نعمت اللہ خان ایڈووکیٹ (پیدائش: یکم اکتوبر ۱۹۳۰ء / وفات:۲۵ فروری ۲۰۲۰ء) بے لوث خادمِ انسانیت تھے، جنھوں نے ۲۰۰۱ءسے ۲۰۰۵ء تک کراچی کی میئر شپ کے زمانے میں ۷۰ سال کی عمر میں بھی صبح و شام شہریوں کی بے مثال خدمت کر کے نوجوانوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ انھوں نے عدل و انصاف،خدمت اور دیانت کی ایسی مثالیں قائم کی تھیں کہ اپنے تو کیا بد ترین دشمن بھی اس کی گواہی دیتے تھے۔ انھوں نے اپنی زندگی اللہ کی رضا کی خاطر، اسلام کی بالادستی اور انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کر رکھی تھی۔وہ ایمان داری، دیانت اور انسانیت کی خدمت کا اعلیٰ نمونہ تھے جس کا اعتراف ایک دنیا کرتی ہے۔ یہاں صرف دومثالیں پیش ہیں:
اس پر منور بھائی نے کہا ’’نعمت اللہ صاحب کراچی کے میئر تھے۔ ان کی پہلی مدت ختم ہوئی اور دوسری مدت شروع ہونی چاہیے تھی اور میئر شپ کے امیدوار بھی تھے کہ اسٹیبلشمنٹ اور ایجنسیوں کے لوگوں نے دفتر کے چکر لگانا شروع کر دیئے اور یہ ’ہمدردانہ مشورے‘ دینے شروع کیے کہ آپ کہاں دوبارہ زحمت کریں گے‘‘۔ پھر اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف بھی کراچی آئے تو انھوں نے طے کیا کہ وہ بھی ان سے بات کریں گے۔ وہ کسی جگہ بیٹھ کر بات کرنے کے لیے تیار نہیں تھے اور کہا کہ وہ گاڑی میں بات کریں گے۔ یوں نعمت اللہ خان صاحب سے انھوں نے یہ بات کہی کہ ’’آپ بہت دیانت دار آدمی ہیں۔ میں نے آپ کے بارے میں تمام ایجنسیوں کی رپورٹس دیکھ لی ہیں۔ آپ اچھے ایڈ منسٹریٹر ہیں، پاکستان سے محبت کرتے ہیں، مذہبی آدمی ہیں، چارسال میں آپ نے اچھے کام کیے ہیں لیکن آپ کی ایک کمزوری یہ ہے کہ آپ کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے۔ اگر آپ اس کا کوئی علاج کریں تو ہم تیار ہیں کہ آپ ہی اگلے میئر بنیں‘‘۔
نعمت اللہ صاحب نے کہا کہ میرا تعلق جماعت اسلامی سے ہے، اور ان شاءاللہ رہے گا، لیکن آپ مجھے بتائیں کہ میں نے جماعت اسلامی سے وابستہ ہونے کی بنا پر کو ن سی گڑ بڑ کی ہے؟ کون سے میرٹ کو ڈی میرٹ یا ڈی میرٹ کو میرٹ کیا ہے؟ یا کون سے کام مجھے جماعت اسلامی سے وابستہ ہونے کی وجہ سے نہیں کرنے چاہئیں تھے؟ یا کون سے کام ہیں جو میں نے جماعت اسلامی کے فائدے کےلیے کیے ہیں؟ میں اس کی وضاحت کرتا ہوں اور اگر شکایت نہیں ہے تو میرا جماعت سے تعلق ہونا جرم نہیں ہو سکتا‘‘۔ اس پر بات ختم ہوگئی اور وہ اگلے میئر نہیں بنے۔
اس سے زیادہ نعمت اللہ خان کی خدمت اور دیانت کی گواہی اورکیا ہو سکتی ہے کہ میدانِ سیاست میں ان کے شدید مخالف بھی ان کی دیانت اور امانت داری پر پختہ بھروسا اور یقین رکھیں۔
خان صاحب الخدمت کے سربراہ تھے کہ مسلم لیگ (ن) کی رہنما اورکلفٹن میرج بیورو کی چیئرپرسن ممتاز قریشی نے جو اتفاق سے ہماری کلاس فیلو بھی ہیں، ایک بار ہم سے فون پر پوچھا: ’’نعمت اللہ خان صاحب تک ایک امانت کیسے پہنچائی جا سکتی ہے؟‘‘ ہم نے ان کو ان کا رابطہ فون دیا اور پوچھا کہ ’’وہ کیا امانت ہے جو وہ ان کے سپرد کرنا چاہتی ہیں؟‘‘ انھوں نے کہا کہ ’’میں نے غریب اور بے سہارا بیواؤں اور یتیموں کے لیے کچھ فنڈ جمع کیا ہے اور چاہتی ہوں کہ وہ اس شخص کے حوالے کروں جن کی دیانت داری پر مجھے پورا اعتماد ہو، اور وہ اس رقم کی پائی پائی کو اسی مقصد کے لیے استعمال کرے،جس کے لیے دی جارہی ہے۔ اور میرے نزدیک وہ شخص نعمت اللہ خان ہیں۔ اس لیے وہ یہ رقم ان تک پہنچانا چاہتی ہیں‘‘۔انھوں نے یہ رقم،جو لاکھوں میں تھی، خان صاحب کے دفتر پہنچا کر ہمیں اس کی باقاعدہ اطلاع بھی دی۔اس کے بعد بھی ایک بار انھوں نے کچھ رقم ہمارے حوالے کی جو ہم نے خود نعمت اللہ خان صاحب کو پہنچائی اور اس کی رسید ممتاز قریشی صاحبہ کو دی۔
