۱۲فروری ۲۰۲۶ء کو بنگلہ دیش میں منعقدہ عام انتخابات میں جماعت اسلامی کی کامیابی ایک بڑا سنگ ِ میل ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق بنگلہ دیش جماعت اسلامی نے ڈالے گئے ووٹوں میں سے ۳۱ء۷۶ فی صد (۲ کروڑ ۴۲ لاکھ) ووٹ حاصل کیے۔جماعت اسلامی کے یہ ووٹ ایک غیرمعمولی پیش رفت کا ثبوت ہیں۔ خاص طور پر ان حالات میں، جب کہ پندرہ سولہ سال مسلسل ان کے خلاف ظلم و جبر اور سفاکیت کی انتہا کردی گئی۔ جماعت کی پوری مرکزی قیادت شہید کردی گئی، ان کو پھانسیاںدے دی گئیں۔ پھر دوسری صف کی قیادت کو قید کردیا گیا۔ جماعت سے وابستہ خواتین کو بھی ہزاروں کی تعداد میں گرفتار کیا گیا۔ اسلامی جمعیت طالبات کی کارکنان کو جیلوں میں ڈالا گیا۔ طلبہ کی تنظیم اسلامی چھاتروشبر کو بُری طرح ظلم، تشدد، قتل و غارت کا نشانہ بنایا گیا۔ ان پر تعلیمی اداروں کے دروازے بند اور داخلے منسوخ کیے گئے۔ ایک بڑی تعداد کو ڈگریوں سے محروم کیا گیا۔
صرف اسی پر بس نہیں کیا گیا، بلکہ ان کے تعلیمی، رفاعی، طبّی اور معاشی اداروں تک کو تباہ کردیا گیا، یا ان پر ناجائز قبضہ جمایا گیا۔ ساتھ ہی عام عوام خصوصاً نوجوان نسل کی ذہن سازی کے لیے ہرجبری اور ابلاغی ذریعہ استعمال کیا۔ نصاب میں ایسی چیزیں شامل کیںجو جماعت اسلامی کے خلاف پراپیگنڈے پر مشتمل تھیں۔ ان کو یہ تک کہا گیا کہ یہ وہ غدار ہیں جنھوں نے ہمارے خلاف لڑائی کی، یوں لفظ ’رضاکار‘ کو ایک گالی بنادیا گیا۔ یونی ورسٹیوں میں ٹاپ پوزیشن پر جو پروفیسر تھے یا ایڈمنسٹریشن کے بیشتر افسران اور اکثراہل کار عوامی لیگ کے تھے یا پھر جماعت اسلامی سے سخت نفرت کے جذبات پالنے کی شہرت رکھتے تھے۔ بلکہ یوں سمجھ لیجیے کہ وہ صرف عوامی لیگ کے نہیں بلکہ اس کے ساتھ کئی صورتوں میں انڈین لابی کے نمائندے بھی تھے۔ ایسے استاد، شاعر، ادیب اور صحافی انھیں بڑے پیمانے پر غدار قرار دے رہے تھے۔
ظلم و جبر کی اس طویل کالی رات میں زندگی کا ثبوت دیتے ہوئے، ایک ڈیڑھ سال میں یوں جماعت اسلامی کا قومی سطح پر اُبھر کر آنا ایک کرشمۂ قدرت کے سوا کچھ نہیں۔ اس فضا میں جماعت اسلامی نے نظریے کو اور اپنی وابستگی کو برقرار رکھا۔پابندیوں اور زیادتیوں کے باوجود وہ عوام اور نوجوانوں کے ساتھ جڑے رہے۔ خواتین میں بڑے پیمانے پر دعوت،تنظیم اور تربیت کا کام پھیلایا ۔ جب ۵؍اگست ۲۰۲۴ء کو عوامی لیگ کا اقتدار ختم ہوا تو اس کے چند مہینوں میں ہی انھوں نے ایک بڑی زبردست اور ہمہ گیر انتخابی مہم کھڑی کر دی۔ یہ طاقت ہے ایک نظریاتی پارٹی کی، ایسی پارٹی جو کسی شخصیت کے بجائے نظریے پر، ڈسپلن پر اور تنظیم پر یقین رکھتی ہے۔
