اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کی اطاعت و فرماں برداری اور مالک و ربِّ کائنات سے بغاوت میں فرق کرنے والا الہامی اصول اگر کوئی ہے تو وہ صرف اور صرف توحید ہے۔یہ وہ پیمانہ ہے جو ایک فرد اور معاشرے کو معروضی طور پر آئینہ دکھلاتے ہوئے اس کے حُسن یا بدصورتی کو بلاکسی مبالغے کے اس کے سامنے رکھ دیتا ہے۔لیکن صدیوں کی سیاسی اور فکری غلامانہ ذہنیت اور مناظرانہ بحثوں نے توحید کو ایک کلامی مسئلہ بنا دیا۔ اس طرح اس کی جامعیت اور سیرت سازی اور معاشرے کو بدلنے کی صلاحیت پردۂ نسیاں میں رو پوش کر دی گئی اور اس کی لغوی وضاحت کو کافی سمجھتے ہوئے توحید اور تثلیث یا توحید اور کثیر خداؤں کے تقابلی مطالعہ کو علمی گفتگو کا موضوع بنائے رکھا گیا۔
مشرکین مکہ اور داعی اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان وجہ نزاع یہ نہیں تھی کہ اللہ خالق کائنات نہیں ہے۔ وہ جب سمندری اسفار میں کسی طوفان میں گھر جاتے تھے تو خالق کائنات ہی کو پکارتے تھے۔مزید یہ کہ جن لوگوں نے حرم مکہ میں ۳۰۰ سے اوپر خداؤں کی ’اقوام متحدہ‘ قائم کررکھی تھی، اس میں ایک بڑے خدا کا اضافہ کوئی مشکل کام نہ تھا۔ وہ ایک بڑے خدا کو اپنے خداؤں سے بلند مقام پر بٹھا دیتے تو تنازع ختم ہو جاتا۔
لیکن مسئلہ عددی قوت کا نہیں تھا بلکہ توحیدکے معنوی اور عملی مضمرات کا تھا۔وہ جو عربی ادب کے اسرار اور رُموز جاننے کا دعویٰ کرتے تھے ،انھوں نے نور اور ہدایت کے لیے اپنے شعور کے دریچے بند کر رکھے تھے، روایات کی اندھی پیروی ان کا شیوہ تھا۔ اس سب کے باوجود وہ جانتے تھے کہ توحید یا اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کو ربّ اور حاکم ماننے کا مطلب یہ ہے کہ وہ تمام چراغ جو دوسروں کے اُجالے سے روشن ہیں گل ہو جائیں گے اور صرف ایک نور ہدایت رہنمائی کا ذریعہ قرار پائے گا۔
قبولِ اسلام کے لیے جن دو کلمات پر مبنی شہادت اور عہد کو لازمی قرار دیا گیا، اس کا مفہوم بھی یہی تھا کہ اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کے سوا تمام مصنوعی اور غیر حقیقی خداؤں کو اس مقام سے ہٹا دیا جائے۔ لیکن یہ ایک ایسا اقدام تھا جس سے عربوں کی معاشی فوقیت، سیاسی اور عسکری قیادت، مذہبی چودھراہٹ پر براہِ راست زد پڑتی تھی۔ یہ سیاسی اور مذہبی مفاہمت، رواداری اور اشتراک کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ ان کے سیاسی، معاشی، معاشرتی اور مذہبی وجود کا براہِ راست تعلق اس ایک کلمہ کے انکار سے تھا۔ توحید کا واضح مطلب یہ تھا کہ خدائی میں تقسیم نہیں ہو سکتی۔یہ نہیں ہو سکتا کہ رب ِکعبہ حدودِ حرم میں تو حاکم و مالک ہو، لیکن سو قدم فاصلے پر سودی کاروبار گرم ہو اور مزید تھوڑے فاصلہ پر کسی معصوم بچی کو زندہ دفنایا جا رہا ہو کہ لڑکی کی پیدائش باعث فخر نہیں اور نہ اس سے قبائلی قوت میں اضافہ ہوتا ہے۔گویا توحید کو ماننے کا تقاضا معاشرت، معیشت ،عبادات، سیاسی تعلقات ہر شعبۂ حیات میں ایک بنیادی تبدیلی پیدا کرنا تھا جو مشرکین مکہ کے لیے آسان کام نہیں تھا۔