وہ یکم اکتوبر ۱۹۳۰ء کو ہندستان کے مشہور شہر اجمیر کے ایک تعلیم یافتہ متوسط خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ریلوے میں کلرک تھے۔ اُن کے والدین کا آبائی وطن تو شاہ جہاں پور تھا، لیکن والد عبدالشکور خان ملازمت کی وجہ سے اجمیر میں رہتے تھے۔ ۱۹۴۰ء میں اُن کا انتقال ہوا تونعمت اللہ خان کی عمر محض دس سال تھی۔ ان کے نانا، ان کی والدہ اور ان کے بہن بھائیوں کو شاہ جہاںپور لے آئے، جہاں ان کی نگرانی اور سرپرستی میں خان صاحب کی ابتدائی تعلیم دوبارہ شروع ہوئی۔ والد کے انتقال کے بعد ان کی والدہ نے گزربسر کے لیے ایک پرائمری اسکول میں تیس روپے ماہانہ کی ملازمت اختیار کر لی۔
ہندستان میں ۱۹۴۶ء کے انتخابات کا اعلان ہوا تو اُن کی عمر پندرہ سولہ سال تھی۔ اُن کے علاقے سے مسلم لیگ کے ایک امیدوار کریم الرضا تھے۔ نعمت اللہ خان نے اُن کی انتخابی مہم کے دوران میں جلسوں اور جلوسوں میں شرکت شروع کردی۔ اِس طرح وہ عملی طور پر تحریک پاکستان سے وابستہ ہوگئے۔ وہ ان جلسوں میں بڑے جوش وخروش کے ساتھ نظمیں اور ترانے پڑھتے تھے۔ ان انتخابات میں مسلم لیگ نے شان دار کامیابی حاصل کی۔اُن کے حلقے کے مسلم لیگی امیدوار بھی کامیاب ہوگئے تھے۔ انتخابی نتائج آنے کے بعد قائداعظم نے کامیاب ہونے والے مسلم لیگی ارکان کا ایک اجلاس دہلی میں طلب کیا تو کریم الرضا کو بھی دعوت ملی۔ وہ اپنے نوجوان اور سرگرم انتخابی کارکن نعمت اللہ خان کو بھی اپنے ساتھ دہلی لے گئے جہاں اُنھیں ’مسلم لیگ نیشنل گارڈ‘ کا رکن بنا دیا گیا، وہ سب سے کم عمر رکن تھے۔ ان کو اس اجلاس میں قائداعظم اور تحریک پاکستان کے دوسرے اکابرین کو بہت قریب سے دیکھنے اور اُن کی تقریریں سننے کا موقع ملا۔ جس کی وجہ سے اُن کے دل میں پاکستان سے نہ ختم ہونے والی محبت پیدا ہوئی۔
وہ کہا کرتے تھے کہ ان اکابرین کی تقریروں کا لب لباب اور نچوڑ یہی ہوتا تھا کہ پاکستان کے قیام کا مقصد اِسی طرح کی ایک اسلامی، فلاحی ریاست کا قیام تھا، جس کی بنیاد آںحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد مدینہ میں رکھی تھی۔ اسی نعرے، وعدے اور مقصد کے لیے ہندستان کے مسلمان قائداعظم کی قیادت میں پاکستان بنانے کی خاطر جمع ہوئے تھے۔ نعمت اللہ خان ابھی میٹرک میں تھے کہ انھیں مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے ساتھ بھی کام کرنے کا موقع ملا ۔ اِس طرح وہ کم عمری ہی میں تحریک پاکستان کا لازمی حصہ بن گئے۔
دو چار دن کے بعد ہی سی آئی ڈی نے دھماکوں کے لیے کریکر بنانے کی تفتیش شروع کردی اور اس سلسلے میں کچھ اہل کار اُن کے گھر بھی آگئے۔ اُن کے تایا کو پتا چلا تو بہت ناراض ہوئے۔ وہ پاکستان آنے کا ارادہ تو پہلے ہی کرچکے تھے، اِس واقعے نے جلدی آنے پر مجبور کردیا اور وہ تن تنہا ہی ٹرین کے ذریعے اجمیر سے کراچی کے لیے روانہ ہوگئے۔ جب ۲۸؍اگست کو کراچی پہنچے تو رات ہو چکی تھی۔ اُنھوں نے سٹی اسٹیشن کے قریب ہی ایک بلڈنگ کے ساتھ بنے فٹ پاتھ پر رات بسر کی اور دوسرے دن والد کے ایک دوست کی تلاش شروع کردی۔ وہ مل گئے اور بڑی محبت سے اپنے گھر لے گئے۔ چند دنوں کے بعد نعمت اللہ خان اجمیر واپس گئے اور اپنے چھوٹے بھائی علیم اللہ خان کو ساتھ لے کر کراچی آگئے۔ یہاںاسٹیشن کے ساتھ واقع ایک ہوٹل میں دونوں بھائی رہنے لگے۔ اُنھوں نے اجمیر میں شارٹ ہینڈ اور ٹیلی گرافی کا کورس کر رکھا تھا، جس کی وجہ سے جلد ملازمت مل گئی۔ کلرکی کی یہ پہلی ملازمت ایک فوجی ادارے میں تھی۔ کچھ عرصے کے بعد اُن کا تبادلہ ایئرفورس ہیڈکوارٹرز، ماڑی پور میں ہوگیا، جہاں صبح ساڑھے سات بجے سے دن ڈیڑھ بجے تک کام کرتے۔ اس کے بعد تین سے پانچ بجے اور پانچ سے دس بجے تک دو جگہ پارٹ ٹائم جاب کرتے۔
