ہم رمضان کے دنوں اور قرآن کی تلاوت کے اختتام کی طرف بڑھ رہے ہیں اور ہر اس چیز کا اختتام ناگزیر ہے جس کا آغاز ہوا ہو۔ جس کی ابتدا ہو اس کی انتہا بھی ہوتی ہے، البتہ پاک ہے وہ ذاتِ اول جس سے پہلے کچھ نہیں، اور وہ ذاتِ آخر جس کے بعد کچھ نہیں، اور وہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہے۔
دن بادلوں کی طرح کتنی تیزی سے گزر جاتے ہیں۔ بادلوں کی طرح ہی نہیں بجلی جیسی تیزی سے ختم ہو جاتے ہیں، اور یہ تمام دن ہماری عمر کا حصہ ہیں، ہماری کتابِ زندگی کے صفحات ہیں جو پلٹتے جاتے ہیں اور اختتام قریب آتا جاتا ہے۔
حسن بصری نے جیساکہ فرمایا: اے ابن آدم، تو حقیقت میں ایام کا مجموعہ ہے، جب ایک دن گزر گیا تو تیرا ایک حصہ بھی کھو گیا۔
لہٰذا یہ دن جو گزر رہے ہیں وہ ہمارا حصہ ہیں، اور خوش نصیب ہے وہ شخص جس کے یہ دن اور راتیں اس کی نیکیوں کے ترازو میں ہوں، اس کی برائیوں کے ترازو میں نہ ہوں۔ ہم میں سے خوش نصیب وہ ہے جس کے حق میں رمضان گواہ بن جائے، اس کے خلاف گواہی نہ دے، اس کے حق میں شفاعت کرنے والا ہو، اس کی شکایت کرنے والا نہ ہو۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کے لیے شفاعت کریں گے۔ روزہ کہے گا: اے میرے رب، میں نے اسے دن کے وقت کھانے پینے اور خواہشات سے روکے رکھا، لہٰذا اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرما۔ اور قرآن کہے گا: میں نے اسے رات کے وقت سونے سے روکے رکھا (یعنی قیام اللیل کی وجہ سے)، لہٰذا اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرما‘‘۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’چنانچہ دونوں کی شفاعت قبول کی جائے گی‘‘ (حاکم،۱/۵۵۴ مسلم کی شرط پر صحیح)۔ لہٰذا خوشخبری ہے اس کے لیے قرآن اور رمضان جس کی شفاعت کرنے والے ہوں گے۔
کچھ لوگ پورا ماہِ رمضان اپنا تعلق اللہ سے جوڑے رکھتے ہیں، لیکن رمضان ختم ہوتے ہی وہ اپنے اور اللہ کے درمیان اس تعلق کو توڑ دیتے ہیں۔ اسی لیے ہم ہمیشہ کہتے ہیں: جو شخص رمضان کی عبادت کرتا تھا تو رمضان مر چکا ہے، یا مرنے کے قریب ہے، اور جو شخص اللہ کی عبادت کرتا ہے، تو اللہ زندہ و قائم ہے اسے موت نہیں۔ سلف کہا کرتے تھے: بُرے لوگ ہیں وہ جو اللہ کو صرف رمضان میں پہچانتے ہیں، لہٰذا ربانی بنو رمضانی نہ بنو، موسمی فرماں بردار نہ بنو کہ سال کے ایک مہینے میں اللہ کو پہچانو، اور باقی سارا سال اس کو بُھولے رہو۔
قبولیتِ رمضان المبارک کی علامت یہ ہے کہ نیکیوں پر استقامت اختیار کی جائے اور اطاعت و فرماں برداری کو مستقل شعار بنا لیا جائے۔ اللہ نے رمضان صرف اس لیے واجب کیا کہ ہم اس سے دلوں کی بیٹریاں چارج کر لیں، کیونکہ بیٹریاں خالی ہو جاتی ہیں، اور انھیں دوبارہ چارج کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ رمضان اس لیے آتا ہے کہ ہم روزے، قیام، ذکر، تلاوتِ قرآن، اجتماعی دروس قرآن اور دروسِ رمضان سے اپنی بیٹریاں چارج کر لیں۔رمضان میں چارج شدہ بیٹری ہمیں اگلے گیارہ مہینوں تک فائدہ پہنچانے کے لیے ہے۔ لہٰذا اگر رمضان گزر جائے اور ہماری بیٹری خالی ہو، تو اس صورت میں رمضان ہمیں کوئی فائدہ نہیں دے گا۔