ہم ایسی کئی مثالیں پاکستان اور پاکستان سے باہر دیکھتے ہیں، جس میں سیاست افراد کے گردگھومتی ہے۔ بعض اوقات افراد مسائل سے دوچار ہوتے ہیں تو پارٹی ختم ہوجاتی ہے یا پھر سکڑ کر رہ جاتی ہے اور کئی کئی گروپوں میں تقسیم ہوجاتی ہے۔یہ پتا ہی نہیں چلتا کہ کون قیادت کر رہا ہے اور کون نہیں کر رہا؟ لیکن بنگلہ دیش جماعت اسلامی وہ پارٹی ہے کہ جس کے امیر، نائب امیر، سیکرٹری جنرل اور ڈپٹی سیکرٹری جنرل تک کو پھانسی کی سزا دی گئی اور جس کے سابق امیر کا جنازہ بھی جیل سے اُٹھا۔ ان کے ٹاپ کے لوگوں کے ساتھ نہ ختم ہونے والا بہیمانہ سلوک برتا گیا، مگر انھوں نے دوبارہ سے اپنے آپ کو کھڑا کرلیا، الحمدللہ! یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔
اس کامیابی میں بہت اہم پہلو نوجوانوں کا کردار ہے۔ یہ منظر ہم نے بنگلہ دیش میں دیکھا ہے کہ کس طرح نئی نسل، جنریشن زی نے دیوانہ وار جماعت اسلامی کا ساتھ دیا ہے۔
لوگ یہ کہا کرتے تھے کہ جماعت اسلامی کو اپنا نام بدل لینا چاہیے۔لوگ یہ بھی کہا کرتے تھے کہ انھیں تنظیم سے ’اسلام‘ کا نام ہٹا دینا چاہیے۔ ہمیں ایسے ناصحین کے تجزیے بھی یاد ہیں، جو کہتے تھے کہ تحریکوں کی ایک عمر ہوتی ہے، اور ۷۰، ۷۵ سال بعد تحریکیں ختم یا تحلیل ہوجاتی ہیں۔ وہ کہا کرتے تھے کہ اخوان المسلمون کو دیکھیے کہ تحلیل ہوکر رہ گئی ہے لیکن اللہ کا کرنا دیکھیے کہ حالات تبدیل ہوئے۔ ’عرب بہار‘ آئی اور پھر اس کے بعد اخوان المسلمون نے مصر میں ایک سال کے دوران پانچ مرتبہ عوام کے ووٹوں سے کامیابی حاصل کی: ریفرنڈم میں، پارلیمانی انتخابات میں، صدارتی انتخاب میں ، رن آف الیکشن میں اور سینیٹ میں۔ اس طرح اخوان المسلمون نے عوامی رائے کے اعتبار سے بھی اپنے آپ کو مستحکم جماعت ثابت کر دکھایا۔
بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کو اب جو کامیابی ملی ہے، یہ درحقیقت سیّدابوالاعلیٰ مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے اُس وژن کی عملی صورت ہے، جسے انھوں نے قرآن و سنت سے اخذکیا ہے اور جو اصل اسلامی فکر ہے، اور یہ سب اسی فکر کی کامیابی ہے۔ بنگلہ دیش ہی نہیں بلکہ عالمِ عرب ہو، مشرق بعید ہو یا افریقا، جہاں جہاں بھی آپ جائیں گے، اسی فکر پر مبنی تحریکیں عوام میں جڑیں گہری کر رہی ہیں اور کامیابی کی سمت بڑھ رہی ہیں۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ مولانا مودودی کا وژن اور فکر درحقیقت ہے کیا؟
سادہ لفظوں میں یہ اسلام کی دعوت ہے اور اسلام کا بھی وہ تصور جو اصل اسلام ہے کہ جس میں فروعیات، ظاہر پرستی اور مقامی روایات کو اسلام قرار دینا شامل نہیں ہے۔ اس تصور میں مسلک پرستی، فرقہ پرستی جیسے معاملات سے کہیں بلند ہوکر اسلام کی بات کی جاتی ہے۔ آج کل بعض لوگ کج فکری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے ’پولیٹیکل اسلام‘ کہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ مغربی نظریہ ساز من پسند اصطلاحات سازی کرکے اپنے مذموم مقاصد کی آبیاری کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام اپنی اصل میں جہاں فرد اور معاشرے کی روحانی اور اخلاقی تعمیر کرتا ہے، وہیں پر سماجی اور اخلاقی میدان میں بھی راہ نمائی کرتا ہے۔ اسلام معیشت کو بھی پیش کرتا ہے، اسلام عدالت کا نظام بھی سامنے رکھتا ہے۔ اسلام تو پورا ایک نظامِ حیات اور پوری تہذیب ہے۔ وہ ریاست کو ، حکومت کو، خاندان کو اور سوسائٹی کو بھی مخاطب کرتا ہے اور اپنے آپ کو محض عبادات تک محدود نہیں رکھتا۔