جب کچھ آمدنی شروع ہوگئی تو لیاری کے علاقے میں ایک کمرہ کرائے پر لے کر دونوں بھائی رہنے لگے۔ پھر اپنا گھر بنانے کا سوچا۔ اُس وقت مزار ِقائد کا علاقہ خالی تھا اور ہجرت کر کے آنے والے وہاں جھونپڑیوں میں رہتے تھے۔ اس علاقے کا نام ’قائدآباد‘ تھا۔ اس نام کی وجہ تسمیہ یہ تھی کہ اس جگہ کو مزار ِ قائداعظم کے لیے مختص کر دیا گیا تھا۔ خان صاحب نے وہیں ایک جھونپڑی بنالی اور اُس میں منتقل ہوگئے۔ علیم خان نے والدہ کو خط لکھا کہ کراچی میں بھائی کو ملازمت مل گئی ہے اور ذاتی مکان بھی بن گیا ہے، اب آپ بھی آجائیں۔ والدہ کے لیے یہ بڑی خوشی کی بات تھی، چنانچہ وہ بھی بڑی بیٹی کے ساتھ کراچی پہنچ گئیں۔ وہ بڑی خوش خوش آئی تھیں کہ اپنا ذاتی مکان ہے، لیکن جب یہاں آکر مکان کے بجائے جھونپڑی دیکھی تو بڑا دھچکا لگا۔ تاہم، جب اُنھیں حالات کا علم ہوا تو مطمئن ہو گئیں۔ اُس جھونپڑی میں اِس حال میں دن رات بسر ہوتے کہ بارش کے دنوں میں چولہا چارپائی پر رکھ کر کھانا پکانا پڑتا تھا۔ لیکن سب خوش تھے کہ نئے وطن پاکستان میں ہیں۔
نعمت اللہ خان کی داستانِ زندگی قائد آباد کی جھونپڑی میں ایک اور موڑ مڑتی ہے۔اب اُن کے پاس ملازمت ہے، ذاتی مکان ہے اور سب سے بڑی بات، ماں کی دعائیں ہیں۔ بہن بھائی اور ایک بھانجا بھی ہے۔ اطمینان کی یہ دولت پا کر بھی خان صاحب کی نظریں شان دار مستقبل اور اعلیٰ تعلیم کے حصول پر رہیں۔ اس طرح ایک مستقل اور دو جز وقتی ملازمتوں کے ساتھ ساتھ تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا کہ آگے بڑھنے کے لیے تعلیم ہی بنیادی زینہ ہے۔ یہاں تک کہ ایم اے، ایل ایل بی اور صحافت میں ڈپلوما بھی کرلیا۔ وکالت کا امتحان پاس کیا تو جزوقتی ملازمت بھی ایک بڑے اور نامور وکیل، بیرسٹر اصغر علی کے دفتر میں اختیار کرلی۔
یہ وکیل صاحب، خان صاحب کی محنت کے ساتھ کام اور قانونی سوجھ بوجھ سے بہت متاثر ہوئے۔ ایک دن اُنھوں نے خان صاحب کو اپنے چیمبر میں بلا کے کہا کہ آپ نے قانون کی ڈگری لے رکھی ہے۔ آپ قانون کی لیاقت اور معاملات کو قانونی طور پر دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔میرا خیال ہے کہ اب آپ کو پریکٹس شروع کر دینی چاہیے۔ خان صاحب خاموشی سے سنتے رہے تو وکیل صاحب نے پوچھا کہ ’’آپ کے پریکٹس نہ کرنے میں کیا رکاوٹ ہے؟ خان صاحب نے جواب دیا، وکیل صاحب! میرا ایک مستقل اور دو جزوقتی ملازمتیں کرنے کے باوجود ماں، ایک بھائی، بہن اور بھانجے پر مشتمل خاندان کا گزارا نہیں ہوتا تو پریکٹس کیسے کر سکتا ہوں؟ اس کے جمنے کے لیے تو ایک عرصہ چاہیے۔مَیں اپنی یہ ملازمتیں چھوڑ کر پورے گھرانے کے خرچ کا بوجھ کیسے برداشت کر سکتا ہوں؟ اس پر وکیل صاحب نے کہا: ’’اللہ تعالیٰ ہر انسان کو زندگی میں ایک بار ضرور اپنی قسمت بدلنے کا موقع دیتا ہے۔ آپ کے لیے اب وہ موقع ہے اور یہ آپ پر ہے کہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں یا ضائع کر دیتے ہیں‘‘۔
