مارچ ۲۰۲۶

فہرست مضامین

رسائل و مسائل

| مارچ ۲۰۲۶ | رسائل ومسائل

Responsive image Responsive image

کاغذی کرنسی اور تجارتی سامان کا نصابِ زکوٰۃ 

سوال :  مجھے کاغذی کرنسی، تجارتی سامان، کمپنی کے حصص، اور اسی طرح کی چیزوں کے لیے سونے کو نصاب سمجھنے کے بارے میں کئی استفسارات اور سوالات موصول ہوئے ہیں کہ کیا اب بھی سونے کا نصاب قابل اعتبار ہے ،جب کہ سونے کی قیمتیں بلند سطح پر پہنچ گئی ہیں؟ اور کیا چاندی کو یا اس جیسی کسی اور چیز کو نصاب بنایا جا سکتا ہے؟  

جواب : اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کے دو عظیم اور جامع مقاصد مقرر کیے ہیں: 

پہلا مقصد: اللہ تعالیٰ کے لیے خالص عبادت کا حصول۔ اور وہ اس طرح کہ مالداروں کے دلوں کو لالچ اور حرص سے پاک کیا جائے، اور غریبوں کے دلوں کو حسد اور سماجی بغض سے صاف کیا جائے، تاکہ باہمی کفالت کی ضامن اسلامی اخوت حاصل ہو سکے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: 

فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ فَاِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ۝۰ۭ وَنُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ۝۱۱  (التوبہ ۹:۱۱) پس اگر یہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو تمھارے دینی بھائی ہیں اور جاننے والوں کے لیے ہم اپنے احکام واضح کیے دیتے ہیں۔ 

دوسرا مقصد: حاجت مندوں، مسکینوں اور غریبوں کی ضروریات پوری کرنا، ان کو ترقی دینا، انھیں شدید غربت سے نکالنا، پھر وہاں سے کفایت اور مکمل کفایت کی طرف لانا، اور اس سماجی پہلو میں وہ سب کچھ شامل ہے جو دعوت الی اللہ اور انفاق فی سبیل اللہ سے متعلق ہے۔ 

ان دونوں مقاصد کا ذکر قرآن کریم نے اپنے اس فرمان میں کیا ہے: 

خُذْ مِنْ اَمْوَالِہِمْ صَدَقَـۃً تُطَہِّرُھُمْ وَتُزَكِّيْہِمْ بِہَا وَصَلِّ عَلَيْہِمْ۝۰ۭ اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّھُمْ۝۰ۭ وَاللہُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۝۱۰۳(التوبہ ۹:۱۰۳) اے نبیؐ، تم ان کے اموال میں سے صدقہ لے کر انھیں پاک کرو اور (نیکی کی راہ میں) انھیں بڑھاؤ، اور ان کے حق میں دعائے رحمت کرو کیونکہ تمھاری دعا ان کے لیے وجۂ تسکین ہو گی، اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔  

اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ زکوٰۃ کوئی ٹیکس نہیں ہے جو ریاست کی طرف سے یا طاقت وروں کی طرف سے ان کے اپنے فائدے کے لیے لگایا جاتا ہے، بلکہ زکوٰۃ ایک مکمل باہمی مالی کفالت کا نظام ہے، جس میں امیروں کے حقوق کے ساتھ حاجت مندوں کے حقوق کا بھی خیال رکھا جاتا ہے، اور یہ دنیا اور آخرت میں سب کے مفاد میں ہے، اسی طرح یہ معاشرے اور ریاست کے فائدے میں بھی ہے۔ 

واضح رہے کہ زکوٰۃ کے اکثر اموال کا نصاب ثابت شدہ احادیث سے متعین ہے، جیسے زرعی اور حیوانی دولت کا نصاب، اور خود سونا اور چاندی کا نصاب، جب کہ ہماری گفتگو تجارتی سامان، اور اس دور کے نئے مسائل جیسے کاغذی کرنسی وغیرہ کے بارے میں ہے۔ 