یہ اللہ کی طرف سے اس امت کی عزت افزائی کی نشانیوں میں سے ہے کہ ہمیں بطور امت مسلمہ ایسی چیزوں سے نوازا گیا ہے جو کسی اور امت کو عطا نہیں ہوئیں:
lہمیں پانچ نمازوں، اور ان نمازوں میں جماعت، اور قبلہ کی وحدت سے نوازا گیا ہے۔
ایک فرانسیسی مصنف نے اپنی ایک کتاب میں کہا ہے: میں روئے زمین پر مسلمانوں کو کعبہ کے گرد دائرہ بنائے خیال کرتا ہوں۔ اگر کوئی آسمان سے تصویر کھینچے، تو وہ تصور کرے گا کہ ان دائروں نے پوری زمین کو بھر رکھا ہے۔ یہ کعبہ کے انتہائی قریب شروع ہونے والے چھوٹے دائروں کے بعد بڑے اور پھر ان کے بعد ان سے بڑے دائرے بنتے جاتے اور زمین کو بھرتے جاتے ہیں۔ آپ ان دائروں میں ہر وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والوں کو پائیں گے۔
جاپانیوں کا ایک گروہ قطر آیا تھا اور ستائیسویں رات کو ہمارے ساتھ یہاں نمازِ باجماعت کی تصویریں لے رہے تھے۔ وہ حیران اور متاثر تھے۔اس کے بعد میرے گھر آئے، اور میرے ساتھ طویل بات چیت ہوئی۔ اور بتایا کہ ہم بہت دیر سے پہنچے،اس نماز کو مکمل طور پر نہ دیکھ سکے۔ یہ سچ ہے کہ ہمیں اس کی کچھ سمجھ نہیں آئی، لیکن جس گرمجوشی سے نماز ادا کی گئی، اور دعا اور مسلمانوں کا اتحاد، صفیں ایک دوسرے سے ملی ہوئی جیسے ایک جسم ہو، اس نے ہمیں بہت متاثر کیا۔
میں نے اپنے دل میں کہا کہ شاید یہ ان کی اسلام کی طرف ہدایت کا سبب بنے۔ میں نے انھیں بتایا کہ یہ دوحہ میں واحد مسجد نہیں ہے، قطر میں درجنوں مساجد ہیں جہاں یہ نمازیں ادا کی جاتی ہیں، اور اسلامی دنیا میں ہزاروں اور لاکھوں مساجد ہیں جہاں نمازیں ایسے ہی ادا کی جاتی ہیں، خاص طور پر مکہ اور مدینہ میں۔ رمضان کی ستائیسویں رات کو مسجد الحرام میں تقریباً ۲۰ لاکھ لوگوں نے نماز ادا کی۔ کوئی بھی امت ایسی نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کی ایسی عبادت کرتی ہو، جیسی امت مسلمہ کرتی ہے۔
اس صدی کے اوائل میں ایک برطانوی لارڈ نے اسلام قبول کیا جس کا نام لارڈ ہیدری تھا۔ اس نے ایک کتاب لکھی جس کا نام مغرب کو اسلام کے ذریعے بیدار کرنا رکھا۔ اس کتاب میں اس نے کہا: میں نے اسلام کے علاوہ کوئی ایسا دین نہیں دیکھا جو لوگوں کو اللہ سے جوڑتا ہو، اور انھیں ہر روز پانچ بار اس کے ساتھ ملاقات کا وقت دیتا ہو۔
آپ جانتے ہیں کہ عیسائیت ایک عیسائی سے جو تقاضا کرتی ہے، وہ ہر اتوار کو چرچ کا دورہ ہے، اور اس میں اتنی سختی نہیں ہے جتنی اسلام ادائیگی ٔنماز کے لیے کرتا ہے، جس نے اسے مسلمان اور کافر کے درمیان فیصلہ کن بنا دیا ہے:
فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ فَاِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ۰ۭ وَنُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ۱۱ (التوبہ۹:۱۱) پس اگر یہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو تمھارے دینی بھائی ہیں اور جاننے والوں کے لیے ہم اپنے احکام واضح کیے دیتے ہیں۔
اسلام مسلمان کو پانچ بار اُس کے رب سے جوڑتا ہے، اور اسی لیے ان نمازوں کو ایک نہر سے تشبیہ دی گئی ہے جس میں مسلمان ہر روز پانچ بار نہاتا ہے، چنانچہ جب مسلمان گناہوں کی آگ میں جلتا ہے، تو یہ نماز اس آگ کو بجھاتی ہے اور ان گناہوں کے زخموں کو مندمل کرتی ہے۔ پانچ وقت کی نماز روزانہ کا غسل ہے، اور جمعہ کی نماز ہفتہ وار غسل ہے، رمضان کے روزے اور قیام سالانہ غسل ہے اور حج زندگی بھر کا غسل ہے۔
لَّا يَاْتِيْہِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْہِ وَلَا مِنْ خَلْفِہٖ۰ۭ تَنْزِيْلٌ مِّنْ حَكِيْمٍ حَمِيْدٍ۴۲ (حم السجدہ۴۱: ۴۲)باطل نہ سامنے سے اس پر آ سکتا ہے نہ پیچھے سے، یہ ایک حکیم و حمید کی نازل کردہ چیز ہے۔
كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُہٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ۱ۙ ٍ(ھود۱۱:۱)یہ کتاب ہے، جس کی آیتیں پختہ اور مفصل ارشاد ہوئی ہیں، ایک دانا اور باخبر ہستی کی طرف سے۔
اور جب اس کی آیات ہمارے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو ہمارا ایمان بڑھ جاتا ہے۔ یہ قرآن کسی بھی امت کے پاس نہیں ہے۔
ہم امت مسلمہ کے پاس طاقت کے ایسے عوامل اور ایسی خصوصیات ہیں جو کسی دوسری امت کے پاس نہیں ہیں، لیکن افسوس کہ ہم اس روحانی قوت اور اس توانائی کو بروئے کار نہیں لائے جو کسی دوسری امت کے پاس نہیں پائی جاتی۔ افسوس کہ امت مسلمہ نے اپنی ان صلاحیتوں، قابلیتوں اور قوتوں کو استعمال نہیں کیا جو اللہ نے اسے عطا کی ہیں۔
یہودی دندناتے پھرتے ہیں، فساد مچاتے ہیں، خون بہاتے ہیں، گھروں کو جلاتے ہیں، اور مکانات کو تباہ کرتے ہیں اور امت مسلمہ قبروں کی طرح خاموش ہے۔ کیا یہ ایک زندہ امت ہے؟ اس کی زندگی کی علامت کہاں ہے؟ مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کی جا رہی ہے، وہ مسجد جس کے اردگرد اللہ نے برکت دی، اور جس کا ذکر اللہ نے قرآن میں کیا، اور جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی تین عظیم مساجد میں سے تیسری مسجد قرار دیا، بلکہ اللہ نے قرآن میں اس کا ذکر مسجدنبوی کی تعمیر سے پہلے کیا، کیونکہ سورۂ بنی اسرائیل رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے مدینہ ہجرت کرنے اور مسجد نبویؐ بنانے سے پہلے مکہ میں نازل ہوئی تھی۔ فرمایا:
سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِہٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِيْ بٰرَكْنَا حَوْلَہٗ لِنُرِيَہٗ مِنْ اٰيٰتِنَا۰ۭ اِنَّہٗ ہُوَالسَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ۱ (بنی اسرائیل ۱۷:۱) پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اُس مسجد تک جس کے ماحول کو اس نے برکت دی ہے، تاکہ اسے اپنی کچھ نشانیوں کا مشاہدہ کرائے حقیقت میں وہی ہے سب کچھ سننے اور دیکھنے والا۔