تب نعمت اللہ صاحب نے کافی سوچ بچار کے بعد فیصلہ کر لیا کہ وہ اس موقعے سے ضرور فائدہ اٹھائیں گے۔ چنانچہ انھوں نے دونوں جزوقتی کاموں سے کنارہ کشی اختیار کرکے وکالت کی پریکٹس شروع کردی۔ آغاز میں کچھ مشکل کا سامنا ہوا لیکن پھر کام چل نکلا۔ جب کچھ آمدنی شروع ہوگئی تو جھونپڑی کو چھوڑ کر ناظم آباد نمبر دو میں ایک مکان کرائے پر لے لیا۔ اس طرح ایک دو اور مکان بھی بدلنے پڑے۔ جب ۱۹۶۷ء تک پریکٹس کا کام پوری طرح جم گیا تو اپنا پلاٹ خرید کر اس پر مکان بنانے کا فیصلہ کیا اور نارتھ ناظم آباد میں لب ِ شاہراہ ۱۸۰۰ مربع گز کا پلاٹ ۱۹ہزار روپے میں خریدا اور اس پر مکان بنوا لیا، جو سارے بہن بھائیوں کا مشترکہ گھر تھا۔
نعمت اللہ خان صاحب کے جماعت اسلامی میں شامل ہونے کے بعد یہ گھر جماعت کے بڑے کام آیا اور کئی عشرے تک اس کی سرگرمیوں کا مرکز رہا۔ دَوروں پر آنے والے جماعت کے قائدین کی قیام گاہوں کے لیے بھی یہی بنگلہ استعمال ہوتا رہا۔ خان صاحب ان مہمانوں کی میزبانی کو اپنے لیے اعزاز اور خوش قسمتی سمجھتے تھے۔ سیّد منور حَسن صاحب کی ۱۹۷۴ء میں شادی ہوئی تو وہ بھی کافی عرصے تک اسی گھر کی بالائی منزل کے دو کمروں میں قیام پذیر رہے۔ جماعت کے کارکنوں کے اجلاس اور سیاسی رہنماؤں کے اعزاز میں ناشتے، ظہرانے اور عشائیے بھی اسی بنگلے میں ہوتے رہے۔ خان صاحب نے اپنی وفات سے کچھ عرصہ قبل اس بنگلے کو فروخت کر کے اس سے حاصل ہونے والی رقم شریعت کے مطابق اپنے ورثا میں تقسیم کر دی تھی اور اپنے بیٹے ندیم اقبال کے ڈیفنس کے بنگلے میں منتقل ہوگئے تھے۔ انھوں نے زندگی کے آخری سال اسی بنگلے میں گزارے۔
خان صاحب نے ایک بار یہ تفصیل خود بیان کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’مجھ سے جماعت کے جس کارکن نے سب سے پہلے رابطہ کیا، جماعت کے اجتماع میں شرکت کی دعوت دی اور پڑھنے کے لیے مولانا مودودیؒ کے کتابچے اور کتب دیں، وہ افتخار احمد تھے۔ وہ اِس قدر نفیس انسان اور مستقل مزاج کارکن تھے کہ وقت لے کر آتے تھے اور جماعت کا تعارف کراتے پھر ہفتہ وار اجتماع میں شریک ہونے کو کہتے۔ پہلے تو مَیں نے اُنھیں ٹالنے کی بڑی کوشش کی، لیکن وہ برابر آتے رہے۔ میں شروع میں لٹریچر لینے سے بھی کنّی کتراتا رہا، لیکن جب بار بار اصرار ہوتا تو لے کر رکھ لیتا تھا اور پھر پڑھے بغیر کچھ دن بعد واپس کر دیتا۔ لیکن افتخار بھائی نے بھی ہمت نہیں ہاری اور مجھ سے رابطہ اور تعلق برابر جاری رکھا۔ یہ صورت حال کافی عرصے تک جاری رہی۔
میری اِنکم ٹیکس پریکٹس مرحلہ وار کامیاب ہو رہی تھی۔ ایک دن وقفے میں بار ایسوسی ایشن کے دفتر گیا تو دیکھا کہ ایک وکیل صاحب بڑے انہماک کے ساتھ ایک کتاب پڑھ رہے ہیں، جو قانون کی نہیں لگ رہی تھی۔ مجھے تجسس ہوا، اُن سے پوچھوں کہ یہ کون سی کتاب ہے؟ ہم ایک دوسرے کو جانتے تھے، اس لیے ان سے کتاب کے بارے میں پوچھ لیا۔ انھوں نے کہا: ’’خان صاحب! یہ مولانا مودودیؒ کی کتاب ہے، جو عام کتابوں سے بڑی مختلف ہے۔ اس کے مصنف کی باتیں اپنی آسان، رواں اردو اور دلیل سے قاری کو متاثر کرتی جاتی ہیں۔ تم بھی اسے پڑھو، تمھیں یہ کتاب اور ان کی دوسری کتابیں فریئر روڈ پر ماڈرن فوٹو شاپ سے مل جائیں گی۔ یہ شاپ ایک پروفیشنل فوٹوگرافر کی ہے لیکن سا تھ ہی وہ مولانا مودودیؒ کی کتابیں اور ان کا ماہ نامہ ترجمان القرآن بھی رکھتے ہیں۔ تم ان کے یہاں بیٹھ کر پڑھو یا چاہو تو خرید بھی سکتے ہو‘‘۔
مَیں اُس وقت بھی یہ سوچ کر اُن وکیل صاحب کی باتوں میں نہ آیا کہ یہ بھی افتخار صاحب کی طرح مجھے جماعت میں لانا چاہتے ہیں۔ ذہن مسلم لیگی تھا اور ملک میں جاری جماعت اسلامی کے خلاف پروپیگنڈے سے تھوڑا بہت متاثر بھی تھا۔ تاہم،میرے دل میں ایک کش مکش کی سی کیفیت ضرور پیدا ہوگئی تھی جو کافی عرصہ جاری رہی۔ پھر معلوم نہیں کیوں ایک دن نہ چاہتے ہوئے بھی میں اُس فوٹو شاپ پر چلا گیا، وہ کتاب خریدی اور پڑھی۔ اُس نے مجھے متاثر تو کیا لیکن اس کے باوجود مَیں جماعت میں شامل نہ ہوا۔