تجارتی سامان میں زکوٰۃ واجب ہونے پر اتفاق ہے، بلکہ اس پر سلف کا اجماع ہے۔ 

ابن المنذر کہتے ہیں: ’’اہل علم کا اجماع ہے کہ تجارتی سامان میں زکوٰۃ ہے، جب اس پر ایک سال گزر جائے‘‘۔اس بنیاد پر ہم تجارتی سامان کے نصاب کے بارے میں فقہاء کی آراء ذکر کرتے ہیں، کہ کیا ان کا نصاب سونا کے نصاب کی بنیاد پر طے کیا جائے گا یا چاندی کے نصاب کی بنیاد پر یا کسی اور چیز کے نصاب کو بنیاد بنا کر اسے مقرر کیا جائے گا؟ 

اس کے جواب میں ہم کہتے ہیں:تجارتی سامان کی قیمت کا اندازہ سال پورا ہونے کے دن کیا جائے گا، اور اس پر اتفاق ہے، البتہ اختلاف اس میں ہے کہ:اس کی قیمت سونا سے طے کی جائے یا چاندی سے یا کسی اور چیز سے ؟ اس میں فقہاء نے اختلاف کیا ہے اور یہ اختلاف کئی آراء پر مشتمل ہے جن میں مشہور ترین یہ ہیں: 