قرآن نے اس کا ذکر بے مقصد کیا ہے یا امت کے دلوں کو اس مسجد سے جوڑنے کے لیے؟ اُمت غفلت سے دوچار ہے کیونکہ ہمیں کوئی ایسی قیادت دکھائی نہیں دیتی جو امت کی رہنمائی کرے۔
اسلام نے اس امت کو متحد کرنے پر زور دیا،کہ وہ ایک قیادت کے تحت ایک سیاسی وحدت ہو جو امت کی رہنمائی کرے۔ اس کی ایک خلیفہ کے ذریعے ایک متحدہ قیادت ہو جو اس کی رہنمائی کرے اور اس کے امور سنبھالے، اور بحرانوں کے وقت مسلمانوں کو پکارے، تو مسلمان اُٹھ کھڑے ہوں۔
لیکن مکار اور خبیث صہیونیت نے، اپنے منصوبے کو کامیاب بنانے کے لیے اس اسلامی ادارے کو ختم کر دیا، اور اس روایتی اور اسلامی قلعے (خلافت اسلامیہ) کو مسمار کر دیا، تاکہ وہ عرب اور مسلم ممالک کے دل میں اپنی ریاست کو قائم کرنے میں کامیاب ہو جائے، اور اس اُمت کے سینے میں پیوست زہریلا خنجر بن جائے۔ خلافت ختم ہوگئی، تو ہم نے سیاسی اتحاد کھو دیا۔
اسلام نے اس امت کو متحد کیا، اس کے جذبات، احساسات، روایات اور افکار کو متحد کیا۔ پوری امت رمضان میں تراویح پڑھتی ہے، ایک ہی قبلے کی طرف رخ کرتی ہے، اور اس مبارک مہینے میں اللہ سے دعا کرتی ہے۔ پوری امت روزے رکھتی ہے اور غروب آفتاب کے وقت افطار کرتی ہے۔ پوری امت سحری کرتی ہے اور فجر کی نماز پڑھتی ہے، اور پوری امت زکوٰۃ دیتی ہے، عمرہ کرتی ہے اور بیت اللہ کا حج کرتی ہے۔
یہ امت جس طرح شعائر میں متحد ہے، اسی طرح یہ احساسات میں بھی متحد ہے۔ اللہ کی قسم! میں جہاں بھی گیا، میں نے مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ کے لیے پریشان اور بے چین پایا، افغانستان کے لیے بے چین پایا، کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے لیے بے چین دیکھا، چیچنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے لیے بے چین پایا۔ چنانچہ تمام مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکتے ہوئے اور یکساں پایا۔
روایات اور آداب کا اتحاد: چنانچہ آپ جہاں بھی کسی مسلمان سے ملیں گے، آپ اسے السلام علیکم کہیں گے تو وہ وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ کہہ کر جواب دے گا۔ آپ اسے دائیں ہاتھ سے کھاتے، کھانا بسم اللہ سے شروع کرتے اور الحمد للہ پر ختم کرتے ہوئے پائیں گے۔ یہ تصورات میں اتحاد ہے۔
اُمت احساسات، شعائر، تصورات، روایات اور آداب میں متحد ہے، لیکن وہ سیاست اور پالیسیوں میں متحد نہیں ہے، جب کہ اسلام نے اس اتحاد کو قائم کرنے کے لیے کچھ چیزیں مقرر کی ہیں:
وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِـيْـمًا فَاتَّبِعُوْہُ۰ۚ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّـبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِہٖ۰ۭ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِہٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۱۵۳ (الانعام۶:۱۵۳) اس کی ہدایت یہ ہے کہ یہی میرا سیدھا راستہ ہے، لہٰذا تم اسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ اس کے راستے سے ہٹا کر تمھیں پراگندہ کر دیں گے۔ یہ ہے وہ ہدایت جو تمھارے ربّ نے تمھیں کی ہے، شاید کہ تم کج روی سے بچو۔
اللہ کا راستہ صراط مستقیم ہے، وہ ربانی قرآنی منہج ہے، جسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم لائے اور اس پر زندگی گزاری:
اِنَّكَ لَـــتَہْدِيْٓ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ۵۲ۙ صِرَاطِ اللہِ الَّذِيْ لَہٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ۰ۭ اَلَآ اِلَى اللہِ تَصِيْرُ الْاُمُوْرُ۵۳ (الشوریٰ۴۲:۵۲-۵۳)یقیناً تم سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کر رہے ہو اُس خدا کے راستے کی طرف جو زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کا مالک ہے۔ خبردار رہو، سارے معاملات اللہ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔
اگر امت شریعت پر جمع ہو جاتی تو اس کی بات بھی ایک ہوتی، اس کا شیرازہ بھی جمع ہوتا، اور اس کی صفیں بھی متحد ہوتیں، لیکن اس نے مشرق اور مغرب سے، دائیں اور بائیں سے درآمد شدہ راستوں اور مذاہب کی پیروی کی، اور ٹکڑوں میں بٹ گئی۔ ایک گروہ دائیں بازو کا، اور ایک گروہ بائیں بازو کا، اور دائیں بازو کی اپنی اقسام ہیں اور بائیں بازو کی اپنی۔ اگر امت نے اپنے بنیادی مرجع یعنی اپنی شریعت کو چھوڑ دیا جس کا اللہ نے اسے پابند کیا ہے، تو اُمت کبھی متحد نہیں ہوسکتی:
ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰي شَرِيْعَۃٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْہَا وَلَا تَتَّبِعْ اَہْوَاۗءَ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ۱۸ اِنَّہُمْ لَنْ يُّغْنُوْا عَنْكَ مِنَ اللہِ شَيْـــــًٔا۰ۭ وَاِنَّ الظّٰلِـمِيْنَ بَعْضُہُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ۰ۚ وَاللہُ وَلِيُّ الْمُتَّقِيْنَ۱۹ (الجاثيہ۴۵:۱۸-۱۹)اس کے بعد اب اے نبیؐ، ہم نے تم کو دین کے معاملہ میں ایک صاف شاہراہ (شریعت) پر قائم کیا ہے، لہٰذا تم اسی پر چلو اور اُن لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو جو علم نہیں رکھتے۔ اللہ کے مقابلے میں وہ تمھارے کچھ بھی کام نہیں آ سکتے۔ ظالم لوگ ایک دوسرے کے ساتھی ہیں، اور متقیوں کا ساتھی اللہ ہے۔
جب معتصم کو معلوم ہوا کہ رومیوں کے ملک میں ایک مسلمان عورت کے چہرے پر ایک رومی نے تھپڑ مارا ہے اور اس نے وامعتصماه (اے معتصم میری مدد کو پہنچو) کہہ کر فریاد کی ہے،تو اس عورت اور معتصم کے درمیان سمندر اور صحرا حائل تھے۔ لیکن جب یہ بات اس تک پہنچی تو اس نے کہا: لبیک اختاہ (میری بہن میں حاضر ہوں!)