نارتھ ناظم آباد کا گھر بن گیا تھا اور ہم وہاں منتقل ہوئے تو معلوم ہوا، جماعت اسلامی کے لوگ یہاں بھی ہیں اور خدمت خلق کا کام بھی کرتے ہیں۔ یہ جذبہ میرے اندر بچپن سے تھا۔ مَیں نے وہاں کے ناظم سے ملاقات کی، جن کا نام ڈاکٹر محمد اطہر قریشی تھا۔ ان سے بات کی تو اُن میں بھی مجھے افتخار احمد جیسا خلوص اور جماعت سے محبت نظر آئی۔ مَیں اُن سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ میں نے انھیں غریب اور بے سہارا بچیوں کی امداد اور اُن کی شادیوں میں جہیز دینے کا منصوبہ پیش کیا اور بتایا کہ مَیں نے اپنے بعض کلائنٹس سے بات بھی کر لی ہے، وہ بھی اس نیک منصوبے میں مالی مدد کریں گے۔ آپ ایسی بچیوں کے گھرانوں کا پتا کریں، مَیں اُن کی تفتیش کر لیا کروں گا، اِس طرح شادی کے لیے جہیز اور دوسرا ضروری سامان فراہم کر دیا کریں گے۔ اُنھوں نے اس منصوبے کو پسند کیا اور اُن کے تعاون سے اِس پر کام شروع کردیا۔ مجھے ڈاکٹر اطہر قریشی صاحب کی سادگی، خدمت کے جذبے، دین سے گہرے تعلق اور ہر کسی سے دوستی قائم کرنے اور بھائی چارے کے رویے نے بڑا متاثر کیا۔ اُن سے رابطہ بڑھتا رہا اور مَیں جماعت کے قریب آتا گیا۔
اسی دوران مارچ ۱۹۶۹ء میں جنرل یحییٰ خان نے مارشل لا نافذ کردیا، اور کچھ ماہ گزرنے کے بعد نئے انتخابات کا اعلان کردیا۔ شہر میں انتخابی مہم کا آغاز ہوا تو جماعت اسلامی نے بھی اپنے امیدوار محموداعظم فاروقی کے لیے علاقے میں مہم شروع کی۔ ڈاکٹر اطہر قریشی صاحب سے دوستی اور قربت کی وجہ سے مَیں بھی اس مہم کا حصہ بن گیا۔ اس مہم کے دوران میں جماعت اسلامی کے لیڈروں اور کارکنوں سے روابط بڑھے، اُنھیں دیکھنے اور جاننے کا اتفاق ہوا۔ مَیں ان لیڈروں اور کارکنوں کے اخلاص، دین کی سربلندی کے لیے تڑپ، ایمان داری اور دیانت داری سے بہت متاثر ہوا۔ آخرکار ۱۹۷۰ءمیں ایک کارکن کی حیثیت سے جماعت اسلامی میں شامل ہوگیا۔ مولانا مودودیؒ کی ساری کتابیں اور دوسرا اسلامی لٹریچر پڑھ لیا اور جماعت کے ساتھ کام کرنا شروع کردیا۔ غریب اور بے سہارا بچیوں کی شادیاں کرانے کا منصوبہ بھی ساتھ ساتھ چل رہا تھا، اِس کی وجہ سے مجھے جماعت کے خدمت خلق کے شعبے کا انچارج بنا دیا گیا۔ اُس وقت اُس کا نام یہی تھا۔ اُس کے تحت پورے شہر میں میّت گاڑیاں چلتی تھیں اور خدمت ِ خلق کے دوسرے کام ہوتے تھے۔ میں نے جماعت میں ایک کارکن کی حیثیت سے کئی برس کام کیا اور جماعت اسلامی کے مقصد و طریقِ کار کو اچھی طرح سمجھ بھی لیا لیکن ابھی رکن نہیں بنا تھا۔
آخرکار میں نے ۱۹۷۴ء میں رکن بننے کا فیصلہ کیا۔ اُس وقت پروفیسر عبدالغفور احمد جماعت اسلامی، کراچی کے امیر تھے۔ یہ حُسنِ اتفاق تھا کہ اُسی سال میں حج کے لیے جا رہا تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ پروفیسر غفور صاحب بھی حج پر گئے ہوئے ہیں اور وہاں حج کے علاوہ بھی اُن کی کچھ مصروفیات ہیں۔ مکۃ المکرمہ پہنچ کر پروفیسر غفورصاحب سے میری ملاقات خانہ کعبہ میں رکن یمانی کے سامنے مؤذن کے کمرے کے نیچے والی جگہ پر ہوگئی۔ یہ جگہ عرصے تک جماعت سے وابستہ لوگوں میں جمعے کی نماز کے بعد باہمی ملاقات کے لیے معروف تھی۔ اُس وقت روزنامہ جسارت کے ایڈیٹر محمد صلاح الدین صاحب کے علاوہ بھی کچھ لوگ موجود تھے، جن کا تعلق جماعت سے تھا۔ پروفیسرغفور صاحب نے اُن کی موجودگی میں کہا کہ ’’میں تم سے خانہ کعبہ میں حلف لوں گا‘‘۔ یہ میرے لیے بڑے شرف وسعادت کی بات تھی۔ میں بڑا خوش ہوا۔ وہ یہ بات کہہ کر چلے گئے۔ دوسرے دن جب میں حلف لینے کے ارادے سے خانہ کعبہ پہنچا اور اُن کا پوچھا تو پتا چلا کہ وہ تو مدینے چلے گئے ہیں۔ لیکن صلاح الدین بھائی نے کہا کہ حلف تو کوئی دوسرا رکن بھی لے سکتا ہے۔ اُس وقت وہاں رحیم یار خان کے امیر موجود تھے، وہ حلف لینے پر تیار ہوگئے، چنانچہ اُنھوں نے مجھ سے اُسی وقت خانہ کعبہ کے عین سامنے رکنیت کا حلف لے لیا اور یوں میں رکنِ جماعت بن گیا۔
کچھ دنوں بعد میں بھی مدینہ منورہ گیا۔ ایک دن اپنے ہوٹل سے مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم جا رہا تھا کہ جماعت اسلامی پاکستان کے سکریٹری نشر واشاعت، صفدر علی چودھری مل گئے۔ میں نے پوچھا، کہاں کا ارادہ ہے؟ انھوں نے بتایا کہ وہ پروفیسر غفورصاحب سے ملنے جا رہے ہیں جو ساتھ والے ہوٹل میں قیام پذیر ہیں۔ میں بھی اُن کے ساتھ ہو لیا۔ پروفیسر غفورصاحب مجھ سے مل کر بہت خوش ہوئے اور کہا کہ مجھے تم سے خانہ کعبہ میں رکنیت کا حلف لینا تھا لیکن اچانک یہاں آنا پڑا، خیر مَیں اب تم سے کل مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حلف لوں گا۔ میں نے اُنھیں خانہ کعبہ میں لیے گئے حلف کا نہیں بتایا، چناں چہ دوسرے دن پروفیسر صاحب نے دوبارہ مجھ سے مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں رکنیت کا حلف لیا۔ اِس طرح مجھے خانہ کعبہ اور مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم، دونوں جگہ رکنیت کا حلف لینے کا شرف ملا۔ کراچی واپس آکر حلف کی رسمی کارروائی بھی مکمل ہوگئی‘‘۔
اُسی دَور میں سیّد غوث علی شاہ کی حکومت اور عبدالستار افغانی کی سربراہی میں بلدیہ عظمیٰ کراچی میں موٹر گاڑیوں اور پراپرٹی پر ٹیکس وصول کرنے کے اختیارات پر اختلافات ہوئے۔ یہ ٹیکس صوبائی حکومت وصول کر رہی تھی، جب کہ بلدیہ عظمیٰ کا موقف تھا کہ کراچی کے موٹر وہیکل اور پراپرٹی ٹیکس پر اُس کا حق ہے اور اِسے کراچی کی سڑکوں اور دیگر ترقیاتی کاموں پر خرچ ہونا چاہیے۔ اِس مسئلے سمیت دوسرے امور پر جماعت اسلامی کے سندھ اسمبلی میں آٹھ ارکان کی اپوزیشن نے حکومت کے خلاف سخت احتجاج کیا اور سندھ اسمبلی اور میئر افغانی کی میئرشپ میں بلدیہ عظمیٰ کے ایوانوں میں تاریخی جدوجہد کی، جس کا خمیازہ انھیں بلدیہ کی تحلیل کی شکل میں بھگتنا پڑا۔
صدر جنرل محمد ضیاءالحق اور وزیراعلیٰ صوبہ سندھ غوث علی شاہ نے جماعت کی کراچی کے حقوق کے لیے اس جدوجہد کو اپنے خلاف محسوس کیا اور جماعت کی مخالفت پر اُتر آئے۔ نتیجہ یہ کہ جماعت اسلامی کے سیاسی کردار کو غیرمؤثر بنانے کے لیے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) جیسی لسانی جماعت کی سرپرستی شروع کردی۔ اِس طرح کراچی میں جماعت اسلامی کے سیاسی اثرورسوخ کو ۱۹۸۰ء کے عشرے کے بعد ایم کیو ایم کے سفاک ہتھیار سے شدید نقصان پہنچایا۔ جس نے کراچی کے امن اور ترقی اور کلچر کو تباہ کرکے رکھ دیا۔
خان صاحب ساڑھے تین سال تک سندھ اسمبلی کے رکن رہے، لیکن اس کی تنخواہ کی ایک پائی بھی اپنی ذات پر خرچ نہیں کی۔وہ یہ رقم بینک میں جمع کرواتے رہے اور جب اُن کی اسمبلی کی رکنیت ختم ہوئی تو تمام تنخواہوں کا چیک جماعت اسلامی کے شعبہ خدمت ِ خلق کی نذر کر دیا۔