  • پہلی رائے: اس کا نصاب سونے یا چاندی میں سے اس چیز کے نصاب کی بنیاد پر مقرر کیا جائے، جس چیز کی قیمت فقرا ءکے لیے زیادہ نفع بخش ہو، چاہے وہ سونا ہو یا چاندی یا کوئی اور چیز، اور یہ امام ابو حنیفہؒ سے ایک قوی روایت ہے۔ التجريد للقدوري (ت ۴۲۸ھ) میں آیا ہے: ’’کیونکہ ہم سامان کا نصاب اس چیز کی بنیاد پر مقرر کرتے ہیں جو مساکین کے لیے زیادہ نفع بخش ہو، اور بعض اوقات نفع بخش چیز خود مال بھی ہو سکتی ہے‘‘___اور المرغینانی نے اس کی تائید اس قول سے کی ہے: ’’تجارتی سامان میں زکوٰۃ واجب ہے اگر اس کی قیمت سونے یا چاندی کے نصاب تک پہنچ جائے___ اس کا نصاب اُس چیز کی قیمت سے طے کیا جائے، جو چیز مساکین کے لیے زیادہ نفع بخش ہو، فقراء کے حق میں احتیاط کرتے ہوئے۔ یہ امام ابو حنیفہ ؒ کے نزدیک ہے‘‘۔ اور حنابلہ کی رائے بھی رہے، کہ فقرا ءکے لیے زیادہ فائدہ مند چیز کو اس کا نصاب بنایا جائے گا چاہے وہ سونا ہو یا چاندی۔ 
  • دوسری رائے: ہر حال میں ملک میں رائج کرنسی سے اس کی قیمت لگائی جائے، اور یہ امام محمد (امام ابو حنیفہ کے شاگرد) رحمہم اللہ کی رائے ہے اور شافعیہ کا بھی ایک قول ہے، اور یہی ابواسحاق کا قول ہے۔ 
  • تیسری رائے: اس کی قیمت اس چیز سے لگائی جائے جس سے اسے نقد خریدا گیا تھا، ورنہ ملک میں رائج کرنسی سے اس کی قیمت لگائی جائے، اور یہ امام ابو یوسفؒ کی رائے ہے۔ 
  • چوتھی رائے: اس کی قیمت مُطلقاً اس نقد چیز [وہ چیز جس کے بدلے یا عوض میں خریدوفروخت ہوتی ہو] سے لگائی جائے جس سے اسے خریدا گیا ہو، چاہے وہ ملک کا غالب نقد ہو یا اس کے علاوہ کوئی اور نقد، اور یہ امام شافعیؒ کا مذہب ہے۔ 
  • پانچویں رائے: اعتبار فروخت کا ہے، قرافی نے کہا:’’جب ہم قیمت لگانے کے قائل ہیں تو جو چیز غالباً سونے کے بدلے بیچی جاتی ہے اس کی قیمت سونے سے لگائی جائے، اور جو غالباً چاندی کے بدلے بیچی جاتی ہے اس کی قیمت چاندی سے لگائی جائے، کیونکہ یہ استعمال کی قیمت ہے، پس جب وہ دونوں کے بدلے بیچی جاتی ہو، اور وہ زکوٰۃ کے اعتبار سے برابر ہوں تو اختیار دیا جائے گا، ورنہ وہ ذمہ دار ہوگا‘‘۔ انھوں (یعنی ابن القاسم) نے کہا: ’’زکوٰۃ میں چاندی اصل ہے، اسی سے قیمت لگائی جائے، اور اگر ہم کہیں کہ وہ دونوں اصل ہیں، تو ابو حنیفہؒ اور ابن حنبلؒ نے کہا: مساکین کے لیے جو افضل ہو اس کا اعتبار کیا جائے گا، کیونکہ قیمت ان کے حق کی خاطر لگائی جاتی ہے۔ 
  • مضبوط ترجیحی رائے: میزان کا تقاضا یہ قول ہے کہ تجارتی سامان کا نصاب، اور اسی طرح ہماری کاغذی کرنسی کا نصاب اس چیز سے طےکیا جائے، جو فقراء کے لیے زیادہ فائدہ مند، زیادہ بہتر اور زیادہ نفع بخش ہو۔ لیکن اس میں ایک شرط کو ملحوظ رکھنا ہوگا، اور وہ یہ کہ یہ نصاب شریعت کے نصاب مقرر کرنے کے مقصد سے خارج نہ ہو، کیونکہ اس کا مقصد ’فقیرمحتاج‘ اور اس شخص کے درمیان فرق کرنا ہے جو حاجت کے دائرے سے نکل کر غِنٰی کے دائرے میں داخل ہو چکا ہے۔ اور یہ شرط اغنیاء اور فقراء کے لیے اسلام میں عدلِ کامل کے حصول کے لیے ہے، اور چھوٹے اموال کو زکوٰۃ جیسے مالی بوجھ اٹھانے سے بچانے کے لیے ہے، تاکہ وہ بڑے ہوں، اور نصاب کی حد تک پہنچ جائیں۔ شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے ہر جنس میں نصاب کے واجب ہونے کی حکمت پر شاندار کلام ذکر کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک سال تک نصاب کا مالک رہنا فقر کی حد سے نکل جانے کا باعث بنتا ہے، اور اسے تقریباً ایک سال تک خود کفیل بنا دیتا ہے۔ 

بلکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے یہ واضح کیا اور فرمایا: ’’صدقہ صرف زائد مال پر ہوتا ہے:’’ اور صدقہ سے مراد وہ صدقہ ہے جو زکوٰۃ اور اس کے علاوہ کو شامل ہے۔ امام بخاریؒ نے اسی عنوان سے باب قائم کیا ہے: باب لَاصَدَقَةَ إلَّا عَنْ ظَہرِ غِنًی پھر اپنی سند سے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے روایت کیا کہ آپ نے فرمایا: ’’بہترین صدقہ وہ ہے جو زائد مال پر ہو‘‘… اور مرفوعاً بھی جزم کے صیغے کے ساتھ معلقاً بلفظ لَاصَدَقَةَ إلَّا عَنْ ظَہرِ غِنًیروایت کیا۔ 