پھر اس نے لشکر تیار کیے اور رومیوں سے لڑنے کے لیے کمربستہ ہوگیا۔ نجومیوں نے کہا کہ ہمارے نزدیک ستاروں کے حساب سے، لڑائی کے لیے یہ وقت مناسب نہیں ہے، لہٰذا انجیر اور انگور پکنے کا انتظار کرو۔ اس نے ان کی بات نہیں سنی اور اپنے لشکروں کو لے کر چل پڑا۔ رومیوں سے مشہور تاریخی جنگ عموریہ میں مقابلہ کیا، اور فتح یاب ہوا، یہ ایک فیصلہ کن اور واضح فتح تھی۔
آج ہم اگروامعتصماه پکاریں تو ہمارے حکمرانوں میں سے کون سنے گا یا جواب دے گا؟ ہم کس کو پکاریں؟ اور مسلم خواتین میں سے کسی کو بالوں سے گھسیٹا جا رہا ہے، کسی کے چہرے پر تھپڑ مارے جا رہے ہیں، کسی کو بے عزت اور بے آبرو کیا جارہا ہے، اور کسی کے بچوں اور شوہر کو اس کی آنکھوں کے سامنے قتل کیا جا رہا ہے۔ اب فلسطین میں، اگر یہ عورت پکارے تو کون اس کی پکار سنے گا؟
موجودہ حکمرانوں نے ان لوگوں کی پکار سنی جو یہاں اور وہاں چیخ رہے تھے، لیکن ان میں کوئی معتصم نہیں۔ معتصم کہاں ہے، اس کی غیرت کہاں ہے، اس کی بہادری کہاں ہے جس نے ایک عورت کی مدد کے لیے لشکر تیار کیے اور دشمن سے جنگ کی تھی ؟
ایک امت جس کی ناک خاک میں رگڑی گئی، دہشت گردی کے نام پر اس سے جنگ لڑی گئی۔اب معاملہ ایک عورت کے چہرے پر تھپڑ مارنے کا نہیں ہے، بلکہ ایک امت کا ہے جس کی ناک خاک میں رگڑی گئی ہے، ایک ذلیل اور حقیر سمجھی جانے والی امت، اور اس سے دشمن قوتیں مختلف عنوانات کے تحت لڑ رہی ہیں، جن میں آخری عنوان دہشت گردی کا ہے، اور یہ ایک جھوٹا عنوان ہے، کیونکہ مقصود دہشت گردی کا خاتمہ نہیں بلکہ اسلام اور امت اسلامیہ نشانہ ہے۔
ورنہ اس کا کیا مطلب ہے کہ اسلامی مزاحمتی تحریک کی نمائندگی کرنے والی اسلامی جماعت حماس، اور اسلامی جہاد کی جماعت، اور فلسطین میں مزاحمتی دھڑے، جو اپنی زمین، اپنی عزت، اپنی حرمتوں اور اپنے مقدس مقامات کا دفاع کر رہے ہیں، یہ کیسے دہشت گرد ہو گئے؟
کشمیر میں کشمیری جہاد کی تحریک، اور خیراتی انجمنیں جو مسلمانوں کو امداد دیتی ہیں اور ان کی مدد کرتی ہیں۔ کیا یہ دہشت گردانہ کارروائیاں ہیں، اور کیا یہ لوگ دہشت گرد ہیں؟ وہ اسلامی دعوت اور اسلامی تحریک کو روکنا چاہتے ہیں۔ اسلامی بیداری، اور اسلامی طاقت کو کمزور کرنا، اور اسے ’دہشت گردی‘ کے عنوان سے منتشر کرنا چاہتے ہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ، ہم اپنی قوم، اپنے رہنماؤں، اور اپنے لیڈروں میں ایسے لوگوں کو پاتے ہیں جو اس دشمن کے قافلے میں چلتے ہیں، اور ان کی دہلیزپر جھکتے ہیں، اور ان لوگوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں۔ ہمیں کوئی ایسا شخص دکھائی نہیں دیتا جو بآوازِ بلند ’نہیں‘ کہہ سکے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے وہ آدمی پسند ہے جس پر ذلت مسلط کی جائے، تو وہ پورے زور سے’نہیں‘ کہے۔