خان صاحب، جماعت کی مرکزی شوریٰ اور عاملہ کے برسوں رکن رہے۔ ۱۹۹۱ء میں جماعت اسلامی کراچی کے امیر منتخب ہوئے اور مسلسل دس سال تک اسی ذمہ داری کے لیے منتخب ہوکر کام کرتے رہے۔ اپنی امارت کے دَور ہی میں اُنھوں نے جماعت کے شعبہ خدمتِ خلق کو مزید آگے بڑھایا، اُس کا نام’الخدمت ویلفیئر سوسائٹی‘رکھا اور اُسے باقاعدہ رجسٹر بھی کرا لیا۔ کراچی کی امارت کی یہ طویل مدت جماعت کے ساتھ اُن کے اخلاص، قائدانہ صلاحیتوں اور ارکان و کارکنوں کے اُن پر اعتماد کا بڑا ثبوت ہے۔ اسی دوران امیر جماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد نے جماعت کے شعبہ خدمت ِ خلق کو پورے پاکستان کی بنیاد پر منظم کرنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ الخدمت فاؤنڈیشن کے نام سے ادارہ رجسٹر کرایا اور خان صاحب کو اس کا سربراہ مقرر کر دیا۔ قاضی صاحب نے ان سے کہا کہ اب کراچی میں الخدمت ویلفیئر سوسائٹی کی ضرورت نہیں رہی۔ لہٰذا، اِسے ختم کرکے ’الخدمت فاؤنڈیشن‘ کے تحت ہی کام کریں تاکہ ملک بھر میں یکسانیت برقرار رہے اور خدمت ِ خلق کا کام الخدمت فاو نڈیشن کے نام ہی سے کیا جا سکے۔ خان صاحب کے لیے یہ بات اتنی آسان نہ تھی کیوں کہ اِس سوسائٹی کو اُنھوں نے خود منظم کیا تھا اور ایک توسیعی منصوبے کے تحت رجسٹر بھی کرایا تھا، یوں ایک طرح سے وہ اِس کے بانی بھی تھے۔ اُنھوں نے قاضی صاحب کو قائل کرلیا کہ الخدمت فاؤنڈیشن کے ساتھ ساتھ اِس سوسائٹی کو بھی کام کرنے کی اجازت دی جائے۔ چنانچہ اب تک الخدمت فاؤ نڈیشن کے ساتھ یہ سوسائٹی بھی بہت اچھے طریقے سے کام کر رہی ہے۔
انھوں نے ایک بار یہ واقعہ بیان کیا کہ ’’ایک دن، مَیں صوبے کے دفتر میں مولانا جان محمد عباسی سے تھر کی خستہ حالی کے بارے میں بات کر رہا تھا۔ عباسی صاحب کو اچانک کچھ خیال آیا اور کہا کہ مجھے ایک صاحب ۷۵ ہزار روپے کی رقم دے گئے ہیں ۔ میں یہ رقم آپ کو دے رہا ہوں۔ آپ جہاں مناسب سمجھیں، اللہ کی رضا کے لیے خرچ کر دیں۔ مَیں نے اُن سے وہ رقم لی اور اُسے تھرپارکر میں صاف پانی کا ایک کنواں کھودنے کے کام میں صرف کرنے کا فیصلہ کیا‘‘۔ یہ تھر میں صاف پانی کی فراہمی کے کام کا آغاز تھا۔ اللہ نے اِس کام میں اتنی برکت دی کہ اب تک تھر کے مختلف علاقوں اور گوٹھوں میں صاف اور میٹھے پانی کے ۵۵۰ کنویں کھودے جا چکے ہیں۔ اِسی طرح بچوں کی تعلیم کے لیے ۴۵؍اسکول بھی قائم کیےجاچکے ہیں، جن میں ذہین بچوں کو مزید تعلیم جاری رکھنے کے لیے وظائف دینے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
۲۰۰۱ء میں جب خان صاحب کراچی کے میئر منتخب ہوئے تو انھوں نے شہر کی حالت کو بدلنے کے لیے خدمت کی اعلیٰ مثال قائم کردی۔ضعیف العمری کے باوجود چند گھنٹے سونے اور آرام کے علاوہ وہ دن رات کا بیش تر وقت کراچی کی ترقی اور شہریوں کی خدمت میں صرف کرتے تھے۔ ان کے ساتھ کام کرنے والے جوان تھک جایا کرتے، لیکن خان صاحب ایک تروتازہ جوان کی طرح ہمت نہ ہارتے۔ انھوں نے اپنے چار سالہ دور میں کراچی شہر میں پختہ اور چوڑی سڑکوں، کئی کئی گھنٹوں کے ٹریفک جام کے عذاب سے جان چھڑانے کے لیے انڈر پاسز اور فلائی اوورز کا جال بچھا دیا۔شاہراؤں، چوراہوں اور گلیوں میں روشنی کی فراہمی کا انتظام کیا اور تاریکی میں ڈوبے شہر کو دوبارہ روشنیوں کا شہر بنا دیا۔
شہریوں اور ان کے بچوں کےلیے جگہ جگہ پارک تعمیر کیے، جن کی تعداد تین سو ہے اور پارکوں پر مافیا کے قبضوں کو ختم کرایا اور اس کےلیے سپریم کورٹ تک مقدمہ لڑا۔ شہر کے ۱۸ٹاؤنز میں سے ہر ٹاؤن کےلیے ایک ایک ماڈل پارک بنایا۔ عوامی ٹرانسپورٹ کا نظام بہتر کیا۔ اس کےلیےاربن ٹرانسپورٹ اسکیم کا آغاز کیا اور ۵۰۰ نئی ایئر کنڈیشنر بسیں فراہم کیں اور بسوں کو پہلی بار سی این جی پر چلایا تا کہ شہر کو فضائی آلودگی سے پاک کیا جائے۔