اسلامی تحریکیں اصل میں وہی ہیں جو اسلام کی اس مکمل دعوت کو پیش کریں۔ مقامی مسائل اور معاملات سے لے کر بین الاقوامی حالات تک پر نظر رکھیں، اور اپنے ممالک کے حالات کے مطابق حکمت عملی بنائیں ۔ فرقوں،علاقوں، نسلوں، مسلکوں اور گروہوں کی تنگنائیوں سے باہر نکل کر بلندتر مقاصد کے لیے کام کریں۔ اسلامی تحریکیں آفاقی اور عالمی منظر میں سوچتی ہیں، جب کہ مقامی سطح پر عمل کی راہیں کشادہ کرتی ہیں۔ یہی کارنامہ بنگلہ دیش جماعت نے بحسن و خوبی سرانجام دیا۔
یہ وہ پیغام ہے جس کو مولانا مودودی نے سمجھانے اور پھیلانے کے ساتھ اجتماعیت قائم کی ہے اور ایک جماعت بھی منظم کی ہے۔ یہ شعور دینے کے ساتھ انھوں نے بار بار ذہن نشین کرایا ہے کہ آپ کے لیے حتمی راہ نمائی کا ذریعہ صرف قرآن و سنت ہیں۔
استعماریت، آمریت، اباحیت، لادینیت، مادہ پرستی، نسل پرستی اور سرمایہ داری کے گلے سڑے نظام سے انسانیت بے زار ہے۔ اس منظرنامے میں انسانیت ایک نئے نظام کی پیاس واضح طور پر محسوس کرتی ہے، اور اس پیاس کو بجھانے کا واحد ذریعہ اسلام ہے۔ہمارا ایمان ہے کہ سامراجی طاقتوں اوراُن کے پٹھو حکمرانوں کی سازشوں سے پیدا شدہ فساد کے اس ماحول میں اسلام ایک طاقت، ایک نظریے، ایک تحریک اور ایک نظام کے طور پر اُبھر کر سامنے آئے گا، ان شاء اللہ! ان حالات میں جس طرح سے جماعت اسلامی نے بنگلہ دیش میں انتخابات کے بعد جمہوریت کے استحکام، عدل و انصاف کے قیام اور اصولی سیاست کے فروغ کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے، یہ قدم اسلامی نظام کے احیا اور اسلامی تحریک کے فروغ کا ذریعہ ثابت ہوگا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلام کو ماننے کا دعویٰ کرنے والے، اس پیغام کو سمجھتے ہوئے اپنی ذمہ داری محسوس کریں۔ اس کے لیے تن، من، دھن اور ذہن کی قوتوں کو کھپادیں۔خصوصاً اس دور میں جب پوری نسل ذرائع ابلاغ خصوصاً سوشل میڈیا کے زیراثر پروان چڑھ رہی ہے، اسلامی تحریکوں کی کوئی کامیابی خلا میں نہیں ہوسکتی۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ فلسطین، عالمِ عرب اور بنگلہ دیش میں تو نوجوان اِن تحریکوں کو قبول کرلیں،اس کے لیے قربانیاں دیں، اپنی توانائیاں لگائیں اور پاکستان میں ایسا نہ ہو۔
لہٰذا، یہ ناگزیر ہے کہ تحریک اسلامی کا عوام بالخصوص نوجوان نسل (جنریشن زی) سے رابطہ اور تعلق بڑھے۔ انھیں احساسِ شراکت ملے۔ خواتین، تحریک سے اجنبیت محسوس نہ کریں اور وسیع تر تناظر میں انھیں ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت حاصل کریں، تو ان شاء اللہ پاکستان میں بھی جماعت اسلامی غیرمعمولی نتائج حاصل کرسکتی ہے۔اس مقصد کے لیے سب کو ایمانی قوت و بصیرت اور عملی جدوجہد سے وابستہ ہونا ہوگا۔