یہ احادیث بوضاحت دلالت کرتی ہیں کہ واجب صدقہ (زکوٰۃ) غِنی (تونگری) کے ساتھ شروع ہوتا ہے، اور جو شخص پورے ایک سال تک نصاب کا مالک رہا وہ اس دائرے میں داخل ہوچکا ہے۔اور اس بنیاد پر، جمہور معاصر علماء نے سونے کے نصاب پر اعتماد کیا ہے جو ۲۰مثقال (دینار) ہے اور یہ عصری اوزان کے مطابق ۸۵ گرام خالص سونے یعنی ۲۴ کیرٹ یعنی ۹۹۹ فی صد سونے کے برابر ہے۔ 

فقہاء نے اس چیز کو پیش نظر رکھا کہ ۱۹۹۹ء کے آغاز میں (۸۵) گرام خالص سونے کی قیمت تقریباً ۲ہزار ڈالر تھی، پھر ۲۰۰۰ء-۲۰۲۳ء کے آغاز میں ۳ہزار ڈالر سے ۵ہزار، یا ۶ہزارڈالر کے درمیان رہی تو یہ معاملہ بہت معقول ہے، اور اس میں فقرا اور اغنیاء کے حق میں عدل ہے۔ 

یہ معلوم ہے کہ چاندی کا نصاب (۲۰۰) درہم ہے جو (۵۹۵) گرام خالص چاندی کے برابر ہے۔ ۱۹۸۹ء سے ۲۰۲۲ء تک چاندی کی قیمت ۵ء۵۰  ڈالر سے۶ء۰ امریکی ڈالر فی اونس کے درمیان رہی، یعنی خالص چاندی کے ایک گرام کی قیمت ۱۸ سے ۱۹ امریکی سینٹ کے درمیان رہی۔ اگر ہم چاندی کے نصاب(۵۹۵) گرام کو ۱۹ سینٹ سے ضرب دیں تو نتیجہ ۰۵ٌٌء۱۱۳ یعنی ۱۱۳ ؍ڈالر اور پانچ سینٹ ہوگا، جو کہ ایک بہت معمولی رقم ہے جس سے نہ تو غنی ہوا جا سکتا ہے اور نہ یہ فقر اور تونگری کے درمیان حد فاصل بن سکتی ہے۔ اسی وجہ سے اس دور میں تجارتی سامان اور کاغذی کرنسی میں چاندی کے نصاب پر انحصار نہیں کیا گیا۔ 

اس موقف کو اختیار کرنے کی تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاندی کی قیمت سونے کی قیمت کا تقریباً دسواں حصہ تھی۔ اسی لیے سونے کا نصاب ۲۰ مثقال (دینار) اور چاندی کا نصاب (۲۰۰) درہم تھا، یعنی ہر دس درہم ایک دینار کے برابر تھے۔ یہ مساوات بہت گہری تھی، اور اس کی وجہ یہ تھی کہ دیت ایک ہزار دینار (سونے کے) اور دس ہزار درہم (چاندی کے) تھی۔ ہاں، ایک مدت میں اس میں ۲۰ فی صد کا اضافہ ہوا تو یہ (۱۲ہزار) درہم تک پہنچ گئی اور اسی تناسب سے کمی بھی ہوئی تو (۸ ہزار) درہم رہ گئی، اور یہ معقول اور قابلِ برداشت تناسب تھے۔ لیکن جب ان کے درمیان فرق کئی گنا بڑھ جائے تو چاندی معیار اور مساوات سے خارج ہو جاتی ہے، اسی لیے حالیہ عشروں میں اس کے نصاب پر انحصار نہیں کیا گیا۔ 