تعلیم کو عام کرنے پر خاص توجہ دی۔ اس کے لیے بجٹ میں ۳۱ فی صد اضافہ کیا۔ اسکولوں کی مرمت،ان میں پانی،غسل خانے اور فرنیچر کی فراہمی،نئے اسکولوں کے قیام اور تعمیر پر کروڑوں روپے خرچ کیے۔شہر میں ۳۲ نئے کالج قائم کر کے ان کی تعداد ۱۲۰ تک بڑھا دی۔ تعلیمی معیار کو بہتر بنانے پر توجہ دی، جس کے مثبت نتائج نکلے۔ اس کا اندازہ صرف اس ایک بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے سٹی ناظم بننے سے پہلے اے اور اے ون گریڈ لینے والوں کی تعداد ۲۰۰ تھی جو ان کے دور کے آخر تک بڑھ کر ۲ ہزار سے بڑھ گئی۔
صحت کے شعبہ میں ان کا بڑا کارنامہ فیڈرل بی ایریا میں کراچی انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ ڈیزیزز ہے۔اس کے علاوہ نیو کراچی اور کورنگی میں کڈنی ڈائلائسز سنٹر، ملیر میں ہسپتال اور شہر میں ڈائگنوسٹک سنٹر کا قیام بھی ان کے دور کی یاد گار ہے۔ شہریوں کے لیے پانی کی فراہمی کو ترجیح دی اور کے تھری واٹر سپلائی پروجیکٹ شروع کیا۔جس سے شہریوں کو ۱۰ لاکھ گیلن اضافی پانی فراہم ہوا۔ سیوریج کے نظام کو بہتر کیا،پرانی پائپ لائنوں کو تبدیل کرایا اور نئے پمپس لگوائے۔ کچرا اٹھانے کے لیے ۵۰۰ سالڈ ویسٹ ٹرانسفر اسٹیشن تعمیر کرائے۔خان صاحب کا ایک اور یاد گار کارنامہ فیڈرل بی ایریا میں المرکز الاسلامی کے منصوبے کی تکمیل تھا۔ جس میں ایک بڑی لائبریری،آڈیٹوریم،مسجد اور فنونِ لطیفہ کی آرٹ گیلری شامل تھی، لیکن افسوس کہ اس مرکز کو ایم کیو ایم نے ختم کردیا ہے۔
سٹی گیمز کے انعقاد کو بھی ان کا ایک کارنامہ شمار کیا جاتا ہے۔ان کے دور میں ان کی ایمان داری اور دیانت داری کی وجہ سے شہر کو کروڑوں روپے کا فائدہ ہوا جس کا اندازہ دو تین مثالوں سے لگایا جا سکتا ہے۔شاہراہ فیصل فلائی اوور کی تکمیل کا تخمینہ ۲۶ کروڑ ۳۱ لاکھ لگایا گیا تھا، لیکن انھوں نے اس کو اپنی کڑی نگرانی میں صرف ۱۸ کروڑ میں مکمل کرایا۔اسی طرح ایک اور منصوبے کا ابتدائی تخمینہ ۲۵ کروڑ تھا۔ انھوں نے اس کا اَزسرنو ٹینڈر کرایا تو اس کا تخمینہ ۶ کروڑ آیا اور وہ اسی رقم میں مکمل ہوا۔پیٹرول اور ڈیزل میں ۸ کروڑ کی کرپشن کا خاتمہ کیا۔ انھوں نے اپنی کوششوں سے کراچی کا بجٹ ۶؍ارب سے ۴۳؍ارب کرایا اور ۲۹؍ارب روپے کا ’تعمیر کراچی‘ پروگرام شروع کیا۔ہفتے میں ایک دن عوام کی شکایات اور مسائل سننے کے لیے مختص کیا۔ اس طرح انھوں نے عوام سے رابطہ رکھا اور ان کی ہزاروں شکایات کا براہِ راست ازالہ کیا۔
یہ مثالیں نعمت اللہ خان کے اس مومنا نہ کردار کو ظاہر کرتی ہیں، جو اسلام اپنے سنہری اصولوں پر عمل کرنے والوں میں پیدا کرنا چاہتا ہے۔ سیّد مودودی کی قیادت اور تربیت کے ذریعے جماعت اسلامی میں نعمت اللہ خان جیسے کردار ہزاروں میں ہیں۔ جماعت اسلامی کا یہ ایک کارنامہ ایسا ہے جس کی مثال بہت کم ملتی ہے، مگر جماعت اسلامی میں آپ کو ایسے درویش ہزاروں کی تعداد میں ملیں گے۔ایسے ہی ایک فقیر منش درویش عبد الستار افغانی بھی تھے جنھوں نے ان سے پہلے سادگی، درویشی،امانت، دیانت، خدمت اور ایثار کی سیکڑوں مثالیں قائم کیں اور جن کی گواہی ان کے سخت سے سخت مخالف بھی دیتے تھے۔
خان صاحب کی ان خدمات کا اعتراف پاکستان بھر کے علاوہ دنیا بھر میں بھی کیا گیا اور انھیں ایشیا کا بہترین میئر قرار دیا گیا۔ ہمیں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں خان صاحب کی انسانیت کے لیے خدمات قبول ہوں گی اور جنّت الفردوس میں ان کو بلند درجات ملیں گے۔