی علوم بالخصوص معاشیات کو بھی اسی سائنسی ہیئت کے ساتھ ’قدرسے ماورا‘ اور ’آفاقی‘ بنا کر پیش کیا گیا، حالاں کہ ان کے عملی نتائج اس دعوے کی تائید نہیں کرتے۔ دنیا آج بھی نہ ختم ہونے والی جنگوں، بڑھتی ہوئی سماجی ناہمواریوں، معاشی بحرانوں، اور انسان، معاشرہ اور ماحول پر بڑھتے دباؤ کا شکار ہے۔
یہی وجہ ہے کہ مسلمان اہلِ علم کے لیے جدید معاشیات کو سمجھنے کا مطلب صرف درسی ماڈلز اور اصطلاحات یاد کرنا نہیں، بلکہ ان نظریات کے تاریخی پس منظر اور کارفرما مفروضات کو پہچاننا بھی ہے، تاکہ اپنی معیشت اور اپنے مسائل کو دوسروں کے مخصوص تاریخی تجربات سے اخذ کردہ نام نہاد ’آفاقی قواعد‘ کے بجائے اپنے سماجی حقائق اور شریعت کے مقاصد کی روشنی میں سمجھا اور سنوارا جاسکے۔(جاری)