جس بات کو عرب جاہلیہ کے دانش ور ایک لمحہ میں سمجھ گئے تھے اور جو اسلام اور روایتی عرب مذہبیت کے درمیان وجہ نزا ع تھی۔ اس معمولی سی بات کو گذشتہ تین صدی سے زیادہ عرصے میں مغرب اور مشرق کے حکماء اور فلاسفہ اپنی تمام تر ذہانت اور دور جدید میں وجود میں آنے والی مصنوعی ذہانت کے باوجود سمجھنے سے قاصر رہے ہیں یا سمجھنے پر آمادہ نہیں ہوسکے ہیں۔ وہ یہی راگ الاپتے رہے ہیں کہ معاشی، سیاسی، ثقافتی، معاشرتی اور انتظامی خداؤں کے ایک متضاد نظام میں اگر ایک خدا کو مزید شامل کر لیا جائے جس کا کام روحانیت،مذہبیت اور عبادت کی رسوم کا ہو تو ایک بہترین متوازن، روادار، مساویانہ معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے۔ بلکہ ایسا نظام یورپ اور دیگر ممالک میں سکون کے ساتھ چل رہا ہے۔ اس لیے مسلم ممالک میں بھی اس ’روشن خیال‘فکر کو رواج ملنا چاہیے۔
یہ سوچ محض تصور تک محدود نہیں رہی بلکہ اسے گذشتہ تین صدیوں میں تعلیم، تجارت، انتظامیہ، عدلیہ اور سیاسی اداروں اور ابلاغِ عامہ کے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت عقل سے عاری مسلم حکمرانوں، سیاست کاروں، دانش وروں، درس گاہوں، ایوان ہائے تجارت، غرض تمام شعبوں میں ایک سامراجی نظام کی شکل میں نافذ کر دیا گیا۔ اور مسلم عوام و خواص کو دنیا اور ’مذہب‘ میں یگانگت اور ’توازن‘ کا اتنا عادی بنا دیا گیا ہے کہ یہ فکر ان کی سوچ کا زاویہ بن گئی ہے۔ ایک جانب حج اور عمرہ کا اہتمام کیا جا رہا ہے، دوسری جانب ترقی اور جدیدیت کے نام پر مخلوط معاشرہ، سود، مغربی ثقافت اور مصنوعات کا فروغ سرکاری سرپرستی میں عام کیا جارہا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا اپنا نظام ہے اگر وہ عرب جاہلیہ کے معاشرہ میں سے ہی ایک گوہرِنایاب کو منتخب کر کے ان تمام مانگے کے اجالے رکھنے والے چراغوں کو گل کر کے اسلام کے نور کو غالب ہونے کا موقع دے سکتا ہے، تو بعد کے اَدوار میں ایسا کرنا اس کے لیے کیوں ممکن نہیں ہوسکتا۔ خود برصغیر کی تاریخ میں بارہا ایسا ہوا کہ گمراہی کے دور میں کسی اللہ کے بندے نے حق و صداقت کا علَم بلند کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے حق لوگوں کے دلوں میں گھر کر گیا۔بر صغیر میں مجدد الفؒ ثانی، شاہ ولیؒ اللہ دہلوی، علّامہ اقبالؒ اور سیّد مودودی ؒنے اسلام کے ’محدودمذہبی تصور‘ کی جگہ اسلام کا جامع اور متحرک پہلو اُجاگر کیا۔ قرآن و سنت پر مبنی یہ وہ تصور ہے جو فرد کی متوازن شخصی تعمیر اور معاشرے کی عادلانہ تشکیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
توحید اسلام کا وہ انقلابی اصول ہے جو اپنی صداقت، جامعیت ،عالم گیریت اور عملیت کی بنا پر تاریخ انسانی میں منفرد مقام رکھتا ہے۔اس ایک کلمہ نےانسانی تاریخ کے ہر دور میں، دورِابراہیمیؑ سے لے کر دورِ نبویؐ تک انسانوں کی تعمیرِ شخصیت اور تہذیب معاشرہ میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔توحید اسلام کا سنگ بنیاد ہے۔ ایک باشعور مسلمان کی زندگی کا انفرادی پہلو ہو یا اجتماعی، معاشرتی ہو یا سیاسی، یہ وہ رنگ ہے جو ہر سرگرمی پر حاوی نظر آتا ہے۔جس نے اپنے آپ کو اس رنگ میں رنگ لیا، وہ کامیاب ہو گیا۔ یہ رنگ بندگی میں ظاہر ہوتا ہے ،یعنی ایک انسان کس کا بندہ ہے ؟ کیا وہ مال کا بندہ ہے یاشہرت و اقتدار کا ؟