آج ۲۸ جنوری ۲۰۲۶ء کو خالص چاندی کے ایک گرام کی قیمت ۲ء۵۷  ڈالر تھی، اگر ہم اسے (۵۹۵) گرام سے ضرب دیں تو (۱۵۲۹) ڈالر بنتے ہیں جو (۵۵۸۰) قطری ریال کے برابر ہے۔ یہ رقم اونٹوں میں نصاب کی قیمت سے کم ہے (پانچ اونٹ جن کی قیمت تقریباً  ۲۰ہزار ریال ہے) اور (۴۰) بکریوں کی قیمت (تقریباً ۴۰ ہزار ریال) سے بھی کم ہے اور (۳۰) گایوں کی قیمت (تقریباً  ایک لاکھ ۸۰ ہزار ریال) سے بھی کم ہے ۔ لیکن خوش قسمتی سے یہ گندم کے نصاب کی قیمت سے زیادہ ہے جو کہ اکثر مسلم ممالک بلکہ دنیا کے اکثر ممالک میں غالب (خوراک) ہے۔ ہم نے ۲۰۲۵ء کے دوران قطر میں ۶۷۰ کلو گندم کی اوسط قیمت کا حساب لگایا جو صرف (۲ہزار) ریال بنتی ہے، اور یہ چاندی کے نصاب کی قیمت سے کم ہے، اور یہ چیز چاندی کے نصاب کی طرف رجحان کی حمایت کرتی ہے۔ 

اسی لیے ہم اس تفصیلی بحث کے ذریعے دیکھتے ہیں کہ اس ہجری سال (۱۴۴۷ھ) اور اس کے بعد سے قابلِ اعتماد نصاب چاندی کا نصاب۵ہزار ۵سو۸۰ قطری ریال اور اس کے مساوی۱۵۲۹؍ امریکی ڈالر ہے۔ 

فقہ میں یہ معلوم ہے کہ تجارتی اشیاء کی زکوٰۃ کا حساب درج ذیل اقدامات سے شروع ہوتا ہے: 

  • اوّل: تمام نقدی، سونا اور چاندی کا ان کی قدر کے مطابق اس دن حساب لگایا جائے جس دن سال مکمل ہو۔ ابن قدامہ نے فرمایا: ’’سونا اور چاندی ایک دوسرے میں ضم کر دیے جائیں گے، اور اس سے نصاب پورا کیا جائے گا‘‘۔ 
  • ثانیاً: فروخت کے لیے پیش کردہ تمام اشیاء کا ان کی بازاری قیمت پر حساب لگایا جائے، اگر وہ ہول سیل میں بیچی جاتی ہیں تو ہول سیل قیمت، ورنہ ریٹیل قیمت۔ 
  • ثالثا ً: تاجر کو امید کے ساتھ ادا کیے جانے والے تمام قرضوں کا حساب کتاب۔ 
  • رابعاً: تجارتی اشیاء سے متعلق تمام خاص قرضوں کو منہا کرنا۔ 

پھر باقی ماندہ رقم اگر نصاب ۵ہزار ۵سو۸۰ ریال یا ایک ہزار ۵سو۲۹ ڈالر تک پہنچ جائے اور اس پر ایک سال گزر جائے تو اس میں۲ء۵ فی زکوٰۃ واجب ہے، ورنہ زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔پس تجارتی اشیاء اور کاغذی کرنسی کا نصاب وہ ہے جو ۵ہزار ۵سو۸۰ ریال یا ایک ہزار ۵سو۲۹ ؍ امریکی ڈالر کے برابر ہے۔اہم بات یہ ہے کہ یہ حساب کتاب چاندی کی آج کی قیمت پر مبنی ہے، اگر اس کی قیمت تبدیل ہو جائے تو اس تبدیلی کو ضرور مدنظر رکھا جائے۔ 

(ڈاکٹر علی محی الدین القرۃ داغی /  مترجم: ڈاکٹر ارشاد الرحمٰن) 


 

عُذر کی وجہ سے نماز میں کوتاہی کا تدارک 

سوال :  میں پرائمری اسکول میں ٹیچر تھا۔ ریٹائر ہوگیا ہوں۔ زندگی بھر تحریک اسلامی سے وابستہ رہا ہوں۔ رفاہی اداروں میں حسب توفیق مالی امداد کرتا رہا ہوں۔ میرے چھ لڑکے ہیں۔ میرے پاس کچھ زمین تھی وہ میں نے ان میں تقسیم کردی ہے۔ اب میرے پاس کچھ باقی نہیں بچا ہے۔ 