عوام میں بہت خیر ہے، انھیں بس دُور اندیش اور جراءت مند قیادت کی ضرورت ہے۔ امت قیادت سے محروم ہے، لیکن عوام میں بہت بھلائی ہے، اور وہ بہت کچھ پیش کر سکتے ہیں، لیکن انھیں ایک ایسے شخص کی ضرورت ہے جو طاقت کو سمجھے، اسے منظم کرے، اسے بہتر بنائے، اس کی صفیں سیدھی کرے، اور اسے دشمن کے سامنے کھڑا کرے، انھیں قیادت کی ضرورت ہے۔
ہم سے خلافت کھو جانے سے سیاسی قیادت کھو گئی، اور ہم نے دینی قیادت بھی کھو دی، حالانکہ اسلام میں دین اور سیاست کے درمیان کوئی جدائی نہیں ہے۔ خلافت صرف ایک مذہبی تنظیم نہیں تھی، بلکہ جیسا کہ علما نے خلیفہ کی تعریف میں کہا کہ وہ دین کی حفاظت کے معاملے میں رسولؐ اللہ کا نائب ہوتا ہے ، اور اس کے ذریعے دنیا کی حفاظت کرتا ہے۔
مسلمانوں کے علما صرف دین کے عالم نہیں ہوتے بلکہ ریاست و سیاست اور دعوت و تبلیغ کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں اگر وہ صرف دین میں دلچسپی کی بنا پر سیاست میں دلچسپی سے پیچھے رہ جاتے، تو یہ بہتر ہوتا، لیکن افسوس کہ یہاں یہ بھی نہ ہوسکا۔
قدیم زمانے میں مسلمان ایک شخص کو’شیخ الاسلام‘ کہتے تھے جہاں لوگ اس کی طرف رجوع کرتے تھے، لیکن اب کوئی شیخ الاسلام نہیں ہے، کیونکہ بہت سے شیوخ حکمرانوں کے قافلے میں شامل ہوگئے ہیں، چنانچہ انھوں نے عوام کے نزدیک اپنی ساکھ کھو دی ہے، اور یہ بہت بڑا المیہ ہے۔
اسی لیے میں بعض مسلمانوں سے مذاق میں، کہتا ہوں: عیسائیوں کا ایک پوپ ہے، لیکن ہم مسلمانوں کا کوئی پوپ نہیں، ہم نے اپنی ہر طرح کی قیادت کھو دی ہے۔ لہٰذا عزیزو! اسلامی امت ایک قابل رحم حالت میں ہے، اور اس حالت کو اسی طرح نہیں رہنا چاہیے۔
ہم عید کا انتظار کرتے ہیں، ہم عید پر خوش ہونا چاہتے ہیں، عید پر ایک دوسرے کو مبارکباد دینا چاہتے ہیں، لیکن ہم عید کیسے منائیں گے، جب کہ ہماری امت اس حال میں ہے کہ ہمارے بھائیوں کو قتل کیا جا رہا ہے، ذبح کیا جا رہا ہے، اور ان پر یہ ہلاکتیں گزر رہی ہیں، اور ہم یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم کچھ نہیں جانتے، کیونکہ ٹیلی وژن ہمیں روزانہ یہ مناظر لمحہ بہ لمحہ دکھاتا ہے، چنانچہ ہم ان مصیبت زدہ لوگوں کے ساتھ مصیبتیں جھیل رہے ہیں، ہم زندگی سے کیسے لطف اندوز ہوسکتے ہیں، ہم کیسے ہنس سکتے اور قہقہے لگاسکتے ہیں؟ ہم کیسے آرام کی نیند سو سکتے ہیں، یا پیٹ بھر کر کھا سکتے ہیں، یا اپنے اہل و عیال، رشتہ داروں اور بھائیوں کے درمیان خوش باش زندگی گزار سکتے ہیں ؟ جب کہ ہمارے بھائیوں پر جو گزر رہی ہے وہ گزر رہی ہے۔
امت کو چاہیے کہ وہ اپنے اوپر روئے، یہاں تک کہ اپنے حقوق واپس حاصل کرے، اپنی صفیں درست کرے، اور اسلام کی دشمن قوتوں کے خلاف بڑے معرکے میں کھڑے ہونے کے لیے اپنے بیٹوں کو تیار کرے، تاکہ وہ اسلام پر اس طرح جی سکیں جیسا کہ اللہ نے چاہا اور پسند کیا ہے۔