مسلم دنیا کا المیہ یہ ہے کہ مغرب کی مرعوبیت نے مسلم سربراہان کے دل و دماغ میں صرف ایک خیال کو جاگزیں کر دیا ہے کہ وہ مغربی سامراج کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ کر کے ترقی اور عروج حاصل کر سکتے ہیں۔ انھوں نے اپنے وسائل مغربی ممالک کے حوالے کر دیے ہیں کہ وہ جس طرح چاہیں ان کا استعمال کریں۔ نہ صرف مادی وسائل بلکہ ان کا نظام تعلیم ، نظام معاشرت ، نظام حکومت و معیشت ہر چیز مغربی سیاست کاروں کے اختیار میں دے دی گئی ہے۔ وہی ان کا ملکی دفاع دیکھتے ہیں ،وہی معیشت اور ثقافت کے بھی رکھوالے ہیں۔ اس صورتِ حال میں تحریکات اسلامی کی ذمہ داری میں غیر معمولی اضافہ ہو جاتا ہے کہ وہ اسلام کے جامع تصورِ دین کو کسی لگی لپٹی کے بغیر مسلمانوں اور غیر مسلموں کے سامنے حکمت کے ساتھ پیش کریں۔ حکمتِ دعوت کا تقاضاہے کہ تحریک اسلامی نہ صرف اپنے نصب العین بلکہ اپنے دعوتی طریقِ کار کے امتیاز کو برقرار رکھے اور ان ذرائع سے اجتناب کرے جو اس کے دینی تشخص اور تحریکی پہچان کو متاثر کر سکتے ہیں۔
توحید سادہ الفاظ میں ان تمام خداؤں کا انکار کرنے کا نام ہے ،جنھیں ہم شخصی قبولیت کی مرکزیت کا نام دیتے ہیں۔ عوامی تحریکات کی کامیابی کا انحصار قیادت کے کرشماتی ہونے کے ساتھ اس کا ہر معاملہ پر حاوی ہونا اور ہر معاملہ میں حرفِ آخر ہونا ہے اور اس کی دانش کے بغیر کسی کام کا نہ ہونا عوامی تحریک کی پہچان ہوتا ہے۔ ایک ہی لیڈر خود تحریک ہوتا ہے لیکن اس کے مقابلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی تحریک کو شورائی مزاج عطا فرمایا اور مسلسل مشورہ کے ذریعے آراء کو وحدت اور حکمت عملی کو متحدہ رُخ عطا کیا۔
تحریک اسلامی مقصد حیات اور دعوت کو مرکزیت دیتی ہے۔ جب غزوۂ احد کے دوران یہ افواہ اڑی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہید کر دیے گئے ہیں تو حضرت ابوبکر صدیقؓ نے وہی بات کہی جو بعدازاں آپؐ کے وصال پر دُہرائی کہ اگر رسولؐ مر جائیں یا شہید کر دیے جائیں تو کیا تم اُلٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟ اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ زندہ و قائم ہے۔ اس لیے قائد کے نہ ہونے سے دعوت کی جدوجہد میں کوئی فرق نہیں آنا چاہیے۔ اس واقعے سے نہ صرف حضرت ابوبکر ؓکے دینی فہم کا اندازہ ہوتا ہے بلکہ یہ اصول بھی نکلتا ہے کہ اقامت دین میں صرف مقصد کو مرکزیت حاصل ہے۔
توحید بلا شرکت غیرے حاکمیت الٰہی کا نام ہے۔ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلہِ ۰ۭ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاہُ۰ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ (یوسف۱۲:۴۰) ’’فرماں روائی کا اقتدار اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے۔ اس کا حکم ہے کہ خود اُس کے سوا تم کسی کی بندگی نہ کرو۔ یہی ٹھیٹھ سیدھا طریقِ زندگی ہے‘‘۔ اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کی حاکمیت مسجد میں رب کریم کو اعلیٰ، اکبر، اعظم کہنے تک محدود نہیں ہے، بلکہ نشست و برخاست، کھانے پینے، پہننے، اُوڑھنے اور خاموشی و گفتگو میں اللہ و رسولؐ کے حکم کی تعمیل کرنا ہے۔ اجتماعی معاملات میں اپنی رائے کو حتمی نہ سمجھنا اور اپنی ذاتی رائے کے باوجود دوسروں کی تجویز کو ترجیح دینا اور اللہ کی مقرر کردہ حدود کا تحفظ و دفاع کرنا حاکمیت الٰہیہ ہی کے اثرات ہیں۔ اگر دنیا کے تمام سیاسی حکمت عملی کے ماہرین یہ کہتے ہوں کہ سوشل میڈیا کے ذریعے نمائشِ ذات وہ ذریعہ ہے جس سے ایک اخلاقی انقلاب لایا جا سکتا ہے، تو ان تمام دانش وَرانہ باتوں کو رَد کرنے کا نام توحید ہے۔ کیونکہ استعانت، سعادت، فتح اور سربلندی کی کلید اللہ کے ہاتھ میں ہے۔اس سے تعلق میں پختگی ،اس کے حضور ہمہ وقت حاضری، مسجد میں نماز باجماعت کا اہتمام، اپنی ذات کو پس پشت ڈالنا اوررب کے احکامات کو جیسے کہ وہ ہیں ماننا، اور نافذ کرنا توحید کا تقاضا ہے۔
شخصیت کے اندر توحیدی روح کا مطلب اپنے تمام معاملات کو ربّ کریم کی اطاعت میں دے کر اپنی تمام صلاحیتوں کو خلوصِ نیت کے ساتھ کردار اور تعمیر سیرت میں لگا دینا ہے۔ یہ کام محنت طلب اور صبر آزما ہے۔جس جماعت کو مدینہ میں اسلامی نظام عدل قائم کرنا تھا وہ مکہ کے تیرہ برسوں کی آزمائش اور مدینہ کے ۱۰ سالہ دور میں مشقت سے گزرنے کے بعد اس قابل ہوئی کہ آئندہ نصف صدی وہ نظام جوں کا توں برقرار رہ سکا۔
ایسی شخصیت سکون اور عاجزی کے ساتھ قرآن کریم اور سیرت پاک سے گہرے تعلق اور ان کے اوامر و نواہی کو جوں کا توں عملاً نافذ کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔ یعنی ایک کارکن ہو یا قائد جائزہ لے کر دیکھا جائےکہ وہ روزانہ قرآن سے کتنا استفادہ کر رہا ہے؟ سیرت پاک سے کیا رہنمائی حاصل کر رہا ہے ؟کیا وہ ہرروز اپنا احتساب کر رہا ہے؟ کیا انفرادی اور اجتماعی انقلاب سیرت کے قرآنی اور نبوی اصولوں کو اختیار کر رہا ہے یا غیرمحسوس طریقے سے زمانے کے رجحان اور چلن کو اختیار کر رہا ہے ؟
توحیدی روح کی حامل شخصیت کی تعمیر صرف اور صرف سیرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے طرزِ عمل کو اختیار کر کے ہی ہو سکتی ہے۔ ایک توحیدی معاشرہ کی تعمیر اسی وقت ہو سکتی ہے جب بے غرض توحیدی شخصیت تیار ہوجائے جو اپنا سب کچھ صرف اللہ کے لیےلگا دے۔جب تک توحیدی شخصیت کی تعمیر کے قرآنی اور نبویؐ طریقۂ کار کو اختیار نہیں کیا جائے گا، کوئی با معنی تبدیلی پیدا نہیں ہوسکے گی۔ صرف اخلاص، جہدمسلسل، قرآنی اور نبوی ہدایات کی شدت کے ساتھ پیروی کی ضرورت ہے۔
توحیدی معاشرہ کی تعمیر اس وقت ہو سکتی ہے جب فرد اپنی زندگی سے تضادات کو ختم کرلے۔ ایمان اور عمل کے تعلق کو مضبوط بنائے ،اور ایمان کا مکمل اظہار تحریکی افراد کے ہر عمل میں نظر آئے۔ جب ہم اقامت دین کی دعوت دے رہے ہیں تو ہر نماز کے موقع پر ہمیں پہلی صف میں اقامتِ صلوٰۃ کے وقت موجود ہونا چاہیے۔ اگر معاشرے میں مقبولیت کے لیے کسی جگہ پر ہم لوگوں نے پہلے تھوڑی اور پھر بہت زیادہ گنجائشیں پیدا کرلی ہیں، کہ جو اسلامی فکروعمل سے مناسبت نہیں رکھتیں، تو یہ انحراف دلیل نہیں بن سکتا۔
جس طریقے کو اللہ اور اللہ کے رسولؐ نے اقامت دین کے لیے متعین فرمایا ہے اسی میں کامیابی ہے،چاہے اس جدوجہد میں کتنی مدت لگ جائے اور تحریک کے مخالفین تحریک کو قدامت پرست، بنیاد پرست، روایت پرست کہتے رہیں۔ دین مومن مردوں اور مومن عورتوں دونوں کو اقامتِ دین کے لیے ذمہ دار ٹھیراتا ہے۔ لیکن دونوں کے دائرۂ کار اور طریقِ ابلاغ میں واضح فرق بھی تجویز کرتا ہے جسے سامنے رکھنا ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے۔