کچھ عرصہ پہلے میری دائیں ٹانگ کا آپریشن ہوا۔ اسٹیل کا گولا ڈالا گیا۔ لیکن چند ماہ کے بعد دوبارہ معائنہ ہوا تو ڈاکٹر نے بتایا کہ میرے گھٹنے ناکارہ ہوگئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ مصنوعی گھٹنے بھی کام نہیں دے سکتے۔ جون ۲۰۲۵ء سے میں چارپائی پر پڑا ہوں۔ پیشاب ، پاخانہ بھی بستر پر لیٹے ہوئے کرتا ہوں۔ خود سے اُٹھ کر پانی بھی نہیں پی سکتا۔ میرے پوتے سارا کام کرتے ہیں، وضو بھی نہیں کرسکتا۔ نماز بھی نہیں پڑھ سکتا۔ 

ایک مفتی صاحب نے بتایا کہ فی نماز دوکلو گندم مرنے کے بعد صدقہ کرنا پڑے گا۔ میں بہت پریشان ہوں۔ میرے مرنے کے بعد کیا میرے بیٹے اتنا صدقہ کرسکیں گے؟ مجھے اُمید نہیں، میں نے نہ کبھی روزہ چھوڑا نہ نمازِ تہجد کا ناغہ کیا۔ غریبوں کی مدد اور مخلوقِ خدا کی خدمت کرتا رہا ہوں۔ اب میری ایسی حالت ہوگئی ہے۔ براہِ کرم میری راہنمائی فرمائیں میں کیا کروں؟ 

جواب : اس دُنیا میں ہرانسان آزمائش کی حالت میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کچھانسانوں کو دے کر آزماتا ہے اور کچھ کو محروم کرکے۔ کچھ کو مال و دولت سے نوازتا ہے تو کچھ کو غریب رکھتا ہے۔ کچھ کو صحت مند رکھتا ہے تو کچھ کو امراض میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اس طرح وہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ نعمتیں پاکر وہ شکر ادا کرتے ہیں یا نہیں اور مال و دولت اور صحت سے محروم ہونے پر وہ صبر کرتے ہیں یا نہیں۔ کامیاب انسان وہ ہیں جو کوئی نعمت پاکر شکر بجا لائیں اور کسی پریشانی کا شکار ہوں تو صبر کریں۔ کوئی شخص روزہ نہ رکھ سکے تو ایک روزے کا فدیہ دو وقت کا کھانا کھلانا، یا اس کے برابر رقم صدقہ کرنا ہے۔ تاہم بعض افراد نے یہی ہر نماز کا فدیہ بھی قرار دیا ہے، جو درست نہیں ہے۔ 

جب تک انسان زندہ اور ہوش و حواس میں ہے، نماز معاف نہیں۔جس طرح بھی ممکن ہو، نماز ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ وضو نہ کرسکتے ہوں تو مٹی کا ڈلا اپنے پاس رکھیں، اس سے تیمّم کرلیا کریں۔ اُٹھ بیٹھ نہ سکتے ہوں تو لیٹے لیٹے نماز ادا کرلیا کریں، کم از کم فرض نماز ضرور ادا کریں، توفیق اذکار و اوراد کا اہتمام کریں۔ جتنا قرآن یاد ہو جب بھی موقع ملے دُہراتے رہیں۔ 

آپ نے پوری زندگی دین داری کے ساتھ گزاری ہے۔ عبادات کا اہتمام کیا ہے۔ صدقہ و خیرات کرتے رہے ہیں۔ اب عُذر کی وجہ سے نہیں کرپا رہے تو اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا ہے۔ حدیث میں ہے کہ عام حالات میں بندہ جو نیک اعمال کرتا رہا ہے، اگر عُذر کی وجہ سے انھیں نہ کرسکے تب بھی اللہ تعالیٰ اسے اجر دیتا رہے گا۔(محمد رضی الاسلام ندوی)