ہم اس امت کے مستقبل سے مایوس نہیں ہیں۔ مستقبل اس دین کا ہے، مستقبل اس امت کا ہے۔ ہمارے پاس قرآن کریم اور سنت نبوی سے، اور شاندار تاریخ سے، اور موجودہ حقیقت سے، اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے قوانین سے بہت سی بشارتیں ہیں، جو ہمیں اس بات کا یقین دلاتی ہیں کہ یہ صورتِ حال برقرار نہیں رہے گی، اور اس حالت کا ہمیشہ رہنا محال ہے۔ اب غالب آنے کی باری ہماری ہے نہ کہ ہمارے دشمن کی۔ کیونکہ تِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ ’’یہ دن ہیں جنھیں ہم لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں‘‘۔
ان شاء اللہ فتح قریب ہے، لیکن اللہ کا قانون جاری ہے کہ فتح صرف حقيقي مؤمنوں کے ذریعے ہی مکمل ہوتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَاِنْ يُّرِيْدُوْٓا اَنْ يَّخْدَعُوْكَ فَاِنَّ حَسْـبَكَ اللہُ۰ۭ ہُوَالَّذِيْٓ اَيَّدَكَ بِنَصْرِہٖ وَبِالْمُؤْمِنِيْنَ۶۲ۙ وَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِہِمْ۰ۭ لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا مَّآ اَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوْبِہِمْ وَلٰكِنَّ اللہَ اَلَّفَ بَيْنَہُمْ۰ۭ اِنَّہٗ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ۶۳ (الانفال۸: ۶۲-۶۳) وہی تو ہے جس نے اپنی مدد سے اور مومنوں کے ذریعے سے تمھاری تائید کی اور مومنوں کے دل ایک دُوسرے کے ساتھ جوڑ دیے۔ تم روئے زمین کی ساری دولت بھی خرچ کر ڈالتے تو اِن لوگوں کے دل نہ جوڑ سکتے تھے، مگر وہ اللہ ہے جس نے ان لوگوں کے دل جوڑے، یقیناً وہ بڑا زبردست اور دانا ہے۔
میں اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اس مہینے کو ہماری مغفرت کا ذریعہ بنادے، اور اس میں رحمت، مغفرت اور جہنم سے آزادی کو ہمارا حصہ بنائے، اور ہمارے پیش کردہ اعمال پر ہمیں اجر دے، اور ہماری کوتاہیوں کو معاف فرمائے، اور ہمارے آج کو ہمارے کل سے بہتر بنائے، اور ہمارے آنے والے کل کو ہمارے آج سے بہتر بنائے، اور اسلام اور مسلمانوں کو فتح دے، اور اس دین کے دشمنوں کو ذلیل کرے، اور ہمارے مجاہد بھائیوں کی مدد کرے وہ جہاں کہیں بھی ہوں۔
رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَاِسْرَافَنَا فِيْٓ اَمْرِنَا وَثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ۱۴۷ (ال عمرٰن ۳: ۱۴۷) اے ہمارے رب! ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرما، ہمارے کام میں تیرے حدود سے جو کچھ تجاوز ہو گیا ہو اُسے معاف کردے، ہمارے قدم جما دے اور کافروں کے مقابلہ میں ہماری مدد کر۔
أَقُولُ قَوْلِي هَذَا وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ لِي وَلَكُمْ وَلِسَائِرِ الْمُسْلِمِينَ!